Ayahs 86:1–17دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔
(ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر ریزہ ریزہ ہوچکا تھا اور مٹی میں مل کر خاک بن گیا تھا کیونکر وہ پھر زمین کی سطح پر رونما ہو کر تروتازہ اور شاداب نظرآنے لگا تو ارشاد فرمایا، قسم ہے آسمان کی اور رات کے اندھیرے میں نمودار ہونے والے طارق کی اور اے مخاطب جانتا بھی ہے کیا ہے طارق، وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے، بیشک نہیں ہے کوئی جان والا ایسا کہ اس پر ایک نگران نہ ہو بلکہ ہر ایک ذی روح انسان ہو یا دوسری کوئی مخلوق اس پر اللہ کی طرف سے محافظ مقرر ہیں، انسان کا کوئی قول وعمل ایسا نہیں کہ خدا کے مقرر کردہ نگران اس کو محفوظ نہ کرلیتے ہوں، پھر ہر انسان ان ہی محافظوں کے باعث عالم میں بکھری ہوئی آفات اور حوادث کے حملوں سے محفوظ رہتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” لہ معقبات من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ “۔ اور جوں ہی کوئی تکوینی مصیبت یا حادثہ پیش آنے والا ہوتا ہے، یہ غیبی حفاظت اس سے جدا ہونے ہی کی وجہ سے پیش آتا ہے، اور جس پروردگار نے آسمان پرستاروں کی حفاظت کے سامان بنائے اس کو کیا مشکل ہے کہ وہ ہر نفس کی حفاظت کا سامان بھی پیدا کردے، ظاہر ہے کہ ایسے رب قدیر اور علیم کی کسی بھی لمحہ انسان کو نافرمانی نہ کرنی چائیے اور یہ بات کبھی بھی فراموش نہ کرنی چاہئے کہ یہ انسان اپنی اس حیات کے بعد پھر دوبارہ قیامت کے روز اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے والا ہے لہذا اس انسان کو دیکھنا چاہئے اور غور وفکر کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ؟ وہ پیدا کیا گیا ہے ایک اچھلتے ہوئے پانی یعنی قطرہ منی سے جو نکلتا ہے پشت اور سینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے جیسا کہ بتایا جاتا ہے کہ مرد کی منی کا نصاب پیٹھ سے اور عورت کا سینہ سے یا یہ کہ اعضائے رئیسہ سے مادۂ منویہ کا تعلق ہے تو اس حیثیت سے سینہ اور پشت کی ہڈیوں سے نکلنا بیان کیا گیا تو جو ذات قادر مطلق اپنی قدرت و حکمت سے انسان کو ایک قطرہ سے پیدا کرنے پر قادر ہے، اور اس کی قدرت و حکمت سے کس طرح اس کے اعضاء کی ساخت ہوتی ہے، روح پڑتی ہے جو اس ومدرکات ناک، کان، آنکھیں اور ان میں بینائی پیدا ہوتی ہے، غرض جو ذات رب العالمین اپنی عظیم قدرت اور حکمت سے ان تمام باتوں پر قادر ہے، بیشک وہ ذات قادر مطلق اس انسان کو واپس لوٹانے پر بھی یقیناً قدرت رکھتا ہے، حالانکہ مرنیکے بعد دوبارہ زندہ کرنا اس قدر عجیب نہیں جتنا کہ ابتداء اس کو پیدا کرنا عجیب تر ہے اور ایک ایک چیز اور بدن کا ایک ایک حصہ اللہ رب العالمین کی قدرت و حکمت کا واضح ثبوت ہے، یہ مرنیکے بعد انسان کو لوٹایا جانا اس دن ہوگا جب کہ جانچے جائیں گے بھید، اور ہر قسم کے پوشیدہ راز پس اس دن اس انسان کے لئے نہ کوئی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مددگار ہوگا، جو ایسے سخت مرحلہ پر اس کی کوئی مدد کرسکے، جبکہ چھپے ہوئے بھید کھل رہے ہوں اور ہر قول وفعل کا حساب لیا جاتا ہوگا۔ حتی کہ جو باتیں دل میں چھپی ہوئی ہوں گی وہ بھی کھل جائیں گی اور قسم ہے اس آسمان کی جو لوٹنے والا ہے بار بار زمین پر بارش۔ 1
حاشیہ 1 (ذات الرجع کی یہ تفسیر عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے، اسی کے مطابق یہ ترجمہ کیا گیا کہ آسمان ذات الرجع اس لیے ہے کہ بار بار بارشیں برساتا ہے، قتادہ (رح) بیان کرتے ہیں آسمان اس وجہ سے ذات الرجع ہے کہ وہ بارش کے ذریعہ بار بار رزق پیدا کرتا ہے۔ ابن درید (رح) کہتے ہیں کہ اس وجہ سے ذات الرجع ہے کہ اس کے ستارے اور چاند سورج بار بار لوٹتے رہتے ہیں۔ )
برسانے کی صورت میں اور قسم ہے زمین کی جو شق ہونے والی ہے جب کہ اس میں تخم ڈال دیا جائے تو بعد اس کے شق ہونے پر سبزہ اور درختوں کا سلسلہ نشوونما شروع ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ بارش کا نظام اور بارشوں کے برسنے کے بعد غلوں اور سبزوں کا اگنا خداوند عالم کی کمال قدرت اور حکمت کے شواہد و دلائل ہیں جن کا ہر ایک انسان مشاہدہ کرتا ہے، بیشک یہ بات یا قرآن حکیم ایک فیصلہ کن قول ہے۔ 2
حاشیہ (میرے شیخ حضرت عثمانی (رح) نے فرمایا قسم اور جواب قسم کی ایک مناسبت یہ ہے کہ جس طرح بارش برس کر زمین کو حیات اور تازگی بخشتی ہے اسی طرح قیامت میں بھی کوئی غیبی بارش ایسی برسے گی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے، 12) (فوائد عثمانی)
جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور ہدایت وضلالت کی حدوں کو جدا جدا کرکے دکھاتا ہے، اور ہر طے شدہ امر کی خبر دیتا ہے، اور جس طرح آسمان سے بارشوں کے برسنے پر بنجز زمین زندہ ہوجاتی ہے، پھل پھول، کھیتیاں اور درخت اگتے ہیں اور زمین اس سے سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے اسی طرح آسمان سے اس وحی الہی کے نزول سے انسانوں کو زندگی سرسبز و شاداب ہوتی ہے اور انسانوں کے قلوب سے محاسن اعمال واخلاق اور معارف وحکم کے پھل پھول اگنے لگتے ہیں جس کے بعد حیات انسانی ایک شاداب باغ اور نافع وقیمتی پھولوں سے لدا خزانہ ہوجاتی ہے اور یہ کلام کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے اصولا اور عقلا چاہئے کہ لوگ اس پر ایمان لائیں اور اللہ کے رسول اور اس کے دین کی مخالفت ودشمنی سے باز آجائیں لیکن اس کے باوجود اگر وہ باز نہیں آتے اور اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تو اے ایمان والوں تم اس کی وجہ سے غمگین وپریشان نہ ہوؤ بس سن لو بیشک وہ لوگ تمہارے دین کے خلاف ایک داؤلگا رہے اور سازش ومکر میں لگے ہوئے ہیں تو میں بھی لگا ہوا ہوں ایک واؤ لگانے میں، اب ظاہر ہے کہ خدا کی تدبیر اور کے داؤ سے کون دشمن بچ سکتا ہے اور خدا کی تدبیر کے مقابلہ میں کس کا مکر اور سازش کامیاب ہوسکتی ہے رہا یہ امر کے یہ لوگ خوب غرا رہے ہیں اسلام کے خلاف اچھلنے کودتے پھر رہے ہیں نہ ان پر ابھی آسمان سے کوئی عذاب نازل ہورہا ہے اور نہ زمین انکو نگل رہی ہے تو بس اے مخاطب ڈھیل دے دے ان کافروں کو میں بھی ان کو کچھ دنوں ڈھیل دے رہا ہوں، اور جب ان کو عذاب میں پکڑوں گا تو بچ کر نہ جاسکیں گے، جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” سنستدرجھم من حیث لایعلمون اوملی لھم ان کیدی متین “۔ 1
حاشیہ 1 (عبدالرحمن بن خالد بن ابی جبل العدوانی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا کہ شرق ثقیف میں اپنی عصایاکمان پر ٹیک لگائے کھڑے ہیں جب کہ آپ (علیہ السلام) ثقیف کے یہاں تشریف لائے تھے تو میں نے سنا آپ سورة (آیت) ” والسمآء والطارق “۔ تلاوت فرما رہے ہیں تو میں نے اس سورت کو اپنے اسلام لانے سے قبل ہی یاد کرلیا تھا مجھے ثقیف کے لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کہہ رہے تھے تو میں نے ان لوگوں کو یہ سورت سنا دی تھی، پھر جب اسلام لے آیا دوبارہ اس کو پڑھا۔ 12۔ تفسیر ابن کثیر، ج 4)
آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ حق تعالیٰ ظالم کو ایک وقت تک (اپنی کسی حکمت سے) مہلت دیتا ہے لیکن جب اس کو اپنے قہر و عذاب کی گرفت میں لیتا ہے تو وہ کسی طرح بھی اس سے بچ نہیں سکتا، چناچہ فرمان خداوندی ہے۔ (آیت) ” وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وھی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید “۔ تم بحمد اللہ تفسیر سورة الطارق :