Ayahs 86:1–44(1) والسمآء و الطارق…:”طرق یطرق“ (ن) کا اصل معنی زور سے مارنا ہے جس سے آواز پیدا ہو۔ ”مطرفۃ“ (ہتھوڑا) اور ”طریق“ (راستہ) اسی سے مشتق ہیں، کیونکہ راستے پر چلنے والوں کے قدم زور سے پڑتے ہیں تو آواز دیتے ہیں۔ ”الطارق“ رات کو آنے والے کو کہتے ہیں، کیونکہ عام طور پر اسے دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔”النجم الثاقب“ میں الف لام جنس کے لئے ہے، اس لئے اگرچہ لفظ واحد ہے مگر اس میں تمام ستارے آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ شیطانوں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ (دیکھییص افات : 6، 7) ”ان“ نی کے معنی میں ہے اور ”لما“ بمعنی ”الا“ ہے۔
(2) قسم کسی بات کی تاکید کے لئے اٹھائی جاتی ہے اور عموماً اس بات کی شہادت ہوتی ہے جس کے لئے قسم اٹھائی گئی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آسمان اور چمک دار ستارے کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ ہر جان کے اوپر ایک حفاظت کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور ستاروں کا یہ عظیم الشان سلسلہ جو بغیر کسی سہارے کے قائم ہے اور جس میں کوئی خرابی یا حادثہ پیش نہیں آتا، اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ جس قادر مطلطق نے ان کی حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے وہی ہر جان کی بھی حفاظت کر رہا ہے اور ہر چیز کا اصل حافظ وہی ہے ، اگر وہ ایک ملحقہ کے لئے اپنی توجہ ہٹا لے تو سب کچھ فا ہوجائے۔ جس طرح اس نے شیطانوں سے آسمانوں کی حفاظت ستاروں کے ذریعے سے کی ہے، اسی طرح آفات سے حفاظت کیلئے ہر شخص پر باری بایر آنے والے فرشتے مقرر کئے ہیں (دیکھیے رعد : 11) اور اس کے اعمال کو لکھ کر محفوظ کرنے کے لئے کراماً کاتبین مقرر کئے ہیں۔ دیکھیے سورة انفطار (10 تا 13)۔
Ayahs 86:5–7(1) فلینظر الانسان مم خلق…: ایک مقرر وقت تک انسان کی ذات کی حفاظت اور اعمال کی نگہداشت یوم حسابکے لئے ہے، اگر اسے اپنا دوبارہ زندہ کیا جانا محال معلوم ہوتا ہے تو اپنی پیدائش پر غور کرلے کہ کس چیز سے ہوتی ہے ؟ ایک اچھلنے والے پانی سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے پانی جیسی مائع چیز پر صورت گری کر کے ایک کامل انسان پیدا کردیا جس میں مکمل اعضائے جسم، حیات، قوت، عقل اور ادراک سب کچھ موجود ہے تو یقیناً وہ اس انسان کو اس کی مٹی سے دوبارہ پہلی صورت میں پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ بتاؤ، انسان کو پانی سے بنانا مشکل ہے یا اسی کی خاک سے دوبارہ بنادینا ؟ اور پہلی دفعہ بغیر نمونے کے پیدا کرنا مشکل ہے یا پہلے نمونے پر دوبارہ بنادینا ؟
(2) مٹی اگرچہ بظاہر خصیوں میں بنتی ہے، مگر جب پیدا کرنے والے نے بتادیا کہ اس کا اصل مرکز پیٹھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہے تو اس حقیقت میں شک کی کوئی گنجائشن ہ رہی۔ بعض اہل علم کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ جدید طب نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جنین کے خصے ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان گردوں کے قریب ہوتے ہیں، پھر ولادت سے پہلے اورب عض اوقات ولادت سے کچھ دیر بعد فوطوں میں اتر آتے ہیں، مگر پھر بھی ان کے اعصاب اور رگوں کا مقام وہی ”بین الصلب و الترآئب“ رہتا ہے، بلکہ ان کی شریان بھی پیٹھ کیق ریب شہ رگ (اور رطی) سے نکلتی ہے اور پورے پیٹ سے گزرتی ہوئی ان کو خون مہیا کرتی ہے۔ گویا خصیتین بھی اصل میں پیٹھ کا جز ہیں جو جسم کا زیادہ درجہ حرارت بردشات نہ کرسکنے کی وجہ سے باہر فوطوں میں منتقلک ر دیئے گئے ہیں۔ اب مادہ منویہ اگرچہ خصیتین میں پیدا ہوتا اور کیس منی میں جمع ہوتا ہے، مگر اسے خون پہنچانے اور حرکت دینے والا مرکز ”بین الصلب و الترآئب“ ہی ہے۔ دماغ سے اعصاب کے ذریعے سے جب اس مرکز کو حکم پہنچتا ہے تو اس مرکز کی تحریک سے کیسہ منی سکڑتا ہے اور ماء دافق پچکایر کی طرح اچھل کر نکلات ہے۔ الحمد للہ، جدید طب بھی اس حقیقت کو معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ بالفرض اگر وہ اس حقیقت تک نہ پہنچ پاتی تو قرآن کا بیان پھر بھی اٹل حقیقت تھا۔ قصور انسانی تجربات و مشاہدات کا تھا جو اپنی نارسائی کی وجہ سے خلاق کی بیان کردہ حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔
Ayahs 86:8–9انہ علی رجعہ لقادر ، یوم تبلی السرآئر :”تبلی“ ”بلایبلو“ (ن) آزمائش کرنا، جانپ ڑتال کرنا، یہاں ظاہر کیا جانا مراد ہے، کیونکہ جان پڑتال تبھی ہوگ ی جب چھپے ہوئے اعمال ظاہر ہوں گے۔”السرآئر“ ”سریرۃ“ کی جمع ہے۔”سر“ اور ”سریرۃ“ اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپائی جایئ۔ (قاموس) اس سے مراد وہ ارادے، نیتیں اور عقائد ہیں جن کا علم خود آدمی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا اور وہ اعمال بھی جن کا علم کسی دوسرے کو نہیں ہوسکتا۔ ”یوم تبلی السرآئر“ ”رجعہ“ کا ظرف ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو اس دن دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
Ayah 86:10(فمالہ من قوۃ ولا ناصر : آدمی گرفتار ہوجائے تو اپنی قوت سے چھوٹ جاتا ہے یا کسی کی مدد سے ، مگر اس دن اس میں نہ خود بچ نکلنے کی قوت ہوگی اور نہ کوئی اس کی مدد کو آنے والا ہوگا۔
Ayahs 86:11–12(والسمآء ذات الرجع…:”الرجع“ کی تفسیر مجاہد نے بارش کی ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، باب سورة الطارق، بعد ح : 3930) اکثر مفسرین نے یہی معنی کیا ہے۔ ”الرجع“ کا لفظیم عن لوٹنا یا لوٹانا ہے، چونکہ بارش بار بار پلٹ کر برستی ہے، اس لئے اسے ”رجع“ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کا پانی بھپا بنتا ہے، وہ بھاپ پلٹ کر پھر بارش کی صورت میں برستی ہے، پھر وہ پانی اڑتا ہے پھر بسرتا ہے، اس لئے اسے ”رجع“ کہا ہے۔”الصدع“ کا معنی پھٹنا ہے۔
Ayah 86:13(انہ لقول فصل) بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ قرآن قول فصل ہے، اس میں شک نہیں کہ قرآن قول فصل ہے، مگر پچھلی آیت ا اور قسموں کی مناسبت کو مدنظر رکھیں تو یہاں مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ قول فصل سے مراد قیامت بپا کرنے اور انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے کی بات ہے، یعنی آسمان سے بار بار برسنے والی بارش اور اس کی نمی سے پھٹ کر بیج کو اگا کر باہر لے آنے والی زمین شاہد ہے کہ تمہارے دوبارہ زندہ کئے جانے کی بات دو ٹوک بات ہے۔ قیامت کے دن تم بھی اسی طرح زندہ ہو کر زمین سے نکل آؤ گے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(مابین النفختین اربعون …ثم ینزل اللہ من السماء ماء فینبتون کما ینبت البقل، لیس من الانسان شیء الا یبلی الاعطماً واحداً و ھو عجب الذنب ومنہ یرکب الخلق یوم القیامۃ) (بخاری، التفسیر، باب : (یوم بنف، فی الصور…):(3935۔ مسلم 2955)”وہ نفخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہوگا…پھر آسمان سے بارش بر سے گی تو لوگ اس طرح اگیں گے جس طرح سبزی اگتی ہے اور انسان کا کوئی حصہ نہیں جو بوسیدہ نہ ہو، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ دم کی ہڈی ہے، قیامت کے دن اسی سے مخلوق کو جوڑا جائے گا۔“
Ayah 86:14وما ھو بالھزل : یعنی دوبارہ زندہ ہونے کی بات تم سے مذاق کے ساتھ نہی کہی جا رہی، یہ حکیم وعلیم کا قول ہے، کسی جاہل کا نہیں جو مذاق کر رہا ہے۔ موسیٰ علیہ الگسلام کی قوم نے گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان سے کہا کہ کیا آپ ہمیں مذاق کر رہے ہیں توا نہوں نے فرمایا :(اعوذ باللہ ان اکون من الجھلین) (البقرۃ : 68)”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔“
Ayahs 86:15–17(انھم یکیدون کیداً …:”رویداً“ مختار الصحاح میں ہے : ”فلان یمشی علی رود بوزن عود ای علی مھل و تصغیرہ روید“ یعنی ”روید“ ”رود“ بروزن ”عود“ کی تصغیر ہے جس کا معنی مہلت ہے۔ گویا ”رویداً کا معنی تھوڑی سی مہلت ہے۔ آیت میں یہ ”امھلھم“ کے مصدر محذوف ”مھالا“ کی صفت ہے۔ یہ لوگ قیامت کو جھٹلانے اور حق کو مٹانے کے لئے خفیہ تدبیریں کر رہے ہیں اور میں خفیہ طور پر ان کے توڑ کے لئے ان سے بھی بڑی تدبیر کر رہا ہوں۔ آپ نہ ان کی مخالفت سے گھبرائیں، نہ جلد عذاب کی دعا کرئیں اور میرے کہنے پر انہیں تھوڑی سی مہلت دیں، آخر انہوں نے میرے ہی پاس آنا ہے، پھر میں جانوں اور یہ جانیں۔