83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 83:1

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے

ویل للمطففین الذین ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والوں کیلئے ویل ہے
Ayah 83:2

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں

اذا اکتالوا علی الناس یستوفون . جو اگر لوگوں سے اپنا حق ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا ناپتے ہیں۔ الطفّ حقیر المطففین سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو الذین سے بیان کیا ہے۔ اکتالوا : ناپ کرلیتے ہیں یا تول کر اس جگہ صرف ناپ کے ذکر پر اکتفا کیا کیونکہ آگے اوذنوھم آیا ہے۔ قرینہ موجود ہے کہ اس جگہ بھی ناپ اور تول دونوں مراد ہیں یا یوں کہا جائے کہ اس زمانہ میں پیمانوں سے ناپ کر لین دین زیادہ ہوتا تھا ‘ تول کر کم ہوتا تھا۔ بجائے من الناس (لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں) کے علی الناس (لوگوں پر) فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ علی الناس کہنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ لوگوں پر جو ان کا حق ہوتا ہے اس کو وہ پورا پورا لیتے ہیں یا یوں کہو کہ لوگوں پر اپنا حق مکر کے ساتھ ٹھونس کر وصول کرتے ہیں۔ فراء نے کہا : ایسے مقام پر من اور علٰی دونوں مستعمل ہیں۔ اکتلت علیک : میرا جو کچھ تجھ پر تھا وہ میں نے ناپ کرلے لیا۔ اکتلت منک : تجھ سے میں نے پورا پورا وصول کرلیا۔
Ayah 83:3

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں

واذا کالوھم اوزنوھم یخسرون . اور جب ان کو ناپ تول کردیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ کالوھم اور وزنوھم میں حرف جار محذوف ہے۔ اصل میں کالُوْالَھُمْ اور وَزَنُوْالَھُمْ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل کلام کالُوْا مَکِیْلَھُمْ تھا۔ مکیل (ناپی ہوئی چیز) کو حذف کر کے ھُم کو اس کے قائم مقام کردیا۔ یُخْسِرُوْنَ : ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ خسر المیزان واخسرَہٗ : وزن کم ہوگیا اور وزن کو کم کردیا۔ ایسا کرنے کو تطفیف کہا جاتا ہے کیونکہ ناپ تول میں کمی حقیر سی ہی ہوتی ہے۔ آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ حقیر چیز کی کمی بھی ویل و عذاب کی موجب ہے ‘ زیادہ چیز کی کمی تو بطریق اولیٰ موجب عذاب ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں ‘ پانچ چیزوں سے آتی ہیں۔ جس قوم نے بھی عہد توڑا اللہ نے ان کے دشمن کو ان پر مسلط کردیا۔ جس قوم نے بھی اللہ کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ان میں افلاس ضرور پھیل گیا۔ جس قوم میں بدکاری کھلم کھلا ہوئی ان میں موت ضرور پھیلی۔ جس قوم نے بھی ناپ تول میں کمی بیشی کی اس سے زمین کی روئیدگی ضرور روک دی گئی اور کال میں مبتلا کیا گیا اور جس قوم نے زکوٰۃ روکی ‘ اس سے بارش روک دی گئی۔ (رواہ الحاکم من حدیث بریدۃ و من حدیث عبداللہ بن عمرو بن العاص) ہم نے ماضی کے صیغوں کا ترجمہ ماضی کے صیغوں سے ہی کیا ہے اگرچہ سیاق حدیث کا تقاضا ہے کہ ضوابط خمسہ استمراری قرار دیئے جائیں لیکن حدیث میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو مستقبل کے لیے بھی مفید استمرار ہو اس لیے ماضی کا ماضی سے ترجمہ کیا گیا) طبرانی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مال غنیمت کی چوری جس قوم میں پیدا ہوئی ‘ اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ضرور ڈال دیا اور سود جس قوم میں پھیلا اللہ نے ان میں موت زیادہ کردی اور جس قوم نے ناپ تول میں کمی کی ‘ اللہ نے ان سے رزق قطع کردیا اور جس قوم نے خلافِ حق فیصلے کیے ان کے اندر خونریزی ضرور پھیل گئی اور جس قوم نے عہد کو توڑا اللہ نے ان پر دشمن کو مسلط کردیا۔ رواہ مالک موقوفا۔ اس حدیث میں ختر کا معنی ہے عہد شکنی۔ ناپ تول میں کمی کرنے کی پاداش میں جو رزق قطع کردیا جاتا ہے ‘ کبھی تو اس طرح ہوتا ہے کہ آدمی فقیر ہوجاتا ہے ‘ اس کے پاس کچھ رہتا ہی نہیں ہے ‘ کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ رزق ہوتا ہے مگر کھا نہیں سکتا ‘ جیسا کہ ہمارے ملک میں بنیوں کا حال ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ بائع کی طرف سے گزرتے تو فرماتے : اللہ سے ڈرتا رہ ‘ ناپ تول پورا کیا کر کیونکہ قیامت کے دن ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو اتنا کھڑا کیا جائے گا کہ پسینہ کی لگام ان کے دہانہ پر ہوجائے گی اور آدھے کانوں تک پسینہ پہنچے گا (گویاپسینہ میں غرقاب ہوں گے ‘ ناک اور ناک سے اوپر کا حصہ ڈوبنے سے بچے گا) ۔
Ayah 83:4

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے

الا یظن اولئک انھم مبعوثون . کیا ان کو گمان بھی نہیں کہ قیامت کے دن حساب کے لیے ان کو اٹھایئے جائیگا۔ یقین کی جگہ ظن کو ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس کو یوم آخرت میں حساب فہمی کا گمان بھی ہوگا وہ بھی ایسی حرکتیں نہیں کرے گا ‘ جو مصائب قیامت کا موجب ہوں ‘ یقین رکھنے و الا تو بدرجۂ اولیٰ ایسی حرکتوں سے باز رہے گا۔ استفہام انکاری ہے اہل تطفیف کے حال کو تعجب آفریں بتانا اور ان کو زجر کرنا بھی مقصود ہے۔
Ayah 83:5

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

(یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں

لیوم عظیم . لام علّت کا ہے یعنی یومٍ عظیمٍ کے حساب کے لیے یا ظرفیہ بمعنی فی ہے۔ یوم عظیم میں۔ روز قیامت کو یوم عظیم اس لیے قرار دیا کہ اس دن کے واقعات عظیم ہوں گے۔ ابن مبارک نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ تم سے پہلے کچھ قومیں ایسی گزری ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ان سنگریزوں (کے شمار) کے برابر بھی (راہ خدا میں) صرف کردیتا تب بھی روز قیامت کی عظمت کا خوف اس کو لگا رہتا اور آخرت کے ڈر سے اس کی رہائی نہ ہوتی۔
Ayah 83:6

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

یوم یقوم الناس . اس کا تعلق مبعوثون سے ہے یعنی اس روز ان کو اٹھایا جائیگا جس روز لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔ یا یوم عظیم سے بدل ہے اور غیر متمکن کی جانب اضافت کی وجہ سے مفتوح ہے یعنی وہ دن جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ لرب العالمین . یعنی رب العٰلمین کی طرف سے حساب اور سزا و جزا کیلئے لوگ کھڑے ہوں گے۔ حضرت ابن عمر کی مرفوع روایت ہے کہ رب العالمین کے سامنے لوگ اس روز کھڑے ہوں گے جبکہ بعض لوگ اپنے پسینے میں نصف کانوں تک ڈوبے ہوں گے۔ حاکم نے حضرت ابوسعید خدری کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں کو اتنا پسینہ آئے گا کہ زمین میں ستّر بانہہ تک پہنچ جائے گا اور کانوں تک پسینہ کی لگام لگی ہوگی۔ طبرانی اور ابو یعلی اور ابن حبان ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول لکھا ہے کہ قیامت کے دن کافر کو اس کے پسینہ کی لگام لگی ہوگی (یہی منہ تک پسینہ میں غرق ہوگا) یہاں تک کہ وہ کہے گا : پروردگار ! مجھے اس سے نجات دے۔ خواہ دوزخ ہی کو بھیج دے۔ حاکم ؓ نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مقام حشر میں (کچھ) لوگوں کو پسینہ کی لگام لگی ہوگی اور وہ عرض کرے گا۔ پروردگار ! میرے لیے دوزخ میں چلا جانا اس تکلیف سے آسان ہے جو میں پا رہا ہوں ‘ وہ دوزخ کے عذاب کی شدت سے واقف ہوتے ہوئے ایسا کہے گا۔ بیہقی نے آیت : یوم یقوم الناس لرب العالمین کی تشریح میں قتادہ کا قول نقل کیا ہے۔ قتادہ نے کہا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ حضرت کعب ؓ فرماتے تھے کہ لوگ بمقدار تین سو برس کھڑے رہیں گے۔ حضرت مقداد ؓ بن اسود نے کہا میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب آجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک میل کے بقدر ہوگا۔ سلیم بن عامر نے کہا : خدا کی قسم ہم کو نہیں معلوم کہ میل سے حضور ﷺ کی کیا مراد ہے کیا زمین کی مسافت مراد ہے یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی (حضور ﷺ نے فرمایا) لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینہ میں ہوں گے۔ پسینہ بعض لوگوں کے ٹخنوں تک ‘ بعض کے زانو تک ‘ بعض کے کمر تک ہوگا اور بعض کو پسینہ کی لگام لگی ہوگی (یعنی منہ تک ہوگا) رسول اللہ ﷺ نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھ سے منہ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ (مسلم) حضرت عقبہ بن عامر ؓ کی روایت سے بھی یہ حدیث طبرانی ‘ احمد ‘ ابن حبان ‘ بیہقی اور حاکم نے لکھی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے۔ حضرت ابو امامہ باہلی کی روایت سے بھی احمد و طبرانی نے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ سورج کی گرمی سے (پسینہ میں) کیڑے مکوڑے اس طرح ابال کھائیں گے جس طرح ہانڈی میں ابال آتا ہے۔ احمد و طبرانی نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت انس کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ آغاز آفرنیش سے موت سے زیادہ سخت تکلیف آدمی کو پیش نہیں آتی لیکن موت بعد والی شدائد سے آسان ہے اس روز کی دہشت سے لوگوں کو ایسا پسینہ آئے گا کہ منہ تک پسینہ کی لگام لگ جائیگی اگر کشتیاں اس میں چلائی جائیں تو چل جائیں۔ بیہقی (رح) نے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ اس روز سختی کی اتنی شدت ہوگی کہ حساب سے پہلے کافر کو پسینہ کی لگام لگ جائیگی۔ دریافت کیا گیا : پھر مؤمن کہاں ہوں گے ؟ فرمایا : سونے کی کرسیوں پر ابر کے سایہ کے نیچے۔ ہناد نے یہ تمام حدیث حضرت ابن مسعود کی طرف بھی نسبت کر کے بیان کی ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ مؤمنوں کے لیے وہ پورا دن ‘ بس دن کی ایک گھڑی کے برابر ہوگا۔ ہناد اور ابن مبارک نے حضرت سلمان فارسی کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن سورج لوگوں کے سروں کے قریب دو کمانوں کے فصل کی برابر یا دو کمان کے برابر آجائے گا اور دس سال کی گرمی دے گا اس روز کسی کے بدن پر کوئی پردہ نہ ہوگا۔ مؤمن اور مؤمنہ کا ستر دکھائی نہ دے گا اور نہ سورج کی گرمی مؤمن و مؤمنہ کو محسوس ہوگی۔ ہاں ! کافروں کو وہ گرمی خوب پکائے گی کہ ان کے اندر سے عق ‘ عق کی آواز سنائی دے گی۔
Ayah 83:7

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں

کلا . یہ بجائے خود پورا کلام ہے اور تطفیف مذکور سے بازداشت ہے۔ حسن بصری نے فرمایا : کَلاَّ اس جگہ ابتدائیہ ہے بعد والے کلام سے اس کا ربط ہے اور حَقًّا (یقینا) کا ہم معنی ہے۔ ان کتب الفجار لفی سجین . الفجار سے مراد ہیں کافر یعنی کافروں کے اعمالنامے جن کو کرام کاتبین لکھتے ہیں۔ سجّین میں ہیں۔ سِجین۔ سجن سے مشتق ہے۔ سجن کا معنی ہے حبس ‘ قید۔ قاموس میں ہے سجین بروزن سکین۔ دوامی سخت قید۔ اخفش نے کہا : سجین ‘ سجن سے بروزن فعیل ہے جیسے شِرِیْبٌ : بہت پینے والا۔ فسیقٌ: بڑا فاسق۔ ایسے ہی سجین : سخت قید۔ عکرمہ نے کہا آیت لفی سجین میں سجین سے مراد ہے ذلت اور گمراہی۔ حقیقت میں فجار کے مندرجہ کتب اعمال ان کی قید ‘ ذلت اور گمراہی کے موجب ہیں (یعنی اپنے اعمال کی وجہ سے کافر قید ‘ ذلت اور گمراہی میں ہوں گے) مگر مجازاً کتاب کو قید و ذلت میں قرار دیا۔ احادیث اور آثار سے ظاہر ہے کہ سجین اس مقام کا نام ہے جہاں کفار کا رجسٹر ہے (قاموس) سجین میں کفار کا رجسٹر ہونا یا بایں معنی ہے کہ ان کے اعمالنامے وہاں رکھے جاتے ہیں یا یہ معنی ہے کہ کافر جن و انس کے اعمالناموں کی ایک کتاب ہے جس میں سب اعمالنامے جمع کیے جاتے ہیں۔ سجین کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ کافروں کی روحیں وہاں بند کردی جاتی ہیں اور سجن کا معنی حبس ہے۔ سجین ساتوں زمین یا ساتوں زمین کے نیچے ہے۔ ابن مندہ ‘ طبرانی اور ابو الشیخ نے حمزہ بن حبیب کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ارواح اہل ایمان کے متعلق دریافت کیا گیا۔ فرمایا : سبز پرندوں (کی شکل) میں جنت کے اندر جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کفار کی روحیں (کہاں ہوتی ہیں) فرمایا : سجین میں بند ہوتی ہیں۔ ابن مبارک۔ حکیم ترمذی ‘ ابن ابی الدنیا اور ابن مندہ نے بروایت سعید بن المیسب حضرت سلمان فارسی کا قول نقل کیا ہے کہ کافر کی روحیں سجین میں ہوتی ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ‘ قتادہ ‘ مجاہد اور ضحاک نے بیان کیا کہ سجین سب سے نچلی ساتویں زمین میں ہے۔ جس میں کافروں کی روحیں ہوتی ہیں۔ میں کہتا ہوں ابن ابی الدنیا نے حضرت عبداللہ بن عمر کا بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے بروایت حضرت براء ؓ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سجین سات زمینوں کے نیچے اور علیین ساتویں آسمان پر عرش کے نیچے ہے۔ مؤمنوں اور کافروں کی موت کے تذکرہ میں حضرت براء بن عازب کی طویل حدیث میں مرفوعاً آیا ہے کہ کفار کے سلسلہ میں حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے ہیں اور اللہ فرماتا ہے ‘ اس کی کتاب کو نچلی زمین میں سجین کے اندر لکھ لو۔ چناچہ اس کی روح دور پھینک دی جاتی ہے۔ (الحدیث) امام احمد (رح) وغیرہ نے بیان کیا ہے اور بغوی نے بھی شبرمہ بن عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ حضرت کعب احبار کے پاس گئے اور فرمایا ‘ آیت : ان کتاب الفجار لفی سجّین کی تشریح سے مجھے مطلع کیجئے۔ کعب احبار نے فرمایا : فاجر (کافر) کی روح کو آسمان کی طرف چڑھایا جاتا ہے مگر آسمان اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے پھر زمین کی طرف اس کو اتارا جاتا ہے۔ زمین بھی اس کو لینے سے انکار کردیتی ہے۔ آخر سات زمینوں کے نیچے اس کو داخل کیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ سجین تک اس کو پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ مقام ابلیس کی فوج کے نیچے واقع ہے۔ سجین سے اس کے لیے ایک کاغذ برآمد کیا جاتا ہے اور اس میں لکھ کر مہر کر کے ابلیس کی فوج کے نیچے (ایک مقام پر) اس کو رکھ دیا جاتا ہے تاکہ قیامت کے دن بوقت حساب اس کی تباہی کی شناخت ہو سکے۔ کلبی کا قول ہے کہ سجین ساتویں نچلی زمین کے نیچے ایک سبز پتھر ہے ‘ آسمانوں کی سبزی اسی (کے عکس) کی وجہ سے ہے ‘ اس کے نیچے کافروں کی کتاب رکھ دی جاتی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے : الفلق جہنم کے اندر سجین میں سرپوش ڈھانکا ہوا ایک کنواں ہے اور ایک کنواں سرپوش کھلا ہوا (بھی) جہنم میں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے اور سجین جہنم میں ہے یہ دونوں قول متعارض ہیں ‘ ان کا تعارض اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ ابو الشیخ نے العظمۃ میں نیز بیہقی نے باسناد ابو الزعراء حضرت عبداللہ کا قول نقل کیا ہے کہ جنت ساتویں آسمان میں اور دوزخ ساتویں نچلی زمین میں ہے۔ بیہقی نے دلائل میں حضرت عبداللہ بن سلام کا قول نقل کیا ہے کہ جنت آسمان میں اور دوزخ زمین میں ہے۔ ابن جریر نے تفسیر میں حضرت معاذ کا قول لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : قیامت کے دن جہنم کو کہاں سے لایا جائے گا ؟ فرمایا : ساتویں زمین سے اس کو لایا جائے گا ‘ اس کی لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کو ستّر ہزار فرشتے کھینچتے ہوں گے۔ جب انسانوں سے اس کا فاصلہ ایک ہزار سال کی مسافت کے بقدر رہ جائے گا تو وہ ایک دم کھینچے گی جس سے ہر مقرب فرشتہ اور ہر نبی مرسل دو زانو ہو کر کہے گا : رب نفسی نفسی۔
Ayah 83:8

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تم کیا جانتے ہوں کہ سجّین کیا چیز ہے؟

وما ادراک ما سجین . تم کو کیا معلوم کہ سجین کیسی ہولناک ہے۔ یہ استفہام (طلب علم کے لیے بلکہ) سجین کی عظمت اور ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ زجاج نے کہا : سجین ان چیزوں میں سے ہے جن کو نہ تم جانتے ہو نہ تمہاری قوم۔
Ayah 83:9

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

کتاب مرقوم . وہ ایک ایسی تحریر ہے جس میں کافروں کے اعمال چھپا دیئے گئے ہیں اور اس طرح ثبت کر دیئے گئے ہیں جیسے نقوش کپڑے میں ثبت ہوتے ہیں ‘ نہ وہ بھولے میں آئیں گے نہ مٹائے جائیں گے ‘ یہاں تک کہ اس تحریر کے مطابق سزا دی جائے گی یا یہ معنی ہے کہ اس کتاب پر ایسی علامات ہیں کہ ہر دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان لے کہ اس کے اندر کوئی خیر نہیں ہے بعض لوگوں کا قول ہے کہ قبائل حمیر (یمنی) کے محاورہ میں مرقوم کا معنی ہے ‘ مہری۔ مہر زدہ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کتابٌ مرقوم سجین کی تشریح نہیں ہے بلکہ کتاب الفجار کا بیان ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے یہ سجین کی تشریح ہے۔ سجین کو کتاب کے لقب سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کتاب حبس و قید کا ذریعہ ہے۔ گویا سجین ایک کتاب ہے جو جن و انس کے تمام کتابچوں کو اپنے اندر جمع رکھتی ہے (میرے نزدیک) ظاہر یہ ہے کہ سجین کافروں کی روحوں کی قرار گاہ بھی ہے اور ان کے اعمالناموں کا گودام بھی یہی ہے اور کلام میں ایک لفظ محذوف ہے یا تو ما سجین اصل میں ما کتاب سجین تھا یا کتاب مرقوم اصل میں محل کتاب مرقوم تھا۔ مرقوم سے مراد ہے تحریر شر۔
Ayah 83:10

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

ویل یومئذ للمکذبین . حق کو جھوٹا سمجھنے والوں کے لیے اس روز ویل ہوگی۔
Ayah 83:11

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

(یعنی) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

الذین یکذبون بیوم الدین . جو یوم سزا و جزا کی تکذیب کرتے ہیں۔ الذین سے پورا جملہ المکذبین کی صرف توضیحی صفت ہے یا صفت ذم ہے یا مخصصہ ہے۔ (مکذبین حق کی تکذیب کرنے والے۔ حق کوئی بات ہو لیکن الذین سے خصوصیت کے ساتھ صرف روز جزاء کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کیا۔ اس لیے تعمیم کے بعد صفت مخصصہ ہوگئی) یا المکذّبین سے بدل ہے۔ ویل یومئذ للمکذبین پورا جملہ معترضہ ہے جو مکذبین کی مذمت کو ظاہر کر رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ جملہ مرقوم کا نائب فاعل ہو یعنی کتاب میں لکھ دیا گیا ہے کہ سزا و جزا کے دن مکذبین کے لیے ویل ہوگی یا یہ جملہ کتابٌ کی صفت ہے یعنی کتاب موجب ویل ہوگی۔ اوّل تاویل ‘ لفظی قرب کی وجہ سے زیادہ مناسب ہے لیکن معنوی مناسبت کے لحاظ سے آخری ‘ دونوں تاویلیں قابل ترجیح ہیں کیونکہ کتاب مرقوم صرف کافروں کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ کتاب الابرار میں بھی یہی کہا گیا ہے۔
Ayah 83:12

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے

وما یکذب بہ الا کل معتد اثیم . یعنی یوم الدین کی تکذیب صرف معتد اثیم ہی کرتا ہے۔ معتد وہ شخص جو جہالت اور جاہل آباؤ اجداد کی پیروی میں حد سے بڑھ گیا ہو ‘ یہاں تک کہ دوبارہ پیدا کرنے پر خدا کو بھی قادر نہ سمجھتا ہو۔ اثیم : وہ گناہ گار جو خواہشات نفس میں منہمک اور اتنا مشغول ہو کہ مخالفت خواہش امور کو اس نے پس انداز کردیا ہو اور اس انہماک نفسانی نے اس کو مخالف نفسانیات چیزوں کے انکار پر آمادہ کردیا ہو۔
Ayah 83:13

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

اذا تتلی علیہ ایاتنا قال اساطیر الاولین . جب اس کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو اپنی انتہائی نادانی اور اعجاز قرآنی سے غافل ہونے کی وجہ سے یا اپنی غبادت اور دیدہ و دانستہ حق سے روگردانی کی وجہ سے کہتا ہے یہ تو گزشتہ لوگوں کی لکھی ہوئی داستانیں ہیں۔ اساطیر جمع اسطور یا اسطار یا اسطر واحد بےترتیب ‘ غیر مر بوط باتیں۔ (قاموس) صراح میں ہے اساطیر الاوّلین یعنی وہ باتیں جو گزشتہ لوگوں نے جھوٹ موٹ لکھ دی ہیں۔ اس جملہ سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ مکذب اس قدر حد سے بڑھ گیا ہے کہ عقلی و نقلی کوئی دلیل اس کو نفع نہیں پہنچا سکتی۔
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے

کلا . یہ تکذیب اور قول مذکور (اساطیر الاولین) سے بازداشت ہے۔ مقاتل نے کہا : کَلاَّ کا اس جگہ معنی ہے : لا یؤمنون۔ وہ ایمان نہیں لاتے۔ بل . اس لفظ سے کلام سابق سے اعراض کر کے یہ بات بتائی ہے کہ ادراکِ حق اور باطل کی تمیز کی قابلیت ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے (یعنی پہلے صرف یہ کہا گیا تھا کہ وہ یوم جزا کی تکذیب کرتے ہیں پھر کلاَّ کہہ کر ان کو اس تکذیب سے روکا گیا۔ اس کے بعد کہا گیا کہ یہ لوگ صرف تکذیب ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں پر بداعمالی کا زنگ چڑھا ہوا ہے۔ اس لیے ادراکِ حق کی قابلیت ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے) ۔ ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون . رَیْنکا معنی ہے غلبہ۔ رَان الخمر علٰی قلبہٖ : شراب کا نشہ اس کے قلب پر غالب ہوگیا یعنی بد اعمالی کی تاریکیاں ان کے دلوں پر اتنی غالب آگئیں کہ حق و باطل کی تمیز سے ان کے دل اندھے ہوگئے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مؤمن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پیدا ہوجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے ‘ ڈر جاتا ہے اور استغفار کرلیتا ہے تو دل سے گناہ کا نکتہ دور ہوجاتا ہے لیکن اگر گناہ میں زیادتی کرتا ہے تو نکتہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے۔ یہی ہے وہ ران جس کا ذکر اللہ نے آیت : بل ران علٰی قلوبھم ما کانوا یکسبون میں فرمایا ہے۔ بغوی ‘ احمد ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن حبان ‘ حاکم ‘ ترمذی۔ ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ بعض روایات میں اَلْمُؤْمِنُ اِذَا اَذْنَبَ کی جگہ اِنَّ الْعَبْدَ کُلَّمَا اَذْنَبَ ذَنْبًا آیا ہے۔ حدیث میں المؤمن کا لفظ بتارہا ہے کہ کافر کے دل میں سیاہ نکتہ بدرجۂ اولیٰ شدید ہوتا ہے۔
Ayah 83:15

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

بےشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے

کلا . یہ زنگ پیدا کرنے والے گناہوں کے ارتکاب سے بازداشت ہے یا حقًّا کے معنی میں ہے۔ جس سے قلوب کا زنگ خوردہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ مقاتل نے کہا کہ کلاّ کا اس جگہ معنی ہے لا یصدقون : یقیناً وہ تصدیق نہیں کرتے۔ انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون . یعنی قیامت کے دن مؤمن جب اللہ کو دیکھیں گے ‘ کافر اس روز دیدارِ الٰہی سے یقیناً روک دیئے جائیں گے۔ بد اعمالیوں کی تاریکیوں کے حجاب ان کی آنکھوں پر پڑے رہیں گے۔ پس جس طرح وہ دنیا میں حق کو نہیں دیکھتے تھے ‘ اسی طرح قیامت کے دن دیدارِ الٰہی نہ کرسکیں گے۔ حسن بصری نے فرمایا : اگر زاہدوں اور عابدوں کو معلوم ہوجائے کہ ربّ کا دیدار ان کو نہ ہوگا تو ان کی جان نکل جائے۔ مالک (رح) سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا : جب دشمنوں کو دیدار سے روک دیا جائے گا اور ان کو دیدار میسر نہ ہوگا تو دوستوں پر وہ ضرور جلوہ فگن ہوگا۔ دوست اس کو دیکھیں گے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : آیت میں (بطور مفہوم مخالف) دلالت ہے اس امر پر کہ اولیاء اللہ کو دیدار ہوگا۔
Ayah 83:16

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

ثم انھم لصالوا الجحیم . پھر دیدار سے محروم ہونے کے بعد وہ ضرور جحیم میں داخل ہوں گے۔
Ayah 83:17

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے

ثم یقال ھذا الذی کنتم بہ تکذبون . پھر جہنم کے کارندے ان سے کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں نہیں مانتے تھے۔ کلاّ کے بعد جس طرح کافروں کے لیے وعید عذاب کا اظہار کیا ہے ‘ اسی طرح آئندہ آیت میں کلاّ کے بعد نیک لوگوں کے ثواب کا وعدہ ذکر فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ تطفیف (وزن و ناپ کی کمی) جس طرح سخت گناہ ہے اسی طرح وزن و ناپ کی تکمیل اعلیٰ نیکی ہے۔
Ayah 83:18

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں

کلا . مذکورۂ بالا توضیح کے علاوہ اس جگہ کلاّ کو تکذیب عذاب سے بازداشت کے لیے بھی کہا جاسکتا ہے یا حقًّا (یقینا) کا معنی بھی ہوسکتا ہے۔ مقاتل (رح) نے کہا : اس جگہ کلاّ کا مفہوم یہ ہے کہ جس عذاب میں وہ داخل ہوگا ‘ اس پر ایمان نہیں لاتا۔ ان کتاب الابرار لفی علیین . بعض اہل معنی نے لکھا ہے کہ علیین سے مراد ہے علو بر علو اور بلندی بالاء بلندی ‘ اسی لیے واؤ اور نون کے ساتھ بھی (علیُّ کی) جمع آئی ہے۔ فراء نے کہا : یہ صیغہ جمع کا ہے جس کا اس مادہ سے واحد نہیں آتا مگر ایک جگہ کا نام ہے۔ بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے۔ یہ علو سے مشتق ہے اور علیٌّ بروزن فعیلٌ کی جمع سے منقول (شرعی) ہے۔ حضرت براء کی مرفوع روایت پہلے گزر چکی ہے کہ علییین ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ہے۔ حضرت براء کی طویل حدیث میں مؤمنوں اور کافروں کی موت کے ذکر کے سلسلہ میں آیا ہے کہ مؤمن کی روح کو اوپر چڑھایا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے ‘ میرے بندہ کی کتاب علیین میں رکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو ۔ (الحدیث) یہ حدیث صحیح طریقوں سے امام احمد ‘ ابوداؤد اور حاکم وغیرہ نے بیان کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ یعنی علیین زمرد سبز کی ایک تختی ہے جو عرش کے نیچے آویزاں ہے۔ مؤمنوں کے اعمال اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ اسی اثر کی بناء پر لوگوں نے کہا ہے کہ علیین ایک ایسا رجسٹر ہے جس میں ملائکہ اور جن و انس کے اچھے اعمال جمع ہوتے ہیں۔ کعب اور قتادہ کا قول ہے کہ علیین عرش کا دایاں پایہ ہے۔ عطاء ؓ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ علیین جنت ہے۔ عطاء اور ضحاک نے کہا وہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔
Ayah 83:19

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے؟

وما ادراک ما علیون کتاب مرقوم . تم کو کیا معلوم کہ علیون کیا ہے ‘ ایک کتاب ہے مرقوم۔ اس جملہ کی پوری تشریح پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 83:20–21

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں

یشھدہ المقربون . جس طرح وَیْلٌ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ کتاب کی صفت ہے۔ اسی طرح یہ جملہ بھی کتاب کی صفت ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مقربوں سے مراد ہیں قرب رکھنے والے ملائکہ۔ میں کہتا ہوں کہ شہیدوں اور صدیقوں اور پیغمبروں کی روحیں بھی مقربین میں شامل ہیں کیونکہ یہ سب ارواح وہاں ہوں گی۔ مسلم نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شہیدوں کی روحیں اللہ کے ہاں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں اور جنت کے دریاؤں میں جہاں چاہتی ہیں ‘ سیر کرتی پھرتی ہیں اور لوٹ کر ان قندیلوں میں آجاتی ہیں جو عرش کے نیچے (آویزاں) ہیں۔ سعید بن منصور نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اور تقی ؓ بن مخلد نے حضرت ابن ابوسعید ؓ خدری کی روایت سے بھی اسی طرح حدیث نقل کی ہے۔ ابو الشیخ نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ (قیامت کے دن) سفید پرندوں کے پوٹوں سے اللہ شہیدوں کو اٹھائے گا۔ یہ پرندے ان قندیلوں میں ہوں گے جو عرش سے آویزاں ہیں۔ صبح کو نکل کر (سیر کو) چلے جاتے ہیں۔ پھر گلزار جنت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ روزانہ اللہ ان پر جلوہ انداز ہو کر السلام علیکم فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابو درداء کا قول نقل کیا ہے کہ ارواح شہداء سبز پرندوں (کی شکل) میں ہوتی ہیں۔ (الحدیث) بخاری نے حضرت انس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب حضرت حارثہ ؓ شہید ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک وہ جنتی ہے اور فردوس اعلیٰ میں ہے۔ حضرت حبیب ؓ نجار کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : قیل ادخل الجنۃ قال یٰلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی . [ الایۃ ] شہداء کا جنت کے اندر ہونا اور عرش کے نیچے قندیلوں میں ہونا باہم متعارض نہیں کیونکہ جنت کے لیے عرش آسمان کی طرح ہوگا۔ میں کہتا ہوں یہ حکم شہیدوں کے لیے ہی خاص نہیں کیونکہ انبیاء اور صدیقوں کا مرتبہ تو شہیدوں سے اونچا ہے بلکہ حدیث میں تو المؤمنین کا لفظ عمومی آیا ہے (گویا ہر کامل مؤمن کے مرنے کے بعد یہی حالت ہوتی ہے) ۔ مالک اور نسائی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت کعب بن مالک کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمنوں کی روحیں پرندوں (کی شکل) میں جنت کے درخت سے آویزاں ہوتی ہیں۔ آخر میں قیامت کے دن اپنے اپنے جسموں میں لوٹ آئیں گی۔ اسی طرح احمد اور طبرانی نے حضرت امّ ہانی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : روحیں پرندوں (کی شکل) میں درختوں سے آویزاں ہوتی ہیں یہاں تک کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر روح اپنے جسم میں داخل ہوجائے گی۔ ابن عساکر نے حضرت امّ بشر زوجۂ ابو معروف کی روایت سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے مگر ان احادیث میں مؤمنوں سے مراد کامل مؤمن ہیں۔ آیت : یشھدہ المقربون اسی پر دلالت کر رہی ہے (اہل قربت علیین میں موجود ہوں گے) بعض احادیث میں آیا ہے کہ مؤمنوں کی روحوں کی قرار گاہ ساتویں آسمان میں ہے ‘ وہاں سے وہ اپنے جنت والے مکانوں کو دیکھتے ہیں۔ ابو نعیم نے ضعیف سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ اور وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ ساتویں آسمان میں اللہ کا مقررہ کردہ ایک مکان ہے جس کو مکان سفید کہا جاتا ہے اس میں مؤمنوں کی روحیں جمع ہوتی ہیں۔ بعض احادیث میں آیا ہے کہ (مؤمن کی) روح کو جب جسم سے نکال لیا جاتا ہے تو اس کو آسمان و زمین کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ (رواہ سعید بن منصور عن سلمان الفارسی ؓ ابن مبارک اور حکیم ترمذی نے ابن ابی الدنیا اور ابن منذر نے سعید بن مسیب کی وساطت سے حضرت سلمان کا قول نقل کیا ہے کہ مؤمنوں کی روحیں ارضی برزخ میں ہوتی ہیں ‘ جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں اور کافر کی روح سجین میں (بند) ہوتی ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث میں مؤمنوں کی روحوں کی حالت حسب تفاوت درجہ بیان کی گئی ہے جو شعبی (رح) نے بحر الکلام میں نقل کی ہے کہ روحیں چار طرح کی ہوتی ہیں۔ انبیاء کی روحیں بدن سے نکل کر مشکی اور کافوری شکل اختیار کرلیتی ہیں اور جنت میں کھاتی پیتی اور چین کرتی ہیں اور رات کو ان قندیلوں میں قرار گزیں ہوتی ہیں جو عرش سے آویختہ ہیں۔ شہیدوں کی روحیں بدن سے نکل کر سبز پرندوں کے پوٹوں میں رہ کر جنت کے اندر کھاتی ‘ پیتی اور چین کرتی ہیں اور رات کو ان قندیلوں میں قرار گزیں ہوتی ہیں جو عرش سے آویختہ ہیں۔ فرمانبردار مؤمنوں کی روحوں کو جنت میں روک لیا جاتا ہے وہ جنت میں نظارے تو کرتی ہیں مگر کھاتی ‘ پیتی نہیں نہ اور کسی طرح سے لذت اندوز ہوتی ہیں۔ گناہگار مسلمانوں کی روحیں آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں رہتی ہیں۔ رہیں کافروں کی روحیں تو وہ سیاہ پرندوں کے جوف میں سجین کے اندر ساتویں زمین کے نیچے بند رہتی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ انبیاء کی روحوں کے متعلق جو یہ آیا ہے کہ وہ اپنی مشکی شکلوں میں ہوجاتی ہیں ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے جسم انسانوں جیسے جسم ہوتے ہیں مگر مشکی ہوتے ہیں تاکہ ان کی پاکیزہ خوشبو (اِدھر ادھر منتشر) ہو۔ شیخ مجدد (رح) نے ان مشکی اور کافوری اجسام کو وہبی اجسام سے تعبیر کیا ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کا کامل اتباع کرنے والوں یعنی صدیقوں کو مرنے سے پہلے ہی حاصل ہوجاتے ہیں۔ ایک شبہ بعض صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں اور عام مؤمنوں بلکہ انبیاء تک کی روحیں قبروں میں ہوتی ہیں (پھر علیین اور سجین میں ہونے کا کیا معنی ؟ ) جیسا کہ حضرت براء کی روایت کردہ طویل حدیث میں آیا ہے کہ مؤمنوں کے متعلق اللہ فرماتا ہے۔ میرے بندہ کی کتاب علیین میں رکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ زمین سے ہی میں نے اس کو پیدا کیا ہے ‘ اسی کی طرف لوٹاتا ہوں اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔ حسب الحکم اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ اسی طرح کافر کے متعلق آیا ہے کہ اس کی روح قبر میں لوٹا دی جاتی ہے۔ ابن عبدالبر ؓ نے اس قول کو صحیح ترین قرار دیا ہے۔ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت موسیٰ کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ حضور اقدس ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری قبر کے پاس جو درود پڑھے گا ‘ میں اس کو سن لوں گا اور جو غائب حالت میں درود پڑھے گا اس کا درود مجھے پہنچا دیا جائے گا۔ ازالہ تعارض کو دفع کرنے کے لیے ہم کہتے ہیں کہ ارواحِ مؤمنین کی قرارگاہ علیین میں ہے یا ساتویں آسمان میں اور ارواح کفار کی قرار گاہ سجین میں ہے لیکن اس کے باوجود ہر روح کا اپنے قبر والے جسم سے ایک خاص تعلق رہتا ہے ‘ جس کی حقیقت سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ اسی تعلق کی وجہ سے وہ تمام اقوال صحیح ثابت ہوجاتے ہیں جو قرآن و حدیث میں آئے ہیں کہ انسان یعنی جسم و روح کے مجموعہ کے سامنے (قبر کے اندر) اس کا جنتی یا جہنمی مقام لایا جاتا ہے۔ وہ دکھ سکھ کا احسان کرتا ہے ‘ آنے والے کے سلام کو سنتا ہے ‘ منکر نکیر کو جواب دیتا ہے ‘ وغیرہ جیسے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) باوجودیکہ ان کا مستقر آسمانوں میں ہے ‘ حضور اقدس ﷺ کے پاس آجاتے تھے یہاں تک کہ اپنے ہاتھ آپ ﷺ کی رانوں پر رکھ دیتے تھے۔ شعبی نے بحر الکلام میں لکھا ہے روحوں کا تعلق اجسام سے ہوتا ہے ‘ روحوں کو عذاب ہوتا ہے اور جسم کو دکھ ہوتا ہے جیسے آفتاب آسمان میں ہے اور اس کی روشنی زمین پر۔ 1 ؂ ...... 1 ؂ موت انسانی کیا ہے ؟ روح کا تعلق جسم سے منقطع ہونا۔ اس کی توضیح کرنے کے لیے بطور اختصار اتنا لکھنا ضروری ہے کہ قبر کے اندر منکر نکیر کا سوال کرنا اور مردہ کا سن کر جواب دینا ‘ قبر کا عذاب وثواب ‘ مردہ کا علم ‘ رسول اللہ ﷺ کا زائر کے درود کو سننا وغیرہ وغیرہ مختلف احوال کا مردہ پر توارد صحیح احادیث سے ثابت ہے پھر علیین اور سجین کا وجود تو صراحت قرآنی میں موجود ہی ہے لیکن ہم محسوس کرتے ہیں کہ تجربہ سے بھی ثابت ہے ‘ آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں ‘ کانوں سے بھی سنتے ہیں ‘ غرض متواتر مشاہدات اور متواترات سے ثابت ہے کہ کروڑوں مردے دفن نہیں کیے جاتے ‘ جلا دیئے جاتے ہیں ‘ ان کی خاک اڑا دی جاتی ہے ‘ دریاؤں میں بہا دی جاتی ہے۔ بعض لاشوں کو ممیا کر رکھ لیا جاتا ہے اور برسوں تک محفوظ رکھا جاتا ہے ان تجربات ‘ مشاہدات اور متواترات کا انکار نہیں کیا جاسکتا نہ عقل سلیم کو اپیل کرنے والی کوئی تاویل کی جاسکتی ہے پھر کیا ہے ‘ کیا احادیث غلط ہیں ؟ اور قطعی منصوصات خلاف واقع ہیں۔ ایسا نہیں ہے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے امام غزالی ‘ شاہ ولی اللہ ‘ متکلم اعظم اور بعض دوسرے اصحاب وجدان و شہود نے لکھا ہے کہ قبر نام اس محسوس مرئی گڑھے کا نہیں جو زمین میں کھودا جاتا ہے بلکہ عالم ارواح مجردہ اور عالم اجسام مادیہ کے درمیان ایک اور عالم ہے جس کو برزح کہا جاتا ہے۔ اس میں دونوں عالموں کے کچھ کچھ خصوصیات ہیں۔ نہ وہ مجرد محض ہے نہ بالکل مادی۔ عالم ارواح جسمانی نہیں روح کا جسم نہیں لیکن عالم برزخ جسمانی ہے ‘ مشکل ہے ‘ رنگا رنگ ہے۔ اس میں جواہر بھی ہیں اعراض بھی ہیں۔ صورتیں بھی ہیں ‘ صورتوں کی لمبائی ‘ چوڑائی ‘ رنگنی حسن و قبح اور امتیازات بھی ہیں لیکن برزخی جسم کا یہ مادہ نہیں۔ یہ صورت نہیں ‘ یہ جوہر و عرض نہیں ‘ یہ مقدار و شکل نہیں ‘ یہ صوت و نغمہ نہیں ‘ یہ حسن و قبح نہیں۔ عالم برزخ کا انسان کھاتا بھی ہے ‘ پیتا بھی ہے ‘ چلتا بھی ہے۔ پھرتا بھی ہے ‘ خوش اور ناخوش بھی ہوتا ہے۔ لذت و الم کا احساس بھی کرتا ہے ‘ اس میں شعور بھی ہے۔ حس بھی ہے ‘ علم و ادراک بھی ہے مگر یہ ہماری دنیا کا مادی احساس و شعور نہیں بلکہ اس کی ہر کیفیت یہاں کی ہر کیفیت سے زیادہ قوی لطیف اور تیز اور وسیع ہے۔ اسی برزخ کو عالم مثال اور عالم اشباح بھی کہتے ہیں۔ برزخ کا انسان لافانی ہے مرتا نہیں ‘ تغیر پذیر نہیں اس میں توالد و تناسل نہیں ‘ پیدائش اور موت نہیں۔ ہماری دنیا کی جسمیت اور لوازم جسمیت اس میں موجود نہیں۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی (رح) نے افلاطون کے جس عالم امثال کی صراحت کی ہے وہ شیخ ولی اللہ (رح) کے عالم مثال کا بالکل عین تو نہیں کیونکہ امثال افلاطونیہ کو ہم حقائق تکوینیہ اور ماہیات امکانیہ کہہ سکتے ہیں مگر جزا و سزا والا عالم برزخ نہیں کہہ سکتے لذت و الم کا عالم نہیں قرار دے سکتے۔ حقیقت میں اصحاب وجدان کے نزدیک عالم مثال حقیقی ہے اور یہ عالم ظاہر اس کا سایہ وہ اصل ہے یہ اس کی کا پی۔ سایہ اور کا پی فنا ہوجائے تباہ ہوجائے ‘ مٹ جائے اصل اور حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے ‘ نہ مٹتی ہے ‘ نہ تباہ ہوتی ہے۔ دنیا میں جو شخص مرتا ہے ‘ اس کی روح کا رشتہ اس مادی جسم سے ٹوٹ جاتا ہے یہ جسم فنا ہوجاتا ہے مگر مثالی اصلی جسم باقی رہتا ہے اس سے روح کا تعلق نہیں ٹوٹتا گویا ہر شخص دو جسم رکھتا ہے۔ ایک یہ ہی محسوس کثیف ظاہری مادی جسم دوسرا برزخی مثالی لطیف باطنی جسم موت کا معنی ہے صرف ظاہری کثیف جسم سے قطع تعلق مگر مثالی برزخی جسم سے روح کا رشتہ کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ یہ بھی یاد رکھو کہ عالم برزخ چونکہ مجرد اور مادی کے درمیان حجاب عاجز ہے اور دونوں عالموں سے اس کا قرب ہے ‘ اس لیے دونوں عالموں کی کچھ کچھ خصوصیات اس میں موجود ہیں وہ اس عالم جسم کی طرح عمل اور کردار اور سعی حیوٰۃ کا عالم نہیں ‘ دارالتکلیف نہیں ‘ ارادۂ خیر و شر میں وہاں کا انسان مختار نہیں بلکہ اس زندگی کے نتائج وثمرات اور جزا و سزا کا عالم ہے مگر روز قیامت کی طرح مکمل جزا و سزا کا عالم بھی نہیں بلکہ کاروان انسانی کا ایسا وقفہ منزل ہے جو گزشتہ زندگی کے افکار و کردار کا مجمل دھندلا خاکہ نظر کے سامنے لاتا ہے اور عقیدہ و عمل کی صحت و غلطی اور اچھائی و برائی کے فیصلہ کے آثار و علامات برزخ میں ہی منہ دکھانے لگتے ہیں۔ برزخی انسان اپنا ہاتھ ‘ اپنا پاؤں ‘ اپنا سر ‘ اپنے گوش و چشم اور اپنے قیام و قعود اور اطوار و گفتار غرض ہر جسمانی کیفیت و حالت کو دیکھتا ‘ جانتا اور سمجھتا ہے بلکہ اس کا ادراک و احساس زیادہ لطیف اور تیز ہوجاتا ہے۔ راحت و رنج ‘ مسرت و غم ہر وجدانی کیفیت اس کو محسوس ہوتی ہے مگر اس کے باوجود وہ یہ ظاہری مادی جسم نہیں رکھتا۔ یہ جسم تو فنا ہوچکا ہوتا ہے اس جسم کو جلا دیا جائے اس کی خاک اڑا دی جائے ‘ پانی میں بہا دی جائے اس کو شیر کھاجائے یا صندوق میں اس کو محفوظ رکھا جائے۔ برزخی جسم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا .. .......236 ............. ........... 236 اس کا تو ہر احساس و ادراک جسم مثالی کے ساتھ ہوتا ہے اور جسم مثالی میں جسم مادی کے تغیر سے کوئی تغیر نہیں آتا۔ روح ‘ جسم مثالی کے ساتھ ہی منکر نکیر کے سوال کا جواب دیتی ہے۔ جنت و دوزخ کے مناظر دیکھتی ہے۔ خواب کی کیفیت اور کیفیت کی گوناگونی سے کون انکار کرسکتا ہے۔ خواب دیکھنے والے کا جسم اپنے بستر پر ہوتا ہے ‘ دیکھنے والے اس کو بستر پر موجود پاتے ہیں ‘ تنفس جاری ہوتا ہے لیکن خواب دیکھنے والا کبھی اپنے جسم کو جیل خانہ کے اندر بند پاتا ہے اور شدائد جیل کا اس کو احساس ہوتا ہے ‘ کبھی قصر شاہی میں اپنے کو رونق افروز پاتا ہے اور شاہانہ استقبال اپنے لیے دیکھتا ہے ‘ کبھی صحراؤں اور بیابانوں کی خاک چھانتا پھرتا ہے تو کبھی مرغزاروں اور خیابانوں میں گل گشت کرتا ہے۔ یہ عالم برزخ تو نہیں مگر برزخ کا نمونہ ضرور ہے جسم مثالی کا یہاں سے سراغ ملتا ہے۔ مثالی لذت و الم کا پتہ معلوم ہوجاتا ہے گویا افلاطون نے جس کو مادہ سے مجرد قرار دیا ہے دوسرے الفاظ میں غیر مادی جسمانیت کا اقرار کیا ہے (گو مکان کی تعریف میں اس نے یہ الفاظ کہے ہیں مگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ سر گروہ اشراقیہ کی نظر کشفی بھی ایک ایسے جسم تک پہنچ گئی ہے جو باوجود حامل جسمانیت ہونے کے غیر مادی ہے) اس کی جو لانگاہ اور اس کا میدان ظہور یہی عالم برزخ ہے پس قبر نام اسی برزخی گڑھے کا ہے۔ یہی جنت یا جہنم کا دروازہ ہے ‘ اسی میں اعلیٰ اور ادنیٰ یعنی علیین اور سفلیین دو مقام ہیں۔ سفلیین کا دوسرا نام سجین ہے اور علیین کا دوسرا نام قندیل نور مبین۔ اسی مقام سے جنت کی تفریح نظری اور جہنم کی نظر سوز سیر ہوتی ہے۔ یہیں جنت کی فرحت بخش ہوائیں اور جہنم کی جاں گسل لپٹیں آتی ہیں۔ یہی منزل جنان و سفر کی وقفۂ سیر ہے۔ یہاں سہولت مل گئی تو آئندہ اس سے زیادہ سہولتیں ملیں گی اور یہاں دکھ ہوا تو آئندہ کا دکھ اس سے زیادہ سخت ہوگا۔ سچ ہے جو مرگیا اس کی قیامت بپا ہوگئی یہ قیامت صغریٰ ہے جو قیامت کبریٰ کا پیش خیمہ اور ہر اول ہے۔ برزخ ارضی بھی ہے عالم مادی کے قریب ہے اور سماوی بھی ہے عالم روحانی کے قریب ہے اور فضائی بھی ہے عالم مادی اور عالم ارواح کے درمیان حائل ہے۔ روحِ مؤمن کو زمین کی طرف لوٹائے جانے کا اظہار کیا جائے یا عرش کے نیچے نورانی قندیلوں میں سبز پرندوں کی شکل میں بند ہونے کا اقرار کیا جائے بات ایک ہی ہے۔ برزخ زمین بھی ہے اور آسمان بھی ہے ‘ اس زمین سے اعلیٰ ہے اور سماء ارواح سے اسفل۔ مکمل تفصیل کی یہ جگہ نہیں۔ احادیث متعارضہ کا تعارض دفع کرنے کے لیے اتنا بیان کافی ہے مگر اس پر یقین رکھنے کے لیے شہودی نظر اور وجدانی علم کی ضرورت ہے۔ گویا عالم مثال کا وجود عقلیت کے خلاف تو نہیں مگر عقل سے وراء ضرور ہے ‘ اس لیے عقل استدلالی اور منطق برہانی کی اس کی حدود میں رسائی نہیں ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 83:22

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بےشک نیک لوگ چین میں ہوں گے

ان الابرابر لفی نعیم نیک لوگ بلاشبہ راحت میں ہوں گے ‘
Ayah 83:23

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے

عل الارائک ینظرون . پردہ دار مسہریوں پر فروکش ہونگے۔ نظارہ کرتے ہونگے (کس چیز کا نظارہ ؟ ) اکثر مفسرین نے کہا : اللہ کی دی ہوئی عزت اور نعمت کا نظارہ۔ قتادہ ؓ نے کہا : اپنے دشمنوں پر دوزخ کے اندر عذاب ہونے کا نظارہ۔ میں کہتا ہوں اپنے رب کا نظارہ جب کہ کفار اس روز دیدارِ ربّ سے محروم ہونگے۔
Ayah 83:24

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لو گے

تعریف فی وجوھھم نضرۃ النعیم . ان کے چہروں پر جنت النعیم کی وجہ سے تم کو تازگی نظر آئے گی۔ تصرف میں مخاطب عام ہے۔ حسن بصری (رح) نے کہا : تازگی چہرہ پر ہوتی ہے اور خوشی دل میں۔
Ayah 83:25

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو خالص شراب سربمہر پلائی جائے گی

یسقون من رحیق . رحیق یعنی جنت کی صاف ‘ سفید ‘ پاکیزہ شراب۔ مختوم . مہر زدہ یعنی ابرار ہی اس کی مہر کو توڑیں گے۔ اس سے پہلے کوئی اس کو ہاتھ نہ لگا سکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ابرار کو انکی مخصوص صاف ‘ سفید ‘ پاکیزہ شراب پلائی جائیگی ‘ جس کی مہر وہ خود توڑیں گے کسی نے اسکو ہاتھ سے چھوا بھی نہ ہوگا۔
Ayah 83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

ختامہ مسک . جس پر مہر لگی ہوگی وہ (مٹی یا موم نہ ہوگا) مشک ہوگا۔ قاموس میں ہے ختام بروزن کتاب وہ مٹی جس پر مہر لگائی جاتی ہے اور خاتم وہ مہر جو مٹی پر لگائی جاتی ہے یعنی بجائے مٹی کے (موم وغیرہ) کے اس شراب کے برتنوں پر مشکی مہر لگی ہوگی۔ ابن زید ؓ نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : (اس جگہ ختام کا معنی آخری مزہ) اس کا آخری مزہ (یعنی آخری گھونٹ) مشک سے ملا ہوا ہوگا۔ قاموس میں ہے ‘ ہر چیز کا ختام۔ آخر ‘ خاتمہ۔ وفی ذلک . یعنی اسی شراب یا راحت (کی طلب) ۔ فلیتنافس المتنافسون . اہل رغبت شدت رغبت کے ساتھ کریں۔ تنافس نفس یا نفیس سے مشتق ہے۔ تنافس کا معنی ہے کسی نفیس چیز کو اپنے لیے اس طرح انتخاب کرلینا کہ دوسروں کو وہ چیز دینے میں بخل کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیوی سامان بےمقدار اور حقیر اور زوال پذیر ہے ‘ اس لیے اس کی طلب اور شدت رغبت اخروی نعمتوں کے مقابلہ میں نہ ہونی چاہیے۔ شبہ تنافس (شدت حرص) تو بری خصلت ہے پھر اس کا مرغوب ہونا (شرعاً ) کس طرح ممکن ہے ؟ ازالہ تنافس اس وقت برا ہے جب اس کا تعلق دنیوی امور سے ہو ‘ اس سے دوسروں کو نقصان پہنچنا ضروری ہو کیونکہ کوئی چیز اپنے لیے مخصوص کرلینے کا معنی ہی یہ ہے کہ وہ دوسرے کو نہیں ملے گی اور اللہ کو بھی دنیوی امور پسند نہیں کیونکہ تمام دنیوی چیزیں بےمقدار اور زوال پذیر ہیں۔ آخرت کی نعمتوں کی حالت اس کے خلاف ہے وہ اللہ کو پسند بھی ہیں اور ختم ہونے والی بھی نہیں ہیں ‘ ان کو اپنے لیے پسند کرنے سے دوسروں کو ضرر نہیں پہنچ سکتا۔
Ayah 83:27

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہو گی

و مزاجہ من تسنیم . جنت کی شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ مزاج وہ چیز جو شراب میں ملائی جاتی ہے۔ قتادہ نے کہا : لفظ تسنیم کی وضعی ساخت بلندی کے مفہوم کی حامل ہے کیونکہ سنام کے معنی ہے اونچی چیز ‘ اسی لیے سنام اونٹ کے کوہان کو کہتے ہیں۔ بغوی (رح) نے (قتادہ کے قول کی روشنی میں) لکھا ہے کہ تسنیم وہ شراب ہوگی جو ابرار کے کمروں اور گھروں میں اوپر سے برسے گی۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عرش کے اوپر سے برسے گی کیونکہ جنت کے اوپر عرش چھت کی طرح ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اوپر ہوا میں شراب رواں ہوگی اور اہل جنت کے برتنوں میں ان کو بھرنے کے بقدر گرے گی جب برتن بھر جائینگے تو شراب کی بارش رک جائے گی۔ ضحاک ؓ نے کہا : تسنیم ایک شراب کا نام ہے جنت کی اعلیٰ شرابوں میں اس کا شمار ہے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اہل قرب کے لیے مخصوص ہے اہل قرب اس کو کسی چیز کی آمیزش کے بغیر پئیں گے اور باقی اہل جنت کے لیے اس میں آمیزش کی جائے گی۔
Ayah 83:28

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقرب پیئیں گے

عینا یشرب بھا . یہ تسنیم کی تشریح ہے خواہ اسکا نصب امدح یا اعنی مقدر کی بناء پر قرار دیا جائے یا تسنیم سے حال کہا جائے اور بِھَا کا معنی ہے منھا (یعنی اس میں سے پئیں گے) یا یشرب چونکہ یلتذُّ کے معنی کو متضمن ہے اس لیے اس کے بعد بھا لایا گیا (یعنی اس شراب سے لذت یاب ہوں گے) ۔ المقربون . وہ لوگ جو کمالات نبوت کے خود حامل ہیں یا انبیاء کی معرفت ان کو وہ کمالات حاصل ہوئے ہیں یعنی صدیق (گویا اہل قرب سے مراد ہیں انبیاء اور صدیقین) بغوی نے یوسف بن مہران کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے من تسنیم کا مطلب دریافت کیا گیا۔ فرمایا : یہ ان (نامعلوم) چیزوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ نے فرمایا : فلا تعلم نفس مَا اخفی لھم من قرۃ اعین۔
Ayah 83:29

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

ان الذین اجرموا یعنی قریشی کافر ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ ‘ عاص بن وائل اور ان کے ساتھی دوسرے مشرکین مکّہ۔ کانوا من الذین امنوا یضحکون . الذین اٰمنوا سے مراد ہیں حضرت عمار ‘ خباب ‘ صہیب ‘ بلال اور ان کے ساتھی نادار مسلمان ؓ ۔ یعنی یہ مجرم مؤمنوں کا مذاق اڑانے کیلئے ان سے ہنستے تھے۔
Ayah 83:30

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے

واذا مروابھم یتغامزون . اور جب مؤمن کافروں کی طرف سے گزرتے تھے تو وہ کافر ‘ مسلمانوں کی طرف بطور استہزاء آنکھ اور ابرو سے اشارے کرتے تھے۔
Ayah 83:31

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے

واذا انقلبوا الی اھلھم انقلبوا فکھین . اور جب گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتے تھے تو مسلمانوں کے استہزاء سے خوش خوش مزے اڑاتے ہوئے جاتے تھے۔
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں

واذا راوھم قالوا ان ھولاء لضالون . اور مسلمانوں کو دیکھ کر کہتے تھے یہ بہکے ہوئے ہیں۔ محمد ﷺ نے ان کو بہکا لیا ہے۔ یہ باپ ‘ دادا کے دین سے بھٹک گئے ہیں۔ آخرت کی عزت کے لیے دنیا کی لذتیں انہوں نے چھوڑ دی ہیں اور حقیقت کو چھوڑ کر خیال کے پیچھے پڑگئے ہیں۔
Ayah 83:33

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

وما ارسلوا علیھم حافظین . حالانکہ ان کافروں کو اس غرض سے نہیں بھیجا گیا تھا کہ مؤمنوں کے اعمال کی نگہداشت کریں اور ان کی ہدایت و صلاح کا فیصلہ کریں۔
Ayah 83:34

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

فالیوام الذین امنوا من الکفار یضحکون . یعنی جب مؤمن اپنی اپنی مسہریوں پر بیٹھے دیدار خدا کر رہے ہوں گے اور کافروں کو طوق و زنجیر میں بندھا ہوا دوزخ کے اندر دیکھیں گے تو اس روز مؤمن کافروں پر ہنسیں گے۔ ابو صالح نے کہا : اس کی صورت یہ ہوگی کہ جب کافر دوزخ کے اندر ہوں گے تو دوزخ کے دروازے کھول کر ان سے کہا جائے گا ‘ باہر نکل جاؤ ‘ دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ کافر دروازے کھلے دیکھ کر باہر نکلنے کے لیے دروازوں کی طرف بڑھیں گے۔ مؤمن ان کی یہ حالت دیکھتے ہوں گے ‘ کافر دروازوں پر پہنچیں گے تو یکدم دروازے بند کردیئے جائیں گے۔ ایسی حرکت بار بار ہوگی۔ اس وقت مؤمن کافروں پر ہنسیں گے ‘ جیسے دنیا میں کافر مسلمان پر ہنستے تھے۔ حضرت کعب ؓ نے کہا : جنت اور دوزخ کے درمیان کچھ کھڑکیاں ہوں گی ‘ جب مؤمن اپنے دنیوی دشمن کو دیکھنا چاہے گا تو کھڑکیوں سے دوزخ کے اندر جھانکے گا۔ جیسا اللہ نے فرمایا ہے : فاطلع فراٰہ فی سواء الجحیم۔ دوزخ کے اندر کافروں پر عذاب ہوتا دکھائی دے گا تو مؤمن ہنسیں گے۔ آیت مذکورۂ بالا میں اسی واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔ بیہقی نے حسن بصری کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا ارشادنقل کیا ہے کہ (مسلمان) آدمیوں کا مذاق اڑانے والوں میں سے بعض کے لیے جنت کا کوئی دروازہ کھول دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا : اندر آجاؤ۔ وہ اپنے دکھ اور رنج کے ساتھ بڑھے گا جب (دروازہ پر) پہنچے گا تو دروازہ بند کردیا جائے گا۔ یہ کیفیت پیہم ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ آخر میں انتہائی مایوسی کی وجہ سے کوئی استہزاء کرنے والا جنت کے دروازہ تک نہیں جائے گا۔
Ayah 83:35

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

(اور) تختوں پر (بیٹھے ہوئے ان کا حال) دیکھ رہے ہوں گے

علی الارائک ینظرون . یعنی مؤمن اپنی مسہریوں پر بیٹھے ہوئے دو زخ کے اندر کافروں کو دیکھتے ہونگے۔
Ayah 83:36

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

تو کافروں کو ان کے عملوں کا (پورا پورا) بدلہ مل گیا

ھل ثوب الکفار ما کانوا یفعلون . استفہام تقریری ہے یعنی کافروں کو اسی استہزاء کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کرتے تھے ‘ واللہ اعلم۔ سورۂ تطفیف ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ