Ayahs 79:27–46اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی عظمت وکبریائی کا مقابلہ نہیں کرسکتی ارشاد فرمایا۔
اے منکرو ! بتاؤ کیا تم ہو زیادہ سخت پیدا کرنے کے لحاظ سے یا آسمان۔
حاشیہ (یہ مضمون بعینہ وہی ہے جو آیت مبارکہ (آیت) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ میں ارشاد فرمایا گیا۔
یقیناً ہر ایک ادنی سے ادنی عقل والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ آسمان کی تخلیق انسان کی تخلیق سے بہت بڑھ کر عظیم اور اہم ہے اور اس کی قدرت کاملہ کا واضح ثبوت ہے تو جو ذات رب العالمین آسمان جیسی عظیم چیز پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے اس کی قدرت عظیمہ سے یہ بات کیونکر بعید ہوسکتی ہے کہ وہ انسان کو مرنے کے بعد دو بار قیامت میں اٹھائے اور زندہ کرے۔
پھر آخران کافروں کو کیوں تردد ہے، حالانکہ دیکھ رہے ہیں، اسی پروردگار نے اس آسمان کو بنایا اس کی بلندی کو کس قدر اونچا کیا پھر اسکو ہموار اور برابر بنایا کیسا مضبوط کس قدر اونچا اور کیسا برابر اور ہموار کہ کسی جگہ سے کوئی فرق نہیں، پھر اس کا نظام کیسا باقاعدگی سے جاری ہے چاند سورج کا طلوع و غروب وستاروں کی رفتار اور لیل ونہار کی تبدیلی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی غرض یہ سارا نظام فلکیات ایسا محکم ومنظم ہے کہ ہر ایک دیکھنے والا اس کے صانع و خالق کی حکمت اور کمال قدرت پر یقین کیئے بغیر نہیں رہ سکتا تو جس ذات نے ایسی عظیم مخلوق پیدا کردی اس کو کیا مشکل ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد دوبارہ ان کو قیامت میں اٹھالے یہ سب کچھ اسی کی صناعی ہے اور اس نے تاریک کردیا اس کی رات کو اور نکالا اس کے دن کو سورج کے طلوع اور اس کی روشنی سے جو کہ کواکب و سیارات کے نظام ہی کے کرشمے ہیں اور آسمانوں سے ہی ان سب چیزوں کا تعلق ہے، اور زمین کو اس کے بعد بچھایا ،۔
حاشیہ (اس آیت مبارکہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلق ارض آسمانوں کی تخلیق کے بعد ہے اور سورة حم سجدہ میں خلق ارض کو مقدم بیان فرمایا گیا اور زمین اور زمین پر پیدا کی ہوئی چیزوں کی تخلیق کے بعد ارشاد فرمایا گیا (آیت) ” ثم استوی الی السمآء وھی دخان فقال لھا وللارض ائتیا طوعا اوکرھا “۔ اس اشکال کی توضیح اور جواب اس مقام پر ذکر کردیا گیا۔ مراجعت فرمالی جائے۔
پہاڑوں کا زمین میں گاڑنا، حدیث انس بن مالک ؓ میں بروایت احمد بن حنبل (رح) اس طرح مذکور ہے، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ رب العزت نے جب زمین کو پیدا کیا تو زمین لرزنے لگی، اللہ نے اس پر پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا جس سے زمین ٹھیر گئی، فرشتوں کو پہاڑوں کی شدت و سختی پر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے اے پروردگار کیا تیری مخلوق میں پہاڑوں سے زیادہ بھی کوئی طاقت ور چیز ہے اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے، تو لوہے کی شدت پر فرشتوں نے پوچھا اے رب اس سے زیادہ کوئی چیز تیری مخلوق میں شدید ہے فرمایا ہاں ! اور آگ پیدا کر کے دکھا دی گئی، فرشتوں نے اس پر تعجب کرتے ہوئے پوچھا اے رب کیا اس سے زیادہ کوئی طاقت ور چیز ہے جواب میں فرمایا ! ہاں اور پانی پیدا کردیا، اس پر بھی وہی سوال ہوا تو جواب دیا گیا ہاں اس سے بھی بڑھ کر ایک سخت اور طاقت ور چیز۔ ہوا ہے فرشتوں نے اس پر بھی تعجب کرتے ہوئے عرض کیا یا رب کیا اس پر بھی بڑھ کر کوئی طاقت ور چیز ہے جواب دیا گیا، نعم ابن آدم یتصدق بیمینہ لاتعلم شمالہ ما تنفق بیمینہ “۔ کہ اس سے طاقت ور چیز انسان کا وہ صدقہ ہے جو اس طرح دے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا دیا ہے۔
اس مضمون کی تفصیل کے لئے ناچیز کی کتاب ” منازل العرفان فی علوم القرآن “ کا مطالعہ فرمائیں۔ 12)
جس سے اس کا پانی نکالا اور سبزہ بھی اگایا، چشموں اور نہروں کو جارہی کرکے سبزے غلے پھل اور پھول اور طرح طرح کی غذائیں پیدا کیں، اور پہاڑوں کو قائم کردیا زمین کی سطح پر ایسی مضبوطی سے کہ وہ اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرتے، اے انسانو ! تمہارے واسطے سامان زندگی بنا کر اور تمہارے چوپاؤں کے واسطے، ظاہر ہے کہ اگر یہ نظام قدرت قائم نہ کیا جاتا تو کہاں سے انسان کھاتا اور کہاں سے جانوروں کا چارہ ملتا، لوگ کیسے اپنی زندگی کے کاروبار کرتے اور کس طرح اس میں یکسانیت وتسلسل قائم کرتے، اگر دن کی روشنی اور رات کی تاریکی و سکون نہ ہوتا، غرض آسمان اور زمین اور اس میں پیدا کی ہوئی ہر ایک چیز اللہ رب العزت کی قدرت و حکمت کی عظیم نشانی ہے تو جب رب العالمین یہ سب کچھ انتظامات کررہا ہے کیا وہ انسان کی بوسیدہ ہڈیوں کو جوڑ کر دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا، اس میں شک وتردد یا انکار انسان کی بڑی ہی غفلت اور بھول ہے جس سے یقیناً اس کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ چونکے گا، چناچہ جب آجائے گی وہ چوراچورا کرنے والی بہت بڑی ہیبت ناک چیز تو وہ دن ہوگا ایسا کہ انسان یاد کرے گا ہر اس چیز کو جو اس نے کمائی ہے اور زنگی کا ہر عمل اس کو یاد آجائے گا اور اس وقت سوائے پچھتانے کے اور کوئی چارہ کارنہ ہوگا اور جہنم ظاہر کردی جائے گی ہر اس کے لیے جو دیکھ رہا ہوگا، اور اس کو ایسے منظر عام پر لایا جائے گا کہ بلاکسی حائل اور رکاوٹ ہر ایک کو نظر آرہی ہوگی، بہرحال جس کسی نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو اس نے بہتر سمجھا اور اسی کو آخرت پر ترجیح دی، حتی کہ آخرت کو بھلادیا تو بس دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگا، جس سے اس کو کسی طرح بھی چھٹکارا میسر نہ ہوگا، اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ سوچنے لگا کہ کیا منہ لے کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہوسکوں گا اور میدان حشر میں کس طرح کھڑا ہوسکوں گا، اس اعتقاد و تخیل اور خوف خدا کے اثر سے اس نے اپنے نفس کو روکے رکھا ہر خواہش سے تو بلاشبہ جنت اس کا ٹھکانا ہے کیونکہ نفس اور اس کی خواہشات ہی انسان کو اللہ کے احکام کی اطاعت وپیروی سے روکنے والی چیز ہے، اس لیے جب یہ صاحب ایمان خشیت وتقوی سے معمور خداوند عالم کی اطاعت وفرماں برداری کرتا رہے گا تو لامحالہ اللہ کے فضل وکرم سے جنت کا مستحق ہوگا۔
انسانی سعادت اور اس کی عقل و فطرت کا تقاضا یہ ہے۔
حاشیہ (ظاہر ہے کہ جو شخص اس خیال کو اپنے قلب و دماغ میں رچا لے گا وہ کسی بھی معصیت اور برائی میں مبتلا نہیں ہوسکتا اور یہ وصف بلاشبہ انسان کی طغیانی وسرکشی کی ضد ہے اور قوت نظریہ کی اصلاح وتکمیل ہے اور (آیت) ” نھی النفس عن الھوی “۔ نفسانی خواہشات سے بچنے کا نام ہے اس لحاظ سے یہ وصف اس کی قوت عملیہ کی اصلاح وتکمیل ہے اور ان ہی دو قوتوں کی اصلاح انسانی سعادت ہے لہذا ایسے انسان کا ٹھکانا جنت ہی ہے ،
بعض مفسرین بیان کرتے ہیں، ان دونوں آیتوں میں پہلی آیت یعنی (آیت) ” اما من طغی الخ “۔ کا مصداق عامر بن عمیر تھا جو نہایت ہی بدکار اور دنیا برست تھا اور دوسری آیت یعنی (آیت) ” واما من خاف مقام ربہ “۔ الخ کا مصداق اسی کے دوسرے بھائی حضرت مصعب بن عمر ؓ تھے جو تارک الدنیا اور پیکر زہد وتقوی تھے، اور غزوۂ احد میں شہید ہوئے اور صورت حال یہ تھی کہ کفن کے واسطے ایک چادر بھی ایسی نہ تھی کہ سارا بدن ڈھانکا جاسکے۔ 12)
کہ وہ ان حقائق کو سمجھے اور ان پر ایمان لائے۔ لیکن کفار مکہ کی شقاوت وبدنصیبی کی کوئی حد نہ تھی انحراف وسرکشی کی نوبت تک پہنچی کہ اے ہمارے پیغمبر یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ کب آئے گا وقت اس کے قائم ہونے کا اور کب وہ ظاہر ہوگی تو کس فکر میں پڑے ہو آپ اس کا وقت بتانے کے بارے میں یہ آپ ﷺ کا کام ہی نہیں کہ آپ یہ بتائیں یا یہ سوچیں کہ انکے سوالوں کا کیا جواب دوں اور کیا وقت ان کو بتاؤں آپ کے رب ہی کی طرف اس کی نہایت ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی اور خواہ اس کا کسی سے سوال کیا جائے ان جملہ سوالات کا منتہی اسی کی ذات ہے اور اس کا علم صرف اسی کو ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا (آیت) ” ان اللہ عندہ علم الساعۃ “۔ آپ تو بس آخرت اور عذاب آخرت سے ڈرانے والے ہیں اس شخص کو جو اس سے ڈرتا ہو اور اس پر ایمان رکھتا ہو اور ظاہر ہے کہ جو شخص آخرت اور قیامت کو مانتا ہی نہیں وہ کیا خاک عذاب آخرت سے ڈرے گا، حالانکہ جب قیامت واقع ہوگی ایسا محسوس ہوگا جب یہ اس کو دیکھیں گے گویا کہ نہیں ٹھیرے ہیں دنیا میں یا مرنے کے بعد سے اس وقت اٹھنے کے زمانہ تک مگر صرف ایک شام یا اس کی صبح، بعث بعد الموت کے بعد یہ لوگ۔
حاشیہ (یہ کلمات اس آیت کی دونوں تفسیروں کی طرف اشارہ ہیں جیسا کہ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہ لوگ قیامت میں اٹھنے کے بعد دنیوی زندگی کو اس قدر مختصرمحسوس کریں گے کہ گویا یہ صرف ایک شام یا صبح کے بقد ردنیا میں رہے ہیں قتادہ (رح) بھی اسی کو بیان کرتے ہیں ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے بھی یہی بیان کیا، اور بعض ائمہ مفسرین فرماتے ہیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو اس قدر قلیل مدت سمجھیں گے کہ گویا انہوں نے صرف ایک صبح یا شام گذاری ہے، (واللہ اعلم بالصواب)
دنیوی زندگی کو صرف ایک صبح وشام کے بقدر ٹھیرنا تصور کریں گے یا یہ تصور کریں گے کہ مرنے کے بعد بس اتنا ہی تھوڑا سا وقت گذرا ہے جس طرح کہ سو کر بیدار ہونے والا شخص محسوس نہیں کرسکتا کہ نیند کی حالت میں اس پر کتنا طویل وقت گذرا ہے بس یہی لگتا ہے کہ آنکھ لگی تھی اور اب کھل گئی۔
مسئلہ آخرت اور بعض بعد الموت :
مسائل اعتقادیہ اور علوم نظریہ میں قرآن کریم نے مسئلہ آخرت اور بعث بعد الموت نہایت ہی اہتمام اور بڑی ہی تحقیق اور بسط و تفصیل سے بیان کیا ہے کیونکہ ایمان باللہ اور ایمان بالرسول آخرت پر ایمان ویقین ہی پر موقوف ہے سورة بقرہ کی ابتداء ہی میں قرآن کریم کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے جہاں یہ فرمایا کہ یہ کتاب ان لوگوں کے واسطے ذریعہ ہدایت ہے جو تقوی اور ایمان بالغیب یعنی اللہ اور اس کے رسول اور اس کی وحی پر یقین رکھتے ہوئے فرائض اسلام کی تعمیل وتکمیل پر آمادہ ومستعد ہیں، اسی کے ساتھ ان لوگوں کی یہ صفت بیان کی گئی، (آیت) ” وبالاخرۃ ھم یوقنون “۔ (البقرۃ) اور آخرت پر وہی یقین و ایمان رکھتے ہیں۔
اس سے واضح ہوگیا کہ ایمان باللہ والرسول، ایمان بالآخرت سے منفک اور جدا نہیں بلکہ ایمان باللہ والرسول کا دار و مدار ایمان بالآخرۃ ہی پر ہے۔ ” اخرت اور یوم آخرت “۔ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر دونوں ہی عنوان اختیار کئے ہیں، عالم آخرت کا آغاز دنیا اور دار دنیا کا آخرت دن ہے اس وجہ سے یوم آخرت کہا جاتا ہے، حق تعالیٰ نے انسانی زندگی دو عالموں سے متعلق فرمائی ہے، ایک زندگی ولادت کے بعد سے اس کے مرنے تک ہے، اور دوسری زندگی موت کے بعد مبعوث اور دوبارہ اٹھنے کے بعد سے جنت و جہنم کی لازوال حالتوں تک، پہلی زندگی کو دنیا کہا گیا اور دنیا لغت کے اعتبار سے قریب تر چیز کو کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ زندگی انسان کو پہلے حاصل ہوتی ہے اس لیے اس کا نام دنیا ہوا اور مرنے کے بعد مبعوث ہونے پر جو زندگی ہے وہ بعد میں ہے تو اس کو عقبی اور آخرت فرمایا گیا، اسی اعتبار سے دنیوی زندگی کو (النشاۃ الاولی) یعنی پہلی پیدائش اور اخروی زندگی کو (النشاۃ الاخری) یعنی دوسری اور آخری پیدائش فرمایا ہے، اسی وجہ سے حیات انسانی کے ان دونوں ادوار کو الاولی اور الآخرۃ جیسے متقابل عنوان سے قرآن کریم تعبیر کرتا ہے۔ (آیت) ” وللاخرۃ خیر لک من الاولی “۔
مفسرین کی ایک جماعت اس آیت کی مراد یہ بھی بیان کرتی ہے کہ آخرت کی زندگی اور اس کی نعمتیں دنیوی زندگی اور اس کی راحتوں سے زائد بہتر ہے، بعض حضرات علماء نے آسمان و زمین کے پھٹ جانے اور چاند وسورج اور ستاروں کے ٹوٹ جانے اور شب وروز کا نظام درہم برہم ہونے کو جو آخرت قرار دیا وہ اس لحاظ سے کہ یہ امور یوم آخرت کا مبداء و آغاز ہیں ورنہ اصل یوم آخرت تو وہ ہے جب دوبارہ نفخ صور کے بعد تمام انسان اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ رب العزت کے روبرو حاضر کردیئے جائیں گے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا،
(آیت) ” ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شآء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون (سورۃ الزمر)
اور (جس روز کہ) صور پھونکا جائے گا تو بیہوش ہو کر گر پڑے گے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے پھر دوبارہ اس میں صور پھونکا جائے گا تو فورا وہ سب کھڑے ہوجائیں گے درآنحالیکہ وہ دیکھتے ہوں گے۔
تو دوبارہ نفخ صور پر جب مخلوق مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی، اس وقت دنیا اور حیات دنیاوی کا کوئی حصہ باقی نہ رہے گا اور پھر اس دن کے بعد نہ کبھی رات آئے گی اور نہ رات کے ختم ہونے پر دوسرا دن آئے گا۔
دنیا تو اس جہان کی صفت حیات کا نام ہے جب حیات ہی باقی نہ رہے تو دنیا کا وجود کیونکر رہے گا، اہل حق کا اجماع ہے کہ انسان دنیا میں ایک ہی مرتبہ پیدا ہوتا ہے اور جب مرجاتا ہے تو پھر کبھی اس کو دوبارہ دنیا کی حیات حاصل نہیں ہوتی، اور دنیا کی جب تمام ضروریات ختم ہوجائیں گی اور جو کچھ چیزیں دنیا میں ہیں وہ فنا ہوجائیں گی تو اس وقت حشراموات ہوگا بس اسی کا نام آخرت ہے۔
(آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت وبرزوا للہ الواحد القھار “۔ ( سورة ابراہیم) وہ دن جبکہ یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور اسی طرح آسمانوں کو بھی اور سب لوگ اللہ واحد قہار کے سامنے پیش ہونگے (اور نکل کھڑے ہوں گے)
اسی روز کو حق تعالیٰ شانہ کے دربار میں حاضری اور پیشی کا دن فرمایا گیا۔
(آیت) ” یوم یقوم الناس لرب العلمین “۔ کہ اس دن لوگ کھڑے ہوئے ہوں گے رب العالمین کے سامنے۔ 1
حاشیہ 1 (اسی یوم کا نام یوم الفصل بھی ہے جیسا کہ فرمایا گیا (آیت) ” ھذا یوم الفصل جمعناکم والاولین “۔ اور (آیت) ” ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین “۔ کہ یہ فیصلہ کا دن ہے اے لوگو ! ہم نے تم کو اور تم سے پہلوں کو سب کو جمع کرلیا ہے، اسی کے بارے میں ارشاد ہے (آیت) ” الیہ مرجعکم جمیعا وعداللہ حقا “۔ کہ تم سب کا اللہ ہی کی طرف واپس لوٹنا ہے، یہ ایک وعدہ ہے برحق اور پختہ، اسی بناء پر قیامت کو ” یوم موعود “۔ بھی فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد ہے (آیت) ” والسمآء ذات البروج والیوم الموعود وشاھد ومشھود “۔ قیام قیامت کے کچھ احوال ذکر کرتے ہوئے حق تعالیٰ نے فرمایا۔
(آیت) ” ویوم نسیر الجبال وتری الارض بارزۃ وحشرنھم فلم نغادر منھم احدا، وعرضوا علی ربک صفا، لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ بل زعمتم الن نجعل لکم موعدا، ووضع الکتب فتری المجرمین مشفقین ممافیہ ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولاکبیرۃ الا احصھا، ووجود وا ماعملوا حاضرا۔ ولا یظلم ربک احدا۔ (سورۂ کہف)
اور جس دن کو ہم پہاڑوں کو سرکادیں گے (اور ان کو دوڑائیں گے کہ دیکھنے والا ان روئی کے گالوں کی طرح محسوس کرتا ہوگا) اور اے مخاطب تو زمین کو دیکھے گا ایک کھلا ہوا میدان جس میں تمام مخلوق جمع ہوگی) اور سب کو اکٹھا کریں گے اس طور سے کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں گے اور سب اللہ کے سامنے قطار در قطار پیش کیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا کہ بیشک تم ہمارے پاس آئے ہو اسی طرح (برہنہ) جیسے کہ ہم نے مت کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا بلکہ تم تو یہ سمجھتے تھے کہ تمہارے واسطے (حاضری کا) ہم نے کوئی وقت ہی مقرر نہیں کر رکھا ہے اور (لوگوں کے سامنے) نامہ اعمال رکھ دیئے جائیں گے تو اس وقت اے مخاطب تو مجرموں کو دیکھے گا کہ وہ ڈر رہے ہوں گے، اور کہتے ہوں گے ہائے افسوس ہماری بدبکتی، کیا ہوا اس کتاب (نامہ اعمال) کو کہ اس نے کوئی بھی عمل خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ایسا نہیں چھوڑا کہ اس کو اس کتاب نے لکھ نہ لیا ہو اور سب لوگ اپنے ان تمام اعمال کو سامنے موجود پائیں گے جو انہوں نے کیے اور اے مخاطب تیرا رب کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ 12)
قیام قیامت اور یوم آخرت کو قرآن نے ” الساعۃ “ کے عنوان سے تعبیر کیا ہے۔
(آیت) ” یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا قل انما علمھا عندربی لایجلیھا لوقتھا الا ھو ثقلت فی السموت والارض لاتاتیکم الا بغتۃ۔ (سورۃ الاعراف)
یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے متلق دریافت کرتے ہیں اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے، آپ ﷺ کہہ دیجئے اس کا علم تو صرف میرے پروردگار ہی کو ہے وہی ظاہر کرے گا اس کے وقت پر وہ بہت ہی بھاری ہے، آسمانوں اور زمین میں وہ تمہارے سامنے نہیں آئے گی مگر اچانک “۔
اس روز جب کہ اولین وآخرین میدان حشر میں حیران وپریشان کھڑے ہوں گے اور ہر ایک مبہوت وبدحواس اور کرب وبے چینی میں مبتلا ہوگا کہ اچانک رب العالمین اور احکم العالمین نہایت ہی عظمت و جلال کے ساتھ بندوں کے فیصلہ کے لیے نزول اجلال فرمائیں گے، ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوگا، اسی منظر کو ان کلمات نے بیان کیا۔
(آیت) ” وجآء ربک والملک صفا صفا “۔ (الفجر) اور (اے مخاطب) تیرا رب (فیصلہ کیلئے) آئے گا، اور فرشتے جوق در جوق قطار در قطار کھڑے ہوں گے۔
جبریل امین (علیہ السلام) اور تمام ملائیکہ مقربین اور عالم سموت وارضین کے فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، اور خداوند عالم کی عظمت و جلال اور ہیبت سے کسی کو بولنے کی مجال نہ ہوگی، انبیاء ومرسلین بھی حیران و متفکر ہوں گے، سب سے پہلے حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے انبیاء ومرسلین کو خطاب فرمائے جائے گا۔
(آیت) ” یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ما ذا اجبتم قالوا لاعلم لنا انک انت علام الغیوب “۔ جس دن کو اللہ تعالیٰ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر ان سے فرمائے گا (بتاؤ) تم کو کیا جواب دیا گیا (تمہاری) امتوں کی طرف سے) عرض کریں گے اے پروردگار (ظاہر میں جو جواب دیا گیا وہ تو معلوم ہے لیکن) حقیقت کا ہمیں علم نہیں بیشک چھپی ہوئی باتوں کا تو ہی خوب جاننے والا ہے۔
علماء متکلمین نے لکھا ہے کہ یوم حشر، صرف اجساد وبدان ہی کا حشر اور جمع نہیں ہے بلکہ اس روز تمام مخلوق کے ابدان و اجسام کے جمع کرنے کے ساتھ انسانوں کے تمام اعمال وافعال اور احوال بھی جمع کرلیے جائیں گے، اعمال صالحہ اور سیۂ ہر ایک اس کے سامنے موجود ہوں گے اور وہ ان کا مشاہدہ کرتا ہوگا اور جب انسان یہ دیکھے گا کہ اس کی ایک ایک بات اور ہر ہر حرکت سامنے آرہی ہے تو مایوسانہ جذبات اور حسرت وملال کے ساتھ کہے گا۔ (آیت) ” مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الااحصھا، ووجدوا ماعملوا حاضرا “۔
ایمان بالآخرۃ اور حشر ونشر اور بعث جسمانی، دین کے بنیادی اصول میں سے ہے جس طرح کوئی شخص خداوند عالم اور اسکے رسول پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح قیامت اور روز قیامت پر ایمان لائے بغیر شریعت کے نزدیک وہ شخص مومن کہلانے کا کسی طرح بھی مستحق نہیں۔
کفار مکہ اور مشرکین قریش خاص طور پر دوچیزوں کا بڑی شدت سے انکار کرتے تھے (1) ایک آنحضرت ﷺ کی رسالت اور (2) دوسرے قیامت کا، وہ ہرگز اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوتے تھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور قیامت قائم ہوگی ہرچند دلائل وبینات کے مشاہدہ کے بعد بھی یہی کہتے کہ۔
(آیت) ” انھی الا حیاتنا الدنیا وما نحن بمبعوثین “۔ (سورۃ انعام) اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ یہ ہماری دنیاوی زندگی ہے، (اسی میں ہماری حیات وموت ہے) اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔
بلکہ کفار مکہ تو بعث بعد الموت کے بیان پر استہزاء اور تمسخر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔
(آیت) ” ھل ندلکم علی رجل ینبئکم اذا مزقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ۔ (سورۃ سبا)
کہ کیا ہم تمہیں ایک ایسے شخص کا پتہ نہ بتائیں جو تم کو یہ خبردیتا ہے کہ تم جب کہ ریزہ ریزہ کردیئے جاؤ گے (مرنے کے بعد) تو پھر تم کو یقیناً ایک نئی پیدائش کے ساتھ اٹھایا جائیگا، کیا یہ بات اللہ پر جھوٹ بہتان نہیں ہے یا یہ کہ اس شخص کو کچھ سودا (جنون) ہے۔
حق تعالیٰ شانہ نے اس مسئلہ کو نہایت وضاحت کے ساتھ بار بار دہرایا اور فرمایا (آیت) ” قل اللہ یحییکم ثم یمیتکم ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ لاریب فیہ الخ (کہ خدا ہی تم کو حیات وزندگی عطا کرتا ہے پھر وہی تم کو مارتا ہے اور پھر وہی تم کو قیامت کے روز جمع کرے گا جس میں کوئی شبہ نہیں) مسئلہ بعث بعد الموت میں تردد کرنے والوں کو قرآن کریم نے ایک نہایت سادہ معقول اور فطری انداز میں سمجھایا۔
اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض ولم یعی بخلقھن بقادر علی ان یحی الموتی بلی انہ علی کل شیء قدیر۔ (سورۃ احقاف)
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے عاجز نہیں ہوا تو کیا وہ اس پر قادر نہ ہوگا کہ مردوں کو زندہ کردے ؟ بیشک وہ خداوندعالم ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
یعنی جب ایک چیز کو اللہ تعالیٰ عدم سے وجود اور ظہور میں لانے پر قادر ہے اور کائنات کو عدم محض سے پیکر وجود اسی نے عطا کیا تو اس کے اعادہ اور اس کے دوبارہ پیدا کرنے میں تردو پیدا کرنا خلاف عقل ہے، حالانکہ کسی شے کے ایجاد سے اس کا اعادہ سہل اور آسان ہوتا ہے تو ایسے لوگ عقل و شعور سے کس قدر بعید ہیں کہ خالق کائنات کے لئے مخلوق کو دوبارہ قیامت میں اٹھانے کا انکار کرتے ہیں کفار مکہ کا یہ سوال قرآن کریم نے نقل کرکے یہی استدلالی جواب ارشاد فرمایا۔
(آیت) ” قال من یحی العظام وھی رمیم، قل یحیھا الذی انشاھا اول مرۃ وھو بکل خلق علیم، (سورۃ یس ٓ)
(کافروں نے) کہا کون ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جب کہ وہ بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوچکی ہوں گی (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ وہی خدا انکو دوبارہ زندہ کرے گا جس نے انکو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
انسان کو اس کی تخلیق اور اطوار تخلیق کے نمونے ذکر کرتے ہوئے ادہام وشکوک کی ظلمتوں سے نکال دینے کے لئے اس مسئلہ کو ایسے دلنشین انداز میں دلائل کے ساتھ بیان فرمایا کہ اس کو سن کر کوئی بھی صحیح العقل انسان ادنی تردد اور شبہ کی گنجائش نہیں پائے گا، فرمایا۔
(آیت) ” یایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقنکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ مخلقۃ وغیر مخلقۃ لنبین لکم ونقر فی الارحام مانشآء الی اجل مسمی ثم نخرجکم طفلا ثم لتبلغوا اشدکم ومنکم من یتوفی ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیا وتری الارض ھامدۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت وانبتت من کل زوج بھیج ذلک بان اللہ ھو الحق وانہ یحی الموتی وانہ علی کل شیء قدیر، وان الساعۃ اتیۃ لاریب فیھا وان اللہ یبعث من فی القبور (سورۃ الحج)
اے لوگو ! اگر تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہو تو (تم اس پر کیوں نہیں غور کرتے کہ) بیشک ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر تخلیق آدم (علیہ السلام) کے بعد ہم نے (ان کی نسل کو) نطفہ سے پھر بستہ خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے (بوٹی) سے جو نقشہ بنی ہوئی ہے اور بدوں نقشہ بنی ہوئی ہے تاکہ ہم اپنی قدرت کھول کر دکھلادیں تم کو اور پھر ٹھیرائے رکھتے ہیں، ہم تم کو پیٹ میں جب تک بھی ہم چاہیں مدت معینہ تک پھر ہم نکالتے ہیں تم کو ایک بچہ ہونے کی صورت میں، پھر یہ کہ تم پہنچ جاؤ اپنی جوانی کی قوت اور زور تک، اور تم میں سے کچھ وہ ہوتے ہیں جن کو قبض کرلیا جاتا ہے اور بعض وہ ہوتے ہیں جن کو ارذل عمر یعنی عمر کے آخری حصہ تک لوٹایا جاتا ہے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ سمجھنے اور جاننے کے بعد بھی کسی چیز کو نہیں سمجھتا (قوی بیکار ہوجانے سے) اور اے مخاطب تو زمین کو دیکھتا ہے ایسی حالت میں کہ وہ خراب اور خشک پڑی ہے، پھر جب ہم نے اس پر پانی برسایا تو تروتازہ ہوگئی اور ابھری اور اگانے لگی قسم قسم کے رونق کی چیزیں (پھل اور پھول) یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بیشک اللہ ہی قادر مطلق اور ذات برحق ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور یقیناً وہی ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھنے والا ہے اور قیامت بیشک آنے والی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں اور یقیناً وہ پروردگار دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے گا ان مردوں کو جو قبروں میں (مدفون) ہیں۔
مقصد یہ ہے کہ اگر کسی کو یہ دھوکہ لگ رہا ہے کہ انسان کے ریزہ ریزہ ہوچکنے کے بعد دوبارہ اس کو زندگی کس طرح دی جائے گی تو انسان کو چاہیے کہ خود اپنی پیدائش، پیدائش اطوار پر اور بنجر زمین پر بارشوں کے برسنے کے بعد طرح طرح کے سبزے اور شادابیوں کے اگنے کے مناظر دیکھ کر یقین کرلے کہ بس ایسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی دوبارہ حیات وزندگی عطا فرمائے گا جب زمین میں ہر تخم اور بیج ڈالے جانے کے بعد ریزہ ریزہ ہو کر زمین کے اجزاء میں اس طرح خلط ملط اور حتی کہ ذرہ خاک بن کر بھی پھر وہی تخم ایک درخت کی صورت میں زمین پر نمودار ہورہا ہے تو اسی طرح اگر انسان کی ہڈیاں اس کا گوشت پوست بھی خواہ زمین میں مل کر خاک ہوچکا ہو یا ہواؤں میں اسکے ذرات اڑ رہے ہوں یا پانی میں بہہ رہے ہیں تو ان سب اجزاء کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندگی دیدے تو کیا عجب ہے زمین پر اگنے والا ہر درخت اور گھانس کا تنکہ بعث بعد الموت کا ایک کامل ترین نمونہ ہے۔
اس سائنسی دور میں اگر فضا میں منتشر شدہ آوازیں ضبط کی جاتی ہیں، تو یہ بات مادہ پرست انسان تسلیم کرنے سے کیوں تردو کرتا ہے کہ پروردگار عالم اپنی قدرت کاملہ سے انسانی اجسام اور ان کے پراگندہ اجزاء حتی کہ مٹی اور پانی میں تحلیل شدہ گوشت و پوست کو بھی جمع کرکے دوبارہ مبعوث فرما دے گا۔
مسئلہ بعث بعد الموت سے متعلقہ یہ مضامین اگرچہ گزشتہ حصہ تفسیر میں متعدد مواقع میں گذر چکے لیکن مزید تحقیق کے طور پر ان مضامین کا پھر یہاں ایک مرتبہ اعادہ کردیا گیا، بہرکیف یہ اعادہ افادہ سے خالی نہیں۔
عالم جسمانی کی حقیقت اور اسکی موت وحیات :
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) ” تقریر دلپذیر “۔ میں عالم جسمانی کی حقیقت اور اس کی حیات وممات پر ایک تفصیلی بحث کے دوران فرماتے ہیں۔
” عالم جسمانی بھی انسان کی طرح مختلف اجزاء سے مرکب ہے اور جس طرح انسان کی ہیئت ترکیبی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ اس کی حیات مستعار محض ہے اور چند روزہ ہے اور اس کے بعد موت ہے اسی طرح اس عالم پر بھی ایک وقت موت کا آنے والا ہے اور جیسے انسان پر مختلف دور گزرتے ہیں، طفولیت وشباب اور پیری اور پھر موت اسی طرح عالم کے لیے بھی طفولیت وشباب اور بڑھاپے کا زمانہ ہے اس کے بعد اسکو فنا ہے اور یہ قیام قیامت کا وقت ہے اس وقت مجموعہ عالم کا قبض روح ہوگا اور اس کی حیات ختم ہوجائے گی آسمان و زمین پھٹ جائیں گے اور عالم کا تمام شیرازہ منتشر ہوجائے گا۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جیسے انسان ایسے متضاد اجزاء یعنی عناصر اربع آب وخاک وآتش وہوا سے مرکب سے کہ باہم ایک دوسرے کے دشمن ہیں، ہر ایک کا مزاج دوسرے کے مخالف ہے ایسے ہی یہ سارا عالم بھی اشیاء مختلف المزاج اور مختلف التاثیر سے مرکب ہوا ہے انسان کے اجزاء اس قدر مختلف المزاج اور مختلف التاثیر نہیں، جتنا کہ عالم کے اجزاء مختلف المزاج اور مختلف التاثیر ہیں اور جب ہر چیز کا مزاج اور اس کی تاثیر علیحدہ ہے تو لامحالہ ایک دوسرے کا دشمن ذاتی اور مخالف اصلی ہوگا اور جب کبھی کسی جز کا ذرا بھی غلبہ ہوگا تو مزاج عالم میں ضرور فساد آئے گا اور جو اعتدال اس سے قبل تھا وہ باقی نہ رہے گا اور یہ حالت عالم کے لیے بمنزلہ مرض کے ہوگی جیسے انسان میں جب کوئی مرض آتا ہے تو وہ کسی خاص جز کے غلبہ ہی کی وجہ سے آتا ہے مثلا جب آگ کا غلبہ ہوتا ہے تو بخار آتا ہے جب پانی کا غلبہ ہوتا ہے تو زکام اور فالج اور وجع المفاصل جیسے امراض ظاہر ہوتے ہیں اور جب خاک کا غلبہ ہوتا ہے تو یبوست (خشکی) کی وجہ سے خارش پیدا ہوتی ہے اور ہوا کی زیادتی سے ورم اور ریاحی درد پیدا ہوتے ہیں۔
آدمی کا بدن فقط چار اجزاء سے مرکب ہے جب ان چارہی کے غالب ومغلوب ہونے سے ہزاروں امراض پیدا ہوتے ہیں تو عالم جو کہ بےاجزاء سے مرکب ہے ان کے غالب ومغلوب ہونے سے تو لاکھوں امراض پیدا ہونے چاہئیں۔ آسمان اس عالم کا سر ہے اور آگ سینہ ہے اور ہوا پیٹ ہے اور زمین اس کے پاؤں ہیں اور پانی بمنزلہ ہاتھ کے ہے اور شمس وقمر بمنزلہ آنکھ کے ہیں اور پہاڑ بمنزلہ ہڈیوں کے اور اشجار بمنزلہ بال اور روئیں کے ہیں۔
غرض جیسے ایک انسانی جسم پر موت وفنا کا طاری نظام قدرت ہے اسی طرح حق تعالیٰ نے نظام کائنات میں بھی یہ مقدر فرمایا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ یہ تمام عالم دنیا بھی دنیا بھی انسانی جسم کی طرح امراض، آفات ومصائب اور بلاؤں میں مبتلا ہوتے ہوتے زوال وفنا کا راستہ اختیار کرلے گا اور اسرافیل (علیہ السلام) کا نفخ صور عالم دنیا کے اس طویل و عریض اور وسیع جسد عنصری کو درہم برہم کرڈالے گا۔
حاشیہ (تقریر دلپذیر بحوالہ علم الکلام حضرت نانوتوی (رح) کا یہ مقالہ عجیب حقائق ومعارف کا خزانہ ہے اہل علم اصل کی طرف مراجعت فرمائیں۔
مسئلہ بعث اور معاد ابدان :
حافظ ابن قیم (رح) نے ” کتاب الروح “ میں فرمایا، مسئلہ بعث اور معاد ابدان ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ اس پر تمام مذاہب وادیان سماویہ پر ایمان رکھنے والوں کا اتفاق ہے خواہ وہ یہودہوں یا نصاری ،۔
جلال الدین الدوانی (رح) نے یہی مسئلہ بعث کے ثبوت پر دلائل ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پر تمام اہل ملل (یعنی سماویہ) کا اجماع ہے اور قرآن کریم کی ایسی واضح اور صریح نصوص سے مثلا (آیت) ” قل یحیھا الذی انشاھا اول مرۃ “۔ ثابت ہے کہ کسی بھی فلسفی کو تاویل کی گنجائش نہیں۔ 1
حاشیہ (شرح عقیدۃ السفارینی ج 2 ص 151)
امام بیہقی (رح) نے ابن عباس ؓ سے ایک روایت تخریج کی کہ عاص بن وائل (جومشرکین میں سے ایک بہت بڑا سرغنہ تھا) ایک سوکھی ہوئی ہڈی لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس کو چورا چورا کرکے کہنے لگا، اے محمد ﷺ کیا اللہ اس کو بھی زندہ کرے گا بعد اس کے کہ یہ ریزہ ریزہ ہوچکی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، اللہ رب العزت اس کو زندہ کرے گا اور اس کے بعد تجھ کو عذاب دے گا اس واقعہ پر قرآن کریم میں یہ آیت نازل ہوئی۔
(آیت) ” اولم یرالانسان انا خلقناہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین “۔ (سورۃ یس ٓ)
کیا نہیں دیکھا انسان نے اس بات کو بیشک ہم ہی نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا پھر ناگہاں وہ کھلم کھلا خصومت کرنے والا ہوگیا ہے۔
امام رازی (رح) نے فرمایا حق یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ حشر جسمانی کا انکار جمع ہونا ممکن ہی نہیں ان ہی دلائل ونصوص کے پیش نظر جس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے، اور علی ہذا القیاس قدم عالم کا قول جس کے قائل فلاسفہ ہیں حشر جسمانی کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا۔
بہرکیف اصول شریعت اور بیان کردہ دلائل سے یہ ظاہر ہے کہ اس بات پر ایمان لاناضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز تمام بندوں کو مع ان کے ابدان اور اجزاء اصلیہ کے زندہ کرکے اٹھائے گا اور ان کو محشر کی جانب لے جایا جائے گا تاکہ انکے اعمال کی جزاء وسزا کا فیصلہ ہو اس طرح سے آخرت اور حشر جسمانی پر ایمان لانا کتاب اللہ سنت رسول اللہ اور اجماع امت وسلف سے ثابت ہے جس کے استحالہ پر عقلی دلیل قائم نہیں کی جاسکتی۔ اول تو اجزاء بدنیہ معدوم نہیں ہوتے بلکہ ان کا استحالہ اور تغیر ہوجاتا ہے دوسری صورتوں میں جس طرح کہ لکڑی جلنے کے باوجود معدوم نہیں بلکہ وہ راکھ اور کوئلہ کے شکل کی طرف مستحیل ہوتی ہے لیکن بالفرض معدوم بھی قرار دے لیا جائے تب بھی کوئی عقلی دلیل محال ہونے پر قائم نہیں کی جاسکتی، کیونکہ جب دلائل ظاہرہ اور حجج قاہرہ سے یہ ثابت ہے کہ حق تعالیٰ ایجاد ومعدوم پر قادر ہے اور یہ ساری کائنات اس کا ثبوت ہے تو اعادہ معدوم پر وہ کیونکر قادر نہ ہوگا یہی وہ حقیقت ہے جس کو ان الفاظ میں تعبیر فرمایا گیا۔
(آیت) ” کما بدانا اول خلق نعیدہ “۔ (سورۃ الانبیاء) جس طرح ہم نے مخلوق کو اول مرتبہ ایجاد کیا اسی طرح ہم اس کا اعادہ بھی کریں گے۔
علامہ سفارینی (رح) بعث جسمانی کے مسئلہ پر بحث کے دوران عکرمہ (رح) سے نقل کرتے ہیں فرمایا، جو لوگ سمندر میں غرق ہوجائیں اور ان کے گوشت پوست سمندر کی مچھلیاں کھاجائیں اور ان کی ہڈیوں کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے پھر ان ہڈیوں کو سمندر کی موجیں ساحل پر ڈال دیں اور پھر اسی طرح کچھ عرصہ پڑی رہیں یہاں تک کہ بوسیدہ ہوجائیں، اور پھر اس جگہ پر اونٹوں کا گذر ہو وہ اس کو کھالیں اور مینگنی کردیں، پھر کچھ عرصہ بعد کوئی قافلہ اس جگہ آکر ٹھہرے اور ان مینگنیوں کو قافلہ کھانا پکانے کے لیے جلالے تاآنکہ یہ آگ بجھ کر راکھ ہوجائے اور اس راکھ کو ہوائیں اڑا کر دور دراز میدانوں تک منتشر کردیں تو بھی نفخ صور ہوتے ہی یہ سب مردے جن کی ہڈیوں کی راکھ اس طرح منتشر وپراگندہ ہوچکی ہے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان میں اور قبروں سے ان مردوں کے اٹھنے میں کوئی فرق نہ ہوگا جن کے ابدان قبور میں ابھی صحیح وسالم ہیں،
شیخ مرعی (رح) فرماتے ہیں خداوندعالم انسانوں کے ان تمام اجسام کو بھی دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا جن کے ٹکڑے درندوں کے پیٹوں، زمین کی تہوں اور سمندر کی موجوں اور بحری جانوروں کے مونہوں میں ہیں ہر ایک ٹکڑے کو اللہ اپنی قدرت سے سمیٹ کر یکجا کردے گا اور ان کو زندہ کرکے اٹھائے گا یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث کے مضمون سے واضح اور ثابت ہوتی ہے۔
عن ابی ھیریرۃ ؓ قال قال اللہ رسول اللہ قال رجل لم یعمل خیرا قط لا ھلہ وفی روایۃ رجل اسرف علی نفسہ فلما حضرہ الموت اوصی لبنیہ اذا مات فحرقوہ ثم اذروانصفہ فی البر ونصفہ فی البحر فو اللہ لئن قدر اللہ علیہ لیعذبنہ عذابا لا یعذبہ احدا من العلمین۔ فلما مات فعلواما امرھم فامر اللہ البحر فجمع مافیہ وامر البر فجمع ما فیہ ثم قال لہ لم فعلت ھذا، قال من خشیتک یارب وانت اعلم فغفرلہ۔ (صحیح بخاری، مسلم بحوالہ مشکوۃ المصابیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک ایسے شخص نے جب نے کوئی خیر کا کام نہیں کیا تھا، اپنے گھروالوں کو بطور وصیت یہ کہا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ایسے شخص نے کہ اس نے اپنے اوپر بہت ہی تعدی (زیادتی) کی تھی تو جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ جب وہ مرجائے تو پہلے اس کو جلا دینا پھر اس کی راکھ نصف تو ہوا میں اڑا دینا اور نصف سمندر میں بہا دینا اور کہا کہ خدا کی قسم اگر خدا تعالیٰ مجھ پر قادر ہوگیا تو ایسا عذاب دے گا کہ جہان والوں میں کسی کو ایسا عذاب نہ دے گا، الغرض جب وہ شخص مرگیا تو اس کے حکم کے مطابق گھروالوں نے معاملہ کیا لیکن اللہ رب العزت نے خشکی کو حکم دیا کہ اس کی راکھ کے جو اجزاء ہیں وہ جمع کرلے، چناچہ اس نے جو کچھ اس میں تھا جمع کرلیا پھر سمندر کو حکم دیا کہ اس میں جو کچھ ہے وہ جمع کرلے اس نے بھی راکھ کے وہ تمام اجزاء جمع کرلیے (جو سمندر میں بہہ رہے تھے اس طرح اللہ رب العزت نے اسکو زندہ کرکے اٹھا یا اور فرمایا اے بندے ! یہ تو نے کس لیے کیا، عرض کیا ! اے میرے پروردگار تیرے خوف سے تو حق تعالیٰ شانہ نے اس کی اس خشیت اور عذاب خداوندی کے ہیبت پر مغفرت فرما دی۔
معاد جسمانی اور حشر ابدان پر عقلی شواہد :
علامۃ الدہر شیخ حسین آفندی (رح) مسئلہ بعث ومعاد اور حشر جسمانی پر محققانہ کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں، مسئلہ بعث اور آخرت مقتضائے عقل کے عین مطابق اور سراپا حکمت اور مصلحت ہے کیونکہ آخرت کا خوف اور جزاء وسزا کی فکر ہی انسانی زندگی اور عالم کو برے اعمال وافعال ظلم وتشدد وخیانت مکرو فریب فواحش ومنکرات سے بچانے والی چیز ہے، اگر انسانی اذہان اس فکر وخوف سے خالی ہوجائیں تو پھر نہ قتل و خونریزی میں کسی کو کوئی تامل ہوگا نہ اعمال واخلاق اور معاشرت کے مفاسد وتباہیوں کی کسی کو پرواہ ہوگی، حتی کہ کوئی بڑی سی طاقت ور حکومت اور زائد سے زائد باوقار بادشاہ بھی ہو تو تب بھی مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد صرف اسی حد تک اپنے جرائم سے رک سکتے ہیں جہاں تک ان پر حکومت کے نگران حکام قائم اور مسلط ہیں ایسے افراد جس کسی بھی مرحلہ پر گرفت اور نگرانی کی بندشیں ذرا بھی ڈھیلی دیکھیں گے، فورا اسی ظلم وستم قتل و غارت گری اور مجرمانہ روش کو اختیار کرلیں گے، رات کی تاریکیوں خلوتوں اور ایسے بیابانوں میں جہاں اس پر کسی انسان کی نگاہ نہ پڑ سکتی ہو، بےراہروی سے باز رکھنے والی طاقت صرف خوف خداوندی اور یوم الحساب (آخرت) کا اندیشہ ہی ہے، علی ہذا القیاس محاسن افعال اور بھلائیوں کا حصول بھی اسی پر موقوف ہے، لہذا معلوم ہوا کہ نظام عالم کی تکمیل اور درستگی بعث ومعاد پر ایمان اور دار آخرت کے شوق وخوف کے بغیر ممکن نہیں، پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر مسئلہ معاد تسلیم نہ کیا جائے تو انسان بجائے اشرف المخلوقات ہونیکے حیوانات سے بھی زائد خسیس اور کم درجہ ہوجائے گا کیونکہ حیوانات عقل وادراک کی صلاحیتوں سے محروم ہیں، وہ ہر قسم کے فکر وغم سے آزاد ہیں برخلاف انسان کے کہ وہ طرح طرح کے افکار اور پریشانیوں میں مبتلا رہتا ہے کبھی ماضی کے احوال پر نظر کرکے وہ غم اور ملال میں مبتلا ہے، تو کسی وقت مستقبل کے فکر اور اندیشہ سے اس کی جان گھلی جارہی ہے ،
رہا جسمانی لذتوں اور راحتوں کا سوال ؟ سو اس میں حیوان و انسان کوئی امتیاز نہیں رکھتا، جس طرح ایک انسان لذیذ غذاؤں اور قسم قسم کے پھلوں کو لذت ورغبت سے کھاتا ہے، حیوانات اسی لذت ورغبت سے گھاس اور چارہ کھاتے ہیں جیسے حضرت انسان اپنے عالیشان مکانوں میں آرام و راحت حاصل کرتا ہے، جانور چرند پرند اپنے اپنے اصطبل گھونسلوں، آشیانوں اور بلوں میں آرام حاصل کرتے ہیں حتی کہ نجاست کا کیڑا نجاست کو اسی لذت سے کھاتا ہے جیسے نوع بشر میں لذیذ غذائیں استعمال کی جاتی ہوں تو اگر آخرت کے مسئلہ سے صرف نظر کرلی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ انسان بہت ہی خسارہ اور نقصان میں پڑنے والی مخلوق ہے کہ جسمانی لذتوں اور راحتوں میں تو یہ عام حیوانات ہی کے برابررہا اس کے بعد امتیاز وخصوصیت کا یہ طغرا ملا کہ طرح طرح کے افکار وآلام اور ہموم وغموم کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے جس میں حاکم و محکوم امیر و غریب بوڑھا اور جوان، مرد و عورت غرض سب برابر کے شریک ہیں گویا اس کے عقلی وفکری کمالات نے بجائے کسی عظمت و برتری کے اور مصیبت وذلت میں ڈال دیا تو انسان کے اس عقلی کمال اور ادراکی صلاحیتوں کے ساتھ اگر مسئلہ معاد ہی نہ ہو اور نہ آخروی سعادت کا حصول ہو تو وہ تمام عملی اور اخلاقی کمالات، زہد وتقوی، صبر و قناعت، خدمت خلق، ایثار وہمدردی جیسی تمام خوبیوں سے محروم رہے گا، مسئلہ عقاب وثواب کے بغیر انسانی زندگی کسی طرح بھی حیوانی زندگی سے کوئی برتری اور امتیاز حاصل نہیں کرسکتی بلکہ ان محیرالعقول انسانی کمالات کے باوجود انسان اپنی زندگی کو اگر صرف اسی حد تک محدود کردے جن حدود میں حیوانات محدود ہیں تو بلاشبہ یہ چیز اس کو زیادہ سے زیادہ خسیس و ذلیل بنادینے والی ہوگی یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے منکرین آخرت کو انعام (چوپایوں) کے درجہ میں بلکہ ان سے بھی زائد حقارت و پستی کے مقام میں شمار کیا، چناچہ ارشاد ہے۔
(آیت) ” ان ھم الا کالانعام بل ھم اضل سبیلا “۔ کچھ نہیں ہیں یہ کافر مگر چوپاؤں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں راہ سے۔
کیونکہ چوپائے بہرحال اپنے پرورش کرنیوالے مالک کو پہچان لیتے ہیں اور اس کے سامنے گردن جھکا دیتے ہیں اسکو محسن سمجھتے ہیں، کسی نہ کسی درجہ میں نفع وضرر کو جانتے ہیں اگر ان کو کھلا چھوڑ دو تو چراگاہ کی طرف پہنچ جاتے ہیں جہاں انکو غذا اور پانی مل جاتا ہے، لیکن یہ منکرین آخرت اور کافرنہ اپنے مالک کو پہچانتے ہیں نہ اپنے محسن کو سمجھتے ہیں اور نہ اپنے نفع ونقصان کی تمیز کرتے ہیں اور جس عقل وفہم سے یہ خدا کو پہچان کر بیشمار دینی اور دنیوی کمالات اور سعادتیں حاصل کرتے اس کو معطل رکھ کر اپنے واسطے ابدی ہلاکت اور تباہی کا سامان مہیا کیا بھلا بتایا جائے کہ اس سے زیادہ اور کون سابدعملی کا مقام ہوسکتا ہے۔
حاشیہ (مسئلہ معاد اور بعث بعد الموت کی تفاصیل کے لیے اہل علم کتب علم الکلام کی مراجعت فرمائیں، شرح عقیدۃ السفارینی میں علامہ (رح) نے تفصیل سے کلام فرمایا ہے اور الرسالۃ الحمیدہ فی حقیقۃ الدیانۃ الاسلامیہ میں علامہ جسر طرابلسی (رح) نے نہایت ہی حکیمانہ انداز سے تفصیل بیان کی ہے، کتاب علم الکلام تالیف حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی (رح) کی اردو زبان میں مسائل کلامیہ کا ایک بلند پایہ مجموعہ ہے۔ )
اثبات قیامت اور حشر ونشر سے تمام قرآن کریم از اول تا آخر بھرا ہوا ہے، یہ مضامین مندرجہ ذیل ایک سو ایک سورتوں میں مذکور ہیں۔
(1) البقرہ۔ (2) ال عمران۔ (3) المائدہ۔ (4) انعام۔ (5) الاعراف۔ (6) یونس۔ (7) ھود۔ (8) ابراھیم۔ (9) الحجر۔ (10) النحل
(11) بنی اسرآئیل۔ (12) الکہف۔ (13) مریم۔ (14) طہ۔ (15) الانبیاء۔ (16) الحج۔ (17) ال مومن ون۔ (18) النور۔ (19) الفرقان۔ (20) النمل۔ (21) القصص۔ (22) الروم۔ (23) لقمان۔ (24) السجدۃ۔ (25) الاحزاب۔ (26) السبا۔ (27) یسٓ۔ (29) والصافات۔ (30) الزمر۔ (31) ال مومن۔ (32) حم السجدۃ۔ (33) الشوری۔ (34) الزخرف۔ (35) الدخان۔ (36) الجاثیہ۔ (37) الاحقاف۔ (38) ق۔ (39) الذاریات۔ (40) الطور۔ (41) النجم۔ (42) القمر۔ (43) الرحمن۔ (44) الواقعۃ۔ (45) المجادلۃ۔ (46) الممتحنۃ۔ (47) التغابن۔ (48) التحریم۔ (49) الملک۔ (50) القلم۔ (51) الحاقۃ۔ (52) المعارج۔ (53) المزمل۔ (54) المدثر۔ (55) القیمۃ۔ (56) المرسلت۔ (57) النبا۔ (58) النزعت۔ (59) عبس۔ (60) التکویر۔ (61) الانفطار۔ (62) الانشقاق۔ (63) القارق۔ (64) الغاشیۃ۔ (65) الفجر۔ (66) التین۔ (67) العدیات۔ (68) القاریۃ۔ وغیرہ۔
مضامین قیامت اور حشر ونشر پر مشتمل سورتوں کی تعداد، 68۔
مضامین قیامت اور حشر ونشر پر مشتمل آیات کی تعداد 169۔
اور یہ تعداد ان آیات کی ہے جن میں یہ مضامین قصدا اہمیت و تفصیل اور دلائل کے ساتھ ذکر کئے گئے ان کے علاوہ جن میں ان مضامین کا تبعا وا شارۃ یا ضمنا ذکر آیا وہ آیات بھی سینکڑوں سے متجاوز ہیں۔