Ayah 85:1(والسمآء ذات البروج :”البروج“ ”برج“ کی جمع ہے، اس کا اصل معنی ہے ”نمایاں اور ظاہر ہونے والی چیز۔“ ”تربج“ کا معنی بےپردہ ہونا، ظاہر ہونا ہے۔ اس لئے بلند محل کو برج کہتے ہیں، شہر کی فصیل کے بلند حصوں کو بھی برج کہتے ہیں اور آسمان پر ستاروں کے اجتماع سے جو صورتیں نظر آتی ہیں انہیں بروج کہتے ہیں۔ وہ آسمانی ٹھکانے بھی بروج کہلاتے ہیں جن میں شیطانوں سے آسمان کی حفاظت کے لئے فرشتے پہرا دیتے ہیں۔ سورج اور چاند کی منزلوں کو بھی بروج کہا اجتا ہے۔
Ayah 85:2والیوم الموعود : قیامت کا دن، جس کا جزا و سزا کے لئے وعدہ کیا گیا ہے۔
Ayah 85:3واشھد و مشھود :”شاھد“ حاضر ہونے والا۔”مشھود“ جس کے پاس حاضر ہوا جائے۔ لفظوں کے لحاظ سے اس میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو کہیں حاضر ہوسکتے ہیں اور مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جن کا مشاہدہ ہوسکتا ہے یا جن کے پاس کوئی حاضر ہوسکتا ہے۔ اہل علم نے ”شاھد“ اور ”مشھود“ کی تفسیر کرتے ہوئے جس چیز کو زیادہ اہم یا معروف یا مناسب مسجھا اس کے ساتھ تفسیر کردی۔ چناچہ بہت سے صحابہ و تابعین نے ”شاھد“ سے مراد یوم جمعہ اور ”مشھود“ سے مراد یوم عرفہ لیا ہے۔ الفاظ کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ فرد ہے جو کہیں حاضر ہوتا ہے اور حاضری کا ہر وہ موقع ہے جس میں کوئی فرد حاضر ہوتا ہے۔
Ayahs 85:4–5(1) قتل اصحب الاخدود :”خد یخد خدا“ (ي)”الارض وفی الارض“ زمین میں لمبا گڑھا کھودنا۔”الاخدود“ لمبا گڑھا۔ خندق، کھائی۔ اس کی جمع ”اخادید“ ہے۔ یعنی عظیم الشان برجوں والا آسمان، قیامت کا دن، کسی بھی مقام پر حاضر ہونے والے لوگ اور کوئی بھی موقع جس میں لوگ حاضر ہوتے ہیں، یہ سب چیزیں اگر اپنا وجود رکھتی ہیں اور یقیناً ان کے وجود میں کوئی شبہ نہیں تو یہ بات بھی یقینی سمجھو کہ جن لوگوں نے بڑی بڑی خندقیں کھدوا کر انہیں آگ سے بھرا ، پھر جو اہل ایمان اپنے ایمان پر ڈٹے رہے اور مرتد نہ ہوئے انہیں اس آگ میں پھینک کر ان کے جلنے کا تماشا دیکھتے رہے ، وہ مارے گئے، کیونا کہ وہ زبردست ہستی جو ان برجوں والے آسمان کو تھامے ہوئے ہے، جس نے انصاف کیلئے قیامت کا دن مارے گئے، کیونکہ وہ زبردست ہستی جو ان پر جوں والے آسمان کو تھامے ہوئے ہے، جس نے انصاف کیلئے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی جگہ کوئی حاضر ہونے والا غائب ہے اور نہ حاضری کا کوئی موقع ، وہ ان سنگ دل ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ضرور دے گا اور وہ نہ اس کی نگاہ سے غائب ہو سکیں گے اور نہ عذاب سے بچ سکیں گے۔
(2) دنیا میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں اہل ایمان کو خندق کھود کر آگ میں جلا دیا گیا، سند کے لحاظ سے سب سے صحیح ایک کافر بادشاہ کا وہ طویل واقعہ ہے جو صحیح مسلم میں صہیب ؓ عنہمانے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے۔ حدیث لمبی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ اس کافر بادشاہ کی رعایا کے لوگ مسلمان ہوگئے تو اس نے گلیوں کے کناروں پر گڑھے کھدوا کر ان میں اگ بھڑکائی اور حکم دیا کہ جو شخص اسلام نہ چھوڑے اسے آگ میں پھینک دو ، چناچہ اہل ایمان جو ان گڑھوں میں پھینک دیا گیا۔ مفصل واقعہ کیلئے دیکھیے صحیح مسلم میں ”باب قصۃ اصحاب الاخدود (3005)۔“ تفسیر ابن کثیر میں مومنوں کو آگ میں جلائے جانے کے مزید واقعات بھی موجود ہیں۔
Ayahs 85:6–7اذھم علیھا قعود…: یعنی کنارے پر بیٹھ کر ان کے جنلے کا تماشا دیکھ رہے تھے، انہیں جلتے ہوئے دیکھ بھی ان کے دلوں میں کوئی نرمی پیدا نہیں ہوئی۔ اس طرح کے واقعات کا فر قوتوں کے زیر سایہ آج بھی وہ رہے ہیں، مثلاً انڈیا، برما اور افریقہ وغیرہ میں مسلمانوں کو زندہ جلانے کی خبریں تواتر سے آرہی ہیں، ان کا انجام بھی اصحاب الاخدود کی طرح ہوگا۔ (ان شاء اللہ) مگر ان مظلوم مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم سے بچانا دنیا کے تمام مسلمانوں پر فرض ہے، جس کی ادائیگی میں کوتاہی اور جہاد ترک کرنے ہی کی وجہ سے کفار کو یہ جرأت ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(وما لکم لاتقاتلون فی سبیل اللہ والمستصعفین من الرجال و النسآء والولدان الذین یقولون ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا ، واجعل لنا من لذنک ولیا واجعل لنا من لدنک نصیراً) (النسائ : 85) ”اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی مددگار بنا۔“
Ayahs 85:8–9(1) وما نقموا منھم …: ان اہل ایمان نے ان ظالموں پر یا کسی دوسرے پر کوئی زیادتی نہیں کی تھی جس کا وہ بدلہ لے رہے ہوں ، ان کا جرم صرف اللہ پر ایمان لا کر اس پر قائم رہنا تھا۔ آیت میں ”الا ان یومنوا“ فرمایا ہے جو حال و استقبال پر دلالت کرتا ہے۔”الا ان امنوا“ نہیں فرمایا جو ماضی کا صیغہ ہے، یعنی ان کا جرم یہی نہ تھا کہ وہ ایمان لے آئے تھے، بلکہ یہ تھا کہ وہ اب بھی ایمان پر قائم تھے۔
(2) باللہ العزیز الحمید : یعنی ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا کوئی جرم یا غلط کام نہ تھا، بلکہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے تھے جو عزیز وحمید ہے اور آئندہ آیت میں مذکور صفات کا مالک ہے اور ان صفات کی وجہ سے اس کا حق ہے کہ اس پر ایمان رکھا جائے۔ یہ قرآن مجید کا خاص اسلوب ہے کہ واقعات بیان کرتے ہوئے بھی وہ عقائد کی درستی اور احکام کی وضاحت کا اہتمام جاری رکھتا ہے، اس کی ایک مثال یہ آیت ہے۔
Ayah 85:10ان الذین فتنوا المومنین…:”فتنہ“ کا معین ہے، کھرے کھوٹے کی آزمائش کے لئے سونے کو آگ میں ڈالنا۔ پھر یہ لفظ جلانے، ستانے ، عذاب دینے اور حق سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔”ان الذین فتنوا“ سے مراد اصحاب الاخدودبھی ہیں، جنہوں نے اہل ایمان کو آگ کی خندقوں میں ڈالا اور کفار قریش اور بعد میں آنے والے وہ تمام ظالم بھی جو انواع و اقسام کے عذاب دے دے کر اہل ایمان کو ایمان سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہے۔”فلھم عذاب جھنم ولھم عذاب الحریق“ جہنم میں کئی طرح کا عذاب ہے، سب سے سخت عذاب جلنے کا ہے، اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا، اس کے علاوہ اہل ایمان کو جلانے والوں کے حسب حال جلنے ہی کا عذاب ہے۔“ ثم لم یتوبوا“ (پھر توبہ نہیں کی) اللہ کی شان کریمی دیکھیے کہ اہل ایمان کو جلانے والوں کو بھی جہنم کی سزا تب سنائی جب وہ توبہ کے بغیر مریں، کیونکہ توبہ کرنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس سے توبہ کی ترغیب بھی نکل رہی ہے۔
Ayah 85:11ان الذین امنوا وعملوا الصلحت …: یہاں ایمان و عمل صالح والے لوگوں کے لئے جنت کی بشارت کے ذکر کی دو مناسبتیں ہیں، ایک تو یہ کہ اگر مسلمانوں کو ستانے والے لوگ بھی ایمان لا کر صالح عمل والے بن جائیں تو ان کے لئے بھی وہ باغتا ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ دوسری یہ کہ ایمان اور عمل صالح کے حالم جن مسلمانوں کو آزمائش کی بھٹیوں میں جھونکا جا رہا ہے وہ غم نہ کریں، یہ وقت گزر جانے والا ہے، آخرت میں ان کے لئے وہ عظیم الشان باغات تیار ہیں جن کے تلے نہیں بہ رہی ہیں اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان والوں کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ثبت قدم رکھنے والی چیز اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں جنت دے گا۔ کس قدر ظالم ہیں وہ لوگ جو روحانیت کا لبادہ اوڑھ کر جنت کا مذاق اڑاتے اور اسے بےوقعت قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تفصیل کیلئے دیکھیے سورة سجدہ کی آیت (16) کی تفسیر۔
Ayah 85:12(ان بطش ربک لشدید :”بطش“ وہ پکڑ جس میں تیزی اور سختی پائی جائے۔ رب تعالیٰ کی بطش جسے وہ خود شدید بتارہا ہے، کس قدر سخت ہوگی ؟ اہل ایمان کو ایذا پہنچانے والوں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ رب تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے، اس سے بچ جاؤ۔ دوسری جگہ فرمایا :(وکذلک اخذربک اذا اخذ القری وھی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید“ (ھود : 102)”اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو اس حالت میں پکڑتا ہے کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، یقیناً اس کی پکڑ بڑی درد ناک ہے، بہت سخت ہے۔“
Ayah 85:13انہ ھو یبدی و یعید : یہ نہ سمجھنا کہ دنیا میں تمہارے ظلم و ستم پر باز پرس نہیں ہوئی تو مرنے کے بعد بھی نہیں ہوگی، جس نے تمہیں پہلے پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ کر کے تمہیں تمہارا اعمال کی جزا دے گا۔
Ayah 85:14وھو الغفور الودود : اللہ تعالیٰ کے قہر و لجال کے ذکر کے ساتھ ہی اس کی صفات رحمت کا تذکرہ ہے کہ اگر تم توبہ کرلو تو وہ بےحد بخشنے والا ہے۔”الودود“ ”ود بیود ودا“ (س) سے ”فعول“ کے وزن پر مبالغے۔ کا صیغہ ہے، بہت محبت کرنے والا، یعنی وہ بندوں کا دشمن نہیں بلکہ ان سے بہت محبت کرنے والا ہے، سزا صرف اس کو دیتا ہے جو سرکشی پر اتر آئے۔
Ayahs 85:15–16ذوالعرش المجید…: وہ تمہاری طرح معمولی اور عارضی اقتدار والا نہیں، بلکہ اس عرش عظیم کا مالک ہے جو زمین و آسمان اور ان کے مابین سے بھی بڑا ہے، نہ وہ تمہاری طرح کم ظرف ہے کہ معمولی سی قدرت ملے تو ظلم پہ اترا آئے، بلکہ وہ بڑی شان ولا ہے اور نہ وہ تمہاری طرح بےبس ہے کہ مجبور ہو کر اسے اپنے ارادے ترک کرنا پڑیں، بلکہ وہ جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ ایسے زبردست قوت والے پروردگار سے تمہیں ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیے اور اس کی رحمت کا طلب گار رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہاں ”ذوالعرش“ کے بعد ”المجید“ بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس لئے اس پر رفع ہے، یہ ”العرش“ کی صفت نہیں، ورنہی ہ مجرور ہوتا ہے۔
Ayahs 85:17–18(ھل اتک حدیث الجنود…: یہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے، اسے دلوں میں جما دینے کے لئے ثمود اور فرعون کے دو قصے جو عرب میں زیادہ مشہور تھے، وہ اہل مکہ کو یاد دلائے، تاکہ وہ ان قصوں سے عبرت پکڑیں۔ (احسن التفاسیر) اس کے علاوہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔
Ayahs 85:19–20(بل الذین کفروا…: حق تو یہ تھا کہ پہلے سرکشوں کا انجام دیکھ کر یہ لوگ ایمان لے آتے، مگر یہ الٹا خواہ مخواہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں چ اورں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، وہ جب چاہے پکڑ لے۔
Ayahs 85:21–22(بل ھو قرآن مجید) ’: اور اگر ان کا جھٹلانا اس خیال سے ہے کہ یہ کالم الٰہی نہیں یا اس میں شیطان کا کچھ دخل ہے تو ان کی یہ بات بھی غلط ہے، بلکہ یہ بڑی شان والا قرآن ہے، اس لوح میں سے اتارا گیا ہے جس کی فرشتوں کے ذریعے سے حفاظت کی جاتی ہے، کسی شیطان کا اس میں دخل نہیں ہوس کتا۔ اس کے کالم الٰہی ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اگر انہیں شبہ ہے تو وہ بھی اس جیسی کوئی سورت بنا کرلے آئیں، جب یہ نہیں کرسکتے تو اس کے کلام الٰہی ہونے میں کیا شبہ رہ گیا ؟ (ماخوذ از احسن التفاسیر)