83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 83:1–17

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لئے خرابی ہے

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو کم دیں

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

(یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

سن رکھو کہ بدکاروں کے اعمال سجین میں ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تم کیا جانتے ہو کہ سجین کیا چیز ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

(یعنی) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا انکے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے

وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔ حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ کر دوسرے کو دینا۔ ایک روایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خمس بخمس کہ پانچ گناہوں کی سزا پانچ مصیبتوں کی شکل میں انسان پر واقع ہوتی ہیں جو شخص عہد شکنی کرتا ہے خدا اس پر اس کے دشمن مسلط کردیتا ہے جو اللہ کا قانون چھوڑ کر دوسرے قانون پر فیصلے کرتے ہیں ان میں فقر و احتیاج آجاتا ہے اور جس قوم میں بےحیائی اور زنا عام ہوجائے تو اس پر طاعون اور ایسے ہی دوسرے وبائی امراض مسلط ہوجاتے ہیں اور جو ناپ تول میں کمی کریں ان پر قحط واقع ہوتا ہے اور جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔ (قرطبی) اور ایک روایت میں ہے کہ جس قوم میں مال غنیمت میں خیانت اور چوری ہونے لگے اللہ تعالیٰ اس کا رعب دشمنوں کے دل سے نکال دیتا ہے اور خود دشمنوں کا ڈر انکے دلوں میں ڈال دیتا ہے (ملاحظہ کریں تفسیر مظہری) (ربط) ماقبل سورتوں میں وعید وتنبیہ تھی عقائد کی خرابی اور گمراہی پر اور اس کی بنیاد ایمان باللہ اور فکر آخرت کے وصف سے محرومی پر ہوتی ہے تو اب اس سورت میں ایمان بالاخرۃ نہ ہونے کے ثمرات میں سے معاملات کی خرابی اور لین دین میں خیانت اور دھوکہ کا ذکر کیا جارہا ہے تو ارشاد فرمایا۔ ہلاکت و بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جو گھٹانے والے ہیں یہ لوگ وہ ہیں جب ناپ کرلیں لوگوں سے تو پورا پورا بھرلیں اور جب ناپ کردیں دوسروں کو یا تول کردیں تو گھٹا کردیتے ہیں اگرچہ اپنا حق کسی سے پورا وصول کرلینا کوئی مذموم بات نہیں لیکن یہ بدترین خصلت ہے کہ اپنا حق وصول کرنے میں تو ذرہ برابر رعایت وچشم پوشی نہ کریں لیکن دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں خیانت وکوتاہی کریں، یقیناً انسان اس حرکت پر صرف اس وجہ سے آمادہ ہوتا ہے کہ اس کو آخرت اور آخرت میں محاسبہ اور بدلہ کا کوئی خیال نہیں کیا یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہیں اس بات کا کہ وہ اٹھائے جائیں گے، ایک بہت بڑے دن کے واسطے جہاں ایک ایک ذرہ کا حساب دینا ہوگا۔ وہ دن ایسا ہوگا کہ لوگ کھڑے ہوں گے رب العالمین کے سامنے۔ حاشیہ (یوم یقوم الناس لرب العلمین “۔ کی تفسیر میں عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے فرمایا میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا آپ نے ارشاد فرمایا قیامت کے روز لوگوں کی جب رب العالمین کے سامنے پیشی ہوگی تو سورج سروں کے قریب ایک میل کے بقدر ہوگا اور شدت کرب سے پسینہ بہتا ہوگا کسی کے گھنٹوں تک ہوگا کسی کے اس سے اوپر اور کوئی اپنے پسینہ میں منہ تک ڈوبا ہوا ہوگا۔ اور ہر ایک بےچینی وبیقراری کے عالم میں منتظر ہوگا کہ اس کی پیشی کا کیا انجام ہوتا ہے اور حساب و کتاب کے بعد اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے، خبردار ! انسان کو ہرگز دھوکہ میں نہ پڑنا، چاہئے محاسبہ ہونا ہے اور فیصلہ کے بعد بس یہی ہے کہ بیشک بدکاروں کا اعمال نامہ سجین میں ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے سجین۔ 2 حاشیہ 2 (بعض سلف سے منقول ہے کہ یہ مقام ساتویں زمین کے نیچے ہے جو اسفل السافلین کا مصداق اتم ہوگا، سجن کے معنی اصل میں قید خانہ کے ہیں یہ کافروں کی ارواح کا قید خانہ ہے، اکثر احادیث اور صحابہ وتابعین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کا ایک طبقہ ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، ارواح مومنین علیین اور ملاء اعلی میں چلی جاتی ہیں تو اس کے برعکس فساق وفجار کی ارواح سجین میں ہوں گی جو تنگ و تاریک مقام ہے اور وہاں رنج وغم اور کرب و اضطراب کے سوا کچھ نہیں آگ کی لپٹیں اور سانپ بچھو ڈستے ہوں گے۔ ابن ماجہ نے بروایت ابوہریرہ ؓ ایک حدیث بیان کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب نیک اور ایماندار شخص کی روح قبض ہونے والی ہوتی ہے تو رحمت کے فرشتے جن پر اللہ کا نور برستا ہوا ہوتا ہے آکر بیٹھ جاتے ہیں اور بڑی ہی نرمی سے روح کو خطاب کرتے ہیں نکل چل خدا کی رحمت ومغفرت وباغ و بہار اور عیش و راحت کی طرف تو فورا ہی وہ روح نشاط و فرحت کے ساتھ نکل کر ان کے ساتھ عالم بالا کی طرف چلی جاتی ہے جہاں ملائکہ ہوتے ہیں اور جس طرح سے وہ روح گذرتی ہے اس کی مہک اور خوشبو اس جگہ کو معطر کردیتی ہے تو فرشتے کہتے ہیں یہ کون معطر اور روش روح ہے، تو بڑی تعظیم سے اس کا نام بتا دیا جاتا ہے، برخلاف فاسق و کافر کی روح کے کہ بڑی ہی سختی اور ذلت سے نکالی جاتی ہے اور جہاں سے بھی اس کا گذر ہوتا ہے فرشتے اس کی بدبو اور گندگی سے تکلیف محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ کس قدر خبیث اور گندی روح ہے تو پھر اس کو سجین میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کی تشریح (آیت) ” لاتفتح لھم ابواب السمآء “ کے تحت گذر چکی۔ ) وہ ایک لکھا ہو افیصلہ ہے جو جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں مجرمین کے لئے عذاب ومصائب اور دہکتی ہوئی آگ کا طبقہ ہے یا وہ دفتر ہے جہاں ان مجرمین کے لیئے عذاب ومصائب اور دہکتی ہوئی آگ کا طبقہ ہے یا وہ دفتر ہے جہاں ان مجرمین کے نام لکھ کر حوالہ کردیئے جائیں گے، ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جو انکار کرتے تھے ہمارے انصاف کے دن کا اور ہرچند دلائل کے باوجود وہ روز محشر اور قیامت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور ظاہر ہے کہ اس روز انصاف کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو بڑا ہی سرکش حد سے بڑھ جانے والا گناہگار ہے جس کی حالت یہ ہے کہ جب بھی اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ تو نقل کئے ہوئے قصے ہیں پہلے لوگوں کے ان کے حقائق ومعارف اور دلائل و شواہد کو تسلیم کرنے کی بجائے ان کو گذرے ہوئے افسانے اور واقعات کہہ کر ٹلا دیتا ہے خبردار ہرگز ایسا نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے ان اعمال کی وجہ سے جو وہ کرتے ہیں اس وجہ سے قلب کا ادراک ماؤف ہوگیا اور وہ صلاحیت کھوبیٹھے ہیں کہ ان حقائق کو سمجھیں، خبردار یہی لوگ ہیں وہ جو اپنے رب سے پردہ میں رکھے جائیں گے ان کو کبھی حق تعالیٰ کا دیدار نہ ہوسکے گا اور بارگاہ رحمت سے ان کو دور ہی روک دیا جائے گا پھر یہ دوزخ میں گرنے والے ہوں گے اور جہنم میں جھونک دینے کے ساتھ پھر ان کو یہ کہا جائیگا دیکھ لو یہی ہے وہ جس کا تم انکار کرتے تھے اور اس کو جھٹلاتے تھے اب تم اپنے اعمال کی بدولت اسی جہنم میں جھونکے جارہے ہو اور تم اس حقیقت پر یقین کرنے کے لئے مجبور ہو جس کی تکذیب کرتے رہے اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے رہے۔ معاملات میں عدل و انصاف اور امانت : مادی زندگی اور دنیا کی حرص و لالچ میں مبتلا ہونے والا انسان اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے کہ جس شکل سے بھی ممکن ہو کچھ مالی منفعت حاصل کرلے اور اس مرض کے باعث نہ وہ کسی پر ظلم وتعدہی سے گریز کرتا ہے نہ عزت وآبرو کا لحاظ زندگی کے ہر مرحلہ پر وہ خیانت اور جھوٹ ہی کے ذریعہ اپنا یہ ناپاک مقصد حاصل کرتا رہتا ہے، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تجارتی امور اور لین دین میں یہی روشن اختیار کئے ہوئے تھی، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب نصیحت کی اور فرمایا۔ (آیت) ” ویقوم اوفوالمکیال والمیزان بالقسط ولا تبخسوا الناس اشیآء ھم ولا تعثوا فی الارض مفسدین “۔ تو بدنصیب قوم نے جواب دیا۔ (آیت) ” یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک مایعبد ابآؤنا اوان نفعل فی اموالنا مانشؤا۔ “۔ جیسے کہ تفصیل سے گذر چکا۔ مگر دنیا کی محبت میں غرق ہونے والے انسان کو آخرت کی گرفت اور دنیا کے عذاب سے بےفکر نہ ہونا چاہئے۔
Ayahs 83:18–36

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم علیین کیا چیز ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ چین میں ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کرلو گے

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو خالص شراب سربمہر پلائی جائے گی

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جس کی مہر مشک کی ہوگی۔ تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقرب پئیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

جو گنہگار (یعنی کافر) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب انکے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بیجھے گئے تھے

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

(اور) تختوں پر (بیٹھے ہوئے انکا حال) دیکھ رہے ہوں گے

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

تو کافروں کو ان کے عملوں کا (پورا پورا) بدلا مل گیا

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر اور طے شدہ بلند وعظیم مقام ہے، جس کی عظمت کا یہ مقام ہے کہ مقرب فرشتے اس کو دیکھتے ہیں بڑی ہی عزت واحترام کی نظر سے اور اس کے گرد حاضر ہوتے ہیں جو ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور اللہ رب العزت نے مقربین کی ارواح کے لئے اسی کو مستقر بنایا ہے، بیشک نیک لوگ بڑی ہی نعمتوں اور راحتوں میں ہوں گے اپنی مسندوں پر بیٹھے دیکھتے ہوں گے، نہایت ہی فرحت و سرور کے ساتھ تمام مناظر اور راحتوں میں ہوں گے اپنے مسندوں پر بیٹھے دیکھتے ہوں گے، نہایت ہی فرحت و سرور کے ساتھ تمام مناظر بہشت اور رب العالمین کا بھی دیدار کرتے ہوں گے جب بھی اہل بہشت کو دیدار خداوندی سے نوازا جاتا ہوگا، اے دیکھنے والے جب تو ان کو دیکھے تو جان لے گا آرام وراحتوں کی تازگی اور شادابی ان کے چہروں میں، ان کے چہروں پر مسرت و اطمینان کی شادابی نمایاں ہوگی ان کو پلایا جاتا ہوگا خالص شراب طہور سے جو سربمہر ہوگی جس پر کسی طرح کا گردوغبار اور ہوا کا بھی اثر نہ ہوگا، جس کی مہر مشک ہوگی یہ ہیں وہ نعمتیں اور راحتیں جو علیین میں نیکو کار لوگوں کو حاصل ہوں گی۔ اور حقیقت یہی ہے بس ایسی ہی چیز میں رغبت کرنے والوں کو رغبت اور ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لئے مسابقت کرنی چاہئے، دنیا کی شراب کی لذت و راحت اس قابل نہیں کہ اس کے لئے حرص اور منافت ومسابقت کی جائے اور اس میں آمیزش ہوگی تسنیم۔ 1 حاشیہ 1 (حضرت شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں، شراب کی نہریں تو ہر کسی کے محل میں بہتی ہوں گی لیکن یہ شراب طہور نہایت خاص اور نادر قسم کی ہوگی جو مشک کی مہروں سے بند کی ہوگی۔ 12) سے جو بلندی۔ 2 حاشیہ 2 (یہ تفسیر روایت عکرمہ ؓ کے پیش نظر ہے عبداللہ بن عباس ؓ اور حسن بصری (رح) سے منقول ہے بیان فرماتے تھے اسکی حقیقت بجز پروردگار کے کوئی نہیں جانتا وہ ایک نہایت بےبہا اور قیمتی چیز ہے جس کی نسبت حق سبحانہ تعالیٰ کا اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کس قدر قیمتی ہوگی جو رحیق مختوم میں ملا کر عام اہل جنت کو پلائی جاتی ہوگی۔ 12) سے نیچے کی طرح گرتا ہوا ایک چشمہ ہوگا جس کی لذت وخوشبو اور لطافت احاطہ تصور سے بالا ہے، جسے مقربین کے لیے ہوگا اور اس چشمہ سے ملا کر ان تمام ابرار اور نیکو کار جنتیوں کو پلاتے ہوں گے جن کے واسطے شراب طہور رحیق مختوم ہوگی، یہ تو حال ہے اہل ایمان کا جو بہشت کی نعمتوں اور راحتوں میں ہونگے اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ان کو ایمان وتقوی اور دنیوی لذتوں اور نفس کی خواہشات سے صبر کرنے کی وجہ سے ملا مگر ان کے بالمقابل جن کی زندگی کا مقصد دنیوی عیش و عشرت اور نفس کی خواہشات اور لذتیں ہی رہیں تو ایسے لوگ خدا کے مجرم ونافرمان ہوئے اور بیشک یہ لوگ جو مجرم ہیں جنہوں نے دنیا میں جرم اور نافرمانی کی ایمان والوں سے ہنسی کیا کرتے تھے اور بڑی حقارت سے ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور جب ان پر سے گذرتے تو آنکھوں سے اشارے کرتے تحقیر وتذلیل کے لیے، اور اس طرح اپنی آنکھوں اور جھوؤں کے اشارے سے اہل ایمان پر طعن وتشنیع کرتے اور ان کی ظاہری شکستہ حالی پر اپنی دولت و ثروت کے زعم میں مذاق اڑاتے۔ 3 حاشیہ 3 (یہی وہ چیز ہے جو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی، الا اخبرکم باھل الجنۃ کل ضعیف متضعف لواقسم علی اللہ لابرہ، الااخبر کم باھل النار کل عتل جو اظ متکبر (رواۂ البخاری ومسلم) اور جب اپنے گھر لوٹتے تو خوب ہنستے ہوئے قہق ہے لگاتے، اور جب ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو بڑے ہی گمراہ بیوقوف ہیں کہ دنیا کے مزے چھوڑ کر قیامت کی باتیں کررہے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ مجرمین کی یہ تمام باتیں احمقانہ تھیں اور کمینہ پن جس کا عقلا کوئی جواز نہ تھا اور نہ کوئی شریف انسان ایسی بیہودہ باتوں کو گوارا کرسکتا ہے اور یہ لوگ ان ایمان والوں پر کوئی محافظ بن کر تو نہیں بھیجے گئے تھے کہ یہ ان کے داروغہ ہوں اور ان پر اپنی فواجداری جتلائیں بہرحال دنیا میں یہ مجرم جو کچھ ذلیل حرکتیں کریں وہ کرلیں لیکن آج کے دن تو ایمان والے کافروں کا مذاق اڑائیں گے، اور اس طرح اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوں گے اور نجات و کامیابی، بہشت کی نعمتوں اور راحتوں پر مسرور ہورہے ہوں گے، اور تمام مناظر سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے، تو یہ ہوگا اعزازواکرام ایمان والوں کا جن پر یہ کافر ہنستے تھے اور مذاق اڑا کر ان کی تحقیر کرتے تھے اور کہیں گے، کیا بدلہ پالیا ہے، منکروں نے اپنے کاموں کا۔ فائدہ : 1 (آیت) ” کلا بل ران “ کی تفسیر میں ابن کثیر (رح) نے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے بیان کیا آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے، مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے اگر اس نے توبہ کرلی اور استغفار کی تو وہ نقطہ زائل ہوجاتا ہے اور اس کا قلب صیقل ہوجاتا ہے، اور اگر غافل رہا تو وہ سیاہ نقطہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے حتی کہ پورے قلب پر احاطہ کرلیتا ہے اور یہی وہ ” ران “ ہے جس کا اللہ رب العزت نے (آیت) ” کلا بل ران علی قلوبھم “۔ میں ذکر فرمایا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو فرمائی گئی۔ ہر گناہ زنگے است برمراۃ دل : دل شود زیں زنگہاخواروخجل : فائدہ : 2 (آیت) ” کلا انہم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “۔ کی تفسیر میں امام شافعی (رح) سے منقول ہے فرمایا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اہل ایمان دیدار خداوندی سے نوازے جائیں گے جیسا کہ (آیت) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ “ میں فرمایا گیا اور کافروں کو دیدار خداوندی سے محرومی کی دھمکی اس بات کی علامت ہے کہ قیامت کے روز کافر بھی حق تعالیٰ کے دیدار کے مشتاق و متمنی ہوں گے اور دنیا میں چونکہ مادی غفلتوں کے حجاب دل پر قائم تھے اس وجہ سے دنیا کی زندگی میں خدا کا کوئی تعلق اور اس کی کوئی محبت محسوس نہ ہوتی تھی، اب جب کہ قیامت کے دن مادیت کے سارے حجاب دور ہوجائیں گے تو کافر بھی اسی طرح دیدار خداوندی کا طالب ومشتاق ہوگا جس طرح کہ مومن کو اس شوق کے عالم میں دیدار خداوندی سے محروم رکھنا اس پر بڑی حسرت اور تکلیف کا باعث ہوگا تو اس بنا پر بطور دھمکی فرمادیا گیا، (آیت) ” کلا انہم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “۔ اللھم ارزقنا رؤیتک فی جنت النعیم واجعلنا من الذین وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ۔ آمین یا رب العلمین “۔ (تم بحمد اللہ العزیز سورة التطفیف)