83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی ہی آیت ویل للمطففین سے ماخوذ ہے۔

زمانہ نزول

اس کے انداز بیاں اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن میں آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں نازل ہو رہی تھیں، اور اس کا نزول اس زمانے میں ہوا ہے جب اہل مکہ نے سڑکوں پر، بازاروں میں اور مجلسوں میں مسلمانوں پر آوازے کسنے اور ان کی توہین و تذلیل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا، مگر ظلم و ستم اور مار پیٹ کا دور ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ بعض مفسرین نے اس سورت کو مدنی قرار دیا ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ دراصل ابن عباس (رض) کی یہ روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں میں کم ناپنے اور تولنے کا مرض بری طرح پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ویل للمطففین نازل کی اور لوگ بہت اچھی طرح ناپنے تولنے لگے (نسائی، ابن ماجہ، ابن مردویہ، ابن جریر، بیہقی فی شعب الایمان) لیکن جیسا کہ سورة دہر میں بیان کیا جا چکا ہے، صحابہ اور تابعین کا عام طریقہ یہ تھا کہ ایک آیت جس معاملے پر چسپاں ہوتی ہے اس کے متعلق وہ یوں کہا کرتے تھے کہ یہ فلاں معاملے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے ابن عباس کی روایت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب ہجرت کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے لوگوں میں یہ بری عادت پھیلی ہوئي پائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے یہ سورت ان کو سنائی اور اس سے ان کے معاملات درست ہوگئے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع بھی آخرت ہے۔ پہلی چھ آیتوں میں اس عام بےایمانی پر گرفت کی گئی ہے جو کاروباری لوگوں میں بکثرت پھیلی ہوئی تھی کہ دوسروں سے لینا ہوتا تھا تو پورا ناپ کر اور تول کرلیتے تھے، مگر جب دوسروں کو دینا ہوتا تو ناپ تول میں ہر ایک کو کچھ نہ کچھ گھاٹا دیتے تھے۔ معاشرے کی بیشمار خرابیوں میں سے اس ایک خرابی کو، جس کی قباحت سے کوئی انکار نہ کرسکتا تھا، بطور مثال لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ایک روز خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور کوڑی کوڑی کا حساب دینا ہے اس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کامل راست بازی اختیار کرسکیں۔ کوئی شخص دیانت داری کو " اچھی پالیسی " سمجھ کر بعض چھوٹے چھوٹے معاملات میں دیانت برت بھی لے تو ایسے مواقع پر وہ کبھی دیانت نہیں برت سکتا جہاں بےایمانی ایک " مفید پالیسی " ثابت ہوتی ہو۔ آدمی کے اندر سچی اور مستقل دیانت داری اگر پیدا ہو سکتی ہے تو صرف خدا کے خوف اور آخرت پر یقین ہی سے ہو سکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں دیانت ایک " پالیسی " نہیں بلکہ " فریضہ " قرار پاتی ہے اور آدمی کے اس پر قائم رہنے یا نہ رہنے کا انحصار دنیا میں اس کے مفید یا غیر مفید ہونے پر نہیں رہتا۔ اس طرح اخلاق کے ساتھ عقیدۂ آخرت کا تعلق نہایت موثر اور دل نشین طریقہ سے واضح کرنے کے بعد آیت 7 سے 17 تک بتایا گیا ہے کہ بدکار لوگوں کے نامۂ اعمال پہلے ہی جرائم پیشہ لوگوں کے رجسٹر (black list) میں درج ہو رہے ہیں اور آخرت میں ان کو سخت تباہی سے دوچار ہونا ہے۔ پھر آیت 18 سے 28 تک نیک لوگوں کا بہترین انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اعمال نامے بلند پایہ لوگوں کے رجسٹر میں درج ہو رہے ہیں جس پر مقرب فرشتے مامور ہیں۔ آخر میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کفار کو خبردار بھی کیا گیا ہے کہ آج جو لوگ ایمان لانے والوں کی تذلیل کر رہے ہیں، قیامت کے روز یہی مجرم لوگ اپنی اس روش کا بہت برا انجام دیکھیں گے اور یہی ایمان لانے والے ان مجرموں کا برا انجام دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔

Ayahs 83:1–2

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے۔ 1

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں

سورة الْمُطَفِّفِيْن 1 اصل لفظ مطففین استعمال کیا گیا ہے جو تطفیف سے مشتق ہے۔ عربی زبان میں طفیف چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے بولتے ہیں اور تطفیف کا لفظ اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کام کرنے والا ناپ کر یا تول کر چیز دیتے ہوئے کوئی بڑی مقدار نہیں اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر ہر خریدار کے حصے میں سے تھوڑا تھوڑا اڑاتا رہتا ہے اور خریدار بیچارے کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ تاجر اسے کیا اور کتنا گھاٹا دے گیا ہے۔
Ayahs 83:3–4

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب ان کو ناپ کو یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں۔ 2

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن 3

سورة الْمُطَفِّفِيْن 2 قرآن مجید میں جگہ جگہ ناپ تول میں کمی کرنے کی سخت مذمت اور صحیح ناپنے اور تولنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ سورة انعام میں فرمایا " انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو، ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کا مکلف نہیں ٹھیراتے " (آیت 152)۔ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا " جب ناپو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تولو " (آیت 35)۔ سورة رحمان میں تاکید کی گئی ہے " تولنے میں زیادتی نہ کرو، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ وزن کرو اور ترازو میں گھاٹا نہ دو "۔ (آیات 8۔ 9)۔ قوم شعیب پر جس جرم کی وجہ سے عذاب نازل ہوا وہ یہی تھا کہ اس کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کا مرض عام طور پر پھیلا ہوا تھا اور حضرت شعیب کے پے در پے نصیحتوں کے باوجود یہ قوم اس جرم سے باز نہ آتی تھی۔
Ayahs 83:5–6

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

سورة الْمُطَفِّفِيْن 3 روز قیامت کو بڑا دن اس بنا پر کہا گیا ہے کہ اس میں تمام انسانوں اور جنوں کا حساب خدا کی عدالت میں بیک وقت لیا جائے گا اور عذاب وثواب کے اہم ترین فیصلے کیے جائیں گے۔
Ayahs 83:7–12

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہر گز نہیں، 4 یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال قیدخانے کے دفتر میں ہے۔ 5

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک کتاب ہے لکھی ہوئی

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اُسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے

سورة الْمُطَفِّفِيْن 4 یعنی ان لوگوں کا یہ گمان غلط ہے کہ دنیا میں ان جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد یہ یونہی چھوٹ جائیں گے اور کبھی ان کو اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر نہ ہونا پڑے گا۔ سورة الْمُطَفِّفِيْن 5 اصل میں لفظ سجین استعمال ہوا ہے جو سجن (جیل یا قید خانے) سے ماخوذ ہے اور آگے اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رجسٹر ہے جس میں سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے درج کیے جا رہے ہیں۔
Ayah 83:13

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

اُسے جب ہماری آیات سُنائی جاتی ہیں 6 تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں

سورة الْمُطَفِّفِيْن 6 یعنی وہ آیات جن میں روز جزا کی خبردی گئی ہے۔
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

ہر گز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ 7

سورة الْمُطَفِّفِيْن 7 یعنی جزا و سزا کو افسانہ قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کا یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لیے جو بات سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے۔ اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو پورے دل پر وہ چھا جاتا ہے (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، حاکم، ابن ابی حاتم، ابن حبان وغیرہ)۔
Ayahs 83:15–17

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ہر گز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے ربّ کی دید سے محروم رکھے جائیں گے، 8

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

سورة الْمُطَفِّفِيْن 8 یعنی دیدار الہی کا جو شرف نیک لوگوں کو نصیب ہوگا اس سے یہ لوگ محروم رہیں گے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، القیامہ، حاشیہ 17۔)
Ayahs 83:18–25

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

ہر گز نہیں، 9 بے شک نیک آدمیوں کا نامہٴ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک لکھی ہوئی کتاب ہے

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مُشک کی مُہر لگی ہوگی۔10

سورة الْمُطَفِّفِيْن 9 یعنی ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے۔
Ayah 83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں

سورة الْمُطَفِّفِيْن 10 اصل میں الفاظ ہیں ختمہ مسک۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں میں وہ شراب رکھی ہوگی ان پر مٹی یا موم کے بجائے مشک کی مہر ہوگی۔ اس مفہوم کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ شراب کی ایک نفیس ترین قسم ہوگی جو نہروں میں بہنے والی شراب سے اشرف و اعلی ہوگی اور اسے جنت کے خدام مشک کی مہر لگے ہوئے برتنوں میں لا کر اہل جنت کو پلائیں گے۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ شراب جب پینے والوں کے حلق سے اترے گی تو آخر میں ان کو مشک کی خوشبو محسوس ہوگی۔ یہ کیفیت دنیا کی شرابوں کے بالکل برعکس ہے جن کی بوتل کھلتے ہی بو کا ایک بھپکا ناک میں آتا ہے، پیتے ہوئے بھی ان کی بدبو محسوس ہوتی ہے، اور حلق سے جب وہ اترتی ہے تو دماغ تک اس کی سڑانڈ پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے بد مزگی کے آثار ان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔
Ayahs 83:27–30

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

ں۔ اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی، 11

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے

سورة الْمُطَفِّفِيْن 11 تسنیم کے معنی بلندی کے ہیں، اور کسی چشمے کو تسنیم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلندی سے بہتا ہوا نیچے آ رہا ہو۔
Ayah 83:31

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

پنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے، 12

سورة الْمُطَفِّفِيْن 12 یعنی یہ سوچتے ہوئے پلٹتے تھے کہ آج تو مزا آ گیا ہے، میں نے فلاں مسلمان کا مذاق اڑا کر اور اس پر آوازے اور پھبیاں کس کر خوب لطف اٹھایا اور لوگوں میں بھی اس کی اچھی گت بنی۔
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں، 13

سورة الْمُطَفِّفِيْن 13 یعنی ان کی عقل ماری گئی ہے، اپنے آپ کو دنیا کے فائدوں اور لذتوں سے صرف اس لیے محروم کرلیا ہے اور ہر طرح کے خطرات اور مصائب صرف اس لیے مول لے لیے ہیں کہ محمد ﷺ نے انہیں آخرت اور جنت اور دوزخ کے چکر میں ڈال دیا ہے۔ جو کچھ حاضر ہے اسے اس موھوم امید پر چھوڑ رہے ہیں کہ موت کے بعد کسی جنت کے ملنے کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور جو تکلیفیں آج پہنچ رہی ہے انہیں اس خیال خام کی بنا پر انگیز کر رہے ہیں کہ دوسری دنیا میں کوئی جہنم ہوگی جس کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔
Ayahs 83:33–35

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ وہ اُن پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ 14

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں

سورة الْمُطَفِّفِيْن 14 اس مختصر سے فقرے میں ان مذاق اڑانے والوں کو بڑی سبق آموز تنبیہ کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بالفرض وہ سب کچھ غلط ہے جس پر مسلمان ایمان لائے ہیں۔ لیکن وہ تمہارا تو کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں۔ جس چیز کو انہوں نے حق سمجھا ہے اس کے مطابق وہ اپنی جگہ خود ہی ایک خاص اخلاقی رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اب کیا خدا نے تمہیں کوئی فوجدار بنا کر بھیجا ہے کہ جو تمہیں نہیں چھیڑ رہا ہے اس کو تم چھیڑو اور جو تمہیں کوئی تکلیف نہیں دے رہا ہے اسے تم خواہ مخواہ تکلیف دو ؟
Ayah 83:36

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

مِل گیا نا کافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے۔ 15

سورة الْمُطَفِّفِيْن 15 اس فقرے میں ایک لطیف طنز ہے۔ چونکہ وہ کفار ثواب سمجھ کر مومنوں کو تنگ کرتے تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ آخرت میں مومن جنت میں مزے سے بیٹھے ہوئے جہنم میں جلنے والے ان کافروں کا حال دیکھیں گے اور اپنے دلوں میں کہیں گے کہ خوب ثواب انہیں ان کے اعمال کا مل گیا۔