Ayahs 80:17–42انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق
تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔
1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔
2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔
3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔
اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ زرخیز شدہ انڈہ تمام حیوانات بشمول انسان کے ہر مادہ کی رحم میں ایک بیج نما انڈہ ہوتا ہے اور اس سے نرمادہ تولید یعنی نطفہ کے ملنے سے بچہ کی پیدائش کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ تاب پذیر انڈے کو نشوونما کے لیے ایک مخصوص عرصہ درکار ہوتا ہے۔ علم حیاتیات کی رو سے یہ ایسا علم ہے جس میں بیج کے جرثومے متواتر آپس میں افزائش نسل کے عمل میں اس طرح معروف رہتے ہیں کہ ایک نیا جسمیہ وجود میں آجاتا ہے۔ جرثومے کے اندر ریاضیاتی پروگرام کا موجود ہونا کسی کے علم میں نہیں تھا۔ نباتات کے علم میں مٹی کو مکمل طور پر ایک زندہ ڈھانچہ سمجھا جاتا ہے۔ یعنی زمین پر زندگی کی ابتدا سے ہی مٹی کو ایک زندہ حقیقت مانا گیا ہے۔ یہ علم عرصہ طویل پہلے قران پاک میں بندے کو سمجھا دیا گیا ہے۔ بیشک انسان تمام مخلوقات میں سے بہترین مخلوق ہے لیکن جیسا کہ قرآن پاک میں بتا دیا گیا ہے وہ بھی اس آسمانی پروگرام سے باہر کچھ نہیں کرسکتا جو اس کے لیے مخصوص ہے ''۔ (از قرآن آیات اور سائنسی حقائق)
ڈاکٹر موصوف نے انسان کی پیدائش ' نشوونما اور نشوونما کے تمام ذرائع کو قرآن اور سائنس کی روشنی میں بڑے پیارے انداز سے واضح کیا ہے۔ یہ سب کچھ جان کر تو ہر بندے کو اپنے خالق کے سامنے بےاختیار سجدے میں گر جانا چاہیے مگر بندہ ہے کہ بس اونچی ہواؤں میں یہ تک بھول جاتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی صورت میں مرسکتا ہے اور اتنا بےحقیقت ہوجاتا ہے کہ اس کے مردہ جسم کو زمین میں دفن کردیا جاتا ہے یہ بھی ہمارے دین کی ایک خاصیت ہے کہ احترام انسان میں اس کے مردہ جسم کو نہ جلایا جاتا ہے۔ نہ بہایا جاتا ہے نہ جنگلی جانوروں کی خوراک بننے کے لیے کھلے عام چھوڑ دیا جاتا ہے بلکہ بڑی عزت و احترام اور بڑے اہتمام سے اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے ساتھ زمین میں دفن کردیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس زمین میں سے ہی تو انسان کو ایک طویل عرصے کے بعد دوبارہ اٹھا کر اللہ کے حضور حاضر کیا جانا ہے۔ گویا زمین کو انسانی زندگی کے ساتھ ہر مرحلہ مربوط رکھا گیا ہے۔ مگر صرف اس دنیا میں کیونکہ انسان کے مادی جسم کا تعلق زمین سے ہے۔ مٹی سے ہی اس کے جسم کا خمیرا اٹھایا گیا مٹی سے پیدا شدہ اناج و پانی سے پرورش پائی اور پھر مر کر مٹی میں ہی مادی جسم تاقیامت قیام کرے گا جب کہ روح کا تعلق ذات الٰہی سے ہے جس کو ہم ضمیر کہتے ہیں۔ جو سیدھے راستے کی طرف جانے کو کہتا ہے اور ہر برائی پر گھنٹی بجاتا ہے۔ جو تو اس گھنٹی سے جاگ جاتا ہے وہ خوش نصیب ہے جو گھنٹی کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتا ہے وہ بد نصیب ہے۔ قیامت کا ہولناک دن بڑا ہی افراتفری کا دن ہوگا۔ انسان ہر رشتہ ناتا بھول جائے گا اور اس کو صرف اپنی ہی پڑی ہوگی۔ مگر اس وقت کچھ لوگوں کے چہرے مطمئن اور خوشی سے دمک رہے ہوں ـگے۔
یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے مادی زندگی میں ضمیر کی گھنٹی کی آواز پر خود کو اللہ کی راہ پر چلایا ہوگا یعنی اپنے نفس کو پوری طرح اپنے کنٹرول میں رکھ کر زندگی گزاری ہوگی اور نفس کے غلام نہ بنے ہوں گے۔
اور اس کے برعکس کچھ لوگ اس دن انتہائی کرب ' پریشانی ' مصیبت اور دکھ کی وجہ سے بد شکل اور بےچین پھر رہے ہوں گے ان کے چہروں پر سیاہی چھا رہی ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی مادی زندگی میں ضمیر کی گھنٹی کی آواز کو دبا کر شیطانی راہ پر زندگی گزاری ہوگی اور اب اس عالم آخر میں ان کو سوائے دکھ ' پریشانی اور عذاب کے اور کچھ نہ ملے گا اور بد نصیبی یہ کہ سب کچھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ملے گا۔ اور بندہ کچھ نہ کرسکے گا۔ اسی لیے تو اللہ نے دو طاقتیں انسان کے ساتھ لگا رکھی ہیں جن کو ہم روح یعنی ضمیر اور نفس یعنی شیطان کا مرتبہ دیتے ہیں۔
دعا کرنی چاہیے اور پوری کوشش بھی کرنی چاہیے کہ نفس کو روح پر کامیاب نہ ہونے دیا جائے بلکہ روح کو نفس کا حاکم بنا کر رکھا جائے کیونکہ ابدی کامیابی ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اور ایسے لوگ دنیا میں بھی بہترین عزت اور شہرت حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اندر وہ تمام اخلاقی ' روحانی اور مذہبی خوبیاں پیدا ہوجاتی ہیں جو ایک مرد کامل میں ہونی چاہیے۔ کون نہیں جانتا کہ اچھا انسان خود اپنے لیے اور تمام مخلوق خدا کے لیے رحمت ہی رحمت ہوتا ہے۔ لوگ اس سے پیار کرتے ہیں اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کو اپنے قریب پا کر سکون اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ایسا شخص نہ صرف خود اپنے لیے ہی جنت کی ہوا ہوتا ہے بلکہ اپنے خاندان ' گھر ' محلہ ' شہر ' ملک اور پوری دنیا کے لیے اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔ کیا وجہ سے کہ آج کا مسلمان مسلمان ممالک اور مسلمان علماء و فقہا اس عظیم تحفہ سے محروم ہیں ؟ جب کہ ہمارے پاس اس پیغمبر کی تعلیمات موجود ہیں جس نے فقط اخلاق و کر دار کی پختگی سے دنیا کو مسخر کرلیا۔
یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ کے زمانے میں اسلام تلوار سے نہیں کردار کی طاقت سے پھیلا تھا اگر جہاد بالسیف کی اہمیت ہے تو اخلاق حسنہ کی اس سے بھی زیادہ اہمیت ہے۔ ایک حدیث کا کچھ حصہ پیش خدمت ہے۔ سیدنا ابوذر الغفاری ؓ سے مروی ہے :-'' میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تنہاء بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا پھر میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ مومنوں میں سب سے افضل کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ '' جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو (اچھا ہو) ۔ پھر میں نے پوچھا کہ سب سے افضل مسلم کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا '' جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں ''، پھر میں نے پوچھاــ'' اے اللہ کے رسول ﷺ سب سے اچھی ہجرت کون سی ہے ؟ '' آپ ﷺ نے فرمایا کہ '' اس شخص کی ہجرت جو برائیوں کو چھوڑ دے ''۔
حقیقت یہ ہے کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو اچھا انسان ہو۔ اسلام دراصل انسان سازی کا مذہب ہے۔ اسلام کا مقصد انسان کی فکری تطہیر اور علمی اصلاح ہے۔ جس آدمی کے دل میں اسلام اتر جائے وہ اپنے آپ اچھا انسان بھی بن جائے گا۔
(ازدین انسانیت، مصنف مولانا وحید الدین خان)
آپ سب قارئین ذرا انصاف سے سوچیں کہ اگر تمام مسلم ممالک کے سر براہان اور مسلم ممالک کے لوگ حقیقی لحاظ سے نبی کریم ﷺ کے امتی بن جائیں تو کیا ہم اس اسلامک ورلڈ آرڈر کو بحال نہیں کرسکتے جس کی بنیاد ہمارے پیارے رسول ﷺ نے اللہ کی مدد اور حکم سے تن تنہا ' مدینہ کی چھوٹی سی ریاست سے رکھ دی تھی۔ اور اس نیو ورلڈ آرڈر کی تشکیل یوں کی گئی۔
1 ۔ عالمگیر معاشرے کا قیام۔
2 ۔ انسانی مساوات کی حفاظت۔
3 ۔ انسانی بنیادی حقوق کا تحفظ۔
4 ۔ انسانی برادری اور مذہبی حقوق کی حفاظت اور آزادی
5 ۔ عدل و انصاف کا قیام
6 ۔ پوری دنیا میں امن و سلامتی کا قیام۔
7 ۔ بین الاقوامی معاہدات کی حفاظت
8 ۔ اللہ کی حاکمیت کا یقین۔
اس کا ثبوت اللہ کے اس فرمان میں ملتا ہے۔ '' اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو ورنہ بیشک سب سے باعزت اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ''۔ (الحجرات)
کس قدر خوبصورت دین ہے۔ دین اسلام اور کس قدر خوبصورت ہیں اس کے اصول و قوانین ! کیا ہم ان خوبصورت راہوں پر چل کر حساب کے دن خوبصورت چہرے کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر نہیں ہوسکتے ؟ کیوں نہیں ہوسکتے یہ تو بہت آسان اور فائدہ مند قوانین ہیں۔ جن میں سکون ہی سکون ہے۔ یہاں بھی اور وہاں بھی۔ یہی سب خلاصہ ہے اس سورة مبارکہ کا۔
اللہ کے فضل اور مہربانی سے سورة عبس مکمل ہوگئی، الحمد للہ۔
دعا :'' شروع اللہ کے نام سے نہیں نقصان دے سکتی اس کے نام کی برکت سے کوئی چیز ' زمین میں اور نہ آسمان میں اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ''۔
بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِيْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْ ءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاۗءِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ ۔ (مشکوٰۃ شریف)