78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 78:1–5

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

کیا بڑی خبر کے بارے میں ؟

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

بہت بڑی خبر (قیامت) تشریح : جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی وحدانیت کا تصور لوگوں کو دیا اور ساتھ ہی قیامت کا ذکر کیا اور دوبارہ زندہ کرکے حساب لینے کا ذکر کیا تو لوگ حیران و پریشان ہوگئے اور بہت سے لوگ آپ کی ان باتوں کا مذاق اڑانے لگے اور دونوں باتوں کو ہنسی مذاق کا ذریعہ بنا لیا۔ کچھ نے تو جان بوجھ کر اور کچھ نے کم علمی کیوجہ سے۔ دونوں ہی باتیں ان کے لیے سوائے خیالی باتوں کے اور کچھ نہ تھا۔ تو وہ لوگ اٹھتے بیٹھتے طرح طرح سے مذاق اڑاتے کہ دیکھو محمد ﷺ (نعوذ باللہ) دیوانہ ہوگیا ہے کیسی انہونی باتیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی دیوانے لوگوں کو خبر دے رہے ہیں کہ اگرچہ تم یقین نہیں کرتے مگر قیامت کا آنا ضروری ہے آکر رہے گی اور تم دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے پھر اپنی آنکھوں سے یہ سارا معاملہ دیکھ لوگے ابھی نہیں مانتے تو نہ مانو، آج کا سائنس دان ہزاروں تجربات کرنے کے بعد اب قرآن پاک کی بتائی گئی اس حقیقت تک پہنچا ہے کہ ' یہ کائنات ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکتی نہ یہ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ بلکہ اس کی عمر پندرہ بیس ارب سال ہے اور کسی دن یہ سب ختم ہوجائے گا۔ لیکن وہ کب ہوگا ؟ اس کا حساب لگانا مشکل ہے۔ اس کے بعد اسی ملبہ سے نئی تخلیق کی بنیاد پڑے گی۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت مصنف سلطان بشیر محمود) مزید لکھتے ہیں : سائنس دان اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ زمین آہستہ آہستہ پھیل رہی ہے اور پھر ایک مقررہ پھیلاؤ کے بعد سکڑنا شروع ہوجائے گی اور اندر کی طرف کھچاؤ کی طاقت بڑھتی چلی جائے گی اور یوں اجرام سماوی تیزی سے اندر کی طرف رش کریں گے اور پھر آپس میں ٹکراؤ کا سلسلہ تیز ہونے لگے گا اور پھر ایک وقت آئے گا کہ کائنات میں مزید بھنچ جانے کی گنجائش نہ رہے گی اور تب ایک انتہائی زبردست دھماکے کے ساتھ دوبارہ اچھلے گی اور یوں کائنات اپنی قیامت سے دوچارہوجائے گی۔ “ اس تحریر سے اور قرآن کی خبر سے ایک ہی پیغام ملتا ہے کہ قیامت کے نزدیک قدرتی آفات زیادہ ہونے لگیں گی۔ قیامت کے وقت صور پھونکا جائے گا یعنی زبر دست دھماکہ ہوگا۔ یہ سب اچانک ہوگا اور پھر ایک نئی کائنات کا آغاز ہوگا۔ یہ سب سائنس اب بتا رہی ہے جو قرآن پاک نے طویل عرصہ پہلے لوگوں کو بتا دیا تھا۔ اس وقت تو لوگ کفر و شرک میں ڈوبے ہوئے تھے اپنے آباؤ اجداد سے یہی کچھ سنتے آرہے تھے اور پھر بےعلم بھی تھے۔ اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے اس خبر پر غوروفکر کیا اور ایمان لے آئے اور کچھ بد نصیب اس خبر سے انکار ہی کرتے رہے۔ مگر فی زمانہ اس خبر سے انکار کرنا سوائے ہٹ دھرمی کے اور کچھ نہیں۔ بہر حال لوگ انکار کریں یا اقرار کریں اللہ کے پروگرام میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس کے مقرر کئے گئے وقت پر قیامت ضرور آئے گی اور حساب کتاب ضرور ہوگا۔ جس طرح یہ کائنات حقیقت ہے اسی طرح دوبارہ زندہ ہونا بھی حقیقت ہے۔ اللہ کی نعمتیں بیشمار ہیں۔
Ayahs 78:6–16

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو (اس کی) میخیں نہیں ٹھہرایا ؟

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

بیشک بنایا اور تم کو جوڑا جوڑا بھی بنایا

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور نیند کو تمہارے لیے آرام کا ذریعہ بنایا۔

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو پردہ مقرر کیا

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو محنت کمائی کا ذریعہ بنا دیا

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور آفتاب کا روشن چراغ بنایا۔

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور بھر پور بادلوں سے موسلادھار مینہ برسایا

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تا کہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے گھنے باغ

اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اسی کے متعدد اجزا سے ہماری پیدائش کا نطفہ تیار ہوتا ہے۔ اسی کے اوپر ہم بسیرا کرتے ہیں۔ اسی سے پیدا شدہ اناج اور پانی سے ہماری پرورش ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا سیارہ ہے جو پانی کی دولت سے مالا مال ہے جس کی وجہ سے یہ نظام شمسی میں خاص حیثیت رکھتا ہے ورنہ دوسرے کئی سیاروں کی طرح زمین بھی مردہ سیارہ ہوتی۔ پانی کی موجودگی زمین کے سنگھار کا باعث ہے اور انسان کے لیے زندگی کا بہترین تحفہ ہے۔ پھر اس زمین کی پختگی اور مزید بہتری کے لیے اس پر بڑے بڑے پہاڑ میخوں کی طرح گاڑ دئیے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ '' زمین کے لہریوں کو پہاڑوں کی بنیادیں کہنا مناسب ہے کیونکہ وہ اندازاً ایک میل سے تقریباً 10 میل کی گہرائی تک گئی ہوئی ہیں۔ قشر ارض کی مضبوطی ان لہریوں کی وجہ سے ہی ہے ''۔ پھر انسان کی پیدائش کا بندو بست یوں کیا کہ عورت و مرد کا جوڑا بنایا۔ کیونکہ عورت کے بیضہ اور مرد کے خلیہ کے ملاپ سے انسان کی تخلیق کا بندوبست اللہ نے کیا ہے۔ یہ عجیب و غریب اور حیران کن طریقہء تخلیق موجودہ ترقی یافتہ دور میں کافی حد تک معلوم کیا جا چکا ہے۔ یہ بھی قرآن کی آسمانی کتاب ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ یہ پورا طریقہ کار اس وقت بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ جب دنیا کے پاس نہ تو ایسے خوردبینی آلات تھے اور نہ ہی تحقیقاتی علوم و فنون تھے کہ جن کی مدد سے وہ ان باریک ترین بیضہ اور خلیہ کو دیکھ سکتے۔ جان لینا تو بعد کی بات ہے۔ جیسا کہ ماہرین نے بتایا ہے کہ افزائش نسل کا یہ خلیہ لمبوترا ہوتا ہے اور اس کے ابعاد کو ایک ملی میٹر کے دس ہزارویں حصے میں ناپا گیا ہے۔ جو انسانی آنکھ بغیر خورد بین کے دیکھ نہیں سکتی۔ اس لاجواب طریقہ تخلیق کو غور سے سوچیں تو اللہ ہمارے سامنے موجود دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ کسی غیر اللہ کے بس کی بات نہیں۔ جوڑوں کا تصور اسی لیے دیا گیا ہے کہ رب الاعلی نے اپنی تمام تخلیقات کی بنیاد جوڑوں سے ہی کی ہے۔ کیا حیوان، انسان ' جمادات یا نباتات ہوں۔ سب جوڑوں میں ہی موجود ہیں۔ اور یہ اللہ کی وحدانیت کا بھی ایک ثبوت ہے کہ وہ مالک خالق بالکل ایک ہے نہ اس کی پیدائش کسی سے ہوئی اور نہ کوئی اس سے پیدا ہوا۔ بس وہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کی محبت انسان کے لیے اللہ کے ان انتظامات سے بھی ظاہر ہوتی ہے جو اس نے بندوں کی سہولیات کے لیے اس دنیا میں کر رکھے ہیں۔ مثلاً آرام کے لیے پر سکون رات بنا دی کہ نیند کے ذریعہ اعصابی اور روحانی سکون حاصل کر کے اگلے دن کے کام کاج اور محنت مزدوری کے لیے تازہ دم ہو سکیں۔ اس طرح مضبوط اور فائدوں سے بھرپور سات آسمانوں کی بہترین چھتیں ہمارے لیے بنا دیں۔ یہ چھتیں اپنی بناوٹ میں عجیب و غریب ہیں۔ نہ تو ان کو ستونوں کا سہارا دیا گیا ہے اور نہ ہی کسی اور چیز سے ان کو تھاما گیا ہے بلکہ ایک غیر محسوس طاقت نے ان کو یوں تھام رکھا ہے کہ نہ تو وہ ایک دوسرے پر گرتے ہیں اور نہ ہی زمین کے اوپر آگرتے ہیں۔ کیا یہ اس خدائے لم یزل کی موجودگی کا اعلان نہیں کرتے ؟ ہے کوئی ایسا ماہر فلکیات سائنس دان جو ان کو بنانا تو بڑی دور کی بات ہے صرف ان کی بناوٹ ' کارکردگی اور توازن کو ہی پوری طرح جان سکے ؟ کوئی نہیں متعلقہ علوم کے ماہرین دن رات تحقیقات میں لگے رہتے ہیں مگر حتمی فیصلہ ان کے بس کی بات نہیں۔ آخر میں وہ بھی اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں جو حقائق قرآن میں بتا دئیے گئے ہیں اور وہ حقائق ہی سچ ہیں کبھی تبدیل نہ ہونے والے۔ کیا یہ اللہ کی موجودگی قرآن و رسول ﷺ کی سچائی اور اللہ کی دی گئی خبروں کی سچائی کے لیے کافی اور مستحکم ثبوت نہیں ہیں ؟ کیوں نہیں بیشک اللہ کا یہ فرمان باقی تمام فرمانوں کی طرح بالکل سچ ہے کہ حساب کا دن ضرور آئے گا لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے حضور ضرور جمع ہونا ہوگا۔ اسی طرح اس سورج کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو اپنے اندرونی دھماکوں سے شدید گرمی اور روشنی پیدا کرتا رہتا ہے۔ ماہرین نے اس کی خصوصیت کچھ یوں بیان کی ہے۔ ہائیڈروجن کے جو ہر ٹوٹ پھوٹ کر ہیلم کے جوہروں میں تبدیل ہورہے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس قسم کے ستاروں کے ابتدائی مرحلہ کے لیے مجموعی طور پر دس ارب سال قرار دی جاتی ہے۔ اس کے موجودہ مرحلہ کو اختتام تک پہنچنے کے لیے مزید 5 ارب سال لگنے چاہییں۔ (از ڈاکٹر موریس بوکائے) یہ تو سائنس کا اندازہ ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے اصلیت تو خالق ومالک اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمیں ایک عام عقل رکھنے والے انسانوں کو یہ تو پکی طرح معلوم ہے کہ سورج کے بیشمار فائدے ہیں ہماری زمین کے اور ہمارے بہت سے کام اسی کے ذریعہ چلتے ہیں۔ مثلاً دن کے وقت دنیا کو روشن کردینا ایسے کہ ہم لاکھوں روشنیوں سے بھی ایسی روشنی پیدا نہ کرسکیں اور پھر موسم کو مناسب رکھنا۔ پھلوں ' سبزیوں اور فصلوں کو اپنی مناسب گرمی سے پکا دینا۔ پانی کو اپنی تپش سے بھاپ بنا کر بلندیوں تک لے جانا تاکہ وہ بھر پوربادلوں کی شکل اختیار کرلیں اور پھر ان بادلوں کو ہوا کے ذریعے دور دراز علاقوں میں انتہائی موزوں ترین پروگرام کے تحت یوں زمین پر برسا دینا کہ کھیتی باڑی اور پینے کے لیے مستقل ضرورت کے مطابق خلقت کو ٹھنڈا میٹھا تازہ پانی ملتا رہے۔ سبحان اللہ۔ ہے کوئی ایسا ماہر انجنئیر سائنس دان جو اس پورے پر وجیکٹ کا ایک معمولی حصہ بھی بنا سکے ؟ کوئی نہیں۔ نہ ہوا ' نہ ہے اور نہ ہوگا۔ یہ سب کمالات صرف اس رحمن و رحیم ' خالق ومالک ' غفور ورحیم اور جبار و قھار کے ہی ہیں جس نے مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کی پکی اور سچی خبر ہمیں انسانوں کو دی ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہر وقت موجود ہے۔ پھر کونسی چیز ہمیں اللہ کے احکام کو ماننے سے روک رہی ہے ؟ غوروفکر کا مقام ہے ہماری عقلیں اتنی بھی کمزور اور بےکار نہیں کہ ہم ان تمام کھلی باتوں سے اللہ کو پہچان نہ سکیں۔ غور سے سنئے۔
Ayahs 78:17–30

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ گروہ در گروہ چلے آؤ گے

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہوجائیں گے

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے اور وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک دوزخ گھات میں ہے۔

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

یعنی سرکشوں کا وہی ٹھکانا ہے

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

وہاں نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ کچھ پینا نصیب ہوگا

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

مگر گرم پانی اور بہتی پیپ

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

یہ پورا پورا بدلہ ہے

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

یہ لوگ آخرت کے حساب کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کر رکھا ہے۔

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

سو اب مزہ چکھو ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے

قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام معاملات بغیر کسی غلطی یا مشکل کے پورے ہوتے چلے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نظام کوئی اٹکل پچو ناقص یا اتفاقات پر مبنی غیر یقینی نظام نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے '' اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کر رکھا ہے ''۔ (آیت 29) یقینی طور پر فیصلے کا دن آئے گا۔ اور یقینی طور پر بغیر کسی بےانصافی کے احتمال کے منکرین آخرت کو بتایا گیا عذاب ملے گا۔ اس میں ہرگز کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اور پھر نیک مومنین کا ذکر یوں کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Ayahs 78:31–36

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بیشک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

یعنی باغ اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور ہم عمر نوجوان عورتیں

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور شراب کے چھلکتے ہوئے گلاس

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ خرافات

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

یہ بدلہ ہوگا تیرے رب سے حساب سے دیا ہوا

اچھے لوگوں کی آؤ بھگت کا اعلان تشریح : دیکھا آپ نے ! اللہ کتنا مہربان ' بہترین اجر دینے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔ اللہ کے اس خوبصورت اور بہترین اعلان کے بعد کون چاہے گا کہ وہ اپنے اس مہربان مالک و خالق کا بندہ نہ بنے۔ میں بندہ ہوں تیرا کہ تیرے علاوہ کہیں بھی کوئی بندہ پرور نہیں ہے محمد منظور الحق
Ayahs 78:37–40

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے۔ بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کی ہمت نہ ہوگی

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن روح اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو اللہ رحمن اجازت بخشے اور جو ٹھیک بات بولے۔

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہ دن برحق ہے پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کردیا ہے جس دن ہر شخص ان اعمال کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا

قیامت کا منظر تشریح : یہاں ایک اور فضائی راز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کو سائنس دان اچھی طرح واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ '' آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے ''۔ (آیات 27) جناب سلطان بشیر محمود صاحب اس کی وضاحت سائنسی نقطہ نگاہ سے کچھ یوں کرتے ہیں۔ '' ابھی تک اس طرف جو پیش رفت ہوئی ہے ان میں تازہ ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ فضابہت چھوٹے چھوٹے تخموں سے اس طرح بھری پڑی ہے جیسے زمین پر کسی بیج کا چھینٹا دیا جاتا ہے۔ یہ فضائی جراثیم فضا میں ایک مقام سے دوسرے تک تابکاری کے دباؤ سے حرکت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اتنے سخت جان ہیں کہ فضا کی سردی اور دباؤ کو برداشت کرسکتے ہیں۔ ان کی اس سخت کو شی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر وہ زمین پر آجائیں تو ان کو تباہ کرنا آسان نہیں ہوگا ''۔ (از قیامت حیات بعدا لموت) یہ راز مادہ غیب کے بارے میں تاحال متنازع معاملہ ہے واللہ اعلم۔ آیات 38 تا 40 تک پھر حساب کے دن کا اعلان واضح الفاظ میں کیا گیا ہے۔ جس کی مرضی ہے کہ اس کو مانے اور جس کی مرضی ہے نہ مانے بہرحال اس کی سختی کا اظہار یوں کیا گیا ہے کہ '' کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا ''۔ (آیت 40) حشر کے میدان میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور امتحان کا خوف اس قدر زیادہ ہوگا کہ کوئی شخص بول نہ سکے گا دنیا کی طرح کسی قسم کی سفارش رشوت یا طرف داری کی ہمت کسی کو نہ ہوگی ہاں البتہ صرف ان قابل قدر ہستیوں کو بولنے کی اجازت ہوگی جن کو بولنے کی اللہ کی طرف سے اجازت ہوگی۔ اس بات کو ہم احادیث کی مدد سے واضح کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ '' ہر نبی کی ایک دعا خصوصی طور پر قبول ہوتی ہے۔ چناچہ ہر پیغمبر نے اس دعا میں جلدی کرلی ہے۔ مگر میں نے قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے اس دعا کو بچا رکھا ہے۔ میری امت میں سے جو شخص غیر مشرک مرے گا ' اللہ نے چاہا تو اس دعا کا فائدہ اسے پہنچے گا ''۔ (اللولووالمرجان) پھر انبیاء، علماء اور شہداء کی سفارش کا ذکر حدیث میں اس طرح کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انبیاء ' علماء اور شہداء (اللہ کے حکم سے) سفارش کریں گے ''۔ (ابن ماجہ) حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا '' قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہو ' اس لیے کہ قیامت کے روز یہ بھی ان کی سفارش کرے گا جو اس کی تلاوت کرتے تھے ''۔ (مسلم) پھر یہ بھی شرط ہے کہ صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہوگی یا سفارش قبول کی جائے گی جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرسکیں گے مگر ہاں اس شخص کی جس سے اللہ راضی ہو۔ (سورۃ النجم) پھر فرمایا : سفارش تو تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے کہہ دو ''۔ (زمر : 44) '' شفاعت کا حق حاصل کرنے والوں کو تین اعمال پر پابندی کرنی چاہیے۔ 1 توحید کا اقرار شرک کا انکار 2 نمازوں کا پابند ہونا 3 درود شریف کی کثرت یعنی اکثر پڑھتے رہنا '' (از مومن کے عقائد) اُمید ہے کہ ان لوگوں کو سمجھ آگئی ہوگی جو یہ کہتے ہیں کہ '' دیکھا جائے گا ''۔ اور کچھ یہ کہتے ہیں کہ '' ہم تو رسول پاک ﷺ کے امتی ہیں۔ ہمیں اعمال کی کیا ضرورت ہے ''۔ اللہ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔ اے اللہ ! اپنے پیغمبر کی شفاعت کی سعادت مجھے نصیب فرما آمین۔ آخر میں بڑی وضاحت سے اعلان کردیا گیا ہے کہ حساب کا دن ضرور آئے گا بدلہ ضرورملے گا اور حساب کا دن اس قدر تکلیف دہ ہوگا کہ کافر کہے گا اے کاش میں مٹی ہوتا۔ (آیت 40) اللہ جل جلالہ اس دن کی سختی اور مصیبت سے اپنی امان میں رکھے اور پیغمبر ﷺ کی شفاعت عنایت کرے۔ آمین خلاصہ سورة النبا جیسا کہ اس سورة مبارکہ کے نام سے ہی ظاہر ہو رہا ہے '' خبر ''۔ کس چیز کی خبر ! ایک ایسی بات کی '' خبر '' جو ہمارے مشاہدے اور تجربے سے باہر ہے۔ جس کو ہم نبی ﷺ کے ذریعے سنتے قرآن میں پڑھتے ہیں۔ اور یہ دونوں ذریعے قابل اعتماد ہیں۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں پیدا کیا کا ئنات بنائی وہ ہمیں بتا رہا ہے کہ یہ کائنات ایک دن ضرور ختم کردی جائے گی اور تمہیں بھی ختم کردیا جائے گا مگر دونوں کا ختم ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارا یہاں آنا اس دنیا کی زندگی کی شروعات ہیں اور مرجانا دوسری دنیا میں نئی زندگی حاصل کرنے کی شروعات ہوں گی۔ اسی طرح کائنات کا وجود میں آنا اور پھر ختم ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا اختتام دوسری کائنات کا وجود ہوگا۔ جس طرح تم کچھ نہ تھے انتہائی حقیر ترین نطفہ سے انسان بنادئیے گئے اسی طرح حساب کے دن تم لوگ دوبارہ ضرور زندہ کھڑے کر دئیے جاؤ گے اور اس زندگی کے اعمال نامے کے ساتھ تاکہ تمہیں آخرت کی ابدی زندگی میں انعام یا سزا دی جائے۔ دوسرا ذریعہ ہے پیغمبر آخر الزماں محمد ﷺ وہ اللہ کے انتہائی برگزیدہ نبی ہیں۔ اور ان کو رب تعالیٰ نے جنت و دوزخ کا مشاہدہ اس زندگی میں کروا دیا تھا۔ ان کا تو صرف کہہ دینا ہی مسلمان کے لیے قابل اعتبار ہے جب کہ انہوں نے آخرت کے یقین کرنے کے لیے قرآنی آیات بار بار کثرت سے لوگوں کو بتا دی ہیں تو اب شک و شبہ کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ یقین کرنے والے متقین کے بارے میں اللہ فرماتا ہے۔ '' اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ''۔ (البقرہ : 4) پھر فرمایا۔ '' اور ان میں سے کوئی کہتا ہے۔ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی۔ اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ''۔ (البقرۃ 201) دیکھا جائے تو ہر بندے کی زندگی کا مقصد متعین کردیا گیا ہے۔ یعنی '' امتحان ''۔ اس پوری زندگی کا امتحان۔ یہی تو مقصد ہے انسان اور کائنات کی پیدائش کا۔ بھلا یہ سب کچھ یونہی بےمقصد کھیل تماشہ تو نہیں ہوسکتا۔ یہ سب کچھ بامقصد ہے۔ تو ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ زندگی میں کسی بھی ذمہ داری کے حامل ہوں پورے خلوص نیک نیتی اور اللہ و رسول ﷺ کی حدود میں رہ کر اپنے فرائض ادا کریں۔ چاہے آپ ماں ہیں۔ باپ افسر ' ٹیچر ' لیڈر ' طالبعلم ' ڈاکٹر ' انجنئیر ' سائنسدان ہیں۔ غرض کچھ بھی ہیں اپنے فرائض پوری ایمانداری محنت اور خوف خدا دل میں رکھ کر کریں۔ تو آپ دیکھ لیں گے کہ آپ ' آپ کا متعلقہ شعبہ ' قوم اور آپ کا ملک کیسے ترقی کرنے لگے گا۔ یہ انعام تو ہوگا اس دنیا میں۔ اور بڑا انعام جس کا تصور ہی بےچین کردیتا ہے۔ اور جو رب اعلیٰ ' مالک الملک ' غفور رّحیم اور قادر مطلق کی طرف سے دوبارہ زندہ ہونے پر بہترین اعمال کے صلہ میں دیا جائے گا۔ وہ ہے '' جنت ''۔ جس کی تعریف قرآن میں جگہ جگہ کی گئی ہے۔ القرآن۔ '' اور جیسی چیز کو تمہارا جی چاہے ' جنت میں تمہارے لیے موجود ہے۔ اور جو مانگو وہاں موجود ہوگا ''۔ (فصلت : 31) حدیث میں یوں آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ '' اور لمبے لمبے سائے اور بہتے ہوئے پانی ' بہت سے میوے ہوں گے جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ کوئی ان سے روکے گا اور اونچے فرش ہوں گے ''۔ (بخاری ' مسلم ' ترمذی) یہ تو کچھ بھی نہیں قرآن پڑھو تو دیکھو جنت کیسی شاندار چیز اللہ نے بنائی ہے۔ شرط یہ ہے۔ '' کہہ دو اس دنیا کی متاع بہت قلیل ہے اور جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے ان کے لیے آخرت میں اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور تمہارے ساتھ ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی (النساء : 77) (الحمد للہ سورة النبا مکمل ہوگئی)