82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 82:1

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان چر جائے2

“2 یعنی اللہ تعالیٰ کی بیبت سے یا فرشتوں کے اترنے کے لئے پھٹ جائے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ” یوم تشق السمآء بالغمام و نزل الملائکہ تنزیلاً اور جس دن بادل کے ساتھ آسمان پھٹے گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتارے جائیں گے۔ (فرمان :25)
Ayahs 82:2–5

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جب ستارے جھڑ پڑیں

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جب سمندر بہ پڑیں یہ کہ سب ایک ہوجائیں

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جب قبریں الٹ دی جائیں ان میں سے مردے نکل پڑیں

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

اس وقت ہر شخص جان لے گا جو عمل اس نے آگے بھیجا3 اور جو نشان اس نے دنیا میں پیچھے چھوڑا

ف 3 یعنی جس کے ثواب یا عذاب کا سلسلہ اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا دوسرا مطل بیہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس کام کو بھی جان لیگا جو اس نے پہلے شروع عمر میں کیا اور اس کام کو بھی جان لیگا جو اس نے بعد میں آخری عمر میں کیا تیسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ اس فریضہ کو بھی جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا (یعنی اسے توشہ آخرت بنایا) اور اس فریضہ کو بھی جان لیگا جو اس نے موخر کیا (یعنی اسے بچا نہ لایا) ۔
Ayah 82:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے آدمی تجھ کو تیرے کرم والے4 مالک سے کس نے بہکا دیا جس نے تجھ کو بنایا

ف 4 یعنی کس چیز نے تجھے اس سے غافل اور اس کی نافرمانی کی طرف مائل کردیا ؟
Ayah 82:7

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

اور بنایا بھی تو ٹھیک طور5 سے سب اعضا درست کئے اور خوبصورتی کے ساتھ بنایا

ف 5 یعنی متناسب اعضاء دیئے یہ نہیں کہ ایک ٹانگ لمبی دی اور دوسری چھوٹی یا ایک آنکھ بڑی دی اور دوسری چھوٹی شاہ صاحب فرماتے ہیں : ” یعنی ٹھیک کیا بدن میں برابر کیا (خوبصورتی کے ساتھ بنایا) خصلت میں “ موضح)
Ayah 82:8

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

جس صورت میں اس نے چاہا تجھ کو جوڑ دیا6

ف 6 یعنی ہر ایک کو الگ رنگ الگ شکل اور الگ روپ دیا۔
Ayah 82:9

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

نہیں نہیں بلکہ تم بدلے کے دن قیامت کو جھٹلاتے7 ہو

ف 7 یعنی یہی نہیں کہ تم اپنے خالق ومالک سے غافل ہو بلکہ قیامت سے بھی انکار کرتے ہو اس لئے شتر بےمہار کی طرح جو چاہتے ہو کرتے ہو۔ اس چیز نے تمہاری زندگی کو حیوانوں سے بدتر بنادیا ہے۔
Ayahs 82:10–11

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ تم پر ہمارے چوکیدار تعینات ہیں

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

عزت دار لکھنے والے (فرشتے)8

ف 8 عزت والے اس لئے کہ وہ لکھنے میں رہتے دیتے ہیں اور نہ کوئی بات زیادہ لکھتے ہیں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں ننگے ہونے سے منع فرماتا ہے لہٰذا تم اپنے ساتھ رہنے والے کراماً کاتبین فرشتوں سے شرم کرو جب تم میں سے کوئی شخص کھلی جگہ نہائے تو اسے چاہیے کہ کپڑے سے پردہ پوشی کرلے یا دیوار یا اونٹ وغیرہ کی اوٹ کرلے۔ (ابن کثیر بحوالہ بزار)
Ayah 82:12

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

جو تم کرتے ہو ان کو خبر ہے۔9

ف 9 لہذا تمہارا یہ سمجھ کر زندگی گزارنا سراسر حماقت ہے کہ شاید تمہارا کوئی گناہ اللہ تعالیٰ کے ریکارڈ میں نہ آیا ہو، اور تم اس پر سزا پانے سے بچ جائو۔ یہ فرشتے ہر انسان پر چار کی چار تعداد میں مقرر ہیں۔ دو اس کی نیکیاں لکھتے ہیں اور دو برائیاں۔ (تفصیل کے لئے دیکھیے سورة رعد آیت 11 مع فائدہ)
Ayahs 82:13–16

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

بیشک اچھے نیک لوگ تو قیامت کے دن آرام رہیں گے

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور برے بدکار لوگ دوزخ میں رہیں گے

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

بدلے کے دن وہ اس میں داخل ہونگے

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور وہ اس میں سے کبھی نکلنے نہ پائیں گے۔10

ف 10 ” بلکہ ہمیشہ اس میں رہیں گے “ دوزخ سے غائب ہونے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے بھی اس سے جدا نہ تھے بلکہ برزخی زندگی میں بھی اس کی کچھ نہ کچھ گرمی نہیں لگتی رہتی تھی۔
Ayahs 82:17–18

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تو کیا جانے بدلے کا دن کیسا سخت ہوگا

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

پھر ہم یہی کہتے ہیں ت جھے کیا معلوم بدلے کا دن کیسا سخت ہوگا۔11

ف 11 یہ انداز بیان ذہن میں روز قیامت پر ایمان کی اہمیت و عظمت کو نقش کرنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔
Ayah 82:19

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

یہ وہ دن ہوگا جس دن کوئی شخص دوسرے شخص کا کچھ فائدہ یا نقصان نہ کرسکے گا۔12 اور اس دن اللہ کا سب اختیار ہوگا۔13 ،

ف 12 اس لئے نبی ﷺ نے اپنے قبیلہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا :” اے بنی ہاشم ! اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچائو میں اللہ کی پکڑ میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ “ یہ حدیث سورة شعراء کے آخر میں تفصیل سے گزر چکی ہے۔13 اس کو دوسری آیت میں یوں فرمایا لمن الملک الیوم اللہ الواحد القھار آج بادشاہی کس کی ہے ؟ صرف اللہ واحد قہار کی (غافر 16) رہی شفاعت تو وہ بھی جیسا کہ متعدد آیات میں تاکیداً بیان ہوا اس کے حکم اور اجازت سے ہوگی۔