81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 81:1–29

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے بےنور ہوجائیں گے

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب بیاہنے والی اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا آگ ہوجائیں گے

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب روحیں (بدنوں) سے ملا دی جائیں گی

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی ؟

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب بہشت قریب لائی جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہوجاتے ہیں

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بیشک یہ (قرآن) فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو صاحب قوت مالک عرض کے ہاں اونچے درجے والا سردار

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

(اور) امانتدار ہے

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمد) دیوانے نہیں ہیں

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

بیشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے کنارے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کدھر جا رہے ہو ؟

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو جہان کے لوگوں کے لئے نصحیت ہے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

(یعنی) اس کیلئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور بدحواسی کا عالم بیان کیا گیا کہ ہر شخص دوسرے سے بےنیاز ہوگا، اس کو اپنی پڑی ہوگی اس مناسبت سے اب اس سورت میں وہ ہولناک مناظر اور حوادث ذکر فرمائے جارہے ہیں جو روز قیامت پیش آئیں گے اور یہی حوادث تخریب عالم کا ذریعہ ہوں گے چناچہ اس سورت کی ابتداء ان ہولناک مناظر کے ذکر سے کی گئی جو قیامت کے وقت پیش آئیں گے کہ چاند سورج اور ستارے بےنور کردیئے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑنے لگیں گے اور زمین شق ہو کر جو کچھ اس میں ہوگا اگل دے گی، الغرض تمام نظام عالم درہم برہم ہوجائے گا۔ اسی سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کے وہ خاص احوال اور اوصاف بیان کئے گئے جو وحی الہی کے نزول پر پیش آئے تھے، اور اسی کے ساتھ مشرکین ومنکرین کی محرومی وبدنصیبی بھی ذکر کردی گئی جو وحی الہی اور پیغمبر خدا سے اعراض و انحراف کی وجہ سے ان پر مسلط ہوئی ، ارشاد فرمایا، جس وقت کہ سورج کی شعاعیں لپیٹ کر رکھ دی جائیں گے اور اس طرح آفتاب بےنور ہو کرچکی کے مانند رہ جائے گا اور جب کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے یا ٹوٹ کر ہوا میں اڑنے لگیں گے اور جب کہ دس مہینہ کی گابھن اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی جو ابھی بیانے کے قریب ہیں اور دودھ دینے والی ہیں اور عرب کی نظروں میں سب سے قیمتی اور قابل قدر مال ہے ان کی طرف بھی کوئی نظر اٹھا کر دیکھنے والا نہ ہو، اور جب کہ وحشی جانور جو انسانوں سے وحشت کرتے ہیں اور انسان کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں شہر اور آبادی میں جمع ہوجائیں گے۔ 1 حاشیہ 1 (بعض مفسرین نے حشرت کا ترجمہ مارنے کے بعد اٹھانے کا بھی کیا ہے، حضرت شیخ الاسلام (رح) نے اپنے فوائد میں بیان فرمایا ہے ” ابھی چند سال ہوئے گنگا جمنا سیلاب آیا تھا تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک چھپر بہتا جارہا ہے اس پر آدمی بھی ہیں اور سانپ اور بچھو بھی اس سے لپٹے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے کوئی تعرض نہیں کررہا۔ ) اور آگھسیں گے، انسانون اور پالتوں جانوروں میں مل جائیں گے۔ اور جس وقت سمندر کھولا دیئے جائیں گے اور ان میں اس طرح ابال اٹھ رہا ہو جیسے کھولتے ہوئے پانی میں اٹھتا ہو یا سمندروں کا پانی شدت گرمی کے باعث دھواں اور آگ بن جائے جو درحقیقت خداوند ذوالجلال کے غضب وقہر کے آثار ہوں گے اور جس وقت کہ تمام انسان ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیئے جائیں گے۔ 2 حاشیہ 2 (بعض ائمہ مفسرین نے اس آیۃ میں اجسام کو روحوں کے ساتھ جوڑنے کی مراد بھی بیان کی ہے۔ ) کافر کافر کے ساتھ اور مسلمان مسلمان کے ساتھ اور بدعمل بدعمل کے ساتھ اور نیکوکار نیکوکار کے ساتھ اور جبکہ زندہ درگور کی ہوئی بچی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں ماری گئی۔ 1 حاشیہ 1 (جاہلیت کے زمانہ میں اہل عرب بچی کی پیدائش کو عار سمجھتے تھے اور جب کسی کے یہاں بچی پیدا ہوتی سوہ اس کو زندہ زمین میں دبا دیتا تھا، اکثر اہل عرب جہاں اور عملی واخلاقی گندگیوں میں مبتلا تھے ان میں یہ بھی ایک ظالمانہ انسانیت سوز عیب تھا، چند ایک نفوس تاریخ میں بیشک ایسے ملتے ہیں جن کو اس مذموم فعل سے نفرت تھی، جیسے زید بن عمرو بن عمر بن نفیل ؓ ان کے تذکرہ میں ہے کہ بتوں پر جانوروں کے ذبح کرنے کو بھی شدت سے منع کرتے تھے اور اس طرح اس فکر میں رہتے تھے کہ کوئی معصوم بچی زمین میں نہ دبائی جائے تو وہ تلاش میں رہتے جس کے یہاں بچی پیدا ہوتی اس سے جا کر کہتے بھائی تو اس کو دفن نہ کر میں اس کو پالتا ہوں تو اس کو پالتے جب وہ بڑی ہوجاتی تو اس کی شادی کردیتے، تفصیل کے لیے صحیح بخاری، تاریخ ابن کثیر اور طبقات کی مراجعت فرمائیں ، حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں عمر بن الخطاب ؓ سے (آیت) ” واذا الموء دۃ سئلت “ کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ قیس بن عاصم ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ میں نے جاہلیت کے زمانہ میں اپنی چند بیٹیاں زندہ درگور کی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اس جرم کے کفارہ میں (اگرچہ یہ زمانہ جاہلیت میں ہوا اور تم اسلام بھی لے آئے) تم غلام آزاد کرو عرض کیا یا رسول اللہ میں تو اونٹوں والا ہوں (غلام میرے پاس نہیں ہیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا ہر ایک سچی کے لیے ایک اونٹ ذبح کرو، اور اس کو صدقہ کردو۔ ) اور ظاہر ہے کہ وہ معصوم بچی جو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردی گئی کیا گناہ اور جرم کرسکتی ہے جس کو عرب کے لوگ دورجاہلیت میں اپنے واسطے عار سمجھتے ہیں اور پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ زمین میں دفن کردیا کرتے تھے تو یہ سوال ان کے جرم کو ثابت اور نمایاں کرنے کے لئے ہوگا اور جب کہ تمام صحیفے اور نامہ اعمال کھول کر رکھ دیئے جائیں گے کہ ہر ایک کو اپنا نامہ اعمال جو اسکے سامنے ایک کتاب منشور کی صورت میں نظر آرہا ہوگا اور جس وقت کہ آسمان کا جرم اس سے کھینچ لیا جائے گا، جیسا کہ کسی جانور کو ذبح کرکے اس کی کھال کھینچ لی جائے اور اس کے بعد اس کے تمام اعضا گوشت ہڈیاں اور رگیں نظر آنے لگتی ہیں تو اس طرح آسمان کے کھل جانے سے اس کے اوپر کی تمام چیزیں نظر آنے لگیں گی جب کہ اس سے قبل کسی انسان کو نظر نہیں آسکا تھا کہ آسمان کے اوپر کیا ہے۔ اور جس وقت کہ دوزخ دہکائی جائیگی اور زور وشور سے اس کی لپٹیں سمندر کی موجوں کی طرح تھپڑے مار رہی ہوں گی اور جب کہ جنت قریب کردی جائے گی، اہل ایمان وتقوی کے جس کو نزدیک سے دیکھ کر اہل جنت فرحت ومسرت محسوس کرنے لگیں گے تو اس وقت جب یہ تمام احوال رونما ہورہے ہوں گے تو ہر انسان جان لے گا۔ 2 حاشیہ 2 (آیت) ” علمت نفس مااحضرت “۔ جواب ہے ان امور مذکورہ کا جو (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ سے یہاں تک بیان کیے گئے اور یہ بارہ امور ہیں جن میں ہر ایک کو اس کی اہمیت اور عظمت کے باعث لفظ اذا کے ساتھ بیان کیا گیا۔ 12) کہ اس نے پہلے سے کیا بھیجا ہے اور کیا لے کر وہ میدان حشر میں حاضر ہوا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں نیکیاں کی تھیں یا برائیاں، تو اس طرح ہر انسان اپنے کیے ہوئے عمل اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہوگا۔ الغرض یہ سب باتیں دلائل و شواہد ہیں اس امر پر کہ انسان قیامت پر ایمان لائے اور اپنی عملی زندگی میں اس کی فکر اور تیاری کرے، ان دلائل و شواہد کی حقانیت میں کسی طرح تددد کی گنجائش نہیں پس قسم کھاتا ہوں میں ان ستاروں کی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں سیدھے چلنے والوں کی جو سیدھے چلتے چلتے۔ 1 حاشیہ 1 (آیت) ” خنس الجوار الکنس “۔ ستاروں کے احوال یا ان کے نام ہیں بروایت حارث حضرت علی ؓ اس طرح ابن عباس ؓ مجاہد (رح) حسن بصری (رح) وغیرھم سے بھی منقول ہے، اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یہ پانچ ستارے ہیں جن کو اہل ہیت خمسہ متحیرہ کہتے ہیں، یعنی زحل مشتری، مریخ، زہرہ، وعطارد ان ستاروں کی عجیب حیرت ناک رفتار ہے یہ کبھی سیدھے چلتے ہیں تو اس لحاظ سے ان کو ” الجوار “ (یعنی جاری رہنے والے اور چلنے والے) کہا گیا، اور کبھی چلتے چلتے الٹے ہوجاتے ہیں اس لحاظ سے ” الخنس “ کہا گیا۔ کیونکہ خنس لغت میں لوٹنے کو کہا جاتا ہے اور کبھی یہ غائب ہوجاتے ہیں اس بنا پر ان کو الکنس کہا گیا جو کنس سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ستر اور پوشیدگی کے ہیں یہ ستارے مغرب سے مشرق کو چلیں تو یہ سیدھی راہ ہوئی اور کبھی ٹھٹک کر الٹے پھرجاتے ہیں۔ بعض مفسرین نے ان کلمات کی مراد ستاروں کے علاوہ اور کچھ بیان کی ہے تفصیل کیلئے تفسیر قرطبی اور تفسیر حقانی کی مراجعت فرمائی جائے۔ 12) کبھی الٹے چلنے والے ہوتے ہیں پھر سورج کی شعاعوں میں آکر چھپ جانے والے ہیں اور قسم ہے رات کی جب وہ ڈوبنے لگے اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے اور اپنی روشنی پھیلا دے، بیشک یہ قرآن یقیناً قول ہے ایک بھیجے ہوئے، قاصد کا جو بڑی ہی عزت والا ہے جو اللہ کے پیغامات لے کر اس کے رسول کے پاس آتا ہے بڑی ہی قوت والا ہے عرش والا پروردگار کے یہاں بڑے ہی اونچے درجے والا ہے اور یہ قاصد جبریل امین (علیہ السلام) ہیں جس کی اطاعت کی جاتی ہے ملکوت سموت میں وہ تمام ملائکہ کے سردار ہیں پھر وہ قاصد بڑا ہی امین ومعتمد ہے، خدا کے اس قاصد نے ان تمام باتوں کی خبر خدا کے پیغمبر کو بذریعہ وحی دی، یہ باتیں اور بیان کردہ ہولناک حوادث کسی عقلی استدلال یا سائنسی تحقیق کا نتیجہ نہیں کہ اس میں کوئی شخص اختلاف کرنے لگے بلکہ یہ وحی الہی ہے جو ایسی عزت و کرامت والا فرشتہ اور معتمد قاصد لے کر اللہ کے پیغمبر کے پاس آیا ہے، اور تمہارا یہ صاحب اے قریش مکہ کوئی دیوانہ نہیں ہے، جیسے کہ تم میں سے بعض بیہودہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو مجنون ہیں، العیاذ باللہ، بلکہ ان کے باپ یہ سب باتیں اللہ کا قاصد لے کر آیا ہے اور اس پر خدا کے پیغمبر کو یقین کامل ہے محض یقین ہی نہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ اس پیغمبر نے تو خدا کے اس قاصد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ 1 حاشیہ 1 (یعنی شرقی کنارہ کے پاس اس کی اصلی صورت میں نہایت واضح طور پر دیکھ لیا اور یہ بھی سمجھ لیا کہ یہ اللہ کا فرشتہ ہے اور یہی اللہ کی وحی لے کر آتا ہے تو اب کیا تردد ہوسکتا ہے کہ شبہ کیا جاسکے کہ شاید کسی جن یا شیطان کا قول ہے اس وجہ سے آیات قرآنیہ کو کسی کاہن کا قول کہنا جیسا کہ کفار مکہ کہتے تھے بعید از عقل ہے اور پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کیا شیطان ایسی پرہیزگاری اور تقوی کی باتیں بتائے گا ؟ 12) آسمان کے کھلے کنارہ پر اور یہ قاصد غیب کی باتیں بتانے میں بخیل نہیں ہے بلکہ وحی الہی سے ملکوت السموت اور آخرت کی جو باتیں انسانی ادراک سے غائب ہیں اور ان پر ایمان لانا ہی ایمان ہے۔ جیسے کہ (آیت) ” الذین یؤمنون بالغیب “۔ میں ظاہر کردیا گیا تو ان سب باتوں کو اللہ کا یہ قاصد پورا پورا پہنچا دیتا ہے اور قاصد کا کمال یہ ہے کہ وہ پیغام مکمل اور پوری طرح پہنچا دے اور جب آپ نے اللہ کے اس قاصد کو دیکھ لیا تو اب کسی قسم کے تردد اور شبہ کی گنجائش نہیں ہوسکتی اس لیے کہ وہ کسی شیطان مردود کا کہا ہوا نہیں ہے، جب یہ سب باتیں واضح اور ثابت ہیں کہ قرآن کریم حق وصداقت کا مجموعہ ہے اور اس میں کسی قسم کے وہم اور تخیل کی گنجائش نہیں تو پھر اے لوگو ! تم کدھر چلے جارہے ہو اور راہ حق سے بھٹک رہے ہو یہ تو بس ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے اس کا ہر مضمون ایک ایک لفظ ہدایت ونصیحت اور ایسا مکمل دستور العمل ہے جس سے سعادت دارین وابستہ ہے ہر اس شخص کے لیے تم میں سے جو یہ چاہے کہ سیدھا چلے عناد اور کجروی اختیارنہ کرے، اور یہ بھی ظاہر ہے تم کوئی چیز نہیں چاہوگے بجز اس کے کہ جو اللہ تمام جہانوں کا پالنے والا چاہے اور فیصلہ کرے اس کے فیصلہ اور ارادہ کے بغیر تو ایک پتہ بھی درخت سے نہیں گر سکتا، اس لیے تمہیں بھی چاہئے کہ خدا کی طرف رجوع کرو اور اسی سے توفیق مانگو یہی طریقہ ہر نصیحت اور ہدایت سے منتفع ہونے کا ہوسکتا ہے۔ شمس وقمر کی قسموں سے مضمون کی مناسبت : قرآن کریم کے اسلوم بیان میں یہ اسلوب بھی نہایت ہی بلند ترین اور معجزانہ اسلوب ہے کہ مخلوقات خداوندی کی قسموں کے ساتھ کوئی ان قسموں پر مرتب کیا جائے، جیسا کہ گزشتہ تفصیلات سے یہ ثابت ہوچکا کہ ہر قسم کے ساتھ جواب قسم کے مضمون میں مناسبت اور ربط ہوتا ہے یہاں بھی شمس وقمر کے بےنور کردینے اور پہاڑوں کو اڑانے اور سمندروں کے دہکانے وغیرہ وغیرہ کی قسموں پر حشرونشر اور قیامت برپا ہونے کا مضمون بڑی ہی قوی مناسبت رکھتا ہے، علاوہ ازیں وحی الہی کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے بھی ایک بلند پایہ اور عظیم تردرجہ رکھتا ہے کہ ان ستاروں کا چلنا، ٹھہرنا، لوٹنا، اور پھر چھپ جانا ایک نمونہ ہے، انبیاء سابقین پر بار بار وحی آنے کا ایک مدت دراز تک اس کے نشان باقی رہنے پر منقطع ہو کر چھپ جانے اور غائب ہونے کا اور رات کا آنا اس تاریک دور کا نمونہ ہے جو خاتم الانبیاء والمرسلین کی ولادت باسعادت سے پہلے گذرا کہ کسی شخص کو حق و باطل کی تمیز نہیں رہی تھی جس طرح رات میں سیاہ وسپید کا فرق نہیں معلوم ہوتا مگر رات کے بعد جب صبح صادق سانس لیتی ہے اور دم پھر کر اپنی روشنی تمام عالم میں پھیلا دیتی ہے تو بالکل اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت جہالت وگمراہی کی تاریکیوں کو پھاڑ کر عالم میں ہدایت کا نور پھیلا دینے والی ہے، انبیاء سابقین ستاروں کی طرح تھے مگر آپ ﷺ کی رسالت ایک آفتاب عالم بن کر عالم کے سامنے درخشاں ہوئی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) نے اس مضمون کو بیان فرماتے ہوئے یہ دو شعر بھی نقل فرمائے۔ فانہ شمس فضل ھم کواکبھا یظھرن انوارھا للناس فی الظلم۔ حتی اذا طلعت فی الکون عم ھداھا للعلمین واحییت سائر الامم۔ بعض ائمہ مفسرین کا قول ہے کہ ستاروں کا سیدھا چلنا اور لوٹنا اور چھپ جانا فرشتے کے آنے اور واپس جانے اور عالم ملکوت میں جاچھپنے کے مشابہ ہے اور رات کو گذرنا اور صبح کا آنا قرآن کریم کے ذریعہ ظلمت کفر کے دور ہوجانے اور نور ہدایت کے پوری طرح پھیل جانے کی مشابہ تو اس طرح ان قسموں کے ساتھ مضمون قیامت اور وحی الہی کی حقانیت کا ثبوت پوری طرح مربوط ہے اور ان میں مناسبت واضح ہے۔ ان آیات ” انہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین “۔ میں جبریل امین (علیہ السلام) کی صفات کا بیان ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں ایک وحی لانے والا فرشتہ (جبرئیل علیہ السلام) اور دوسرا واسطہ پیغمبر عربی ﷺ دونوں کو صفات ایسی عظیم اور بلند پایہ ہیں کہ ان کے علم کے بعد کسی قسم کا شک وشبہ قرآن کے صادق اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا، کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کیلئے اعلی سے اعلیٰ راوی وہ ہوتا ہے جو اعلی مرتبہ کا ثقہ عادل، ضابطہ، حافظ اور امانت دار ہو اور جس سے وہ روایت کرے اس کے پاس عزت و حرمت کے ساتھ رہتا ہو بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت پر اعتماد کلی رکھتے ہوں اور اس وجہ سے اس کی بات بےچون وچرا مانتے ہوں تو یہ تمام صفات جبریل امین (علیہ السلام) میں موجود ہیں وہ کریم عزت و کرامت والے ہیں اور ظاہر ہے عزت و کرامت والا وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ تقوی و طہارت کا وصف رکھتا ہے بقانون (آیت) ” ان اکرمکم عند اللہ اتقکم “۔ اور بڑی ہی قوت والے ہیں، حفظ وضبط کی صلاحیت اعلی واکمل رکھتے ہیں اور رب العرش کے یہاں ان کا مرتبہ نہایت ہی عزت وقرب کا ہے جس کے باعث ملکوت سموت میں وہ فرشتوں کے سردار ہیں اور سب فرشتے انکی بات اور حکم مانتے ہیں، ان کے امین ومعتبر ہونے میں کسی کو ذرہ برابر بھی شبہ نہیں تو ایسے فرشتہ کے ذریعے یہ قرآن نازل ہوا اور اللہ کے بندوں تک پہنچا اور جس رسول کے ذریعے دنیا کو یہ قرآن پہنچا آئندہ اس رسول خدا کی صفات واحوال کا بیان فرمادیا گیا، تاکہ معلوم ہوجائے کہ خدا کے ایسے عظیم پیغمبر نے یہ کلام پہنچایا ہے جو صدق وامانت اور عقل و دانش کا پیکر ہے، ایسی صورت میں قریش مکہ اور مخالفین کا ان کو یہ کہنا کہ یہ دیوانہ یا کاہن ہیں بلاشبہ خود ان کہنے والوں کی دیوانگی اور پاگل پن کر دلیل ہے (فوائد شیخ الاسلام (رح)) ابطال جبر وقدر : (آیت) ” وما تشآء ون الا ان یشآء اللہ “۔ میں انسان کے لئے ارادہ اور مشیت کا اثبات فرمایا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ یہ واضح کیا جارہا ہے کہ انسان کا ارادہ اور مشیت اللہ کی مشیت اور اس کی تقدیر کے مطابق اس کی تابع ہے اس کی توفیق ہی سے ہدایت اختیار کرتا ہے، اور ہر انسان قضا وقدر کی زنجیروں میں جکڑا ہے البتہ بات صرف اتنی ہے کہ فضاوقدر اس سے جو کچھ کراتی ہے وہ اس کے ارادہ اور اختیار کے توسط سے کراتی ہے، اینٹ پتھر کی طرح نہیں ہے کہ اس کو کوئی حرکت دے رہا ہو اور خود اس میں کسی طرح کا شعور وادراک اور ارادہ واختیار نہ ہو تو بندہ اسی ارادہ اور اختیار کو استعمال کرنے کی وجہ سے ثواب و عتاب کا مستحق ہوتا ہے تو اس (آیت) ” (لمن شآء) سے جبر کا ابطال ہوگیا۔ اور (آیت) ” الا ان یشآء اللہ “۔ سے قدر کا ابطال اور فرقہ قدریہ کا رد ہوگیا اور ظاہر ہوگیا کہ انسان نہ تو فاعل مختار ہے اور نہ مجبور محض بلکہ جبر وقدر کے بین بین ہے، مسئلہ کی تفصیل پہلے گذر چکی۔