Ayahs 83:1–2(وَيْلٌ) ہلاکت ہے۔ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ( لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے اور اللہ تعالیٰ نے المطففین کی تفسیر بیان فرمائی۔ کہ (الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ ) یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورالیتے ہیں۔
Ayah 83:3( وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ ) اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمے ہوتا ہے۔ ( يُخْسِرُوْنَ ) تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بےانصافی ہے جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں جو جبرا لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے۔ بلکہ اس کے عموم میں دلائل ومقالات بھی شامل ہیں کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان مٰیں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب وظلم اس کی تواضح اور تکبر اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ہم اللہ تعالیٰ قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
Ayahs 83:4–6پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی ور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا (اَلَا يَظُنُّ اُولٰۗىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۙلِيَوْمٍ عَظِيْمٍ ۙ يَّوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۭ ) کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اٹھنے کا خیال نہیں جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرات پیدا کی ہے وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انہیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر کم ہوں یا زیادہ ان کا محاسبہ کرے گا تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کرلیتے۔
Ayahs 83:7–12اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ ) ہرگز نہیں بدکاروں کے اعمال۔ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ( لَفِيْ سِجِّيْنٍ ) ، سجین میں ہیں۔ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی (وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌ ۭ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ۭ ) تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے لکھی ہوئی کتاب ہے یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں السجین سے مراد تنگ جگہ ہے اور سجین، علیین کی ضد ہے جو کہ ابرابر کی کتاب کا محل ومقام ہے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سجین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانہ ہے۔
Ayahs 83:13–15اس لیے فرمایا (اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا) جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔ جو حق پر اور اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور کہنے لگا یہ تو (اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ) پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا کیونکہ اللہ تعلی نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنہوں نے اسے حق الیقین بنادیا ہے ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا ہے جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کردیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا وہ حق سے محجوب ہے بنا بریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے اسی طرح وہ اللہ سے محجوب رہے گا۔
Ayahs 83:16–17(ثُمَّ اِنَّهُمْ ) پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقینا ( لَصَالُوا الْجَــحِيْمِ ) جہنم میں جھونکے جائیں گے پھر زجر وتوبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا (هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ ) یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے۔ 1۔ جہنم کا عذاب۔ 2۔ زجر وتوبیخ اور ملامت کا عذاب۔ 3۔ اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہوگا۔
آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔
ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
Ayahs 83:18–22اللہ تبارک وتعالی نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ مقام پر ہوگا ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہوگا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب (يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ) کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیا، صدیقین اور شہدا کی ارواح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ملا اعلی میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ (علیون) جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے اللہ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی روح کی، اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔
Ayah 83:23(عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ) یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے (يَنْظُرُوْنَ ) ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کررکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کررہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کررکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کررہے ہوں گے۔
Ayah 83:24(تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِ ) اسے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی اس کی تروتازگی اور اس کی رونق کیونکہ لذتوں مسرتوں اور فرحتوں کا پے درپے حاصل ہونا چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔
Ayah 83:25(يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ ) یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انہیں پلائی جائے گی (مَّخْتُوْمٍ ) یہ خالص شراب سر بمہر ہوگی۔
Ayahs 83:26–27(خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ۭ ) جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی، اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس مہر لگی ہوگی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہوگی مشک کی مہر ہوگی، اس میں احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخر میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہوگا یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے جنت میں اس کی یہ منزلت ہوگی۔ (وَفِيْ ذٰلِكَ ) یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ) پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔
Ayah 83:28اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ (عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ ) جہاں سے صرف اللہ تعایل کے مقرب بندے ہی پئیں گے اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلی ترین شراب ہے بنا بریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہوگی جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہوگی یعنی خالص شراب وغیرہ اور دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہوگی۔
Ayahs 83:29–30اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکوکاروں کی جزا کا ذکر کر کنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑا تے ہیں ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ باہم اشارے کرتے تھے بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔
Ayahs 83:31–33( وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمُ ) اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔ یعنی صبح وشام (انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ ) تو مسرور اور خوش وخرم لوٹے یہ سب سے بڑی فریب خورگی ہے کہ انہوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کردیا۔ گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آگیا ہے وہ اہل سعادت ہیں انہوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ یدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلاعلم بات کہنے کی جسارت ہے اللہ نے فرمایا (وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَ 33ۭ ) یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمے دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں اور یہ ان کی طرف سے محض عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہوگی۔
Ayah 83:34اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ ) یعنی قیامت کے دن مومن کافروں سے ہنسی کریں گے جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہوگا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے تب ان کی ہنسی ارائیں گے۔
Ayah 83:35اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں (عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ ) آراستہ اور مزین پر بیٹھے پلنگوں ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کررکھی ہیں نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔
Ayah 83:36(هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ) کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں جزا دی جائے گی ؟ جس طرح انہوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی ان پر گمراہی کا بہتان لگایا آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔