Ayahs 82:1–19بسم اللہ الرحمن الرحیم :
سورة الانفطار :
حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت :
سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ،
سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو معلوم ہوجائے گا کہ اس نے زندگی میں کیا کیا ہے اور پھر چاہے وہ کتنا ہی انکار کرے لیکن اس کے انکار سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا تو ارشاد فرمایا جارہا ہے ،
جب کہ آسمان شق ہوجائے اور جب ستارے ٹوٹ کر گرنے لگیں اور جب سمندر ابلنے لگیں اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں اور اس طرح آسمان و زمین کا نظام تباہ ہوجائے تو ہر انسان جان لے گا، اس نے اپنے سے پہلے کیا، بھیجا ہے اور پیچھے کیا چھوڑا ہے اس نے زندگی میں پہلے کیا کام کیا اور بعد میں کیا کیا، ہر عمل اور ہر چیز اس کے سامنے آجائے گی ان حقائق کو پیش نظر رکھنے کے بعد تو اس بات کا امکان نہیں رہتا کہ انسان کو اپنے پروردگار اور اس کی قدرت اور روز جزاء حساب و کتاب کے بارے میں کسی قسم کا شبہ یا دھوکہ باقی رہے لیکن افسوس اے انسان کس چیز نے تجھ کو تیرے رب کریم کے بارے میں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے جس رب کریم نے تجھ کو بنایا ہے عدم سے تجھ کو وجود میں لایا، پھر تجھ کو ٹھیک کیا، پھر تجھ کو برابر کیا کہ اعضاء جسمانی ٹھیک ٹھیک بنائے اور ان میں ایک بہترین تناسب اور اعتدال رکھا کہ انسان کے بدن کا کوئی حصہ بےجوڑا اور غیر مناسب نہیں اور ان کی وضح وہیئت بڑی ہی دقیق اور بلند پایہ حکمتوں پر مبنی ہے، پھر مزاج اخلاط میں تناسب رکھا، یہ تمام باتیں اس کا موجب تھیں کہ انسان اپنے رب کو اور اس کے انعامات کو پہچانتا، اس کو اطاعت وفرماں برداری کرتا، لیکن افسوس بہت سے انسان غفلت وجہالت کی ظلمتوں میں بھٹکتے رہے اور انہوں نے اس میں اپنی ساری عمر برباد کی سو ایسے لوگوں کو سن لینا چاہئے، خبردار بات یہ نہیں ہے کہ خالق کائنات اور تمہارے رب کی ربوبیت کوئی پوشیدہ چیز ہے بلکہ تم تو جھٹلاتے ہو انصاف کے ہونے کو اور روز جزاء یعنی قیامت قائم ہونے کو اور کہتے ہو کہ انسان کی بس یہ زندگی ہے اسی میں اس کو رہنا ہے اور جو کچھ کرلیا وہ بس گزر گیا اب نہ بعد میں زندہ ہونا ہے اور نہ ہی کے ہوئے اعمال کی کوئی جزاء وسزا ہے، حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں جو بڑے ہی عزت والے اعمال کے لکھنے والے ہیں جو جانتے ہیں ہر وہ بات جو تم کرتے ہو، اس لیے ہر ایک کے عمل کا بدلہ قیامت کے روز اس کو ملے گا اعمال خیر کی جزاء جنت کی نعمتیں ہیں اور اعمال شر کی سزا عذاب جہنم اور خدا کی ناراضگی ہے، یہی قانون خداوندی ہے جو طے ہوچکا بس اس کی رو سے بیشک نیک لوگ بہشت کی نعمتوں میں ہوں گے اور بدکار بیشک دوزخ میں ہوں گے جس میں وہ داخل ہوں گے انصاف کے دن اور روز محشر ہر ایک ہمارے سامنے موجود ہوگا تو وہ گنہگار لوگ اس جہنم سے دور ہونے والے نہ ہوں گے نہ بھاگ کر اس سے دور ہوسکیں گے اور نہ داخل ہوں کے بعد اس سے نکل سکیں گے بلکہ ہمیشہ وہی رہنا ہوگا اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر کیا ذلت اور مصیبت ہوسکتی ہے اور اے مخاطب جانتا بھی ہے کہ کیا ہے انصاف کا دن کتنا ہی سوچا جائے اور غور وفکر کیا جائے، اس کی ہیبت اور عظمت کا انسان اندازہ نہیں کرسکتا پھر بھی سوچ لے جانتا ہے کیا ہے انصاف کا دن ؟ اے انسان تو نہ جان سکتا ہے اور نہ اس تک تیری رسائی ہوسکتی ہے بس یہ سمجھ لے وہ دن ایسا ہوگا کوئی انسان کسی انسان کے لیے کسی بھی چیز کا مالک نہ ہوگا اور کوئی کسی کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے گا اس دن تمام رشتے ناطے اور تعلقات وروابط قطع ہوچکے ہوں گے اور کسی کو کسی کے لیے بولنے کی بھی مجال نہ ہوگی اور ہر فیصلہ اس دن اللہ ہی کے لیے ہوگا ہر ایک نفسی نفسی پکارتا ہوگا نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا اور نہ کسی کی سفارش کرسکے گا اور نہ ہی فدیہ اور عوض قبول ہوگا۔ ہاں بس وہی شفاعت کرسکے گا جن کو اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی جیسے کہ ارشاد فرمایا گیا (آیت) ” یومئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا “۔
دنیا کی بادشاہوں کے ہاں وسائل وذرائع اور سفارشیں کام آجاتی ہیں لیکن احکم الحاکمین کی بارگاہ میں یہ سب رشتے ناطے بیکار اور بےاثر ہوں گے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کسی شخص کو قیامت کا منظر دیکھنا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ سورة (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ اور سورة (آیت) ” اذا السمآء انفطرت “۔ اور (آیت) ” اذا السمآء انشقت “۔ کی تلاوت کرے۔
حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں ایک روایت باسناد احمد بن حنبل بشر بن مجاش القرشی کی نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز دیوار پر تھوکا اور اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو ! حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا ہے اے ابن آدم تو مجھے کہاں عاجز کرسکتا ہے، حالانکہ میں نے تجھے اس تھوک جیسے حقیر پانی کے قطرہ سے پیدا کیا ہے یہاں تک کہ جب میں نے تجھ کو برابر اور متناسب اعضاء کے ساتھ بنایا تو اے انسان تو اپنے لباس (دو چادروں) میں اکڑ کر چلنے لگا حالانکہ زمین میں تیرے دفن ہونے کی جگہ ہے، تو نے مال خوب جمع کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے انکار کیا تاآنکہ جب تیرا سانس حلق تک پہنچنے لگا تو کہنا شروع کیا اب میں صدقہ کرتا ہوں، حالانکہ اب کہاں وقت رہا ہے، صدقہ کرنے کا۔
حاشیہ (تفسرابن کثرج 4)
مغرور ونافرمان انسان کو خلاق رب العالمین کی ایک دھمکی :
آیت مبارکہ ” یایھا الانسان ما غرک “۔ میں انسانی غرور اور غفلت پر متنبہ کیا گیا ہے کہ انسان بحیثیت انسان ہونے کے اس امر سے نہایت ہی بعید ہے اور یہ بات اس کے واسطے قابل حیرت ہے کہ وہ اپنے رب کے معاملہ میں دھوکہ میں رہے اس کو نہ پہچانے اور اس کی اطاعت وفرماں برداری سے غرور وتکبر اختیار کرے، اس کو اللہ نے عقل و فطرت کی صلاحیت سے نوازا ہے اور مخلوق میں خالق کا رابطہ اور تعلق فطری امر ہے لیکن اس کے باوجود اس کی سرکشی ونافرمانی بلاشبہ قابل حیرت ہے بعض ائمہ مفسرین بیان فرماتے ہیں کہ ” انسان “ سے یہاں کافر مراد ہے، کیونکہ وہی قیامت کا منکر ہے اور انکار قیامت پر اصرار ودلیری اور گناہوں کا ارتکاب اور سزا سے بےپرواہ ہو کر شتر بےمہاربنے رہنا اللہ سے اس کا غرور ہے اور یہ کہ دھوکہ میں وہ مبتلا ہے، عطاء (رح) سے منقول ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئیں کلبی (رح) اور ابن مقاتل (رح) بیان کرتے ہیں کہ یہ ایک مغرور کافر ابن الاسد بن کلدہ کے بارے میں نازل ہوئیں اس نے آنحضرت ﷺ سے گستاخی کی مگر خدا نے دنیا میں سزا نہ دی تو یہ غرور وتکبر میں اترانے لگا، بغوی (رح) نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت اسودبن شریق کے بارے میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ کو ستایا تھا۔
بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہاں الانسان سے ہر ایک کو خطاب ہے خواہ وہ کافر ہو یا مومن گناہگار ہو یا بدکار تو بطور تنبیہ سب کو یہ خطاب فرمایا جارہا ہے تاکہ کوئی بھی متنفس اس طرح کی روش اختیار نہ کرے اور آسمانی عدالت سے کسی وقت غفلت نہ برتے اگر کسی وقت بشری کوتاہی کرے اور کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس پر نادم وشرمندہ ہو کر تائب ہو یہ نہیں کہ عیسائیوں کی طرف یہ سمجھ کر مطمئن ہوجائے کہ بس یسوع مسیح (علیہ السلام) ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوچکے ہیں، اب ہم کو کسی بھی گناہ کی سزا بھگتنی نہیں پڑے گی اور نہ یہودیوں کی طرح یہ سمجھے کہ بس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہونا کافی ہے، اور اگر کسی گناہ کی کچھ سزا بھی ملے تو بس چند روز کی ہوگی، جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” وقالوا لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ “۔ یا ان جہلاء کی طرح دھوکہ میں نہ پڑے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ انکے بزرگ اور غوث وقطب ان کو بخشوا دیں گے اور ان کو نہ کسی فرض کے ادا کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی معصیت سے انکو کچھ نقصان ہوگا اور نہ ہی روافض وشیعہ کی طرح یہ اعتقاد قائم کرلے کہ بنی فاطمہ پر آگ حرام ہے خواہ ہو کچھ بھی کریں ان کو قطعا سزا نہ ہوگی ایسے فاطمیوں کو یادرکھنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ نے خود اپنی صاحبزادی فاطمہ ؓ سے فرمایا کہ یا فاطمہ بنت محمد انقذی نفسک من النار فانی لااغنی عنک من اللہ شیئا “۔ کہ اے فاطمہ محمد ﷺ کی بیٹی تو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا (بغیر ایمان وعمل) میں اللہ کے یہاں تجھے ذرہ برابر بھی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔
الغرض یہ اعتقادات اور تخیلات دھوکہ ہی ہیں رب کریم کے معاملہ میں ہر انسان کو اس قسم کے دھوکہ میں پڑنے سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے ،
آیت مبارکہ میں رب کے ساتھ کریم کی صفت جمع کرنے میں ایک نہایت ہی لطیف اشارہ ہے وہ خداوند عالم کی شان ربوبیت جس کا تقاضا ہر مرحلہ پر مخلوق کو پالنا اس کی ضرورتوں طبعی تقاضوں کو پورا کرنا ہے وہ اس امر کی مقتضی ہے کہ اس سے کسی طرح کی غفلت نہ برتی جائے، اور نہ ہی تکبر و غرور کی روش اختیار کرنی چاہئے پھر جب کہ وہ کریم بھی ہے اور اس کا کرم بار بار انسان کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہے اس کی یاد تازہ کرتی ہے اس کے انعامات و احسانات انسانی فطرت کو اس سے تعلق و محبت اور اس کی اطاعت و بندگی پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کی ناراضگی و عتاب سے ڈراتے ہیں، تو حیرت ہے کہ پھر بھی انسان غافل رہے اور غرور وتکبر ہی کرتا رہے اور ہر طرح کی معصیت ونافرمانی کرنے پر بھی امیدیں قائم رکھے اور اسی گھمنڈ میں رہے کہ اس کا انجام بہت اچھا ہوگا اس تصور پر تو خداوندعالم نے اہل کتاب کو تنبیہ فرمائی اور ارشاد ہے (آیت) ” تلک امانیھم “۔ اور فرمایا (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب “۔ کہ ان امیدوں اور آرزوؤں سے کام نہیں چلے گا۔
ابوبکر وراق (رح) بیان کرتے ہیں کہ اگر قیامت میں مجھ سے کہا گیا (آیت) ” ما غرک بربک الکریم “۔ تو میں کہہ دوں گا غرنی کرم الکریم کہ کریم کے کرم نے مجھے دھوکہ میں ڈالا، غرض اس لطیف عنوان سے انسان کی طبعی کمزوری کو نمایاں کردیا گیا تاکہ اس عیب سے انسان اپنے آپ کو بچائے اور اس عیب سے اپنی زندگی کو پاک رکھے جو انسان کو حیوان سے بھی بدتر کردینے والی ہے بس یہ حقیقت ہے۔
لطف حق باتومواساہاکند
چونکہ از حد بگذردرسواکند۔