Ayah 87:1(1) سبح اسم ربک الاعلی :”تسبح“ کا معین ہے ”ہر برائی سے پاک کرنا۔“ رب الاعلیٰ کے نام کو پاک کرنے کے حکم کے مفہوم میں کئی چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ ”سبحان ربی الاعلی“ کہو۔ چناچہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ”سبح اسم ربک الاعلیٰ“ پڑھتے تو کہتے :(سبحان ربی الاعلی) (ابوداؤد الصلاۃ باب الدعاء فی الصلاۃ ، 883، وصححہ الالبانی)”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے۔“ اس کے علاوہ آپ ﷺ سجدے میں اس حکم پر عمل کے لئے ”سبحان ربی الاعلی“ کم از کم تین دفعہ پڑھتے تھے۔ (دیکھیے نسائی، التطبیق، باب نوع اخر : 1133، صحیح) ’ وسری یہ کہ اپنے رب کو ہر قسم کے نقص، عیب، کمزوری اور کسی بھی شریک سے پاک سمجھو اور اس کا اعلان کرتے رہو، تاکہ مشرکین اور باطل عقیدہ لوگوں کے کانوں میں یہ آواز پڑتی رہے۔ تیسری یہ کہ رب تعالیٰ کے نام کی تعظیم کرتے رہو، اسے ایسے طریقے سے یا ایسی جگہ یا ایسے الفاظ میں یاد نہ کرو جو اس کی شان کے لائق نہ ہو، یا جس سے اس کی بےادبی ہوتی ہو یا استہزا کا پہلو نکلتا ہو یا اس کے ساتھ کسی کے شریک ٹھہرائے جانے کا اندیشہ ہو۔ اس کے لئے سب سے زیادہ سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس کیلئے وہی نام ساتعملا کئے جائیں جو خود اس نے اپنے لیء استعمال کئے ہیں۔ چوتھی یہ کہ اللہ کا نام کسی مخلوق پر نہ بولو، مثلاً عبدالرحمٰن کو رحمان مت کہو۔ اگر لفظ مشترک ہو تو مخلوق پر اس انداز سے نہ بولو جس سے خلاق کو یاد کرنا چاہیے۔
(2) ”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر“ یا ”اپنے رب کی تسبیح کر“ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، کیونکہ ”رب“ بھی اس کا نام ہے۔ لفظ ”نام“ اسلئے بڑھایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی حقیقت اور کنہ تک تو پہنچ ہی نہیں سکتے، تمہاری رسائی اس کے نام تک ہے، سو اس کی تسبیح کرتے رہو۔ بعض نے فرمایا کہ جب نام کی تسبیح ضرور i ٹھہری تو اس کی ذات تو بالا ولیٰ تسبیح کی حق دار ہے۔
Ayah 87:2(الذی خلق فسویٰ :”الذی خلق“ (جس نے پیدا کیا) اس کا مفعول بہم حذوف ہے، یعنی یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ کسے پیدا کیا، کیونکہ پیدا کرنا کام اسی کا ہے اور سب اسی کی مخلوق ہیں۔”فسوی“”پس درست بنایا“ یعنی ہر چیز کو ٹھیک، متوازن اور عمدہ ترین شکل میں بنایا، کوئی چیز بےڈھب اور غیر متوازن نہیں، جیسا کہ فرمایا :(الذی احسن کل شیء خلقہ) (السجدۃ : 8)”وہ جس نے جو چیز پیدا کی خوبصورت پیدا کی۔“ اس آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں رب تعالیٰ کی بعض وہ صفات بیان ہوئی ہیں جن کی وجہ سے وہ تسبیح کا مستحق ہے۔
Ayah 87:3(والذی قدر فھدیٰ : یعنی اس نے ہر چیز کے متعلق اندازہ لگا کر پہلے ہی لکھ دیا کہ وہ کیا کرے گا ؟ اس کا رزق عمر، سعادت یا شقاوت سب کچھ لکھ دیا۔ اسی کا نام تقدیر ہے، اللہ تعالیٰ کا اندازہ ہمارے اندازے کی طرح نہیں کہ غلط ہوجائے۔”فھدی“ پھر جس نے جو کچھ کرنا تھا اسے اس راہ پر لگا دیا۔ ایک معنی یہ ہے کہ ہر جاندار کو پیدا کر کے اس کی ضرورتوں کا اندازہ مقرر کردیا کہ اسے کیا کیا ضرورت ہوگی، پھر اسے اس کی ضروریات و مصالح حاصل کرنے کا راستہ بتادیا۔ مثلاً بچے کو پستان چوسنے کا اور نر و مادہ کو بقائے نسل کا راستہ بتادیا اور اس پر چلا دیا۔ پرندوں کو شام کے وقت اپنے گھونسلوں کی طرف واپسی کا اور شہد کی مکھی کو اپنے چھتے کا راستہ بتادیا اور اس پر چلا دیا۔
Ayahs 87:4–5(والذی اخرج المرعی …:) حیوانوں کی ایک بڑی ضرورت چارا تھی ، جو اس نے اگایا، پھر بتدریج اسے سیاہ کوڑا بنادیا۔ یہ اشارہ ہے ہر چیز کے کمال کے بعد زوال کی طرف۔
Ayah 87:6(سنقرنک فلا تنسی : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة قیامہ کی آیات (16 تا 19) کی تفسیر۔ یہ پیشین گوئی ابتدائے اسلام میں مکہ کے اندر ہوئی، پھر سب لوگوں نے دیکھا کہ واقعی رسول اللہ ﷺ کو صرف ایک دفعہ جبریل ؑ سے سن کر کسی کتابت یا تکرار کے بغیر اتنا بڑا قرآن حفظ ہوگیا۔ یہ قرآن کا بھی معجزہ ہے کہ اس کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کا بھی جنہیں قرآن یاد ہوا اور پھر بھولا نہیں۔
Ayah 87:7(1) الا ما شآء اللہ : یعنی اللہ تعالیٰ جو چاہے بھلا دے۔ بعض اوقات کچھ آیات اس طرح بھی منسوخ کی جاتی تھیں کہ وہ آپ ﷺ کو بھلا دی جاتیں، یجسا کہ فرمایا :(ماننسخ من ایۃ اوننسھا نات بخیر منھا اومثلھا) (البقرہ : 106)”جو آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں۔“
(2) انہ یعلم الجھروما یخفی :”وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے“ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے، کوئی بات اونچی آواز سے کی گئی ہو یا آہستہ یا بالکل مخفی ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (دیکھیے رعد : 10۔ طہ : 7۔ انعام : 3۔ انبیائ : 110۔ ملک : 13) ابن جوزی کے استاذ وزیر ابن ہبیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات پر بہت غور کیا کہ چھپی ہوئی باتوں کو تو واقعی صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، مگر بلند آواز سے کی گئی باتیں تو ہم بھی جانتے اور سمجھتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان باتوں کے جاننخ کو اپنی خاص صفت کے طور پر کیوں بیان فرما رہے ہیں ؟ پھر میری سمجھ میں یہ بات ائٓی کہ بلند آواز کے ساتھ ان باتوں کے جاننے کو اپنی خاص صفت کے طور پر کیوں بیان فرما رہے ہیں ؟ پھر میری سمجھ میں میں یہ بات آئی کہ بلند آواز کے ساتھ اگر ایک وقت میں کئی آدمی بولنا شروع کردیں تو ہمیں کچھ پتا نہیں چلتا، یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے کہ وہ ساری مخلوق کی بلند آواز سے کی ہوئی باتیں سنتا ہے اور چھپی ہوئی باتیں بھی۔ اس مقام پر یہ صفت بیان کرنے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ جب جبریل ؑ پڑھیں تو آپ یاد کرنے کیلئے ساتھ ساتھ نہ پڑھیں، ان کے ساتھ ساتھ پڑھیں گے تو سمجھنا مشکل ہوگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ بلند آواز سے کی گئی باتیں ہوں، خواہ کروڑوں لوگوں کی ہوں یا چھپی ہوئی، وہ سب جانتا ہے۔
Ayah 87:8ونیسرک للیسری : یعنی ہم آپ کے لئے یہ آسانی فرمائیں گے کہ آپ کے خاموش رہ کر سننے جانے سے آپ کو وحی الٰہی یاد ہوجائے گی۔
Ayahs 87:9–11(فذکر ان نفعت الذکری…:”تو نصیحت کر اگر صنیحت کرنا فائدہ دے“ اس پر سوال پیدا ہوتا کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے تو کیا نصیحت چھوڑ دی جائے ؟ جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ نصیحت کرتے رہنا لازم ہے۔ تو پھر آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آیت کی مختلف تفاسیر میں سیت ین تفسیریں زیادہق ریب ہیں :(1) تفسیر ثنئای میں ہے کہ اس آیت کی بنا پر بعض لوگ گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ نصیحت کے نفع دینے کی صورت میں نصیحت کرنے کا حکم ہے ورنہ نہیں، یہ ان کی غلطی ہے۔ آیت میں ”ان“ ہے کہ جب تک انسان کو کسی قطعی دلیل سے یہ معلوم نہ ہوجائے کہ فلاں شخص کو نصیحت فائدہ نہ دے گی ”ان“ کا محل رہتا ہے اورق طعی دلیل صرف وحی الٰہی ہے۔ وحی کے بغیر ہر حال میں صنیحت کے مفید ہونے کا امکان باقی ہے، اس لئے جب تک تمہیں وحی الٰہی سے معلوم نہ ہوجائے کہ فلاں کو نصیحت نفع نہ دیگی وعظ و نصیحت کرتے جاؤ۔ ظاہر ہے کہ تمہارے پاس وحی الٰہی نہیں، اسلئے تم ہمیشہ نصیحت کرتے رہو۔ (مختصراً)
(2) دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”فذکر ان نفعت الذکری“ (نصیحت کر، اگر نصیحت فائدہ دے) کا یہ مطلب نہیں کہ جسے نصیحت فائدہ دے اسے نصیحت کر دوسرے کو نہ کر، کیونکہ یہ تو معلوم ہی نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصیحت کر اگر کسی ایک کو بھی نصیحت فائدہ دے۔ گویا ”نفعت“ کا مفعول محذوف ہے، یعنی ”ان نفعت الذکری احداً“ اور ظاہر ہے کہ کسی نہ کسی کو تو فائدہ ہوتا ہی ہے، اس لئے آپ ہر شخص کو نصیحت کرتے جائیں۔”سیذکر من یخشی…“ پھر ڈرنے والا قبول کرلے گا اور بدبخت اجتناب کرے گا، آپ کا کام نصیحت کرتے چلے جانا ہے اس امید پر کہ نصیحت کسی کو تو فائدہ دے گی۔
(3) تیسری تفسیر یہ ہے کہ ”ان“ حرف شرط ”اذ“ کے معنی میں ہے، یعنی نصیحت کر جب نصیحت کرنا فائدہ دے۔ موقع و محل کا خیال رکھو، بےموقع بات موثر نہیں ہوتی۔ جب دیکھو کہ سننے کی طرف مائل ہیں تو نصیحت کرو اور جب ضد اور سرکشی پر اترے ہوئے ہوں تو کنارہ کشی اختیار کرو، یہ نہیں کہ صنیحت ہی چھوڑ دو۔ موسیٰ ؑ نے فرعون کو، نوح اور دوسرے انبیاء ؑ نے اپنی اپنی اقوام کو ان پر عذاب آنے تک نصیحت ترک نہیں کی۔
Ayahs 87:12–13(الذی یصلی النار الکبری …: سب سے بڑی آگ اس لئے کہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر (69) گنا بڑھی ہوئی ہے۔ (دیکھیے بخاری : 3265)”ثم لایموت فیھا ولا یحییٰ“ یعنی نہ مرے گا کہ جان چھوٹ جائے اور نہ ایسی زندگی ہوگی کہ کوئی راحت ہو۔
Ayahs 87:14–15(قد افلح من تزکی…:) یعنی کفر و شرک اور گناہوں سے پاک ہو کر اللہ اکبر کہہ کر پانچوں نمازیں پڑھیں۔
Ayahs 87:16–19(بل توثرون الحیوۃ الدنیا…: فرمایا، آخرت کی بھلائی کے کاموں میں تم اس لئے کوتاہی کرتے ہوئے کہ دنیا کے مشغلوں کو چھوڑنا تمہیں شاق گزرتا ہے، حالانکہ تم اسے نہ بھی چھوڑو گے تو وہ تمہیں چھوڑ دے گی، کیونکہ وہ باقی رہنے والی نہیں ہے اور اگر آخرت کو اختیار کرلو گے تو وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی، پھر سوچ لو کسے ترجیح دینی چاہیے۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)