84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 84:1

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا۔

(اذا السمآء انشقت : دوسری جگہ فرمایا :(وفتحت السمآء فکانت ابواباً) (النبا : 19)”اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہوجائے گا۔“ اور فرمایا :(یوم تشقق السمآء بالغمام و نزل الملٓئکۃ تنزیلاً) (الفرقان 25)”جس دن آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹے گا اور فرشتے گروہ درگروہ در گروہ اتارے جائیں گے۔“ یہ نفخہ ثانیہ کے ساتھ ہوگا، آگے زمین سے مردوں کے نکلنے کے ذکر سے بھی یہی معلمو ہو رہا ہے۔
Ayah 84:2

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا اور یہی اس کا حق ہے۔

(واذ نت لربھا وحقت :)”اذنت“ (س) کان لگانا، غور سے سننا، یعنی غور سے سن کر اطاعت کرے گا۔ اسی طرح زمین حکم سنتے ہی وہ سب کچھ باہر پھینک دے گی جو اس میں ہے۔”حقت“”ھو حقیق بکذا او محقوق بکذا“ سے ماخوذ ہے، یعنی وہ اس چیز کے لائق ہے۔ اس کا نئاب فاعل ”السمآئ“ کی ضمیر ہے۔ بیضاوی نے فرمایا :”حقت“ ای جعلت حقیقۃ بالا ستمعاع والا نقیاد“ زمحشری نے فرمایا :”وھی حقیقۃ بان تنفاد ولا تمتنع“ زمین و آسمان کو اللہ کا حکم سن کر اطاعت سے انکار کی جرأت ہی نہیں، یہ صرف انسان یہ ہے کہ اللہ کے احکام نہ کان لگا کر سنتا ہے اور نہ اطاعت کرتا ہے۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔

واذا الارض مدت :”مدت“”مدیمد“ (ن) کھینچنا، پھیلانا، یعنی جس طرح چمڑے کو کھینچا جائے تو اس کی اونچ نیچ اور تمام شکنیں ختم ہوجاتی ہیں اور وہ طول و عرض میں پھیل جاتا ہے، اسی طرح زمین سے پہاڑ، سمندر اور ہر قسم کی بلندی و پستی ختم ہوجائے گی، جس سے وہ ہموار ہو کر پھیل جائے گی اور اس میں آدمیوں کے کھڑے ہونے کی گنجائش بہت زیادہ ہوجائے گی۔
Ayah 84:4

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور اس میں جو کچھ ہے اسے باہر پھینک دے گی اور خالی ہوجائے گی۔

(والقت مافیھا وتخلت : یعنی تمام فوت شدہ لوگوں کو حشر کے لئے باہر پھینک دے گی اور وہ خزانے اور بنی آدم کے اعمال کی شہادتیں جو اس کے بطن میں ہیں سب نکال باہر پھینکے گی۔ ”تخلت“ ”خلا یخلو“ (ن) (خالی ہونا) سے باب تفعل ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، یعنی بالکل خلای ہوجائے گی۔
Ayah 84:5

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور یہی اس کا حق ہے۔

واذنت لربھا وحقت : تفصیل کیلئے دیکھیے اسی سورت کی آیت (2) کی تفسیر۔
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان ! بیشک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے۔

(یایھا الانسان انک اکدح…:”کا دح“”کدح یکدح“ (ف) خوب کوشش کرنا، مشقت جھیلنا، زخمی کرنا۔”الی“ کے لفظ سے اس میں رب تعالیٰ کی طرف جانے کا مفہوم ادا ہو رہا ہے، یعنی اے انسان تو زندگی بھر کسی نہ کسی کام کی مشقت میں مبتلا رہ کر آخر کار اچھے یا برے اعمال لے کر اپنے رب کے حضور پیش ہونے اولا ہے۔
Ayahs 84:7–9

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

پس لیکن وہ شخص جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

سو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا، نہایت آسان حساب۔

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوش خوش واپس آئے گا۔

9(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…: آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ کرید کرید کر اصلی حساب نہیں ہوگا، فقط اعمال نامہ پیشہ و گا اور غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیس احد یحاسب الا ھلک قالت قلت یا رسول اللہ ! جعلنی اللہ فذائک الیس یقول اللہ عزو جل :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوق یحاسب حساباً یسیراً) (الانشقاق : 8، 8) قال ذالک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک) (بخاری، التفسیر، باب :(فسوق یحاسب حسابا یسیرا): 3939)”جس کسی کا بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا۔“ عائشہ ؓ نے عرض کی :”یا رسول اللہ ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے ! کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتے کہ جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان ہوگا ؟“ آپ نے فرمایا :”یہ صرف پیشی ہے (جس میں صرف اس کے اعمال) پیش کئے جائیں گے اور جس سے حساب میں پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہو یا۔“ جن بندوں پر اللہ کی نظر عنایت ہوگی ان کے آسان حساب کی ایک صورت وہ ہوگی جو ابن عمر ؓ عنہمانے رسول اللہ ﷺ سے سنی کہ آپ ﷺ نے فرمایا :(یدنواحدکم من ربہ حتی یضع کنفہ علیہ فیقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم و یقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم، فیقررہ ثم یقول انی سترت علیک فی الدنیا، فانا اغفرھا لک الیوم) (بخاری، الادب، باب ستر المومن علی نفسہ : 608)”تم میں سے ایک (بندہ) اپنے رب کے قریب ہوگا، یہاں تک کہ وہ اپنا دامن اس پر رکھے گا (کہ کسی اور کو خبر نہ ہو) ، پھر فرمائے گا :”تو نے یہ کام کئے ؟“ وہ کہے گا :”ہاں !“ اور فرمائے گا :”تو نے یہ یہ کام (بھی) کئے ؟“ وہ کہے گا :”ہاں !“ پس اللہ تعالیٰ اس سے اقرار کروا لے گا، پھر فرمائے گا :”میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالا، سو آج میں تمہیں وہ گناہ معاف کرتا ہوں۔“ آسان حساب کی ایک صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا تھوڑی نیکی کا ثواب بہت زیادہ عطا فرما دے گا جیسا کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ عنہمانے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی امت کے ایک آدمی کے گناہوں کے حد نگاہ تک پھیلے ہوئے نانوے (99) دفتر کاغذ کے ایک پرزے کے مقابلے میں ہلکے ہوجائیں گے جس پر ”اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ“ لکھا ہوگا۔ (دیکھیے ترمذی، الایمان، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشھد ان لا الہ الا اللہ : 2639 و صحیحہ الالبانی) غرض اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا حساب آسان کر دے گا، مگر شرط یہے کہ آدمی ہر طرح کے شرک ظاہری اور شرک باطنی یعنی ریا سے پاک ہو، پھر اگر گناہ گار توبہ کے بغیر بھی مرگیا تو اللہ کی ذات سے رحمت اور آسانی حساب کی توقع ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ان اللہ لایغفران یشرک بہ وغفر مادون ذلک لمن یشآئ) (النسائ : 38)”بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا۔“ مشرک کے لئے معافی نہیں، دوسروں کی مغفرت اللہ کی مشیت پر ہے۔ اس لئے نہ اس کے غضب سے بےخوف ہونا چاہیے اور نہ اس کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے۔
Ayah 84:10

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور لیکن وہ شخص جسے اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا گیا۔

(واما من اوتی کتبہ…: یہاں پیٹھ کیپ یچھے اعمال نامے ملنے کا ذکر ہے اور سورة حاقہ (25) میں بائیں ہاتھ میں، غور کریں تو صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ ان مجرموں کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں گے، جہاں انہیں بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا۔
Ayah 84:11

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

تو عنقریب وہ بڑی ہلاکت کو پکارے گا۔

فسوف یدعوا ثبوراً : یعنی عذاب کے ڈر سے ہلاکت کو پکارے گا، تاکہ وہ مر کر عذاب سے نجات پا جائے
Ayahs 84:12–13

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا۔

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

بلاشبہ وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔

(ویصلی سعیراً ، انہ کان فی اھلہ مسروراً : اسے جدنیا میں آخرت کا کوئی خوف نہ تھا، وہ اپنے بیوی بچوں اور دنیا کی نعمتوں میں ایسا مگن اور خوش تھا کہ پروردگار کے پاس حاضری کو بھول ہی گیا۔ نتیجہ یہ کہ آج جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ اس کے برعکس اہل ایمان اپنی دنیا میں گزری ہوئی زندگی کو یاد کر کے کہیں گے :(انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین) (الطور : 26)”ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے (کہ انجام کیا ہوگا ؟)“ آج وہ اپنے گھر خوش خوش لوٹیں گے، فرمایا :(وینقلب الی اھلہ مسروراً) (الانشقاق : 9)”اور وہ اپنے گھر کی طرف خوش خوش واپس لوٹے گا۔“
Ayahs 84:14–15

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

یقینا اس نے سمجھا تھا کہ وہ کبھی (اپنے رب کی طرف) واپس نہیں لوٹے گا۔

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

کیوں نہیں ! یقینا اس کا رب اسے خوب دیکھنے والا تھا۔

انہ ظن ان لن یحور…:”حار یحور حوراً“ (ن) لوٹنا۔ پیٹھ کے پیچھے اعمال نامہ ان لوگوں ملے گا جن کا خیال تھا کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے اور نہ کوئی حساب کتاب ہوگا۔ فرمایا، کیوں نہیں ! یقیناً تمہارا حساب ضرور ہونا تھا، تمہارا رب تمہارے اعمال و اقوال اور احوال سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا اور تمہارا اعمال نامہ بھی تیار کروا رہا تھا، مگر اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت تمہیں مہلت دے رکھی تھی، اب وہ مہلت ختم ہوگئی، اب اپنے انکار اور بےفکری کا نتیجہ بھگتو۔
Ayah 84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

پس نہیں، میں شفق کی قسم کھاتا ہوں !

(فلا اقسم بالشفق : قسم سے پہلے ”لا“ کا مطلب منکرین کی بات کی نفی ہے۔ ”الشفق“ سورج غروب ہونے کے بعد آسمان کے کنارے کی سرخی جو عشاء تک رہتی ہے۔
Ayah 84:17

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور اس چیز کی جسے وہ جمع کرتی ہے !

(والیل وما وسق :”وسق“ (ض) جمع کرنا اور اٹھا لینا۔ ساٹھ (60) صاع غلے کا ایک سوق ہوتا ہے، اسے وسق کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ غلے کی خاصی مقدار جمع کئے ہوتا ہے۔”وما وسق“ کے عموم میں تمام آدمی اور جانور آجاتے ہیں، کیونکہ وہ سب دن بھر چلنے پھرنے کے بعد رات کو آرام کے لئے اپنے اپنے ٹھکانے پر جمع ہوجاتے ہیں۔
Ayah 84:18

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی، جب وہ پورا ہوتا ہے !

(والقمر اذا اثسق :”اثسق“ اوپر مذکور ”وسق“ سے باب افتعال ہے، جمع ہونا، یعنی چودھویں رات کا پورا چاند بن جائے۔
Ayah 84:19

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم ضرور ہی ایک حالت سے دوسری حالت کو چڑھتے جاؤ گے۔

(1) لترکبن طبقاً عن طبق : قرآن مجید میں مذکور قسمیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی تاکید کے لئے آتی ہیں اور عام طور پر اس کے یقینی ہونے کی دلیل ہوتی ہیں۔ یہاں جس بات کو ثابت کرنے کیلئے قسمیں کھائی گئی ہیں وہ یہ حقیقت ہے کہ تم ضروری ہی ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے جاؤ گے۔ اب قسموں پر غور کیجیے ! تینوں آیات میں مذکور چیزوں کا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہونا صاف واضح ہے، یعنی دن بھر کی دھوپ کے بعد سورج غروب ہو کر شفق پھیل جاتی ہے، پھر رات چھا جاتی ہے۔ اللہ کی مخلوق دن کو پھیل جاتی ہے اور رات کو جمع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح چاند پہلی رات خنجر نما شکل میں ہوتا ہے، پھر بدلتے بدلتے مہ کامل بن جات ہے، پھر دوبارہ گھٹنے لگتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ تمہیں بھی ایک حالت پر دوام نہیں ہے، بلکہ ان اشیاء کی طرح تمہارا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے چلے جانا بھی یقینی ہے۔ اسی طرح زندگی کے بعد موت، پھر زندگی اور ہر عمل کی جزا و سزا کا ہونا بھی یقینی ہے۔ (2) رسول اللہ ﷺ نے ”طبقاً عن طبق“ کی تفسیر فرمائی :(حالا بعد حال) (بخاری، التفسیر، باب :(لترکبن طبقا عن طبق): 3930”یعنی ایک حلات کے بعد دوسری حالت میں۔“ آدمی ہر لمحے نئی سے نئی حالت میں منتقلہ وتا جائے گا۔ بڑے بڑے تغیرات یہ ہیں، مٹی سے پیدا ہو کر نطفہ، پھر ماں کے پیٹ کی مختلف حالتیں، پھر پیدائش ، بچپن ، جوانی، بڑھاپا، تندرستی، بیماری، فقر، غنا، پھر موت، قبر اور قیامت، غرض انسان بیشمار احوال سے گزرتا ہوا جنت یا دوزخ کو پہنچ جائے گا۔
Ayah 84:20

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

تو انھیں کیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

فما لھم لایومنوکن : یعنی جب ایک حلات پر قرار نہیں تو یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ انہیں یہ ضد کیوں ہے کہ ہمیں مر کر اسی حالت میں رہنا ہے ؟
Ayah 84:21

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے۔

واذا قری علیھم القرآن…: اور پیدا کرنے والے کا کلام سن کر بھی جھکتے۔
Ayah 84:22

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جھٹلاتے ہیں۔

بل الذین کفروا …: یہنی یہ بات نہیں کہ قرآن کے دلائل میں کوئی کمی ہے یا اس کی آواز ان کے دلوں کی گہرائی تک نہیں پہنچی، بلکہ انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہم نے ماننا ہی نہیں۔ چناچہ یہ کفر و عناد ہی تکذیب کا باعث ہے۔
Ayah 84:23

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ جمع کررہے ہیں۔

واللہ اعلم بما یوعون :”یوعون“ ”وعائ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی برتن ہے،”اوعی المال“ اس نے مال جمع کیا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ جو اعمال و وہ آخرت کے لئے جمع کر رہے ہیں، زبانی جھٹلانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دلوں میں جو کبر و عناد جمع کررکھا ہے اور آپ کے خلاف جو جو ساشزیں انہوں نے تیار کر رکھی ہیں وہ اللہ کو ان سے بھی زیادہ معلوم ہیں۔
Ayahs 84:24–25

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

پس انھیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری دے دے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔

(الا الذین امنوا و عملوا الصلحت…:”غیر ممنون“ ”من یمن“ (ن) (قطع کرنا) سے اسم مفعلو ہے، کہا جاتا ہے :”مننت الحبل“”میں نے رسی کاٹ دی۔“ یعنی ایسا اجر جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، جس کی کوئی نعمت نہ کم ہوگی اور نہ ختم ہوگی۔ یہ سورت مسلمانوں کو اہل مکہ کی ایذا رسانی پر صبر و استقامت کی تلقین کے لئے نازل ہوئی۔ اس مقصد کے لئے پہلی امتوں کے مسلمانوں کو پیش آنے والے شدید ترین امتحان اور اس پر ان کے صبر و ثبات اور انہیں ستانے والوں کے انجام بد کا تذکرہ فرمایا، تاکہ ان کے حالات سن کر انہیں تسلی ہو اور یقین ہوجائے کہ جس طرح اصحاب الاخدود مارے گئے اسی طرح وہ لوگ بھی مارے جائیں گے۔ جواب مسلمانوں کو امتحان میں ڈال رہے ہیں۔