83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 83:1–6

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

خرابی ہے کم تولنے والوں کی

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

ان کی جو لوگوں سے لیں تو پورا پورا ماپ کرلیں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو ماپ کر یا تول کردیں تو گھٹا کردیں۔

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا وہ خیال نہیں کرتے کہ ان کو اٹھایا جاوے گا

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک بڑے دن (قیامت میں)

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن کہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

ترکیب ¦ ویل مبتداء وجازا الابتداء بہ لکونہ دعاء قال مکی ویل و شبہہ اذا کان غیر مضاف فالمختار الرفع یجوز النصب واذا کان مضافا او معرفا فالمختار فیہ النصب والویل کلمۃ تذکر عند وقوع البلاء یقال ویل لک وویل علیک۔ وقیل واوفی جہنم للمطففین خبرہ المطفف ماخوذ من الطفف وھو الجانب اوالشیء الیسیر یقال طف الوادی والاناء اذا قارب الامتلاء ولم یمتلی بعد۔ قالؔ الزجاج انما قیل للذی ینقص المکیال والمیزان مطفف لانہ یسرق الشیء الیسیر۔ والتطفیف البخس فی الکیل والوزن الذین الخ صفت کاشفتہ للمطففین اذا اکتالوا الا کتیال الاخذ بالکیل علی الناس قال الفراء علی ومن فی ھذا الموضع یعتقبان یقال اکتلت منک ای استوفیت منک وتقول اکتلت علیک ای اخذ ما علیک یعنی الاکتیال یستعمل بمن وعلی وفی الکشاف لماکان اکتیالھم اکتیا لا یضرھم ابدل علی مکان من للدلالۃ علی ذلک۔ واذا کالوھم ای کالوالھم او وز نوالھم حذفت اللام فتعدی الفعل الی المفعول فھو من باب الحذف والایصال۔ قال الکسائیؔ والفرا ھذا من کلام اھل الحجاز ومن جادرھم یقولون زنی کذا کلنی کذاو کسبتک وکسبت لک۔ قال الزجاج لا یجوز الوقف علی کالوا حتی یوصل بالضمیر ویردیٰ عن عیسیٰ بن عمرو وحمزۃ انھا کانا یجعلان الضمیرین توکیدا لما فی کالوا ویقفان عندالواوین ای علی کالوا او وزنوا ثم یقولان ھم یخسرون وزعم الفراء والزجاج انہ غیر جائز۔ الایظن الخ جملۃ مستانفۃ۔ یوم منصوب باعنی وقیل بمبعوثون او مرفوع المحل خبراً لمبتداء محذوف او مجرور بدلا من یوم عظیم مبنی علی الفتح لاضافتہ الی الفعل وان کان مضارعاً علی مذہب الکوفیین۔ تفسیر ¦ یہ سورة بقول ابن مسعود ؓ و ضحاک ومقاتل ; مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن الزبیر ؓ سے بھی یہی منقول ہے کہ آخر جو مکہ میں نازل ہوا وہ یہ سورة ہے۔ مگر حسن و عکرمہ ; کہتے ہیں کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی اور سب سے اول جو مدینہ میں آکر آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا وہ یہی سورة ہے۔ قول اول قوی ہے اور اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں کو لینے دینے میں پیمانہ اور تول میں کمی زیادتی کرتے پایا۔ سو سب سے اول جو ایک مجلس میں ان کو قرآن سنایا تو ان کے حسب حال یہی سورة سنائی جس میں پیمانہ اور تول میں کمی زیادتی کرنے کی سخت برائی ہے۔ اس سبب سے لوگوں نے سمجھ لیا کہ یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی مگر سبحان اللہ کیا وعظ تھا کہ اس روز کے بعد سے اب تک اہل مدینہ سے بڑھ کر کوئی شہر اور بستی پورا تولنے اور پیمانہ بھرنے میں نہ ہوگی۔ ایک لخت سب نے وہ کام چھوڑ دیا۔ ربط ¦ اس سورة کا سورة اذا السماء انفطرت سے یہ ہے کہ اس سورة کے اخیر میں حشر کا معاملہ مذکور تھا کہ نیک نعیم میں اور بد جحیم میں ہوں گے اور کوئی کسی کے کچھ کام نہ آوے گا۔ اس لیے اس سورة میں اس بدی کی شرح کردینا مناسب ہوا جو حقوق العباد سے متعلق ہے۔ کس لیے کہ حقوق العباد سے زیادہ تر باز پرس ہوگی اور وہ بدی کیا ہے ؟ حقوق العباد میں دیدہ و دانستہ کمی زیادتی کرنا جس کو عربی میں تطفیف اور اس کے مرتکب کو مطفف کہتے ہیں۔ خصوصاً لین دین میں زیادہ لینا اور کم دینا تول یا پیمانہ کے ذریعہ سے۔ اس لیے فرماتا ہے ویل للمطففین خرابی ہے حقوق العباد تلف کرنے والوں کی پیمائش اور وزن میں۔ ہرچند لفظ تطفیف کے معنی لغوی پیمائش اور وزن میں خیانت کرنے کے ہیں مگر شیخ ابوالقاسم قشیری قدس سرہ العزیز اور دیگر بزرگوں نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ وسیع المعنی ہے۔ پیمائش اور تول کی خیانت کو بھی شامل ہے اور اس کے سوا ہر قسم کی خیانت اور خست کو بھی جیسا کہ اپنے عیوب کو چھپانا اور لوگوں کے وہی عیوب ظاہر کرنا لوگوں سے انصاف طلب کرنا اور آپ انصاف نہ کرنا۔ لوگوں کی عیب جوئی کرنا اپنے عیوب کی پروا نہ کرنا ٗ لوگوں سے تعظیم طلب کرنا اور خود کسی کی تعظیم و تکریم نہ کرنا۔ نوکروں ٗ غلاموں ٗ تابعداروں سے خدمت تو ٹھوک بجا کرلینا اور تنخواہ اور اجرت دینے میں کمی کرنا ‘ اپنے لیے جو پسند کرنا وہ دوسروں کے لیے نہ کرنا۔ رزق و عزت و عافیت تو خدا تعالیٰ سے بہت کچھ مانگنا اور اس کی حکم برداری سے دل چرانا۔ لوگوں سے اللہ کے لیے سوال کرنا آپ اللہ کے لیے کچھ نہ دینا۔ اوروں کو نصیحت کرنا خود مبتلا ہونا۔ حال خراب رکھنا قال ٹھیک رکھنا۔ بزرگوں کی صورت بنانا۔ باطن میں شیطانی کام کرنا ٗ ریاکاری کرنا وغیرہ۔ یہ سب لوگ مطفف ہیں ان سب کے لیے ویل یعنی خرابی ہے۔ پھر اس خرابی کی جو دنیا اور آخرت میں مطفف کو پیش آتی ہے سینکڑوں صورتیں ہیں۔ لوگوں کی آنکھوں میں ذلیل و خوار ہونا اس کے کاموں میں برکت نہ ہونا ٗ مرض ووباء و دیگر دنیا کے اشد مصائب میں مبتلا ہونا اور آخرت میں جہنم اور اس کی پیپ اور بدبودار وادی ہے۔ جہاں عمر بھر رہنا اور رونا اور سر پیٹنا ہوگا۔ دنیا کی خرابیوں کی بابت نبی ﷺ نے یوں تفسیر کی ہے کہ خمس بخمس یعنی سن لو پانچ چیزوں پر پانچ سزائیں مقرر ہیں۔ جو قوم عہد شکنی کرتی ہے تو اس کے دشمن اس پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ اور جو قوم احکام الٰہی کو خواہش نفسانی اور رشوت ستانی سے ترک کرتی ہے تو فقر و افلاس میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ جس قوم میں زنا و اغلام کی کثرت ہوگی وباء وغیرہ حوادث سے ہلاک ہوگی۔ جو قوم ناپ اور تول میں خیانت کرے گی قحط میں مبتلا ہوگی۔ باغ اور کھیتوں کی پیداوار سے بہرہ ور نہ ہوگی جو قوم زکوٰۃ اور حقوق مساکین سے دست کشی کرے گی ان سے بارش روک لی جاوے گی۔ مگر خدا تعالیٰ جب کسی قوم اور ملک کو بالکل برباد کرنا چاہتا ہے تو ان سے ان سزائوں کو چند روز کے لیے روک لیتا ہے تاکہ دلیر ہو کر ان افعال کو کریں اور پھر دفعۃً برباد ہوجاویں۔ واملی لہم ان کیدی متین کہ میں ڈھیل دیتا ہوں اور میرا داؤ مضبوط ہے معاذ اللہ۔ اس کے بعد ان کے مکر و خیانت کی تشریح فرماتا ہے۔ فقال الذین اکتالوا علی الناس یستوفون کہ جب اوروں سے ماپ کرلیں تو بھر کرلیں۔ عرب میں عموماً اور دیگر ملکوں میں بھی رواج تھا بلکہ اب بھی ہے کہ غلہ وغیرہ انسان کی غذا اور کارآمد چیزوں کو تولنے کی جگہ پیمانہ سے لیتے دیتے تھے مثلاً آدھ سیر کا ایک لکڑی کا برتن بنا رکھتے ہیں۔ آدھ سیر غلہ دینا ہو یا لینا ہو تو اس میں بھر کرلیتے دیتے ہیں۔ اس میں آسانی بہت ہے اور پیمانہ کو کیل اور مکیال کہتے ہیں اور کیلہ اسم ہے اور جو چیزیں پیمانہ سے لی جاتی ہیں۔ ان کو مکیل کہتے ہیں اور جو چیزیں تول کر بکتی ہیں ان کو موزون کہتے ہیں سو وہ تول کی چیزوں میں بھی خیانت کرتے تھے واذا کالو ہم اور جب اوروں کو ماپ کردیتے تھے او وزنوھم یا تول کردیتے تھے یخسرون کمی کرتے تھے۔ فائدہ : پیمانہ اور وزن سے لینا ایک حالت ہوئی اور انہیں سے ناپ یا تول کردینا دوسری حالت ہے۔ لینے میں دھوکا دے کر زیادہ لے لینا پیمانہ میں اکثر ہوتا ہے۔ دوسرے نے ان کو پیمانہ بھر کردیا۔ اس نے زیادہ دبا دیا یا اوپر سے چوٹی باندھ دی اس لیے لینے کی صورت میں پیمانہ کا ذکر کیا برخلاف دینے کے کہ وہاں پیمانہ میں بھی خیانت ہوا کرتی ہے اور تولنے میں بھی جس کو ڈنڈی مارنا کہتے ہیں اور عرب میں ایسا دستور بھی تھا اس لیے اس صورت میں پیمانہ اور وزن دونوں کا ذکر کیا۔ فائدہ 1: اہل زبان اس مقام پر کہتے ہیں کہ اکتیال کا استعمال من کے ساتھ ہوتا ہے مگر علیٰ کے ساتھ اس لیے کیا کہ علیٰ مضرت کے لیے آتا ہے اور خیانت میں دوسرے کی مضرت ہے۔ اسی طرح کالولہم اور وزنولہم لام کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بغیر لام کے اس لیے استعمال ہوا کہ اس کاروبار کی کثرت بیان کرنی مقصود تھی اور کثرت استعمال میں ایسے حروف محذوف ہوجایا کرتے ہیں۔ عرب کا خاص محاورہ ہے۔ فائدہ 2: بقول علمائِ محققین یہاں بھی تول اور پیمانہ کی خاص خیانت مراد نہیں بلکہ عام خیانت مراد ہے۔ آپس کے معاملات میں اور خدا کے معاملات میں بھی جیسا کہ علامہ قشیری قدس سرہ کے قول میں تشریح کی گئی۔ فرماتا ہے الایظن اولئک انہم مبعوثوں لیوم عظیم کہ یہ جو ایسی گندم نمائی جو فروشی کرتے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ ان کو ایک بڑے سخت اور مصیبت کے روز کھڑا ہونا اور عدالتِ الٰہی میں حاضر ہونا ہے ؟ گویا ان کا بیباکانہ ایسی حق تلفی اور خیانت کا عمل میں لانا قیامت کے دن میں کھڑے ہونے کا انکار کرنا ہے۔ گو زبان سے انکار نہ ہو ورنہ جو اس کھڑے ہونے کا دل میں یقین رکھتا ہوگا اس سے یہ بیباکی سرزد نہ ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ ان کو اپنے اعمال کے وزن اور تول کا خیال نہیں کہ حشر میں ہونا ہے۔ وہ دن کیسا ہوگا یوم یقوم الناس لرب العالمین ایسا ہوگا کہ جس میں تمام لوگ رب العالمین کے آگے کھڑے ہوں گے اور لفظ رب العالمین میں اشارہ ہے کہ لوگوں کے حقوق کا انصاف کرنا بھی اس کی ربوبیت عامہ کا مقتضیٰ ہے اور یہی صفت اس روز مظلوموں کے بدلے لینے پر محرک ہوگی۔ حقیقت میں نفوس سرکش کی باگ تھامنے والی اگر کوئی چیز ہے تو یہی خیال ہے ورنہ حکام وقت کی قانونی بندش یا اور کوئی ترغیب و ترہیب باز نہیں رکھ سکتی جیسا کہ آج کل ہم لوگوں میں بدکاری اور خیانت کا زیادہ رواج اس لیے دیکھتے ہیں کہ قیامت کا اعتقاد کم ہوتا جاتا ہے۔
Ayahs 83:7–13

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

نہیں نہیں بدکاروں کا روزنامچہ سجین میں ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور (اے مخاطب ! ) تو کیا جانے کیا ہے سجین۔

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

لکھا ہوا دفتر

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

ان کی جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو وہی جھٹلاتابھی ہے جو حد سے بڑھا ہوا گنہگار ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جبکہ اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے (یہ تو) پہلوں کی کہانیاں ہیں۔

ترکیب ¦ کلا الاکثرون علی انھا کلمۃ روع وتنبیہ ای لیس الامر ما زعمتم من انہ لاحساب ولا جزاء وقال ابو حاتم کلا ابتداء یتصل بما بعدہ علی معنی حقاوھو قول الحسن کتاب الفجار اسم ان لفی سجین خبرھا۔ وفی السجین قولان الاول وھو قول لجمہورانہ اسم علم علیٰ شیء معین فعلی ھذا فیہ اقوال عند الاکثر ھو الارض السابعۃ السفلی وھو قول ابن عباس وقیل جب 1 ؎ فی جہنم۔ والقول الثانی انہ مشتقف ہو فعیل من السجن بمعنی الجنس والتضیق کالفسیق من الفسق وھذا قول المبردد والزجاج وابی عبیدۃ وروہ الواحدی وقال صاحب الکشاف ان السجین فعیل من السجن ثم انہ ھھنا اسم علم منقول من وصف کحاتم وھو منصرف لانہ لیس فیہ الاسبب واحدوھو التعریف کتاب مرقوم 2 ؎ اے ھو محل کتاب۔ فلا یرد ما قیل ان اللہ سبحانہ اخبر عن کتاب الفجار بانہ فی سجین ثم فسر السجین بانہ کتاب مرقوم فکانہ قال ان کتابھم فی کتاب مرقوم واجاب القفال بان قولہ کتاب مرقوم لیس تفسیر السجین بل التقدیر ان کتاب الفجار لفی سجین وان کتاب الفجار کتاب مرقوم فیکون ھذا وصفا لکتاب الفجار بوصفین احدھما انہ فی سجین والثانی انہ مرقوم وقولہ وما ادراک ما سجین جملۃ معترضۃ واجاب الرازی بانہ لا استبعاد فی کون احد الکتابین فی آلاخربان یوضع کتاب الفجار فی کتاب الذی ھوالاصل المرجوع الیہ فی تفصیل احوال الاشقیاء اوبان نقیل ما فی کتاب الفجار الیٰ ذلک الکتاب المسمی بالسجین وفی وجہ آخر ہو ان یکون المراد من الکتاب الکتابۃ فالمعنی کتابۃ الفجار فی سجین ثم وصف السجین بانہ کتاب مرقوم فیہ جمیع اعمال الفجار من الکبیر۔ 1 ؎ کنواں 2 ؎ قال قتادۃ مرقوم لھم بشر کانہ اعلم بعلامۃ یعرف بھا انہ کافروا بہ قاتل مقاتل۔ 12 منہ قال ابن عطیۃ من قال ان سجینا موضع فکتاب مرفوع علی انہ خبروالظرف وھو قولہ لفی سجین ملغی ومن جعلہ کتاباف کتاب خبر مبتداء محذوف والتقدیر ھو کتاب الذین یکذبون بدل من المکذبین اوصفۃ۔ اساطیر جمع اسطورۃ او اسطارۃ تفسیر ¦ جب قیامت کے دن دربارِ الٰہی میں کھڑے ہونے اور نیکی بدی کے حساب دینے جزاء و سزا پانے کا ذکر آیا تو مناسب ہوا کہ نیکوں اور بدوں کے ان حالات کو بھی بیان کیا جاوے جو مرنے کے بعد حسب اعمال پیش آویں گے۔ ہرچند جزاء و سزا کا مسئلہ بہت جگہ بیان ہوا لیکن اس مسئلہ کے سخت منکروں کے مقابلہ میں بار بار مختلف عنوانوں سے بیان کرنا ان کے دل پر نقش کردینا مقصود ہے جو نبوت کے اہم مقاصد میں سے ہے۔ اس لیے فرماتا ہے کلا نہیں نہیں یعنی تم جو یہ سمجھے ہوئے ہو کہ مر کر خاک ہوجائیں گے نہ سزا ہے نہ جزا ہے جو چاہو دل کھول کر کرو ‘ مزے اڑائو۔ کوئی پوچھنے والا نہیں یہ خیال غلط ہے۔ ہرگز ہرگز ایسا نہیں۔ پھر اس کے بعد جزاء و سزاء کا حال بیان فرماتا ہے۔ بعض مفسرین کلا کو بمعنی حقا لیتے ہیں تب یہ آیندہ کلام سے متعلق ہوگا کہ بیشک ان کتاب الفجارلفی سجین کہ روزنامچہ بدکاروں کا جس میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں سجین میں ہے۔ سجین سے وہ واقف نہ تھے اس لیے آپ ہی فرماتا ہے وما ادراک ما سجین کہ اے مخاطب ! تو کیا جانے کیا ہے سجین ؟ پھر آپ ہی فرماتا ہے کتاب مرقوم وہ کہ ایک نشانی لگے ہوئے دفتر کی جگہ ہے یعنی وہاں ایک دفتر ہے جس میں مجرموں کے نام و نشان اور اعمال کی کیفیت سب لکھی ہوئی ہے۔ سجین و علیین کا بیان ¦ سجین سجن سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں قید خانہ۔ اس قید خانہ کی کہ جہاں مرنے کے بعد ارواح جاتی ہیں۔ احادیث و اقوال صحابہ وتابعین میں یوں تشریح آئی ہے کہ وہ جہنم کا طبقہ ہے اور ساتویں زمین کے تلے ہے یعنی عالم بالا یا علوی کے برخلاف عالم سفلی میں جو تنگ و تاریک اور پر حزن جگہ ہے جہاں درد و غم کے سوا اور کچھ نہیں جہاں طرح طرح کی تکالیف اور آگ کی لپٹیں اور سانپ اور بچھو ہیں۔ امام احمد نے براء بن عازب سے اور امام احمد و نسائی نے ابوہریرہ ؓ سے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے باسناد مختلف اس بارے میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ اگرچہ ہر ایک کی سند میں الفاظ و مطالب میں کمی بیشی ہے مگر سب کا قدر مشترک یہ مضمون ہے کہ جب ایماندار نیک بندہ مرنے کو ہوتا ہے تو نورانی فرشتے اس کے روبرو آبیٹھتے ہیں اور اس کے قریب ہو کر نہایت نرمی اور لطف سے کہتے ہیں لو چلو خدا کی رحمت و مغفرت اور باغ و بہار اور عیش دلپسند کی طرف۔ تب اس کی روح فرحت و نشاط سے بدن سے نکل کر ان کے ساتھ ہو لیتی ہے اور وہ اس کو لے کر عالم بالا کی طرف جاتے ہیں۔ رستے میں جہاں ملائکہ ملتے ہیں تو پوچھتے ہیں یہ کون معطر اور روشن روح ہے تب وہ ملائکہ جو لیے جا رہے ہیں اس کا بڑی تعظیم سے نام بتلاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کو وہاں تک لے جاتے ہیں کہ جہاں تک اس کی رسائی اس کی نورانیت و صفائی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پھر کسی کو اول آسمان تک کسی کو دوسرے تک کسی کو ساتویں تک پھر وہیں اس کو اپنے رب سے پیشی ہوتی ہے اور تجلی ہو کر شرف ہمکلامی حاصل ہوتا ہے۔ تب حکم ہوتا ہے اکتبوا کتاب عبدی فی علیین کہ میرے بندہ کا نام علیین کے دفتر میں لکھو یعنی علیین جو عالم بالا میں ایک فرحت بخش جگہ ہے اور جہاں اور ایمانداروں کی روحیں رہتی ہیں اور وہاں عیش اور بہار ایسی ہے کہ جس کا بیان ممکن نہیں۔ وہاں یہی رہے اور وہاں جو ایک دفتر ہے جس میں وہاں کے رہنے والوں کے نام ہیں اس کا نام بھی وہیں درج کرو۔ تب وہ روح وہاں آتی ہے اور جو اس سے پہلے وہاں آئے ہیں اس سے بڑی خوشی کے ساتھ ملتے ہیں اور جس طرح سفر سے واپس آنے والے سے مل کر خوش ہوتے ہیں اس سے بھی زیادہ ان کو خوشی ہوتی ہے۔ تب وہاں کے لوگ اپنے دنیاوی اقارب کا حال دریافت کرتے ہیں کہ فلاں کیسا ہے ؟ فلاں کا کیا حال ہے ؟ پھر جو یہ بعض کی نسبت کہتا ہے وہ تو مرگیا ٗ کیا تمہارے پاس نہیں آیا ؟ تب وہ کہتے ہیں افسوس وہ ہاویہ میں گرایا گیا۔ اور اگر کافر و منافق ہے تو اس کے مرنے کے بعد اس کے سامنے ہیبت ناک اشکال کے فرشتے آتے ہیں جن کے چہروں سے غضب کے آثار دیکھنے والے کے زہرہ کو پانی پانی کئے دیتے ہیں جہاں تک اس کی نظر آتی ہے وہی بیٹھے نظر آتے ہیں۔ تب وہ کہتے ہیں اے روح خبیث ! اس ناپاک بدن سے نکل اور اپنی سزا اور عذاب کی جگہ چل۔ تب وہ اس کو کھینچ کرلے جاتے ہیں اور اس سے بدبو آتی ہے جس جگہ سے لے کر گزرتے ہیں وہاں کے فرشتے پوچھتے ہیں یہ کون روح خبیث ہے ؟ تب وہ کہتے ہیں فلاں بن فلاں برے نام سے یاد کرتے ہیں۔ پہلے آسمان تک لے کر آتے ہیں اور دروازہ کھلواتے ہیں مگر اوپرچڑھنے کے لیے دروازہ نہیں کھلتا۔ اس مقام پر نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی لاتفتح لہم ابواب السماء ولا یدخلون الجنۃ حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھلیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گزر جاوے تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا نام سجین میں لکھو۔ سب سے نیچے زمین میں تب اس کی روح اوپر سے نیچے پھینک دی جاتی ہے اور اس مقام پر آنحضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ ومن یشرک باللہ فکا نما خر من السماء الآیہ کہ جس نے اللہ سے شرک کیا گویا کہ وہ آسمان سے گر پڑا۔ یہ تب سجین میں اس کو طرح طرح سے عذاب ہوتا رہتا ہے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد روح کو خبر رہتی ہے اور اسی کو عذاب وثواب ہوتا ہے جسم یہاں پڑا رہتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سجین مجرموں کا قید خانہ عالم پستی میں ہے اور وہاں نام لکھنے سے یہ مراد ہے کہ وہاں دفتر رہتا ہے جیسا کہ جیل خانوں میں قیدیوں کے لیے دفتر رہا کرتا ہے اور جب کوئی قیدی آتا ہے تو اس کا نام اس میں لکھ لیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے اس سجین کو دفتر کی جگہ بھی کہنا نامناسب نہیں اور ہے دراصل قید خانہ اور علیین جس کا ذکر اگلی آیتوں میں آتا ہے۔ عالم بالا میں ایک پر افزا اور فرحت کی جگہ ہے۔ قیامت تک بدسجین میں پھر جہنم میں اور نیک علیین میں اور پھر جنت میں رہیں گے اور سجین جہنم کا ابتدائی طبقہ ہے جیسا کہ علیین جنت کا ابتدائی مقام ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بھی سجین اور علیین کا کچھ حال بیان فرمایا ہے چناچہ انجیل لوقا کے سولہویں باب میں حضرت کا یہ قول منقول ہے۔ 19 ایک دولتمند تھا جو لال اور مہین کپڑے پہنتا تھا اور روز روز شان و شوکت سے عیش کرتا تھا (20) اور لعزر نام ایک غریب آدمی جو ناسور سے بھرا تھا جس کو اس کی ڈیوڑھی پر ڈال جاتے تھے۔ 21 اور وہ آرزو رکھتا تھا کہ ان ٹکڑوں سے جو دولتمند کی میز سے گرتے تھے اپنا پیٹ بھرے بلکہ کتے آ کے اس کے گھاؤ چاٹتے تھے۔ 22۔ اور ایسا ہوا کہ وہ غریب مرگیا اور فرشتوں نے اسے لے جا کر ابراہیم کی گود میں رکھا (کس لیے کہ عالم روحانی میں ارواح ان کے ظل عاطفت میں رہتی ہیں۔ یہ کام ان کے سپرد ہے) اور دولتمند بھی مرگیا اور گاڑا گیا۔ 23 اس نے دوزخ کے درمیان عذاب میں ہو کے اپنی آنکھیں اٹھائیں اور ابراہیم کو دور سے دیکھا اور اس کی گود میں لعزر کو اور اس نے پکار کے کہا کہ اے باپ ابراہیم مجھ پر رحم کر اور لعزر کو بھیج کہ اپنی انگلی کا سرا پانی میں بھگو کے میری زبان ٹھنڈی کرے کیونکہ میں اس لو میں تڑپتا ہوں 25 تب ابراہیم نے کہا اے بیٹے یاد کر کہ تو اپنی زندگی میں اچھی چیزیں لے چکا اور لعزر بری چیزیں سو وہ تسلی پاتا ہے اور تو تڑپتا ہے۔ 26 اور ان سب کے سوا ہمارے تمہارے درمیان ایک بڑا گڑھا حائل ہے کہ ایسا کہ وے جو یہاں سے تمہارے پاس جایا چاہیں نہ جاسکیں اور نہ وے لوگ جو وہاں ہیں اس پار ہمارے پاس آسکیں۔ 27 تب اس نے کہا اے باپ تیری منت کرتا ہوں کہ تو اسے میرے باپ کے گھر بھیج۔ 28 کیونکہ میرے پانچ بھائی ہیں تاکہ ان پر گواہی دے ایسا نہ ہو کہ وہ بھی اس عذاب کے جگہ میں آویں۔ 29 ابراہیم نے کہا کہ ان کے پاس موسیٰ اور انبیاء ہیں چاہیے کہ وہ ان کی سنیں۔ 30 اس نے کہا نہیں اے باپ ابراہیم پر اگر کوئی مردوں میں سے ان کے پاس جائے تو وہ توبہ کریں گے۔ 31 اس نے اسے کہا کہ جب وہ موسیٰ اور نبیوں کی نہ سنتے ہیں تو مردوں میں سے اگر کوئی اٹھ کر جاوے تو اس کی کب سنیں گے۔ یہاں سے یہ باتیں معلوم ہوئیں (1) یہ کہ مرنے کے بعد عذاب وثواب ہوتا ہے اور بد طرح طرح کا عذاب پاتے ہیں اور نیک راحت اور اسی کو شرع محمدی میں قبرکا عذاب وثواب کہتے ہیں (2) یہ کہ نیکوں کا مقام بالاتر ہے جہاں دور سے ابراہیم کو دیکھا اور ان کے پاس لعزر کو بھی اور اسی کو شرع محمدی میں علیین کہتے ہیں اور بدوں کا مقام پستی میں ہے جہاں گڑھا حائل ہے۔ اس کو سجین کہتے ہیں جس قید خانہ سے نکلنا مشکل ہو (3) مرنے کے بعد دنیا کی باتیں اور اپنے اقارب کی محبت بھی باقی رہتی ہے اور سب کو جانتا ہے (4) مرنے کے بعد جو واقعات پیش آتے ہیں ان کی حضرت موسیٰ اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے بھی خبر دی ہے جو مردے کے زندہ ہو کر دنیا میں جا کر خبر دینے سے زیادہ معتبر ہے۔ (5) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) روحانی باپ ہیں اس لیے اسلامی ان پر بھی نماز میں درود بھیجتے ہیں۔ فرماتا ہے ویل یومئذ للمکذبین کہ اس روز (یعنی جس روز کہ بدکار اور منکر سجین میں داخل ہوں گے اور وہ دن بہت دور نہیں صرف مرنے کی دیر ہے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی جو الہامی باتوں کو آج دنیا میں جھٹلاتے ہیں۔ بعض تو اللہ تعالیٰ ہی کو نہیں مانتے۔ کہتے ہیں کہ کوئی خدا نہیں آپ ہی چیزیں پیدا ہوتی ہیں ٗ آپ ہی مٹ جاتی ہیں۔ خدا صرف ایک وہمی بات ہے جو مدتوں سے کانوں میں پڑی چلی آئی ہے۔ یہ ملحد آج کل فرنگستان میں بہت ہیں۔ محسوسات کے چند علوم نے جن کی غلطیاں روز بروز نکلتی جاتی ہیں ان کو تاریک گڑھے میں ڈال رکھا ہے۔ پھر ان میں کچھ طبعی ہیں جن کو نیچری کہنا چاہیے اور کچھ دہری اور مادی ہیں اور کچھ خیالی ہیں کہ سب باتوں کو توہمات و خیالات ہی کہتے ہیں اور بعض خدا تعالیٰ کو تو نہیں جھٹلاتے اس کے قائل ہیں مگر پھر اس کی صفات توحید و تنزیہ وقدرت کے منکر ہیں۔ پھر کسی نے مخلوقات میں سے اس کے وسائل قرار دے کر شریک بنا رکھے ہیں جیسا کہ مشرکین عرب و مشرکین ‘ ہندو ‘ فرقہ مجوس پھر کسی نے خدا تعالیٰ کو ممکنات پر قیاس کرکے اس کی ذات مقدسہ کے حصے کر ڈالے ہیں جن کو اقانیم کہتے ہیں باپ ‘ بیٹا ‘ روح القدس۔ پھر اس کے توجیہ میں کیا کیا باتیں بناتے ہیں۔ کہیں ریاضات سے اور مثلث اور شکل سے ثابت کرتے ہیں۔ بعض کر سٹان جو کچھ مسلمانوں کے علوم سے واقف ہیں۔ سمجھے بوجھے اس کو تعینات اور تنزلات کے قالب میں ڈھالتے ہیں اور صوفیہ کرام کے اقوال و اشعار سے عامہ کو دھوکا دینے کے لیے سندیں لایا کرتے ہیں حالانکہ نہ تعینات کو سمجھے نہ تنزلات سے واقف نہ مصطلحات صوفیہ کرام سے آگاہی مگر یوروپین پادری ان کی اس موشگافی سے جو محققین اہل اسلام کے نزدیک قابل تمسخر ہے ان کی خوب قدردانی کرتے ہیں اور بعض نے جملہ اصول 1 ؎ عالم حسی کو قدیم مانا ہے اور ان کے پیدا اور فنا کرنے سے اس کو عاجز سمجھتے ہیں جیسا کہ آج کل فرقہ آریہ بعض نے حضرت انبیاء کو جھٹلایا وہ کسی نبی کو بھی نہیں مانتے نہ نبوت کی کچھ ضرورت سمجھتے ہیں جیسا کہ فرقہ آریہ اور برہمو اور بعض انبیاء کو تو مانتے ہیں لیکن خاص خاص کو نہیں مانتے جیسا کہ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کو نہیں مانتے اور عیسائی حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سب مکذبین ہیں اور ان کے سوا آیات قدرت کے منکر بھی مکذبین ہیں جو ہر روز دنیا میں اس کی قدرت کے کرشمے دیکھتے ہیں پر نہیں مانتے اور قیامت اور جزاء و سزا کے منکر تو مکذبین میں سے بہت ہی بڑے مکذبین ہیں۔ کس لیے کہ دل کھول کر بدکاری کرنے کا یہ عمدہ ذریعہ ہے اس لیے بالخصوص مکذبین میں سے اسی گروہ کا ذکر کرتا ہے فقال الذین یکذبون بیوم الدین وہ مکذبین جو روز جزا کی تکذیب کرتے ہیں اس کو نہیں مانتے اس لیے دل کھول کر بدکاری کرتے ہیں۔ اس مضمون کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے وما یکذب بہ الاکل معتداثیم کہ روز جزا کو وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے گزرا ہو اور بدکار ہے۔ اس کی یہ سرکشی اور بدکاری روز جزا کے خیال کو بھی دل میں نہیں آنے دیتی۔ جیسا کہ عرب کے بت پرست تھے اور اب یورپ کے عیش پسند حرام کار بدکار لوگ ہیں۔ اذا تتلٰـی علیہ آیاتنا قال اساطیر الاولین جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں بالخصوص وہ کہ جن میں جزا کا حال ہے تو سن کر ٹھٹھوں میں اڑاتے اور کہہ دیتے ہیں کہ پہلی کہانیاں ہیں یوں ہی کہتے چلے آئے ہیں کس نے دیکھا ہے۔ آج کل تعلیم انگریزی کا یہ اثر دیکھا جاتا ہے کہ ابتداء ہی سے جوان ملحدوں کے خیالات ان کے دل پر نقش کئے جاتے ہیں اور کسی قدر علوم جدیدہ کے کرشمے دکھائے جاتے ہیں تو وہ الہامی باتوں سے تمسخر کرتے ہیں اور مرنے کے بعد جزاء و سزا کے قائل نہیں رہتے۔ پھر تو خوب مے نوشی اور زناکاری کرتے ہیں۔ پاک ‘ ناپاک حلال و حرام کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے۔ خرابی کی شرح نہیں کی کس لیے کئی جگہ ہوچکی ہے۔ آگ ‘ 1 ؎ عالم حسی کے اصول یا علویات ہیں کواکب و سماوات یا سفلی ہیں عناصر۔ 12 منہ سانپ ‘ بچھو ‘ درد و غم ‘ لو ‘ پیاس وغیرہ۔
Ayahs 83:14–17

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

نہیں نہیں بلکہ ان کے (برے) کاموں سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ضرور وہ اس دن اپنے رب کے سامنے آنے نہیں پائیں گے۔

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا یہ ہے وہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

ترکیب ¦ کلا روع و زجر للمعتدی الاثیم وقال الحسن بمعنی حقا ماکانوا یکسبون والعائد محذوف ای یکسبونہ والجملۃ فاعل ‘ ران رین ریم و زنگ گرفتن ومنہ قولہ تعالیٰ بل ران الخ ای غلب وقیل ھو الذنب علی الذنب حتی یسود القلب (صراح) لمحجوبون خبر ان ‘ عن ربہم متعلق بہ یومئذ ظرف لہ ثم انہم ثم لتراخی الرتبۃ ھذا الذی الخ الجملۃ مفعول مالم یسمی فاعلہ لیقال۔ تفسیر ¦ ان حد سے بڑھنے والے گنہگاروں کے خیال کو باطل کرتا ہے۔ بقولہ کلا کہ جو تم سمجھے ہوئے ہو وہ ہرگز نہیں پھر ان کے اس انکار اور آیات کو پہلوں کی کہانیاں کہنے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال بل ران علیٰ قلوبہم ماکانو یکسبون کہ ان کے دلوں پر ان کے اعمالِ بد کا زنگ چڑھ گیا ہے جس لیے وہ ایسی باتیں بناتے ہیں۔ فائدہ : نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے۔ پھر اگر توبہ استفغار کرلیا تو صاف ہوگیا اور اگر اور گناہ کیا تو وہ نقطہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے۔ پس یہی وہ رین ہے کہ جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ کلا بل ران علی قلوبہم ماکانو یکسبون (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ) پھر گناہ کرتے کرتے جب دل سیاہ ہوجاتا ہے تو کوئی حق بات اس میں نہیں آتی پھر اگر اس سے بھی بڑھ گیا تو دل پر ایک حجاب ہوجاتا ہے جس کو مہر لگنے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور پھر اس سے بھی بڑھ کر قفل کا مرتبہ ہے۔ اس دل میں صلاحیت ہی نہیں رہی کہ کوئی اس کو صاف کر دے گویا مرگیا پہلے تو بیمار ہی تھا اس سے یہ مراد نہیں کہ مضغہ گوشت پر کوئی سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے اور پھر پھیلتے پھیلتے سب کو سیاہ کر ڈالتا ہے۔ یہاں تک کہ چیرنے کے بعد وہ سیاہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ کس لیے کہ قلب سے مراد شرع میں وہ انسان کی روحانی قوت ہے جو ادراک کرتی ہے۔ گناہ کرنے سے اس پر تاریکی آجاتی ہے اور آخر اس تاریکی کا ایک حجاب بن جاتا ہے جو اس کو انوارِ الٰہیہ کی تجلی سے مرنے کے بعد دیدار سے محروم کرتا ہے۔ کما قال کلاانہم عن ربہم یومئذ لمحجوبون کہ بیشک یہ لوگ اس روز اپنے رب سے روکے جاویں گے حجاب یعنی پردہ حائل ہوجاوے گا دیدار کے شرف سے محروم ہوں گے 1 ؎۔ پھر جب وہ ایسے ناپاک اور گندے ہیں تو ثم انہم لصالوا الجحیم ان کو جہنم میں پھینک دیا جاوے گا۔ اسی کے لائق تھے۔ ثم یقال ہذا لذی کنتم بہ تکذبون پھر ان کو شرمندہ کرنے کے لیے کہا جاوے گا کہ وہ جہنم جس کا تم دنیا میں انکار کرتے اور جھٹلاتے تھے یہی تو ہے اب تو یقین آیا کہ نبیوں کا فرمانا برحق تھا۔ جس طرح پہلی آیات میں اشقیاء کا وہ حال بیان ہوا تھا جو مرنے کے بعد سے لے کر حشر تک ہوگا یعنی عالم برزخ کا۔ اسی طرح ان آیات میں عالم حشر اور اس کے بعد کا حال بیان فرما دیا اور اس کے بعد نیک لوگوں کا حال بیان کرتا ہے اور بدوں کا حال پہلے اس لیے بیان فرمایا کہ اس سے پہلے کم تولنے وغیرہ جرائم کا ذکر تھا۔ 1 ؎ محجوبون کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ شرمندہ ہوں گے شرمسار کو محاورہ عرب میں محجوب کہتے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 83:18–28

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

بیشک نیکوں کا روزنامچہ علیین میں ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تو کیا جانے کہ علیین کیا ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک کتاب ہے (نشانی کی ہوئی)

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

کہ جس کو (ملائکہ) مقرب دیکھا کرتے ہیں۔

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ عیش میں ہوں گے ٗ

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے نظارہ کیا کریں گے

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

اے مخاطب تجھے ان کے چہروں پر عیش کی تازگی دکھلائی دے گی

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

اور ان کو شراب خالص پلائی جاوے گی جس پر مشک سے مہر لگی ہوگی

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

اور للچانے والوں کو للچانا تو اسی پر چاہیے

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس شراب میں تسنیم کی بھی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جسے مقرب پیا کرتے ہیں۔

ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ لبیان حال الابرارار وکذا یسقون قال المبرد والزجاج الرحیق من الخمر مالا غش فیہ وفی الصحاح الرحیق صفوۃ الخمر مختوم صفۃ لرحیق ختامہ مسک صفۃ اخری التنافس شدۃ الحرص ومزاجہ معطوف علی ختامہ مسک صفۃ اخری من تسنیم ھو شراب ینصب من علو والستنیم فی اللغۃ الارتفاع ومنہ سنام البعیر لعلوہ من بدنہ ومنہ تسنیم القبور فھی عین تجری من علو الی اسفل وقال ابن مسعود عین فی الجنۃ تمزج للابرار ویشربھا المقربوں کما فسرہ اللہ تعالیٰ بقولہ عینا الخ وفی نصب عینا وجوہ الاول انہ علی المدح والثانی انہ علی الحال وانما جاز کونھا حالا مع انھا جامدۃ غیر مشتقۃ لا تصافھا بقولہ یشرب بہا وقال الاخفش منصوبۃ بیسقون وقال الفراء بتسنیم والباء فی بہا زائدۃ او بمعنی من۔ تفسیر ¦ فقال کلا کہ جیسا تم سمجھے ہوئے ہو کہ نیکوں کی نیکی بیکار ہے۔ ایسا ہرگز نہیں یا یوں کہو کہ بیشک وشبہ ان کتاب الابرار لفی علیین ابرار کا روزنامچہ کہ جہاں ان کے کام اور نام لکھے ہوئے ہیں علیین میں ہے پھر جس کا اس دفتر میں نام میں ہے وہ محو نہیں ہوسکتا نہ وہ مرنے کے بعد اکرام و اعزاز سے محروم رہتا ہے۔ ع ثبت ست برجریدہ عالم دوام ما وہ جریدہ بقا ہے ان کے لیے حیات جاودانی اور ابدی عیش کامرانی میں کوئی شبہ نہیں۔ چونکہ علیین پر آگاہی ان کے افہام ناقصہ کو نصیب نہیں اس لیے آپ ہی پوچھتا ہے وما ادراک ما علیون کہ اے انسان ! تو کیا جانے کیا ہے علیین ؟ کس لیے کہ انسان محسوسات کا ادراک کرتا ہے اور جس سے باہر جو کچھ ہے اس کا ادراک یا ترتیب معقولات سے بطور نظر و فکر کے کرتا ہے سو اس میں سینکڑوں غلطیاں ہوجاتی ہیں اور اسی لیے عقلاء کا ایسے امور میں اختلاف ہوا ہے پھر اگر ادراک صحیح ہے تو کشف و شہود سے ہے اور اس میں کامل حصہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہے۔ پھر جو کوئی ایسی باتوں کے دریافت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کو وحی کا اتباع لازم ہے۔ اس لیے بذریعہ وحی آپ ہی بتاتا ہے کتاب مرقوم کہ وہ ایک بالاتر اور عالم قدس کی عمدہ جگہ ہے جہاں وہ لکھا ہوا دفتر ہے جس میں نیکوں کے نام ہیں اور وہ مقام چونکہ بہت بلند ہے وہاں نیکوں میں سے بھی ہر ایک نہیں پہنچتا بلکہ یشہدہ المقربون وہاں مقربین حضرت انبیاء (علیہم السلام) و اولیائِ کرام ہی پہنچتے ہیں۔ عام مومنین و صلحائِ امت اس کے نیچے اپنے درجات کے موافق عالم قدس کے اور مقامات میں ہوتے ہیں مگر نام ان کے اس بلند دفتر میں درج ہوتے ہیں کہ ترقی کرکے وہاں تک پہنچنے کی ان کے لیے امیدواری ہے۔ یہ تفسیر اس تقدیر پر ہے کہ جملہ یشہدہ المقربون کو علیین کی صفت قرار دیا جاوے اور بسبب مقام ہونے کے ضمیر مفرد اس کی طرف پھرائی جائے اور اگر کتاب مرقوم کی صفت مانا جاوے تو یہ معنی ہوں گے کہ اس دفتر تک ہر ایک کی رسائی نہیں بلکہ ملائکہ مقربین کی کہ وہی اس دفتر کے محافظ اور کار پرداز ہیں۔ یہاں تک عالم برزخ کا حال تھا جو مرنے کے بعد ابرار اور مقربین پر گزرتا ہے۔ نفخ صور سے پہلے تک اور اس کے بعد کا حال آیندہ آیات میں بیان فرماتا ہے۔ فائدہ : اکثر سورتوں میں نیک بندوں کو دو جماعت میں تقسیم کیا ہے۔ ایک اصحاب الیمین اور ان سے بڑھ کر السابقون اور پھر بعض مقامات پر اصحاب الیمین کو ابرار اور سابقین کو مقربین سے تعبیر کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اصحاب الیمین اور ابرار ایک ہی جماعت کا نام ہے اور سابقین اور مقربین دوسری جماعت کا نام ہے۔ پہلی جماعت میں صلحاء و شہدائِ امت داخل ہیں اور دوسری میں حضرات انبیاء و اولیاء جن کو صدیقین سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اچھے لوگوں کو انہیں چار قسموں میں داخل کیا ہے من النبین والصدیقین والشہداء والصالحین الآیہ۔ اب بتلا دیا گیا کہ مرنے کے بعد ابرار کا نام علیین میں ہے وہ خاص علیین میں یا اس کے متعلق کسی بلند جگہ میں رہیں گے اور مقربین علیین میں۔ فائدہ : علیین اور سجین کی تصویر عرفاء نے یوں کھینچی ہے کہ نوع انسانی کا بحسب وسعت معرفت اور اس کی تنگی کے اور باعتبار تہذیب لطائف و تحصیل انوار ملکیہ اور ان کے تکدر اور ظلمات بہیمیہ وسبعیہ کے بڑا وسیع میدان ہے جس کو ایک وسیع دائرہ خیال کرنا چاہیے کہ جس کا مرکز ادنیٰ مرتبہ انسانیت کا ہے جو بہت ہی فروتر مرتبہ ہے اور محیط اس کا اعلیٰ مرتبہ ہے اور جب عالم غیب میں اس شکل متخیل نے ایک صورت پیدا کی ہے تو اس کے مرکز کا نام سجین اور محیط کا علیین نام ہوگیا اور یہ ثابت ہے کہ جس قدر دائرے مرکز کے قریب ہوں گے وہ بہت ہی چھوٹے ہوں گے درجہ بدرجہ اور جو دوائر محیط کے قریب ہوں گے وہ بہت ہی بڑے ہوں گے درجہ بدرجہ۔ اس لیے انسانیت فجار کے مراتب درجہ بدرجہ قریب مرکز کے ہیں یہاں تک کہ بعض تو محض مرکز ہی تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور اسی طرح انسانیت ابرار کے مراتب ترقی کرتے ہوئے درجہ بدرجہ قریب محیط کے ہوتے ہیں اور وسعت و فراخی میں ایک دوسرے سے زائد یہاں تک کہ نوبت اعلیٰ علیین تک پہنچ جاتی ہے۔ اعلیٰ علیین جس کو رفیق اعلیٰ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے خاص مقربین کا مقام ہے اور ابرار ان کے طفیل سے اس مقام پر عبور کرتے ہیں لیکن ان کا مشہد یعنی ٹھہرنے کی جگہ وہ نہیں اور یہ عبور روحانی بعد مفارقت جسم کے روح کو حاصل ہوتا ہے کہ مقربین کی ارواح کو اعلیٰ علیین میں لے جاتے ہیں اور ابرار ان کے قریب جگہ پاتے ہیں اور فجار سجین میں لائے جاتے ہیں اور اسی لیے سجین کو بطور استعارہ کے زمین کے طبقہ سفلٰی اور علیین کو ساتویں آسمان پر بیان کیا گیا۔ محیط اور مرکز کے لحاظ سے۔ اس کے بعد وہ حالات بیان فرماتا ہے جو حشر میں ابرار کو پیش آویں گے فقال ان الابرار نفی نعیم کہ بیشک ابرار یعنی نیک بندے نعمتوں میں ہوں گے جتنی نعمتیں کہ ان کو انسان کا دل چاہے عمدہ مکان ‘ باغ و انہار ‘ نفیس کپڑے ‘ حور ‘ غلمان ‘ سواری اور خادمان پری رو اور کھانے کی دل پسند چیزیں اور فرحت و سرور جاودانی کے وہ سب سامان وہاں موجود ہوں گے جن کو نہ کسی کی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کے کان نے سنا ‘ نہ کسی کے ذہن میں آئے۔ لفظ نعیم سب کو شامل ہے مگر اس کے سوا ان کو بادشاہت کے تخت پر بھی بٹھایا جاوے گا جیسا کہ فرمایا ہے علی الارائک ینظرون کہ تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارہ کیا کریں گے اور وہ تخت ایسے معمولی تخت نہ ہوں گے بلکہ سایہ دار جو بیش بہا جواہرات اور بیش بہا کپڑوں اطلس ودیبا وغیرہ سے مزین ہوں گے کہ ان کو کوئی نہ دیکھے اور اس میں سے وہ سب کچھ دیکھیں گے اسی لیے ینظرون کا مفعول حذف کردیا کہ تعمیم سمجھی جاوے۔ جنت کے سب تماشے اور عیش و نشاط کے سامان بھی دیکھیں گے اور دوزخیوں کی حالت زبوں کا بھی ملاحظہ کریں گے مگر تعرف فی وجوھم نضرۃ النعیم ان کو ان کی یہ حالت زار دیکھنے سے کچھ ملال اور پریشانی نہ ہوگی یہاں تک کہ اگر کوئی دوست اور قرابت دار کافر و مشرک عذاب میں مبتلا نظر آئے گا تو ان کی محبت کا رشتہ اس سے بالکل منقطع ہوجاوے گا اور ان کے عیش و نشاط میں ان کے برے حال کے دیکھنے سے کوئی تغیر پیدا نہ ہوگا بلکہ ان کے چہروں پر وہی شادمانی اور نعمت کے آثار اور تازگی نمایاں ہوگی اور چودھویں رات کے چاند کی طرح ان کے نورانی چہرے جگمگاویں گے۔ فائدہ : عرفاء فرماتے ہیں کہ ارائک جس کا ذکر قرآن مجید میں جا بجا آیا ہے وہ اہل اللہ کے مخفی حالات و مقامات ہیں اور ان کی رات میں لوگوں سے چھپ کر تہجد و دعا و استغفار و تسبیح و تہلیل ہے اور ان کے دلوں کا وہ سوز و گداز ہے جو لوگوں سے مخفی تھا اور ان کی وہ محبت الٰہی ہے جو کسی کو نظر نہ آتی تھی۔ آج وہ ارائک کی شکل میں جلوہ گر ہوگی اور ان کے چہروں کی وہ پژمردگی جو دنیا میں محبت الٰہی اور فاقہ کشی اور غربت و فقر سے تھی آج تازگی بن جاوے گی اور اس نظارہ کا لطف زیادہ کرنے کے لیے یسقون من رحیق ان کو شراب خالص بھی پلائی جاوے گی کہ نہ جس میں تلخی ہوگی ‘ نہ بدبو ‘ نہ بعد میں خمار و درد سر ‘ نہ بےہوشی ‘ نہ بدحواسی جو تمام لطف کو درہم برہم کر دے بلکہ وہ ایک شراب ہوگی جو ان باتوں سے خالص ہوگی اور اس سے ایک سرور پیدا ہوگا اور وہ ایسی متبذل شراب نہ ہوگی کہ جس تک ہر ایک کا ہاتھ پہنچتا ہو بلکہ اس پر مہر لگی ہوگی نہ دنیا کی شرابوں کی طرح کہ جن پر مٹی یا لاکھ کی مہر ہوتی ہے بلکہ ختامہ مسک اس کی مہر مشک سے ہوگی جس کی خوشبو اس میں سرایت کر جاوے گی اور فرحت و سرور بڑھاوے گی اور نیز مشک ایک مناسب گرمی بھی پیدا کرے گا جو ہضم بڑھاتا ہے۔ بعض مفسرین ختام سے مراد تمامی لیتے ہیں کہ پینے کے بعد مشک سے ان کے منہ خوشبودار کئے جاویں گے۔ جیسا کہ کھانا کھانے اور شراب پینے کے بعد پان یا الائچی کھاتے ہیں اور یہ اس کا ختام ہوتا ہے۔ اسی طرح وہاں بعد میں ایسی خوشبودار فرحت خیز چیز دی جاوے گی جس کو مشک سے تشبیہ ہے۔ واضح ہو کہ یہاں تک ابرار اصحاب الیمین کے نعماء بیان ہوئے ہیں کہ جو تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ شراب رحیق پئیں گے۔ یہ شراب رحیق وہ محبت خالص ہے جو دنیا میں شرک و بدی کا ملاؤ نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے جنت میں وہ شراب خالص بن کر ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کرے گی۔ مگر یہ شراب رحیق تسنیم سے جو خاص مقربین کا حصہ ہے جیسا کہ آگے آتا ہے کم مرتبہ ہے۔ اس لیے اس رحیق میں کبھی کبھی اس تسنیم سے کچھ ملا دیاجاوے گا جیسا کہ دنیا میں شراب میں گلاب وغیرہ چیزیں ملا کر پیتے ہیں اور کم اس لیے کہ رحیق وہ فرحت و شادمانی ہے جو موجودات عالم علوی کے ملاحظہ سے ہوگی جیسا کہ دنیا میں یہ جماعت ابرار مصنوعات کے ملاحظہ سے صانع کو پہچانتے تھے اور ہر ایک آیت قدرت کو اس کے جمال کا آئینہ سمجھ کر شادمانی کرتے تھے۔ اسی طرح اس جہان میں ان کو ایک شراب خالص پلائی جائے گی کہ جو وہاں کے عجائبِ موجودات کو ملاحظہ کرکے ان میں اس کے جمال باکمال کا مشاہدہ کریں گے اور نہایت شادمانی ہوگی۔ بخلاف تسنیم کے کہ وہ خاص ذات حق کے مشاہدہ کے لیے ہے بغیر اس کے کہ موجودات کے آئینوں میں جھلکی دکھائی جاوے گی۔ اس لیے اس شراب میں سے بھی کبھی ان کو حصہ ملے گا کہ یہ بھی ذات پاک کا مشاہدہ کریں گے اس کے بعد فرماتا ہے وفی ذلک فلیتنا فس المتنافسون اور چاہیے کہ للچانے والے اس پر للچائیں اور اسی کی آرزو اور خواہش کریں نہ کہ دنیا کی نعمتوں کی جو کدورت سے خالی نہیں اور اس پر بھی ان کو دوام وبقاء نہیں جوانی باد صبا کی طرح ایک دم کے لیے آئی اور چلی گئی پھر جب جوانی نہیں تو اور نعمتوں کا کیا مزہ باقی رہا۔ پھر دنیا کی شراب کی کیا رغبت کرنی چاہیے جو بد مزہ اور بدبودار اور مزیل عقل و حواس اور مورث درد سر و خمار ہے اور کم تولنے یا حقوق العباد تلف کرنے میں بےحقیقت چیزوں پر کیا ریجھنا اور عاقبت برباد کرنا چاہیے یہاں کا مال و زر کیسا اور یہاں کے اسباب عیش و نشاط ہی کیا ہیں۔ ان بےحقیقت چیزوں پر ریجھ کر عقبیٰ برباد کرتے ہو رغبت ریجھنے کی چیز تو آخرت کی یہ نعمتیں ہیں۔ اس کے بعد کچھ حال مقربین کا بھی بیان کیا جاتا ہے۔ انہیں ابرار کے ضمن میں تاکہ معلوم ہوجاوے کہ جب مقربین کے روز کے پینے کی چیز کبھی کبھی ان ابرار کی شرکت میں مزید لطف و اکرام و اعزاز کے لیے لائی جاتی ہے اور یہ ابرار ان نعمتوں میں ہیں تو پھر مقربین کا تو ان سے مرتبہ بڑھ کر ہے۔ ان کے نعیم کا کیا کہنا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے ومزاجہ من تسنیم کہ اس رحیق کی آمیزش تسنیم سے ہوگی یعنی تسنیم اس میں ملائی جاوے گی۔ تسنیم کے لغوی معنی بلندی کے ہیں اور اونٹ کے کوہان کو اسی لیے سنام کہتے ہیں کہ وہ بلند ہوتا ہے۔ اس لغوی معنی کے لحاظ سے تسنیم کے باب میں مفسرین کے چند اقوال ہیں (1) یہ کہ وہ اونچے سے نیچے کو گرتا ہوا چشمہ ہے۔ ایسا چشمہ بہ نسبت اس کے کہ ہموار زمین میں بہتا ہو۔ نہایت صاف اور پر لطف ہوتا ہے۔ (2) یہ کہ وہ ہوا میں بہتا ہے۔ اس بلندی و ارتفاع سے اس کی لطافت کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ کیسی ہوگی۔ (3) یہ کہ وہ بلند قدر عالی مرتبہ چیز ہے اس لیے اس کو تسنیم کہتے ہیں اور اسی لیے عکرمہ کہتے ہیں تسنیم کے معنی تشریف کے ہیں یعنی عالی قدر ‘ بلند مرتبہ ابن عباس ؓ و حسن بصری فرماتے ہیں۔ اس کی حقیقت سے بجز پروردگار کے کوئی واقف نہیں وہ ایک نہایت عمدہ اور بےبہا چیز ہے جس کی نسبت حق سبحانہ کا اسی قدر بیان کافی ہے۔ عینا یشرب بہا المقربون کہ وہ ایک چشمہ ہے کہ جس سے مقربین پیا کرتے ہیں اور ابرار کو اس میں سے ملا کردیا کرتے ہیں۔ اس سے ابرار کی شان بھی معلوم ہوئی کہ پلائی تو ان کو رحیق جاتی ہے مگر اس میں اور لطف بڑھانے کے لیے تسنیم ملا دیتے ہیں اور مقربون کا بھی حال معلوم ہوا کہ وہ خاص اسی تسنیم کو پیا کرتے ہیں جو ایسی قدر و قیمت کی چیز ہے کہ جس میں سے کچھ ابرار کی شراب میں ملائی جاتی ہے۔
Ayahs 83:29–36

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

یقینا نافرمان (دنیا میں) ایمانداروں سے ہنسی کیا کرتے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس سے نکلتے تو آنکھیں مارتے تھے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر لوٹ کر جاتے تو ہنستے ہوئے جاتے تھے

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ایمانداروں کو دیکھتے تھے تو کہا کرتے تھے بیشک یہی گمراہ ہیں

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ یہ ان پر نگہبان بھی بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

پھر آج تو ایماندار کافروں سے ہنسی کر رہے ہیں

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہیں

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

اب تو کافروں نے اپنے کئے کا بدلہ پایا۔

ترکیب ¦ الذین مع صلۃ اسم ان۔ کانوا اسم کان ضمیر متصل یضحکون خبرھا من الذین امنوا متعلق بیضحکون ای یستہزون منھم فالجملۃ کانوا الخ خبران واذا مروا ای المسلمون بھم بالکفار وہم فی مجالسھم یتغامزون الکفار من الغمز وھو الاشارۃ بالجفون والحواجب واذا انقلبوا ای الکفار شرط انقلبوا جواب اذا فکہین حال منہ قرء عاصم فی روایۃ حفص عنہ فکھین بغیر الف فی ھذا الموضع وحدہ وقراء الباقون فاکھین بالالف فقیل معنا ھما واحد وقیل ان الف کہ الاشرالبطر والفاکھہ الناعم المتنعم واذا شرطیہ وا ای الکفار ھم المسلمین قالوا جواب الشرط وما ارسلوا الجملۃ حال من فاعل قالوا فالیوم منصوب بیضحکون و فاعلہ الذین آمنوا وتقدیم الفاعل للتتخصیص اولرعایۃ لفواصل علی الارائک ینظرون الجملۃ حال من یضحکون ای یضحکون منھم ناظرین الیھم والیٰ احوالھم ھل ثوب الجملۃ مستانفۃ وقیل فی محل نصب بینظرون وقیلھی علی اضمار القول ای یقول بعض المؤمنین بعض قرء حمزۃ والکسائی وابو عمرو بادغام لام ھل فی ثار ثوب والباقون بترک الادغام۔ تفسیر ¦ فرمایا تھا کہ آخرت کی نعمتوں کی رغبت کرنی چاہیے اور یہی رغبت کرنے کے قابل چیز بھی ہے۔ اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ جب کوئی دنیا پر رغبت کرتا ہے اور یہاں تک فریفتہ ہوتا ہے کہ دار آخرت پر رغبت کرنا تو کجا سرے سے اس کا انکار ہی کر بیٹھتا ہے اور اس پر بھی بس نہیں بلکہ جو دار آخرت پر یقین کرکے وہاں کے لیے تیاری کرتا ہے تو اپنے مشرب کے خلاف سمجھ کر اس سے نفرت کرتا ہے اور ایذا دینے پر کمر باندھ لیتا ہے اور اس کو برا بھلا بھی کہتا ہے۔ پھر ان برے افعال کا بدلہ پاتا ہے۔ خدائے عادل (جو میزان عدل ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے اور دنیا میں بھی ناپ تول پورا کرنے کا حکم دیتا ہے اور کمی کرنے والوں کی خرابی بیان فرماتا ہے) قیامت کے دن ان دنیا کے فریفتہ لوگوں کو اسی ترازو سے تول کر اور اس پیمانہ سے ماپ کر دے گا جس سے انہوں نے خدا پرستوں کو تول کر اور ماپ کردیا تھا یعنی ایماندار آخرت پر رغبت کرنے والے اس روز اس اپنی کامیابی پر خوش ہوں گے ٗ ان احمقوں پر ہنسیں گے۔ ان مطالب کی ان آیات میں تصویر کھینچی جاتی ہے تاکہ دنیا سے نفرت اور دار آخرت سے رغبت ہو۔ فقال ان الذین الخ کہ وہ لوگ جنہوں نے جرم کیا ہے (دارِ آخرت سے بیخبر ی اور نفرت دنیا کی رغبت تمام گناہوں کی جڑ ہے) اسی لیے حدیث میں آیا ہے حب الدنیا راس کل خطیئۃ اور اس جرم میں یہاں تک دلیر ہوئے ہیں کہ جو خدا کے مجرم نہیں بلکہ مطیع ہیں ان پر ٹھٹھے کیا کرتے ہیں۔ یہ ان کا ایک فعلِ بد ہے یا تھا۔ اول تو کسی پر ہنسنا یوں بھی برا ہے۔ اس کی دل شکنی کا باعث ہے اور یہ اخلاق اور مروت انسانی سے بعید ہے۔ اس کے سوا یہ بھی ہے کہ جو کوئی کسی پر ہنستا ہے تو ضرور اپنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو کمتر سمجھتا ہے۔ یہ بھی سخت عیب ہے۔ سوم جو کوئی کسی پر ہنستا ہے تو اپنے آپ کو اس حالت سے کہ جس پر ہنس رہا ہو محفوظ سمجھتا ہے اور یہ نہیں خیال کرتا ہے کہ مجھ سے بھی کوئی بالادست ہے۔ ممکن ہے کہ مجھے اس سے بھی بدتر کر دے اور اس کو مجھ سے بہتر بنا دے۔ ایسا کور باطن حوادث دہر اور قدرت کے انقلابات سے غافل ہے اور یہ باطن کی کو ری ہے اور خدا تعالیٰ کو غصہ میں لانے والی بات ہے۔ اس لیے نبی (علیہ السلام) نے فرمایا ہے جو کوئی کسی پر طعن کرے گا خود اسی میں مبتلا ہوگا اور بزرگوں نے فرمایا ہے جو کسی پر ہنسے گا ہنسا جائے گا۔ دوسرا فعلِ بد : ان کا یہ تھا کہ اذا مروابہم یتغامزون کہ جب وہ دیندار ان کے پاس سے گزرتے تو تحقیر کے لیے آنکھوں کے اشارے کرتے۔ یہ بھی ایک بڑی کمینہ خصلت ہے اور اکثر نالائق طعن و طنز کی راہ سے دوسروں کی طرف آنکھیں بھنویں مارا کرتے ہیں۔ منہ بنا کے اشارے کیا کرتے ہیں۔ سو وہ دنیا پرست ان خدا پرستوں کے ساتھ یہ بھی کیا کرتے تھے اور ان کی غرض ان دونوں فعلوں سے ان کی تحقیر ہوتی تھی جو ان کے ظاہر حال شکستہ پر اپنی ثروت و دولت و اقبال کے زور میں ہنستے ‘ آنکھیں مارتے تھے کہ لو یہ ہیں جنت کے وارث ٗ حوروں کے شوہر۔ جب ان کی دنیا میں یہ حالت ہے تو وہاں کیا نہ ہوگی اور ہم پر فضل ہے ایسے عزت والے ہیں ہم کو کیا وہاں ان سے بڑھ کر رتبہ نہ ملے گا اور اگر وہاں کچھ ہے ورنہ خالی ڈر کیّ ہیں حالانکہ یہ نہیں جانتے کہ اس عالم کا معاملہ یہاں تک برعکس ہے۔ ؎ بسا امیر کہ آنجا اسیر خواہدشد بسا پیادہ کہ آنجا سوار خواہدشد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الا اخبر کم باہل الجنۃ کل ضعیف متضعف لواقسم علی اللہ لابرہ الا اخبر کم باھل النار کل عتل جو اظ مستکبر متفق علیہ کہ میں تمہیں اہل جنت بتلا دوں۔ ہر ایک ضعیف بےکس اگر خدا پر کوئی قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو پورا ہی کر دے اور دوزخی بتلائوں ہر ایک سخت کٹر متکبر آخرت کے مستحق وہی ہیں جو دنیا میں مسکین کمزور عاجزمتواضع خدا پرست ہیں کہ ساکنان در دوست خاکسا رانند تیسرا فعلِ بد : ان کا یہ تھا واذا انقلبوا الی اہلہم انقلبوا افکہین کہ باہر تو یہ کچھ کرتے ہی تھے مگر جب اپنے گھروں میں جایا کرتے تھے وہاں بھی ہنستے ایمانداروں پر دل لگیاں کیا کرتے یا یہ معنی کہ ان کو آخرت کا اندیشہ اور آنے والے مصائب کا کچھ خیال نہیں آتا تھا۔ گھروں میں رات دن اٹھکیلیاں ہی کرتے تھے۔ یہ بھی دنیا پرست کی شان ہے جس کو کبھی مرنے کا خیال نہیں آتا۔ باخدا لوگ ہمیشہ مغموم رہا کرتے ہیں۔ ان کے دلوں پر ایک اندیشہ رہتا ہے۔ بات بات پر ہنسی کیسی اہا ہا اہو اہو کیسی رنگ رلیاں کہاں کی۔ یہ مجلسیں کرنا رات دن ناچ رنگ ‘ عیش و نشاط کے سامان بہم پہنچانا ‘ اس جہاں سے غافلوں کا ہی کام ہے اور اس کا نتیجہ حزن دائمی اور مصائب کا نازل ہونا ہے۔ جن گھروں پر یہ سامان تھے ہم نے وہاں خاک اڑتی دیکھی ہے۔ دردمندان محبت الٰہی کو اس کی فرصت کہاں ؎ کمر باندھے ہوئے چلنے پہ یاں سب یار بیٹھے ہیں بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں نہ چھیڑ ہمیں اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں چوتھا فعل بد : ان کا یہ تھا کہ اذا اراؤھم قالو ان ھؤلاء لضالون کہ جب ان دینداروں کو دیکھتے تو کہتے یہی گمراہ ہیں دنیا کے مزے چھوڑ کر کس مصیبت میں پڑے ہیں۔ یہ سب حشر کی گفتگو ہے کہ حق سبحانہ وہاں یوں فرمائے گا کہ دنیا میں یہ ایسا ایسا کرتے تھے۔ پھر ان کی بیہودہ بات کا آپ ہی جواب دیتا ہے وما ارسلوا علیہم حافظین کہ یہ کفاران دینداروں کے داروغہ یا فوجدار بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ان کو ان کی کیا پڑی جو ایسا کرتے ہیں اب جو قیامت میں ان کو ان افعال کی جزا ملے گی اس کو بیان فرماتا ہے فالیوم الخ کہ آج کے دن ایماندار ان کفار پر تختوں پر بیٹھے نظارہ کرتے ہوئے ہنسیں گے۔ یا یوں کہو کفار سے ہنسیں گے کہ وہ تمہارے جاہ و جلال کیا ہوئے۔ اب یہ تم سے کیا ہو رہا ہے اور تختوں پر بیٹھے بادشاہ بنے نظارہ کریں گے اور فرشتے پکار دیں گے کہ اب تو کفار نے اپنے کئے کا بدلہ پایا اوروں پر ہنستے تھے آج ان پر ہنسا جا رہا ہے کس لطف کے ساتھ دار آخرت کی جزاء و سزا کا نقشہ کھینچا ہے اور کس انداز سے انسان کو بری باتوں سے روکا ہے۔ ولہ الحمد۔