83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 83:1

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ان لوگوں کی خرابی ہوگی جو ماپ تول میں کمی کرتے ہیں۔15

ف 15 ۔ بیان ہوچکا ہے ویل دوزخ کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔
Ayahs 83:2–3

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جب وہ لوگوں سے ماپ کرلیں تو پورا لیتے ہیں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب انکو ماپ یا تول کردیں تو کم دیتے ہیں1

ف 1 دوسرے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے پورا تولنے اور پورا ناپنے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً سورة اسراء میں ارشاد ہے : واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم ذلک خیر و احسن تاویلا اور جب تم پیمانے سے دو تو پیمانہ بھر کو دو اور جب تولو تو ٹھیک ترازرو سے تولو۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہے۔ “ (آیت :35) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر جو تباہی آئی، اس کا ایک سبب یہی تھا کہ وہ ناپنے اور تولنے میں کمی کرتی تھی۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کسی قوم نے عہد شکنی نہیں کی مگر اس پر دشمط کو مسلط کردیا گیا اور کسی قوم نے ماپنے میں کمی نہیں کی مگر اسے پیداوار کی کمی اور قحط میں مبتلا کردیا گیا۔ “ (فتح القدیر بحوالہ ابن مردویہ)
Ayahs 83:4–6

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو یقین نہیں کہ وہ مر کر پھر) اٹھائے جائیں گے

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک بڑے (ہولناک) دن کے لئے

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن لوگ سارے جہان کے مالک کے سامنے اپنے اعمال کا حساب دینے2، کو کھڑے ہونگے ایسے کاموں سے باز رہو

ف 2 اور اپنے آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے۔ “ جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : طبرنی حاکم اور بیہقی میں حضرت ابن عمر ہی سے رویا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا :” لوگو ! اس روز تمہارا کیا حال ہوگا جب اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح جمع کرے گا جیسے ترکش میں تیر جمع کئے جاتے ہیں۔ پھر پچاس ہزار برس تک وہ تمہاری طرف دیکھے گا بھی نہیں ؟ “ (فتح القدیر)
Ayahs 83:7–9

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

بیشک بدکاروں کے نامہ اعمال سجین میں رہتے ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تجھ کو کیا معلوم سجین کیا ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

بدکاروں3 کا نامہ اعمال ایک دفتر ہے لکھا ہوا

ف 3 یعنی ایک دفتر ہے جس میں تمام بدکاروں اور کافروں کے نام اور کام درج ہیں قادہ سعید بن جبیر مقاتل اور مجاہد غیرہ کہتے ہیں کہ سجین اس جگہ کا نام ہے جہاں کافروں اور بدکاروں کے نامہ اعمال رکھے جاتے ہیں اور وہ ساتویں زمین کے نیچے ایک چٹان ہے اس لئے شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یعنی ان کے نام وہیں داخل ہوتے ہیں مر کر وہاں پہنچیں گے۔ “ (موضح)
Ayahs 83:10–13

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہوگی

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو بدلے کے دن قیامت کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور بدلے کے دن کو وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے بڑھ جانے والا بدکار ہو

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں4

ف 4 یعنی من گھڑت قصے اور فرسودہ کہانیاں ہیں جو پہلے لوگ اپنی جگہ بیٹھے بناتے رہتے تھے۔
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

بیشک بات یہ ہے کہ ان کے دلوں پر انکے برے کاموں کا زنگ بیٹھ گیا ہے5

ف 5 یعنی درصال وہ قرآن کو پچھیل لوگوں کی کہانیاں اس لئے بتاتے ہیں کہ وہ گناہ کرتے کرتے ان کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ ان کے دلوں کو زنگ لگ گیا ہے اب ان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ صحیح سوچیں اور معقو بات زبان پر لائیں۔ دلوں کو زنگ لگ جانے سے مراد یہ ہے کہ وہ گناہ کرتے کرتے سیاہ ہوگئے۔ ان (زنگ) کی تفسیر حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت میں مرفوعاً مروی ہے۔ (شوکانی)
Ayah 83:15

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ اس دن یعن قیامت کے دن اپنے مالک کے دیدار سے محروم رہیں گے6

ف 6 اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر آئیگا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس آیت کا کوئی مطلب نہ ہوتا۔ البتہ ہوگا یہ کہ مومن اس کے دیدار سے نوازے جائینگے اور کافر اس سے محروم رہیں گے جیسا کہ دوسری آیت میں فرما ای : وجوہ یومئذ والصرۃ الی ربھا ناظرۃ کچھ چہرے اس روز ترو تازہ ہونگے اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔ “ (قیامہ :22)
Ayahs 83:16–20

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر وہ دوزخ میں جائیں گے پھر جب دوزخ کو دیکھیں گے

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

تو ان سے کہا جائیگا یہی تو وہ دوزخ ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے تھے۔

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

سچ یہ ہے بیشک نیک لوگوں کے اعمالنامے علیین میں رہتے ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تو کیا جانے علیین کیا ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

نیک لوگوں کا نامہ اعمال ایک7 دفتر ہے لکھا ہوا

ف 7 یعنی ایک دفتر ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور کام درج ہیں ضحاک مجاہد قتادہ اور دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ علیون سے مراد ساتواں آسمان ہے جہاں مومنوں کی روحیں لے جائی جاتی ہیں بعضے کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنت ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مقرب فرشتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی اوپر والے کے ہیں واللہ اعلم (فتح القدیر)
Ayah 83:21

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

مقرب فرشتے وہاں حاضر رہتے ہیں۔8

ف 8 یعنی خوش ہو کر اسے دیکھیت ہیں ” شھد “ کے دوسرے معنی گواہی دینے کے بھی ہیں۔ اس لئے بعض مفسرین نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن مقرب فرشتے اس کے مندرجات کی گواہی دینگے۔
Ayahs 83:22–23

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ قیامت کے دن بڑے آرام میں

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے ہوئے9 بہشت کا سامان دیکھ رہے ہوں گے

ف 9 دیکھنے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوزخیوں کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور یہ بھی کہ وہ دیدار الٰہی سے اپنی آنکھوں کو شاد کر رہے ہوں گے۔
Ayah 83:24

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

اے شخص اگر تو ان کو دیکھے تو دیکھتے ہی ان کے چہروں پر خوشحالی کی تازگی اور رونق پہچان لے۔10

ف 10 یعنی جنت کی نعمتوں سے ان کے چہرے ایسے ترو تازہ اور پر ونق ہوں گے کہ دیکھنے والے دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ یہ لوگ نہایت عیش و آرام میں ہیں۔
Ayah 83:25

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو خالص ایوب شراب سربمہر11 پلائی جائے گی

ف 11 یعنی جس برتن میں وہ شراب ہوگی وہ سربمہر ہوگا جتنے لوگ اس کی مہر توڑیں گے۔
Ayah 83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

پی چکنے پر پینے والے کو اس میں مشک کی خوشبو آئی اور ایسے پاکیزہ شراب کی ریس کرنیوالوں کو ریس12 کرنا چاہیے

ف 12 یہ ترجمہ اس صورت میں کہ ” ختام “ کے معنی ” آخری گھونٹ “ کیہوں۔ اس کے دوسرے معنی ” مہر “ کے بھی ہیں، اس لئے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مہر موم یا لاکھ کے بجائے مشک پر جمی ہوئی شاہ صاحب فرماتے ہیں :’ دشراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں لیکن یہ شراب نادر ہے جو زیر مہر رہتی ہے اور اس کی قدر کے موافق مہر جمتی ہے ” مشک پر “ (موضح)
Ayah 83:27

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس شراب میں تسنیم کا13 پانی ملا ہوگا

ف 13 یعنی یہ ہے اصل چیز جسے حاصل کرنے کے لئے تمہیں ایک دوسرے سے آگے لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ دنیا کی عارضی اور بےحقیقت لذتیں دیکھیے۔ (صافات :61)
Ayah 83:28

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

جو ایک چشمہ ہے1(بہشت کا) جس کو صخاص) مقرب لوگ پئیں گے

ف 1 یعنی مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب خلاص پیتے ہیں اور ” ابرار “ کو اس کی ملونی دی جاتی ہے جیسے کسی کو شربت پلاتے وقت اس میں روح کیوڑا یا عرق گلاب ملایا جائے۔
Ayah 83:29

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

بیشک گناہگار لوگ دنیا میں2 ایمان والوں پر ہنستے تھے مسخرہ پن کرتے تھے3

ف 2 کو ان پر کیا پاگل پن سوار ہے کہ محسوس اور موجود لذتوں کو چھوڑ کر ان دیکھی موہوم لذتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ “3 کہ یہی وہ سر پھرے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مطلوب ہے اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو دنیا کی ہر لذت سے محروم رکھا ہے۔ ‘
Ayahs 83:30–31

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان پر سے گذرتے تھے تو ان پر آنکھ مارتے تھے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب مجلس سے لوٹ کر4 اپنے گھروں کو جاتے تھے تو بڑے پھولے ہوئے یا دل لگی کرتے ہوئے جاتے تھے5

‘4 یعنی مسلمانوں پر پھبتیاں کستے ہوئے۔5” جو محمد (ﷺ) کی باتوں میں آگئے اور اسی لئے انہوں نے آخرت کی موہوم امید پر اپنی دنیا تج دی۔
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب مسلمانوں کو دیکھتے تھے تو کہہ اٹھتے تھے یہ لوگ چکمہ کھا گئے ہیں۔6

ف 6 کہ ان کی ایک ایک حرکت پر نگاہ رکھیں حالانکہ انہیں اصل فکر اپنی اصلاح کی چاہیے تھی۔
Ayahs 83:33–34

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ یہ کافر لوگ کچھ ان مسلمانوں کے نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

تو آج اس کے بدل7، یعنی آخرت میں مسلمان کافروں پر ہنس رہے ہیں

ف 7 کہ یہ لوگ کیسے احمق اور کوتاہ اندیش تھے کہ دنیا کی عارضی خوشحالی اور فانی لذتوں کو پا کر ایسے مست ہوگئے کہ آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی اور اس کی پائیدار نعمتوں سے غافل ہوگئے بلکہ الٹا ان لوگوں کا مذاق اڑاتے رہے جو انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے تھے۔
Ayahs 83:35–36

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے سیر کر رہے ہیں یا دوزخیوں کا حال دیکھ رہے ہیں

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

آپس میں کہتے جاتے ہیں اب تو کافروں کو ان کے کئے کی سزا ملی8

ف 8 یعنی جو ندیا میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ اب اس کا مزا چکھا کہ نہیں ؟ بدبخت لوگ اگر پہلے ہی سمجھ جاتے تو آج اس انجام بد سے دوچار تو نہ ہوتے۔