83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 83:1–6

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

کم تولنے والے (ف 1) کی خرابی ہے

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

وہ لوگ جب اوروں سے اپنے لیے ناپ لیں تو پوراتولیں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب انہیں ناپ تول کردیں تو گھٹا کردیں

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو گمان نہیں ہے کہ انہیں اٹھنا ہے

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک عظمت والے دن کے لیے

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے

کم تولنا اور دھوکہ فریب کرنا۔ (ف 1) معتبر سند سے نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب نبی ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کاشیوہ اختیار کیا ہے۔
Ayahs 83:7–14

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہرگز (ف 1) نہیں (ایسا) نہیں بیشک کافروں کا اعمال نامہ سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تو کیا جانے سجین کیسی ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

وہ لکھت ایک مہر کیا ہونوشت ہے

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اسے نہ جھٹلائے گا مگر حد سے گزنے والا گناہ گار

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں کہتا ہے کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھادیا ہے

انسان کے نیک و بدعمل کرنے، منکرین اسلام اور محبوبان حق کا ذکر۔ (ف 1) جو لوگ قیامت کے دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ، ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن اللہ کے روبروکھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے یہ لوگ ہیں فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے۔ سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بدلوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں ، چناچہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے بدلوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لیجانے کا خدا کا حکم نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ حکم ہوتا ہے کہ ایسی روح کو زمین پر پھینک دو ، ایسے بدلوگوں کے اعمال کا حوالہ ساتویں زمین کے اس دفتر میں لکھ لو جس کا نام سجین ہے اس حکم کے موافق اس کے اعمال نامہ کا حوالہ سجین میں لکھ لیاجاتا ہے اور اس کی روح کو قبر کے سوال جواب کے لیے پھر جسم مین پھونک دیاجاتا ہے منذری نے اس حدیث کو حسن کہا ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے منکر وہی لوگ ہیں جو گناہ کے کرنے سے میں حد سے بڑھ گئے اور کثرت گناہوں سے ان کے دل پر زنگ آگیا ہے۔ مسند امام احمد ترمذی نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس وقت کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرچھوٹا ساداغ پڑجاتا ہے پھر اگر اس گناہ کے بعد اس شخص نے خالص دل سے توبہ و استغفار کرلی تو وہ داغ دل پر سے جاتارہتا ہے اور اس شخص کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ شخص بغیر توبہ استغفار کے گناہ پر گناہ کرتا رہا، تورفتہ رفتہ ایسے شخص کا دل بالکل کالاسیاہ ہوجاتا ہے کہ حق و باطل کی تمیز باقی نہیں رہتی، یہ ہی حال ان مکذبین کا ہے کہ شرارتیں کرتے کرتے ان کے دل بالکل مسخ ہوچکے ہیں اسی لیے آیات اللہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayahs 83:15–17

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ہرگز (ف 1) نہیں بیشک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر بیشک وہ دوزخ میں داخل ہوں گے

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان کو کہاجائے گا کہ یہی ہے وہ جس کو تم جھٹلاتے تھے

(ف 1) یعنی اس انکار وتکذیب کے انجام سے بےفکرنہ ہوں وہ وقت ضرورآنے والا ہے جب مومنین حق سبحانہ وتعالی کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوں گے اور یہ بدبخت کافر خدا کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے اور یہ بدبخت کافر دوزخ میں جانے کے بعد طرح طرح کا ان پر عذاب ہوگا، اور ان کے قائل کرنے کے لیے گھڑی گھڑی ان سے فرشتے یہ کہیں گے کہ جس عذاب کے تم لوگ دنیا میں منکر تھے تو اب اس کا مزہ چکھو۔
Ayahs 83:18–24

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

نہیں نہیں بیشک (ف 2) نیکوں کی لکھت (یعنی نامہ اعمال) سب سے اونچے محل علین میں ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

وہ لکھا ایک مہر کیا ہوانوشتہ ہے

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

اس کے پاس خدا کے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ نعمت میں ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھ کر نظارہ کریں گے

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تو ان کے چہروں پر نعمت کی تازگی پہچانے گا

(ف 2) اوپر سے حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ میں ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا او اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا سے اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے براء بن عازب ؓ کی وہ حدیث جس کا ذکراوپرگذرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے ایک قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے روبروجب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے، توعلیین مقام کے دفتر میں جا ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس روح کو منکرنکیر کے سوالات کا جواب دینے کے لیے پھر جسم میں پلٹا دیاجاتا ہے ، پھر فرمایا کہ یہ نیک لوگ جنت میں جانے کے بعد اپنے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوئے جنت کے باغوں کی سیر کیا کریں گے اور دیدار الٰہی سے انکھیں شاد کریں گے ، اور جنت کے عیش و آرام سے ان کے چہرے ایسے پررونق اور تروتازہ ہوں گے کہ ہر ایک دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان جائے کہ یہ لوگ نہایت عیش تنعم میں ہیں۔
Ayahs 83:25–28

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

اور (ف 1) ان کو خاص شراب پلائی جائے گی جو مہر کی ہوئی رکھی ہے

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

اس کی مہر بجائے موم کے مشک سے ہوگی اور اسی پر چاہے کہ رغبت کریں رغبت کرنے والے

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور شراب میں تسنیم کی ملونی ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ چشمہ جسے خدا کے مقرب لوگ پیتے ہیں

(ف 1) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں لیکن یہ شراب نادر ہے جو سربہمر رہتی ہے آگے فرمایا کہ جیسے دنیا میں مہر لاکھ یا مٹی پر جمائی جاتی ہے وہاں کی مٹی مشک ہے اسی پر جمائی جائیں گی ، شیشہ ہاتھ میں لیتے ہی دماغ معطر ہوجائے گا اور آخر تک خوشبومہکتی رہے گی آگے فرمایا کہ دنیا کی ناپاک شراب اس لائق نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے لیے لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے، اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہونی چاہیے ، آگے فرمایا کہ مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب کو خالص پیتے ہیں اور ابرار کو اس شراب کی ملونی دی جاتی ہے جو بطور گلاب وغیرہ کے ان کی شراب میں پلاتے ہیں۔
Ayahs 83:29–36

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

بیشک (ف 1) وہ لوگ جو گناہ گار تھے مسلمانوں پر ہنسا کرتے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب وہ ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب مسلمانوں کو دیکھتے تو کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

اور یہ (کافر) ان (مسلمان) پر نگہبان بنا کر نہ بھیجے گئے

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

پس آج مسلمان کافروں سے ہنستے ہیں

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

کیا کچھ کافروں کو بدلہ ملا اس کے موافق جو کچھ وہ (دنیا میں) کرتے تھے

جنتی اور دوزخی کی پہچان۔ (ف 1) اوپر جنتیوں اودوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لیے اس مدنی سورت میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ غریب مسلمانوں کو طرح طرح کے مسخراپن کی باتوں میں اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ مشرک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول وفعل کی نگرانی ونگہبانی کے لیے نہیں پیدا کیے گئے جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں، ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبی کا دونوں فریق کا یہ حال سنادیا کہ وہاں کا معاملہ برعکس ہوگا کہ یہ غریب مسلمان تختوں پر شاہانہ ٹھاٹ سے بیٹھے ہوئے جنت کے باغوں کی سیرکر رہے ہوں گے اس سیر میں جنت کے بلند مکانوں کی سیرگاہوں سے جب ان غریب مسلمانوں کی نظر دوزخ میں ان مشرک لوگوں پر جاپڑے گی اور دیکھیں گے کہ دنیا میں ان پر ہنسنے والے لوگ آج عجیب ذلت اور خواری میں ہیں تو ان غریب مسلمانوں کو بھی ان مشرکوں پر ہنسی آئے گی اور آپس میں یہ تذکرہ کریں گے کہ ان مشرکوں نے دنیا میں جیسا کیا ویسا ہی پھل پالیا یا نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کیے کا پوراثمر پالیا۔ یہ مشرک مالدار دوزخ میں جانے کے بعد ان غریب مسلمانوں کے حق میں جو کچھ کہیں گے وہ سورة ص میں گذرچکا ہے، مالنا لانری رجالا کنانعدھم من الاشرار۔ اتخذنھم سخریا، ام زاغت عنھم الابصار۔ حاصل مطلب دونوں آیتوں کا یہ ہوا کہ وہ مشرک مالدار غریب مسلمانوں کو اپنے ساتھ نہ دیکھیں گے تو ان کو بڑا تعجب ہوگا پھر ان کو اپنے اوپر ہنستے ہوئے جنت میں ہر طرح کی راحت میں دیکھ کر جان لیں گے جن کو یہ بہکا ہواسمجھ کر ان سے مسخراپن کرتے تھے وہ بہکے ہوئے نہ تھے بلکہ یہ خود بہکے ہوئے تھے جس کا آج دوزخ میں عذاب کا مزہ چکھ رہے ہیں۔