85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 85:1–9

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

آسمان کی قسم جس میں برج ہیں

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کر دئیے گئے

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

(یعنی) آگ (کی خندقیں) جس کا ایندھن (جھونک رکھا) تھا

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جبکہ وہ ان (کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

وہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

تنبیہ وتہدید برسرتابی انسان از طاعت خداوندی وتاکید استقامت بر ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء ذات البروج ...... الی ........ واللہ علی کل شیء شھید “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کا ذکر تھا اور یہ کہ خداوند عالم جب عالم پر قیامت برپا فرمانے کا ارادہ کرے گا تو آسمان شق کردیا جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے غرض نظام عالم سب ہی درہم برہم ہوجائے گا، اب اس سورت میں حق تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی نافرمانی اور اطاعت خداوندی سے سرتابی پر وعید اور تنبیہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار کرنی چاہئے اور راہ حق میں استقامت کے لئے ہر قربانی اور ہر مشقت کے اٹھانے کے لئے تیار ہوجانا چاہئے اس راہ میں صبر و استقامت ہی اصل منزل فلاح وسعادت تک پہنچانے والی چیز ہے، ارشاد فرمایا۔ قسم ہے آسمان کی جو برجوں والا ہے۔ حاشیہ (بروج سے بعض مفسرین ستارے مراد لیتے ہیں جیسے (آیت) ” تبارک الذی جعل فی السمآء بروجا “۔ کی تفسیر میں گذر چکا ابن عباس ؓ قتادہ (رح) اور مجاہد (رح) سے یہی منقول ہے، بعض کی رائے یہ ہے کہ یہ وہ بارہ برج ہیں جن کی مسافت آفتاب ایک سال میں طے کرتا ہے اور بعض یہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے وہ حصے ہیں جہاں فرشتوں کا پہرہ رہتا ہے۔ 12) اور قسم ہے اس دن کی جو حاضر ہوتا ہے اور اس دن کی جس کے پاس حاضر ہوتے ہیں، تو یہ عظمتیں خالق کائنات کی رب السموت والارض کی ان عظمتوں اور شواہد کو دیکھنے والوں کو چاہئے کہ اس رب العالمین پر ایمان لائیں بیشک اس کی عظمت وخالقیت برحق ہے اور اس کی وحدانیت پر ساری کائنات گواہ ہے لہذا اس کی نافرمانی بڑی ہی ہلاکت و بربادی ہے، ایسا کرنے والا خواہ کوئی فرد یا جماعت ہو، قوم ہو یا خاندان وقبیلہ اسی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے آگ کی خندقیں کھودنے والے ایسی آگ جو دہکنے والی تھی جس کے شعلے خندقوں سے ابل کر بلند ہورہے تھے جب کہ وہ ان پر بیٹھے ہوئے تھے تاکہ خدا پر ایمان لانے والوں میں سے کسی کو بچ کر نہ جانے دیں اور ہر ایک کو ظلم وتعدی سے مجبور وبے بس بنا کر آگ کی ان خندقوں میں جھونکنے میں مصروف تھے اور وہ جو کچھ ایمان والوں کے ساتھ کررہے تھے اس کو اپنی آنکھوں سے خوب دیکھ رہے تھے شقاوت وبدبختی کی انتہاء تھی کہ یہ انسان سوز مظالم جن کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں دل اس ہولناکی سے پارہ پارہ ہوجائے یہ بدبخت بڑے اطمینان سے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے تھے۔ ان کو ایمان والوں سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی تھی کہ اس کے انتقام میں ایسا کرتے، بجز اس کے کہ وہ ایمان لاچکے تھے اس اللہ پر جو بڑی عزت والا ہر حال میں قابل تعریف ہے، کائنات کی ہر چیز جس کی حمد وثناء کرتی ہے، اور ہر زمان ومکان اور ہر حال اس کو خوبی وتعریف کا پیکر ہے جس کی شان حاکمیت یہ ہے اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور اللہ تو ہر چیز پر خوب مطلع ہے اس کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، تو اس خدائے برتر وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لانے والوں نے ان بدبختوں کو نہ تو ستایا تھا اور نہ کوئی قصور کیا تھا بس ان کا جرم ان نافرمانوں بدبختوں کے نزدیک یہی تھا کہ وہ اس خداوند عالم پر ایمان لائے جس کے قبضہ قدرت میں ساری کائنات اور تمام عالم کا نظام ہے ظاہر ہے کہ یہ ظلم وستم خالی نہیں جاسکتا تھا، عزیز ذوانتقام کی طرف سے اس پر انتقام اور سزا لازم تھی، انہوں نے تو ایمان والوں کے لئے ان خندقوں کو کھودا اور اس میں آگ دہکائی تھی لیکن جوں ہی اللہ کا غضب آیا۔ حاشیہ (شیخ الاسلام حضرت علامہ عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں کہ اس کی وضاحت حضرت شاہ صاحب (رح) نے کی، اگرچہ روایات میں اس کا ذکر نہیں۔ ) وہی آگ خود ان پر پھیل گئی اور اس شعلے برسانے والی آگ نے ان امیروں اور بادشاہوں کے گھر پھونک دیئے اور دم کے دم میں مجرمین کی وہ بستی جل کر خاک ہوگئی تو جس طرح تاریخ قدیم کی یہ مجرم قوم ایمان والوں کو ستا کر قہر خداوندی سے نہ بچ سکی اس طرح یہ منکرین ومجرمین جو مکی زندگی میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کو ستا رہے ہیں، غضب خداوندی کے شعلوں اور اس کے قہر کی آگ سے ہرگز ہرگز نہ بچ سکیں گے۔ یوم موعود اور شاہد ومشہود کی تفسیر : اکثر روایات و احادیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شاہد سے جمعہ کا دن مراد ہے اور مشہود عرفہ کا دن ہے اور یوم موعود قیامت کا دن ہے، یوم موعود یعنی وہ دن جس کا وعدہ کیا گیا ظاہر ہے کہ وہ قیامت ہے جیسا کہ (آیت) ” ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین “ میں یہ وعدہ کیا گیا اور اسی طرح ارشاد فرمایا گیا (آیت) ” اللہ لاالہ الا ھو لیجمعنکم الی یوم القیمۃ لاریب فیہ “۔ تو اس مضمون کی جملہ آیات جن میں قیامت واقع ہونے کا وعدہ کیا گیا وہ اس امر کی دلیل ہیں کہ الیوم الموعود قیامت کا دن ہے، اگرچہ بعض حضرات سے قیامت کا دن یوم مشہود بیان کیا گیا اس بناء پر کہ اس روز میدان حشر میں سب کی حاضری ہوگی۔ ابومالک الاشعری ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے تھے الیوم الموعود قیامت کا دن ہے اور شاہد جمعہ اور مشہود عرفہ ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک اور تفسیر کی گئی فرمایا شاہد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولآء شھید ا “۔ اس لحاظ سے کہ آنحضرت ﷺ ہر امت کے پیغمبر کے حق میں گواہی دیں گے کہ بیشک اللہ کے پیغمبر نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور حق رسالت ادا کردیا ہے اور شاہد لغت میں گواہی دینے والے کو کہا جاتا ہے، اور فرمایا مشہود قیامت کا دن ہے اور فرمایا یہ اس آیت سے سمجھ میں آتا ہے۔ (آیت) ” ذلک یوم مجموع لہ الناس وذلک یوم مشھود “۔ حضرت ابوالدرداء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اکثرو من الصلوۃ یوم الجمعۃ فانہ یوم مشھود تشھد الملئکۃ، کہ مجھ پر جمعہ کے روز کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ یہ دن یوم مشہود ہے جس میں فرشتوں کی (بکثرت) حاضری ہوتی ہے تو ان مواقع میں لغوی منعی کے لحاظ سے قیامت اور جمعہ پر مشہود کا اطلاق وارد ہوا ہے، جمہور مفسرین اسی کو اختیاری فرماتے ہیں، جو حدیث ابوہریہ ؓ میں وضاحت فرمائی گئی کہ یوم موعود قیامت کا دن ہے اور شاہد جمعہ اور مشہود عرفہ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، قرطبی، روح المعانی) (واللہ اعلم بالصواب) اصحاب الاخدود یعنی آگ کی خندقین کھودنے والوں کا قصہ : اکثر محدثین اور ائمہ مفسرین نے اصحاب الاخدود کا قصہ احادیث مرفوعہ سے بیان کیا ہے، امام ترمذی (رح) اس سورة کی تفسیر میں باسناد عبدالرحمن بن ابی، (رح) صہیب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ (اکثر) نماز عصر کے بعد آہستہ آہستہ کچھ پڑھنے اور ہونٹوں کو حرکت دیتے (جس سے محسوس ہوتا کہ آپ ﷺ کچھ پڑھ رہے ہیں) ، تو آپ ﷺ سے عرض سے کیا گیا آپ نماز عصر سے فارغ ہو کر کیا کہتے پھرتے ہیں تو آپ نے اس کا جواب میں فرمایا، انبیاء، (سابقین) میں ایک نبی تھے ان کو اپنی امت پر فخر ہوا اور خوشی ہوئی، اور کہا کہ ان کے مقابلہ کی کون تاب لاسکتا ہے، اور کون ہے جو ان کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوفورا ہی اللہ کی وحی آئی اور اس اعجاب پر بطور گرفت فرمایا گیا، اے پیغمبر اپنی قوم کو اختیار دے دو کہ ان دو باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرلیں یا تو میں ان سے انتقام لے لوں یا ان پر ان کا دشمن مسلط کردوں تو انہوں نے انتقام ونقمت کو اختیار کرلیا تھا جس پر ایک ہی دن میں اس امت کے ستر ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے تو آنحضرت ﷺ نے اس قصہ کے ساتھ ایک اور قصہ بھی سنایا۔ فرمایا پہلے زمانے میں کوئی کافر بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک ساحر یعنی جادوگر تھا جو بادشاہ کا بہت مقرب تھا جب اس کی موت کا وقت قریب ہوا تو اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ مجھے ایک نہایت ہونہار اور ہشیار لڑکا دیا جائے تاکہ میں اس کو اپنا یہ علم سکھا دوں اور میرے مرنے کے بعد یہ علم باقی رہے، چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روازنہ ساحر کے پاس جاکر اس کا علم سیکھتا تھا، راستہ میں ایک عیسائی راہب بھی (اس زمانہ میں سماوی مذہب عیسائیت تھا اور اس وقت کے لحاظ سے وہ دین حق پر تھا) لڑکا اس کے پاس بھی آنے جانے لگا اور خفیہ طور پر راہب کے ہاتھ پر ایمان لے آیا اور اس کے فیض صحبت سے ولایت و کرامت کے مقام تک پہنچ گیا، ایک روز لڑکے نے دیکھا کہ کسی بڑے جانور (شیر وغیرہ) نے راستہ روک رکھا ہے، جس سے لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر دعا کی، کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو اس پتھر سے اس جانور کو ہلاک کردے، یہ کہہ کر پتھر اس جانور پر پھینکا جس سے فوراہلاک ہوگیا، لوگوں میں بات مشہور ہوگئی اور شور مچ گیا کہ اس لڑکے کو تو عجیب علم آتا ہے کسی نابینا نے سن لیا تو اس نے آکر درخواست کی میری آنکھیں اچھی کردو لڑکے نے کہا اچھی کرنے والا میں نہیں اچھی کرنے والا وہ اللہ ہے جو یکتا ہے وحدہ لاشریک لہ ہے اگر تو اس پر ایمان لانے کا وعدہ کرتا ہے تو میں دعا کروں گا کہ وہ تجھے بینا کردے، چناچہ ایسا ہی ہوا، رفتہ رفتہ یہ خبریں بادشاہ کو پہنچیں اس نے برہم ہو کر حکم دیا کہ لڑکے کو مع راہب اور اندھے کے دربار میں حاضر کیا جائے کچھ گفتگو کے بعد راہب اور اندھے کو قتل کرڈالا اور لڑکے کے لئے حکم دیا کہ کسی اونچے پہاڑ پر لیجا کر اس کو وہاں سے گرا دو ، اور اس طرح یہ ہلاک ہوجائے، مگر خدا کی قدرت کہ جو لوگ اس کو لے کر گئے وہی سب ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح سالم چلا آیا اس پر بادشاہ کو اور زائد غصہ آیا اور حکم دیا کہ اس کو دریا میں غرق کردو وہاں بھی یہی ہوا کہ جو لوگ لے کر گئے تھے وہ خود ڈوب گئے اور اور لڑکا صحیح سالم نکل آیا، آخرلڑکے نے بادشاہ سے کہا تو اس طرح مجھے کبھی نہ مار سکے گا، میں خود ہی تجھے ایک ترکیب بتاتا ہوں اگر تو اختیار کرلے، وہ یہ ہے کہ تو سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرلے اور ان کے سامنے مجھے سولی پر لٹکا کر مجھے ایک تیر مار یہ کہہ کر بسم اللہ رب ھذا الغلام۔ اللہ کے نام سے جو رب ہے اس لڑکے کا، چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور یہ لڑکا اپنے رب کے نام پر قربان ہوگیا، یہ عجیب واقعہ دیکھنا ہی تھا ایک شور بپا ہوگیا اور مجمع میں سے ہر ایک کی زبان سے یہ نعرہ بلند ہوا۔ امنا برب ھذا الغلام۔ کہ ہم اس لڑکے کین رب پر ایمان لے آئے لوگوں نے بادشاہ سے کہا کہ اب تک تو اکا دکا کوئی ایمان لارہا تھا لیکن اس کی اس بات کے بعد اب یہ ساری مخلوق مسلمان ہوگئی بادشاہ نے غصہ میں آکر حکم دیا کہ بڑی بڑی خندقیں کھودی جائیں اور ان میں آگ بھردی جائے جو دہکتی ہو اور اس میں سے شعلے نکل رہے ہوں، اور اعلان کر دو جو شخص اس دین سے نہیں لوٹے گا اس کو ان خندقوں میں جھونکا جائے گا لوگوں کا یہ ایمان اور ایمان پر استقامت کا یہ عالم تھا کہ آگ میں جھونکے جارہے تھے لیکن اسلام سے نہیں ہٹتے تھے، اسی میں ایک عورت لائی گئی جس کے پاس اس کا دودھ پیتا بچہ تھا بظاہر وہ اپنے بچہ کی وجہ سے آگ میں گرنے سے گھبرائی، مگر بچہ نے خدا کے حکم سے آواز دی اور بولا۔ اماہ اصبری فانک علی الحق۔ کہ اے میری صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے یہ بدبخت بادشاہ اور اس کے وزراء ومصاحبین خندقوں کے پاس بیٹھے یہ منظر دیکھ رہے تھے، اسی کو حق تعالیٰ نے فرمایا، وھم علی ما یفعلون بال مومنین شھود “۔ ایک روایت میں ہے کہ اس بادشاہ نے جب نابینا سے پوچھا کہ تیری بینائی کس نے لوٹائی تو اس نے کہا میرے رب نے تو بادشاہ بولا یعنی میں نے، نابینا نے کہا نہیں، میرے رب نے اور اس رب نے جو تیرا رب ہے، بادشاہ کہنے لگا کیا میرے سوا بھی اور کوئی رب ہے نابینا نے جواب دیا ہاں میرا اور تیرا اور آسمان و زمین کا رب اللہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ بادشاہ دانیال تھا لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ بادشاہ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے قبل فترت نبوت کے زمانہ میں تھا۔ حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں محمد ابن اسحاق (رح) کی سند سے بیان کیا ہے کہ اہل نجران میں سے ایک شخص نے کسی ضرورت یا تعمیر کیلئے کسی جگہ کو کھودا تو اس میں سے عبداللہ بن تامر (رح) یعنی اس شہید کی لاش ملی اور وہ بالکل اسی حالت میں تھی جیسا کہ اسے ابھی دفن کیا گیا اور اس طرح کہ پٹھ پڑی پر ہاتھ رکھا ہوا تھا جب کہ اس کو تیر مارا گیا ہوگا اس نے اپنی پٹھ پڑی پر ہاتھ یا انگلی رکھ لی ہوگی، اس کا ہاتھ جب اس جگہ سے ہٹایا گیا تو تازہ خون زخم سے بہنے لگا، فورا ہاتھ اسی جگہ پر رکھ دیا گیا تو خون بند ہوگیا اس کی انگلی میں ایک انگوٹھی تھی جس پر لکھا ہوا تھا ” ربی اللہ “ یہ زمانہ حضرت عمر فاروق ؓ کا تھا ان کی خدمت میں یہ واقعہ لکھ کر بھیجا گیا تو عمر فاروق ؓ نے حکم دیا کہ اس لاش کو اسی جگہ دفنا دو اور جو کچھ انگوٹھی وغیرہ پائی گئی وہ بھی اس کے ساتھ رہنے دو ۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے اور بھی بعض تاریخی نقول ذکر کی ہیں اور خندقوں کی تفصیل پر بھی کلام کیا ہے، حضرات اہل علم تفسیر ابن کثیر کی مراجعت فرمالیں۔
Ayahs 85:10–22

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بیشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہے

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

وہ پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ (زندہ) کرے گا

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہ بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک بڑی شان والا

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

جو چاہتا ہے کردیتا ہے

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہوا ہے

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ثمود کا

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور خدا (بھی) ان کو گردا گرد سے گھیرے ہوئے ہے

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

(یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)

تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب خدا وندی سے ہرگز نہیں بچ سکتے، ارشاد فرمایا، بیشک جن لوگوں نے ستایا ہے مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو، پھر وہ تائب بھی نہ ہوئے جیسے کہ اصحاب الاخدود کے قصہ میں تاریخی نقول سے معلوم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں بہت سے مرد تھے اور بہت سی عورتیں تھیں، جن کو خندقوں کے کناروں پر کھڑا کرکے دہکتی آگ کی خندقوں میں جھونکا جارہا تھا تو یقیناً انکے واسطے دوزخ کا عذاب ہے، اور دنیا میں بھی ان کیلئے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب ہے۔ 1 حاشیہ (ان مصائب اور حوادث کی صورت میں جو ان پر قہر خداوندی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ 12) جس طرح کہ انہوں نے ایمان والوں کو ستایا تھا، لہذا جب تاریخ قدیم کے ایسے مجرم خدا کے عذاب اور اس کی سزا سے نہیں بچ سکے تو اسی طرح کفار مکہ کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ مسلمانوں کو ستانے اور ظلم وستم ڈھانے کا انجام دنیا اور آخرت میں ان کو بھگتنا ہی پڑے گا۔ 2 حاشیہ 2 (بعض روایات میں ہے کہ اس آیت کو تلاوت کرکے ابن عباس ؓ فرمانے لگے، ” یہ سزان مجرمین کی اس لئے ذکر فرمائی گئی تاکہ ان کی سزا ان کے عمل کے جنس سے ہوجائے، کیونکہ یہ اللہ کا قانون ہے عمل کا بدلہ عمل کے مشابہ ہوتا ہے “۔ حسن بصری (رح) سے منقول ہے فرمایا خدا کے اس جود وکرم کو دیکھو کہ جنہوں نے اولیاء اور اس کے محبوب بندوں کو قتل کیا، ان کو توبہ کی دعوت دی جا رہی ہے۔ 12) بہر کیف قانون مجازات کا یہی تقاضا ہے مگر اس کے برعکس یہ ہے کہ بیشک جو لوگ ایمان لائیں اور نیکی کے کام کریں ان کے واسطے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، بلاشبہ یہی بڑی عظیم الشان کامیابی ہے، بہر کیف خداوند عالم کے قہر و جلال اور انعام وکرم کی یہ دونوں شانیں دیکھ لیں تو اب سمجھ لینا چاہئے اے مخاطب بیشک تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہے۔ جس سے کوئی نہیں بچ سکتا، وہی ہر چیز کو ابتداء میں وجود عطا کرنے والا ہے اس کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے اور وہی اس کو لوٹانے والا بھی ہے، لہذا جس رب العالمین نے انسان اور تمام کائنات کو ابتداء میں وجود عطا کیا، وہی رب العالمین قیامت میں انسانوں کو دوبارہ اٹھائے جگا، وہ پروردگار تو اپنی شان رحیمی اور کریمی سے بڑی ہی مغفرت کرنے والا ہے، اپنے بندوں کو جو اپنی کسی غفلت وکوتاہی سے کوئی غلطی یا معصیت کرلیں جب بھی وہ اپنے گناہوں پر استغفار و توبہ کریں، بڑ اہی محبت کرنے والا ہے اپنے فرماں بردار اور مطیع بندوں سے۔ بڑی ہی عظمت والا عرش کا مالک ہے، اس کی قدرت وکبریائی کی کوئی حد ونہایت نہیں۔ ایسا قادر مطلق ہے کہ کر ڈالتا ہے ہر وہ کام جو چاہتا ہے، اس کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی، لا معقب لحکمہ۔ (اس کے فیصلہ کو کوئی ٹلا نہیں سکتا) چناچہ تاریخ عالم اس بات کی کھلی شہادت ہے، اور گذرے ہوئے واقعات عالم، خدا ندعالم کی شان عظمت، وکبریائی اور اس کے قادر مطلق ہونے کا پورا پورا ثبوت ہیں، تو کیا اے مخاطب تجھے لشکروں کی خبر پہنچی ہے، فرعون اور قوم ثمود کی ؟ ضرور پہنچی ہوگی، کیونکہ یہ واقعات عالم طور پر رب والوں کو بھی خوب معلوم تھے، اور ان کی خوب شہرت تھی، جو بڑے ہی طاقت ور لشکر تھے، مگر خداوند عالم نے اپنے قہر وغضب سے انکو ہلاک کر ڈالا اور دنیا کی کوئی مادی طاقت خدا کا عذاب نہ ٹال سکی چاہئے تو یہ تھا کہ کفار مکہ اور مشرکین عرب ان باتوں کو سن کر نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے اور کفر ونافرمانی سے تائب ہوجاتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا بلکہ یہ انکار کرنے والے کافر برابر اللہ کے پیغمبر کی باتیں جھٹلانے ہی میں لگے ہوئے ہیں اور حال یہ ہے کہ اللہ ! ان کا ہر طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہیں، وہ اللہ کے احاطہ اور گرفت سے بچ کر کہیں بھی نہیں جاسکتے نہ اس کے احاطہ علم سے باہر ہوسکتے ہیں نہ اس کے ملک سے نکل سکتے ہیں اور نہ اس کی قدرت اور گرفت سے چھوٹ سکتے ہیں اور وہ ہر طرح علما وملکا وقدرۃ ان کو محیط ہے۔ یہ تاریخی حقائق ہیں نہ یہ کہ محض افسانے اور کہانیاں جیسا کہ مشرکین مکہ عناد اور بغض کی وجہ سے کہتے ہیں بلکہ یہ تو بڑی ہی عظمت اور اونچی شان والا قرآن ہے جو وحی الہی ہے، لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں نہ کسی کی نظر پہنچ سکتی ہے اور نہ کسی معاند کا ہاتھ یہ وہ اس میں کوئی تبدیلی کرسکتا ہے، اور نہ کسی کو قدرت ہے کہ لوح محفوظ کی کوئی بات ٹلا سکے اور نہ ہی اس امر کا امکان ہے کہ وحی الہی کی کسی بات کو غلط کہہ سکے۔