79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 79:1–5

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر دنیا کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں

فرشتوں کی قسم تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ قسم کھا رہا ہے مگر جس کی قسم کھارہا ہے ان کی صفات سے صحابہ مفسرین اور تابعین کی بہت بڑی تعداد نے فرشتے ہی مراد لیے ہیں۔ جیسا کہ روایت ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ سے ' ڈوب کر کھینچنے اور آسانی سے کھول دینے والے سے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو انسانوں کی جان نکالتے ہیں۔ اسی طرح احکامات الٰہی کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ مثلاً اللہ کا پیغام رسولوں تک پہنچانا ' کائنات کے مختلف امور کو انجام دینا ''۔ فرشتوں کا وجود ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے کیونکہ انسان کی طرح یہ بھی مخلوق خدا ہیں۔ جو غیبی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پر ایمان لانا ہمارے اوپر یوں فرض ہے کہ ہمارے نبی اور اللہ کی طرف سے ہمارے لیے فرمان جاری ہوچکا ہے۔ پھر ہماری عقل اور علم ان کے وجود کی تصدیق کرتا ہے۔ قرآن پاک اور احادیث میں متعدد بار ان کے وجود اور ان کے کاموں کا ذکر ہوچکا ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا '' اور جو شخص اللہ کا ' اور اس کے فرشتوں ' اور اس کی کتابوں ' اور اس کے رسولوں ' اور قیامت کے دن کا انکار کرے ' وہ سیدھے رستے سے بھٹک کر دور جا پڑا ''۔ (النساء : 136) انسانوں کی طرح فرشتوں کے بھی مختلف مراتب ہیں مثلاً حضرت جبرئیل ' میکائیل ' اسرافیل اور ملک الموت مقرب ترین فرشتے ہیں کیونکہ ان کے کاموں کی نوعیت قرآن پاک میں کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے۔ 1 ملک الموت کے لیے فرمایا۔ '' اے پیغمبر ! کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے ' تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے ' پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے ''۔ (سجدہ :11) 2 جبرئیل (علیہ السلام) کے لیے یوں فرمایا۔ '' اور یہ قرآن رب العٰلمین کا نازل کیا ہوا ہے ' اور تمہارے دل پر روح الامین (جبرائیل) نے صاف عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم ڈرانے والوں میں سے ہوجاؤ ''۔ (الشعراء : 192 تا 194) 3 حضرت میکائیل (علیہ السلام) کے ذمہ بارش کے امور اور روزی پہنچانا ہے۔ 4 حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ان کے ذمہ صور پھونکنے کا کام ہے جو قیامت کے آنے اور دوبارہ زندہ کئے جانے پر پھونکا جائے گا۔ ان کے علاوہ بیشمار فرشتے ہیں جو دن رات مختلف قسم کے کاموں پر متعین کئے گئے ہیں۔ مثلاً رضوان جنت ' خدام جنت ' فرشتہ دوزخ ' کراماً کاتبین ' پہریدار فرشتے ' فرشتہ تقدیر ' پہاڑوں کے نگراں فرشتے ' گشت کرنے والے فرشتے ' دعا کرنے والے فرشتے ' اللہ کی تسبیح و تقدیس کرنے والے فرشتے اور عرش کو اٹھانے والے فرشتے۔ ان سب کا ذکر بڑے واضح انداز میں کیا گیا ہے۔ یوں فرشتوں کا وجود ہماری عقل دل اور دماغ پوری طرح قبول کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کی قسم رب دو جہاں نے کھائی ہے۔ کس بات کی یقین دہانی کیلئے ؟ یوم آخر کی سچائی کیلئے۔ کہ یہ تو آ کر رہے گا۔ اس کی تفصیلات اگلی آیات میں ملاحظہ ہوں۔
Ayahs 79:6–14

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

کہ وہ دن آکر رہے گا جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

پھر اس کے پیچھے اور بھونچال آئے گا

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن لوگوں کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

اور آنکھیں جھکی ہوئی

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

) (کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹیں گے ؟

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر زندہ کئے جائیں گے ؟

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو پھر نقصان کا ہے

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اس وقت وہ سب میدان حشر میں آ جمع ہوں گے

قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ؁ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں شہروں کے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ ان آیات میں قیامت کا فیصلہ کن زلزلوں کا ذکر کیا گیا ہے تو ایسے ہزاروں آتش فشاں پہاڑ پھوٹیں گے جن سے زمین مسلسل تھرتھرائے گی۔ اور تھرتھرانے کی دوسری وجہ قیامت کے نزدیک زمین کے محور کے گرد عدم توازن بھی ہوسکتا ہے۔ آج کل زمین 24 گھنٹے میں اپنے گرد ایک چکر مکمل کرتی ہے۔ یعنی تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر کھا رہے ہیں۔ اس کی مثال بہت بڑے پہیہ کا گھومنا ہے اگر پہیہ میں توازن خراب ہوجائے تو پھر پہیہ وابلنگ کرتا ہے۔ ایسے ہی عدم توازن کی وجہ سے زمین مسلسل وابل کرسکتی ہے۔ اور اس کانپنے کی وجہ سے زمین کے اندر سے تباہ کن آتش فشاں مادہ باہر نکل کر ایسی تباہی مچائے گا کہ اس کے اوپر ہر چیز زلزلہ کی زد میں آجائے گی زمین کا وابلنگ (Wobbling) چاند پر بھی اثر انداز ہوگا اور چاند بھی کانپنے لگے گا۔ اس کی وجہ سے بڑے سمندری اور ہوائی طوفان بھی آسکتے ہیں۔ یعنی یہ عدم توازن قیامت کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت) یہ تمام تفصیلات تھر تھرانے کی تفصیلات ایک جید سائنس دان سلطان بشیر محمود صاحب کی بیان کردہ ہیں۔ قیامت کی تباہ کاریوں کی بیشمار وجوہات اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں جن کی تفصیلات سائنس دانوں نے مختلف بتائی ہیں کیونکہ اس کائنات کا نظام کچھ اس حساب کتاب کو ظاہر کرتا ہے کہ قیامت کی تباہی کی وجہ بیشمار حالات میں ہوسکتی ہے۔ انہی ممکن حالات کی دو وجوہات مصنف موصوف نے سائنسی نقطہ نگاہ سے پیش کی ہیں جب کہ اللہ مالک و خالق ہے اس کو کسی بھی کام کے لیے اسباب کی ضرورت نہیں وہ جو چاہے جب چاہے ایک اشارے سے کرسکتا ہے۔ بہر حال انسان کو بھی اللہ نے تحقیق و جستجو کا حکم دے رکھا ہے۔ اور وہ کرتا رہتا ہے۔ ہم ان ممکنہ حالات سے یہ اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں کہ ان حالات میں انسان کے اوسان کس حد تک خطا ہوسکتے ہیں۔ آگے ذکر ہے میدان حشر کا جو کہ تباہی کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر بپا ہوگا۔ اس میں بھی لوگ ایک بڑے دربار میں حاضری اور نتیجہ کے خوف سے گم سم میدان حشر میں جمع ہو رہے ہوں گے۔ تب کفار کو یقین آجائے گا کہ کس قدر سچی بات ان کو بتائی گئی تھی کہ ' میدان حشر میں آ جمع ہوں گے۔ (14)
Ayahs 79:15–26

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے ؟

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب ان کے رب نے ان کو پاک میدان طویٰ میں پکارا

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

اور حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور اس سے کہو کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے رب کا راستہ بتاؤں تاکہ تجھے خوف پیدا ہو

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

مگر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا۔

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

لوگوں کو اکٹھا کیا اور پکارا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہو

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

تو اللہ نے اس کو دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑ لیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

جو شخص اللہ سے ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس میں عبرت ہے

فرعون کا انکار اور تباہی تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے یعنی یوں لاش کا طویل عرصہ کے بعد سمندر سے باہر نکال کر لوگوں کے سامنے ڈال دینا قانون فطرت کے خلاف ہے۔ مگر اللہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اسی طرح سب لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر یقین کرلینا چاہیے۔ جو یقین نہیں کرتے تو پھر ان کا حال بھی برا ہوگا۔ مزید یقین دہانی کے لیے اللہ کی قدرت اور طاقت کا یوں اظہار کیا جارہا ہے۔ ملاحظہ ہو۔