Explained with ayahs 29–36
یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذار سانی کے درپے ہوجاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے اللہ فرماتا ہے کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ہے اخسؤا فیھا الخ یعنی اس جہنم میں پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
سورة الْمُطَفِّفِيْن 14
اس مختصر سے فقرے میں ان مذاق اڑانے والوں کو بڑی سبق آموز تنبیہ کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بالفرض وہ سب کچھ غلط ہے جس پر مسلمان ایمان لائے ہیں۔ لیکن وہ تمہارا تو کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں۔ جس چیز کو انہوں نے حق سمجھا ہے اس کے مطابق وہ اپنی جگہ خود ہی ایک خاص اخلاقی رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اب کیا خدا نے تمہیں کوئی فوجدار بنا کر بھیجا ہے کہ جو تمہیں نہیں چھیڑ رہا ہے اس کو تم چھیڑو اور جو تمہیں کوئی تکلیف نہیں دے رہا ہے اسے تم خواہ مخواہ تکلیف دو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ اہل باطل کے طرز عمل کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کفار اہل باطل مومین اہل حق پر استہزا ہنستے اور دل لگی کرتے ہیں اور جب اہل حق ان کے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو آنکھ کے اشارے کرتے ہیں جس سے مقصود بھی ان کی اشتہزا اور ایذا رسانی ہوتی ہے۔ پھر جب یہ کفار اہل باطل اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹتے ہیں تو مومنین کے ساتھ جو تمسخر اور استہزا کیا ہے اس کا باہم تذکرہ مزے لے کر کرتے ہیں کہ ہم نے خوب ان لوگوں کو ذلیل کیا۔ اور جب کفار مومنین کو دیکھتے ہیں تو بظاہر ہمدردی…
Read the full tafseer →عام طور پر تو لوگوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ یہ کفار ان مسلمانوں پر کوئی نگران اور اتالیق تو نہیں مقرر کیے گئے تھے کہ ان کو ضال و مضل ٹھہرائیں اور ان کے اعمال و عقائد پر نکیر کریں، لیکن میرے نزدیک یہ کفار ہی کے قول کا ایک حصہ نقل ہوا ہے۔ یعنی پوری بات یوں ہے کہ جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ پکے گمراہ ہیں، یہ ہمارے اعمال و عقائد کو کفر و شرک قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ ہمارے اوپر داروغہ مقرر کر کے نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہماری ہر چیز پر اعتراض اٹھائیں اور ہماری اصلاح کے مدعی بن کر کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
33۔ 1 یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصر کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
5: جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، تسنیم جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کا پانی جب اس شراب میں ملے گا تو اس کے ذائقے اور لطف میں بہت اضافہ کردے گا۔
Read the full tafseer →وما ارسلوا .................... حفظین (33:83) ” حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے “۔ نہ مسلمانوں کے امور ان کے سپرد کیے گئے ہیں ، نہ یہ ان پر قیم ہیں ، نہ اہل ایمان کے حالات و کوائف ان سے پوچھے گئے ہیں ، لہٰذا ان کی جانب سے مسلمانوں پر یہ تبصرہ ایک بےتکی بات ہے۔
دنیا میں مجرمین اہل ایمان کے ساتھ جو برتاﺅ کرتے تھے ، اس کا منظر اب یہاں اس سنجیدہ مذاق کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اور اب قیامت کے دن کا حاضر منظر پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھو اب جنت میں یہ اہل ایمان کس مزے میں ہیں۔
Read the full tafseer →10 یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں کو ان مسلمانوں پر کچھ نگہبان نہیں بنایا گیا کہ احمق اپنی تباہ کاریوں سے آنکھیں بند کر کے ان کی حرکات کی نگرانی کیا کریں۔ اپنی اصلاح کی فکر نہ ہو۔ اور سیدھی راہ چلنے والوں کو گمراہ اور احمق بنائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
آیت 32{ وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ۔ } ”اور جب وہ ان اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔“
مخالفین کے ایسے تبصرے طنزیہ بھی ہوسکتے ہیں اور ان میں ہمدردی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل بھی ہمیں ایسے فقرے اکثر سننے کو مل جاتے ہیں کہ دیکھیں ! یہ اچھا بھلا ذہین نوجوان تھا۔ بورڈ ٹاپ کیا ‘ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل لیا ‘ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ‘ لیکن پھر اچانک خدا جانے اسے کیا ہوا کہ اس کا رجحان مذہب کی طرف ہوگیا ‘ اس کے بعد تو اس کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں ‘ اب اسے نہ اپنا خیال ہے اور نہ ملازمت کی فکر ‘ بس رات دن اس کے سر پر تبلیغ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
19 یعنی اللہ نے انہیں مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجا تھا کہ ان کی نظروں میں مسلمانوں میں جو جو غلطیاں پائی جاتی ہیں ان کی وہ نشاندہی کیا کریں۔ یعنی اے کفار مکہ ! اگر مسلمان تمہارے خیال کے مطابق غلط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں پھر بھی تمہیں تو کچھ نہیں کہتے۔ پھر کیا اللہ نے تمہیں ان پر فوجدار بنا کر تو نہیں بھیجا کہ اگر تمہیں نہیں ستاتے یا نہیں چھیڑتے تب بھی تمہیں یہ حق ہے کہ ان کو تنگ کرو۔ ان کا مذاق اڑاؤ اور ان پر پھبتیاں کسو۔
Read the full tafseer →15۔ (انہیں اہل ایمان پر طنز ومضح کہ کا حق ہی کیا تھا) اس میں ان لوگوں کی مزید حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ اپنے انجام کی طرف سے تو غافل ہیں، اور اہل ایمان کی فکر میں خواہ مخواہ پڑگئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی)
ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…
Read the full tafseer →وما ارسلوا علیھم حافظین . حالانکہ ان کافروں کو اس غرض سے نہیں بھیجا گیا تھا کہ مؤمنوں
کے اعمال کی نگہداشت کریں اور ان کی ہدایت و صلاح کا فیصلہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(29۔ 36) اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ وہی ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتے تھے اور جب ایمانداروں کا حضور کے پاس آنے کے لیے ان پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو جاتے تھے تو اپنے شرک پر خوشی اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ حالانکہ یہ کافر مسلمانوں پر اور ان کے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سو آج قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا پورا پورا بدلہ…
Read the full tafseer →(وما ارسلوا علیھم حفظین : یہ ان لوگوں کی حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں تو اپنے انجام کی فکر ہونی چاہیے تھی، الہ ایمان پر طنز کرنے اور مذاق اڑانے کا انہیں کیا حق تھا اور کس نے انہیں ان کی نگرانی پر مقرر کیا تھا ؟
Read the full tafseer →وما ارسلوا علیھم حفظین۔ انہیں مومنوں کے اعمال کا محافظ، ان کے احوال پر نگران اور ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مالک بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومزاجہ من تسنیم سے مراد ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمنہ ہے جس میں سے صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی
7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم اہل جنت کی افضل شراب ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے کہ بیشک یہ اپنے قول کے سبب بلند مرتبہ ہے۔
8۔ ابن المنذر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت نضرۃ النعیم نعمت کی تازگی۔ یہ جنت میں ایک چشمہ ہے وہ لوگ اس سے وضو اور غسل کریں گے اور ان پر نعمت کی تازگی جاری ہوگی۔
9۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” مختوم “ سے مراد ہے ملی…
Read the full tafseer →[وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ : حالانکہ وہ (مجرم) لوگ نہیں بھیجے گئے ان (اہل ایمان) پر ][ حٰفِظِيْنَ : نگہبانی کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
نیک بندوں کا ایمان اور خوشی کا انجام بیان فرمانے کے بعد مجرمین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اہل ایمان کے مخالف ہیں ان سے بغض اور دشمنی رکھتے ہیں دنیا میں ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب کہیں اہل ایمان بیٹھے ہوتے اور یہ لوگ وہاں سے گزرتے تو اہل ایمان کا مذاق بنانے کے لیے آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے کہ دیکھو کہ یہ جا رہے ہیں پھٹیچر، جنت کے دعوے دار، تن پر کپڑا نہیں، پاؤں میں جوتا نہیں، بنتے ہیں بڑے اللہ کے پیارے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت خباب، حضرت بلال اور دیگر فقراء مومنین ؓ پر ایسی پھبتیاں کستے تھے اور جب یہ مجرمین اپنے گھروں کو جاتے تھے تو خوش ہوتے ہوئے جاتے تھے کہ دیکھو ہم نے بڑا کمال کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–36
کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔
ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
10:۔ ” ان الذین “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ مشرکین قریش، فقراء مومنین پر بطور استہزاء ہنستے تھے اور جب کبھی مسلمان ان کے پاس سے گذرتے تو مستکبرین قریش استحقار و تمسخر کے طور پر آنکھوں اور ابروؤں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے اور جب اپنے گھروں کو واپس آتے تو بہت خوش ہوتے کہ آج ان فقراء سے استہزاء و تمسخر کا خوب مزہ آیا۔ ” واذا راوھم “ جب مشرکین مسلمانوں کو دیکھتے تو یہ کہتے یہ لوگ گمراہ ہیں، حالانکہ ان کو مسلمانوں پر نگران مقرر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ان کو ان کی گمراہی اور ہدایت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا کہ وہ ان کی ہدایت و ضلالت کا فیصلہ کرتے پھریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(گذشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ میں قیامت ہی کا ذکر ہے اس میں تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ ابرار اور۔ فجار کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ کہ آئندہ زندگی میں ان کے ساتھ کیا معاملات پیش آنے والے ہیں۔ اب ان آخری آیات میں کفار اور مشرکین کے اس برے سلوک کا ذکر ہے جو وہ اہل ایمان سے روا رکھتے تھے۔
(ایمانداروں کے ساتھ استہزاء)
ارشاد دباری تعالیٰ ہے ان الذین اجرمو جو لوگ مجرم یعنی گہنگار ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ کانو من الذین آمنو یضحکون یہ ایمانداروں پر ہنستے ہیں۔ کفار و مشرکین عام طور پر یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں پہلے ادوار میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَيْہِمْ حٰفِظِيْنَ 33 ۭ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
ترکیب ¦ الذین مع صلۃ اسم ان۔ کانوا اسم کان ضمیر متصل یضحکون خبرھا من الذین امنوا متعلق بیضحکون ای یستہزون منھم فالجملۃ کانوا الخ خبران واذا مروا ای المسلمون بھم بالکفار وہم فی مجالسھم یتغامزون الکفار من الغمز وھو الاشارۃ بالجفون والحواجب واذا انقلبوا ای الکفار شرط انقلبوا جواب اذا فکہین حال منہ قرء عاصم فی روایۃ حفص عنہ فکھین بغیر الف فی ھذا الموضع وحدہ وقراء الباقون فاکھین بالالف فقیل معنا ھما واحد وقیل ان الف کہ الاشرالبطر والفاکھہ الناعم المتنعم واذا شرطیہ وا ای الکفار ھم المسلمین قالوا جواب الشرط وما ارسلوا الجملۃ حال من فاعل قالوا فالیوم منصوب بیضحکون و فاعلہ الذین آمنوا وتقدیم الفاعل…
Read the full tafseer →وَمَـآ اُرْسِلُوْا عَلَیْہِمْ حٰفِظِیْنَ ۔ (المطففین : 33)
(حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں۔ )
اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب مسلمان کفار کے غلط عقائد، غلط خیالات اور غلط اعمال پر تنقید کرتے تھے تو کفار جواب میں یہ کہتے کہ ان لوگوں کو ہمارے رویئے پر تنقید کرنے کا کیا حق ہے۔ یہ کون ہوتے ہیں ہمارے خیالات پر تبصرے کرنے والے۔ معاشرتی طور پر یہ لوگ اس قابل نہیں کہ انھیں منہ لگایا جائے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے ہر بات پر صحیح اور غلط ہونے کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ اس لحاظ سے یہ آیت کفار ہی کے قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کی جہنم میں جانے کی ایک وجہ اور ان کی حالت زار پر جنتی کا خوش ہونا۔
جہنمی کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوگا کہ دنیا میں انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ایمانداروں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ جب نیک لوگوں کے پاس سے گزرتے تو اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ انبیاء اور ان کے ساتھی اپنی کمزوری یا شرافت کی وجہ سے ان کے بیہودہ اشاروں کا جواب نہ دیتے تو مذاق اڑانے والے مزید تکبر کا شکار ہوجاتے اور اپنے دوست و احباب اور اہل خانہ کے پاس جا کر اس بات پر اتراتے کہ ہم نے آج ایمان کے دعویداروں کو بہت زچ کیا ہے۔ گمراہ…
Read the full tafseer →33 : وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَیْھِمْ حٰفِظِیْنَ (حالانکہ یہ ان پر نگرانی کرنے والے کر کے نہیں بھیجے گئے) اُرسلوا کفار کو نہیں بھیجا گیا۔ علیھمؔ ان ایمان والوں پر حافظینؔ نگران جو ان کے اموال کی نگہبانی کریں اور ان کے اعمال کی ٹوہ میں رہیں بلکہ ان کو اپنے نفوس کی اصلاح کا حکم دیا گیا ان کو چاہیے یہ تھا کہ اپنی درستی میں مشغول ہوتے بجائے اس بات کے کہ دوسروں کا پیچھا کریں اور ان کو بیوقوف بنائیں۔
Read the full tafseer →33 ۔” وماارسلوا “ یعنی مشرکین۔ ” علیھم “ یعنی مومنین پر۔ ” حافظین “ ان کے اعمال کی یعنی ان کے اعمال کی نگرانی ان کے سپرد نہیں کی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
29۔ 36۔ اوپر جنتوں اور دوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لئے اس مدنی سورة میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ بلالو عمار جیسے غریب مسلمانوں کو طرح طرح کی مسخرا پن کی باتوں میں اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ رشک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول و فعل کی نگرانی و نگہبانی کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ہیں جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبیٰ کا دونوں فریق کا یہ حال سنایا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
( وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمُ ) اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔ یعنی صبح وشام (انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ ) تو مسرور اور خوش وخرم لوٹے یہ سب سے بڑی فریب خورگی ہے کہ انہوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کردیا۔ گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آگیا ہے وہ اہل سعادت ہیں انہوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ یدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلاعلم بات کہنے کی جسارت ہے اللہ نے فرمایا (وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَ 33ۭ ) یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمے دار بنا کر نہیں…
Read the full tafseer →(23) منکرین کے لیے ایک سبق آموز تنبیہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " حالانکہ ان کو کوئی ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا، کہ یہ ان کے پیچھے اس طرح لگ جاتے اور خود اپنے نفع و نقصان کو بھول جاتے، یعنی ان کفار اور مشرکین کو کوئی مسلمانوں پر نگران اور اتالیق بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ یہ ان کو اس طرح گمراہ قرار دیں۔ اور ان کو اس طرح کے طعنے دیں، اور ان کے خلاف ایسے پروپیگنڈے کریں، وہ جیسے کیسے ہیں اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں، ان کو کیا لگے کہ یہ ان کے بارے میں اس طرح کہیں ؟ سو اس میں منکرین کے لیے ایک سبق آموز تنبیہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے خود اپنے بارے میں سوچیں کہ یہ خود کہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ف 7 کہ یہ لوگ کیسے احمق اور کوتاہ اندیش تھے کہ دنیا کی عارضی خوشحالی اور فانی لذتوں کو پا کر ایسے مست ہوگئے کہ آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی اور اس کی پائیدار نعمتوں سے غافل ہوگئے بلکہ الٹا ان لوگوں کا مذاق اڑاتے رہے جو انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے تھے۔
Read the full tafseer →(83:33) وما ارسلوا علیہم حفظین۔ جملہ حالیہ ہے۔ قالوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے واؤ حالیہ ما نافیہ ہے ارسلوا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر ارسال (افعال) بمعنی بھیجنا۔ ارسال کرنا۔
حفظین حفظ سے (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب بمعنی حفاظت کرنے والے۔ نگہبانی کرنیوالے
علیہم میں ہم ضمیر کا مرجع مسلمان اہل ایمان ہیں۔
ترجمہ :۔ حالانکہ یہ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
جنتی اور دوزخی کی پہچان۔
(ف 1) اوپر جنتیوں اودوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لیے اس مدنی سورت میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ غریب مسلمانوں کو طرح طرح کے مسخراپن کی باتوں میں اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ مشرک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول وفعل کی نگرانی ونگہبانی کے لیے نہیں پیدا کیے گئے جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں، ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبی کا دونوں فریق کا یہ حال سنادیا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
[4] کافروں کو ان کی حرکتوں کا بدلہ مل گیا نا جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
مذاق کا بدلہ مذاق
1: کفار کے لئے یہ منظر کتنا تکلیف دہ اور اذیت بخش ہوگا کہ دنیا میں جن لوگوں پر یہ لوگ ہنستے تھے ۔ جن کی تحقیر اور تذلیل کے لئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے ہوتے تھے ۔ جن لوگوں کو اپنے گھروں میں یہ ہدف طعن وتشنیع بناتے تھے اور جن کو دیکھ پاتے تھے تو بڑی بےباکی اور دلسوزی سے کہتے تھے کہ افسوس یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات کہنے کا ان کو کوئی استحقاق نہ تھا ۔ آیا ان کو دیکھیں گے کہ وہ بلندیوں اور رفعتوں کے مالک ہیں ۔ اور مسہریوں پر تمکنت اور وقار سے بیٹھے ان کا مضحکہ اڑا رہے ہیں ۔ آج ان منکرین اور کفار کو ان کے استہزاء اور تمسخر کا پورا پورا بدلہ مل گیا اور آج ان کی…
Read the full tafseer →(33) حالانکہ ان کافروں کو مسلمانوں پر کوئی نگراں اور نگہبان بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے - یعنی یہ کافر بجائے اس کے کہ اپنی نجات کی فکر کرتے الٹا مسلمانوں کو گمراہ بتاتے اور ان کی دل آزاری کرتے، اہل حق سے استہزاء اور اپنے انجام سے غفلت اور بےفکری یہ دنیا میں ان غریب مسلمانوں کے ساتھ طریقہ کار تھا۔ اب آگے قیامت میں ان کے ساتھ ان جرائم کی پاداش میں جو کچھ ہوگا وہ مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ف 5۔ مطلب یہ کہ غیبت و حضور ہر حالت میں مومنوں کی تحقیر و استہزاء کا مشغلہ رہتا ہے۔ البتہ حضور میں اشارے چلا کرتے اور غیبت میں صراحة برائیاں کرتے، حالانکہ مسلمانوں کی تحقیر و استہزاء کی بجائے کفار کو اپنی فکر کرنا چاہئے تھا، انہوں نے ایک تو اہل حق کے ساتھ استہزاء کیا پھر اپنی اصلاح سے بےفکر رہے۔
Read the full tafseer →حالانکہ وہ ان لوگوں پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے
33 ؎ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں اور معاندین کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ وقت ان غریب مسلمانوں کی فکر میں مبتلا ہیں اور کبھی یہ بحث کرتے ہیں کہ ان لوگوں سے تو فلاں اور فلاں ہی اچھا ہے اور کبھی انکی باتوں کو کسی انداز میں پیش کر رہے ہیں اور کبھی کسی انداز میں کیا ان لوگوں کو ان غریب مسلمانوں پر داروغہ لگایا گیا ہے کہ ان کی نگران کو بہت لا حق ہوگئی ہے۔ آخر اس کا باعث کیا ہے کہ ان لوگوں کو ان غریب مسلمانوں کو بہت فکر لا حق ہوگئی ہے۔ گویا ان کو ان کی کمینہ حرکتوں پر تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ تم کو ان لوگوں کی کیا فکر پڑی ہے تم ان کے بارے میں آپس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ (Indeed those who were guilty used to laugh at those who believed, 83:29). In these verses, Allah depicts fully the attitudes of the followers of falsehood [ non-believers ] towards the upholders of truth [ the believers ]. The non-believers used to laugh at the believers in the worldly life. In other words, they would mock at them and despise them. Whenever they would pass by the believers, they would wink at each other in contempt of them. When the non-believers returned home, they would take great pleasure in describing…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
14 In this brief sentence the mockers and jesters have been given an instructive warning to the effect: "Even if what the Muslims have believed in, is false, they are not harming you at all They regard something as we and are accordingly adopting a certain moral attitude for themselves, for their own good. AIIah has not appointed you to be keepers over them so that you may be free to criticise and persecute those who are not harming you in any way."
Read the full tafseer →