Ayahs 84:1–2حالات قیامت۔
(ف 1) یعنی اللہ کی طرف سے جب پھٹنے کا حکم تکوینی ہوگا آسمان اس کی تعمیل کرے گا اور وہ مقدور ومقہور ہونے کے لحاظ سے اسی لائق ہے کہ بایں عظمت و رفعت اپنے مالک و خالق کے سامنے گردن ڈال دے اور اس کی فرمانبرداری میں ذراچوں چرانہ کرے ۔
Ayah 84:3(ف 2) محشر کے لیے یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور عمارتیں پہاڑ وغیرہ سب برابر کردیے جائیں گے کہ تاریک سطح مستوری پر سب اولین وآخرین وقت کھڑے ہوسکیں اور کوئی حجاب وحائل باقی نہ رہے۔
Ayah 84:4(ف 3) یعنی زمین میں اس دن اپنے خزانے اور مردوں کے اجزا اگل ڈالے گی اور ان تمام چیزوں سے خالی ہوجائے گی جن کا تعلق اعمال عباد کے حالات سے ہے۔
Ayah 84:5(ف 1) زمین وآسمان جس کے حکم تکوینی کے تابع ومنقاد ہوں آدمی کو کیا حق ہے کہ اس کے حکم تشریعی سے سرتابی کرے۔
Ayahs 84:6–7(ف 2) قیامت کے ذکر کرکے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی بھر میں نیک وبد جو کچھ ہر شخص کرے گا جس وقت قیامت قائم ہوگی تو اس کا وہ سب عمل اس کے سامنے آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ہر شخص کو اس کے ہر طرح کے عمل کی جزا وسزا مل جائے گی ورنہ نیک و بدعمل تو ہر شخص کی قبر میں رکھتے ہی اس کے سامنے آجاتا ہے، چناچہ براء بن عازب کی حدیث کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد نیک شخص کے پاس اس کی قبر میں ایک آدمی اچھی صورت کا اچھا لباس پہنے ہوئے آتا ہے اور مردے سے کہتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں اسی طرح بد آدمی کے مردہ کی قبر میں بدشکل برے لباس میں اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے میں تیرا بدعمل ہوں اس کے بعد نیک آدمی قیامت کے جلدی آنے اور اپنے نیک عمل کی جزا پانے کی تمنا کرتا رہتا ہے اور بدآدمی قیامت کے نہ آنے اور اپنے بدعمل کی سزا سے بچ جانے کی آرزو میں لگارہتا ہے۔
Ayahs 84:8–14آسان حساب کیسے ہوگا ؟
(ف 3) آسان حساب کی بابت مسند امام احمد، مستدرک حاکم، عبد بن حمید، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ عنہافرماتی ہیں میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ حضور آسانی سے حساب ہوجانے کی قیامت کے دن کیا صورت ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا آسانی سے حساب ہوجانے کی صورت یہ ہوگی کہ اللہ اپنے بندوں کے نامہ اعمال پر فقط نظر ڈالے گا اور درگذر فرماکرحساب میں زیادہ کریدنہ فرمائے گا، کیونکہ جس شخص کے حساب میں کریدنکالی جائے گی وہ ضرور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا، نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص میں یہ تین خصلتیں ہوں گی قیامت کے دن اس کا حساب آسانی سے ہوگا۔ ایک بدمزاج رشتہ دواروں سے سلوک اور صلہ رحمی کا کرنا۔ دوسرے جو برائی سے اپنے سے پیش آئے اس کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آنا۔ تیسرے کوئی ظلم زیادتی کرے تو اس کو معاف کردینا۔ اب دوسری آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں دیاجائے گا، فرشتے سامنے سے اس کی صورت دیکھنا پسند نہیں کریں گے گویا غایب کراہت کا اظہار کیا جائے گا اور ممکن ہے پیچھے کو مشکیں بندھی ہوں اس طرح کہ داہنا ہاتھ تو اس کی گردن کے ساتھ ملا کر طوق میں باندھ دیاجائے گا اور بایاں ہاتھ پس پشت کردیا جائے گا، اس میں اس کانامہ اعمال دیاجائے گا، اس حال کو دیکھ کر وہ جان لے گا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہے ، تو اس عذاب کے ڈر سے موت مانگیں گے یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیا میں آخرت سے بےفکر تھے اور ان کو کہاں خیال تھا کہ ایک روز خدا کی طرف واپس ہونا ہے اور رتی رتی کا حساب دینا ہے ، اس لیے گناہوں اور شراررتوں پر خوب دلیر رہا اس کا بدلہ یہ ہے کہ آج سخت غم میں مبتلا ہوناپڑا، آخرکار انجام دوزخ ہوگا، اس کے برعکس جو لوگ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی فکر میں گھلے جاتے تھے ان کو آج بالکل بےفکری اور امن چین ہے۔
Ayah 84:15(ف 1) یعنی پیدائش سے موت تک برابر دیکھتا تھا کہ اس کی روح کہاں سے آئی بدن کس کس چیز سے بنا، پھر کیا اعتقادرکھا کیا عمل کیا، دل میں کیا بات تھی زبان سے کیا نکلا ، ہاتھ پاؤں سے کیا کمایا، اور موت کے بعد اس کی روح کہاں گئی اور بدن کے اجزا بکھر کر کہاں پہنچے وغیرہ ذالک۔ جو خدا آدمی کے احوال سے اس قدرواقف ہو اور ہر جزئی وکلی خالت کو نگاہ میں رکھتا ہو کیا گمان کرسکتے ہو کہ وہ اس کو یوں ہی مہمل چھوڑ دے گا۔
Ayah 84:16(ف 2) جو سرخی کے بعد نمودار ہوتا ہے اور جس کے غائب ہونے پر امام ابوحنیفہ کے نزدیک وقت عشاء شروع ہوتا ہے یہی قول ہے کثیر صحابہ اور بعض علماء شفق سے سرخی مراد لیتے ہیں۔
Ayah 84:17(ف 3) یعنی آدمی اور جانور جو دن میں تلاش معاش کے لیے مکانوں سے نکل کر ادھر ادھر منتشر ہوتے ہیں رات کے وقت سب طرف سے سمٹ کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جمع ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 84:18–20(ف 1) یعنی اس کا نور کامل ہوجائے اور یہ ایام بیض یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں تاریخوں میں ہوتا ہے۔
Ayahs 84:21–25(ف 2) بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس آیت میں نبی ﷺ کا حال بیان فرمایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ آپ کو مشرکین پر فتح وظفر حاصل ہوگی اور انجام بہت بہتر ہوگا، آپ کفار کی سرکشی اور ان کی تکذیب سے غمگین نہ ہوں، اور ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ خطاب نبی کو ہے کہ آپ شب معراج ایک آسمان پر تشریف لے گئے پھر دوسرے پر ، اسی طرح درجہ بدرجہ مرتبہ بمرتبہ منازل قرب میں واصل ہوئے یا یہ خطاب انسان کو ہے اس تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ تم ہمیشہ زندہ نہیں رہو گے بلکہ موت کے بعد کی سختیاں تم کو جھیلنی ہیں۔ مسندامام احمد اور طبرانی میں انس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگرچہ انسان کے لیے موت سخت چیز ہے لیکن موت کے بعد جو چیزیں اس کو پیش آنے والی ہیں وہ موت سے بھی زیادہ سخت ہیں مطلب یہ ہے کہ موت کی سختی سے آدمی کی جان نکل جاتی ہے عذاب قبر کی سختی، حشر وقیامت کی سختی میں یہ بھی نہیں ہے کہ آدمی مر کر اس سختی سے چھوٹ جائے ، پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو موت کے بعد بھی کسی طرف رجوع ہونا ہے اور ایک بڑا بھاری سفردرپیش ہے جس کے لیے کافی توشہ ساتھ ہونا چاہیے۔ جب یہ سختیاں جھیلنی ہیں اور یہ توشہ اور سختیاں بغیر اطاعت خدا اور خدا کے رسول کے کسی طرح آسان نہیں ہوسکتیں تو پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت نہیں کرتے، اور جب ان کے روبرو اللہ کا کلام پڑھاجائے تو اس کو دل سے نہیں سنتے ، اور کلام الٰہی کی تعظیم میں سر نہیں جھکاتے، پھر فرمایا بعض تو ان میں اللہ کی فرمانبرداری کے ایسے منکر ہیں اللہ کا کلام ماننے کے بجائے الٹا اس کو جھٹلاتے ہیں پھر فرمایا ایسے لوگوں کے دلوں میں جو نافرمانی سمائی ہوئی ہے اللہ اس سے غافل نہیں ہے اس کو سب معلوم ہے کہ اس کے خمیازہ میں وقت مقررہ پر ایسے لوگوں کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا جس طرح کوئی کسی کو بڑی خوش خبری سناتا ہے بجائے کسی دوسری خوش خبری کے خدا کیطرف سے ان کو اس عذاب کی خوش خبری سنائی جائے ہاں اس فہمائش کے بعد ان میں سے جو لوگ اللہ کی فرمانبرداری قبول کرکے نیک کام کریں گے تو ان کے ثواب میں کبھی کسی طرح کی کمی نہ ہوگی۔ مراد اس سے سجدہ تلاوت ہے۔
سجدہ تلاوت کابیان۔
شان نزول : جب سورة اقراء میں واسجد واقترب نازل ہوا تو نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور سجدہ کیا ، مومنین نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور کفار قریش نے سجدہ نہ کیا، ان کے اس فعل کی برائی میں یہ آیت نازل ہوئی کہ کفار پر جب قرآن پڑھاجاتا ہے تو وہ سجدہ تلاوت نہیں کرتے۔
مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت واجب ہے اور جمہور علماء کے نزدیک اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے دونوں پر سجدہ کرنا چاہیے۔ کس لیے کہ یہاں سجدہ نہ کرنے والوں کی برائی مذکور ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک یہ سجدہ واجب ہے قرآن کریم میں سجدہ کی چودہ آیتیں ہیں جن کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے خواہ سننے والے نے سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
مسئلہ : سجدہ تلاوت کے لیے بھی وہی شرطیں ہیں جو نماز کے مثل طہارت اور قبلہ روہونے اور ستر عورت وغیرہ کے ۔
مسئلہ : سجدہ کے اول وآخر اللہ اکبر کہنا چاہیے۔
مسئلہ : امام نے آیت سجدہ پڑھی تو اس پر اور مقتدیوں پر اور جو شخص نماز میں نہ ہو سن لے ، اس پر سجدہ واجب ہے۔
مسئلہ : سجدہ کی جتنی آیتیں پڑھیں تو اس پر اور مقتدیوں پر اور جو شخص نماز میں نہ ہو سن لے اس پر سجدہ واجب ہے۔
مسئلہ : سجدہ کی جتنی آیتیں پڑھی جائیں گی اتنے ہی سجدے واجب ہوں گے اگر ایک ہی آیت ایک مجلس میں بار بار پڑھی گئی تو ایک ہی سجدہ واجب ہوا، والتفصیل فی کتب الفقہ۔ (تفسیر احمد) ۔