Al-Mutaffifin 83:32

Al-Mutaffifin · from ayah 32

83:32

وَاِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَ ۟ۙوَاِذَا رَاَوۡهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ لَـضَآلُّوۡنَ

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they saw them, they would say, "Indeed, those are truly lost."

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:32

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب یہ (مغرور لوگ) ان (کمزور حال مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے: یقیناً یہ لوگ راہ سے بھٹک گئے ہیں (یعنی یہ دنیا گنوا بیٹھے ہیں اور آخرت تو ہے ہی فقط افسانہ)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب انھیں دیکھتے تو کہا کرتے تھے بلاشبہ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ایمان والوں کو دیکھتے تو کہا کرتے کہ : یقینا یہی لوگ گمراہ ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ بالکل گمراہ ہیں ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب وہ ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ تو بالکل ہی بہکے ہوئے لوگ ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب انہیں دیکھتے تو کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ کیسے بھٹکے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب وہ ان (اہل ایمان) کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان مومنوں کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and when they saw the believers, they said: “Lo! These are the erring ones”;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and when they saw them, they said, :Surely these are the ones who have gone astray

— Muhammad Taqi Usmani

and when they saw them, they said, :Surely these are the ones who have gone astray

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they saw them, they said: "Verily, these have indeed gone astray!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they saw them they said: Lo! these have gone astray.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they saw them, they would say, "Indeed, those are truly lost."

— Saheeh International

On seeing the believers, they would say, "These people have gone astray".

— Muhammad Sarwar

And when they saw them, they said: Most surely these are in error;

— Muhammad Habib Shakir

And when they saw them, they said: verily these are the strayed ones.

— Abdul Majid Daryabadi

And whenever they saw them, they would say, "Behold! These are the people truly astray!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–36

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذار سانی کے درپے ہوجاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے اللہ فرماتا ہے کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ہے اخسؤا فیھا الخ یعنی اس جہنم میں پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُطَفِّفِيْن 13 یعنی ان کی عقل ماری گئی ہے، اپنے آپ کو دنیا کے فائدوں اور لذتوں سے صرف اس لیے محروم کرلیا ہے اور ہر طرح کے خطرات اور مصائب صرف اس لیے مول لے لیے ہیں کہ محمد ﷺ نے انہیں آخرت اور جنت اور دوزخ کے چکر میں ڈال دیا ہے۔ جو کچھ حاضر ہے اسے اس موھوم امید پر چھوڑ رہے ہیں کہ موت کے بعد کسی جنت کے ملنے کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور جو تکلیفیں آج پہنچ رہی ہے انہیں اس خیال خام کی بنا پر انگیز کر رہے ہیں کہ دوسری دنیا میں کوئی جہنم ہوگی جس کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–36

(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ اہل باطل کے طرز عمل کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کفار اہل باطل مومین اہل حق پر استہزا ہنستے اور دل لگی کرتے ہیں اور جب اہل حق ان کے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو آنکھ کے اشارے کرتے ہیں جس سے مقصود بھی ان کی اشتہزا اور ایذا رسانی ہوتی ہے۔ پھر جب یہ کفار اہل باطل اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹتے ہیں تو مومنین کے ساتھ جو تمسخر اور استہزا کیا ہے اس کا باہم تذکرہ مزے لے کر کرتے ہیں کہ ہم نے خوب ان لوگوں کو ذلیل کیا۔ اور جب کفار مومنین کو دیکھتے ہیں تو بظاہر ہمدردی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اور ان کی یہ کوشش بھی ہوتی کہ ان اہل ایمان سے متعلق کسی کے اندر کسی نوعیت کا کوئی حسن ظن نہ پیدا ہونے پائے۔ چنانچہ جب بھی وہ ان کو دیکھتے ان کے بارے میں لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ یہ پکے گمراہ ہیں اس لیے کہ یہ دین آبائی کے دشمن ہیں اور اپنے سوا سب کو جہنم کا ایندھن سمجھتے ہیں۔ یہ امر یہاں پیش نظر رہے کہ مسلمانوں کے ذکر و فکر آخرت کو دیکھ کر بہت سے لوگوں کے ذہن متاثر ہونے لگے تو قریش کے لیڈروں نے ان کا یہ توڑ نکالا کہ ان کو گمراہ اور بے دین ثابت کرنا شروع کیا۔ اس کے لیے جو دلیلیں انھوں نے ایجاد کیں ان کی تفصیلات اپنے محل میں گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 32–33

33۔ 1 یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصر کرتے رہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–36

5: جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، تسنیم جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کا پانی جب اس شراب میں ملے گا تو اس کے ذائقے اور لطف میں بہت اضافہ کردے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا .................................... لضالون (32:83) ” اور جب انہیں دیکھتے تھے تو کہتے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں “۔ اور یہ تو نہایت ہی تعجب خیز بات ہے کہ اب یہ لوگ ہدایت وضلالت کے موضوع پر بات کرنے لگے ہیں اور بزعم خود یہ اہل حق اور اہل ہدایت کو اہل ضلالت اور گمراہ کہتے ہیں ، اور نہایت وثوق اور تحقیر آمیز طریقے سے یہ تبصرہ کرتے ہیں۔ ان ھولاء لضالون (32:83) ” کہ یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں “۔ فسق وفجور کا یہ مزاج ہے کہ وہ ایک حد پر نہیں رکتا ، وہ کسی بات سے نہیں شرماتا ، کسی فعل پر ناد نہیں ہوتا۔ ان فساق وفجار کی طرف سے اہل ایمان جیسے معیاری لوگوں پر یہ الزام لگانا کہ وہ بہکے ہوئے ہیں ، اس بات کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 کہ خواہ مخواہ زہدو ریاضت کر کے اپنی جانیں کھپاتے اور موہوم لذتوں کو موجودہ لذتوں پر ترجیح دیتے ہیں اور لا حاصل مشقتوں کا کمالات حقیقی نام رکھا ہے۔ کیا کھلی ہوئی گمراہی نہیں کہ سب گھر بار اور عیش و آرام چھوڑ کر ایک شخص کے پیچھے ہو لئے اور اپنے آبائی دین کو بھی ترک کر بیٹھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 32–34

آیت 32{ وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ۔ } ”اور جب وہ ان اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔“ مخالفین کے ایسے تبصرے طنزیہ بھی ہوسکتے ہیں اور ان میں ہمدردی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل بھی ہمیں ایسے فقرے اکثر سننے کو مل جاتے ہیں کہ دیکھیں ! یہ اچھا بھلا ذہین نوجوان تھا۔ بورڈ ٹاپ کیا ‘ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل لیا ‘ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ‘ لیکن پھر اچانک خدا جانے اسے کیا ہوا کہ اس کا رجحان مذہب کی طرف ہوگیا ‘ اس کے بعد تو اس کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں ‘ اب اسے نہ اپنا خیال ہے اور نہ ملازمت کی فکر ‘ بس رات دن اس کے سر پر تبلیغ کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 ان چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی چار حرکتوں کا ذکر فرمایا۔ اور یہ سب مسلمانوں کا تمسخر اڑانے اور ان پر پھبتیاں کسنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو گمراہ تو اس لحاظ سے کہتے تھے کہ مسلمان زہد و ریاضت میں اپنی جانیں کھپاتے اور دنیا کی لذتوں پر اخروی لذتوں کو ترجیح دیتے تھے۔ کافر یہ کہتے تھے کہ کیا یہ کھلی گمراہی نہیں کہ سب گھر بار اور عیش و آرام کو چھوڑ کر ایک شخص کے پیچھے لگ گئے ہیں اور اپنے آبائی دین کو ترک کر بیٹھے ہیں۔ محض اس خیال سے کہ آخرت میں انہیں جنت ملے گی۔ بھلا ان بیوقوفوں کو یہ کیسا فاسد خیال دامن گیر ہوا ہے کہ دنیا کی یقینی لذتوں کو چھوڑ کر آخرت کی تصوراتی لذتوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ (اور ایسے احمق جو آج کی دم نقد لذتوں کو ” کل “ کے خیالی وعدوں کے پیچھے چھوڑے ہوئے ہیں ! ) اسی زمانہ کے نہیں، آج بیسویں صدی کے بھی ابوجہل اور ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل مسلمانوں کو ” رجعت پسند “ اور ’ دقیانوسی “۔ اور ” تاریک خیال “ کے خطابات دے دے کر اپنے دل کا بخار نکال رہے ہیں، بعض شاعروں نے اپنی حماقت سے جنت اور اہل جنت پر چوٹیں کی ہیں۔ آیت کے مضمون سے انہیں بھی ڈرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا راوھم قالوا ان ھولاء لضالون . اور مسلمانوں کو دیکھ کر کہتے تھے یہ بہکے ہوئے ہیں۔ محمد ﷺ نے ان کو بہکا لیا ہے۔ یہ باپ ‘ دادا کے دین سے بھٹک گئے ہیں۔ آخرت کی عزت کے لیے دنیا کی لذتیں انہوں نے چھوڑ دی ہیں اور حقیقت کو چھوڑ کر خیال کے پیچھے پڑگئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–36

(29۔ 36) اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ وہی ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتے تھے اور جب ایمانداروں کا حضور کے پاس آنے کے لیے ان پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو جاتے تھے تو اپنے شرک پر خوشی اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ حالانکہ یہ کافر مسلمانوں پر اور ان کے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سو آج قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا پورا پورا بدلہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 31–32

(واذا انقلبوا الی اھلھم…:”فکھین“”فکۃ“ کی جمع بروزن ”فرح“ ہے، ہنسنے ہنسانے کے لئے باتیں بنانے والے، خوش گپیاں کرنے والے، یعنی گھر واپس آتے ہوئے بھی اہل ایمان کو موضوع بنا کر خوب باتیں بناتے خوش گپیاں کرتے تھے اور انہیں گمراہ قرار دیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذا رواھم قالوانالظالون۔ جب یہ کفار رسول اللہ کے صحابہ کو دیکھتے تو کہتے، یہ رسول اللہ کی اتباع میں گمراہ ہوگئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–33

6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مالک بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومزاجہ من تسنیم سے مراد ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمنہ ہے جس میں سے صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم اہل جنت کی افضل شراب ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے کہ بیشک یہ اپنے قول کے سبب بلند مرتبہ ہے۔ 8۔ ابن المنذر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت نضرۃ النعیم نعمت کی تازگی۔ یہ جنت میں ایک چشمہ ہے وہ لوگ اس سے وضو اور غسل کریں گے اور ان پر نعمت کی تازگی جاری ہوگی۔ 9۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” مختوم “ سے مراد ہے ملی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا رَاَوْهُمْ : اور جب وہ (مجرم) لوگ دیکھتے ہیں ان (اہل ایمان) کو ][ قَالُوْٓا ان هٰٓؤُلَاۗءِ لَضَاۗلُّوْنَ : تو کہتے ہیں بیشک یہ لوگ یقینا بھٹکنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–36

نیک بندوں کا ایمان اور خوشی کا انجام بیان فرمانے کے بعد مجرمین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اہل ایمان کے مخالف ہیں ان سے بغض اور دشمنی رکھتے ہیں دنیا میں ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب کہیں اہل ایمان بیٹھے ہوتے اور یہ لوگ وہاں سے گزرتے تو اہل ایمان کا مذاق بنانے کے لیے آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے کہ دیکھو کہ یہ جا رہے ہیں پھٹیچر، جنت کے دعوے دار، تن پر کپڑا نہیں، پاؤں میں جوتا نہیں، بنتے ہیں بڑے اللہ کے پیارے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت خباب، حضرت بلال اور دیگر فقراء مومنین ؓ پر ایسی پھبتیاں کستے تھے اور جب یہ مجرمین اپنے گھروں کو جاتے تھے تو خوش ہوتے ہوئے جاتے تھے کہ دیکھو ہم نے بڑا کمال کیا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–33

10:۔ ” ان الذین “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ مشرکین قریش، فقراء مومنین پر بطور استہزاء ہنستے تھے اور جب کبھی مسلمان ان کے پاس سے گذرتے تو مستکبرین قریش استحقار و تمسخر کے طور پر آنکھوں اور ابروؤں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے اور جب اپنے گھروں کو واپس آتے تو بہت خوش ہوتے کہ آج ان فقراء سے استہزاء و تمسخر کا خوب مزہ آیا۔ ” واذا راوھم “ جب مشرکین مسلمانوں کو دیکھتے تو یہ کہتے یہ لوگ گمراہ ہیں، حالانکہ ان کو مسلمانوں پر نگران مقرر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ان کو ان کی گمراہی اور ہدایت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا کہ وہ ان کی ہدایت و ضلالت کا فیصلہ کرتے پھریں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–36

(گذشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ میں قیامت ہی کا ذکر ہے اس میں تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ ابرار اور۔ فجار کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ کہ آئندہ زندگی میں ان کے ساتھ کیا معاملات پیش آنے والے ہیں۔ اب ان آخری آیات میں کفار اور مشرکین کے اس برے سلوک کا ذکر ہے جو وہ اہل ایمان سے روا رکھتے تھے۔ (ایمانداروں کے ساتھ استہزاء) ارشاد دباری تعالیٰ ہے ان الذین اجرمو جو لوگ مجرم یعنی گہنگار ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ کانو من الذین آمنو یضحکون یہ ایمانداروں پر ہنستے ہیں۔ کفار و مشرکین عام طور پر یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں پہلے ادوار میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ لَضَاۗلُّوْنَ۝ 32 ۙ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–36

ترکیب ¦ الذین مع صلۃ اسم ان۔ کانوا اسم کان ضمیر متصل یضحکون خبرھا من الذین امنوا متعلق بیضحکون ای یستہزون منھم فالجملۃ کانوا الخ خبران واذا مروا ای المسلمون بھم بالکفار وہم فی مجالسھم یتغامزون الکفار من الغمز وھو الاشارۃ بالجفون والحواجب واذا انقلبوا ای الکفار شرط انقلبوا جواب اذا فکہین حال منہ قرء عاصم فی روایۃ حفص عنہ فکھین بغیر الف فی ھذا الموضع وحدہ وقراء الباقون فاکھین بالالف فقیل معنا ھما واحد وقیل ان الف کہ الاشرالبطر والفاکھہ الناعم المتنعم واذا شرطیہ وا ای الکفار ھم المسلمین قالوا جواب الشرط وما ارسلوا الجملۃ حال من فاعل قالوا فالیوم منصوب بیضحکون و فاعلہ الذین آمنوا وتقدیم الفاعل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا رَاَوْھُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ھٰٓـؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ ۔ (المطففین : 32) (جب انھیں دیکھتے تو کہتے تھے یہ بالکل گمراہ ہیں۔ ) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کی تمام تر مخالفت کے باوجود مسلمانوں کا حُسنِ کردار اور حُسنِ سلوک دھیرے دھیرے لوگوں پر اثرانداز ہورہا تھا۔ اور بہت سے لوگوں کے ذہن متأثر ہورہے تھے۔ لوگ سوچنے لگے تھے کہ جو شخص بھی ایمان قبول کرلیتا ہے آخر اس کے اندر ایسی حیرت انگیز تبدیلی کیوں آنے لگتی ہے کہ اس کی ہر چیز بدل جاتی ہے۔ وہ باقی لوگوں سے الگ تھلگ خوبصورت کردار کی تصویر بن جاتا اور اس کے قول و عمل کا تضاد ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ تبدیلی یقینا اس دین کی صداقت کی دلیل ہے جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کی جہنم میں جانے کی ایک وجہ اور ان کی حالت زار پر جنتی کا خوش ہونا۔ جہنمی کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوگا کہ دنیا میں انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ایمانداروں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ جب نیک لوگوں کے پاس سے گزرتے تو اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ انبیاء اور ان کے ساتھی اپنی کمزوری یا شرافت کی وجہ سے ان کے بیہودہ اشاروں کا جواب نہ دیتے تو مذاق اڑانے والے مزید تکبر کا شکار ہوجاتے اور اپنے دوست و احباب اور اہل خانہ کے پاس جا کر اس بات پر اتراتے کہ ہم نے آج ایمان کے دعویداروں کو بہت زچ کیا ہے۔ گمراہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کا خیال : 32 : وَاِذَا رَاَوْھُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ھٰٓؤُلَآ ئِ لَضَآلُّوْنَ (اور جب وہ ان کو دیکھتے تو کہتے یہ لوگ یقیناغلطی میں ہیں) راوھمؔ جب کافر مؤمنوں کو دیکھتے۔ لضالونؔ یعنی محمد ﷺ نے ان کو دھوکہ دیا ہے اس لئے یہ گمراہ ہوئے اور لذات کو چھوڑ دیا۔ اس امید پر کہ ان کو آخرت میں بڑی نعمتیں میسر آئیں گے۔ انہوں نے اس خیال کی خاطر حقیقت کو چھوڑ دیا۔ اور یہ عین گمراہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32 ۔” واذا راوھم “ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کو دیکھتے۔ ” قالوا ان ھولاء لضالون “ وہ محمد ﷺ کے پاس آتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–36

29۔ 36۔ اوپر جنتوں اور دوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لئے اس مدنی سورة میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ بلالو عمار جیسے غریب مسلمانوں کو طرح طرح کی مسخرا پن کی باتوں میں اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ رشک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول و فعل کی نگرانی و نگہبانی کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ہیں جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبیٰ کا دونوں فریق کا یہ حال سنایا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–33

( وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمُ ) اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔ یعنی صبح وشام (انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ ) تو مسرور اور خوش وخرم لوٹے یہ سب سے بڑی فریب خورگی ہے کہ انہوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کردیا۔ گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آگیا ہے وہ اہل سعادت ہیں انہوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ یدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلاعلم بات کہنے کی جسارت ہے اللہ نے فرمایا (وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَ 33؀ۭ ) یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمے دار بنا کر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(22) اہل باطل کے اہل حق کے خلاف پروپیگنڈنے کا ایک نمونہ : سو اس سے اہل حق کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے کہ وہ جب ان کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ لوگ تو بڑے بھٹکے ہوئے لوگ ہیں، کہ اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ دیا، ان کے طور طریقوں سے الگ ہوگئے، اور انہوں نے دنیاوی عیش و عشرت اور فوائد و ملذات سے اپنے آپ کو خود محروم کردیا، وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح ان لوگوں کی کوشش ہمیشہ یہی ہوتی کہ اہل ایمان کے بارے میں کسی کے اندر کسی نوعیت کا حسن ظن نہ پیدا ہونے پائے، اسی بنا پر وہ جب ان کو دیکھتے تو ان کے بارے میں لوگوں سے کہتے کہ یہ لوگ تو بڑے بہکے اور بھٹکے ہوئے لوگ ہیں، اپنے موروثی دین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 کہ ان کی ایک ایک حرکت پر نگاہ رکھیں حالانکہ انہیں اصل فکر اپنی اصلاح کی چاہیے تھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:32) واذا راوہم جملہ شرطیہ۔ رأوا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح) مصدر۔ اس میں ضمیر فاعل کفار مکہ کے لئے ہے اور ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (مسلمانوں کے لئے) یعنی جب وہ کافر مسلمانو کو دیکھتے (یہ جملہ شرطیہ ہے) قالوا ان ھؤلاء لضالون جملہ جواب شرط ہے۔ یعنی کفار مکہ کہتے ان ھؤلاء لضالون یہ مقولہ ہے قالوا کا۔ ان حرف مشبہ بالفعل ھؤلاء اسم اشارہ جمع، یہ ان کا اسم ہے لام تاکید کا ہے ضالون، ضلال (باب ضرب) مصدع سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بمعنی بہکے ہوئے ۔ گمراہ۔ راہ بھولے ہوئے۔ ان کی خبر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ (جب کافر لوگ مسلمانوں کو دیکھتے) تو کہتے در حقیقت یہی لوگ گمراہ ہیں۔ یہ کافروں کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–36

جنتی اور دوزخی کی پہچان۔ (ف 1) اوپر جنتیوں اودوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لیے اس مدنی سورت میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ غریب مسلمانوں کو طرح طرح کے مسخراپن کی باتوں میں اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ مشرک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول وفعل کی نگرانی ونگہبانی کے لیے نہیں پیدا کیے گئے جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں، ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبی کا دونوں فریق کا یہ حال سنادیا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–36

[4] کافروں کو ان کی حرکتوں کا بدلہ مل گیا نا جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–36

مذاق کا بدلہ مذاق 1: کفار کے لئے یہ منظر کتنا تکلیف دہ اور اذیت بخش ہوگا کہ دنیا میں جن لوگوں پر یہ لوگ ہنستے تھے ۔ جن کی تحقیر اور تذلیل کے لئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے ہوتے تھے ۔ جن لوگوں کو اپنے گھروں میں یہ ہدف طعن وتشنیع بناتے تھے اور جن کو دیکھ پاتے تھے تو بڑی بےباکی اور دلسوزی سے کہتے تھے کہ افسوس یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات کہنے کا ان کو کوئی استحقاق نہ تھا ۔ آیا ان کو دیکھیں گے کہ وہ بلندیوں اور رفعتوں کے مالک ہیں ۔ اور مسہریوں پر تمکنت اور وقار سے بیٹھے ان کا مضحکہ اڑا رہے ہیں ۔ آج ان منکرین اور کفار کو ان کے استہزاء اور تمسخر کا پورا پورا بدلہ مل گیا اور آج ان کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) اور جب یہ کافران مسلمانوں کو دیکھتے تو کہتے ہیں یہ لوگ یقینا گم کردہ راہ ہیں - یعنی مسلمانوں کو گمراہ اور بےراہ کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–34

ف 5۔ مطلب یہ کہ غیبت و حضور ہر حالت میں مومنوں کی تحقیر و استہزاء کا مشغلہ رہتا ہے۔ البتہ حضور میں اشارے چلا کرتے اور غیبت میں صراحة برائیاں کرتے، حالانکہ مسلمانوں کی تحقیر و استہزاء کی بجائے کفار کو اپنی فکر کرنا چاہئے تھا، انہوں نے ایک تو اہل حق کے ساتھ استہزاء کیا پھر اپنی اصلاح سے بےفکر رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جب مسلمانوں کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے یہ لوگ تو بالکل گمراہ ہیں 32 ؎ یہ بات بھی بہت پرانی ہے کہ جس شخص میں جو کمزوری پائی جاتی ہے وہ سمجھتا ہے کہ فلاں میں بھی یہ کمزوری ہے اور فلاں میں بھی اور پھر ذکر کریں گے تو اس کمزوری کا جو خود ان کے اندر موجود ہوگی ، خود ایمانداری سے کام نہ کریں گے اور دوسروں کو بےایمان سمجھیں گے اور کہیں گے کہ یہی حال ان کا ہوگیا ۔ فرمایا جب مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہی ان کا تقابل شروع کردیتے ہیں اور باتیں بناتے بناتے انجام کار تان اس جگہ آ کر توڑتے ہیں کہ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو راہ راست سے بھٹک گئے ہیں ، ان لوگوں کو نام آوری کا بڑا شوق ہے اور وہ پورا نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–36

إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ (Indeed those who were guilty used to laugh at those who believed, 83:29). In these verses, Allah depicts fully the attitudes of the followers of falsehood [ non-believers ] towards the upholders of truth [ the believers ]. The non-believers used to laugh at the believers in the worldly life. In other words, they would mock at them and despise them. Whenever they would pass by the believers, they would wink at each other in contempt of them. When the non-believers returned home, they would take great pleasure in describing…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 That is, they have lost their reason: they have deprived themselves of the gains and enjoyments of the world and have experienced dangers and undergone hardships only for the reason that Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) has deluded them with the Hereafter, Heaven and Hell. They are giving up whatever is present and here on the false hope that the promise of some Paradise has been held out to them after death, and they are enduring the hardships in the present life only for the reason that they have been threatened with some Hell in the next world.

Read the full tafseer →