Ayahs 79:1–26ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔
(ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت وتبلیغ کا ذکر ہے کہ انہوں نے فرعون جیسے مغرور ومتکبر کو ایمان کی دعوت دی اور خدا نے اپنے پیغمبر کو کامیاب فرمایا، اور فرعون کو ہلاک کیا چناچہ ارشاد فرمایا، قسم ہے ان فرشتوں کی جو گھسیٹ لانے والے ہیں۔
حاشیہ (والنزعات غرقا “۔ یہاں بھی پانچ قسموں سے تاکید واہتمام کرتے ہوئے اصل مدعی یعنی قیامت کا ہولناک منظر واقع ہونے کا ذکر فرمایا گیا، نازعات، ناشطات، سابحات، سابقات، مدبرات، یہ پانچ کلمات ذکر فرما کر جواب قسم (آیت) ” یوم ترجف الراجفۃ “۔ بیان فرمایا، ان کلمات کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے متعدد اقوال ہیں، حسن بصری (رح) اور قتادہ (رح) سے منقول ہے کہ یہ ستارے ہیں، عطاء (رح) بیان کرتے ہیں السابقات، یہ وہ گھوڑے ہیں جو میدان جہاد میں دوڑتے ہیں اور عطاء (رح) سے یہ بھی بیان کیا گیا کہ السابحات پانی کی سطح پر تیرنے والی کشتیاں ہیں، کسی نے نازعات اور ناشطات سے ہوائیں مراد لی ہیں، حسن بصری (رح) نازعات کی تفسیر ستارے بیان کرتے ہیں لیکن جمہور مفسرین اور حافظ ابن کثیر (رح) نے ان پانچوں کلمات کو فرشتوں پر محمول کیا ہے، حضرت شیخ الہند (رح) نے بھی اپنے ترجمہ میں اسی کو اختیار فرمایا۔
فرشتوں کی قسموں کی طرف اشارہ ہونے کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ خداوند عالم نے قیامت برپا ہونے اور میدان حشر میں حاضری کے مضمون کو بیان اور ثابت کرنے کے لئے فرشتوں میں پہلے ان فرشتوں کی قسم کھائی جو کافروں کی روحوں کو سختی اور شدت سے جسم کی رگوں سے گھسیٹ کرنکال لیتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ کافر کی نزع روح کی شدت ایسی ہوتی ہے جیسے بھیگی ہوئی روئی میں کانٹوں دار سلاخ ڈال کر کھینچی جائے تو جس کیفیت کے ساتھ روئی کے اجزاء کو اپنے ساتھ لئے نکلے گئی تو اسی طرح کافر کی رگیں نزوع روح سے متاثر ہوتی ہیں، اور فرشتوں میں سے ان کو اس مقام پر مقدم کرنے کی حکمت یہ ہے کہ کلام کے اصل مخاطب منکرین قیامت ہیں تو انہی فرشتوں کی قسم مقدم فرمائی جو کافروں اور منکروں کی روح قبض کرنے والے ہیں اس کے بالمقابل پھر ان فرشتوں کی بھی قسم کھائی جو مومن کی روح بڑی ہی سہولت سے نکال لیتے ہیں، جیسے کہ پیشانی کے پسینہ کا قطرہ ٹپک جائے، پھر ان فرشتوں کی جو مومنین کے اعمال بارگاہ رب العزت میں لے جانے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں اور پھر انکی جو تکوینی نظام پر ہواؤں، باولوں اور غلوں کے اگانے، احوال صحت ومرض اور عافیت و حوادث اور منافع ومضار جیسے امور کی تدبیر پر مامور ہیں تو ان جملہ انواع و اقسام کے فرشتوں کی قسم کھا کر کر مخاطب کے سامنے اور اس کے ذہن میں ان جملہ احوال کی عظمت کو ظاہر کرنا ہے پھر جبکہ مخاطب کا ذہن ان عظمتوں سے لبریز ہوچکا ہو تو پھر قیامت جیسے عظیم دن کے واقع ہونے کا بیان فرمایا گیا۔ 12)
غوطہ لگا کر جو کافروں کی رگوں میں گھس کر ان کی روح کو سختی کے ساتھ انکے بدن سے نکالتے ہیں، پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کھول دینے والے ہیں گرہ کو سہولت کے ساتھ کھول دینا جو فرشتے اہل ایمان کی ارواح سہولت سے قبض کرلیتے ہیں اور روح کی گرہ بدن سے نہایت ہی راحت اور نرمی سے کھول دیتے ہیں، پھر ان کی جو تیرنے والے ہیں تیزی کے ساتھ تیرتے ہوئے جو فرشتے روحوں کو زمین سے لے کر آسمانوں پر چڑھنے والے ہیں ان کا تیزی سے جانا گویا پانی کی سطح پر تیر رہے ہیں پھر ان فرشتوں کی جو سبقت کرنے والے ہیں آگے بڑھ کر جو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے حکم خداوندی کی تعمیل کرتے ہیں اور ان ارواح کے بارے میں جو حکم خداوندی ہوتا ہے اس کے لئے دوڑتے ہیں پھر ان کی جو عالم تکوین کے امور میں ہوائیں ہو یا بادل چاند سورج اور ستارے تدبیر وانتظام میں لگے ہوئے ہیں، ہر کام کے لیے، جیسا بھی حکم خداوندی ہوا آسمانوں میں یا زمین میں فورا اس کی تعمیل کرتے ہیں، بیشک قیامت آنی ہے اور وہ دن ایسا عظیم الشان ہوگا جب کہ لرزنے والی چیز لرز رہی ہوگی، وہ زمین ہے کہ اس پر زلزلہ طاری ہوگا اور پہاڑ اپنی چوٹیوں سے گر رہے ہوں گے اور ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑتے ہوں گے جس کے پیچھے لگی ہوگی ایک پیچھے لگنے والی چیز جو زمین اور پہاڑوں کے زلزلہ اور کانپنے کا ایک مسلسل بھونچال ہوگا جو پچھلے نفخ صور کے بعد دوسرے صور کے پھنکنے سے شروع ہوگا، اس روز کتنے ہی دل ہوں گے جو اضطراب وبے چینی سے دھڑکتے ہوں گے، ذلت وندامت کی وجہ سے ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ہمت نہ ہوسکے گی کہ نگاہ اوپر کرکے دیکھ سکیں، کہتے ہوں گے کیا ہم لوٹا دیئے جائیں گے الٹے پاؤں کہ قبر میں جانے کے بعد کیا پھر یہ ممکن ہے کہ ہم دوبارہ زندہ کردیئے جائیں گے اور اس طرح ہم کو محشر میں حاضری دینی ہوگی کیا یہ بات ممکن ہوگی جب کہ ہم ہوچکیں گے کھوکھری ہڈیاں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قبر میں جانے کے بعد اور جب کہ انسان کی ہڈیاں بھی کھوکھری ہوچکی ہوں تو تمسخر اور تحقیر کے انداز میں کہنے لگے بس پھر تو یہ لوٹنا بہت ہی خسارہ کی بات ہوگی، یہ مشرکین ومنکرین تو اس معاملہ کو بہت ہی عظیم اور ہیبت ناک سمجھ رہے ہیں حالانکہ ہماری قدرت کے سامنے تو اس کی عظمت اور اہمیت نہیں بس یہ تو ایک دفعہ کی ایک چیخ ہوگی جو صور پھونکنے کی صورت میں ظاہر ہوگی، جس پر فورا ہی وہ سب میدان حشر میں نظر آرہے ہوں گے، پیشی کے لیے بارگاہ خداوندی میں اور جو مغرور ومتکبر انسان خدا کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہوتے تھے وہ ایک ہی آواز میں ذلت و خواری کے ساتھ سر جھکائے نظریں نیچی کئے حاضر ہوں گے اور حیرت وبدحواسی کے عالم میں منتظر ہوں گے کہ اب ان کے بارے میں کیا حکم صادر ہوتا ہے، اس شدت و اضطراب اور بےچینی کے احوال سننے والے مخاطب تو کیوں نہیں قیامت اور روز محشر کی حاضری مان لیتا، تیرا رب تو بڑی ہی قدرت والا ہے تو کیا تجھ کو خبر نہیں موسیٰ کے قصہ کی جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کے رب نے پکارا وادی مقدس مقام طوی میں جہاں کوہ طور پر اللہ نے اپنے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلامی کی اور اس میں یہ فرمایا، جاؤ فرعون کی طرف اس کو خدا پر ایمان لانے کی دعوت وبے شک وہ بہت ہی سرکش ہوچکا ہے، اس کو خدا پر ایمان لانے کی تلقین کرنا پھر کہنا کیا تو نہیں چاہتا کہ تو پاک ہوجائے، کفر ونافرمانی اور غرور وتکبر کی گندگی سے اور کیا نہیں چاہتا کہ میں تجھے راستہ بتاؤں تیرے رب تک پہنچنے کا پھر تو اپنے پروردگار سے ڈرے، معرفت اور خوف خداوندی سے اپنی زندگی سنوار لے، کیونکہ انسانی زندگی کی اصلاح اور اس کی ہر خوبی معرفت الہی اور خشیت خداوندی پر موقوف ہے، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے وہاں پہنچ کر پیغام خداوندی اور دعوت ایمان کی ذمہ داری ادا کی اور حجت وبرہاں قائم کرنے کئے لئے اس کو بہت بڑی نشانی دکھائی جو عصا کا معجزہ تھا مگر اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی اور پھر پیٹھ پھیر کر چلا کوشش کرتے ہوئے پھر سب جادوگروں کو جمع کیا اور جب سب جمع ہوگئے تو پھر پکار کر کہا تاکہ سب مرعوب ہوجائیں میں ہوں تمہارا سب سے بڑا رب موسیٰ (علیہ السلام) کہاں سے آگیا اور کس نے اس کو بھیجا اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ عصا نے اژدھا بن کر جادوگروں کے ظاہر کیے ہوئے تمام سانپوں کو نگل لیا، باوجودیکہ وہ جادوگر جو مقابلہ کے لیے آئے تھے ایمان لے آئے اور ایمان پر ایسی استقامت و پختگی حاصل ہوئی کہ فرعون کی ہر دھمکی کا مقابلہ کیا اور دنیا میں انسان کو پیش آنے والی ہر بڑی سے بڑی اذیت برداشت کرنے کے لئے تیار ہوگئے (جیسا کہ تفصیل سے گذر چکا) مگر فرعون نافرمانی اور سرکشی سے باز نہ آیا تو پھر پکڑ لیا اللہ نے اس کو آخرت کے عذاب اور دنیا کی سزا میں، دنیا میں یہ سزا دی کہ پانی میں ڈبو دیا اور آخرت کی یہ سزا ہے کہ وہاں نار جہنم میں ہمیشہ جلے گا، بیشک اس تمام قصہ میں عبرت کا بہت بڑا سامان ہے اور سوچنے کا مقام ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو، خداوند عالم کا یہ انتقام کس قدر شدید ہے اس نے ایسے مغرور ومتکبر کو جو اپنی ربوبیت کا اعلان کرتا ہو اس طرح ذلیل و عاجز کرکے دنیا کے سامنے اس کی ہلاکت اور اپنے پیغمبر کی کامیابی ایک عظیم تاریخ بنا کر رکھ دی تاکہ ہر مغرور ومتکبر جو اللہ کا اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتا ہو اس سے عبرت حاصل کرسکے۔
راجفہ اور رادفہ کی تفسیر :
رجف کے معنی لغت میں جھڑ جھڑا دینے کے ہیں تو قیامت برپا کرنے کے لئے نفع صور دو مرتبہ ہوگا، جیسے ارشاد فرمایا گیا، (آیت) ” ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شآء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون “۔ تو پہلی مرتبہ جو صور پھونکا جائے گا اس سے زمین اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اس لیے اس کو راجفہ کہا گیا اور دوسرا صور اس کے پیچھے ہوگا جیسے کوئی چیز کسی کے پیچھے لگی ہوئی اس لیے اس کو رادفہ فرمایا گیا، قرب قیامت کی خبر دیتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جاءت الراجفۃ تتبعھا الرادفۃ جاء الموت بما فیہ۔
حاشیہ (مسند امام احمد بن حنبل (رح)۔ 12)
جامع ترمذی میں ہے کہ آنحضرت ﷺ جب دوتہائی رات گذر جاتی تو اٹھ جاتے اور فرماتے (اے لوگو اللہ کا ذکر کرو اور اس کو یاد کرو) بس سمجھ لو کہ جھڑ جھڑا دینے والی چیز راجفہ آچکی اور اس کے پیچھے لگی ہوئی رادفہ (جو قیامت برپا کرنے والی ہے) اور (جان لو کہ) مد ت (سامنے) آچکی ہے مع اپنی تمام کرب وبے چینی کی حالت کے ،۔
:
حافرہ کی تفسیر میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ اور قتادہ (رح) سے منقول ہے کہ یہ قبول ہیں، ابن عباس ؓ عکرمہ (رح) اور سعید بن جبیر (رح) بیان فرماتے تھے کہ حافرہ حیات بعد الموت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین انکار کرتے ہوئے کہا کرتے تھے (آیت) ” ء انا لمردودون فی الحافرۃ “۔ کہ کیا ہم دنیا میں مرنے کے بعد پھر دوبارہ کسی زندگی میں اٹھائے جائیں گے، اور یہ کیونکر ممکن ہے جب کہ ہماری ہڈیاں بھی پرانی ہو کر کھوکھلی ہوچکی ہوں گی، تو اس پر رد فرمایا اور تنبیہ کی گئی ایسے منکرین کو سن لینا چاہئے کہ (آیت) ” انماھی زجرۃ واحدۃ فاذا ھم بالساھرۃ “۔