84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 84:1–25

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا فرمان بجالائے گا اور اسے واجب بھی یہی ہے

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین ہموار کردی جائے گی

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر باہر کر دے گی اور (بالکل) خالی ہوجائے گی

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے ارشاد کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی ہے (تو قیامت قائم ہوجائے گی)

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

تو جس کا نامہ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

اس سے حساب آسان لیا جائے گا

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھروالوں میں خوش خوش آئے گا

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کا نامہ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا .

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

وہ موت کو پکارے گا

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور دوزخ میں داخل ہوگا

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

یہ اپنے اہل و عیال میں مست رہتا تھا

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

ہاں ہاں اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

ہمیں شام کی سرخی کی قسم

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کرلیتی ہے ان کی

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب کامل ہوجائے

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہ اعلی پر) چڑھو گے

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکے لئے بےانتہا اجر ہے

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا شقاوت وہلاکت ؟ یہ اس کی صلاحیت فہم اور عقل و فطرت کے تقاضے پورے کرنے یا ان کو نظر انداز کرنے پر موقوف ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا۔ اور جب کہ آسمان پھٹ جائے اور کان لگالے وہ اپنے رب کے حکم کی طرف اور اس کے لئے بھی حق ہے کہ وہ اپنے رب کا حکم سنے اور اسی لائق ہے کہ بایں عظمت و رفعت اپنے مالک و خالق کے سامنے گردن ڈال دے اور اس کی فرماں برداری میں ذرہ برابر بھی چوں وچرا نہ کرے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس حکم تکوینی اور قیامت برپا ہونے کی شدت وہیبت سے شق ہوجائے اور جب کہ زمین پھیلا دی جائے گی عمارتیں پہاڑ سب پارہ پارہ ہو کر زمین کھلے میدان کی طرح نظر آنے لگی نہ کوئی غار باقی رہے اور نہ پہاڑ نہ عمارتیں اور درخت اور زمین ایک سطح مستوی بن جائے یا جس طرح ربڑ کو کھینچا جارہا ہو اسی طرح اس کو پھیلا دیا جائے کہ کوئی حجاب وحائل ہی باقی نہ رہے تو ایسی وسیع اور ہموار زمین پر سب کا حشر ہوگا۔ اور اس وقت نکال پھینک دے ہر وہ چیز جو اس کے اندر ہے خواہ وہ خزائن ومعاون ہوں یا زمین میں دفن شدہ مردے اور ان کی ہڈیاں اور جسم کے اجزاء ہوں اور ان سب سے وہ خالی ہوجائے، اور کان لگالے اپنے رب کے حکم کی طرف اور اس کے لئے یہی لائق ہے کہ وہ اپنے رب کا حکم سنے اور اس کو مانے تو بس اس وقت اے دیکھنے والے تو دیکھے گا کہ نظام عالم درہم برہم ہوچکے گا زمین و آسمان ہی پر سارا عالم قائم ہے جب وہی شق ہوجائے اور زمین پر قائم آبادیاں پہاڑ درخت انسان سب ختم ہوجائیں، اور زمین اپنے اندر کے خزانے ومردے اگل دے تو یہی وہ وقت ہوگا کہ ہر انسان اپنے رب کے سامنے حاضر کیا جائے گا اور زندگی کے تمام اعمال کا حساب ہوگا، اس لیے اے انسان تو سمجھ لے اس حقیقت کو کہ تو محنت ومشقت اٹھا رہا ہے عملی جدوجہد کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف جاتے ہوئے کہ زندگی کا یہ سفر ہر انسان مسلسل طے کررہا ہے اور اس کی زندگی کا ہر لمحہ اس کو قبر اور آخرت کے قریب کررہا ہے، زندگی کی یہ منزلیں طے کرتے کرتے اے انسان بہرحال تجھے اپنے رب تک پہنچنا ہے اور اس کے سامنے تجھے حاضری دینی ہے انسانی زندگی میں یہ عملی جدوجہد ہر ایک کی اپنی اپنی استعداد وصلاحیت کے مطابق ہوتی ہے کوئی اپنے رب کی اطاعت وفرمانبرداری میں محنت ومشقت اٹھاتا ہے تو کوئی بدی اور نافرمانی میں اپنی جان کھپاتا ہے اسی طرح زندگی کی یہ منزلیں ہر انسان طے کرتے ہوئے آخرت اپنے پروردگار سے ملے گا کیونکر موت کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا اور پھر اعمال کے نتائج سے دور چار ہونا ہی پڑے گا تو جس کسی کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا تو بس یہ تو وہ شخص ہوگا جس کا حساب نہایت ہی آسان لیاجائے گا اور اس کے بعد یہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹے گا نہایت ہی خوش ہوتے ہوئے اپنی کامیابی اور نجات پر اور ان انعامات خداوندی کو دیکھ کر جو اس کو عطا کئے جائیں گے، اب نہ تو سزا کا خوف رہے گا اور نہ کسی چیز کا غم وغصہ بڑے ہی اطمینان و سکون سے اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ رہا ہوگا اپنے احباب و اقارب اور مسلمان بھائیوں کے ساتھ خوشیاں مناتا ہوگا اس کا حساب تو بس نامہ اعمال اور کاغذات کی پیشی ہوگی اور بدون کسی بحث و مباحثہ اور مناقشہ در گذر اور معاف کیا جاتا ہوگا۔ اور جس کسی کو اس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے پکڑایا جائے یعنی فرشتے سامنے سے اس کی صورت بھی دیکھنا گوارا نہ کرتے ہوں گے اور اس طرح اس کے نامہ اعمال پشت کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں دے دیئے جائیں گے تو بیشک وہ پکارے گا موت اور ہلاکت کو اور یہی چاہے گا کہ بجائے اس آنے والے عذاب کے مجھے موت ہلاک اور فنا کردے تو اچھا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کی یہ آرزو پوری نہ ہوگی اور وہ داخل ہوگا ایک دہکتی ہوئی آگ میں دنیا کی زندگی میں تو اس کو خیال تک نہ تھا کہ اس طرح میدان حشر میں پیشی ہونی ہے اور اعمال کی جزاء وسزا کا مرحلہ آئے گا اس وجہ سے وہ بیشک اپنے گھر اور گھر والوں میں بڑا ہی خوش وخرم رہا کرتا تھا اس نے تو یہ خیال کر رکھا تھا اور دل میں یہی عقیدہ قائم کئے ہوئے تھا کہ وہ واپس اپنے رب کی طرف نہیں لوٹے گا، اور اب اس منکرو کافر کو نظر آجائے گا کہ اس کے یہ خیالات لغو اور بیہودہ تھے، بہرکیف ہر انسان کو بلاشبہ اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے، بیشک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا ہے جس کی نظر سے اس کا کوئی عمل اور کوئی حال کسی بھی زمان ومکان میں مخفی نہیں رہ سکتا۔ پیدائش سے موت تک کا ہر ہر مرحلہ اس کی نگاہوں کے سامنے ہے کہ بدن کسی چیز سے بنا روح کہاں سے آئی اس کے قلب میں اعتقاد کیا تھا زبان سے کیا کیا کرتا تھا، ہاتھ پاؤں سے کیا کمایا اور پیٹ میں کھانے اور پینے کی چیزیں کیا کیا بھریں اور کس طرح بدن سے روح نکل گئی تو بدن بھی اس کی نگاہوں میں ہے، دیکھ رہا ہے اس کے اجزاء کہاں کہاں منتشر اور بکھر گئے تو جو پروردگار اول سے آخر تک ہر مرحلہ کو دیکھ رہا ہے اور ہر چیز کا خالق اور ہر ایک بات پر قدرت رکھتا ہے بھلا اس کے محاسبہ سے اور گرفت سے کون بچ سکتا ہے نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اس کو اسی طرح عبث اور معطل چھوڑ دیا جائے اور اسکے اعمال کی جزاء وسزا کچھ نہ ہو ہر گز نہیں پس میں قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی اور رات کی اور ہر اس چیز کی جو رات کے اندھیرے میں سمٹ آئے اور چاند کی جب وہ پورا بھرجائے۔ یعنی چودھویں رات کا چاند جب اپنے کمال کو پہنچا ہوا ہو۔ اس آیت میں حق تعالیٰ شانہ نے شفق کی قسم کھا کر انسانی افکار کو لیل ونہار کے تغیرات کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اس کو دیکھ کر اپنی دنیوی زندگی کی حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے ، اکثر حضرات محدثین اور ائمہ لغت شفق کی تفسیر میں غروب کے بعد آسمان پر باقی رہنے والی سرخی بیان کرتے ہیں خطابی (رح) نے اسی کو اختیار کیا اہل لغت سے یہ بھی منقول ہے کہ آسمان پر پھیلنے والی یہ سرخی خواہ وہ بعد غروب شمس ہو یا قبل از طلوع دونوں کو شفق کہا جائے گا، خلیل بن احمد (رح) سے جو کہ لغت عربیہ کے امام ہیں یہی نقل کیا گیا۔ مصنف عبدالرزاق (رح) میں ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت میں یہ نقل ہے کہ انہوں نے فرمایا الشفق ھو البیاض، امام راغب (رح) سے یہ منقول ہے فرمایا شفق دن کی روشنی کا رات کی تاریکی کے ساتھ مخلوط ہونے کا نام ہے۔ شیخ حلبی (رح) نے شرح منیہ میں لکھا ہے شفق آسمان کے کنارہ پر باقی رہنے والی سفیدی کو کہا جاتا ہے جو سرخی کے دور ہونے کے بعد ہو، امام ابوحنفیہ (رح) اسی کے قائل ہیں اور اسی بناء پر ان کے نزدیک عشاء کا وقت شفق ابیض کے غائب ہونیکے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس کی تائیدان روایات سے ہوتی ہے جن میں لفظ ” حتی یغیب الافق “۔ آتا ہے اور ظاہر ہے غیبوبت سفیدی کے ختم ہونے کے بعد ہوسکتی ہے اس کی مزید تائید مجاہد (رح) کی اس روایت سے ہوتی ہے اور فرمایا کہ (آیت) ” والیل وما وسق “۔ میں رات کی تاریکی کا بیان ہے تو اس طرح اللہ رب العزت نے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی کو جمع کردیا۔ (کذا فی تفسیر ابن کثیر وفتح لملہم جلد ثانی) تو اے انسانو ! غروب آفتاب کے بعد سرخی اور آسمان پر اس کے اثرات پھر رات کی تاریکی اور اس کی تاریکی میں سمیٹ جانے والی مخلوقات وکائنات پھر چاند کا ہلال کی شکل میں طلوع ہونے کے بعد اپنے حد کمال تک پہنچ جانا ! عالم کے یہ انقلابات اور قدرت خداوندی کی یہ عظیم نشانیاں تم کو یہ بات بتارہی ہیں کہ یقیناً ضرور بالضرور تم کو چڑھنا ہے سیڑھی پر سیڑھی اور درجہ بدرجہ مختلف احوال اور ادوار سے تم کو گذرنا ہے اور اسی طرح تدریجی مراحل طے کرتے کرتے عمر کے اختتام کو پہنچنا ہے اور زندگی کی تمام آسائشیں لذتیں اور متاع دنیا کی چمک دمک زندگی کی افق میں اسی طرح ڈوب جائیں گی جیسا کہ سورج اپنی تمام آب وتاب سے طلو ع ہو کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے پھر ڈھلنے لگتا ہے اور پھر افق کی تاریکیوں میں چھپ کر آسمان پر ایک ہیبت ناک سرخی لے آتا ہے اور تمام فضاء پر تاریکی محیط ہوجاتی ہے اسی میں چودھویں رات کا چاند کرۂ ارضی پر نور کی چادر بچھا دیتا ہے یہ سب دلائل قدرت انسانی ہدایت کے لئے کافی ہیں اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ ان مشاہدات کے بعد لوگ ایمان لے آئیں لیکن افسوس پھر بھی ان کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور خدا کی باتوں پر یقین نہیں کرتے اگر عقلی اور فطری صلاحیتوں سے محروم ہوچکے تھے تو چاہئے تھا کہ وحی الہی کی طرف رجوع کرتے، قرآن کریم کو پڑھتے اور اس کے حقائق و دلائل سے فائدہ اٹھاتے اور ان حقائق کے سامنے سرنگوں ہوتے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اور جب ان پر قرآن پڑھا جائے تو باوجود اس کے اعجاز اور واضح دلائل وحقائق کے سجدہ نہیں کرتے سرنگوں تو کیا ہوتے اور قرآن پر ایمان کیا لاتے بلکہ یہ لوگ جو منکر ہوچکے وہ ان حقائق و دلائل کو جھٹلاتے ہیں اور بلادلیل اپنی ضد وعناد اور سرکشی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کیا ان کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ ان کا رب ان کی یہ تمام باتیں دیکھ رہا ہے اور بلاشبہ اللہ تو وہ بھی جانتا ہے جو وہ اپنے اندر بھرے ہوئے ہیں، دلوں میں جو بغض وعناد اور دشمنی بھری ہوئی ہے خداوند عالم اسے بھی خوب جانتا ہے اس طرح ظاہری احوال کے ساتھ جب باطنی کیفیات اور دل میں چھپا ہوا خبث بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے تو بس اے ہمارے پیغمبر ان کو بشارت سنا دیجئے ایک درد ناک عذاب کی جو ان پر بہرحال مسلط ہو کر رہے گا اور اس وقت انکو اپنی وہ آرزوئیں اور تمام خوشیاں خاک میں ملتی ہوئی نظرآجائیں گی جن کی وہ آس لگائے ہوئے تھے۔ بہرکیف یہی انجام ہے ایسے شخص کا جو دلائل فطرت کو نہ سمجھے شواہد قدرت کو نہ مانے اور اپنے رب کی نافرمانی اور سرکشی میں اپنی زندگی گذار دے لیکن جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں تو یقیناً ان کے واسطے ایسا اجر وثواب ہے جو کبھی منقطع ہونے والا نہیں، ایسی نعمتیں جو کبھی کسی انسان کی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی فرد بشر کے تصور میں گذریں۔ احکام الہیہ کی قسمیں : قرآن کریم کی آیات اور احادیث ونصوص شریعت سے یہ امر ثابت ہے کہ احکام الہیہ کی دو قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک احکام تشریعہ ہیں جو وحی الہی سے مشروع اور مقرر ہوتے ہیں ان کا خطاب ذوی العقول کو ہوتا ہے خواہ وہ انسان ہوں یا جن، ان احکام کے جن وانس مخاطب اور مکلف ہوتے ہیں ان میں اوامر الہیہ، حلال و حرام، جائز وناجائز، عبادت اور عبادات سے متعلقہ احکام ہوتے ہیں جو مجموعہ شریعت اور دین ہے ان احکام کی اطاعت وفرماں برداری ایمان وطاعت ہے اور ان سے انحراف و انکار فسق وفجور اور نافرمانی اور کفر ہے، اسی وجہ سے حق تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ (آیت) ” ھو الذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن “۔ ان احکام میں مخاطب کو اختیار ہوتا ہے اور اسی اختیار کی بنیادپر احکام جزاء وسزا مرتب ہوتے ہیں۔ احکام الہیہ کی دوسری قسم تکوینی ہے جو اللہ کی تمام مخلوق اور ساری کائنات پر جاری ہوتے ہیں، ان میں مخاطب کا مکلف اور ذی عقل ہونا شرط نہیں وہ اللہ کے تقدیر ہی امور ہیں وہ کائنات میں جس طرح ارادہ ہو جاری ہوتے ہیں لیل ونہار کا اختلاف، شمس وقمر کا طلوع، نور وظلمت، ہواؤں کا چلنا اور بارشوں کا برسنا، انسان وحیوان اور نباتات کی پیدائش اور نشوونما جیسے امور ہیں، ظاہر ہے کہ ایسے اوامر اور احکام میں نہ تو مخاطب کا اختیار ضروری ہے اور نہ اس کا صاحب عقل و شعور ہونا، ہر مخلوق اللہ کا حکم قدرت خداوندی سے سنتی ہے اور وہ اس کی مطیع وفرماں بردار ہے اور اس کا صاحب عقل و شعور ہونا، ہر مخلوق اللہ کا حکم قدرت خداوندی سے سنتی ہے اور وہ اس کی مطیع و فرمان بردار ہے اور اس کا امکان نہیں کہ کوئی مخلوق اس کی خلاف ورزی کرسکے اسی پر یہ مضمون متفرع ہے جو اس آیت مبارکہ میں ارشاد فرمایا گیا۔ (آیت) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا، ذلک رب العلمین، وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھآ اقواتھا فی اربعۃ ایام، سوآء للسائلین، ثم استوای الی السمآء وھی دخان فقال لھا ولارض ائتیا طوعا او کرھا، قالتا اتینا طآئعین “۔ تو ہر ذرہ اس حکم خداوندی کو سنتا ہے اور مجبور ہے اس حکم کی اطاعت پر، اسی بناء پر یہاں فرمایا گیا۔ (آیت) ” واذنت لربھا وحقت “۔ آیت سجدہ : سورة انشقاق میں سجدہ تلاوت کا ثبوت احادیث صحیحہ سے ہے، امام مسلم (رح) اور نسائی (رح) نے یزید بن ابی سلمہ ؓ کی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ان کے سامنے سورة (آیت) ” اذا السمآء انشقت “ تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سجدہ فرمایا تھا، اور ایک روایت میں ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے یہ کہا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تھی اور آپ نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔ (تفسیر ابن کیثر ج 4) لہذا میں بھی ہمیشہ اس میں سجدہ کیا کروں گا، اس سے ظاہر ہوا کہ اس سورت میں سجدہ ہے اور بحالت نماز میں تلاوت کی گئی اور سجدہ فرمایا گیا، یہی مسلک حضرات حنفیہ کا ہے، مالکیہ مفصلات میں سجدہ تلاوت کے قائل نہیں ہیں۔ حساب یسیر “ کی تفسیر میں یہ منقول ہے کہ ام المؤمین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا، من نوقش فقد ھلک “ یعنی جس کسی کے حساب میں مناقشہ ہوا تو بس وہ ہلاک ہوگا، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا (آیت) ” فسوف یحاسب حسابایسیرا “ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ؓ یہ تو سرسری پیشی ہے لیکن جس کسی کے حساب میں جانچ پڑتال اور مناقشہ ہوگا تو عذاب وہلاکت سے نہ بچ سکے گا۔ اور ایک روایت میں یہ مضمون ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی تھیں کہ آنحضرت ﷺ کو میں نے ایک روز نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا، اللہم حاسبنی حسابایسیرا “۔ نماز سے فارغ ہو کر جب لوٹے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ حساب یسیر کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ؓ حساب یسیریہ ہے کہ بندہ کے نامہ اعمال پر بس نظر دالی جائے اور اس سے درگذر کرتے ہوئے معاف فرمایا جاتا رہے، اے عائشہ ؓ جس کسی کے حساب کا وہاں مناقشہ ہوا تو بس وہ تو ہلاک ہوجائے گا۔ اللہم حاسبنا حسابا یسیرا بفضلک وکرمک واتنا کتابنا فی ایماننا انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا یا ارحم الرحمین، یا اکرم الاکرمنین ویا اجود الا جو دین۔ امین یا رب العلمین امین یا رب العلمین۔ 1 حاشیہ 1۔ (تفسیر ہذا کا مطالعہ فرمانے والے ہر صاحب سے ناچیز کی درخواست ہے کہ اس گنہگا رکے لیے یہ دعا فرما دیں کہ اللہ رب العزت اپنے فضل وکرم سے درگزر فرماتے ہوئے حساب یسیر لئے اور نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں عطا فرما دے، خداوند عالم میرے ان کرم فرماؤں کو اپنی بےپایاں عنایات اور رحمتوں سے سرفراز فرمائے، امین۔ جزاھم اللہ تعالیٰ خیرا الجزاء ویرحم اللہ عبدا، قال امینا۔ تم بحمد اللہ تفسیر سورة الانشقاق۔