Ayahs 83:1–3(ویل للمطففین :) (”التطفیف“ ماپ یا تول میں کمی کرنا۔ ماپ تول کے علاوہ لین دین کے جتنے بھی دیگر پیمانے ہیں ان میں کمی بھی ”التطفیف“ ہے۔”الطفیف“ بالکل تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔ ”صاع“ بھرا ہوا ہو، مگر پورا بھرنے سے کم ہو تو اس کی کمی کو ”طف الصاع“ کہتے ہیں۔ چونکہ ماپ تول میں کمی کرنے والا کوئی بڑا مال نہیں چراتا بلکہ تھوڑی سی چیز چراتا ہے، اس لئے اسے ”المطفف“ کہتے ہیں۔ یہ فعل کمینگی کی انتہا ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اتنی تھوڑی تھوڑی چیز کی چوری کرنے والا شخص بڑا مال اڑانے سے بھی پرہیز کرنے والا نہیں، صرف اپنی کم ہمتی یا پکڑے جانے کے خوف سے اتنی چوری پر صبر کئے بیٹھا ہے، ورنہ اس کی طبیعت کے فاسد ہوجانے اور امانت سے خلای ہوجانے میں کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کرنے والوں کو ”ویل“ کی وعید سنئای ہے، جس کا معنی ہلاکت ہے۔ آخرت میں ہونے والی ہلاکت کا تو کچھ شمار ہی نہیں، اس کی کچھ تفصیل اسی سورت میں آرہی ہے۔ اگرچہ وہ مکذبین (جھٹلانے والوں) کے لئے ہے، مگر یہ فعل بھی آخرت کی تکذیب ہی سے سر زد ہوتا ہے، جبکہ دنیا میں اس سے ہونے والی ہلاکت رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی، حدیث لمبی ہے، اس کا ایک فقرہ یہ ہے :(ولم ینفصوا المکیال والمیزان، الا اخذوا بالسنین ، وشدۃ الموونۃ وجور السلطان علیھم) (ابن ماجہ، الفتن، باب العقوبات : 3019)”جو قوم بھی ماپ تول میں کمی کرتی ہے اسے قحط سالیوں، سخت مشقت اور حکمرانوں کے ظلم کے ساتھ پکڑ لیا جاتا ہے۔“ شیخ البانی ؒ نے مستدرک حاکم کی سند کی وجہ سے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ (دیکھیے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ : 106) شعیب ؑ کی قوم پر عذاب کا ایک سبب یہ بھی تھا۔
تنبیہ : ترمذی کی روایت کہ ”ویل جہنم کی ایک وادی ہے …“ صحیح نہیں۔ (دیکھیے ضعیف ترمذی، سورة الانبیاء : 3389)
Ayah 83:4(الا یظن اولئک…یعنی اگر وہ سمجھتے کہ ہمیں ایک دن پیش ہو کر حساب دینا ہے تو کبھی ماپ تول میں کمی نہ کرتے۔
Ayahs 83:5–6(لیوم عظیم…:(”ایک بڑے دن کے لئے“ بڑا دن اس لئے کہ اس کی مقدار ہی پچسا ہزار سال ہے۔ (دیکھیے معارج : 4) اور اس لئے بھی بڑا ہے کہ پیشیع ام عدالت میں بھی گھبراہٹ کا باعث ہوتی ہے، اس دن تو رب العالمین کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا :(تدنی الشمس یوم القیامۃ من الخلق حتی تکون منہ ک مقدار میل فیکون الناس علی قدر اعمالھم فی العرق، فینھم من یکون الی کعبیہ ومنھم من یکون الی رکبتیہ ومنھم من یکون الی حقوبہ ومنھم من یلجمہ العرق الجاما قال و اشار رسول اللہ ﷺ بیدہ الی فیہ) (مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فی صفۃ یوم القیامۃ…2863)”قیامت کے دن سورج مخلوق کے قریب ہوجائے گا یہاں تک کہ ان سے ایک میل کی مقدار کی طرح ہوگا۔ تو لوگ اپنے اعمال کے اندازے کے مطابق پسینے میں ہوں گے، جو ان میں سے بعض کے ٹخنوں تک ہوگا، بعض کے گھنٹوں تک، بعض کی کمر تک اور بعض کو پسینا لگام کی طرح لگام ڈال لیگ ا۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے منہ کی طرف اشارہ فرمایا۔“ ابن عمر ؓ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن کانوں کے نصف تک پسینے کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت پڑھی :(یوم یقوم الناس لرب العلمین)”جس دن لوگ رب العالمین کے لئے کھڑے ہوں گے۔“ (بخاری، التفسیر، باب :(یوم یقوم اللناس…): 3938)
Ayahs 83:7–13(کلا ان کتب الفجار لفی سجین…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ تم جس طرح چاہو اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے ماپ تول میں کمی کرتے رہو اور وہ وقت ہی نہ آئے کہ تم سے اس ظلم کے متعلق باز پرس ہو۔ نہیں، بلکہ نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔”سجین“ ”سجن“ سے مبالغہ ہے، جس کا معنی قید خانہ ہے۔ ق اسوس میں ہے ”السجین الدائم الشدید“ یعنی دائمی قید۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے نام اور ان کے اعمال محفوظ ہیں (گویا یہ دائمی قید والوں کا رجسٹر ہے) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ”سجین“ کی وضاحت کی ہے کہ وہ ”کتب مرقوم“ یعنی ایک واضح لکھی ہوئی کتاب ہے، جس میں کوئی کمی بیشی یا رد و بدل نہیں ہوسکتا کہ کوئی نام یا عمل داخل کردیا جائے یا مٹا دیا جائے۔”ویل یومئذ للمکذبین“ سے معلوم ہوا کہ ماپ تول میں کمی کرنے والے درحقیقت قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔
Ayah 83:1414(1) کلا بل ران علی قلوبھم…:”کلا“ ہرگز نہیں“ مطلب یہ ہے کہ اس جھٹلانے والے کے آیات کو جٹھلانے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں یا ان کے حق ہونے میں کوئی شبہ ہے، بلکہ اس کی بد اعمالیاں سیاہ زنگ کی صورت میں اس کے دل پر غالب آچکی ہیں، اسے نہ حق حق نظر آتا ہے نہ باطل باطل۔ مستشرقین اور منکرین حدیث کی طرح پہلے منکرین کا بھی یہی حال تھا کہ اگر قرآن میں کوئی نئی بات آتی تو کہتے :(ماسمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین) (القصص : 36)”ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ دادا میں سنی ہی نہیں۔“ اور اگر وہ بات پہلی کتابوں میں موجود ہوتی تو کہتے یہ وہاں سے سرقہ کیا گیا ہے، یعنی ”اساطیر الاولین“ کہ یہ تو پہلوں کی کہانیاں ہیں۔ (قتلھم اللہ، انی یوفکون) (التوبۃ : 30)”اللہ انہیں مارے، کدھر بہکائے جا رہے ہیں۔“
(2) ران علی قلوبھم :”ای رکبھا کما یرکب الصداو غلبھا“ (زمخشری) ’ یعنی ان کے دلوں پر چڑھ گیا اور غالب آگیا ہے جیسے زگن چڑھ جاتا ہے۔“”ران“ کا فاعل ”ماکانوا یکسبون“ ہے، یعنی جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے وہ زنگ بن کر ان کے دلوں پر چھا گیا ہے۔ گناہ کا خاصہ ہے کہ اگر بار بار کیا جائے اور توبہ نہ کی جائے تو پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان العبد اذا اخطاً خطیئۃ نکتت فی قلیہ نکتہ سوداء فاذا ھو نزع واستغفر و تاب سقل قلبہ و ان عاد زید فیھا حتی تعلو فلیہ وھو الران الذی ذکر اللہ :
(کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون) (ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة ویل للمطففین : 3333)”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگ جاتا ہے، جب باز آجائے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کرے تو داغ بڑھا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سیاہ داغ اس کے پورے دل پر غالب آجاتا ہے۔ یہی وہ ”ران“ ہے جو اللہ عزوجل نے ذکر فرمایا ہے :(کلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون)”ہرگز نہیں، بلکہ زگن بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر، جو وہ کماتے تھے۔“ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ayahs 83:15–17کلا انھم عن زبھم…: یہ کافر جو کہتے ہیں کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو دنیا کی طرح وہاں بھی پروردگار کی نوازشیں ہمیں پر ہوں گی ، ان کا یہ کہنا ہرگز درست نہیں، انہیں تو پروردگار کے قریب تک نہیں آنے دیا جائے گا، بکلہ وہ حجاب میں رکھے جائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس دن نافرمان اللہ تعالیٰ سے معجوب ہوں گے اور اہل ایمان کو وہ نظر آئے گا۔ اگر دیدار الٰہی کے منکروں کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی کو بھی نظر نہیں آئے گا تو یہ آیت بےمعنی ہوجاتی ہے۔ دوسری جگہ صریح الفاظ میں فرمایا :(وجوہ یومئذ ناصرۃ، الی ربھا ناظرۃ) (القیامۃ : 22، 23)”کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی نعمتوں میں سب سیب ڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے جو ایمان والوں کو حاصل ہوگی۔ (اللہ اپنے فضل سے ہمیں بھی اپنا دیدار نصیب فرمائے) اس کے ساتھ انہیں کھانے پینے، نکاح وغیرہ یعنی جنت کی دوسری نعمتیں بھی میسر ہوں گی۔ نافرمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلا عذاب یہ ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ پھر وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ (اعاذنا اللہ منھما)
Ayahs 83:18–21(کلا ان کتب الابرار…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ نافرمانوں کا یہ حال ہوگا تو نیکوں سے بھی یہی سلوک ہو۔”علیین“ اور ”علیون“ ”علی“ کی جمع ہیں جو ”علو“ سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ”بہت سی اونچا شخص“ اور ”علیون“ کا معنی ہے ”بہت ہی اونچے لوگ۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہ ایک کتاب ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور ان کے اعمال واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں، ان میں کوئی رد و بدل یا کمی بیشی ممکن نہیں۔ ”یشھدہ المقزبون“ یعنی اس کی نگراین کے لئے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ چونکہ وہ نیک لوگوں کا دفتر ہے، اس لئے اس کو دیکھنے کے لئے انھی مقرب لوگوں کو وہاں حاضر ہونے کی اجازت ہے جن کا وہ دفتر ہے۔ اس صورت میں ابرارہی مقرب ہیں۔
Ayahs 83:22–23(ان الابرار لفی نعیم…: یہاں سے نیک لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ ہے۔ تختوں پر بیٹھے کبھی دوزخیوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے کہ رب تعالیٰ نے انہیں کتنی بڑی مصیبت سے بچایا ہے، کبھی جنت کی نعمتوں کا نظارہ کرتے ہوں گے اور کبھی دیدار الٰہی سے آنکھوں کو شاد کام کر رہے ہوں گے۔
Ayah 83:24(تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم : دنیا میں خوش حال لوگوں کے چہروں کی تازگی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ صاحب آسائش لوگ ہیں، اسی طرح جنتی لوگوں کے چہرے جنت کی نعمتوں سے ایسے ترو تازہ، پر ونق اور خوش و خرم ہوں گے کہ دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ وہ کس قدر نعمت اور عیش و آرام میں ہیں۔
Ayahs 83:25–26(یسقون من رحیق محتوم…:”رحیق“ خالص شراب جس میں کھوٹ نہ ہو۔“ (مختوم) اگرچہ جنت میں شراب کی نہریں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وانھر من خمر لذۃ للشربین) (محمد : 15)”اور شراب کی کئی نہریں ہیں جوپ ینے والوں کے لئے لذیذ ہیں“ مگر یہ ایک خاص شراب ہوگی، جو بترنوں میں بند ہوگی، جن پر مہر مٹی یا راکھ کے بجائے کستوری کی ہوگی۔ ”ختمہ مسک“ کا ایک معنی یہ بیھ ہے کہ پیتے وقت آخری گھونٹ کے ساتھ کستوری جیسی خوشبو آئے گی نہ کہ دنیا کی شراب کی طرح بدبو کا بھبھوکا اٹھے گا۔
Ayahs 83:27–28(ومزاجہ من تسنیم…:”مزاج“ آمیزش، ملونی، وہ چیز جو دوسری چیز میں لذت بڑھانے یا خوشبو پیدا کرنے یا تیزی کم کرنے کے لئے ملاتے ہیں، مثلاً کسی پھل کا جوس یا روح کیوڑا، الائچی، گلاب، کستوری وغیرہ یا ٹھنڈا میٹھا پانی یا دودھ وغیرہ یہ صرف مثال ہے، جنت کی نعمتوں کی کیفیت اور لذت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، یا وہ جانیں گے جنہیں وہ حاصل ہوں گی۔
”تسنیم“ باب تفعیل کا مصدر ہے۔”سنم“ (س)”سنم، تسنم ای ترفع“ بلند ہونا، اونچی جگہ سے گرنا۔ یہ ”تسطیع“ (ہموار ہونے) کی ضد ہے۔ (قاموس)”تسنیم“ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے، جس کا پانی اہل جنت پر اوپر سے گر رہا ہوگا، یعنی وہ رحیق مختوم میں اس چشمے کا پانی ملا کر پئیں گے جو اوپر سے گر رہا ہوگا۔ (طبری) یا اس چشمے کا نام تسنیم اس لئے ہے کہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ اور اونچے درجے کا مشروب ہے جو مقربین کو برابر پینے کیلئے ملے گا اور ابرار کو رحیق مختوم میں آمیزش کے لئے دیا جائے گا۔
Ayah 83:29(ان الذین اجرموا…:”یضحکون“ ہنسا کرتے تھے“ کہ ان پر کیا پاگل پن سوار ہے کہ دنیا کی نقد لذتوں کو چھوڑ کر کل کی ان دیکھی خیالی لذتوں کے وعدوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔”کانوا“ اور ”یضحکون“ کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ یہ ان کا ہمیشہ کا مشغلہ تھا۔ یہ صرف مکہ کے مشرکین کی بات نہیں، آج کے ملحد اور بےدین بھی مسلمانوں کو رجعت پسند، دقیانسوی، تنگ نظر، تاریک خیال اور اس قسم کے طنزیہ خطابات دے کر خوش ہوتے اور اپنے دل کا بخار نکالتے رہتے ہیں۔ بہت شاعروں نے بھی جنت اور اہل جنت پر چوٹیں کی ہیں، ان سب کو ان آیات کے مضمون سے ڈرنا چاہیے۔
Ayah 83:30(واذا مروابھم یتغامرون :”یتغامرون“ ”عمز“ ابروؤں اور پلکوں کیساتھ اشارہ کرنا، یعنی یہ مجرم لوگ اہل ایمان کی کتاب و سنت کے مطابق ہیئت و لباس، طرز گفتگو، دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کے حصول کے لئے محنت دیکھ کر ان کی تحقیر کرنے اور مذاق اڑانے کے لئے ایک دوسرے کو آنکھیں مارتے تھے کہ یہی وہ سر پھرے لوگ ہیں جنہوں نے خیالی جنت کے لئے اپنے آپ کو دنیا کی لذتوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔
Ayahs 83:31–32(واذا انقلبوا الی اھلھم…:”فکھین“”فکۃ“ کی جمع بروزن ”فرح“ ہے، ہنسنے ہنسانے کے لئے باتیں بنانے والے، خوش گپیاں کرنے والے، یعنی گھر واپس آتے ہوئے بھی اہل ایمان کو موضوع بنا کر خوب باتیں بناتے خوش گپیاں کرتے تھے اور انہیں گمراہ قرار دیتے تھے۔
Ayah 83:33(وما ارسلوا علیھم حفظین : یہ ان لوگوں کی حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں تو اپنے انجام کی فکر ہونی چاہیے تھی، الہ ایمان پر طنز کرنے اور مذاق اڑانے کا انہیں کیا حق تھا اور کس نے انہیں ان کی نگرانی پر مقرر کیا تھا ؟
Ayah 83:34(فالیوم الذین امنوا…: یعنی قیامت کے دن معاملہ الٹ ہوجائے گا، اب اہل ایمان کفار پر ہسنتے ہوں گے کہ یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ خود گمراہ ہونے کے باوجود ہمیں گمراہ کہتے تھے اور واضح دلائل کے باوجود نہ انہوں نے پیدا کرنے والے کا حق پہچانا اور نہ آخرت کی فکر کی اور یہ جانتے ہوئے بھی دنیا کی لذتوں میں مست رہے کہ یہ عارضی ہیں۔
Ayah 83:35(علی الارآئک ینظرون : جہنمیوں کی بری حالت دیکھ کرہرے ہوں گے۔ مزید وضاحت کے لئے اس سورت کی آیت (23) کی تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 83:36(ھل ثوب…:) کافر جو جو کچھ کرتے تھے جہنم میں انہیں ہر چیز کا بدلا مل گیا، ایک مسلمانوں سے مذاق رہ گیا تھا، آج مسلمانوں کے ان سے جوابی مذاق کے ساتھ وہ بدلا بھی پورا ہوگیا۔“ ھل ثوب الکفار“ میں سوال بھی کافروں کو ذلیل کرنے کے لئے ہے، پوچھنے کے لئے نہیں۔ ان آیات سے ملتی جلتی آیات کے لئے دیکھیے سورة مومنوں کی آیات (108 تا 111)