83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsانوار البیان

Ayah 83:1

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لئے خرابی ہے

(83:1) ویل للمطففین ۔ مطففین کے لئے ویل ہے۔ ویل بمعنی ہلاکت عذاب، دوزخ کی ایک وادی، عذاب کی شدت۔ ویل کے کئی معانی ہیں :۔ (1) شر اور بدی میں داخل ہونا۔ (2) درد مند کرنا۔ (3) مصیبت زدہ بانا۔ (ان معانی میں ویل مصدر ہے) افسوس، سختی، کلمہ و عید و زجر، کلمہ عذاب، عذاب ، جہنم کی ایک وادی کا نام، جہنم کے کنویں کا نام۔ جہنم کے ایک دروازہ کا نام، کلمہ حسرت و ندامت ، ویلۃ رسوائی، تباہی۔ ویل یا ویلۃ کی اضافت اگر ضمیر کی جانب ہو تو غیبت اور خطاب اور تکلم کی علامات بدلتی رہتی ہیں اور ویل پر ہمیشہ نصب رہتا ہے۔ ہاں یاء متکلم کی جانب اضافت ہو تو یاء کی وجہ سے مجبورا ویل کے لام کو کسرہ دیا جاتا ہے۔ نصب کی وجہ علما نے یہ فرض کی ہے کہ ویل اور ویلۃ بصورت اضافت فعل محذوف کے مصدر (یعنی مفعول مطلق) ہوتے ہیں۔ المطففین : تطفیف (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ تول ناپ میں کم دینے والے۔ طفیف تھوڑی چیز۔ فطافۃ ناقابل اعتناء چیز۔ حقوق العباد میں جن بوجھ کر، دیدہ دانستہ کمی بیشی کرنا۔ عربی میں اسے تطفیف کہتے ہیں اور اس کے مرتکب کو مطفف خصوصا لین دین میں زیادہ لینا اور کم دینا تول یا پیمانہ کے ذریعہ سے۔ علامہ تشیری (رح) اور دیگر بزرگوں نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ (تطفیف) کثیر المعانی سے پیمائش اور تول میں خیانت کو بھی شامل ہے اور اس کے علاوہ ہر قسم کی خیانت اور خست کو بھی۔ آپس کے معاملات میں بھی اور اللہ تعالیٰ کے معاملات میں بھی۔ ویل مبتداء اور مطففین اس کی خبر ہے۔
Ayah 83:2

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں

(83:2) الذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفون : یہ جملہ مطففین کی صفت ہے۔ یہ لوگ (مطففین) وہ ہیں کہ اگر لوگوں سے اپنا حق ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا ناپتے ہیں۔ اکتالوا ماضی جمع مذکر غائب اکتیال (افتعال) مصدر سے۔ جب وہ پیمانہ سے ناپ کرلیتے ہیں اکتال کے معنی ہیں پیمانہ سے تول کرلینا۔ الکیل (باب ضرب) غلہ ناپنا، تولنا، کیل بغیر (12:65) اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ۔ مکیال المطر بارش مانپنے کا آلہ۔ علی الناس (جو ان کا حق لوگوں کے ذمہ ہے) بجائے من الناس (لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں) کے بجائے علی الناس (لوگوں پر) فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ علی الناس کہنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا جو حق ہوتا ہے اس کو وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ لوگوں پر اپنا حق ٹھونس کر وصول کرتے ہیں۔ یستوفون : مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب استیفاء (استفعال) مصدر سے۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ وی مادہ الوافی مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں۔ اوفی (وفاء باب ضرب) بعھدہ بمعنی اس نے عہد و پیمان کو پورا کیا۔ لیکن قرآن مجید میں اوفی (افعال) سے استعمال ہوا ہے۔ چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے اوفوا بعھدی اوف بعھدکم (2:40) تم اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ اور میں اس اقرار کو پورا کردوں گا جو میں نے تم سے کیا تھا۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ جو جب لوگوں سے اپنا حق لیتے ہیں تو ٹھوک بجا کر پورا پورا ناپ لیتے ہیں۔
Ayah 83:3

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو کم دیں

(83:3) واذا کالوہم او وزنوہم یخسرون اذا ظرف زمان ہے۔ بمعنی جب۔ کالوھم او وزنوھم اصل میں کالوا لہم او وزنوا لہم تھا۔ دونوں میں حرف جار محذوف ہے۔ کانوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب کیل (باب ضرب) مصدر ناپنا۔ تولنا۔ لہم ان کے لئے۔ یعنی جب دوسروں کو تول کر یا ناپ کردیتے ہیں (ان کے لئے تولتے ہیں) او حرف عطف وزنوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ ازن (باب ضرب) مصدر سے۔ یا ان کو وزن کرکے دیتے ہیں۔ یخسرون : مضارع جمع مذکر غائب اخسار (افعال) مصدر (تو) کمی کردیتے ہیں۔ یعنی کم دیتے ہیں۔
Ayah 83:4

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے

(83:4) الا یظن اولئک انھم مبعوثون۔ جملہ مستانفہ ہے ۔ ہمزہ استفہامیہ اور لا نافیہ ہے ۔ اور یظن کے ساتھ مل کر اسے مضارع منفی بناتا ہے۔ لا یظن مضارع منفی واحد مذکر (بمعنی جمع ذکر) غائب۔ ظن (باب نصر) مصدر سے بمعنی یقین کرنا۔ گمان کرنا۔ اولئک اسم اشارہ جمع مذکر لا یظن کا فاعل ۔ اس کا مشار الیہ المطففین ہے۔ انھم میں ان حرف مشبہ بالفعل ہم اسم ان۔ مبعوثون اس کی خبر ۔ مبعوثون بعث (باب ضرب) مصدر سے اسم مفعول جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ دوبارہ، زندہ کرکے اٹھائے جانے والے۔ انھم مبعوثون مفعول ہے یظن کا۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا وہ (ڈنڈی مار۔ ناپ تول میں کمی کرنے والے) خیال (بھی) نہیں کرتے کہ وہ دوبارہ زندہ کرکے (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 83:5

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

(یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں

(83:5) لیوم عظیم۔ لام علت کا ہے۔ یعنی یوم عظیم کے حساب کے لئے یا ظرفیہ بمعنی فی ہے یعنی یوم عظیم ہیں۔ روز قیامت کو یوم عظیم اس لئے قرار دیا کہ اس دن کے واقعات عظیم ہوں گے۔ یوم عظیم موصوف صفت ، عظیم دن، ایک بڑا دن۔
Ayah 83:6

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

(83:6) یوم یقوم الناس لرب العلمین۔ یہ یوم عظیم سے بدل ہے اور غیر متمکن کی طرف اضافت کی وجہ سے مفتوح ہے یعنی وہ دن جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ (مظہری) یعنی اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اس کے حضور کھڑے ہوں گے۔
Ayah 83:7

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

سن رکھو کہ بدکاروں کے اعمال سجین میں ہیں

(83:7) کلا : کلمہ ردع و تنبیہ ہے ای لیس الا مر کما زعمتم انہ لاحساب ولاجزاء بات یہ نہیں جیسے تم خیال کرتے ہو کہ کوئی حساب و جزا نہ ہوگی ؟ تفسیر مظہری میں ہے :۔ کلا یہ بجائے خود پورا کلام ہے اور تطفیف مذکور سے بازداشت ہے۔ امام حسن بصری (رح) نے فرمایا :۔ کلا اس جگہ ابتدائیہ ہے بعد والے کلام سے اس کا ربط ہے اور حقا (یقینا) کا ہم معنی ۔ ان کتب الفجار لفی سجین : ان حرف مشبہ بالفعل ۔ کتب الفجار مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان لفی سجین اس کی خبر۔ تحقیق فجار کی کتاب سجین میں ہوگی۔ کتاب سے مراد نامہ اعمال ہے جو کراما کاتبین اس کام کے لئے ہر شخص پر متعین ہیں اور ہر وقت تیار کرتے رہتے ہیں۔ الفجار : فجور (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے ۔ الفجر کے معنی ہیں کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا۔ اور فجور کے معنی ہیں دن کی پرواہ دری کرنا۔ یعنی کہ نافرمانی کرنا۔ فاجر بمعنی بدکار۔ مفرد ہے۔ سجین : سجن سے مشتق ہے سجن کا معنی ہے۔ حبس۔ قید۔ قاموس میں ہے کہ سجین بروزن سکین، دوامی سخت قید۔ اخفش نے کہا کہ سجین سجن سے بروزن فعیل ہے جیسے شریب (بہت پینے والا) فسیق (بڑا فاسق) ایسے ہی سجن (سخت قید) عکرمہ نے کہا کہ سجین سے مراد ہے ذلت اور گمراہی حقیقت میں فجار کے مندرجہ کتاب اعمال ان کی قید، ذلت اور گمراہی کے موجب ہیں (یعنی اپنے اعمال کی وجہ سے کافر قید اور گمراہی میں ہوں گے) مگر مجازا کرب کو قید اور ذلت میں قرار دیا۔ احادیث اور آثار میں سے ظاہر ہے کہ سجین اس مقام کا نام ہے جہاں کفار کا رجسٹر ہے، سجین کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ کافروں کی روحیں بند کردی جاتی ہیں۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 83:8

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تم کیا جانتے ہو کہ سجین کیا چیز ہے ؟

(83:8) وما ادرک ما سجین : اور تمہیں کیا معلوم (یا تمہیں کون چیز سمجھائے ) کہ سجین کیا ہے یہ استفہام سجین کی عظمت اور ہولناکی ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ الکشاف میں سجین کی تشریح یوں کی گئی ہے کتاب جامع ھود یوان الشردون اللہ فیہ اعمال الشیاطین و اعمال الکفرۃ والفسقۃ من الجن والانس وھو کتاب مرقوم بین الکتابۃ۔ یہ ایک جامع کتاب ہے جو ایک دیوان (رجسٹر) ہے (فجار کی برائیوں کا) جسے اللہ نے ترتیب دے رکھا ہے اور جس میں جن و انس کے شیاطین کفار اور فاسق لوگوں کے اعمال درج ہیں ۔ وہ واضح تحریر کی ایک کتاب ہے۔ صاحب تفہیم القرآن فرماتے ہیں :۔ اصل میں یہ لفظ سجین استعمال ہوا ہے جو سجن (جیل یا قید خانہ) سے ماخوذ ہے اور آگے اسے کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد وہ رجسٹر ہے جو سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے درج کئے جاتے ہیں (تفہیم القرآن) مولانا عبد الحق دہلوی (رح) اپنی تفسیر حقانی میں فرماتے ہیں کہ :۔ سجین مجرموں کا ایک قید خانہ عالم پستی میں ہے وہاں دفتر ہے جیسا کہ جیل خانوں میں دفتر ہوتا ہے کہ جب کوئی قیدی آتا ہے تو اس کا اس میں نام لکھ لیا جاتا ہے اس لحاظ سے اس سجین کو دفتر کی جگہ کہنا نامناسب نہیں اور ہے دراصل یہ قید خانہ۔ اور علیین جس کا ذکر اگلی آیتوں میں آتا ہے یہ عالم بالا میں ایک پرفضا مقام اور فرحت کی جگہ ہے قیامت تک لوگ سجین میں پھر جہنم میں اور نیک لوگ علیین میں پھر جنت میں رہیں گے۔ سجین جہنم کا ابتدائی طبقہ ہے اور علیین جنت کا ابتدائی مقام ہے۔ علامہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ (میرے نزدیک) ظاہر ہے کہ سجین کافروں کے روحوں کی قرار گاہ بھی ہے اور ان کے اعمالناموں کا گودام بھی یہی ہے اور کلام میں ایک لفظ محذوف ہے یا تو ما سجین اصل میں ما کتب سجین تھا۔ یا کتب مرقوم اصل میں محل کتب مرقوم تھا۔
Ayah 83:9

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

(83:9) کتب مرقوم۔ موصوف و صفت، سجین (بمعنی کتاب جامع، رجسٹر، دیوان) کی تشریح ہے۔ مرقوم : رقم (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر، لکھا ہوا۔ جلی خط سے لکھا ہوا۔ (نیز ملاحظہ ہو 83:8 متذکرۃ بالا) یعنی سجین کیا ہے ایک تحریر کردہ شدہ دفتر ایک لکھی ہوئی کتاب۔
Ayah 83:10

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے

(83:10) ویل یومئذ للمکزین۔ حق کو جھٹلانے والوں کے لئے اس دن بربادی (خرابی) ہوگی (نیز ملاحظہ ہو 77:15)
Ayah 83:11

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

(یعنی) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

(83:11) الذین یکذبون بیوم الدین۔ جملہ المکذبین (آیت نمبر 10 مذکورہ بالا) سے بدل ہے یا اس کی صفت ذم ہے۔ (ان مکذبین کی خرابی ہوگی) جو روز انصاف کو جھٹلاتے ہیں۔
Ayahs 83:12–13

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

(83:12) وما یکذب بہ الا کل معتد اثیم۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ یکذب مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تکذب (تفعیل) مصدر سے بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یوم الدین ہے۔ الا کے متعلق علامہ سیوطی الاتقان فی علوم القران میں رقمطراز ہیں :۔ الرمانی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ الا کے وہ معنی جو اسے لازم ہیں یہ ہیں کہ وہ جس چیز کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے دوسری چیزوں کو چھوڑ کر اسی کا ہو رہتا ہے مثلاً اگر تم کہو کہ جاء فی القوم الا زیدا تو اس کلام میں تم نے زید کو نہ آنے کے ساتھ مخصوص کردیا ۔ اور اگر کہا جائے کہ ما جاء فی الا زید تو اس مثال میں زید ہی آنے کے لئے خاص ہوگیا۔ اسی طرح وما یکذب بہ الا کل معتد اثیم میں معتد تکذیب کے لئے خاص ہوگیا یعنی صرف معتد اثیم ہی یوم الدین کی تکذیب کرتے ہیں۔ کل معتد اثیم میں کل مضاف معتد موصوف اثم صفت، موصوف اور صفت مل کر مضاف الیہ۔ معتد اعتداء (افتعال) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ حد سے آگے بڑھنے والا۔ حدود حق سے ہٹ جانے والا۔ تجاوز کرنے والا۔ اثیم۔ اثم سے (باب سمع) صفت کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ یعنی یوم الدین کی تکذیب صرف معتد اثیم ہی کرتا ہے، معتد وہ شخص جو کہ جہالت اور جاہل آباء و اجداد کی پیروی میں حد سے آگے بڑھ گیا ہو، یہاں تک کہ دوبارہ پیدا کرنے پر خدا کو قادر نہ سمجھتا ہو۔ اثیم وہ گنہگار جو خواہشات نفس میں منہمک اور اتنا مشغول ہو کہ مخالف خواہش امور کو اس نے پس پشت ڈال دیا ہو اور اس انہماک نفسانی نے اس کو مخالف نفس چیزوں کے انکار پر آمادہ کرلیا ہو۔ ترجمہ : اور نہیں جھٹلاتا اسے (یعنی یوم الدین کو) مگر وہی جو حد سے گزرنے والا گنہگار ہے۔
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا انکے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے

(83:14) کلا۔ ہر متعداثیم کے لئے حرف ردع و توبیخ ہے یعنی ہر معتداثم کو اس تکذیب سے اور اس قول (اساطیر الاولین) سے باز رہنے کے لئے سرزنش ہے ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ بل : حرف اضراب ہے۔ یہاں پر اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے کہ ما سبق برائیاں تو ان میں ہیں ہی۔ لیکن مابعد کی برائیاں اس سے بھی بڑی کر ہیں ۔ یعنی یوم جزاء کی تکذیب اور آیات الٰہی کو اساطیر الاولین کہنا تو ان کے گناہ کے پلڑے میں تھا ہی اب اس سے بڑھ کر ایک اور بدتر گناہ ان کے میزان عمل کو بری طرح متاثر کر رہا ہے ان کے کردہ گناہوں سے ان کے دل زنگ آلود ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ ظلمت و عصیاں کے تاریک گڑھوں میں گرتے ہوئے نیچے ہی جا رہے ہیں۔ علامہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ :۔ بل : اس لفظ سے کلام سابق سے اعراض کرکے یہ بات بتائی ہے کہ ادراک حق اور باطل کی تمیز کی قابلیت ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے (یعنی پہلے صرف یہ کہا گیا تھا کہ وہ یوم جزاء کی تکذیب کرتے ہیں پھر کلا کہہ کر ان کو اس تکذیب سے روکا گیا۔ اس کے بعد کہا گیا کہ یہ لوگ صرف تکذیب ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں پر بد اعمالی کا زنگ چڑھا ہوا ہے اس لئے ادراک حق کی قابلیت ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ران علی قلوبھم ما کانوان یکسبون : ران ۔ رین (باب ضرب) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے زنگ پکڑا۔ وہ زنگ آلود ہوا۔ علی کے صلہ کے ساتھ۔ وہ غالب آگیا۔ وہ چھا گیا۔ ما موصولہ کانوا یکسبون اس کا صلہ۔ جو وہ کمایا کرتے تھے۔ یہ جملہ فاعل ہے ران کا۔ یعنی جو (کرتوتیں) وہ کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔ ان کے دلوں کو زنگ آلود کردیا ہے ان کے دلوں پر ثھا گیا۔ ان کے دلوں پر غالب آگیا۔ یکسبون : مضارع معروف جمع مذکر غائب کسب (باب ضرب) مصدر۔ کانوا یکسبون ماضی استمراری۔ وہ کیا کرتے تھے ۔ وہ کمایا کرتے تھے۔
Ayah 83:15

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے

(83:15) کلا۔ حرف ردع ہے زنگ پیدا کرنے والے گناہوں کے ارتکاب سے باز داشت ہے۔ ان کو ایسا کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ یا کلا بمعنی حقا ہے۔ بےشک، یقینا۔ انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون : ان حرف مشبہ بالفعل بمعنی تحقیق۔ ہم اسم ان محجوبون خبر۔ یومئذ ظرف ہے محجوبون کا، عن ربھم متعلق خبر۔ لمحجوبون میں لام تاکید کا ہے۔ محجوبون حجب و حجاب مصدر (باب نصر) سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر حجب و حجاب بمعنی روکنا۔ محجوب اوٹ میں رکھا جانے والا۔ دیکھنے سے روک لیا جانے والا ۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک یہ لوگ اس روز اپنے رب (کے دیدار) سے روک لئے جائیں گے۔
Ayah 83:16

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

(83:16) ثم انھم لصالوا الحجیم : ثم حرف عطف ہے ماقبل سے ما بعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ خواہ یہ متاخر ہونا بالذات ہو یا باعتبار مرتبہ کے ہو یا وضع کے لحاظ سے۔ یہاں بلحاظ مرتبہ آیا ہے۔ پھر جہنم میں داخل ہوں گے (جو ان کے لئے دیدار الٰہی کی محرومی سے بڑھ کر عذاب ہوگا) صالوا صلی (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ مضاف ہے اضافت کی وجہ سے نون جمع حذف ہوگیا ہے اصل میں صالون تھا۔ الجحیم مضاف الیہ۔ صالوا الجحیم : دوزخ میں داخل ہونے والے۔
Ayah 83:17

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے

(83:17) ثم یقال ھذا الذی کنتم بہ تکذبون : ثم ملاحظہ ہو سابقہ آیت نمبر 16) ثم یہاں بلحاظ وضع کے ہے بمعنی پھر۔ یقال مضارع مجہول واحد مذکر غائب مفعول مالم یسم فاعلہ۔ اور جملہ ھذا الذی ۔۔ الخ مفعول ہے یقال کا۔ پھر ان سے کہا جائے گا یہ ہے وہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔
Ayah 83:18

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں

(83:18) کلا ان کتب الابرار لفی علیین : یہ جملہ مستانفہ ہے ابرار کے حال کے بیان کے لئے ہے۔ کلا حرف ردع ہے تکذیب عذاب سے باز داشت کے لئے آیا ہے۔ یا بمعنی حقا (یقینا) مستعمل ہے۔ مقاتل نے کہا کہ اس جگہ کلا کا مفہوم یہ ہے کہ جس عذاب میں وہ داخل ہوگا اس پر ایمان نہیں لاتا تھا۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ بیشک نیکوں کا روزنامچہ علیین میں ہوگا۔ علیین (1) بعض کے نزدیک یہ سب سے جنت کا اعلیٰ معام ہے جس طرح کہ سجین سب سے بدتر دوزخ کا نام ہے۔ ملاحظہ ہو آیات 83:7 - 8 متذکرۃ الصدر۔ (2) بعض کا خیال ہے کہ یہ وہاں رہنے والوں کا نام ہے اور عربیت کے لحاظ سے یہی معنی زیادہ قریب ہیں۔ کیونکہ جمع ذوی العقول کے ساتھ مخصوص ہے۔ (3) بعض کہتے ہیں کہ چونکہ یہ ملائکہ کی صفت ہے اس لئے واؤ نون کے ساتھ جمر آئی ہے۔ (4) فراء کا خیال ہے کہ یہ اسم ہے جو جمع کے وزن پر وضع کرلیا گیا ہے مگر اس کے لفظ سے کوئی واحد نہیں آتا۔ جیسے کہ عشرین اور ثلاثین ہیں جو کہ اسم عدد ہیں اور جمع کے وزن پر ہیں مگر جمع نہیں ہیں۔ کیونکہ عشرین اگر جمع ہوتا تو کم از کم تین عشر یعنی تیس کے لئے بولا جاتا۔ حالانکہ اس کے معنی بیس کے ہیں اسی طرح ثلثین اگر ثلث کی جمع ہوتا تو اس کے معنی کم از کم نو (9) کے ہوتے ہیں حالانکہ اس کے معنی تیس (30) کے ہیں۔ اور عرب کا دستور ہے کہ جب وہ ایسی جمع بنائیں کہ جس کے واحد اور تثنیہ کا کوئی صیغہ نہ ہو تو وہ مذکر اور مؤنث دونوں میں واؤ نون کے ساتھ بولا کرتے ہیں۔ علامہ زمخشری نے مندرجہ ذیل اقوال بیان کئے ہیں۔ (1) اس سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا بلند مقامات۔ (2) یہ نیکی کے رجسٹر کا نام ہے کہ جس میں وہ تمام چیزیں مدون ہیں جو کہ فرشتے اور تمام صلحاء جن و انس انجام دیا کرتے ہیں۔ (3) اس کے معنی دوگنی چوگنی بلندی کے ہیں (لغات القرآن) (4) یا یہ ساتویں آسمان پر وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں ابرار کی روحیں جمع ہیں۔
Ayah 83:19

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم علیین کیا چیز ہے ؟

(83:19) اور تو کیا جانے کہ علیین کیا ہے۔ تجھے کیا چیز کیا چیز سمجھائے کہ علیین کیا ہے۔
Ayah 83:20

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

(83:20) کتب مرقوم۔ ملاحظہ ہو 83:9 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 83:21

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں

(83:21) یشھدہ المقربون : یہ کتاب (کتاب الابرار کی دوسری صفت ہے۔ یشھد مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب شھود (باب سمع) مصدر سے بمعنی حاضر ہونا۔ ای یحضرون المقربون ذلک الکتب ویحفظونہ لانہ یحمل امانا لصاحبہ من النار وفوزہ بالجنۃ (تفسیر حقانی، السیر التفاسیر) یعنی الملائکۃ المقربون اس کتاب پر حاضر رہتے ہیں اور اس کی (ہر طرح سے) حفاظت کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس میں اس کے لئے دوزخ سے امان اور جنت کی کامیابی (کے احوال) مندرجہ ہیں۔ یشھدہ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کتاب کے لئے ہے۔ المقربون تقریب (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر، زیادہ عزت والے قریب کئے گئے، قرب پالینے والے، قریبی
Ayah 83:22

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ چین میں ہوں گے

(83:22) ان الابرار لفی نعیم : ان حرف تحقیق، مشبہ بالفعل ۔ الابرار : اسم ان ۔ لفی نعیم اس کی خبر۔ لام تاکید کا۔ نعیم بمعنی نعمت، راحت، عیش۔
Ayah 83:23

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے

(83:23) علی الارانک ینظرون : جملہ سابقہ سے حال ہے الا رائک جمع اریکۃ کی۔ وہ مزین تخت جس پر پردہ لٹکا ہوا ہو۔ ینظرون مضارع جمع مذکر غائب نظر (باب نصر) مصدر سے۔ وہ دیکھ رہے ہوں گے وہ نظارے کر رہے ہوں گے۔ (جنت کے عجائبات و مناظر کا) یا جمال الٰہی کا۔ چونکہ یہ (ینظرون) محجربون کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے قرینہ بھی اسی معنی کو چاہتا ہے ۔ (تفسیر ماجدی) ۔ ترجمہ آیات 22:23:۔ بیشک نیک لوگ عیش میں ہوں گے درآنحالیکہ تختوں پر بیٹھے ہوئے جمال الٰہی کا نظارہ کر رہے ہوں گے
Ayah 83:24

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کرلو گے

(83:24) تعرف فی وجوہہم نضرۃ النعیم : یہ بھی جملہ حالیہ ہے (اور حال ابرار کا یہ ہوگا اے مخاطب تجھے ان کے چہروں پر تازگی دکھائی دے گی۔ تعرف مضارع معروف واحد مذکر حاضر معرفۃ وعرفان (باب ضرب) مصدر سے تو پہچانتا ہے۔ تو پہچانے۔ کسی چیز کی نشانیوں پر غور و فکر کے بعد اس چیز کے ادراک کرنے کا نام معرفت اور ادراک ہے یہ علم سے اخص ہے اور انکار اس کی ضد ہے۔ فلان یعرف اللہ (فلاں اللہ کو پہچاننا ہے) بولتے ہیں۔ یعلم اللہ (وہ اللہ کو جانتا ہے) نہیں بولتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک ہوتا ہے اسی طرح ذات باری تعالیٰ کے لئے ” علم “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے معرفت کا نہیں۔ اللہ یعلم کذا اور یعرف کذا نہیں کہتے کیونکہ معرفت کا لفظ اس علم قاصر کے متعلق ہوتا ہے جس پر غور و فکر کے بعد رسائی ہوتی ہے۔ نضرۃ النعیم مضاف مضاف الیہ، نضرۃ بمعنی تروتازگی۔ رونق چہرہ۔ نعیم ، عیش ۔ راحت۔ خوش حالی۔ نضرۃ النعیم : عیش و راحت کی وجہ سے چہرہ کی تروتازگی۔
Ayah 83:25

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو خالص شراب سربمہر پلائی جائے گی

(83:25) یسقون من رحیق مختوم یہ جملہ بھی الابرار سے حال ہے اور ان کو پلائی جائے گی خالص شراب۔ یسقون مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ سقی (باب ضرب) مصدر سے ۔ ساقی شراب پلانے والا۔ رحیق مختوم موصوف صفت۔ رحیق شراب ناب، اسم جامد ہے وہ شراب صاف جس میں ذرا آمیزش نہ ہو اور جس کے پینے سے بےہوشی نہ ہو۔ مختوم یہ صفت ہے رحیق کی سربمہر، ختم و ختام (باب ضرب) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر جس پر مہر لگائی گئی ہو۔
Ayah 83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جس کی مہر مشک کی ہوگی۔ تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

(83:26) ختمہ مسک جس کی مہر مشک (کی) ہوگی۔ یہ رحیق کی دوسری صفت ہے۔ وفی ذلک فلیتافس المتنافسون : جملہ معترضہ ہے۔ واؤ عاطفہ ہے فی ذلک ای لذلک ۔ الی ذلک۔ یعنی ایسی شراب حاصل کرنے کے لئے۔ فلیتنافس فعل امر واحد مذکر غائب۔ تنافس (تفاعل) مصدر سے۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر کسی چیز کی حرص کرنا۔ ایک دوسرے سے جلدی کرنا۔ مبادرت کرنا۔ کسی چیز میں کسی سے جلدی کرنا۔ سبقت کرنا۔ س وصل کی وجہ سے مکسور ہے۔ قرطبی نے لکھا ہے :۔ والی ذلک فلیتبادرون۔ اس کی طرف تم ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوشش کرو۔ المتنافسون : تنافس سے اسم فاعل کا سیغہ جمع مذکر۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص کرنے والے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس چاہیے کہ شوق رکھنے والے اس رحیق مختوم کے حاسل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی حرص کریں۔
Ayah 83:27

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہوگی

(83:27) ومزاجہ من تسنیم اور اس کی آمیزش ہوگی تسنیم سے یہ رحیق مختوم کی ایک اور صفت ہے کہ اس میں تسنیم کو ملایا جائے گا۔ مزاجہ مضاف مضاف الیہ۔ مزاج ومزج مصدر (باب نصر سے) بمعنی پانی وغیرہ سے ملانا۔ ملاوٹ کے بعد جو ایک جدید کیفیت ہوتی ہے اس کو بھی مزاج کہتے ہیں ۔ یعنی آمیزش، ملاوٹ، جو چیز ملائی جائے۔ مثلاً دودھ میں پانی یا چینی ملائی جائے اس کو بھی مزاج کہتے ہیں جیسے موجودہ صورت میں مزاج سے مراد تسنیم ہے یہ مضاف ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب رحیق کے لئے ہے مضاف الیہ ۔ مزاجہ من تسنیم۔ اس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ تسنیم جنت میں ایک چشمے کا نام ہے۔ لغت میں تسنیم اس چیز کو کہتے ہیں جو خوشبو یا ذائقہ کے لئے شربت یا پانی میں ملاتے ہیں۔ جیسے روح گلاب یا روح کیوڑہ بید مشک وغیرہ ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ :۔ لفظ تسنیم کی وضعی ساخت بلندی کے مفہوم کی حامل ہے چونکہ سنام کا معنی ہے اونچی چیز۔ اس لئے سنام اونٹ کے کوہان کو کہتے ہیں۔
Ayah 83:28

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقرب پئیں گے

(83:28) عینا یشرب بھا المقربون : عینا کے منصوب ہونے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ منصوب بوجہ تسنیم سے حال ہونے کے ہے۔ (2) اس کا نصب امدح یا اعنی فعل مقدرہ کی بنا پر ہے۔ بھا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) ب بمعنی من۔ منھا یعنی اس میں سے پئیں گے۔ (2) ب زائدہ ہے۔ معنی ہوں گے۔ اسے مقربین پئیں گے۔ (3) یشرب چونکہ یلتذ (باب افتعال بمعنی لذیذ پانا) کے معنی کو متضمن ہے اس لئے اس کے بعد بھا لایا گیا ہے یعنی اس شراب سے لذت یاب ہوں گے۔ (تفسیر حقانی، تفسیر مظہری، روح المعانی) ترجمہ :۔ وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقربین پئیں گے۔ فائدہ : آیت مندرجہ بالا سے معلوم ہوا کہ بہشت میں جنتی رحیق (شراب مصفی) پئیں گے اور ابرار کا درجہ چونکہ عام جنتیوں سے بلند تر ہوگا ان کو یہ شراب مصفی تسنیم کی آمیزش سے زیادہ لذیذ بنا کر پینے کو دی جائے گی۔ مقربین کا رتبہ ابرار سے بھی اوپر ہے وہ خاص اسی تسنیم کو پیا کریں گے۔
Ayah 83:29

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

جو گنہگار (یعنی کافر) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

(83:29) ان الذین اجرموا کانوا من الذین امنوا یضحکون : ان حرف مشبہ بالفعل۔ الذین اجرموا (موصول وصلہ مل کر) اسم ان : کانوا فعل ناقص ضمیر متصل اس کا اسم ۔ یضحکون اس کی خبر۔ من الذین امنوا متعلق خبر۔ اجرموا : ماضی جمع مذکر غائب : اجرام (افعال) مصدر۔ انہوں نے جرم کیا۔ (یہاں ضمیر فاعل کا مرجع ابوجہل۔ ولید بن مغیرہ۔ عاص بن وائل، اور ان کے ساتھی دوسرے مشرکین مکہ ہیں۔ الذین امنوا سے مراد ہیں حضرت عمار ؓ حضرت جناب ؓ حضرت صہیب وحضرت بلال اور ان کے دوسرے ساتھی نادار مسلمان ؓ اجمعین ۔ یضحکون : مضارع جمع مذکر غائب ضحک (باب سمع) مصدر سے ۔ وہ ہنستے تھے۔ یعنی یہ مجرم لوگ مومنوں کا مذاق اڑانے کے لئے ان سے ہنستے تھے۔
Ayah 83:30

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب انکے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے

(83:30) واذا مروا بھم یتغامزون۔ یہ دوسری قبیح حرکت تھی جو کفار مکہ مسلمانوں سے کرتے تھے۔ واؤ عاطفہ ہے اذا ظرف زمان بمعنی جب) مروا ماضی جمع مذکر غائب مرور (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ گزرتے تھے۔ بھم : ب الصاق کا ہے (حرف جار ہے) ہم مجرور۔ ضمیر ہم مسلمانان مکہ کے لئے ہے۔ یتغامزون : مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب تغامز (تفاعل) مصدر سے وہ آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔ وہ آنکھیں مارتے تھے۔ بطور استہزاء اشارے کرتے تھے۔ اور جب کافر مومنوں کی طرف سے گزرتے تھے تو وہ کافر مسلمانوں کی طرف بطور استہزاء اشارے کرتے تھے آنکھوں سے۔
Ayah 83:31

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے

(83:31) واذا انقلبوا الی اہلہم انقلبوا فکھین : یہ کفار مکہ کی تیسری شرارت تھی جو وہ مسلمانوں کے معاملہ میں کرتے تھے۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اذا ظرفیہ ہے بمعنی جب، جب شرط کے معنوں میں بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں واذا انقلبوا الیٰ اہلہم جملہ شرط ہوگا اور دوسرا جملہ جواب شرط۔ انقلبوا ماضی جمع مذکر غائب انقلاب (انفعال) مصدر۔ وہ لوٹے۔ وہ پھرے۔ اہلہم مضاف مضاف الیہ۔ اہل : والا۔ والے۔ وہ سب لوگ اہل کہلاتے ہیں۔ جن کو مذہب یا نسب یا ان دونوں کے علاوہ اور کسی قسم کا کوئی رشتہ یا تعلق ہو مثلاً ایک گھر یا ایک ہی شہر میں رہنا۔ بسنا ، یا کسی مخصوص صنعت یا پیشہ میں شریک ہونا۔ غرض کسی خاص صفت سے متصف ہونا ایک سلسلہ میں منسلک کردے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ اہلہم ان کے گھر والے۔ فکہین فکۃ کی جمع۔ باتیں بناتے ہوئے۔ اتراتے ہوئے ، مذاق اڑاتے ہوئے۔ الفکاہۃ خوش طبعی کی باتیں۔ خوش گپیاں فکھین انقلبوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔ اور جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹتے تو خوش گپیاں مارتے ، مزے اڑاتے جاتے۔
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں

(83:32) واذا راوہم جملہ شرطیہ۔ رأوا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح) مصدر۔ اس میں ضمیر فاعل کفار مکہ کے لئے ہے اور ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (مسلمانوں کے لئے) یعنی جب وہ کافر مسلمانو کو دیکھتے (یہ جملہ شرطیہ ہے) قالوا ان ھؤلاء لضالون جملہ جواب شرط ہے۔ یعنی کفار مکہ کہتے ان ھؤلاء لضالون یہ مقولہ ہے قالوا کا۔ ان حرف مشبہ بالفعل ھؤلاء اسم اشارہ جمع، یہ ان کا اسم ہے لام تاکید کا ہے ضالون، ضلال (باب ضرب) مصدع سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بمعنی بہکے ہوئے ۔ گمراہ۔ راہ بھولے ہوئے۔ ان کی خبر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ (جب کافر لوگ مسلمانوں کو دیکھتے) تو کہتے در حقیقت یہی لوگ گمراہ ہیں۔ یہ کافروں کی مسلمانوں کے خلاف چوتھی قبیح حرکت تھی۔
Ayah 83:33

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بیجھے گئے تھے

(83:33) وما ارسلوا علیہم حفظین۔ جملہ حالیہ ہے۔ قالوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے واؤ حالیہ ما نافیہ ہے ارسلوا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر ارسال (افعال) بمعنی بھیجنا۔ ارسال کرنا۔ حفظین حفظ سے (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب بمعنی حفاظت کرنے والے۔ نگہبانی کرنیوالے علیہم میں ہم ضمیر کا مرجع مسلمان اہل ایمان ہیں۔ ترجمہ :۔ حالانکہ یہ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔
Ayah 83:34

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

(83:34) فالیوم الزین امنوا من الکفار یضحکون :عاطفہ ہے بمعنی پس، الیوم روز قیامت، آج، آج کے دن۔ دن۔ یضحکون کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ الذین امنوا موصول و صلہ مل کر فاعل یضحکون کا۔ اہل ایمان مسلمان۔ من الکفار۔ کفار سے۔ کفار پر۔ جیسے آیت 29: مذکور بالا میں ہے۔ یضحکون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ضحک (باب سمع) مصدر سے۔ وہ ہنستے ہیں۔ وہ ہنسیں گے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے ۔ کافروں پر ہنسیں گے۔
Ayah 83:35

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

(اور) تختوں پر (بیٹھے ہوئے انکا حال) دیکھ رہے ہوں گے

(83:35) علی الا رائک ینظرون۔ جملہ یضحکون سے حال ہے۔ یعنی جب مومن اپنی اپنی مسہریوں پر بیٹھے دیدار خدا کر رہے ہوں گے اور کافروں کو طوق و زنجیر میں بندھا ہوا دوزخ میں دیکھیں گے۔ تو اس روز مومن کافروں پر ہنسیں گے۔
Ayah 83:36

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

تو کافروں کو ان کے عملوں کا (پورا پورا) بدلا مل گیا

(83:36) ہل ثوب الکفار ما کانوا یفعلون : ہل حرف استفہامیہ ثوب ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب تطویب (تفعیل) مصدر سے بدلہ دیا گیا۔ تثویب کا استعمال قرآن مجید میں برے اعمال کی جزاء ہی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ثواب۔ انعام ، جزائ، بدلہ، ثواب۔ ثوب (مادہ) سے مشتق ہے۔ انسان کے اعمال کی جزا کو ثواب کہا جاتا ہے۔ لغوی حیثیت سے گو ثواب کا استعمال اچھے اور برے اعمال دونوں کی جزاء کے لئے ہوتا ہے لیکن عرف میں زیادہ تر یہ نیک اعمال کی جزاء کے لئے مستعمل ہے۔ اور باب تفعیل سے برے اعمال کی جزاء کے لئے آیا ہے۔ ما موصولہ۔ کانوا یفعلون اس کا صلہ۔ جو فعل وہ کیا کرتے تھے۔ ہل (استفہامیہ) کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) یہ استفہام تقریری ہے یعنی کافروں کو اسی استہزاء کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کرتے تھے۔ (تفسیر مظہری) (2) اس فقرے میں ایک لطیف طنز ہے چونکہ وہ کفار کار ثواب سمجھ کر مومنوں کو تنگ کرتے تھے اس لئے فرمایا گیا کہ آخرت میں مومن جنت میں مزے سے بیٹھے ہوئے جہنم میں جلنے والے ان کافروں کا حال دیکھیں گے اور اپنے دلوں میں کہیں گے کہ خوب ثواب انہیں ان کے اعمال کامل گیا۔ (تفہیم القرآن) (3) ہل یہاں سوالیہ نہیں مؤکدہ ہے قد کے معنی میں آیا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ واقعی کافروں کا ان کے کرتوتوں کا خوب بدلہ مل کر رہا۔ (تفسیر ماجدی) (4) یہ سوالیہ ہے جواب محذوف ہے ای ہل جوزی الکفار بما کانوا یفعلون من الکفر والشر والفساد۔ کیا کفار کو جو وہ کفر و شر اور فساد کے کام کیا کرتے تھے ان کی جزاء مل گئی۔ والجواب نعم۔ نعم : نعم۔ جواب ہوگا ہاں۔ ہاں۔ ہاں۔ (السیر التفاسیر)