Ayahs 80:1–42ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں کسی بھی مصلحت سے دنیا دار اور مغرور و سرکش انسانوں کو ترجیح نہ دینی چاہئے، چناچہ ایک مرتبہ ایسا ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک روز آنحضرت ﷺ بعض سردارن قریش کو کچھ سمجھا رہے تھے، اور آپ ﷺ کو یہ امید اور طمع تھی کہ شاید یہ لوگ اسلام لے آئیں اور یہ بھی خیال تھا کہ اگر یہ لوگ اسلام لے آئے تو ان کے قبیلے اور ان کے ماتحت لوگ بھی اسلام لے آئیں گے، اسی دوران عبداللہ بن ام مکتوم ؓ ایک نابینا صحابی جو قدیم الاسلام تھے آگئے اور آنحضرت ﷺ سے کچھ دریافت کرنے لگے اور آپ ﷺ چاہتے تھے کہ عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کچھ ٹھہر جائیں، تاکہ میں وہ بات (جو قریش کے کسی سربرآوردہ سے فرما رہے تھے) وہ پوری کرلوں اور اس وجہ سے آپ پر کچھ گرانی واقع ہوئی اور ابن ام مکتوم ؓ کی طرف توجہ نہ کی بلکہ گرانی کے آثار بھی چہرہ پر ظاہر ہوئے، آپ ﷺ نے یہ سوچا کہ ابن ام مکتوم ؓ تو مسلمان ہیں ان کو بعد میں بھی بتایا جاسکتا ہے اور تعلیم کے مواقع ان کو بعد میں بہت مل سکتے ہیں اس لیے آپ ﷺ اسی شخص کی طرف متوجہ رہے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (آیت) ” عبس وتولی “۔ ارشاد فرمایا۔
تیوری چڑھالی ترش روئی اختیار کی اور منہ موڑا اس بات پر کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا۔ اور اے ہمارے مخاطب تمہیں کیا خبر ہے شاید وہ سنور جاتا، آپ ﷺ کی توجہ اور اس کے سوال کا جواب دینے سے یا وہ غور وفکر کرتا تو پھر اس کو کام آتا سمجھانا اور آپ ﷺ کی بات سے تزکیہ و پاکی اور اس طرح کے بہت سے فوائد حاصل ہوجاتے، جس سے آپ نے اعراض کیا، اور بےرخی کرتے ہوئے اس پر کچھ گرانی محسوس کی۔ لیکن اس کے بالمقابل جس شخص نے بےنیازی اور لاپرواہی برتی بس آپ اسی کی فکر میں لگی رہے اس خیال سے کہ شاید یہ ہدایت قبول کرلے حالانکہ یہ شخص اپنے غرور وتکبر سے آپ ﷺ سے بےنیازی برت رہا ہے اور وہ نابینا طالب حق تھا، طلب صادق لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا تھا گویہ طالب حق شکستہ حال تھا، لیکن درحقیقت توجہ اور التفات کا یہی مستحق تھا اور اسی کو آپ کی توجہ اور نصیحت کا فائدہ پہنچ سکتا تھا برخلاف اس مغرور و سرکش کے جو اس بات کا ارادہ ہی نہیں رکھتا کہ حق اور ہدایت قبول کرلے۔
رہا آپ ﷺ کا یہ جذبہ اور شوق کہ اگر یہ ہدایت قبول کرلے گا تو بہت سے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں گے تو یہ ضروری نہیں کہ ایسا ہو ہی جائے اور آپ پرتو اس بات کا کوئی الزام نہیں کہ وہ راہ راست پر کیوں نہیں آتا اور اپنی زندگی نہیں سنوارتا وہ تو غرور اور شیخی میں آپ ﷺ کی بات کی پرواہ تک بھی نہیں کرتا اور بہرحال وہ شخص جو آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا، انتہائی تڑپ اور طلب صادق کو لے کر اور حال یہ ہے کہ وہ ڈر رہا ہے کہ ملاقات میسر ہوتی ہے یا نہیں پھر وہ چونکہ نابینا ہے ڈر رہا ہے کہ کسی چیز سے ٹکرا کر کہیں گر نہ پڑوں یا یہ کہ آپ کی طرف جاتا دیکھ کر دشمن اس پر ٹوٹ نہ پڑیں تو جو ضعیف ومعذور مومن صادق ان جذبات و کیفیات کے ساتھ آرہا ہے پس آپ اس سے زیادہ بےرخی کررہے ہیں، حالانکہ یہی شخص زیادہ التفات و توجہ اور عنایات وملاطفت کا مستحق ہے، اس سے امید ہوسکتی ہے کہ آپ ﷺ کی ہدایات سے منتفع ہو اور آئندہ اسی کے ذریعے اسلام کی ترقی اور عظمت ہو۔
حاشیہ (چنانچہ یہی نابینا بزرگ جنگ قادسیہ میں زرہ پہنے اور جھنڈا ہاتھ میں لئے جہاد میں شریک ہوئے اور بالآخر اسی معرکہ میں شہادت پائی، ؓ وارضاہ۔
ان کلمات میں بارگاہ خداوندی سے اپنے پیغمبر پر محبت بھرے عتاب سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایک شکستہ حال مومن صادق کی دلجوئی، مقصود ہے اور اس انداز تعبیر سے اسلام کی تعلیم وتبلیغ کرنے والوں کو یہ سبق سکھانا ہے کہ وہ کسی وقت بھی محض اپنی ذہنی افکار وتمناؤں کے پیش نظر اہل ایمان اور ضعفاء مخلصین سے اعراض وبے رخی نہ کریں، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ روز آنحضرت ﷺ عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام اور عباس ؓ بن عبد المطلب سے گفتگو فرما رہے تھے، اور بڑی ہی توجہ سے ان کی جانب منہمک تھے اور آپ ﷺ کو حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرلیں ناگہاں عبداللہ بن ام مکتوم ؓ بڑی ہی بیقراری کے ساتھ مجلس میں پہنچ گئے اور قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھ کر آنحضرت ﷺ سے عرض کرنے لگے، علمنی یارسول اللہ مماعلمک اللہ کہ یا رسول اللہ مجھے وہ سکھا دیجئے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے آنحضرت ﷺ نے اعراض فرمایا یہ بار بار اسی بات کو دہراتے رہے تو آنحضرت ﷺ نے اسی جذبہ کے باعث ناگواری سے انکی طرف سے چہرہ پھیرلیا اور ان ہی سرداران قریش کو سمجھاتے رہے، آنحضرت ﷺ جب اس مجلس سے فارغ ہو کر جانے لگے تو وحی کے آثار شروع ہوئے آپ ﷺ اپنا سر جھکا کر بیٹھ گئے اور یہ آیات نازل ہوئیں۔
راوی بیان کرتے ہیں اس کے بعد ابن ام مکتوم ؓ جب کبھی بھی آتے آپ ﷺ ان کا بہت اکرام فرماتے، اور ایک روایت میں ہے یہ فرماتے، یہ تو وہ ہے جس کے معاملہ میں میرے رب نے مجھ پر عتاب فرمایا۔
بہرحال آگاہ ہوجائیے بس یہ ایک نصیحت ہے جس کا دل چاہے اس کو پڑھ لے یہ پیغام نصیحت بہت ہی عزت والے صیحفوں اور ورقوں میں لکھا ہوا ہے جو نہایت ہی بلند اور پاکیزہ ہیں ایسے قاصدوں اور فرشتوں کے ہاتھوں میں جو بہت ہی بلند رتبے والے نیکوکار ہیں۔
وحی الہی کے یہ صحیفے نہایت صاف ستھرے عزت و کرامت کے ساتھ اللہ کے فرشتے لوح محفوظث سے لے کر اترتے ہیں پھر ان علوم وہدایات پر عمل کرنے والوں کے اعمال وافعال عزت و عظمت کے ساتھ آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں اور یہ اعمال واوصاف اپنے عاملین کو عزت و عظمت کی بلندیوں پر بھی پہنچاتے ہیں جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “۔ غرض یہ تذکرہ لانے والے بھی بلند، خود وہ بھی بلند پایہ اور جو ان پر عمل پیرا ہوں وہ بھی بلند مرتبہ اعمال بھی بلند پایہ حتی کہ جن اوراق پر لکھا جائے وہ بھی قابل تعظیم و تکریم اور بلند جگہ پر اٹھا کر رکھنے کے مستحق ہیں، تو ایسی عظمت وعزت والی نصیحت اور ہدایت کو تو چاہئے کہ ہر انسان قبول کرے، مگر افسوس کہ مغرور و سرکش انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے سرجھکانے کو تیار نہیں ہوتا، ہلاک ہو یہ انسان کس قدر ناشکرا ہے، اس کے غرور وسرکشی کی کوئی حد نہیں، کیا یہ اپنی حقیقت کو نہیں جانتا کیا یہ نہیں سوچتا کہ کسی چیز سے اس کو پیدا کیا ہے ؟ اس کو اپنی حقیقت کو پہچاننے کیلئے جان لینا چاہئے، اس کے رب نے منی کے ایک قطرہ سے اس کو پیدا کیا ہے جو ایک ناپاک اور حقیر قطرہ تھا جس میں کوئی حسن شعور عقل وادراک اور شکل و صورت حسن و جمال کچھ بھی نہ تھا مگر پھر اس پروردگار نے اس کے ہاتھ پاؤں اور جسم کی ساخت کو ایک خاص اسلوب اور بہترین انداز سے اس کو بنایا کہ کوئی چیز بےتکی اور غیر مناسب نہیں بلکہ احسن تقویم اور بہترین پیکر جسمانی اور اعلی ترین قالب اس کو عطا کیا پھر رحم مادر میں اس کی جسمانی تصویر و تخلیق کے بعد آسان کردیا، اس کے واسطے راستہ، سہولت کے ساتھ پیدائش ہوگئی، اور پیدائش کے بعد اس کی زندگی کہ ہر راہ آسمان کردی، زندگی کے ہر شعبہ کے لیے اسباب فراہم کردیئے تاکہ وہ بردوبحر پر حکمرنی کرسکے اور منافع کونیہ سے منتفع ہوسکے ہدایت و فلاح کے اصول بتادیئے، خیر کے کاموں کی تلقین کردی گئی اور ہر شے سے آگاہ کردیا گیا تاکہ وہ زندگی کا ہر راستہ سہولت وآسمانی سے طے کرلے۔
حاشیہ (ان کلمات سے (آیت) ” ثم السبیل یسرہ ٗ ) کی دونوں تفسیروں کی طرف اشارہ ہے اگرچہ بالعموم مفسرین اس کا مفہوم ولادت کی آسانی بیان فرماتے ہیں لیکن الفاظ کی دلالت دوسرے مفہوم کو بھی حاوی ہے، 12) (واللہ اعلم)
پھر اس پروردگار نے اس کو موت دی جب کہ اس کے لیے مقدر کی ہوئی زندگی پوری ہوگئی جس کے بعد قبر میں اپنے احکام وہدایات کے مطابق اس کو دفنایا، تاکہ زندوں کے سامنے اس کی لاش کی بیحرمتی نہ ہو پھر جب چاہے گا اس کو اٹھالے گا، غرض یہ سب کچھ اس کی قدرت سے ہے، قطرۂ منی سے لیکر مرنے کے بعد قبر سے اٹھنے تک کے تمام مرحلے صرف اللہ ہی کی قدرت سے ہیں اور ابتداء سے لے کر اس انتہاء تک کا ہر دور اور مرحلہ خداوند عالم کی قدرت کاملہ کا عظیم نمونہ ہے اور ظاہر ہے کہ جس ذات کی قدرت عظیمہ سے تخلیق کے یہ عظیم مرحلے طے پا رہے ہیں اس کو قطعا ذرہ برابر بھی مشکل نہیں ہے کہ وہ قیامت میں دوبارہ اٹھالے۔
بڑے افسوس کی بات ہے کہ ان تمام دلائل وحقائق کے باوجود انسان اپنے رب کی فرماں برداری نہ کرے خبردار اس انسان نے پورا نہیں کیا وہ کام جس کا اسے حکم دیا، نہ اپنے مالک کا حق پہچانا اور نہ کوئی حکم بجا لایا۔
نظام قدرت و ربوبیت کے کرشمے :
اس صورت حال میں کہ انسان اپنے رب کی قدرت و عظمت کو پہچانتا ہے اور نہ ہی اس کے حکم کے سامنے سرجھکانے کو تیار ہے بس اس آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے کھانے کو دیکھے کہ کس طرح وہ خداوندعالم اپنی قدرت سے رزق سے رزق پیدا کرتا ہے اور کیسی عجیب اور کامل قدرت سے انسان کی روزی کے تمام اسباب مہیا کرتا ہے جو اس نوعیت سے دنیا کی نظروں کے سامنے ہے کہ ہم نے ڈالا پانی اوپر سے زمین پر برستا ہوا بادلوں سے بارش برسائی پھر ہم نے زمین کو شق کیا اس کو چیر کو کہ جو دانہ زمین کی تہہ میں دبا دیا گیا تھا زمین کی سطح کو چیر کر گھانس کے تنکے کی شکل میں اس کو ہم نکالتے ہیں ورنہ دنیا کیا طاقت تھی کہ اس باریک اور کمزور گھانس کو زمین کی تہہ میں سے نکال لاتی۔
پھر ہم نے اگائے اس میں دانے اور مختلف انواع کے غلے اور انگور اور سبزیاں اور زیتوں اور کھجوریں جن سے مخلوق کی روزی ان کی راحت اور عیش و عشرت وابستہ ہے اور اسی بارش اور آسمان سے برسنے والے پانی سے ہم نے پیدا کئے، وہ باغ جو درختوں سے بھرے ہوئے ہیں اور قسم قسم کے پھل اور مختلف قسم کے گھانس جو سامان زندگی اور نفع حاصل کرنے کا ذریعہ ہے تمہارے واسطے اور تمہارے چوپاؤں کے واسطے، تو دیکھو اللہ رب العزت نے اپنی قدرت سے یہ تمام سامان زندگی جس پر انسان کی حیات وبقاء ہے اور انسانوں کے کام آنے والے جانوروں کے واسطے پیدا کیا اس پر چاہئے تھا کہ انسان نظر کرتا، اور اس سے اپنے خالق کو اور اس کے انعامات کو پہچان کر اس کی اطاعت وفرماں برداری میں لگ جاتے مگر کسی قدر بدنصیبی ہے اس انسان کی جو ان تمام باتوں سے غافل رہ کر اپنی زندگی گذار دیتا ہے اور سوچتا ہی نہیں کہ میرا انجام کیا ہونے والا ہے لیکن جب آجائے گی وہ کان پھاڑدینے والی چیخ اور وہ صور پھونک دیا جائے گا تو وہ دن ایسا ہوگا بدحواسی اور بےچینی کا ہر ایک انسان بھاگتا ہوگا اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور حتی کہ اپنی بیوی سے جو اس کی رفیقہ حیات اور زندگی کی ساتھی رہی ہے اور اپنے بیٹوں سے جو دنیا میں اس کو سب سے زیادہ عزیز اور محبوب تھے ان سب علائق سے انسان بیگانہ ہوجائے گا اور ہر شخص کے لیے اس دن ایک ایسی حالت ہوگی جو اس کو ہر ایک سے بےنیاز کردینے والی ہوگی، ہر ایک کو اپنی فکر لگی ہوگی نہ احباب و اقارب کی طرف توجہ کرے گا اور نہ ہی زندگی میں جو محبوب تر افراد تھے ان کی طرف رخ کرے گا وہ دن یوم الحساب ہوگا، ہر شخص کو زندگی کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اس دن کچھ چہرے روشن ہنستے ہوئے خوشیاں مناتے ہوں گے اور اپنے رب کے انعام اور اپنی مغفرت پر فرحاں و شاداں ہوں گے اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے جن پر ذلت وسیاہی برس رہی ہوگی، کفر ونافرمانی کی کدورت اور بداعمالیوں کی سیاہی ونحوست ان کے چہروں کو ڈھانکے ہوگی بیشک یہی تو ہیں کافر اور بڑے ہی بےحیالوگ جو حد درجہ ڈھٹائی سے خدا کی نافرمانی کرتے رہے، نہ کبھی خدا سے ڈرے اور نہ مخلوق سے شرمائے، بےحیائی، تکبر وسرکشی میں زندگی گذارنے کا بس یہی انجام ہوسکتا تھا کہ روز قیامت ان کے چہرے سیاہ غبار آلود ہوں گے اور ان پر ذلت برس رہی ہوگی۔ اللہم انا نعوذبک من الکفر والفسوق والعصیان توفدنا مسلمین والحقنا بالصالحین الذین وجوھھم مفسرۃ ضاحکۃ مستبشرۃ۔ آمین یارب العلمین “۔
فقر اور درویش دراصل عنایت و توجہ خداوندی کے مظہر ہوتے ہیں۔
بظاہر یہ کلام عتاب تھا لیکن درحقیقت اس بات پر تنبیہ تھی کہ منکسرۃ القلوب یعنی شکستہ دل فقراء اور مساکین پر حق تعالیٰ کی تجلی اغنیاء سے کہیں زائد ہے اور فقیروں پر حق تعالیٰ کی توجہ اور عنایت بادشاہوں سے زیادہ ہے بادشاہوں پر حق تعالیٰ کی تجلی کبھی کبھی ہوتی ہے، دائم نہیں ہوتی اور فقراء سے خدا سے خدا کی رحمت اور عنایت کبھی دور نہیں ہوتی اس لئے اشارہ فرمادیا کہ فقراء کی دلجوئی کو اغنیاء کی دلجوئی پر مقدم رکھو۔
نکتہ :
جب کوئی امیر کسی فقیر اور درویش کے پاس آتا ہے تو وہ اپنی شان و شوکت کو ترک کرکے آتا ہے تو شریعت نے اس کی دلجوئی کے لیے بحق زیارت اس کا اکرام اور احترام واجب کیا، جیسا کہ حدیث میں ہے اذا جاء کم کریم قوم فاکرموہ، ” جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار آئے تو اس کا اکرام کرو “ اور تبسم اور کشادہ پیشانی کے ساتھ اس سے پیش آؤ۔
تو اس واقعہ (آیت) ” عبس وتولی “۔ میں جو اغنیاء پہلے سے آئے بیٹھے تھے ان کا بحق زیارت اکرام ہوچکا تھا۔ اور اس کا وقت گذر چکا تھا اب آنے والے کا حق زیارت زیادہ اہم اور مقدم تھا اور یہ آنے والا منکسرۃ القلوب میں سے تھا جو تجلی الہی اور عنایت ربانی کا خاص محل اور مورد ہے وہ زیادہ التفات کا مستحق تھا، اور اس کا اکرام ان گزشتہ آنے والے اغنیاء کے اکرام سے زیادہ اہم ہے۔
جو غنی آپ کے پاس آیا ہے وہ اپنے اصلی منصب کو چھوڑ کر آیا ہے اور اس کی یہ نیاز مندانہ حاضری اس کی عارضی تواضع ہے اور فقیر جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے وہ اپنے اصلی منصب کے ساتھ آیا ہے، فقر اور تواضع اس کا اصلی اور ذاتی منصب ہے اور اس کا دائمی مقام ہے۔
حسب ارشاد خداوندی (آیت) ” ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ “۔ آپ ﷺ نے اغنیاء کو اپنی بارگاہ عالی میں جگہ دی اور ان کو حکمت اور موعظت حسنہ حق کی دعوت دی، ان کا حق ادا ہوگیا وہ اس سے زیادہ کے مستحق نہیں اور نہ آنے والا درویش تو بارگاہ خداوندی کے سکان میں سے ہے اور فی الحال آنے والے سردار ان قریش کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ وہ دعوت حق کے دسترخوان سے کوئی لقمہ اٹھا بھی لیں گے یا نہیں۔ واللہ اعلم۔
(من افادات حضرت الوالد الشیخ محمد ادریس الکاندھلوی (رح))
اثبات قیامت کے لیے دلائل آفاق وانفس :
قرآن حکیم کا یہ خاص اسلوب ہے کہ دلائل توحید وخالقیت حشر ونشر اور بعث بعد الموت کا مضمون ثابت کرنے کے لیے دلائل کی دونوں قسموں کا احاطہ کردیتا ہے کسی موقعہ پر اجمال سے اور کسی موقعہ پر تفصیل سے جن کی تحقیق پہلے گذر چکی یہاں بھی حق تعالیٰ شانہ نے مسئلہ حشر ونشر اور بعث بعد الموت کو بیان کرنے کے بعد دلائل آفاق کے طور پر (آیت) ” فلینظر الانسان الی طعامہ “۔ سے کائنات میں اللہ رب العزت کی قدرت کے جو عظیم نمونے دنیا کے نظروں کے سامنے ہیں ان کو بیان فرمایا، تاکہ قرآن حکیم کا یہ مدعی اور مقصد بخوبی واضح اور ثابت ہوجائے، مقصود انسان کے غرور وتکبر کا ابطال اور اپنی قدرت کاملہ کا اثبات تھا، جو ان دلائل سے پوری طرح ثابت ہوگیا۔
اموات کے لیے قبر اور دفن قانون فطرت ہے :
” قبر “ لغت کے اعتبار سے زمین میں کھود کر بنائے ہوئے گڑھے کو کہا جاتا ہے مگر اصطلاح شریعت میں ” قبر “ عالم برزخ کا نام ہے، یعنی وہ محل اور حالت جو انسان کے مرنے کے بعد سے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے تک کی ہے، نزع روح کے بعد وہ جسم انسانی کسی بھی جگہ ہو خواہ زمین میں دفن کردیا جائے یا دریا میں غرق ہوجائے یا آگ میں جل جائے یا کوئی جانور اس کو کھاجائے یا جسم کے ذرات ہواؤں میں اڑ جائیں غرض ہر حالت اور مکان برزخ ہے اور اسی برزخی حالت یا محل کو شریعت قبر کے لفظ سے تعبیر کرتی ہے اسی بناء پر ہر میت سے مرنے کے بعد نکیرین کے سوال کا ذکر احادیث میں آتا ہے ظاہر ہے کہ یہ سوال ہر ایک میت سے ہوتا ہے اور مرنے کے بعد انسان کی لاش بسا اوقات ان حالتوں میں واقع ہوتی ہے۔
” قبر “ چونکہ اصل فطرت انسانی کا ایک قانون اور مقرر کردہ طریقہ ہے، جیسے کہ ہابیل وقابیل کے قصہ میں گذر چکا کہ نسل انسانی میں پہلا قتل اور موت کا واقعہ پیش آیا اور قابیل نے اپنے ہابیل کو قتل کرڈالا اور اب تک انسان کو یہ معلوم نہ تھا کہ انسان کے مرنے کے بعداس کی لاش کا کیا کیا جائے تو حق تعالیٰ نے انسان کے سامنے اپنی ہدایت اور اس قانون فطرت کی تشریح و توضیح کا عجیب انداز اختیار فرمایا (آیت) ” فبعث اللہ غرابا یبحث فی الارض لیریہ کیف یواری سوءۃ اخیہ “۔ ایک کوا بھیجا جو اپنی چونچ میں ایک مردہ کوا اٹھائے ہوئے تھا اس نے مردہ کوے کو زمین پر رکھ دیا پھر چونچ سے زمین کھودنے لگا اور گڑھا کرکے اس میں مردے کو چھپا دیا اور پھر پروں سے اس پر مٹی ڈال دی تو یہ منظر دیکھ کر قاتل بھائی اپنے قصور فہم پر افسوس کرنے لگا کہ میں تو اس کوے سے بھی زیادہ غافل و عاجز رہا کہ اتنا ہی سمجھ جاتا جتنا کہ اس نے سمجھا اور اسی طرح میں بھی اپنے بھائی کو زمین کے اندر دفن کردیتا، غرض اس فطری امر کو خداوند عالم نے اس نوعیت سے نسل انسانی کے لیے ظاہر اور مشروع فرمادیا۔
تاریخی روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دور قیدم میں انسان کی لاشیں جانوروں کی طرح باہر پھینک دی جاتی تھیں جن کو چیل کوے کھا جاتے تھے ظاہر ہے کہ اس میں انسان کے پیکر جسد کی بیحرمتی بھی تھی اور اس کے تعفن سے لوگوں کو اذیت بھی پہنچتی اور امراض بھی پھیلتے تو خداوند عالم کے اس تکوینی امر سے اور قبر میں دفن کے طریقہ سے انسان کی حرمت بھی باقی رہی گندگی اور امراض سے بھی تحفظ کا سامان ہوگیا ،
پارسی اور مجوسی قوم میں بھی یہ رواج ہے کہ وہ اپنے مردوں کی لاش اسی طرح چھوڑ دیتے ہیں البتہ اتنا کرتے ہیں ایک احاطہ گہرا سا کنوئیں کی شکل کا بنا دیتے ہیں اس میں ایک دروازہ ہوتا ہے، اس احاطہ میں مردہ کو چھوڑ کر چلے آتے ہیں، پھر گدھ چیل اور کوے اس کو نوچ نوچ کر کھا جاتے ہیں بس ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جاتا ہے قوم مجوس میں اس جگہ کو ” دخمہ “ کہا جاتا ہے۔
ہندوؤں کے یہاں مردوں کو جلانے کی رسم ہے، اہل کتاب یہود ونصاری کیونکہ ان کے مذہب کی بہرحال اصل بنیاد خدا کی کتاب تورات وانجیل ہے تو اس وجہ سے وہ مسلمانوں کی طرح اپنے مردوں کو دفناتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ اسلام کے سوا جو بھی طریقے انسان کی لاش کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں عقل و فطرت کے خلاف انسانی عظمت کو سراسر پامال کرتے ہیں جب کہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے دنیا کو یہ ہدایت ملتی ہے کہ مردوں کے جسم کا احترام زندوں کے جسم کی طرح ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے فرمایا میت کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسا کہ زندہ کی ہڈی کو توڑنا۔
ہندوؤں کا یہ خیال کہ آگ میں جلا دینا زمین میں دفن کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور یہ کہ آگ جلا کر مردہ کو پاکر کردیتی ہے عقل و فطرت کے خلاف ہے ،
انسان کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا تو مناسب یہی ہے کہ مرنے کے بعدمٹی میں ہی دفنا دیا جائے اسی کو حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔