83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

پارہ نمبر ٣٠، عم، سورة نمبر ٨٣، المطففین۔ تعارف : اس سورة میں آخرت پر یقین، حقوق العباد میں احتیاط، اچھے اور برے لوگوں کا انجام، اہل ایمان کی کامیابی اور کفار و مشرکین کی حقیقی ناکامی کو بیان کرکے کہا گیا ہے کہ ہر شخص کے اعمال کا مکمل ریکارڈ اللہ کے ہاں محفوظ ہے جس کی نگرانی پر اللہ کے فرشتے مقرر ہیں۔ نیک لوگوں کی روحین علیین میں اور بدکاروں کی روحین اور اعمال نامے سجین میں محفوظ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اہل ایمان کا مذاق نہ اڑائیں۔ ان تمام باتوں کو اس سورة میں بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ فرمایا لین دین میں کمی کرنے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔ جب وہ لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ماپ کردیتے ہیں تو گھٹا کردیتے ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ ایک بہت بڑا دن آنے والا ہے جب ہر ایک کو اللہ رب العالمین کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ان نافرمانوں کے اعمال کا مکمل ریکارد سجین میں موجود ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ سجین کیا ہے ؟ فرمایا کہ یہ ایک لکھی ہوئی کتاب ( زندگی بھر کا ریکارڈ) ہے۔ یقینا ان لوگوں کے لئے بڑی تباہی ہے جو اس کو اور قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو سرکش، بدعمل اور گناہ گار ہے جب اس کے سامنے ہماری آیتوں کو پڑھا جاتا ہے تو وہ اس کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے قصے اور کہانیاں ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے اصل میں ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن اس طرح کے لوگ اللہ کے دیدار تک سے محروم رہیں گے ( جو سب سے بڑی بدنصیبی ہے) اور ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم جھٹلاتے تھے یہ وہی چیز ہے۔ فرمایا کہ اس کے برخلاف وہ لوگ جو نیک اور پرہیزگار ہیں ان کا نامہ اعمال ” علیین “ میں ہوگا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ ” علیین “ کیا ہے ؟ جواب عنایت فرمایا کہ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے ( جس میں سب کچھ لکھا ہوا ہے) جس کی نگرانی اللہ کے مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ بلا شبہ جو لوگ علیین میں ہوں گے وہ پورے عیش و آرام میں ہوں گے۔ اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارہ کر رہے ہوں گے۔ ان کے چہرے خوشی سے چمک دمک رہے ہوں گے۔ ان کو ایس نفیسن ترین شراب پلائی جائے گی جو سر بند ہوگی اور اس پر مشک کی مہر لگی ہوگی۔ جو لوگ اس کے مشتاق ہیں انہیں اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس شراب میں تسنیم (کے پانی کی) آمیزش ہوگی۔ یہ تسنیم وہ چشمہ ہے جس کے پانی کو اللہ کے مقرب بند ہی پئیں گے۔ فرمایا کہ یہ کفار مجرمین جب مسلمانوں کے پاس سے گزرتے تھے تو مذاق اڑانے کیلئے آنکھوں سے اشارتے کرتے تھے اور جب وہ اپنے گھروں کو لوٹتے تو خوب اتراتے اور اکڑتے جاتے (جیسے انہوں نے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو) جب وہ مومنوں کو دیکھتے تو کہتے تھے کہ اصل میں یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کو یہ کہنے کا حق نہ تھا کیونکہ ان کو اللہ نے ان پر کوئی نگراں بنا کر تو نہیں رکھا تھا۔ قیامت کے دن یہ اہل ایمان شاہانہ انداز سے اونچی مسندوں پر بیٹھے کفار کے برے حالات کو دیکھ کر ان پر ہنس رہے ہوں گے۔ اس طرح ان کافروں کی حرکتوں کا پورا پورا بدلہ مل کر رہے گا۔

Ayahs 83:1–36

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ماپ تول میں کمی کرنے والون کے لئے تباہی ہے۔

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

(ان کا یہ حال ہے کہ) جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پیمانہ بھر کرلیتے ہیں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو پیمانہ سے ماپ کردیتے ہیں تولتے ہیں تو کم کردیتے ہیں

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے کہ وہ زندہ کرکے اٹھائیں جائیں گے

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک بڑے دن کے لیے

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

جو بہت بدکردار لوگوں کا نامہ اعمال سجین ) (تنگ و تاریک مقام) میں ہوگا۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تمہیں معلوم ہے کہ سجین کیا ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

وہ صاف صاف لکھا ہوا نامہ اعمال ہے۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے۔

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو انصاف کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے۔

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو تو وہی جھٹلا سکتا ہے جو حد سے بڑھ جانے والا گناہ گار ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے۔

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بیشک وہلوگ اس دن اپنے پروردگار کے دیدار سے روک دئیے جائیں گے (محروم رہیں گے) ۔

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر بیشک یہ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

ہر گز ایسا نہیں ہے۔ بیشک جو نیک لوگ ہیں ان کا نامہ اعمال ” علیین “ میں ہوگا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور کیا آپ کو معلوم ہے ” علییون “ کیا ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

وہ لکھا ہوا یک صاف دفتر ہے۔

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

اللہ کے فرشتے اس کی نگراتی کرتے ہیں

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک جو نیک لوگ ہیں وہ (جنت میں) آرام سے ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

مسہریوں پر بیھے نظارہ کر رہے ہوں گے۔

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

ان کے چہروں پر (خوشی و مسرت اور) راحتوں کی تازگی ہوگی۔

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو خالص مشک کی لگی ہوئی مہر والی شراب پلائی جائے گی

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

اور رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس نفیس شراب کی خواہش کریں

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اس شراب میں تسنیم (جنت) کے پانی کی آمیزش ہوگی۔

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

یہ تسنیم ایک چشمہ ہے جس سے مقربین بارگاہ پئیں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

بیشک مجرم) گناہ گار، کفار دنیا میں) ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب وہ ایمان والے ( ان کے پاس سے) گزرتے تو آنکھوں سے اشارے کیا کرتے تھے۔

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب وہ اپنے گھروالوں کی طرف لوٹتے تو وہاں بھی ان کے تذکرہ کا مزہ لیتے تھے۔

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب کافر ان کو دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ ان کافروں کو مسلمانوں پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

پھر اس (قیامت کے دن) اہل ایمان کفار پر ہنستے ہوں گے۔

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

اونچے تخت اور مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

واقعی کافروں کو ان کے کئے کو خوب بدل ملا۔

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی کرنے والے۔ ثوب۔ بدلہ دیا گیا۔ تشریح : تطفیف کے معنی ماپ تول میں چوری چھپے کمی کرنا ہے۔ لیکن مطفف ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کے حق میں کمی کرتا ہے اللہ کا حق ہو یا بندوں کا۔ ہر طرح کی تطفیف ناجائز ہے۔ بندوں پر اللہ کا ٰیہ حق ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت و بندگی نہ کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ ہر معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کریں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج کے آداب، احکامات اور فرائض کو پوری طرح ادا کریں اور اس نے جیسا حکم دیا ہے اس کام کو اسی طرح ادا کریں۔ بندوں کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ معاملات زندگی، لین دین اور تجارت میں احکامات الٰہی کے مطابق عمل کریں اور کسی کو کسی طرح کی کمی کا احساس نہ ہونے دیں کیونکہ جس معاشرہ میں اللہ کے ساتھ شرک اور ماپ تول میں کمی کی جاتی ہے وہ معاشرہ باہمی اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور زندگی کے تمام معاملات ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آجاتے ہیں جو اپنی ذاتی مفادات کے لئے پوری قوم کے اخلاق و کرار کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کفر وشرک جتنا بڑا جرم ہے۔ تجارتی بد دیانتی، لوٹ کھسوٹ، دھوکہ دہی اور بےایمانی بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جس کی سزا اس قوم کی مکمل تباہی اور بربادی ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم بہت خوش حال تھی ان کی پاس مال و دولت اور وسائل کی کمی نہ تھی مگر ان میں دو ایسی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں جن کی وجہ سے اس قوم پر اللہ نے عذاب نازل کیا۔ ایک تو کفرو شرک اور دوسرے ماپ تول میں کمی یعنی تجارتی بددیانتی، حضرت شعیب (علیہ السلام) جن کو ” خطیب الانبیائ “ کہا جاتا ہے انہوں نے اپنے پر جوش خطبات سے اپنی قوم کو ہر طرح سمجھایا۔ انہیں کفرو و شرک اور ماپ تول میں کمی سے بچنے کی ترغیب دی مگر پوری قوم نے ساتھ دینے کے بجائے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو طرح طرح سے تایا اور ان کو دھمکیاں تک دیں مگر حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو برابر سمجھاتے رہے جب یہ قوم اپنے کفرو شرک اور تجارتی لوٹ کھسوٹ اور ماپ تول میں کمی سے باز نہ آئی، تو آخر کار اس قوم پر اللہ کا فیصلہ آگیا اور اور وہ پوری قوم تباہی سے دو چار ہوگئی۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر ماپ تول میں کمی کو انتہائی قابل نفرت اور حرام فعل قرار دیا گیا ہے۔ فرمایا ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ وزن کرو اور تولنے میں دوسروں کو نقصان نہ پہنچائو ( سورة الرحمن) جب ناپوتو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تولو (بنی اسرائیل) ۔ انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو) ( الانعام) ۔ نبی کریم ﷺ نے بی ماپ تول میں کمی کرنے کو ایسی نحوست قرار دیا ہے جس سے انسانوں کا رزو رک جاتا ہے اور قحط پڑجاتا ہے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو قوم ماپ تول میں کمی کرتی ہے وہ قوم قحط جیسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ دوسری حدیث میں ارشاد گرامی ہے جو قوم ماپ تول میں کمی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کے رزق کا سلسلہ ختم کردیتے ہیں (قرطبی ) یعنی ہر نعمت سامنے موجودہوتی ہے مگر آدمی ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ اس نعمت سے پورا فائدہ حاصل کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ماپ تول میں کمی سے معاشرہ میں کئی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور اس معاشرہ میں دھوکا، فریب، لالچ، چوری ، ڈاکہ اور رشوت عام ہوجاتی ہے جس سے پورے معاشرہ کا سکون تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ماپ تول میں کمی کو حرام قرار دیا ہے۔ عربوں میں ماپ تول اور لین دین کے دو طریقے رائج تھے، وزنی اور کیلی۔ جن چیزوں کا لین دین تول کر کیا جاتا تھا اس کو وزنی کہتے تھے اور جن چیزوں کی خریدو فروخت کسی پیمانے (برتن) سے کی جاتی اس کو کیلی کہا جاتا تھا۔ کسی نے تو وزن کرنے کے دو طرح کے بٹے (پتھر کے ٹکڑے) بنا رکھے تھے۔ لینے کے اور دینے کے اور۔ اسی طرح دو طرح کے پیمانے (برتن ) بنا رکھے تھے جس سے دیتے وقت کم ناپتے اور لیتے وقت پورا لیتے تھے۔ شریعت نے اس عادت کو ناجائز اور حرام قرا ردیا ہے جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے دور میں ترقی یافتہ اور نیم ترقی یافتہ ملکوں میں ماپ تول کے آلات بہت مختلف بنا دئیے گئے ہیں۔ اس کے لئے بڑی بڑی مشینوں کے ذریعہ چیزوں کو ماپا اور تولا جاتا ہے۔ اس میں کوئی بےایمان کا بظاہر امکان نہیں ہوتا لیکن ہوشیار اور چالاک لوگوں نے ان مشینوں میں بھی بہت سے ایسے طریقے اختیار کر رکھے ہیں کہ گاہک کو پتہ ہی نہیں چلتا اور وہ بڑی چالاکی سے آنکھوں میں دھول جھونک کر ماپ تول میں کمی کردیتے ہیں۔ شریعت اسلامیہ نے ایسے تمام طریقوں سے بڑی سختی کے ساتھ منع کیا ہے جن سے لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں۔ اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے کہ وہ وقتی نفع کمانے کے لئے اپنی آکرت کو برباد نہ کریں اور اپنے معاشرہ کو تجاریت بددیانتیوں سے پاک کرنے کی ہر ممکن کوشش کرت رہیں۔ الحمد اللہ اہل ایمان نے ہمیشہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جس طرح ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہے اسی طرح کچھ لوگ لالچ اور ذاتی مفاد میں اسلامی تعلیمات کو بھلا کر ماپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ اس موقع پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے دین کی سچی تعلیمات ہوتیں تو وہ کبھی اس بددیانتی کا مظاہرہ نہ کرتے۔ آخرت سے بےنیاز ہو کر چلنے وال ہی اس خرابی میں مبتلا ہوتے ہیں جو سراسر ان کا اپنا ذاتی فعل ہوتا ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بہرحال بےایمان کی تمام صورتیں اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک سخت ناپسندیدہ اور قابل ملامت ہیں۔ مکہ مکرمہ چونکہ ” وادی غیر زرع “ رہا ہے یعنی ایسی وادی جہاں زراعت نہیں ہوتی تھی ان کا گزر بسر تجارت اور لین دین پر تھا۔ جب کہ مدینہ کے تمام انصار عام طور پر زراعت پیشہ تھے یعنی کھیتی باڑی کرکے وہ اپنا پیٹ پالتے تھے۔ جب نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کرکے مدینہ منورہ پہنچے تو صورت حال یہ تھی کہ مدینہ منورہ کی پوری مارکیٹ پر یہودیوں کا قبضہ تھا وہ جس طرح چاہتے مارکیٹ کو اوپر نیچے کرتے رہتے تھے۔ انصار سیدھے سادھے مسلمان تھے وہ کھیتوں میں محنت کرتے تھے اور اپنے خون پسینے کی پیداوار کو جب مارکیٹ میں لا کر فروخت کرتے تو ان کو ان کی محنت کا پوراصلہ نہ ملتا تھا۔ ان کے لینے اور دینے کے پیمان الگ الگ تھے۔ جب مہاجرین مکہ نے مارکیٹ کی طرف رخ کیا اور اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیانت، امانت، اور انسانی ہمدردی کا معاملہ کیا تو وہ مارکیٹ پر چھاتے چلے گئے کیونکہ ان کو دنیا سے زیادہ اپنی آخرت کی فکر تھی اور یہ اصول کی بات ہے کہ جس آدمی کو اس بات کی فکر لگی رہتی ہے کہ اس سے کوئی ایسا کام نہ ہوجائے جس سے اس کی آکرت تباہ ہو کر رہے جائے تو اس کے ہر عمل میں دیانت و امانت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ لیکن جس کو اس بات کا یقین ہی نہ ہو کہ اس کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونا ہے اور اللہ کے سامنے حاضر ہو کر ایک ایک پائی اور ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہے تو وہ دنیا کمانے میں اس قدر مگن ہوجاتا ہے کہ اس کو دینات داری اور انسانیت سے زیادہ مال اکٹھا کرنے اور جمع کرنے کا شوق تسکین دیتا ہے۔ زیر مطالعہ سورت میں اللہ نے اسی اصولی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ جنہیں آخرت کی فکر نہیں ہے اور وہ تجارتی بددیانتیوں میں لگے رہتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے کرتوت کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ اللہ نے ہر شخص کے ساتھ دو ایسے فرشتوں کو مقرر کیا ہوا ہے جو اس کی ہر بات کو نوٹ کرتے چلے جارہے ہیں۔ جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تو فرشتے کافرو مشرک اور گناہ گار کی روح کو سجین تک پہنچا دیتے ہیں اور اس کا نامہ اعمال بھی اسی دفتر میں محفوظ کردیا جاتا ہے۔ روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ سجین زمین کے نیچے ساتویں طبقے میں واقع ہے۔ اور جو لوگ دیانت و امانت اور حسن عمل کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں ان کی روح کو علیین میں پہنچ دیا جاتا ہے جو کہ عرش الٰہی کے نیچے ساتویں آسمان کے اوپر واقع ہے اسی میں میں ان کے نامہ اعمال کو محفوظ کردیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن وہ لوگ جنہوں نے تقوی، پرہیز گاری، دیانت اور امانت کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی ان کے چہرے خوشی اور مسرت سے تروتازہ ہوں گے ان کی مہمان نوازی ایسی شراب سے کی جائے گی جو مہر لگی ہوئی اور تسنیم جو جنت کی ایک نہر ہے اس کے پانی کی آمیزش ہوگی۔ وہ شاہانہ انداز سے خوبصورت اونچے تخت اور مسہریون پر بیٹھے بہترین، لذیر اور اعلیٰ ترین شراب پی رہے ہوں گے جس کی تمنا ہر دل میں ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔ لیکن وہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے، اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور اللہ کی آیات کے متعلق کہ کہتے تھے کہ یہ تو پرانے زمانے کے قصے ہیں جو نجانے ہم کب سے سنتے آرہے ہیں۔ جب اہل ایمان سچائیوں پر چلتے ہوئے ہر طرح کے گناہوں سے دور رہ رکر اپنی عاقبت کی فکر میں دنیا کے وقتی فائدوں کو ٹھکرا دیتے تھے تو وہ کفار ان ایمان والوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور آنکھوں سے اشارے کرکے ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ گھر میں جاتے تو وہاں بھی ان اہل ایمان کا ذکر مذاق اڑانے کے ادانز میں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اصل میں یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ قیامت کے دن ان کفار کو جب جہنم میں داخل کیا جائے گا تو اس وقت وہ پچھتائین گے اور شرمندگی کا اظہار کریں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ دنیا میں جس طرح کفار اہل ایمان کا مذاق اڑاتے تھے قیامت میں اس کے بالکل برعکس معاملہ ہوجائے گا اور وہ یہ کہ ان کفار کی حالت دیکھ کر اب اہل ایمان ان کا مذاق اڑائیں گے۔