Ayah 83:1ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
1 ؎ (المطففین) کا اصل مادہ طفہے اسم فاعل مذکر مجرور تطفیف مصدر تفعیل ناپ تول میں کم دینے والے ۔ طفیف تھوڑی چیز ۔ طفافۃً قابل اعتناء چیز کے لیے بولا جاتا ہے اور یہ اس لیے کہ ایک شخص جو پیمانہ کو جھٹک کر یا ترازو میں ڈنڈی مار کر ماپتا تولتا ہے ظاہر ہے کہ وہ اس طرح منوں اور سیروں تو کم نہیں کردیتا یہی ہے کہ سو من تولے گا تو دس سیر کم کرے گا لیکن یہ تھوڑا تھوڑا کر کے زیادہ کرے گا ۔ وہ دور دور جاہلیت کہلاتا ہے جب صرف عقائد ہی نہیں بلکہ معاملات میں بھی گڑ بڑ ہوتی تھی اور اس طرح کا بگاڑ ہوچکا تھا کہ لوگ جن کا کام تولنا اور ماپنا ہوتا ہے ان کی خدمات محض اس لیے حاصل کرتے تھے کہ وہ سب کے سب اہل فن ہوتے تھے اور فن کے لحاظ سے لوگ ان کی چیزیں تولنے کے لیے بلاتے تھے اور بعض انکو کچھ نہ کچھ دے کر ان سے چیزیں تلوایا کرتے تھے تاکہ ان کی اجرت اور مزدوری بھی نکل آئے اور کچھ بچ بھی جائے۔ حالانکہ یہ طریقہ شرعاً حرام اور ناجائز تھا اور ہے۔ قرآن کریم نے ان کے عقیدے کی اصلاح کی کوشش بھی فرمائی اور معاملات میں امانت و دیانت کی بھی تلقین کی ۔ اہل مکہ جن کا پیشہ ہی تجارت تھا ان کے ہاں اس طرح کی خرابیاں پورے جو بن پر تھیں اس کاروباری بددیانتی سے باز آنے کی جب نصیحت کی تو اسکے لیے بڑا پر جلال انداز اختیار فرمایا اور اس طرح ان کو مخاطب کیا کہ اگر وہ اجس فعل شنیع سے باز نہ آئے تو ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ( وبل) اسم مرفوع ، ہلاکت ، عذاب ، دوزخ کی ایک وادی ، عذاب کی شدت ( ویل) کا استعمال قرآن کریم میں اکثر ہوا ہے اور مختلف معنوں میں ہوا ہے مثلاً شر اور بدی میں داخل ہونا ، درد مند کرنا ، مصیبت زدہ بنانا ، افسوس ، سختی ، کلمہ وعید و زجر ، کلمہ عذاب ، عذاب شدت ، عذاب جہنم ، جہنم کی ایک وادی کا نام ، جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ۔ جہنم کے ایک دروازے کا نام ۔ کلمہ حسرت و ندامت و یلۃ رسوائی ، تباہی ، ویل اور ویلۃ رسوائی ، تباہی ، ویل اور ویلۃ کی اضافت اگر ضمیر کی جانب سے ہو تو غیب خطاب اور تکلم کی علامات بدلتی رہتی ہیں اور ( ویل) پر ہمیشہ نصب رہتا ہے۔ ہاں یاء متکلم کی جانب اصنافت فعل محذوف کے مصدر ہوتے ہیں اور اگر حرف ندا ہو تو مادیٰ ہوتے ہیں۔ ( المطففین ) کی جو تعریف قرآن کریم نے خود کی ہے اس کا ذکر آگے آنے والا ہے ۔
Ayah 83:2جب وہ لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا کرلیتے ہیں
2 ؎ ( یستوفون ) جمع مذکرغائب مضارع استیفاء مصدر ۔ پورا پورا لیتے ہیں ۔ ( اکتالوا) انہوں نے ناپا ۔ انہوں نے پیمانہ سے ناپ کرلیا ۔ اکتیال سے جس کے معنی پیمانہ سے ناپ کرلینے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ جب (مطففین) کے لینے کے وقت ہوتا ہے تو پورا پورا ماپ کر یا تو تول کرلیتے ہیں اور اس بات کا بہت خیال رکھتے ہیں کہ دینے والاہم کو کم نہ دے جائے بلکہ اپنی طرف سے پورا پورا لینے کے بہانے بہت دفعہ زیادہ لے جاتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو تو کمی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اس وقت ان کو مسئلے بھی بہت آتے ہیں اور اس طرح کی باتیں بھی کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تول اور ماپ کو صحیح رکھنا چاہئے اور پورا پورا لینا دینا چاہیے اور باتوں ہی باتوں میں اس طرح کا سماں باندھتے ہیں کہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ لوگ بہت ہی سلجھے ہوئے اور لین دین کے کھرے ہیں لیکن یہ بات ان کفار کی کی جا رہی ہے جو نزول قرآن کریم کے وقت موجود تھے آج کل کے مسلمانوں کی نہیں جن کا کردار ، اخلاق اور اعمال ان سے بھی زیادہ کرچکے ہیں کہ لینے کے باٹ اور پیمانے الگ اور دینے کے الگ اور اس کے علاوہ لینے کے وقت زیادہ لینے کی ہوس اور دینے کے وقت بہت ہی کم دینے کا وطیرہ اور یہ بھی کہ لینے اور دینے کے سارے اصول اسلام کے اصول کے بالکل منافی ۔ زبانی کلامی سودے ، چیز کے موجود نہ ہونے کے باوجود سودا ۔ مال کہیں سودا بازی کہیں ، تجارت کے سارے اسلامی اصول ہی بدل کر رکھ دیئے ۔ محض اس نشہ میں کہ ہم مسلمان ہیں۔
Ayah 83:3اور جب وہ لوگوں کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو ان کو نقصان میں ڈالتے ہیں
3 ؎ ( کالوھم) جمع مذکر غائب ماضی معروف ھم ضمیر جمع غائب کیل مصدر متعدی ( ضرب) جب پیمانے سے ماپ کردیتے ہیں ۔ آیت میں مفعول محذوف ہے اور ھم ضمیر سے پہلے لام مقدر ہے کہ اصل لھم ہے یعنی جب کوئی چیز لوگوں کو کسی معروف پیمانے سے ماپ کردیتے ہیں اکتیال ( افتعال) ناپ کرلیتے لینا ۔ ( وزنوا) کی جمع مرکز غائب ، ماضی معروف وزن اور زنۃ مصدر ۔ انہوں نے تول کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ خود دوسرے لوگوں کو ماپ کر یا تول کردیتے ہیں تو ان سے لینے والے ہمیشہ خسارہ میں رہتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ ان کو خسارہ اور گھاٹا میں رکھتے ہیں گویا ماپ کر یا تول کو پورا نہیں دیتے اور نہ ہی انہوں نے پورا تول کردینے کی عادت رکھی ہے بلکہ دیکھنے والا دیکھے کہ جھکتا تول رہے ہیں لیکن اس فن میں اتنے ماہر ہیں کہ ایک کلو میں سو گرام نہیں تو 80 ، 90 گرام ضروری ہے کہ کم ہو اور اگر کسی سے کوئی چیز ادھار لے لیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس کو واپس دے دیں ۔ مثل ہے کہ ” لے کردیا تو بنج کا ہے کیا “ ایک نے ہم میں سے لے کردیا تھا پھر ساری برادری نے اس سے بائیکاٹ کیا تھا۔ اہل مکہ کا اصل پیشہ ہی تجارت تھا ۔ ان کے ہاں اس قسم کی خرابیاں عام تھیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کاروباری بددیانتی سے باز آنے کی جب ان کو نصیحت کی تو اس کے لیے ذرا پر زور لہجہ اختیار کیا ۔ ان کو بتایا کہ آخرت میں تو اس کی سزا ملے گی جو ملے گی اس دنیا میں بھی اس کے برے اثرات تم پر پڑیں گے اور تمہارا کاروبار ان حرکتوں سے سخت متاثر ہوگا ۔ قرآن کریم نے اس کردار کے لوگوں کا ذکر قرآن کریم میں بار بار کیا اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی اس بیماری کا ذکر سنایا گیا اور پھر ان کی تباہی کی داستان بھی ان کے سامنے پڑھی گئی اور ان کی پوری قوم کو اس بددیانتی کے باعث ہلاک کردیا گیا ۔ بلا شبہ ان جرائم کی سزا قیامت کو تو ملے گی لیکن ان کی دنیوی زندگی کا انجام بھی اچھا نہیں ہوگا۔ یہ بیماری مکہ کے لوگوں میں بھی موجود تھی جب آپ ﷺ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ چلے آئے تو ہاں کا تو بابا آدم ہی نرالا تھا۔ یہودی کاروبار پر چھائے ہوئے تھے اور وہ اس کام میں بہت ماہر تھے اور جس طرح کوئی بیماری بھی پھیلتی ہے تو پورا معاشرہ اس سے متاثر ہوجاتا ہے اسی طرح اس بیماری سے دوسری اہل مدینہ بھی بچے ہوئے نہ تھے لیکن بحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و کرم کیا کہ اسلام کے آنے سے ، مسلمانوں کی کوششوں سے اس لعنت کا خاتمہ ہوا لیکن آج وہی مسلمان خود اس لعنت میں مبتلا نظر آتے ہیں۔
Ayah 83:4کیا یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ ان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ بھی ہونا ہے
4 ؎ ( الا) خبردار ہو جائو ۔ جان لو ۔ سن رکھو۔ قاضی بیضاوی ، زمحشری اور علمائے لغت کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ یہ ہمزہ استفہام اور لا نافیہ سے مرکب ہے جو اپنے ما بعد کی تحقیق و ثبوت پر دلالت کرتا ہے ۔ دلیل یہ ہے کہ استفہام جب نفی پر داخل ہوتا ہے تو اس سے مزید ثبوت مقصود ہوتا ہے ۔ چناچہ آیت (الیس ذلک بقدر عل ان یحییٰ الموتی) ” یا ایسا خدا مردوں کو زندہ نہیں کرسکتا “ میں قدرت الٰہی کا ثبوت مزید مقصود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ضرر کرسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو جملہ اس کے بعد مذکور ہوگا وہ ایسے الفاظ سے شروع ہوگا جو قسم کے لے آتے ہیں ۔ ( کشاف ج 1 ص 33 طبع مصر) لیکن علامہ ابو حیان اندلسی النمر الماء من البحر میں رقمطراز ہیں کہ ” ہمارے نزدیک مختار یہی ہے کہ الا جو تنبیہ کے لیے مستعمل ہے حرف بسیط ہے اور اس کے مرکب ہونے کا دعویٰ خلاف اصل ہے کیونکہ ان لوگوں کا خیال ہے اور الا کے موقع استعمال سے پتہ چلتا ہے کہ لا نافیہ نہیں جو ان کا دعویٰ مکمل ہو ۔ غور فرمایئے آپ کو معلوم ہوجائے گا علاوہ ازیں رب لیت اور حرف ندا وغیرہ سے پہلے بھی الا آتا ہے جہاں یہ سمجھا ہی نہیں جاسکتا کہ لا نافیہ ہوگا اور ہمزہ استفہام نے لا نافیہ پر داخل ہو کر تحقیق شے کا فائدہ دیا ہے۔ اس طرح ان لوگوں کا یہ دعویٰ بھی صحیح نہیں ہے کہ اس کے بعد جو جملہ آتا ہے وہ اس قسم کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے جو قسم کے لیے آتے ہیں کیونکہ اس کے بعد کا جملہ رب لیت فعل امر ندا اور جندا سے بھی شروع ہوتا ہے حالانکہ ان میں سے کسی سے بھی قسم نہیں کھائی جاتی اور اس الا کی جو کہ حرف تنبیہ اور حرف استفتاح ہے علامت یہ ہے کہ کلام بغیر اس کے صحیح نہیں ہوتا ۔ ج اول ص 56 طبع مصر حاشیہ بحر المحیط) الا کا استعمال کبھی عرض کے لیے بھی ہوتا ہے یعنی کسی چیز کو نرمی سے طلب کرنا جیسے ( الا تحبون انا یغفر اللہ لکم ) ” کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کرے “ اور کبھی تخصیص یعنی کسی چیز کے سختی کے ساتھ مطالبہ کے لیے بھی آتا ہے جیسے ( الا تقاتلون قوما تکثوا ایمانھم وھموا باخراج الرسول وھم بدء و کم اول مرۃ) ” کیا تم نہیں لڑو گے ان لوگوں سے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے تم سے پہلے چھیڑ کی “ الا حرف تنبیہ اور استفتاح یعنی کلام کے شروع کرنے کے لیی ہے اور ہمزہ استفہام ولا نافیہ ہے مرکب نہیں بلکہ بسیط ہے۔ ہاں یہ تنبیہ استفتاح کے لیے استعمال ہوتا ہے تو جملہ اسمیہ اور فعلیہ دونوں پر داخل ہوتا ہے اور جب عرض اور تخصیص کے لیے آتا ہے تو صرف افعال کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے خواہ وہ افعال لفظاً مذکور ہوں یا تقدیر پر آ ۔ ( جمل علی الجلالین ج اول ص 181 طبع مضر) اظہار تعجب کے طور پر کہا جارہا ہے کہ ان لوگوں کو اتنی خبر بھی نہیں ہے کہ ان کو دوبارہ قبروں سے اٹھایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہماری پیشی ہوگی حالانکہ اس کا اندیشہ تو فطری طور پر ہر انسان کے اندر موجود ہونا چاہیے اور اگر شخص کی فطرت میں اتنی بات بھی موجود نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطرت کو بھی ضائع کرچکا ہے اور اس کی آنکھیں بالکل بےنور ہوچکی ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن کریم کی شہادت موجود ہے کہ وہ قیامت کو اندھے اٹھائے جائیں گے اور وہ بول کر کہیں گے اے اللہ تو نے ہمیں کیوں اندھا اٹھایا ہے حالانکہ ہم تو دیکھنے والے تھے۔ عروۃ الوثقیٰ جلد پنجم سورة طہٰ کی آیت 125 ملاحظہ کریں ۔ اس طرح گویا منکرین قیامت کے اس نظریہ پر ان کی سرزنش کی جا رہی ہے ۔
Ayah 83:5اس عظیم دن میں جن کا نام قیامت ہے
5 ؎ مطلب یہ ہے کہ جس دن ان سب کو دوبارہ اٹھائے جانے کی تعلیم دی جا رہی ہے وہ دن کوئی معمولی دن نہیں ہے وہ تو ایک ہی بڑا دن ہے کہ اس میں پوری دنیا کے لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور وہ بھی روز اول سے شروع ہو کر یوم الآخر تک جتنے انسان اس دنیا میں آئے ہوں گے حالانکہ ان کی تعداد کی گنتی کتنی ہوگی اور وہ میدان حشر کتنا میدان ہے کہ اس میں یہ مخلوق سما جائے گا ۔ لیکن اس پر تعجب کیوں جب کہ اس دنیا میں بسنے والوں کے مقابلہ میں انسان تو فی نفسہٖ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ انسان سے کئی کئی گنا زیادہ رزق کھانے والے اور زیادہ جگہ گھیرنے والے جانور بھی موجود ہیں اور دناک کے رقبہ میں صرف 29 فی صد خشکی موجود ہے اور باقی سب حصوں پر پانی ہی پانی ہے جب کہ قیامت کے روز یہ ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح ہوگی اور اس میں خشکی ہی خشکی ہوگی ، سمندر کا نام و نشان بھی نہیں ہوگا پھر اس پر مستفادیہ کہ یہ دنیا تو دنیا نہیں ہے اس فضائے بسیط میں یہ کروڑوں سیاروں میں سے صرف ایک سیارہ ہے تم کو گھبراہٹ کس بات پر ہوئی ہے اگر وہ دن ایک بڑا دن ہے تو اس عظیم دن کے رب کے علم سے کوئی بات بھی تو پوشیدہ نہیں ہے۔ ہاں ! کفار کے دل میں اس دن کا کوئی خوف نہیں تو وہ محض اس وجہ سے کہ وہ اس کو دیکھ نہیں رہے اور بغیر دیکھے ایمان لانے والے وہ نہیں ہیں اور جب دیکھیں گے اس دن ان کے ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔
Ayah 83:6جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
6 ؎ اس دن کو یوم عظیم اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ اس روز دنیا کے یوم اول سے لے کر یوم آخر تک کے سارے لوگ جمع ہوں گے اور اپنے پروردگار عالمین کے سامنے ان کی حاضر ہوگی ۔ ہاں ! یہ حاضری قانون الٰہی میں طے ہے اور قانون خداوندی میں جو بات طے ہے اس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس بات کا بار بار اعلان کر کے اور بار بار ذکر کر کے لوگوں کے کانوں تک بات پہنچا دی ہے کہ آنے والے کل میں کوئی کسی طرح کا عذر پیش نہ کرسکے کہ میرے کانوں تک یہ بات نہیں پہنچی۔
Ayah 83:7ہرگز نہیں بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانہ کے دفتر میں موجود ہے
7 ؎ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ عرض کی جاچکی ہے کہ ( کلا) کا استعمال جہاں بھی ہوا ہے وہاں کسی بات کی نفی کی گئی ہے خواہ اس مضمون کا ذکر موجودہ مضمون میں نہ کیا گیا ہو بلکہ اس سے پہلے کیا جاچکا ہو۔ گزشتہ عبارت سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ اتیم مدت مدید کی دنیا جس میں کروڑوں سال گزر چکے ہوں اور ان کے بعد نسلا ً بعد نسل لاکھوں پشتیں گزر چکی ہوں اس وقت کیسے یاد رہے گا کہ کس نے کیا کیا اور ان کے اعمالنا مے کہاں محفوظ رہ گئے ہوں گے ؟ ابھی تک وہ تحریرات لکھی ہی چلی آرہی ہوں گی۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح کے تم کو شکوک و شبہات گزر رہے ہیں ان کا کوئی جواز بھی موجو ہے ؟ تم کس طرح کی باتیں کر رہے ہو ؟ کیا خدا کی خدائی میں کوئی دوسری پشت آگئی ہے اور پہلا خدا اب خدا نہیں رہا ؟ کیا پہلا نظام بدل گا اور اب نیا نظام قائم ہوگیا ہے اور یہ بات معلوم نہیں کہ اس نظام میں گزشتہ نظام کے کاغذات اور دفتر موجود رہے ہوں گے یا نہیں ؟ کیا یہ اس دنیا میں تحریرات کرنے کا کوئی بیان ہے جس پر تم کو شک گزر رہا ہے ؟ عقل کی بات کرو اس خدا کی خدائی ہے اور وہی نظام قائم ہے جو روز اول سے قائم ہوا تھا اس لیے تم اس طرح کے شک و شبہات نہ پھیلا ئو اور اس بات کو مذاق ہی مذاق میں نہ ٹال جائو بلکہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اسکے لیے ایک بہت بڑا دفتر قائم ہے جہاں شروع سے لے کر آج تک اور آج سے لے کر قیامت تک آنے والے سارے لوگوں کے اعمال نامے موجود ہیں اور یہ تمہاری کسی دنیاوی حکومت کا نظام نہیں کہ غدار لوگ وہاں خود ہی ریکارڈ میں خورد برد کرتے رہیں اور اس کو ضائع کردیں۔ ہرگز نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا چلایا ہوا نظام ہے اور وہ خود اس کا محافظ و نگہبان ہے اور وہاں اس طرح کے تخیلات کی کوئی گنجائش موجود نہیں نہ تو گناہ ہم سے پوشیدہ ہیں اور نہ ہی گناہ گاروں کے اعمال نامے ۔ ہاں ! یہ صحیح ہے کہ جس کو ہم نے ( سجین) قرار دیا ہے تم اس سے واقف نہیں کیونکہ اس کا تعلق عالم آخرت سے ہے وہ مشاہدہ میں آنے والی چیز نہیں۔
Ayah 83:8تم کو کیا معلوم کہ وہ قید خانہ کا دفتر کیا چیز ہے ؟
8 ؎ ( سبجین ) کیا ہے ؟ مفسرین نے لکھا ہے کہ عربوں کے ہاں یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا تھا اور اس کی دلیل یہ قائم کی ہے کہ خود قرآن کریم نے کہا کہ آپ کیا جانیں کہ ( سجین) کیا ہے ؟ حالانکہ یہ بات اس لیے صحیح نہیں ہے کہ صرف یہ ایک چیز نہیں ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ( مادراک) بلکہ یہ لفظ تو بہت سی دوسری حقیقتوں کے ساتھ بھی بولا گیا ہے مثلاً (ما ادراک ما الحاقۃ) ( الحاقہ : 3) ، ( المدثر : 27) (المرسلات : 14) ( الانفطار : 17) (المطففین : 8 ، 19) ، ( الطلارق : 2) ، ( البلد : 12) ، ( القارعہ : 3 ، 10) ، ( الحمزہ : 5) ان مقامات پر جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے نہیں کہا جاسکتا کہ عرب ان ناموں سے واقف نہیں تھے یا عربوں کے ہاں ان کا کوئی تصور موجود نہیں تھا یا یہ کہ یہ سب نام عربی کے نہیں بلکہ معرب ہیں اور نہ ہی اس طرح کی کوئی اور توجیہہ کی جاسکتی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا بلند تصور اور اعلیٰ مقام اور ان کی بڑی حیثیت کی وجہ سے اس طرح کا سوال اٹھایا ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ مخاطبین کو ان کی اہمیت جتلاتا مقصود تھی جب کہ وہ ان کی اہمیت کو کچھ نہیں سمجھتے تھے یا کوئی معمولی چیز سمجھتے تھے اس لیے اس طرح کے سوال اٹھائے گئے اور یہی بات اس جگہ بھی ہے جو زیر نظر آیت میں سمجھانا مقصود ہے کہ تم نے اس کو ایسے ہی ایک فضول یا لغو بات سمجھ رکھا ہے حالانکہ یہ تو بہت اہمیت کی چیز ہے اور ظاہر ہے کہ جس جگہ عالم دنیا کے روز اول سے لے کر آج تک اور آج سے لے کر قیامت تک کے لوگوں کے اعمال نامے مع ان کے نتائج کے موجود ہیں اس کی اہمیت معمولی نہیں ہو سکتی اس لیے اس جگہ بھی اس طرح کا سوال اٹھایا گیا لیکن اس کا یہ مطلب لینا کہ اس سے عرب واقف نہ تھے اس لیے (ما ادرک) کا لفظ بولا گیا ہے صحیح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے اوپرذکر کیا گیا ہے۔
کہا گیا ہے کہ کیا ( سجین) شے معین کے لیے اسم علم ہے یا کسی معنی سے اسم مشتق ہے ؟ اس بارے میں دو اقوال ہیں اول جمہور مفسرین کا قول ہے کہ یہ شے معین کا علم ہے پھر اسے شے معین میں اختلاف کیا گیا ہے اور اکثر اس طرف سے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے ہے اور اس کا ذکر روایات میں ہے جو ابن عباس ؓ کی طرف منسوب ہیں۔ عطا ، قتادہ ، مجاہد ، ضحاک ، ابن زید سب کا یہی قوم ذکر کیا گیا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ساتویں زمین کے نیچے ایک چٹان ہے جہاں ابلیس اور اس کی ذریت رہتے ہیں اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن ہم کو ان باتوں کی طرف دیکھنے کا کچھ فائدہ نہیں ہے کیونکہ جب قرآی کرنم نے خودایک بات کہ دی ہے اور اس کی وضاحت کردی ہے تو ہم کو اسی پر اکتفا زیادہ مفید معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 83:9وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی
9 ؎ جیسا کہ پیچھے عرض کیا جا چکا ہے کہ ( سجین) کے متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن جب خود قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرما دی ہے کہ یہ اس کتاب کا نام ہے جس میں فجاز کے اعمال اور ان کے نتائج محفوظ کیے گئے ہیں تو پھر اس کی مزید وضاحت کی ضرورت آخر کیا رہ گئی ؟ اس لیے ( سجین) سے مراد ہم وہ دیوان ہی لیں گے جہاں اہل دوزخ کے اسماء اور ان کے اعمال درج کیے جا رہے ہیں اور بعض روایات میں بھی اس کا یہی نام آیا ہے جہاں دوزخیوں کی روحیں محبوس ہوں گی لیکن اس کی وضاحت ہم اس جگہ نہیں کرنا چاہتے کہ اس کہ اس جگہ ذرا مزید وضاحت کرنا ضروری ہے تاکہ بات سمجھ میں آسکے ، اگر بات مبہم رکھی جائے تو اس سے پہلے ہی بات ہی غلط فہمیاں پیدا ہوچکی ہیں اور ہم ان میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قرآن کریم کے ظاہری الفاظ تک ہی رہنا چاہتے ہیں لیکن عنقریب ان شاء اللہ اس سلسلہ میں قدرے وضاحت سے بات کریں گے اور یہ بات ان شاء اللہ اسی سورت کے خاتمہ پر کی جائے گی۔
Ayah 83:10تباہی و بربادی ہے اس دن جھٹلانے والے کے لیے
10 ؎ ( ویل ) کا اصل مادہوی ل ہے اور اس کی وضاحت اس سورت کے شروع میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ( ویل) کا لفظ قرآن کریم میں 27 بار استعمال ہوا ہے ان مقامات کو سامنے رکھ کر اس کی مزید وضاحت کی جاسکتی ہے تا ہم اس مادہ میں ہر جگہ افسوس اور ہائے ہائے کلمہ تعجب اور افسوس کے ملے جلے مفہوم پر مشتمل ہے وضاحت کے لیے درج ذیل مقامات کی طرف رجوع کریں مثلا ًعروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ 2 : 79 میں مکرر تین بار ، جلد چہارم سورة ابراہیم کی آیت 2 ، جلد پنجم سورة مریم کی آیت 37 ، جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 18 ، جلد ہفتم سورة ص کی آیت 27 ، سورة الزمر کی آیت 22 ، جلد ہشتم سورة فصلت کی آیت 6 ، سورة الزخرف کی آیت 65 ، سورة الجاثیہ کی آیت 7 ، سورة الذاریات کی آیت 60 ، سورة الطور کی آیت 11 ، جلد نہم سورة المرسلات 15 ، 19 ، 24 ، 28 ، 34 ، 37 ، 40 ، 45 ، 47 ، 49 ، سورة المطففین کی آیت اول ، 10 ، سورة الحمزہ کی آیت اول ، سورة الماعون کی آیت 4 کی تفسیر دیکھیں ۔ اور اسی طرح اس مادہ کے دوسرے الفاظ جو بیان ہوئے ہیں ان پر بھی ایک نگاہ ڈال لو مثلاً ( ویلک) ( الاحقاف : 17) (ویلکم) (طہٰ : 11) ، (القصص : 80) ( ویلتا) (الانبیاء : 14 ، 46 ، 97) (یٰسین : 52) ، (الصافات : 20) ، (القلم : 31) (ویلتی) (المائدہ : 31) ، (ھود : 72) ، ( الفرقان : 28) (ویلتنا) (الکہف : 49) (ویل ) عربی کے لفظ ہے ، صحیح ہے لیکن ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ ہم مسلمانوں کے ہاں ایک کپڑے کا نام ویل رکھ کر اس کو ہماری قوم کے ذہنوں میں ( ویل) کو کیسے مقدس بنا دیا گیا کہ آج ہم گھر میں مرد ہوں یا عورتیں بس ویل ویلہی کر رہے ہیں کیا یہ کسی گہری سازش کا نتیجہ تو نہیں ؟
دوزخ میں دوزخیوں کو جو چیزیں کھانے ، پینے اور پہننے کو دی جائیں گی جو جو نام ان کے لیے استعمال ہوئے ہیں ان کا تقدس ہمارے ذہنوں میں بحال ہورہا ہے اور نفرت ہمارے ذہنوں سے نکالی جا رہی ہے اس معاملہ میں آپ غور کریں گے تو بہت سی چیزیں آپ بطور نام مشرک پائیں گے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ مثلاً پینے کیلئے زیادہ ذکر (حمیم) کا آیا ہے اور وہ کھولتا ہوا پانی ہمارے منہ کو ایسا لگا ہے کہ حد ہوچکی ہے۔ اس کو زخموں کا دھو ون مفسرین نے لکھا ہے اور پھر جو ہمارے منہ لگا ہے اس کا رنگ ڈھنگ آپ دیکھ لیں کہ کیا ہے ؟ کھانے کو قرآن نے ( زقوم) کا ذکر کیا ہے۔ ( زقوم) نام کی چیز ہمارے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں عام ملتی ہے جو نہایت رغبت سے کھائی جاتی ہے ۔ بگڑتے چہروں کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور آج کل انسانی آواز انسانوں تک پہنچانے کے لیے جن بڈاودں (Pupets) سے کام لیا جا رہا ہے اور چہروں پر پردے ڈال کر صورتوں کو جس طرح بدل دیا گیا ہے سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ان چیزوں کی طرف توجہ مسلمانوں کو ضرور مبذول کرنی چاہیے اور اس طرف سے غفلت ہمیں معلوم نہیں اور کہاں تک پہنچا دے گی ۔ ہمارے پہننے کے لباس کو اس طرح بدل دیا گیا ہے اب جو ہم اپنے جسم پر لباس زیب تن کرتے ہیں وہ آگ ہی آگ ہے جس کے نتائج سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ آخرت کے معاملہ میں ایک تخیل ہمارے ہاں برزخ کا ہے اور آج جس چیز کی برزقی کہہ کر مسلمانوں میں پہننے کے لیے رواج دیا جا رہاوہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔
Ayah 83:11جو سزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے ہیں
11 ؎ وضاحت کی جا رہی ہے کہ ( ویل) کن لوگوں کے لیے ہے اور اس دن جھوٹے کن لوگوں کو کہا جا رہا ہے ؟ فرمایا ان لوگوں کو جو آخرت کے دن کو جھٹلاتے ہیں خواہ وہ کفار مکہ کی طرح بالکل تسلیم ہی نہیں کرتے اور خواہ آج کل ہم مسلمانوں کی طرح وہ زبان سے اقرار کرتے ہیں لیکن عملاً اس کی تکذیب کر رہے ہیں کیونکہ وہ قوم عملاً آخرت کی تکذیب نہ کرتی ہو وہ اپنے اعمال کو درست کرنے کی فکر کرتی ہے لیکن اس وقت ہم من حیث القوم آخرت کی طرف سے بالکل بےفکرہو کر رہ گئے ہیں ۔ ہمارے عالم ہیں یا جاہل امیر ہیں یا غریب ، شریف ہیں یا رذیل سب کے سب دنیوی زندگی کی رنگینوں میں مصروف نظر آتے ہیں اور آخرت محض زبان تک محدود ہے جتنی تگ و دو ہے اور جتنی دوڑ دھوپ ہے ، جتنی مشقت برداشت کی جا رہی ہے محض دنیا کی خاطر ہے یہاں تک کہ اگر دین کا نام پانے والی چیزوں کو ہم حاصل کرتے ہیں تو وہ بھی محض دنیا کی خاطر ۔ آپ ذرا غور کریں تو ہماری بات کی آپ تصدیق کریں گے مثلاً دین کے نام پر کوئی درود وظیفہ پڑھتے ہیں تو اس کا ماحصل کیا ہے ؟ یہی کہ ہم کو دنیا ملے ۔ دین کے نام پر اجتماعات ہوتے ہیں حتیٰ کہ دین کے نام پر جو لوگ بستر کندھوں پر ڈال کر چلے پڑتے ہیں اور اگر اس کی حقیقت اور لم معلوم کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو محض دنیا کی خاطر کیا جا رہا ہے ، جو کچھ کیا جا رہا ہے مثلاً اگر ایک چلہ لگائو کے تو یہ مل جائے گا اگر تین چلے لگا لیے تو یہ مل جائے گا اور اگر سال کا دورہ لگ گیا تو یہ کچھ حاصل ہوجائے گا ۔ لوگ نفل نمازیں پڑھتے ہیں تو اس لیے کہ ہم کو دنیا میں یہ حاصل ہوگا اگر فلاں کی نذر مان لی تو یہ کام نکل آئے گا گویا کوئی شریک میں مبتلا ہے تو دنیا کی خاطر ، کوئی دین کا کام کرتا ہے تو دنیا کی خاطر ، کوئی دین حاصل کرتا ہے تو دنیا کی خاطر ، کوئی قرآن کریم حفظ کرتا ہے تو دنیا کی خاطر حتیٰ کہ کوئی حج کرتا ہے تو دنیا کی خاطر ، زکوٰۃ نکالتا ہے تو دنیا کی خاطر ، صدقہ و خیرات کرتا ہے تو دنیا کی خاطر پھر وہ آخرت میں کچھ ملنے کی امید آخر کسی کے دل میں موجود بھی ہے ؟ حالانکہ اسلام کا حکم تو یہ ہے کہ اس دنیائے دوں میں رہتے ہوئے دین کے جو کام کیے جائیں وہ بھی آخرت کو درست کرنے کے لیے کیے جائیں اور آخرت کا لفظ صرف زبان پر پانی کی طرح نہ چلتا رہے بلکہ ہمارے اعمال سے آخرت کی درستگی کا سرٹیفکیٹ ملے اور ہماری دنیوی زندگی کا ماحصل آخرت کی بھلائی ہو اور یہ اتنا بڑا بعد کیسے دور ہوگا اور کیونکر دورہو گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی امان میں رکھے اور ہم کو حقیقت کے سمجھنے کی توفیق بخشنے۔
Ayah 83:12اور اس کو وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا گناہ گار ہو
12 ؎ (متعد) اسم فاعل واحد مذکر اصل میں معتدی تھا اعنداء مصدر ( اقتعال) ع د و اس کا اصل مادہ ہے اور اس مادہ کے بہت سے الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ۔ اس کے معنی ہیں حد سے آگے بڑھنے والا ۔ اعنداء حدود حق سے ہٹ جانا ، تجاوز کرنا ۔ عدد کا مفہوم ہٹ جانا ، تجاوز کرنا ۔ دل اگر ایک دوسرے کی طرف ہٹ جائے تو عدوان اور عدو ہے۔ اگر کوئی جگہ ناہموار ہو تو اس کی مکان دو عدوا کہتے ہیں۔ عدو اور معاوی دشمنی اس مفہوم کے لحاظ سے عدو اور عداء دوڑ لگانے کو بھی کہتے ہیں ۔ تعدی دوسرے کی طرف تجاوز کرنا۔ ( معتد) کا لفظ قرآن کریم میں تین دفعہ استعمال ہوا ہے سورة ق کی آیت 25 ، سورة القلم کی آیت 12 اور اسی طرح اس جگہ سورة المطففین کی آیت 12 میں۔ (الیم) گناہ بروزن فعیل بیعن فاعل ۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار وہی شخص کرتا ہے وہی قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں مانتا اور تسلیم کرتا جو شخص حد سے تجاوز کرنے والا اور گناہ گار ہے خواہ اس کا جھٹلانا عقید تا ً ہے یا عملاً ہے۔ یہ بات اس لیے کہی جا رہی ہے کہ عقیدہ اور عمل میں جب بھی تفاوت ہو تو عقیدہ کا لحاظ کرنا اور عمل کو اہمیت نہ دینا بذاتہٖ حد سے تجاوز کرنا ہے۔ عقیدہ اور عمل دونوں کا تفاوت نہایت مہلک چیز ہے جو نفاق کی اصل اور جڑ ہے اس لیے جو لوگ صرف عقیدہ کو اہمیت دیتے ہیں اور عمل کی پرواہ نہیں کرتے وہ کسی حال میں بھی مخلص نہیں ہیں اور بحث اس کی ذرا تفصیل طلب ہے بلا شبہ عقیدہ اصل ہے ، عقیدہ اصول ہے ، عقیدہ بیج ہے لیکن اصل اور اصول کی وضاحت بھی تو عمل ہے اور اس بیج کا فائدہ جو ناکارہ زمین میں ڈال جائے ۔ اس لیے حقیقت یہی ہے کہ عقیدہ اور عمل دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ عقیدہ بغیر عمل کے کوئی شے نہیں ہے اور عمل بغیرعقیدہ کے بیکار ہے۔
Ayah 83:13جب ہماری آیتیں اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کو لوگوں کی کہانیاں قرار دیتا ہے
13 ؎ وہ شخص جو قیامت کا منکر ہے اور قرآن کریم جیسی کتاب ہدایت کو ہدایت کی کتاب نہیں مانتا اور تسلیم کرتا اور اسی طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کی رسالت کو عقیدۃ ً یا عملاً انکار کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کی کتاب کی آیات کی تلاوت اس کے سامنے کی جاتی ہے تو وہ ان کو کیا قرار دے گا ؟ یہی کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو محمد ﷺ نے ادھر ادھر سے سن کر بیان کی ہیں ۔ محمد ﷺ کے پاس عجمیوں کے آنے کا الزام لگا کر کہ وہ آتے ہیں اور محمد ﷺ کو سکھا جاتے ہیں اور محمد ﷺ ان کو اپنی زبان میں ہمارے سامنے بیان کردیتا ہے۔ یہ اور اسی طرح کی بہت سی اور بھی باتیں کہتے ہیں اور جو کہتے محض الزاما ً کہتے تھے ان ساری باتوں کا جواب ان کو ایک بار نہیں بار بار یہ سنایا گیا کہ اے مکہ والو ! اٹھو اور تم بھی ایک قرآن ایسا ہی گھڑ کرلے آئو اور اپنے سارے اہل زبان فصحاء ، بلغار اور شاعروں و ادیبوں کو دعوت دے کر اپنے ساتھ ملا لو اگر تم سچے ہو تو دیر مت کرو لیکن کسی کے اندر یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ اٹھے اور اس کا کلام پیش کر دے پھر ان سے فقط دس سورتوں کا مطالبہ کیا گا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد ایک سورت کا مطالبہ پیش کردیا ۔ کہا جاتا ہے کہ جادو وہ جو سر چڑھ بولے جب ان کے سامنے فقط ایک سورة کا مطالبہ کیا تو پھر بھی ان میں سے کوئی شخص نہ اٹھا کہ وہ ہمت کر کے اس کے مقابلہ کی ایک ہی سورت لے آئے اور پھر یہ چیلنج آج تک موجود ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا ۔ ان کو توجہ دلائی گئی کہ عقل کے اندھو ! اگر تم غور کرو تو محمد ﷺ کو اپنا ذاتی کلام وہ جو قرآن کریم کی وحی الٰہی کے سوا بولتے ہیں اس کا مقابلہ اگر تم اس کی زبان سے نکلے قرآن کے ساتھ کرو تو دونوں میں زمین و آسمان کا فرق پائو گے پھر اس سے بڑی شہادت اور کیا ہو سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ ماننے والوں کے سامنے ، دل سے قبول نہ کرنے والوں کے سامنے ہزار دلیلیں رکھی جائیں جب انہوں نے قبول نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہو تو آخر کون منوالے گا اور کون تسلیم کروا لے گا ۔ اس لیے یہ ماننے والا اتنا زور آور ہوتا ہے کہ اس کو اس بات پر کبھی شرم محسوس نہیں ہوتی ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں کہ حق کو تسلیم نہیں کر رہا ۔ ( اساطیر) کہانیاں ، من گھڑت لکھی ہوئی باتیں اسطورۃ کی جمع وہ جھوٹی خبریں جن کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہیں سطورہ کہلاتی ہیں اس کا مادہ س ط ر ہے اور یہ لفظ قرآن کریم میں 9 بار استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ مخالفین کی طرف سے یہ لفظ الزاما ً ہی بولا گیا ہے اور ہر جگہ اس کا جواب بھی منقول ہے ۔ وضاحت کے لیے ملاحظ ہو عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 25 ، جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 31 ، جلد پنجم سورة النمل کی آیت 24 ، جلد ششم سورة المؤمنون کی آیت 83 ، سورة الفرقان کی آیت 5 ، جلد ہفتم سورة النمل کی آیت 68 ، جلد ہشتم سورة الاحقاف کی آیت 17 ، سورة القلم کی آیت 15 اور جلد نہم میں زیر نظر سورة المطففین کی آیت 13۔
Ayah 83:14ہرگز نہیں ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا
14 ؎ ( ران) کا اصل مادہ ر د ن ہے جس کے معنی ہیں اس نے رنگ پکڑا ( ضرب) زین سے جس کے معنی زنگ آلودہ ہونے اور میل پکڑنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس کا استعمال فقط ایک ہی بار اس جگہ ہوا ہے اور اس مادہ کا اور کوئی لفظ قرآن کریم میں شامل نہیں ہے۔ جب ایک کام باپ دادا سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور سب لوگ رواجا ً اور رسما ً اس کو کرتے ہیں تو اس کے متعلق کبھی کسی نے یہ کوشش نہیں کی ، اس کام کو دیکھیں ، اس پر غور کریں کہ آیا ایسا کرنا فی نفسہٖ اچھا کام ہے یا برا ؟ نہ ہی اس کی اس تحقیق کی ضرورت کبھی کسی نے محسوس کی اور پھر جب اس کلام کے خلاف کسی کو کرتے دیکھا جائے تو یہ کام کرنے والے اس پر الزام لگا دیتے ہیں کہ دیکھو ساری دنیا اس کو کر رہی ہے اور یہ ایک شخص اس کی مخالفت کر رہا ہے اور یہی دلیل اس بات کی غلط ہے کہ ساری مخلوق کے مقابلہ میں گویا یہ اکیلا کبھی صحیح نہیں ہو سکتا ، اس کے غلط ہونے کی یہی دلیل بن کر رہ جاتی ہے اسی معاشرہ میں جس میں ہم رہ رہے ہیں بیسیوں باتیں ایسی ہیں جن کے سچے ہونے کی دلیل دلیل آج بھی پیش کی جاتی ہیں اور جو سو دلیل سے بھی زیادہ وزنی سمجھی جاتی ہے۔ پھر سارے مکاتب فکر اپنی اپنی جگہ اس کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں گویا یہی ایک وہ روڑا ہے جو ہر ایک دوسرے پر پھینکتا ہے ، پھینک رہا ہے اور پھینکتا رہے گا ۔ یہی وہ دلوں کا زنگ ہے کہ جب چڑھ جاتا ہے اس کا اترنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے اور ہر مکتب اس کا کسی نہ کسی شکل میں شکار ہے اسی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ایک آدمی ایک گناہ کرتا ہے اور پھر مسلسل کرتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ میں گناہ کر رہا ہوں اور نہ ہی وہ اس کو گناہ سمجھتا ہے اور اگر بدقسمتی سے وہ اس گناہ کو ثواب سمجھ کر کرے تو پھر اس کے چھوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ دین میں بدعت کو محض اس لیے برا سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایسی نامراد شے ہے جو گناہ ہونے کی باوجود نیکی سمجھ کر کی جاتی ہوے اس لیے اس کی اصلاح کی بہت کم صورت پیدا ہوتی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اس کی اس طرح تفہیم کرائی ہے : ( عن ابی ہریرہ ؓ عن النبی ﷺ قال ان العبد اذا اذنب ذنبا نکتت فی قلبہ نکتۃ سوراء فان قاب ونزع واستغفر صقل قلبہ وان عارز ادت حتی تعلو قلبہ فذلک الدین الذین ذکرہ اللہ تعالیٰ فی القراٰن بل ران علی قلوبھم) ” ابوہریرہ ؓ نبی اعظم و آخر ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سایہ داغ پڑجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرتا ہے ، اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ بار بار گناہ کرتا ہے اور کرتا ہی چلا جاتا ہے تو وہ داغ بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ سارے دل کو گھیر لیتے ہیں ۔ یہی وہ دین ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے کہ : ( بل ران علی قلوبھم) (83 : 14) اس حدیث کو احمد ، نسائی ، ابن ماجہ ، ابن حبان ، حاکم اور ترمذی نے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن صحیح کہا ہے۔
Ayah 83:15ہرگز نہیں وہ اپنے رب کے سامنے آنے سے رک دیئے جائیں گے
15 ؎ قیامت کے متعلق جو کچھ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کے رسول ہونے کے دلائل ان کو دیئے جاسکے ہیں قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ثابت کرنے کے متعلق جو کچھ پیچھے کہا جا چکا ہے اس کو سچ تسلیم نہ کرنے کے باعث وہ حق سے اسنے دور جا پڑے ہیں کہ ان کے واپس آنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے اور پھر جب اس طرح دوری میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو قیامت کے روز وہ اپنے پروردگار کے سامنے آنے سے بھی روک دیئے جائیں گے کہ وہ دیدار الٰہی کے قابل ہی نہیں ہیں اور ان کو اس نعمت سے محروم ہی رکھا جائے گا کیونکہ قیامت کے انعامات میں سے سب سے بڑا انعام ہی یہ ہوگا کہ اس روز رب ذوالجلال والاکرام کو اس طرح دیکھیں گے جیسے اس دنیا میں لوگ سورج اور چاند کو دیکھتے ہیں اور کسی کو سورج اور چاند میں ابہام پیدا نہیں ہوتا کہ یہ سورج ہے یا چاند ہے بلکہ سب کی واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ یہ جلال شاہی ہے اور یہ حکومت خداوندی ہے ۔ اہل ذوق کے لیے ہم مزید اتنی بات عرض کریں گے کہ دیدار الٰہی کا مسئلہ خالصتا ً اخروی مسئلہ ہے جس کا تعلق مشاہدہ سے نہیں بلکہ ایمان بالغیب سے ہے اور ایمان بالغیب کی جتنی باتیں ہیں سب کی سب پر مجمل ایمان لازم ہے ان کی تفصیل کے متعلق کوئی رائے زنی کرنا سورج پر تھوکنے کے مترادف ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان گناہوں کا حجاب ہوجانا ایسا ہی ہے جیسا کہ پیچھے ران کی وضاحت کرتے ہوئے اس کو روحوں کا زنگ کہا گیا ہے اور اس کو کبھی آنکھوں کا پردہ اور کانوں کا وقر یعنی ڈٹ قرار دیا گیا ہے اور غور کریں کہ یہ باتیں خالصتا ً اس دنیوی زندگی کے متعلق ہیں لیکن کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ جس نے اس دین کو اس آنکھوں کے پردہ کو یا کانوں کے وقر اور ڈٹ کر ان آنکھوں سے دیکھا ہے یا ان ناموں سے ٹٹولا ہے اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا یہ اشارات اور استعارات غلط ہیں ۔ لا ریب ان کو غلط بھی نہیں کہا جاسکتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ چیزیں دیکھنے اور ٹٹولنے کی نہیں ہیں بلکہ یہ نتائج کا نام جن کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے۔
Ayah 83:16بھر بلا شبہ وہ جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے
16 ؎ ( صالوا) کی اصل ص ل ی ہے ص ل و نہیں ۔ اور اس مادہ کے بہت سے الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں اس کے معنی ہیں گھسنے والے ، داخل ہونے والے صلی سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ۔ اضافت کے سبب نون جمع حذف ہوگا ہے ۔ اصل میں صالون تھا ۔ مطلب یہ ہے کہ انجام کار ان کو جب رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے روک دیا جائے گا تو پھر ان کو دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا اور دوزخ پر لے جا کر ان کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا اور یہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوگا نہ کہ ظلما ً دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
Ayah 83:17پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے
17 ؎ فرمایا جب ان کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا تو دھکیلتے وقت دوزخ میں دھکیلنے والے ان کو مخاطب ہو کر یہ بھی کہیں گے کہ یہ عقل کے اندھو ! یہ ہے وہ قیامت کا دن جس سے تم کو مطلع کیا جاتا تھا اور تم اس کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے اب بھی تم کو یقین آیا ہے یا نہیں۔
Ayah 83:18ہرگز نہیں بلکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے ( علیین) میں ہوں گے
18 ؎ پیچھے بد کار لوگوں کے اعمالناموں کا ذکر کیا جا چکا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کے اعمال نامے ( سجین) میں ہوں گے اور ( سجین) کی حقیقت بھی بتائی گئی تھی کہ ( سجین) کیا ہے۔ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ نیکو کاروں کے اعمال نامے (علیین) میں ہوں گے بعض نے اعمال ناموں کی بجائے ارواح کا ذکر کیا ہے کہ بد کاروں کی ارواح سجین میں ہوں گے اور نیک کار لوگوں کی ارواح علیین میں ہوں گی اور دونوں ہی وضاحتوں میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ایک چیز کو دو طریقوں سے بیان کیا گیا ہے اور طریقہ بیان کچھ ہو جب اس کا تعلق اس عالم دنیا سے نہیں ہے تو اس پر بحث بھی فضول ہے کیونکہ اس کا مشاہدہ سے تعلق نہیں ہے۔ دراصل ہم جس چیز کو بار بار یاد کراتے چلے آ رہے ہیں اس کو یاد نہ رکھنے کے باعث دوبارہ اور سہ بارہ اسی طرح کے سوالات اٹھتے ہیں اگر اس بات کو ایک بار ذہن نشین کرلیا جائے تو بار بار اس کے بیان کی ضرورت نہ رہے اور بار بار دھانی کی ضرورت بھی نہ پڑے۔
Ayah 83:19اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ ( علیون) کیا ہے ؟
19 ؎ ( علیون) کیا ہے ؟ (علیون) اسم ہے جو جمع کے معنوں پر دلالت کرنے کے لیے وضع کیا گیا اور اس کا استعمال اس جگہ دو بار ہوا ہے ایک بار ( علیین ) اور دوسری بار ( علیون) جیسا کہ زیر نظر آیت میں آیا ہے۔ یہ ایسے ہی جیسے عشرون اور ثلثون ہے حالت رفع میں ( علیون) ہے اور حالت قصبی و جری میں ( علیین) اس کو مادہ ع ل ی کے تحت بیان کیا جاتا ہے جس کے مفہوم میں بلندی اور اعلیٰ مقام کا تصور پیش کیا گیا ہے اور اس تصور سے لے کر اس کو آسمانوں پر لے جایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ایک مقام کا نام ہے جو آسمانوں پر ہے اور جہاں نک کاروں کی ارواح یا ان کے اعمالنامے رکھے گئے ہیں پھر کسی نے اس کو سبز رنگ کی تختی سے تعبیر کیا ہے اور کسی نے قندیل میں بیان کیا ہے اور بزرگوں کے ذہن میں جو آیا ہے اس کو کہہ دیا ہے وہ تو کہہ کر چلے گئے ہیں لیکن ہم آپس میں فیصلہ نہیں کر پائے کہ اصل حقیقت کیا ہے ؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی حقیقت معلوم کرنا ہمارے لیے ضروریات دین میں سے نہیں ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس کا تعلق عالم آخرت سے ہے نہ کہ عالم دنیا سے ، پھر عالم آخرت کی باتوں کے متعلق عام دنیا میں جھگڑنا بالکل لا یعنی ہے اور ان لا یعنی باتوں میں ہم بحثیں کر کے نہ تو کچھ حاصل کرسکے ہیں اور نہ ہی کبھی حاصل کرسکیں گے۔ ( ما ادراک) کی بحث پیچھے اسی سورت کی آٹھویں آیت میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 83:20وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے
20 ؎ وضاحت اس سورت کی آیت 9 میں گزر چکی ہے کیونکہ بعینہٖ یہی الفاظ وہاں بھی آئے ہیں فرق یہ ہے کہ وہاں ( سجین) کے ذکرکے بعد آئے ہیں اور اس جگہ ( علیین) کے ذکر کے بعد بیان ہوئے ہیں ۔ وہاں مراد برے لوگوں کے اعمالنامے محفوظ کرنے سے ہے اور یہاں مراد نیک لوگوں کے اعمالناموں کو محفوظ کرنے سے ہے یا وہاں بدکاروں کی ارواح کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور یہاں نیکو کاروں کی ارواح کے ٹھہرنے کی جگہ اور ہمیں دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا ۔ ہاں ! ذہن میں ایک تصور قائم کرنا ہے خواہ اس طرح کیا جائے اور خواہ اس طرح مقصود باون دونوں طرح حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 83:21جسے مقرب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے
21 ؎ اس مقام کو یا اس جگہ کو یا نیک لوگوں کی ارواح کو یا نیک لوگوں کے اعمال ناموں کو مقرب لوگوں کی حفاظت میں رکھا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مقرب فرشتے ہیں اور یہ محض اس مقام کی بلندی یا اس کے مقام کی اہمیت کے پیش نظر رکھ کر بیان کیا گیا ہے کہ مقرب لوگوں سے اس کا تعلق ہے تو وہاں مقرب لوگوں ہی کی نگرانی میں اس کو رکھا گیا ہے اور مقربین کا گروہ انسانوں کے اندر بھی موجود ہے جیسا کہ سورة الواقعہ کی آیت گیارہ اور آت 88 میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور سورة الواقعہ عروۃ الوثقیٰ کی آٹھویں جلد میں ہے۔
Ayah 83:22بلا شبہ نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے
22 ؎ ( نعیم) اسم معرفہ مجرور نعمت ، راحت ، عیش ( نعیم) کا لفظ جمع کا نہیں بلکہ واحد ہے۔ ہاں ! ( نعیم) اسم جنس ۔ کسی کو اس کی جنس بنا لیا جائے اور پھر انعامات کہہ دیا جائے یہ دوسری بات ہے اور یہ بھی کہ عیش و آرام اور راحت بہت سی نعمتیں مل کر ہی پیش کرسکتی ہیں اس لحاظ سے بھی اس مفہوم میں انعامات یا نعمتوں کا لیا جاسکتا ہے ۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تیار کر رکھا ہے اس کی وضاحت سورة الرحمن اور سورة الواقعہ میں بہت تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے بلکہ دونوں سورتوں کا اصل موضوع ہی اہل جنت کے انعامات اور اہل دوزخ کے عذاب ہیں اور اس کی وضاحت یہی ہے کہ بہت کچھ سمجھنے کے بعد انسان یہ بھی سمجھ جائے کہ میں نے تو ابھی کچھ نہیں سمجھا تو یہ ساری نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور اگر کوئی شخص یہ سمجھ جائے کہ میں نے اتنا سمجھ لیا کہ اب مجھے مزید سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی تو اس کی جہالت میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا ۔
Ayah 83:23تختوں پر بیٹھے نظارہ کر رہے ہوں گے
23 ؎ ( الارائک ) جمع ہے الاری کہ کی یعنی بہت سے تخت کیونکہ الاری کہ کے معنی ہیں زمینی تخت جس پر پردہ لٹکا ہوا ہو۔ یہ لفظ قرآن کریم میں چار بار استعمال ہوا ہے اور ہر بار جنتیوں کے لے آیا ہے اور ان کے بیٹھنے کی جگہ تخت قرار دیئے گئے ہیں جو نہایت مزین قسم کے ہوں گے ، جن پر بہترین گدے ، تکیے اور چادریں استعمال کی گئی ہوں گی اور اس دنیا میں ان چیزوں کے حسن وزیبائش کے باعث آخرت کے انعامات میں بھی ان کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ دنیا کی چیزوں کے ساتھ آخرت کی چیزوں کی کوئی مشابہت سوائے ناموں کے نہیں ہوں گی اور جس طرح دنیا آخرت کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں بعینہٖ دنیا کی نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں کوئی شے نہیں ہیں ۔ ہاں ! اگر ان ناموں کا نام نہ لیا جائے تو ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آتا اور نہ ہی ہم سمجھ سکتے ہیں اس لیے ان ناموں کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ بات صرف ( الارائک) وہی کے لیے نہیں بلکہ تمام انعامات کا یہی حال ہے خواہ وہ اشیاء خوردنی یا مشروبات ، ملبوسات ہوں یا ازدواجی جوڑوں کا ذکر خیر ہو یا حور و غلمان کا ذکر آئے وہاں کی کسی چیز کو بھی یہاں کی کسی چیز سے مشابہت نہیں مگر ناموں میں۔
Ayah 83:24تو اگر دیکھے تو ان کے چہروں پر نعمت کی شادابی محسوس کرے گا
24 ؎ ( نضرۃ) اسم منصوب معرفہ مضاف ، ترو تازگی ، رونق چہرہ۔ اس کا مادہ ن ض ر ہے۔ اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں نضرۃ ناضرۃ۔ نضرۃ سورة الانسان کی آیت 11 میں اور زیر نظر سورة کی آیت 24 میں اور ( ناضرۃ) سورة القیامہ کی آیت 22 میں اور علاوہ ازیں نہ تو یہ لفظ کہیں استعمال ہوا ہے اور نہ ہی اس مادہ کے الفاظ میں سے کوئی اور لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔ اس میں مخاطب ہر ایک انسان ہے جو اہل جنت میں سے ہوگا کہ آگ لوگ ان نعمتوں کے آثار ان لوگوں کے چہروں پر بھی پائیں گے جو لوگ یہ نعمتیں دیئے جائیں گے اور بلا شبہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کو کوئی اچھی خبر ملے یا وہ کوئی اچھی خبر پائے تو اس کے آثار اس کے چہرے سے نمایاں ہوجاتے ہیں اور اسی طرح اگر کوئی بری خبر پائے تو بھی اس کا چہرہ واضح کردیتا ہے۔ اس جگہ اہل جنت کا ذکر ہے اور ان کو انعامات دیئے جانے کا بیان ہو رہا ہے لہٰذا ظاہر ہے کہ ان کے چہروں پر ان انعامات کو دیکھ کر سن کر خوشی کی لہریں دوڑنا چاہئیں اور خوشی کی لہر دوڑے گی اور دیکھنے والے ایک دوسرے کے ہنستے کھلتے چہرے ان شاء اللہ العزیز دیکھیں گے اور اسی طرح ایک دوسرے کو مبارکباد یاں بھی پیش کریں گے اور ان کے چہروں پر ترو تازگی تو بحمد اللہ پہلے ہی موجود ہوگی اور اس کے بعد جب وہ مزید انعام دیئے جائیں گے تو ان کی خوشی کا کیا ہی سماں ہوگا ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
Ayah 83:25انہیں سر بمہر پاکیزہ شراب پلائی جائے گی
25 ؎ ( رحیق) شراب ناب ۔ اسم جامد ہے علامہ ابو منصور ثعالبی نقل کرتے ہیں کہ : الرحیق صلوٰۃ الخمر التی لیس فیھا غش ” رحیق وہ شراب ہے جس میں کسی چیز کی ذرا بھر بھی آمیزش نہ ہو “۔ ( فقہ اللغۃ باب 24 فصل 15 فی تفصیل اسما الخمر و صفا تھا) (مختوم) اسم مفعول واحد مذکر ختام لگا ہوا ۔ مہر زدہ ختام کا ترجمہ دو طرح کیا گیا ہے : (1) مہر کرنے کا مسالہ (2) کسی چیز کا اختتام یعنی خاتمہ اس لیے ( مختوم) کا ترجمہ اکثر اہل تفسیر نے مہر زدہ لکھا ہے یعنی جنت کی شراب کے برتنوں پر اللہ تعالٰ کی طرف سے بطور اعزازو سند مہر لگی ہوئی ہوگی جس کو اہل جنت ہی توڑیں گے اور یہ محض اس لیے کہ انسانی خوشیوں میں سے ایک خوشی یہ بھی ہے کہ انسان مہر شدہ چیز کو حاصل کرے اور پھر اپنے ہاتھ سے اس کو کھولے اور استعمال کرے۔ اس میں اس کے لیے ایک طرح کا حظ موجود ہے اور اس لطف سے بھی اہل جنت کو محروم نہیں رکھا گا ں بلکہ وہ جن مشروبات کو پئیں گے ان کی مہریں اپنے ہاتھوں سے اتاریں گے۔ اس طرح ان کا لطف دوبالا ہوجائے گا ۔
Ayah 83:26اس پر شک کی مہر ہوگی اور چاہیے کہ خواہش رکھنے والے اس کی خواہش کریں
26 ؎ ( مسک) اسم شک مسک مادہ م س ک ہے جس کے معنی روکنے کے ہیں ۔ اس خوشبو کو روک کر رکھنے کے باعث یا چونکہ جس کو یہ دی جاتی ہے وہ اس کو روکنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے اس کو ( مسک) کا نام دیا گیا ہے اور فارسی نام اس کا ناقہ تاتار ہے۔ یہ ایک خاص قسم کے ہرن کی ناف سے نکالی جاتی ہے اور وہی اصل مشک ہوتی ہے اور اگرچہ آج کل زیادہ تر بناوٹی (Artificial) تیار ہوتی ہے لیکن اصل اصل ہے اور بناوٹ بناوٹ ۔ اس جگہ اصل ہی مراد ہے یعنی ان مشروبات پر کستوری کی مہریں ہوں گی۔ ( تنافس) واحد مذکر غائب امر غائب وصل کی وجہ سے مکسور کردیا گاد ۔ تنافس مصدر ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص کریں گے۔ ( المتنافسون) اسم فاعل جمع مذکر مرفوع المتنافس مفرد تنافس مصدر باہم بڑھ چڑھ کر کسی چیز کی رغبت کرنے والے ، کسی نفیس چیز کی طرف باہم مقابلتا میلان کرنے والے ۔ اصل میں اس کا مادہ نفس نس ہے جس کے معنی ہیں کشائش ، فراخی وسعت ۔ اس سے نفیس ، عمدہ ، اعلیٰ بیش قیمت اور مرغوب چیز کو کہتے ہیں ۔ نفاسۃ کا معنی ہے کسی چیز کو خود عزیز سمجھا اور دوسروں کے حق میں بخل کیا یعنی وہ چیز خود لے لی اور دوسروں کو دینا نہ چاہی۔ نفس علیہ الشی نفاسۃ دوسرے کو چیز نہ دی جاے اور اہل نہ سمجھا۔ باب تفاعل اور مفاعلۃ میں یہی مادہ پہنچا تو کسی چیز کو نفیس خیال کر کے دوسرے کے مقابلہ میں اس کی رغبت کرنے اور بڑھ چڑھ کر اس کے حصول کی کوشش کرنے کا معنی ہوگیا کیونکہ عموما ً نفیس چیز کو آدمی خود حاصل کرنا چاہتا ہے اور دوسرے کو دینا پسند نہیں کرتا ۔ لوگوں کے میلان طبع کا اقتضاء یہی ہے اس لے تنافس اور منافست کا معنی ہوا کسی مرغوب چیز کو دوسروں سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی لذیز اور مزیدار ہوگی کہ ہر آدمی کی خواہش ہوگی کہ مجھے زیادہ حاصل ہو اور میں جتنی زیادہ سے زیادہ پی سکوں اس کو پیئوں اور پھر جتنی وہ چاہیں گے پئیں گے اس میں کہاں کمی واقع ہوگی۔
Ayah 83:27اس میں تسنیم کی آمیزش بھی ہوگی
27 ؎ کسی چیز کی کیف اور مزا کو درست کرنے کے لیے بعض اوقات بالکل معمولی چیز ڈال دی جائے تو مزہ میں اتنا فرق آتا ہے کہ آدمی دنگ رہ جاتا ہے ۔ آپ نے تجربہ کیا ہوگا کہ ایک ہانڈی پکی ہوئی ہے اور پکانے والوں نے اس میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی لیکن بعض اوقات لیموں کی ایک کاش اس ہانڈی میں اس رکابی کا مزہ دوگنا کردیتی ہے جب کھانے والا اس پکے ہوئے کھانے میں اس کو نچوڑ دیتا ہے اور اتنی سی بات پر آدمی پہلے سے زیادہ کھنا کھا لیتا ہے ، پہلے سے زیادہ خوش ہوجاتا ہے حالانکہ اس میں محاورات بنے ہوئے ہیں کہ فلاں صاحب تو لیموں نچوڑ کر کردار دا کر رہے ہیں ۔ (تسنیم) جنت کے ایک چشمہ کا نام بھی ہے اور ( تسنیم) لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں جو خوشبو اور ذائقہ کے لیے شربت یا پانی میں ملات ہیں جیسے گلاب یا کیوڑایابید مشک وغیرہ اور آج کل ایسنس (Asences) کے نام سے اس طرح کی خوشبویات مل جاتی ہیں جو محض خوشبو ہی کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور بعض ایس بھی ہیں جو اس کی رنگت کو کھونے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور بعض اس کے (Taste) اور مزہ میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں ، مشروبات میں استعمال کرنے والے مشروبات کا خوشبودار اور مزہ دار بناتے ہیں اور بعض کیوبز (Cubes) کھانوں میں استعمال کرنے سے بریانی کو مرغ بریانی اور قیمہ بریانی کا سا سماں بنا دیتے ہیں پھر یہ تو اس دنیوی زندگی کے لیے دنیا والوں کے مزے دوبالا کرنے کی چیزیں ہیں اور آخرت کا معاملہ تو محض نام کے لحاظ سے ہے کہ ان کے نام اس طرح کے ہوں گے ورنہ ان کے مزے تو کیا ہی مزے ہوں گے۔ اس دنیوی زندگی میں ان کا کوئی شخص احساس بھی نہیں کرسکتا۔ کہا گیا ہے کہ تسنیم بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا پانی اس شراب میں مل کر اس کی خوب کو کئی گنابڑھا دے گا اس لیے کہ وہ جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ لذت دار ہے اور جس چیز میں اس کی ملاوٹ ہوگی اس کی انفرادی صورت میں یہ بہت ہی اضافہ کر دے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے مقربین اور سابقین کے لیے کھانے پینے کی جو چیزیں ہیں ان میں ان کو ملا کر ان کے ٹیسٹ (Taste) کو دوبالا کر دے گا اور سب اہل جنت اپنی اپنی ضرورت اور عادت کے مطابق اس سے حاصل کرسکیں گے۔
Ayah 83:28وہ چشمہ جس سے فقط مقربین ہی پئیں گے کوئی دوسرا نہیں پئے گا
28 ؎ یہ اس تسنیم کی مزید تشریح کی جا رہی ہے کہ اس چشمہ کا پانی جس چیز میں ملایا جائے گا اس کا مزہ اور ٹیسٹ (Taste) بہت بڑھ جائے گا بلا شبہ وہ شراب بھی اعلیٰ درجہ کی شراب ہوگی جس کا رنگ سفید ، جو ہر میل سے پاک اور نہایت صاف اور شفاف اور چمکدار اور نہروں میں عام طور پر ہوگی بلکہ مخصو ص ایک چشمہ میں ہوگی وہاں سے بلوریں برتنوں میں بھرنے کے بعد ان برتنوں کو سر بمہر (Seal) کردیا جائے گا اور سر بمہر کی جائے گی تو وہ خالص عنبر اور کستوری سے سر بمہر ہوں گے پھر جب ان میں تسنیم کا شریں پانی ملایا جائے گا تو یہ ہر ایک کو پینا کہاں نصیب ہوگا وہ تو خاص خاص مقربین ہی کو پلایا جائے گا جو مخصوص لوگ ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کے ہاں بھی درجات ہوں گے اور اونچے درجات کے لوگوں کا وہاں بھی کھانا پینا دوسروں سے الگ اور بالا ہی ہوگا ، کیوں ؟ اس لیے کہ اعمال کے لحاظ سے جو بلند پایہ تھے ان کا امتیاز بہر حال وہاں بھی بلند ہی ہوگا اور یہ معیار رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے قائم کیا گیا ہے اور وہاں کا ادنیٰ درجہ بھی یہاں کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ والے سے بہت بلند ہوگا کیونکہ یہاں کے بڑے بڑے بلند مرتبہ والوں کو بھی کبھی کبھی نچلے طبقہ کے لوگوں سے مطلب نکل آتا ہے اور وہ چھوٹے گھروں کے دروازوں تک پہنچتے ہیں خواہ وہ بات وقتی ہوتی ہے لیکن وہاں اس طرح کی اونچ نیچ نہیں ہوگی ، کھانے پینے اور مقام کی بلندی بہر حال درجہ کے لحاظ سے ارفع و اعلیٰ درجے والے لوگ بھی ہوں گے اور کمتر درجہ والے بھی ہوں گے۔ زیر نظر آیت اس بات کی شہادت دے رہی ہے اور علاوہ ازیں آیات بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔
Ayah 83:29بلا شبہ جو لوگ گناہ تھے وہ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے
29 ؎ اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ معقول اور نا معقول کا سب سیکھنے کے لیے بعض باتوں پر غور و کرلیا جائے تو بات بالکل صاف ہوجاتی ہے وہ اس طرح کہ دنیوی زندگی میں گناہ گار ، فاسق ، اچکے اور لفنگے لوگ جب ایمانداروں کو جو مال و دولت کی فروانی میں نہیں ہیں اور دنیا کی عزت اور مرتبہ ان کے پاس نہیں ہے وہ ایسے غریبوں کو جب دیکھتے ہیں تو ان کو ہنسی آجاتی ہے ، کیوں ؟ اس لیے ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ یہ غریب لوگ جن کے پاس آج بھی دو وقت کی روٹی مہیا نہیں ہے کیا یہ لوگ اہل جنت میں شامل ہوں گے پھر تو کیا ہی اہل جنت ہوں گے کہ ” منہ نہ متھا اور جن پہاڑوں لتھا “ یہ لوگ کیسے اہل جنت کا نام سن کر پھولے نہیں سماتے ، کیا ان غریبوں کو جنت دی جائے گی جن کو اٹھنے بیٹھنے ، بات کرنے اور سننے تک کا طریقہ اور سلیقہ نہیں ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ گدھے کے گلے میں لعل باندھے کی بات ہے ۔ تعجب ہے ہم پر کہ ہم کبھی ایسی بات کریں ۔ یہ لوگ دنیا میں جب اہل جنت کی کہانی سنتے ہیں اور ان کے انعام و کرام کی بات کہتے ہیں تو ان کو دیکھ کر ان کو خواہ مخواہ ہنسی آجاتی ہے اور ان کی دل آزادی کرنے لگتے ہیں اور جی بھر کر ان پر پھبتیاں کستے ہیں اور ان کے ناموں کو بگاڑکر بلاتے ہیں اور دل لگیاں کرتے ہیں ، ہاں جی صاحب تم جتنی صاحب ہو تم کو سرٹیفکیٹ دے کر بھیجا جا رہا ہے ، کیا تم وہاں داخلہ کی جرأت کرلو گے ، کیا وہاں کا خدا کوئی اور خدا ہوگا ؟ اس طرح کی مزاقیہ باتیں کریں گے۔