83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 83:1–5

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جن کا طریقہ یہ ہے کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا کرلیں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹادیں

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے کہ وہ اٹھائے جائیں گے

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک بڑے سخت دن میں زندہ کر کے

1۔ ابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے مدینہ میں ویل للمطففین نازل ہوئی۔ ناپ تول میں کمی سخت گناہ ہے 2۔ النسائی وابن ماجہ وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ناپ تول کے لحاظ سے سب سے خبیث ترین لوگ تھے پھر اللہ تعالیٰ آیت ویل للمطففین نازل فرمائی تو اس کے بعد انہوں نے اپنے پیمانوں کو درست کرلیا۔ 3۔ ابن سعد والبزار اور بیہقی نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سباع بن عرفطہ کو مدینہ پر عامل مقرر فرمایا جب آپ خیبر کی تشریف لے گئے اور یہ آیت ویل للمطففین پڑھی تو میں نے کہا کہ فلاں ہلاک ہوگیا جس کا ایک صاع پیمانہ و ہے جس سے وہ دیتا ہے اور ایک صاع وہ ہے جس سے وہ لیتا ہے۔ 4۔ الحاکم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ویل للمطففین پڑھا اور رونے لگے اور فرمایا کہ وہ آدمی جو کسی آدمی کو یا ماپ کرنے والے کو اجرت پر لیتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہی اپنے ناپنے میں کمی کرتا ہے تو اس کا گناہ اس پر ہوگا۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو قوم کسی عہد کو توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کردیتے ہیں اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو ان سے زمین کی پیداوار اناج پھول وغیرہ کو روک لیا جائے گا اور ان کو قحط سالی میں پکڑ لیاجائے گا۔ 6۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ نماز ایک پیمانہ ہے جس نے نماز کو پورا کیا تو اس کو پورا پورا اجر دیا جائے گا اور جس نے ناپ تول میں کمی کی تو تم نے سن لیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے فرمایا۔ 7۔ عبد بن حمید والبیہقی فی شعب الایمان میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ تیرا چھوڑنا بدلہ دینے کو یعنی تیرا مدد اور نگرانی کو ترک کرنا تطفیف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ویل للمطففین بربادی ہے کمی کرنے والون کے لیے۔
Ayah 83:6

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن تمام آدمی رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

لوگوں کا پسینوں میں ڈوبنا 8۔ مالک وہناد وعبد بن حمید والبخاری مسلم والترمذی وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عمرر ضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت یوم یقوم الناس لرب العلمین جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کئی ایک اپنے کانوں کے آدھے حصے تک اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ 9۔ الطبرانی وابو الشیخ والحاکم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت یوم یقوم الناس لرب العلمین تلاوت فرمائی پھر فرمایا تمہارے ساتھ کیسے ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ تم کو اس طرح جمع فرمائے گا جیسے تیروں کو ترکش میں جمع کیا جاتا ہے پچاس ہزار سال تک وہ تمہاری طرف نظر نہیں فرمائے گا۔ 10۔ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو چالیس سال کھڑے رہیں گے۔ 11۔ احمد نے الزہر میں قاسم بن ابی بزہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا مجھ سے اس آدمی نے بیان کیا جس نے حضرت عمر ؓ سے سنا انہوں نے یہ بات آیت ویل للمطففین پڑھیں یہاں تک کہ جب اس آیت یوم یقوم الناس لرب العلمین تک پہنچے فرمایا وہ دن جو پچاس ہزار سال کا ہوگا لوگ اس کے آدھے دن کی مقدارتک کھڑے رہیں گے اور وہ دن مومن بندہ پر انتہائی آسان ہوگا جیسے سورج غروب ہونے کے لیے جھکے اور غروب ہوجائے۔ 12۔ الطبرانی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قیامت کے دن رب العالمین کے سامنے لوگ کتنی دیر تک کھڑے رہیں گے ؟ فرمایا ہزار سال ان کو اجازت نہ ملے گی۔ بیٹھنے کی۔ 13۔ ابن المنذر نے کعب ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے ان کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ مگر مومنین پر یہ دن آسان ہوگا جیسا کہ فرض نماز یعنی فرض نماز ادا کرنے کی دیر میں وہ دن گذر جائے گا۔ 14۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ تین سو سال کی مقدار کھڑے رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ مومن پر یہ دن ہلکا کردے گا۔ اور کردے گا جیسے دنیا کے آدھے دن کی مقدار یا فرض نماز کی مقدار کی طرح۔ 15۔ ابن مردویہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ لوگ قیامت کے دن اپنے قدموں پر تین سو سال تک کھڑے رہیں گے لیکن مومنین پر وہ دن فرض نماز کی مقدار آسان ہوجائے گا۔ 16۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بشیر غفاری ؓ سے فرمایا تو اس دن کیسے کرے گا جس میں لوگ رب العالمین کے لیے ایام دنیا میں سے تین سو سال کی مقدار کھڑے رہیں گے۔ آسمان سے کوئی خبر ان کے پاس نہیں آئے گی۔ اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا کوئی حکم دیا جائے گا۔ بشیر کہا۔ اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگی جائے گی۔ اے اللہ کے رسول ! پھر آپ نے فرمایا جب تو اپنے بستر پر آئے تو قیامت کے دن کے شر سے اللہ کی پناہ مانگ اور حساب کے شر سے۔ 17۔ ابن النجار نے اپنی تاریخ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اک بیٹھنا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتا تھا اس کو بشیر کہتے تھے۔ نبی مکرم ﷺ نے اس کو تین دن گم پایا۔ پھر آپ نے اس کا رنگ بدلا ہوا دیکھا آپ نے فرمایا اے بشیر کس چیز نے تیری رنگت کو بدل کدیا ؟ اس نے عرض کیا میں نے ایک اونٹ خریدا وہی مجھ سے بدک کر بھاگ گیا میں اس کی تلاش میں لگا رہا۔ میں نے اس میں کوئی شرط نہیں لگائی نبی مکرم ﷺ نے فرمایا کہ بیشک بھاگا ہو اونٹ تو واپس لوٹایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی چیز نے تیری رنگت کو بدل دیا۔ اس نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا اس دن کیسے ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے آیت یوم یقوم الناس لرب العلمین کہ اس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
Ayahs 83:7–8

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہر گز نہیں، بدکار لوگوں کا اعمالنامہ سجین میں رہے گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ سجین میں کیا چیز ہے

گناہ گاروں کے اعمال نامے سجین میں 18۔ ابن المبارک فی الزہد وعبد بن حمید وابن المنذر نے شمر بن عطیہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کعب احبار ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت کلا ان کتب الفجار لفی سجین۔ ہرگز ایسا نہیں بیشک نافرمانوں کے اعمال نامے سجین میں ہیں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا بیشک گنہگار اور بدکار کی روح کو لے کر فرشتہ آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے لیکن آسمان اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے پھر اس کو زمین کی طرف نیچے اتارتا ہے تو زمین بھی اس کو قبول کرنے سے انکا کردیتی ہے پھر وہ اسے لے کر ساتوں زمینوں کے نیچے داخل ہوجاتا ہے یہاتک کہ سجین کی طرف پہنچ جاتا ہے اور وہ ابلیس کا گڑھا ہے اس کے لیے ابلیس کے گھڑے کے نیچے سے ایک کتاب نکالی جاتی ہے۔ اس کو مہر لگائی جاتی ہے اور اس کو ابلیس کے گڑھے کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ حساب کے سبب یہ ہلاک ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وما ادرک ما سجین کتب مرقوم۔ آپ کو کیا خبر سجین کیا ہے ایک دفتر ہے جس میں لکھا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ان کتب الفجار لفی سجین۔ بیشک نیکوں کے اعمال نام علییین میں ہیں پھر فرمایا مومن کی روح کو لے کر جب فرشتہ آسمان کی طرف چڑھتا ہے تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس سے فرشتے انتہائی خوشی کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں یہاں تک کہ اس کو عرش تک لے جاتے ہیں اور فرشتے بلندی کے زینے تک چڑھ جاتے ہیں اور پھر عرش کے نیچے سے اس کے لیے ایک سفید کاغذ نکالتے ہیں پھر اس پر لکھ دیا جاتا ہے اور مہر لگا دی جاتی ہے اور عرش کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے قیامت کے دن حساب سے نجات کی پہچان کے لیے۔ اور مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ونما ادرک ما علیون کتب مرقوم اور آپ کو کیا خبر کہ علیین کیا ہے ایک دفتر ہے جس میں لکھا جاتا ہے۔ 19۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے محمد بن کعب ؓ نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فجار کے بارے میں جو وہ عمل کرتے ہیں سب سجین میں لکھ دیا ہے۔ اور وہ سب سے نیچے اور فجار کی انتہا اس پر ہوگی جو اللہ نے ان پر لکھ دیا اور ابرار اور نیک لوگوں کے بارے میں جو وہ عمل کرتے ہیں سب علیین میں لکھ دیا ہے اور وہ اوپر ہے اور ان کی انتہاء اس پر ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر لکھ دیا ہے۔ 20۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سجین سب زمینوں کے نیچے ہے۔ 21۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ الفلق جہنم میں ایک کنواں ہے جو ڈھانکا ہوا ہے۔ لیکن سجین کھلا ہوا ہے۔ 22۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا ان کتب الفجار لفی سجین یعنی ان عمل ساتویں زمین میں ہیں جو بلندی کی جانب نہیں چڑھ سکتے۔ 23۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت کلا ان کتب الفجار لفی سجین۔ کے بارے میں روایت کیا کہ سب سے نچلی زمین کے نیچے کافروں کی روحیں ہیں۔ اور ان کے اعمال انتہائی برے اعمال ہیں۔ 24۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں والمحاملی نے امالیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سجین ساتویں زمین کے نیچے جہنم میں ایک چٹان ہے اسے الٹایا جاتا ہے اور فجار کا اعمال نامہ اس کے نیچے رکھا جاتا ہے۔ 25۔ عبد بن حمید نے فرقد (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا ان کتب الفجار لفی سجین سے مراد ہے کہ سجین نچلی زمین کے نیچے ہے۔ 26۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا ان کتب الفجار لفی سجین سے مراد ہے کہ سجین ساتویں زمین کے نیچے آیت کتب مرقوم وہ ایک لکھ ہوئی کتاب ہے۔ قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ سب سے نیچے والی زمین میں کفار کی روحیں اور ان کے برے اعمال ہیں۔ 27۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا کہ سجین سب سے نیچے والی ساتویں زمین ہے۔ 28۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نیچے والی زمین میں کافروں کی روحیں اور ان کے برے اعمال ہیں۔
Ayahs 83:9–13

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

وہ ایک نشان کیا ہوا دفتر ہے

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس روز جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو روز جزاء کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حد سے گزرنے والا ہے، مجرم ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو یوں کہہد یتا ہو کہ یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آتی ہیں

29۔ ابن المبارک نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سجین نیچے والی زمین ہے اور مرقوم سے مراد ہے لکھا ہوا۔ یعنی مرقوم سے مراد ہے۔ لکھی ہوئی کتاب۔ 30۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کتب مرقوم سے مراد ہے کہ ان کیلیے شر لکھ دیا گیا۔ 31۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لفی سجین سے مراد ہے کہ وہ بہت خسارہ پانے والے ہیں۔ 32۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ فرشتہ بندے کے عمل کو لے کر بلندی کی طرف چڑھتا ہے وہ دکھائی دیتا ہے کہ ہاتھوں میں انتہائی فرحت ہے یہاں تک کہ وہ مقرر مقام تک پہنچ کر رک جاتا ہے جس کو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمادیا وہ وہاں اس عمل کو رکھتا ہے تو جبار یعنی اللہ تعالیٰ اس کے اوپر سے اس کو آواز دیتے ہیں۔ جو کچھ تیرے پاس ہے اس کو سجین میں پھینک دے اور سجین ساتویں زمین ہے پھر فرشتہ کہتا ہے۔ میں صرف اس کی طرف حق کو اٹھاکر لایا ہوں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو نے سچ کہا مگر جو کچھ تیرے پاس ہے اس کو سجین میں پھینک دے۔ 33۔ عبد بن حمید وابن امجہ والطبرانی اور بیہقی نے البعث میں عبداللہ بن کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ جب کعب ؓ کی وفات کا وقت قریب آیت تو ام بشر بنت البراء ؓ حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں اگر آپ کی ملاقات میرے بیٹے سے ہو تو میرا اس کو سلام کہنا تو کعب ؓ نے اس سے فرمایا اے ام بشر اللہ تیری مغفرت فرمائے ہم تو اس سے کہیں نیچے ہوں گے۔ ام بشیر ؓ نے کہا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ مومن کی روح جنت میں گھومتی پھرتی ہے۔ جہاں چاہتی ہے اور کافر کی روح سجین میں۔ فرمایا ہاں وہ اسی طرح ہے۔ 34۔ ابن المبارک نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ سلمان اور عبداللہ بن سلام ؓ دونوں آپس میں ملے۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا اگر تو مجھ سے پہلے مرجائے تو مجھ سے ملاقات کرنا کہ مجھ کو خبردینا کہ تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اور اگر میں تجھ سے پہلے مرگیا تو میں تجھ سے ملوں گا۔ اور میں تجھ کو خبر دوں گا۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا یہ کیسے ہوگا ؟ تو دوسرے ساتھی نے کہا یاں یہ ٹھیک ہے کہ مومنین کی روحیں عالم برزخ میں زمین میں جہا چاہتی ہیں جاسکتی ہیں اور کافر کی روح سجین میں ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

ہر گز ایسا نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ بیٹھ گیا

گناہ کی وجہ سے دل کا سیاہ ہونا 1۔ احمد وعبد بن حمید والحاکم والترمذی وصححہ والنسائی وابن اماجہ وابن جریر وابن حبان وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے۔ اگ وہ توبہ کرلے اور باز آجائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر دوبارہ گناہ کی طرف لوٹ آیا تو وہ سیاہی زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے سارے دل پر چڑھ جاتی ہے۔ یہی وہ زندگ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا آیت کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے کاموں سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے بعض صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی مومن کو قتل کیا اس کے دل کا چھٹا حصہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس نے دو کو قتل کیا تو اس کا ایک تہائی دل سیاہ ہوجاتا ہے اور اگر اس نے تین کو قتل کیا تو اس کا دل زنگ آلود ہوجاتا ہے یعنی سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ جو اس نے قتل کیا۔ اسی کو اللہ نے فرمایا آیت بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون۔ بلکہ ان کے برے کاموں سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔ 3۔ فریابی والبیہقی نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ دل اسی طرح ہتھیلی کی طرح ہے جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس سے دل سکڑ جاتا ہے پھر دوسرا گناہ کرتا ہے تو دل مزید سکڑ جاتا ہے یہاں تک کہ اس پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ خیر کی بات کو سنتا ہے مگر اس کا کوئی اثر نہیں پاتا (یعنی خیر کی باتوں کو اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا) وہ جمع اور اکٹھا ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب جمع ہوجاتا ہے تو اس پر مہر لگادی جاتی ہے پھر جب خیر کلمہ کو سنتا ہے اور اس کے کانوں میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ دل کے پاس پہنچتا ہے تو اس میں داخل ہونے کیے جگہ کو نہیں پاتا۔ اسی کو فرمایا آیت بل ران علی قلوبہم۔ 4۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ دل ہتھیلی کی طرح ہے پھر مذکورہ آیت کی مثل انہوں نے بیان فرمائی۔ 5۔ ابن المنذر نے ابراہیم تیمی (رح) سے آیت بل ران علی قلوبہم کے بارے میں روایت کیا کہ جب آدمی گناہ کا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر گناہ کرتا ہے۔ تو ایک اور سیاہ نکتہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے۔ پھر اسی طرح گناہ کرتے کرتے اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ پھر جب بندہ گناہ چھوڑدیتا ہے یعنی توبہ کرلیتا ہے تو اس کے لیے نیک عمل آسان ہوجاتا ہے۔ اور اسطرح دل کی کچھ سیاہی دور ہوجاتی ہے پھر اس کے لیے نیک عمل مزید آسان ہوجاتا ہے اور اس سے کچھ سیاہی مزید ختم ہوجاتی ہے۔ پھر اس کے لیے نیک عمل اور بھی آسان ہوجاتا ہے اور اس سے کچھ سیاہی مزید ختم ہوجاتی ہے پھر اسی طرح نیک عمل کرتے کرتے اس کی ساری سیاہی ختم ہوجاتی ہے اور دل صاف ہوجاتا ہے۔ قحط سالی اور زلزلے آمائش ہیں 6۔ نعیم نعیم بن حماد فی التن وحام وصححہ وتعقبہ الذہبی عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے : تم ہرگز خیر اور خوشحالی کے بارے میں ہرگز فکر نہ کیا کرو۔ جس نے تمہارے دیہات کے رہنے والوں کو، تمہارے شہر کے رہنے والوں سے مستغنی کردیا ہے یقیناً قحط سالی اور افلاس ان کو کھینچ کرلے آئے گا۔ یہاں تک کہ وہ گھروں سے تمہارے ساتھ رہیں گے۔ اور ان کے مقابلے میں جو تمہیں وافر سہولتیں میسر ہیں۔ ان سے تم ان کو نہ روکو آپ نے فرمایا کبھی وہ بھی کہیں گے ہم بھوکے ہیں اور تم سیر ہو اور کبھی وہ کہیں گے ہم بدبخت ہیں۔ مشقت میں ہیں اور تم نعمتوں میں خوشحال ہو پس تم آج ہمارے ساتھ ہمدردی کرو اور زمین تم پر تن گہونے لگے گی۔ یہاں تک کہ اہل شہ اہل دیہات پر غصے اور ناراض ہوجائیں گے۔ اور زمین تم پر انتہائی غالب آجائے گی۔ ہم میں سے جو ہلاک ہوا سو ہلاک ہوجائے گا۔ اور جو باقی رہا سو جو باقی رہے گا۔ یہاں تک کہ غلام آزاد کیے جائیں گے۔ پھر اس کے بعد تمہارے ساتھ زمین پر امن اور پرسکون ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ آزاد کرنے والے ناد ہوں گے دوسری بارز میں تم پر غالب آجائے گی۔ اور وہ اس میں ہلاک ہوجائے گا جو ہلاک ہوا اور جو باقری رہے گا جو باقی رہا اور وہ کہیں گے اے اہمرے رب ہم آزاد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمائے گا کہ تم نے جوٹ بولا تم نے جھوٹ بولا۔ میں آزا اد کرنے والا ہوں۔ راوی نے کہا اور اللہ تعالیٰ اسی امت میں سے آخر میں رہنے والوں زلزلہ کے ساتھ آزمائے گا اگر انہوں نے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیں گے۔ اور اگر انہوں نے دوبارہ گناہوں کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ بھی دوبارہ ان پر زلزلہ پتھر اور کنکریاں برسانا، صورتوں کو مسخ کرنا، زمین میں دھنسا دینا، کڑک اور چیخ کو مسلط کردے گا اور جب کہا گیا لوگ ہلاک ہوگئے لوگ ہلاک ہوگئے تو یقینی طور پر وہ بھی ہلاک ہوگئے۔ اور اللہ تعالیٰ ہرگز کسی امت کو عذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ وہ عذر پیش کرے لوگوں نے پوچھا ان کا عذر کیا ہے۔ فرمایا کہ وہ گناہوں کا اعتراف کریں گے اور توبہ نہیں کریں گے اور دل اس میں ہونے والی نیکی اور فسق فجور کے ساتھ اس طرح مطمئن ہوں گے۔ جیسا کہ درخت مطمئن ہوتا ہے۔ جو کچھ اس میں ہو۔ یہاں تک کہ کوئی نیکی کرنے والا نیکی کو زیادہ کرنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ اور نہ کوئی گناہ گار رضامندی کو طلب کرنے کی طاقت رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون۔ 7۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون سے مراد ہے برے اعمال یعنی گناہ پر گناہ کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے دل مرگئے اور سیاہ ہوگئے۔ 8۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے دل پر گناہ جم گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے س کو تبدیل کردیا۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ران سے مراد ہے زنگ اور میل 10۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الران سے مراد ہے الطابع یعنی زنگ آلود کرنے والا۔ 11۔ سعید بن منصور وابن المنذر اور بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ ” الرین “ سے مراد ہے زنگ اور میل کچیل۔ 12۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ دل ہتھیلی کی طرح ہے کوئی گناہ کرتا ہے تو اس سے وہ تھوڑا سا سکڑ جاتا ہے پھر اور گناہ کرتا ہے تو دل مزید سکڑ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس پر مہر لگادی جاتی ہے وہ خیر کا کلمہ سنتا ہے لیکن وہ اس کا اچھا اور خوشگوار اثر نہیں پاتا۔ 13۔ ابن جریر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الران یعنی زنگ لگنا زیادہ آسان ہے مہر سے اور مہر زیادہ آسان ہے تالوں سے اور تالے ان سب سے زیادہ سخت ہیں۔ 14۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا بل ران علی قلوبہم سے مراد ہے کہ آدمی گناہ کا عمل کرتا رہتا ہے اور وہ اس دل کو گھیر لیتا ہے جب بھی وہ عمل کرتا ہے وہ زنگ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ سارے دل کو ڈھانک لیتا ہے۔ 15۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت کلا بل ران علی قلوبہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ گناہ پر گناہ کرن پھر گناہ پر گناہ کرنا یہاں تک کہ وہ دل کو ڈھانک لے اور وہ مرجائے۔ 16۔ عبد بن حمید نے خلید بن الحکم کے طریق سے ابو الخیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار خصلتیں آدمی کے دل کو خراب کردیتی ہیں۔ احمق اور بیوقوف کی سنگت اختیار کرنا کیونکہ اس کی سنگت تجھے اس جیسا بنادے گی اگر وہ اس سے خاموش رہا تو اس سے سلامت رہا۔ اور گناہوں کی کثرت دلوں کو خراب کرنے والی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون اور عورتوں کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا اور ان سے استمتاع کرنا اور ان کی رائے پر عمل کرنا اور مردہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پوچھا گیا مردہ لوگ کون ہیں ؟ فرمایا ہر مالدار کہ اس کی مالداری نے اس میں اکڑ پیدا کردی ہو۔
Ayahs 83:15–17

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ہر گز ایسا نہیں، یہ لوگ اس روز اپنے رب سے روک دئیے جائیں گے

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر یہ دوزخ میں دال ہوں گے

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر کہا جائے گا کہ یہی ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

17۔ عبدبن حمید نے ابو ملیکہ الزیادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا انہم عن ربہم یومئذ لمحجوبون۔ ہرگز نہیں بیشک وہ اپنے رب سے اس دن روک دئیے جائیں گے کہ اس سے مراد ہے احسان جتانے والے تکبر اور غرور کرنے والے اور وہ جو لوگوں کے مال کھانے کے لیے جھوٹ قسمیں کھاتے ہیں واللہ اعلم
Ayah 83:18

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

ہر گز نہیں، نیک لوگوں کا اعمال نامہ علیین میں رہے گا

18۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا ان کتب الابرار لفی علیین ہرگز نہیں بیشک نیکیوں کے اعمال نام علیین میں ہیں۔ یعنی علیون ساتویں آسمان کے اوپر ہے، عرش کے داہنے پائے کے پاس ہے آیت کتب مرقوم ایک دفتر ہے جس میں لکھا جاتے ہے یعنی ان کے لیے خیر لکھ دی گئی ہے آیت یشہدہ المقربون۔ اسے مقرب فرشتے لکھتے ہیں یعنی اللہ کے فرشتوں میں سے مقرب فرشتے۔
Ayahs 83:19–24

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور آپ کو معلوم ہے کہ علیین میں رکھا ہوا اعمال نامہ کیا چیز ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

وہ ایک نشان کیا ہوا دفتر ہے

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بلاشبہ نیک لوگ بڑی آسائش میں ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

مسہریوں پر دیکھنتے ہوں گے

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

اے مخاطب تو ان کے چہروں میں نعمت کی تازگی پہچانے گا

19۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ علیون سے عرش کا داہنا پایہ مراد ہے 20۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ علیون سے ساتواں آسمان مراد ہے۔ مومن کی روحوں کا اکرام 21۔ عبد بن حمید نے الاجلح کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن بندے کی روح قبض کر کے اس کو آسمان دنیا کی طرف اوپر لے جائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مقرب فرشتے دوسرے آسمان کی طرف چلتے ہیں۔ اجلح (رح) نے کہا تو میں نے پوچھا مقربین کون ہیں ؟ فرمایا جو زیادہ قریب ہیں دوسرے آسمان کے پھر تیسرے پھر چوتھے پھر پانچویں پھر چھٹے پھر ساتویں آسمان کے یہاں تک کہ اس کی انتہا سدرۃ المتنہی کے پاس ہے اجل نے کہا : میں نے ضحاک سے پوچھا اس کو سدرۃ المنتہیٰ کیوں کہتے ہو۔ فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے امر میں سے ہر چیز کی انتہا اس کے پاس ہوتی ہے کوئی چیز اس سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ اور وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! یہ آپ کا فلاں بندہ ہے اور وہ اس کے بارے میں زیادہ جانتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف تحریر مہر لگی ہوئی بھیجتے ہیں۔ اور اس کو عذاب سے امن دیتے ہیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کلا ان کتب الابرار لفی علیین وما ادریک ما علیون۔ کتب مرقوم۔ یشہدہ المقربون۔ 22۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لفی علیین سے مراد ہے جنت آیت یشہدہ المقربون اسے مقرب فرشتے دیکھتے ہیں یعنی سارے آسمان والے۔ 23۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ان سے مراد ہر آسمان کے رہنے والے مقرب فرشتے ہیں۔ جب ان کے ساتھ مومن کا عمل گزرتا ہے تو ہر آسمان کے رہنے والے مقرب فرشتے اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عمل ساتویں آسمان تک پہنچتا ہے۔ وہ اس کی نگرانی کرتے ہیں دیکھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ عمل ساتویں آسمان میں ٹھہر جاتا ہے۔ 24۔ ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک نماز کے پیچھے دوسری نماز کہ ان دونوں کے درمیان کوئی لغو کام نہ ہو۔ ایسی کتاب ہے جو علیین میں لکھی ہوئی ہے۔ 25۔ عبد بن حمید نے خالد بن عرعرہ وابوعجیل کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کعب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت کلا ان کتب الابرار لفی علیین الایۃ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مومن کو جب موت حاضر ہوتی ہے اور جب اس کے پاس اس کے رب کے قاصد حاضر ہوتے ہیں تو وہ طاقت نہیں رکھتے کہ اس کو ایک گھڑی بھی موخر کردیں یا ایک گھڑی پہلے کردیں۔ یہاں تک کہ وہ مقرر گھڑی آجاتی ہے پس جب وہ گھڑی آجاتی ہے تو اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں اور اس کو رحمت کے فرشتوں کے سپرد کردیتے ہیں وہ اس کو دکھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس کو خیر میں سے دکھایا جائے۔ پھر اس کی روح کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں تو ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ اس کو ساتویں آسمان تک پہنچا دیتے ہیں۔ اور وہاں اسے اپنے سامنے رکھتے ہیں اور وہ اس پر تمہاری نماز جنازہ کا انتظار نہیں کرتے۔ اور وہ کہتے ہیں اے اللہ یہ تیرا فلاں بندہ ہے ہم نے اس کی روح قبض کیا پھر وہ اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ وہ اس کے لیے دعائیں کریں اور ہم پسند کرتے ہیں کہ وہ ہم کو آج کے دن اس کا اعمال نامہ دکھائے پس اس کا اعمال نامہ عرش کے نیچے سے کھل جاتا ہے اور وہ اس میں اس کا نام لکھ دیتے ہیں اور وہ اس کے شاہد ہیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کتب مرقوم یشہدہ المقربون۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا آیت ان کتب الفجار لفی سجین، الایۃ۔ بیشک نافرمانوں کے اعمال نامے سجین میں ہیں۔ فرمایا بیشک کافر بندے کو جب موت حاضر ہوتی ہے اور اللہ کے قاصد اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور جب اس کی مقرر گھڑی قریب آتی ہے تو اس کی جان کو قبض کرلیتے ہیں۔ اور عذاب کے فرشتوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ پھر اس کو شر اور عذاب سے وہ چیز دکھاتے ہیں جو اللہ چاہتے ہیں کہ وہ اس کو دکھائیں پھر اس کو نچلی زمین کی طر اور وہ سجین ہے۔ اور یہ اقتدار ابلیس کی انتہا ہے وہ اس کا اعمال نامہ اس میں رکھ دیتے ہیں۔ پھر آپ نے سدرۃ المنتہی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ بیری کا درخت ہے جو ساتویں آسمان میں رکھ دیتے ہیں پھر آپ سدرۃ المنتہی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ بیری کا درخت ہے جو ساتویں آسمان میں اگا ہوا ہے۔ اور یہ اپنے سوا ساری مخلوق سے بلند ہے۔ اور عندھا جنۃ الموی (النجم آیت 15) کے بارے میں فرمایا کہ یہ شہدا کی جنت ہے۔ زمین کے نیچے کیا چیزیں ہیں 26۔ عبد بن حمید نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ میں حمیر قبیلہ کے ایک آدمی سے ملا گویا کہ وہ علامہ تھا۔ وہ کتابیں پڑھتا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ زمین جس پر ہم ہیں اس کا ٹھہرنا کس پر ہے۔ اس نے کہا یہ ایک سبز چٹان پر ہے اور وہ چٹان ایک فرشتے کی ہتھیلی پر ہے وہ فرشتہ ایک مچھلی کی پیٹھ پر کھڑا ہے جو عرش کے نیچے سے آسمانوں اور زمین کو لپٹی ہوئی ہے۔ پھر میں نے پوچھا دوسری زمین میں کون رہنے والے ہیں ؟ اس نے کہا اس میں تباہ و برباد کردینے والی ہوا ہے جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس پر مقرر فرشتوں کو حکم بحیجا کہ اس میں سے ان پر ایک دروازہ کھول دو ۔ انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! کیا بیل کے نتھے کی طرح ؟ فرمایا تب تو یہ زمین اور جو اس پر ہے سب کو الٹ دے گی۔ پھر پھر اس کو مزید تنگ کردیا یہاں تک کہ اس کو انگوٹھی کے حلقہ کی طرح بنادیا۔ پھر وہ کچھ ہوا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا پھر میں نے پوچھا تیسری زمین میں کون رہنے والے ہیں اس نے کہا اس میں جہنم کے پتھر ہیں۔ میں نے پھر پوچھا چوتھی زمین میں کون رہنے والے ہیں ؟ اس نے کہا اس میں جہنم کی گندھک ہے۔ میں نے پھر پوچھا پانچویں زمین میں کون رہنے والے ہیں ؟ اس نے کہا اس میں جہنم کے بچھو ہیں پھر میں نے پوچھا چھٹی زمین کو رہنے والے ہیں ؟ اس نے کہا اس میں جہنم کے سانپ ہیں پھر میں نے پوچھا ساتویں زمین میں کون رہنے والے ہیں۔ اس نے کہا وہ سجین ہے جس میں ابلیس ہے ایک ہاتھ اس کا اگے بندھا ہوا ہے اور ایک ہاتھ پیچھے بندھا ہوا ہے اور ایک پاؤں اس کے آگے ہے اور ایک آدمی اس کے پیچھے ہے وہ فرشتوں کو تکلیف دیتا تھا فرشتوں نے اس پر مدد مانگی اور یہاں اس کو قید کردیا گیا اور اس کے لیے کچھ وقت ہے جس میں اسے کھولا جاتا ہے جب اس کو چھوڑا جاتا ہے تو پھر لوگوں کا کوئی فتنہ اس سے بڑھ کر اذیت ناک نہیں ہوتا۔ 27۔ ابن المبارک نے ضمرہ بن حبیب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فرشتے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کے اعمال لے کر اوپر چڑھتے ہیں اور اس کو کثیر سمجھ رہے ہوتے ہیں اور اس کو پاکیزہ اور متقی خیال کر رہے ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے لے کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں اپنی سلطنت میں سے پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف حکم فرماتے ہیں کہ تم میرے بندے کے محافظ اور نگران ہو اور میں اس کو دیکھ رہا ہوں جو اس کے دل میں ہے۔ بیشک میرے بندے نے میرے لیے اپنے عمل کو خالص نہیں کیا اس کو سجین میں ڈال دو ۔ اور وہ فرشتے پھر ایک اور بندے کے عمل کو اوپر لے جاتے ہیں وہ اسے قابل اور حقیر سمجھ رہے ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو لے کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں اپنی سلطنت میں سے پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی فرماتے ہیں کہ بیشک تم نگرانی کرنے والے ہو میرے بندے کے عمل پر اور میں اس کو دیکھ رہا ہوں اس بات کو جو اس کے دل میں ہے۔ بیشک میرے اس بندے نے میرے لیے اپنے عمل کو خالص کردیا۔ اس کو علیین میں رکھ دو ۔ روایت مرسل ہے۔ 28۔ ابن الضریس نے ام الدرداء ؓ سے روایت کیا بیشک جنت کے درجے قرآن مجید کی آیتوں کی تعداد کے برابر ہیں اور بیشک صاحب قرآن سے کہا جائے گا بڑھتا جا اور چڑھتا جا۔ جب وہ ایک تہائی قرآن پڑھے گا۔ تو وہ جنت کے ایک تہائی درجوں پر ہوگا اور جب وہ آدھا قرآن پڑھے گا تو وہ جنت کے آدھے درجوں پر ہوگا اور جب وہ سارا قرآن پڑھ لے گا تو وہ اعلی علیین میں ہوگا اور اس کے اوپر کوئی بھی نہ ہوگا صدیقین اور شہداء میں سے۔ 29۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ علیین والوں کے لیے روشن دان ہوں گے جن سے وہ جھانکیں گے جب ان میں سے کوئی جھانکے گا تو جنت روشن ہوجائے گی۔ تو جنت والے کہیں گے کہ علیین والوں میں سے کسی آدمی نے اوپر سے جھانکا ہے۔ 30۔ ابن ابی شیبہ نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ جنت میں بجلی کی چمک کی طرح کوئی چیز دیکھی جائے گی پوچھا جائے گا یہ کیا ہے ؟ تو کہا جائے گا کہ علیین والوں میں سے ایک آدمی ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف منتقل ہوا ہے۔
Ayah 83:25

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو پینے کے لیے شراب خالص سر بمہر ملے گی

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یسقون من رحیق مختوم ختمہ مسک ان کو خالص شراب مہر لگی ہوئی پلائی جائے گی۔ یعنی اس کا اختتام کستوری پر ہوگا قوم کے لیے اسے کافور کے ساتھ ملایا جائے گا اور ان کے لیے کستوری کی مہر لگائی جائے گی آیت ومزاجہ من تسنیم اور اس میں تسنیم ملی ہوگی۔ یعنی یہ ایک ایسی شراب ہے جو تمام شرابوں سے اعلیٰ شراب ہے اور تسنیم ایک چشمہ ہے جنت میں جس میں سے صرف مقرب لوگ پئیں گے اور سارے اہل جنت کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یسقون من رحیق مختوم میں رحیق سے مراد شراب ہے آیت ختمہ مسک یعنی اس کی مٹی مشک کی ہوگی۔ آیت ومزاجہ من تسنیم۔ یعنی تسنیم کا چشمہ ہوگا ان پر ان کے گھروں کے اوپر سے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت یسقون من رحیق مختوم سے مراد ہے شراب آیت ومزاجہ من تسنیم یعنی چھپائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت والوں کے لیے چھپا رکھا ہے۔ 4۔ ابن ابی شیعبہ وعبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یسقون من رحیق مختوم سے مراد ہے شراب آیت ختمہ مسک یعنی اس کا آخری ذائقہ کستوری کی طرح ہوگا۔
Ayah 83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

اس پر مشک کی مہر لگی ہوگی اور حرص کرنے والوں کو ایسی ہی چیز میں حرص کرنا چاہیے

5۔ عبد بن حمید نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ختمہ مسک سے مراد ہے کہ اس کی آمیزش کستوری کی ساتھی ہوگی۔
Ayahs 83:27–33

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

یعنی ایک ایسا چشمہ جس سے مقرب بندے پیتے ہوں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے جرم کیے وہ ایمان والوں پر ہنستے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو آپس میں اشارہ بازی کرتے تھے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھروں کو جاتے تھے تو دل لگی کرتے ہوئے لوٹے تھے

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ بلاشبہ یہ لوگ یقیناً گمراہ ہیں

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ یہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے

6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مالک بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومزاجہ من تسنیم سے مراد ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمنہ ہے جس میں سے صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم اہل جنت کی افضل شراب ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے کہ بیشک یہ اپنے قول کے سبب بلند مرتبہ ہے۔ 8۔ ابن المنذر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت نضرۃ النعیم نعمت کی تازگی۔ یہ جنت میں ایک چشمہ ہے وہ لوگ اس سے وضو اور غسل کریں گے اور ان پر نعمت کی تازگی جاری ہوگی۔ 9۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” مختوم “ سے مراد ہے ملی ہوئی آیت ” ختمہ مسک “ یعنی اس کا ذائقہ اور اس کی خوشبو کستوری کی طرح ہوگی۔ جنتی شراب کا ذکر 10۔ سعید بن منصور وہناد وابن ابی حاتم وابن ابی شیبہ وابن المنذر اور بیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت یسقون من رحیق مختوم میں الرحیق سے مراد ہے شراب اور مختوم سے مراد ہے کہ اس کے آخر میں مشک کا ذائقہ پائیں گے۔ 11۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المنذر و بیہقی نے البعث میں علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من رحیق مختوم سے مراد ہے وہ شراب جس پر کستوری کی مہر لگی ہوئی ہوگی۔ 12۔ فریابی والطبرانی والحاکم وصححہ والبیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ختمہ مسک سے مراد ہے کہ وہاں مہر نہیں ہوگی کہ اس کے ساتھ مہر لگائی جائے لیکن اس کی آمیزش کستوری کے ساتھ ہوگی کیا تو نے اپنی عورتوں میں سے کسی عورت کی طرف نہیں دیکھا کہ جو یہ کہتی ہے کہ ملی جلی خوشبو اس طرح اور اس طرح ہوتی ہے۔ 13۔ ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں علقمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 14۔ ابن جریر وابن المنذر و بیہقی نے ابو الدرداء ؓ سے روایت کیا کہ آیت ختمہ مسک سے مراد ہے کہ وہ سفید شراب ہوگی چاندی کی طرح اور وہ اپنی شراب کے آخر میں اختتام اسی کے ساتھ کریں گے۔ اگر دنیا والوں میں سے کوئی آدمی اس میں اپنی انگلی کو داخل کردے پھر اس کو نکال لے تو کوئی ذی روح باقی نہیں رہے گا مگر اس کی خوشبو کو پائے گا۔ 15۔ احمد وابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ کسی مومن نے کسی مومن کو کوئی مشروب پلایا اس کے پیاسے ہونے کی حالت میں، اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن آیت رحیق مختوم سے پلائے گا۔ 16۔ البیہقی نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم ایک چشمہ کا نام ہے جس کے ساتھ شرب ملائی جائے گی۔ 17۔ عبد الرزاق و سعید بن منصوروعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تسنیم جنت والوں کی سب سے اعلیٰ شراب ہے اور وہ صرف مقربین کے لیے ہے اور اصحاب یمین کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی۔ 18۔ ابن ابی شیبہ وابن المبارک وسعد بن منصور وہناد وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومزاجہ من تسنیم سے مراد جنت میں ایک چشمہ ہے جس کی آمیزش کی جائے۔ اصحاب یمین کے لیے اور اس کو صرف مقربین پئیں گے۔ 19۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے یوسف بن مہران کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ومزاجہ من تسنیم کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو فرمایا یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین جزاء۔ پھر کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے عمل کے بدلہ میں ان کی آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ 20۔ ابن المنذر نے حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت کیا کہ تسنیم جنت عدن میں ایک دشمہ ہے جس سے صرف مقربین ہی پئیں گے۔ اور وہ ان کے نیچے سے اصحاب یمین کی طرف جاری ہوگا۔ ان کے ہر پینے میں پانی میں شراب میں دودھ میں اور شہد میں ملا دیا جائے گا کہ اس کے ذریعہ ان کے تمام مشروبات خوشبودار ہوجائیں گے۔ 21۔ عبد الرزاق وابن المنذر نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم ایک چشمہ ہے جس کا ان پر اوپر کی جانب سے جاری کیا جائے گا اور مقربین کا پینا ہوگا۔ 22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین اجرموا کانوا من الذین اٰمنوا یضحکون۔ بیشک نافرمان ایمان داروں سے ہنسی کیا کرتے تھے۔ یعنی اس نے دنیا میں کہا اور کہتے ہیں اللہ کی قسم ! یہ لوگ البتہ چھوٹے ہیں اور وہ کسی شے پر بھی نہیں ہیں۔ یعنی ان کا کوئی مقصد نہیں اور ان کی یہ بات اہل ایمان کے لیے بطور تمسخر کے ہوتی تھی۔ 23۔ احمد فی الزہد وابن ابی الدنیا فی الصمت اور بیہقی نے البعث میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں سے مذاق کرنے والے دنیا میں ان میں ایک کے یے قیامت کے دن جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولاجائے گا اور کہا جائے گا۔ آجاؤ، آجاؤ پس وہ بڑی مشقت اور غم کے ساتھ آئے گا جب وہ اس کے قریب آئے گا تو اس کے آگے اس کو بند کردیا جائے گا۔ پھر اس کے لیے دوسرا دروازہ کھولاجائے گا اور اس سے کہا جائے گا آجاؤ آجاؤ جب وہ بڑی مشقت اور تکلیف کے ساتھ وہاں آئے گا تو اس کے آگے اس کو بند کردیا جائے گا اسی طرح برابر ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اس کے لیے درواز کھولا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا آجاؤ آجاؤ تو وہ مایوس ہونے کے سبب اس کے پاس نہیں آئے گا۔
Ayahs 83:34–36

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

سو آج ایمان والے کافروں پر ہنسیں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

مسہریوں پر دیکھتے ہوں گے

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

واقعی بات یہ ہے کہ کافروں کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دیا جائے گا

24۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالیوم الذین اٰمنوا من الکفار یضحکون۔ پس آج وہ لوگ جو ایمان لائے کفار سے ہنس رہے ہوں گے۔ کعب ؓ نے فرمایا اہل جنت اور اہل دوزخ والوں کے درمیان روشندان ہوں گے۔ اہل جنت میں سے کوئی آدمی اگر چاہے گا کہ اپنے دشمن کی طرف دیکھے دوزخ والوں میں سے تو وہ ایسا کرے گا۔ 25۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہل ثوب کیا بدلہ دیا جائے گا یعنی کیا کچھ بدلہ دیا گیا