Ayah 83:1ویل للمطففین۔۔۔ تا۔۔ یخسرون۔
اس میں چار مسائل ہیں۔
آیت کا شان نزول۔
مسئلہ نمبر 1۔ امام نسائی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے جب نبی کریم مدینہ طیبہ آئے تو وہ بہت ہی براکیل کرنے والے لوگ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا، تو انہوں نے اپنے کیل کو اچھا کرلیا۔ فراء نے کہا، وہ آج تک سب سے اچھا کیل کرنے والے تھے، حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے کہا وہ پہلی سورت ہے جو رسول اللہ ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ مدینہ طیبہ پہنچے۔ یہ انہیں کے بارے میں حکم ہے جب وہ خریدتے تو راجح کیل کے ساتھ لیتے جب وہ بیچتے توکیل اور وزن میں کمی کرتے جب یہ سورت نازل ہوئی تو وہ رک گئے، وہ آج تک تمام لوگوں سے اچھے کیل کرنے والے ہیں، کچھ لوگوں نے کہا، یہ ایک آدمی کے بارے میں آیات نازل ہوئیں جو ابوجہینہ کے نام سے معروف تھا، اس کا نام عمرو تھا اس کے دو صاع تھے وہ ایک صاع سے لیتا اور دوسرے صاع سے دیتا یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے۔
ویل سے کیا مراد ہے۔ ؟
مسئلہ نمبر 2۔ ویل یعنی آخرت میں سخت عذاب ہوگا، حضرت ابن عباس نے فرمایا یہ جہنم میں ایک وادی ہے جس میں جہنمیوں کی پیپ بہے گی یعنی وہ لوگ جو اپنے کیل اور وزن میں کمی کرتے ہیں ان کے لیے یہ عذاب ہے حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ مطفف سے مراد وہ شخص ہے جو ایسا آدمی اجرت پر لاتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ کیل میں ظلم کرے گا تو اس مزدور کا گناہ بھی اس پر ہوگا۔ دوسرے علماء نے کہا، تطفیف، کیل، وزن، وضو، نماز اور حدیث میں ہوتی ہے۔ موطا میں امام مالک نے ارشاد فرمایا، ہر شی میں وفا اور تطفیف ہے سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ نماز کا بھی معیار ہے جو اس کے حقوق پورے کرے، وہ اس کے حق میں ہے اور جس نے کمی کی تو تم جان لوجو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا، ویل للمطففین۔
مطفف کی تشریح۔
مسئلہ نمبر 3۔ اہل لغت نے کہا، مطفف، طفیف سے ماخوذ ہے جس کا معنی قلیل ہے، مطفف اسے کہتے ہیں جو حق دار کے حق میں کیل اور وزن کے ذریعے کمی کرے، زجاج نے کہا، یہ کام کرنے والے کو مطفف کہتے ہیں، کیونکہ وہ اس پیمانہ اور ترازو کے ساتھ تھوڑی سی چیز ہی چوری کرتا ہے، یہ طف الشی سے ماخوذ ہے جو اس شی کی جانب ہوتی ہے یہ لفظ بولا جاتا ہے، طفاف المکوک، طفاف المکوک، جو اس کے کناروں کو بھر دے اس طرح لفظ بولا جاتا ہے، طف المکوک وطففہ، حدیث میں ہے، کلکم بنوآدم طف الصاع تملوہ۔ معنی یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کے قریب ہو تمہیں ایک دوسرے پر تقوی کے بغیر کوئی فضیلت نہیں، طفاف اور طفاہ سے مراد ہے جو پیمانہ سے بڑھ کر ہو، اناء طفاف جب اس کا بھرنا کنارے تک پہنچ جائے تو اس سے یہ فعل ماخوذ کرتا ہے، اطففت، تطفیف، سے مراد ہے پیمانہ میں کمی کرنا وہ یہ کہ کناروں تک نہ بھراجائے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، ادھقت الک اس الی اصبارھا، یعنی میں نے کنارے تک پیالے کو بھر دیا، حضرت ابن عمر کا قول جب انہوں نے نبی کریم کے سامنے گھڑدوڑ کا ذکر کیا، میں اس روز شاہسوار تھا میں لوگوں پر سبقت لے گیا یہاں تک طفف بی الفرس مسجد بنی زریق میرا گھوڑا مسجد بنی زریق کے برابر ہوا چاہتا تھا۔
مطفف کی اصل حقیقت کیا ہے ؟
مسئلہ نمبر 4۔ مطفف اسے کہتے ہیں جو کیل اور وزن میں کمی کرتا ہے جس طرح ہم نے بیان کیا ہے وہ پورا پورا حق نہیں دیتا، ابن قاسم نے ابن مالک سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ویل للمطففین کی قرات کی فرمایا، نہ ناپ تول میں کمی کرونہ ہی ملاوٹ کرو بلکہ پلڑے کو چھوڑ دو اور اس پر کوئی چیز بہاؤ یہاں تک کہ جب وہ پورا ہوجائے تو اپنے ہاتھ کو کھلاچھوڑ دو ۔ اور اسے نہ روکو۔ عبدالملک بن ماجشون نے کہا، رسول اللہ نے کناروں پر ہاتھ مارنے سے منع کیا اور فرمایا، برکت تو اس کی چوٹی میں ہے کہا مجھے خبر پہنچی کہ فرعون کا پیمانہ لوہے کا تھا۔
Ayah 83:2الذین اذاکتالوا علی الناس یستوفون۔ فراء نے کہا، یہاں علی من کے معنی میں ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، اکتلت منک، یعنی میں نے تجھ سے پورا حق لے لیا یہ جملہ بولا جاتا ہے اکتلت ماعلیک، جو حق تجھ پر لازم تھا میں نے وہ پورا پورا لے لیا ہے، زجاج نے کہا، جب وہ لوگوں سے کیل کرتے ہیں تو ان کے خلاف کیل پورالیتے ہیں، معنی یہ ہوگا جب حق لیتے ہیں توزیادتی سے لیتے ہیں، جب دوسروں کو دیں یا ان کے لیے وزن کریں، تو اس میں کمی کرتے ہیں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہ لوگوں کے لیے پسند نہیں کرتے، طبری نے کہا، یہاں علی، عند کے معنی میں ہے۔
Ayah 83:3واذاکالوھم او وزنوھم یخسرون۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
کیل اور وزن سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ یعنی جب دوسروں کے لیے کیل اور وزن کرتے ہیں تویہاں سے لام حذف کردیا گیا ہے فعل براہ راست مفعول کی متعدی ہے اور اس نے اسے نصب دی ہے اس کی مثل نصحتک اور نصحت لک ہے، امرتک بہ اور امرت کہ، یہ اخفش اور فراء نے بات کہی، فراء نے کہا میں نے ایک بدوی عورت کو یہ کہتے ہوئے سنا جب لوگ واپس لوٹ جائیں گے تو ہم تاجر کے پاس آئیں گے جو آنے والے موسم حج تک ایک مد، دو مد کیل کرکے دے دے گا۔ یہ اہل حجاز اور ان کے محاور بنوقیس کی لغت ہے۔ زجاج نے کہا : کالو اور وزنوا پر وقف کرنا جائز نہیں، یہاں تک کہ اس کے ساتھ ھم ضمیر ملی ہو، کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس ضمیر کو تاکید بناتے ہیں اور کالو اور وزنوا پر وقف کرتے ہیں، پہلا نقطہ نظر پسندیدہ ہے کیونکہ فعل اور ضمیر مل کر ایک حرف ہے۔ یہ کسائی کا قول ہے، ابوعبید نے کہا، عیسیٰ بن عمر نے انہیں دو حرف قرار دیا اور کالواوزنوپروقف کرنا اور ھم یخسرون سے نئی کلام شروع کرنا۔ میرا خیال ہے حمزہ کی قرات بھی اسی طرح ہے ابوعبید نے کہا، پسندیدہ بات یہ ہے کہ دونوں ایک کلمہ ہوں اس کی دو وجہیں ہیں۔ خط، اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء نے اسے الف کے بغیر لکھا ہے اگر یہ دونوں الگ الگ کلمے ہوتے تو کالو اور وزنوا الف کے ساتھ لکھے جاتے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے، کلتک، وزنتک، یہ کلت لک، اور وزنت لک کے معنی میں ہے یہ عربی کلام ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، صدتک وصدت لک میں نے تیرے لیے شکار کیا، کسبتک کسبت لک میں نے تیرے لیے کسب کیا، اسی طرح شکرتک اور نصتحک ہے اسی طرح کی دوسری مثالیں ہیں۔ یخسرون کا معنی ہے وہ کمی کرتے ہیں عرب کہتے ہیں، اخسرت المیزان، خسرتہ، میں نے اس میں کمی۔ عام قرات کے مطابق ھم ضمیر منصوب ہے اور الناس کی طرف لوٹ رہی ہیں تقدیر کلام یہ ہوگی، واذاکالوالناس او وزنوھم یخسرون اس میں دو وجہیں ہیں، یہ ارادہ کیا جائے کالوھم او وزنواھم حرف جار کو حذف کیا گیا اور فعل کو مفول کے ساتھ ملادیا جس طرح کہا، ولقد جنیتک اکمووعساقلا، اس سے مراد جنیت لک ہے۔ مضاف کو حذف مانا جائے اور مضاف الیہ کو مضاف کے قائم مقام رکھا جائے مضاف، مکیل اور موزون ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے اے عجمیو، تم دو امور کے ذمہ دار ہوں ان دونوں کی وجہ سے وہ لوگ ہلاک ہوئے جو تم سے پہلے تھے کیل اور وزن۔ عجمیوں کو خاص کیا کیونکہ یہ کیل اور وزن دونوں کو جمع کرتے ہیں دونوں حرموں میں یہ الگ الگ ہیں اہل مکہ وزن کیا کرتے تھے اور اہل مدینہ کیل کیا کرتے تھے، دوسری قرات میں ھم ضمیر مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے جب وہ لوگوں کے لیے کیل اور وزن کرتے ہیں وہ کمی کرتے ہیں۔ یہ تعبیر صحیح نہیں کیونکہ پہلی ضمیر تولغو ہوجاتی ہے یہ تعبیر اس وقت درست ہوگی اگر اس کے بعد یہ کلام ہوتی واذاکالوھم نقصون او وزنوھم یخسرون۔
کیل ووزن میں کمی کی سزا۔
مسئلہ نمبر 2۔ حضرت ابن عباس نے نبی کریم سے روایت نقل کی ہے، پانچ سزائیں، پانچ اعمال کے بدلے میں ہیں کوئی قوم بدعہدی کا ارتکاب نہیں کرتی مگر الہ تعالیٰ ان پر دشمنوں کو مسلط کردیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر فیصلہ نہیں کرتے مگر ان میں فقر عام ہوجاتا ہے ان میں بےحیائی عام نہیں ہوتی مگر ان میں طاعون پھیل جاتا ہے وہ کیل میں کمی نہیں کرتے مگر ان سے نباتات کو روک لیا جاتا ہے اور قحط سالی سے انہیں پکڑا جاتا ہے وہ زکوۃ کو نہیں روکتے مگر اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک لیتا ہے اے ابوبکر بزار اور حضرت مالک بن انس نے حضرت عمر سے نقل کیا ہے کہ ہم نے اس کا ذکر کتاب التذکرہ میں کیا ہے مالک بن دینا نے کہا، میں اپنے پڑوسی کے پاس گیا جس کی موت کا وقت قریب تھا وہ کہنے لگا آگ کے دوپہاڑ، آگ کے دوپہاڑ۔ میں نے کہا، تو کیا کہتا ہے ؟ کیا توہذیان کہتا ہے ؟ اس نے کہا، اے ابویحییٰ میرے پاس دوپیمانے تھے میں ایک کے ساتھ دیتا اور اور دوسرے کے ساتھ لیتا تھا میں اٹھا یہاں تک کہ میں ایک کو دوسرے کے ساتھ مارنے لگا یہاں تک کہ میں نے دونوں کو توڑ دیا اس نے کہا، اے ابویحییٰ جب تو نے ایک کو دوسرے سے مارا تو وہ اور بڑھتا گیا وہ اسی تکلیف کی وجہ سے مرگیا۔ عکرمہ نے کہا : میں کیل اور وزن کرنے والے کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جہنم میں ہوگا، اصمعی نے کہا، میں نے ایک بدو عورت سے سنا وہ کہہ رہی تھی تو اس سے مروت کو تلاش کر جس کی مروت مکیال کے سروں میں ہو اور اس سے مروت کو تلاش نہ کر جس کی مروت ترازو کی زبان میں ہو، یہی حضرت علی سے مروی ہے عبدخیر نے کہا، حضرت علی ایک آدمی کے پاس سے گزرے جبکہ وہ زعفران کا وزن کررہا تھا اور ان کو تول رہا تھا تو حضرت علی نے اس کے ترازو کو الٹ دیا پھر فرمایا، انصاف سے وزن کرو پھر اس کے بعد جو چاہوزائد دے دو ۔ گویا پہلے اسے برابر کا حکم دیا تاکہ اس کا عادی ہوجائے اور واجب کو نفل سے الگ کرے، نافع نے کہا، حضرت ابن عمر تاجر کے پاس سے گزرتے اور فرماتے اللہ سے ڈرو اور ناپ تول پورا کرو بیشک ناپ تول میں کمی کرنے والے کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ پسینہ ان کے کانوں کے نصف تک پہنچ رہا ہوگا یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت ابوہریرہ مدینہ طیبہ آئے جبکہ نبی کریم خیبر جاچکے تھے آپ نے سباع بن عرفہ کو مدینہ طیبہ پر نائب بنایا ہوا تھا حضرت ابوہریرہ نے کہا، ہم نے ان کو صبح کی نماز میں پایا انہوں نے پہلی رکعت میں کھیعص اور دوسری رکعت میں ویل للمطففین۔ کو پڑھا حضرت ابوہریرہ نے فرمایا میں اپنی نماز میں کہتا ہوں ابوفلاں کے لیے ہلاکت ہو اس کے دوپیمانے تھے جب کسی سے کوئی چیز لیتا تو پوری لیتا اور جب کسی کو کیل کرکے دیتا تو ناقص کے ساتھ دیتا۔
Ayah 83:4الایظن او لئک۔۔۔ تا۔۔ العالمین۔
الایظن او لئک انھم مبعوثون۔ وہ ناپ تول میں کمی کرنے پر جس جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں ان پر تعجب اور انکار کا ذکر ہے گویا وہ سوچتے تک نہیں اور نہ ہی گمان کرتے ہیں کہ کچھ وہ کررہے ہیں اس کے بارے میں ان سے پوچھاجائے گا یہاں ظن یقینی معنی کے میں ہے یعنی کیا انہیں یقین نہیں اگر انہیں دوبارہ اٹھنے کا یقین ہوتا تو وہ کیل اور وزن میں کمی نہ کرتے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں ظن تردد کے معنی میں ہے یعنی اگر وہ یقین نہیں رکھتے تو انہوں نے گمان کیوں نہ کیا یہاں تک کہ وہ تدبر کرتے اور زیادہ محتاط چیز کو اپناتے۔
Ayah 83:5لیوم عظیم۔ اس کی شان عظیم ہے اس سے مراد قیامت ہے۔
Ayah 83:6یوم یقوم الناس لرب العالمین۔
اس کے بارے میں چار مسائل ہیں۔
یوم کی اعرابی حیثیت۔
مسئلہ نمبر 1۔ یوم میں عامل فعل مضمر ہے جس پر مبعوثون فعل دلالت کرتا ہے معنی ہے انہیں اٹھایاجائے گا جس روز لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے یہ بھی جائز ہے کہ یوم، لیوم عظیم سے بدل ہو یہ مبنی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ محل جر میں ہے کیونکہ اسے غیر منصرف کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ظرف کی حیثیت سے منصوب ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے، اقم الی یوم یخرج فلاں ی، یہ یوم کو نصب دے گا اگر اسم کی طرف مضاف کریں تو اسی وقت اسے جردیتے ہیں وہ کہتے ہیں، اقسم الی یوم خروج فلان۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کلام میں تقدیم وتاخیر ہے، تقدیر کلام یہ ہے، انھم مبعوثون یوم یقوم الناس لرب العالمین لیوم عظیم۔
ناپ وتول میں کمی گناہ کبیرہ ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ عبدالملک بن مروان کے بارے میں مروی ہے کہ ایک بدو نے اسے کہا، مطففن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے تو نے اس کے بارے میں سن لیا ہے اس نے یہ ارادہ کیا تھا کہ مطففین کے بارے میں یہ سخت وعید متوجہ ہوئی جس کے بارے میں تو نے سن لیا ہے تیرا اپنے بارے میں کیا خیال ہے جبکہ تو مسلمانوں کے اموال بغیر کیل اور وزن کے لے لیتا ہے ؟ اس انکار، تعجب، کلمہ ظن، یوم کی عظیم صٖت ذکر کرنا یہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے اس دن عاجزی کے ساتھ کھڑے ہونا اور اللہ تعالیٰ کی صفت رب العالمین ذکر کرنے میں اس گناہ کی عظمت کے بیان میں بلیغ بیان ہے اور ناپ تول میں کمی کرنے کے بڑے گناہ ہونے کا بیان ہے اس طرح جس میں اس قسم کا ظلم ہو، انصاف کو ترک کیا جائے، عدل و انصاف نہ کیا جائے خواہ یہ صورت لینے میں ہو یا دینے میں بلکہ ہر قول وعمل کی یہی صورت ہوگی۔
ناپ وتول میں کمی کرنے والی کی سزا۔
مسئلہ نمبر 3۔ حضرت ابن عمر نے ان تین آیات کو پڑھا تورونے لگے یہاں تک گرپڑے اور مابعد کی قرات کرنے سے رک گئے پھر کہا، میں نے نبی کریم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس روز لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کا پسینہ ان کے گھٹنوں تک پہنچے گا ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جن کے کو لہوں تک پسینہ پہنچے گا ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جن کے سینہ تک پسینہ پہنچے گا ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جن کے کانوں تک پسینہ پہنچے گا یہاں تک کہ ان میں سے ایک اس میں یوں غائب ہوجائے گا جس طرح مینڈک پانی میں غائب ہوتا ہے کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے وہ تین سو سال تک اس میں کھڑے رہیں گے، کہا مومنوں کے لیے ایک فرض نماز کے برابر آسان ہوجائے گا، حضرت عبداللہ بن عمر نے نبی کریم سے روایت نقل کی ہے لوگ اس روز رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے یہاں تک ان میں سے کوئی پسینہ میں کھڑا ہوگا جو اس کے کانوں کے نصف تک پہنچے گا، ان سے ایک روایت یہ مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا وہ سو سال تک کھڑا رہے گا، حضرت ابوہریرہ نے کہا کہ نبی کریم نے حضرت بشیر غفاری سے فرمایا، تو اس دن کیا کرے گا جس میں لوگ رب العالمین کے لیے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ ان کے پاس کوئی خبرآئے گی اور نہ ہی کوئی حکم دیا جائے گا، حضرت بشیر نے عرض کی اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جس سے مدد طلب کی جائے۔
میں کہتا ہوں : ہم نے حضرت ابوسعید خدری کو ایک مرفوع حدیث ذکر کی ہے جو انہوں نے نبی کریم سے نقل کی کہ مومن کے معاملہ میں تخفیف کی جائے گی یہاں تک کہ وہ وقت اس فرض نماز سے بھی خفیف ہوگا جو وہ دنیا میں نماز پڑھتا تھا، یہ حدیث سأل سائل میں گزرچکی ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ مومنوں کے اوپر ان کی فرض نماز سے بھی آسان ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مقام مومن پر سورج کے ڈھلنے جیسا ہوگا، اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، الا ان اولیاء اللہ لاخوف علیھم ولاھم یحزنون۔ یونس) خبردار بیشک اللہ تعالیٰ کے دوستوں پر کوئی خوف نہیں اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے پھر ان کی صفت اس طرح بیان کی الذین آمنوا وکانویتقون۔ جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم اور سخاوت سے اہمیں ان میں شامل کردے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے، الناس سے مراد حضرت جبرائیل امین ہیں جو رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے یہ ابن جبیر کا قول ہے، یہ قول حقیقت سے بہت ہی دور ہے کیونکہ ہم نے اس بارے میں روایات ذکر کی ہیں جو صحیح ہیں تیرے لیے وہ احادیث کافی ہیں جو صحیح مسلم، صحیح بخاری اور ترمذی میں حضرت ابن عمر سے مروی ہیں کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے انمیں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جس کا پسینہ اس کے نصف کانوں تک پہنچے گا، پھر کہا گیا یہ قیام وہ ہے جس روز لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ آخرت میں کھڑے ہوں گے بندوں کے ان حقوق کو ادا کرنے کے لیے جو دنیا میں ان کے ذمہ لازم تھے۔ یزید رشک نے کہا، وہ فیصلہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے۔
لوگوں کے کھڑا ہونے کی شرعی حیثیت۔
مسئلہ نمبر 4۔ رب العالمین کے لیے قیام تو اس کی عظمت اور حق کے مقابلہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتا جہاں تک لوگوں کا ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے کا تعلق ہے تو اس میں علماء کا اختلاف ہے کچھ نے تو اس کو جائز قرار دیا ہے اور کچھ نے اس سے منع کیا ہے یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم حضرت جعفر بن ابی طالب کے لیے اٹھے تھے اور ان سے معانقہ کیا تھا، حضرت طلحہ، حضرت کعب بن مالک کے لیے اس روز اٹھے تھے جس روز ان کی توبہ قبول ہوئی تھی اور نبی کریم نے انصار سے فرمایا تھا جب حضرت سعد بن معاذ انصار کے سامنے آئے تھے اپنے سردار کے لیے اٹھو، حضور نے یہ بھی ارشاد فرمایا، جسے یہ بات خوش کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے، یہ آدمی کی حالت اور نیت کی طرف لوٹتا ہے اگر وہ انتظار کرے اور اپنے لیے قیام کا اعتقاد رکھے تو یہ ممنوع ہے اگر یہ خوشی کے اظہار اور صلہ رحمی کے لیے ہے تو یہ جائز ہے اور اسباب کے ساتھ خاص ہے جس طرح سفر سے آنا۔ سورة یوسف میں کے آخر میں اس کی کچھ بحث گزرچکی ہے۔
Ayah 83:7کلا ان کتب الفجار۔۔۔ تا۔۔ اساطیرالاولین۔
کلاان کتب الفجار لفی سجین۔ لغت عرب کے علماء کی ایک جماعت نے کہا، کلا جھڑکنا اور تنبیہ کے معنی میں ہے اس طرز عمل پر جو وہ کیل اور وزن میں جو وہ طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں اور آخرت کی تکذیب کرتے ہیں یہ کوئی قابل قدر بات نہیں انہیں یہ عمل چھوڑ دینا چاہیے کلا یہ ردع اور زجر کا کلمہ ہے پھر نئی کلام شروع کی فرمایا، ان کتب الفجار۔ حضرت حسن بصری نے کہا، کلا کا معنی ہے حق۔ کچھ لوگوں نے حضرت ابنع باس سے روایت نقل کی ہے کہ کلا کا معنی ہے کیا تم تصدیق نہیں کرتے اس صورت میں لرب العالمین پر وقف ہوگا، مقاتل کی تفسیر میں ہے ان اعمال الفجار۔ کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہیی کہ فجار کی روحیں اور اعمال سجین میں ہیں۔
ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ سجین ساتویں زمین کے نیچے ایک چٹان ہے اسے الٹا جاتا ہے اور تاجروں کی کتاب اس کے نیچے رکھی جاتی ہے اس کی مثل حضرت ابن عباس، قتادہ اور سعید بن جبیر، مقاتل اور کعب سے مروی ہے کہ کعب نے کہا، اس کے نیچے کفار کی روحیں ہیں جو ابلیس کے رخسار کے نیچے ہیں۔ کعب سے یہ بھی مروی ہے کہ سجین سیاہ چٹان ہے جو ساتویں آسمان کے نیچے ہے اس میں ہر شیطان کا نام لکھا ہوا ہے تو کفار کے نفوس وہاں پائے گا سعید بن جبیر نے کہا، سجین ابلیس کے رخسار کے نیچے ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا، یہ زمین کے نیچے سیاہ پتھر ہے جس میں کفار کی روحوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔ عطاخراسانی نے کہا، یہ سب سے نچلی ساتویں زمین ہے اس میں ابلیس اور اس کی ذریت ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ کافر کے پاس موت حاضر ہوتی ہے اور اللہ کے فرشتے بھی حاضر ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اس کافر سے بغض سے اور ان کے اس کافر کے بغض کی وجہ سے یہ طاقت نہیں رکھتے کہ وہ اس کی موت کو موخر کریں یا اس کی موت کو جلدی لائیں یہاں تک کہ اس کی گھڑی آجائے جب اس کی گھڑی آجاتی ہے تو اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں اور اسے عذاب کے فرشتوں کی طرف بلند کرتے ہیں وہ فرشتے اسے وہ کچھ دکھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ فرشتے اسے بری جزا دکھائی پھر اسے ساتویں زمین کی طرف نیچے لے جاتے ہیں یہی سجین ہے یہی ابلیس کی ہلاکت کی انتہا ہے وہ اس میں اس کی کتاب کو ثبت کردیتے ہیں۔
کعب الاحبار سے اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت مروی ہے کہ جب فاجر کی روح قبض کی جاتی ہے اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے آسمان اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں پھر اسے زمین کی طرف اتارا جاتا ہے تو زمین اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے تو اسے ساتویں زمین میں داخل کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے سجین تک پہنچادیا جاتا ہے یہی ابلیس کارخسار ہے اس کے لیے سجین سے شیطان کے رخسار کے نیچے سے ایک کاغذ نکالا جاتا ہے اس پر کوئی چیز لکھی جاتی ہے اور ابلیس کے رخسار کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے حضرت حسن بصری نے کہا، سجین ساتویں زمین میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ضرب المثل ہے اور اس بات کی طرف اشار ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو رد کردیتا ہے جن کے بارے میں ان کا یہ گمان تھا کہ وہ انہیں نفع دیں گے مجاہد نے کہا، معنی یہ ہے کہ ان کا عمل جو ساتویں زمین کے نیچے ہے اس میں کوئی چیز اوپر نہ آئے گی کہا، سجین ساتویں زمین میں ایک چٹان ہے حضرت ابوہریرہ نے نبی کریم سے روایت نقل کی ہے کہ سجین جہنم میں ایک گڑھا ہے ہے جو کھلاہوا ہے سورة فلق میں فرمایا یہ ایک ایساگڑھا ہے جو اوپر سے ڈھانپ دیا گیا ہے حضرت انس نے فرمایا یہ سب سے نچلی زمین میں ایک گڑھا ہے، حضرت انس نے فرمایا کہ نبی کریم نے فرمایا سجین ساتویں زمین کا نچلا حصہ ہے عکرمہ نے کہا، سجین نقصان اور گمراہی ہے جس طرح جس کی قدرومنزلت ختم ہوجائے، تو کہتے ہیں قدزلق بالحفیض، ابوعبیدہ اور اخفش، اور زجاج نے کہا، لفی سجین کا معنی ہے قید میں اور سخت تنگی میں یہ فعیل کا وزن ہے اور سجن سے مشتق ہے جس طرح فسیق اور شریب کہتے ہیں۔
معنی یہ ہوگا ان کی کتاب قید میں ہے، اسے ان کی منزل کی خساست پر دلیل بنایا گیا ہے یاس کے لیے اسے اعراض اور دور کرنے کا محل سے زجر اور ذلت کے محل پر جا اترتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اصل میں سجیل تھا اس کالام نون سے بدل دیا گیا ہے یہ گفتگو پہلے گزرچکی ہے، زید بن اسلم نے کہا، سجین ساتویں زمین میں ہے اور سجیل ساتویں آسمان میں ہے۔ قشیری نے کہا، سجین یہ سافلین میں ایک جگہ ہے جہاں ان لوگوں کی کتاب کو دفن کیا جائیگا جس طرح مسجون ہوتا ہے، یہ ان کے اعملا کی جنائت پر دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حقارت پر دلیل بنائی ہے اس وجہ سے کتاب الابرار میں فرمایا، یشھدہ المقربون۔ وما ادراک سجین، کتب مرقوم۔ اے محمد یہ وہ چیز نہیں جسے تو اور تیری امت جانتے ہیں پھر اس کی تفسیر بیان کی یہ لکھی ہوئی ہے جس طرح کپڑے میں کوئی چیز رقم ہوا سے نہ بھلایا جاتا ہے اور نہ ہی مٹایا جاتا ہے قتادہ نے کہا، مرقوم کا معنی مکتوب ہے اس کے لیے انسان لکھ دیے گئے ہیں نہ ان میں کوئی اضافہ ہوگا اور نہ ان میں سے کوئی کم کیا جائے گا ضحاک نے کہا، مرقوم کا معنی ہے جس پر مہر لگی ہوگی، یہ حمیر کی لغت میں ہے، رقم کا اصل معنی کتابت ہے، شاعر نے کہا، سارقم فی الماء القراح الیکم، علی بعدکم ان کان للماء راقم۔ میں خالص پانی میں تمہاری طرف دوری کے ہوتے ہوئے لکھوں گا اگر پانی پر کوئی لکھنے والا ہوتا۔
Ayahs 83:8–9وما ادراک ماسجین۔ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس امر پر دلالت کرے کہ سجین عربی زبان کا لفظ نہیں جس طرح القارعہ، مالقاریہ، وما ادراک ما القارعہ میں کوئی ایسی دلیل نہیں کہ یہ عربی زبان کا لفظ نہیں بلکہ یہ سجین کیے امر کی تعظیم ہے کتاب کے مقدمہ میں یہ بات گزرچکی ہے، الحمدللہ قرآن حکیم میں کوئی غیر عربی نہیں۔
Ayahs 83:10–12ویل یومئذللمکذبین۔ الذین یکذبون بیوم الدین، ومایکذب بہ الا کل معتد اثیم۔ یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے سختی اور عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے امر کو بیان فرمایا، جو حساب، جز اور لوگوں کے درمیان فیصلہ والے دن کو جھٹلاتے ہیں اس کی وہی تکذیب کرتا ہے جو فاجر ہے، حق سے انحراف کرنے والا ہے، مخلوقات کے ساتھ معاملات کرنے میں مخلوق پر ظلم کرنے والا ہے اور اپنی ذات پر بھی ظلم کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کا امر ترک کرنے میں وہ گناہ گار ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ، ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
Ayah 83:13اذاتتلی علیہ ایتنا قال اساطیرالاولین۔ عام قرات تتلی ہے ابوحیوۃ، ابوسماک، اشہب عقیلی، اور سلمی کی قرات اذا یتلی ہے، اساطیرالاولین سے مراد ان کی جھوٹی باتیں ہیں جن کو انہوں نے لکھا اور مزین کیا اس کا واحد اسطورۃ اور اسطارہ ہے۔
Ayahs 83:14–15کلا بل ران۔۔ تا۔۔۔ تکذبون۔
کل بل ران، علی قلوبھم ماکانو ایکسبون۔ کلایہ ردع اور جھڑکنے کے لیے ہے یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں نہیں، حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی حقا ہے یعنی یقینا ان کے دلوں پر زنگ چڑھ چکا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ترمذی شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بندہ جب خطا کرتا ہے اس کے دل میں سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ اس گناہ کو چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اسے توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اگر وہ دوبارہ ایسا کرے تو اس میں اضافہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے دل پر غالب آجاتا ہے بس وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے، مفسرین نے اسی طرح کہا ہے یہ گناہ پر گناہ ہے یہاں تک کہ اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے، مجاہد نے کہا، اس سے مراد وہ زنگ ہے گناہ اس کے لیے دل کو گھیرلیتا ہے وہ پھر گناہ کرتا ہے گناہ اس کے دل کو گھیر لیتا ہے یہاں تک کہ گناہ اس کے دل کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ مجاہد نے کہا، یہ اس آیت کی طرح ہے جو سورة بقرہ میں ہے، بلی من کسب سیئۃ، البقرہ 81) اس کی مثل فراء سے مروی ہے کہا، ان کی نافرمانیاں اور گناہ زیادہ ہوگئے تو اس چیز نے ان کے دلوں کو احاطہ میں لے لیا، یہی ان پر زنگ ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے دل ہتھیلی کی مانند ہے اور اپنی ہتھیلی کو بلند کیا جب بندہ گناہ کرتا ہے تو وہ بند ہوجاتی ہے اور اپنی انگلی کو بند کرلیا اور جب وہ ایک اور گناہ کرتا ہے تو وہ بندہوجاتی ہے اور ایک اور کو بندہ کیا یہاں تک کہ تمام انگلیوں کو بند کردیا یہاں تک کہ اس کے دل میں مہرلگادی جاتی ہے کہا، علماء کی رائے ہے یہی زنگ ہے پھر اس آیت کریمہ کی تلاوت کی، حضرت حذیفہ سے بھی اسی طرح مروی ہے بکر بن عبداللہ نے کہا، بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سوئی کے چوبھے جیساداغ بن جاتا ہے پھر جب وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو پھر اسی طرح ہوجاتا ہے پھر جب گناہ بڑھ جاتے ہیں تو دل چھنی جیسا ہوجاتا ہے۔ وہ کسی چیز کو محفوظ نہیں رکھ سکتا اور نہ اس میں کوئی صالحیت ثبت رہتی ہے۔ اس بارے میں ہم نے سورة بقرہ میں گفتگو کی ہے جو رسول اللہ سے ثابت شدہ اخبار سے مزین ہے اس کے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔
عبدالغنی بن سعید نے موسیٰ بن عبدالرحمن سے وہ ابن جریج سے وہ عطا سے وہ حضرت ابن عباس سے اسی طرح موسیٰ نے مقاتل سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس سے ایسی چیزروایت کرتے ہیں جس کی صحت کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اس سے مراد وہ موزہ نما جوتا ہے جو دونوں رانوں، پنڈلی اور قدم پر ہوتا ہے یہی جنگ میں پہنا جاتا ہے، دوسرے علماء نے کہا، وہ وسوسہ ہے جو انسان کے دل پر کھٹکتا ہے اس تعبیر کے صحیح ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک عام اہل تفسیر کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک اس کی مراد وہی ہے جو پہلے ذکر ہوچکی ہے یہی اہل لغت کا نقطہ نظر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، ران علی قلبہ ذنبہ یرین ربنا وربونا، یعنی دل پر زنگ کا غالب آجانا، ابوعبیدہ نے کہا، ران کا معنی غالب آنا ہے، ابوعبید نے کہا جو چیز تجھ پر غالب آجائے تو اس کے لیے ران بک رانک اور ران علیک کا لفظ استعمال کرنا جائز ہوتا ہے، شاعر نے کہا : وکم ران من ذنب علی قلب فاجر، کتنے ہی گناہ جو فاجر کے دل پر غالب آئے۔ انت الخمر علی عقلہ شراب اس کی عقل پر غالب آگئی۔ ران علیہ النعاس، اونگھ اس پر غالب آگئی۔ اس معنی میں اسیفع جہنیہ کے بارے میں حضرت عمر کا قول ہے، فاصبح قدرین بہ، یعنی اس نے صبح کی کہ قرضے اس پر غالب آگئے تھے جب کہ وہ قرض لیا کرتا، اس معنی میں ابوزبید کا شعر ہے وہ ایک کا وصف بیان کرتا ہے جس نے شراب پی یہاں تک کہ شراب نشہ کے ذریعے غالب آگئی، ثم لما راہ انت بہ الخمر، وان لاترینہ باتقائ۔ پھر جب اسے دیکھا کہ شراب اس پر غالب آچکی ہے اور تقوی کے ذریعے غالب نہیں آئے گی۔
اس کا قول ہے : انت بہ الخمر، جس کا معنی ہے شراب اس کی عقل اور دل پر غالب آگئی، بغوی نے کہا، قداران القوم فھم مرینون، اس سے مراد ہے اس قوم کے مویشی ہلاک ہوگئے اور وہ کمزور ہوگئے، یہ ایسا امر ہے جوان پر غالب آگیا وہ اس کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، ابوزید نے کہا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، قدرین بالجرل، رینا جب کوئی آدمی ایسی مصیبت میں جاگرے جس سے نکلنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور نہ ہی اسے برداشت کرسکے، ابومعاذ نحوی نے کہا، رین سے مراد ہے اس کا دل گناہوں سے سیاہ ہوجائے، طبع کا مطلب ہے کہ دل پر مہرلگادی جائے، یہ رین سے بھی زیادہ سخت ہے، اقفال، طبع سے بھی شدید ہے زجاج نے کہا، رین سے مراد وہ زنگ ہے جو دل کو ڈھانپ لیتا ہے جس طرح باریک بادل ہوتا ہے اس کی مثل غین ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، غین علی قلبہ، یعنی اسے ڈھانپ لیا گیا غین سے مراد گھنے درخت ہیں اس کا واحد غیناء ہے یعنی سرسبز جس کے پتے بہت زیادہ ہوں، ٹہنیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوں فراء کا قول گزرچکا ہے کہ اس سے مراد گناہوں کا دلوں کو احاطہ میں لے لینا ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ، ران علی قلوبھم ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا یہی قول صحیح ہے، ان شاء اللہ۔ حمزہ کسائی، اعمش، ابوبکر، اور مفضل نے ران کو امالہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ فعل کا فاء کلمہ راء ہے اور عین کلمہ الف ہے، جو یاء سے بدلا ہوا ہے اس وجہ سے اس میں امالہ اچھا ہے، جس نے فتحہ دیا تو وہ اپنے اصل پر ہے کیونکہ فعل کا فاء کلمہ مفتوح ہے جس طرح کال، باع، وغیرہ، ابوعبید اور ابوحاتم نے اسے ہی پسند کیا ہے حفص نے بل پر وقف کیا پھر ران سے ابتداء کی وقف کرتے ہوئے وہ لام کو واضح کرتا ہے سکتہ کے لیے نہیں۔
کلاانھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون۔ یہ حق ہے کہ اس روز کفار کو ان کے رب سے روک دیا جائے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ کلا بھی جھڑکنے کے لیے ہے یعنی بات اس طرح نہیں جس طرح وہ کہتے ہیں بلکہ انہیں ان کے رب سے روک لیاجائے گا، زجاج نے کہا، اس آیت میں دلیل ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا اگر یہ بات اس طرح نہ ہوتی تو اس میں کچھ فائدہ نہ ہوتا، اور نہ ہی کفار کے لیے اس میں خست کا بیان ہوتا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وجوہ یومئذ ناضرہ، الی ربھاناظرہ، الواقعہ 23) اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے جو اپنے ربکادیدار کررہے ہوں گے، یہ بات ذہن نشین کرلو، مومن اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور کفار اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے، حضرت مالک بن انس نے اس آیت کی تفسیر میں کہا جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو اپنے دیدار سے محروم رکھا انہوں نے دیدار نہ کیا تو اپنے اولیاء کے لیے ظاہر نہ ہوایہاں تک کہ انہوں نے اپنے رب کا دیدار کیا، امام شافعی نے کہا، جب اللہ تعالیٰ نے ناراضگی کی وجہ سے ایک قوم سے حجاب فرمایا، تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ایک قوم خوشنودگی کی صورت میں اپنے رب کا دیدار کرے گی، پھر کہا، اللہ کی قسم اگر محمد بن ادریس کو اس امر کا یقین نہ ہوتا کہ وہ اپنے رب کا دیدار کرے گا تو وہ دنیا میں اس کی عبادت نہ کرتا۔ حسین بن فضل نے کہا، جب دنیا میں انہیں ور توحید سے حجاب میں رکھا تو آخرت میں انہیں روئیت سے محروم رکھے گا، مجاہد نے لمحجوبون کی یہ وضاحت کی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ عزت اور رحمت سے محروم رکھے گا، قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا، انہیں پاکیزہ نہیں کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے پہلی تعبیر ہی جمہور کا نقطہ نظر ہے کہ انہیں دیدار سے محروم رکھاجائیگا وہ اس کا دیدار نہ کریں گے۔
Ayah 83:16ثم انھم لصالوالجحیم۔ وہ اس میں رہیں گے اس سے باہر نہ نکلیں گے فرمایا، جب بھی ان کے چمڑے پک جائیں گے ہم ان کے چمڑے بدل دیں گے فرمایا، اور جب کبھی وہ آگ ٹھنڈی ہوگی ہم اس کو مزید بھڑکادیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے جحیم جہنم کا چوتھا دروازہ ہے۔
Ayah 83:17ثم یقال ھذالذین کنتم بہ تکذبون۔ پھر جہنم کے داروغے انہیں کہیں گے یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم اللہ کے رسولوں کو دنیا میں جھٹلاتے تھے۔
Ayah 83:18کلا ان کتب الابرابر۔۔۔ تا۔۔۔ المقربون۔
کلا ان کتب الابرار لفی علیین۔ کلایہ حقا کے معنی میں ہے اور وقف تکذبون پر ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، بات اس طرح نہیں جس طرح وہ کہتے ہیں اور نہ ہی بات اس طرح ہے جس طرح انہوں نے گمان کیا یہ بلکہ ان کی کتاب سجین میں ہے اور مومنین کی کتاب علیین میں ہے، مقاتل نے کہا، اس کا معنی وہ اس عذاب پر ایمان نہیں لائیں گے جس میں وہ داخل ہوں گے، پھر نئی کلام شروع کی اور فرمایا کہ ابرار کی کتاب اس کے مرتبہ کے مطابق علیین میں بلند کردی گئی ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، علیین سے مراد جنت ہے۔ ان سے یہ بھی منقول ہے ان کے اعمال کتاب اللہ میں ہیں جو آسمان میں ہے، ضحاک، مجاہد اور قتادہ نے کہا، یعنی ساتویں آسمان میں جس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔ ابن اجلح نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد سدرۃ المنتہی ہے اللہ تعالیٰ کے امور میں سے ہر چیز یہاں آکر رک جاتی ہے اس سے آگے تجاوز نہیں کرتی، وہ کہتے ہیں اے میرے رب، تیرا فلاں بندہ ہے جب کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ان سے زیادہ جانتا ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے کتاب آئی ہے جس پر عذاب سے امن کی مہر ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے۔ کعب الاحبار سے مروی ہے، مومن کی روح جب قبض کی جاتی ہے اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں فرشتے خوش خبری دیتے ہوئے اسے وصول کرتے ہیں پھر اسے لے کرنکلتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک جاپہنچتے ہیں ان کے لیے تخت کے نیچے سے ایک ورقہ نکلتا ہے اس کے اوپر تحریر کیا جاتا ہے اور اس میں یہ مہر لگائی جاتی ہے کہ قیامت کے روز اس کے لیے نجات ہے اور مقرب اس پر گواہی دیں گے، قتادہ نے یہ بھی کہا، فی علیین سے مراد ساتویں آسمان کے اوپر اور عرش کے دائیں پائے کے پاس ہے، حضرت براء بن عازب نے کہا، نبی کریم نے ارشاد فرمایا، علیون ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اس سے مراد وہ لوح ہے جو سبززبرجد کی ہے، عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے ان کے اعمال اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ فراء نے کہا، علیون سے مراد بلندی کے بعد بلندی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، علیون سے مراد بلند ترین مکان ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد ایسی بلندی جو کئی گنا بلندیوں میں ہو، گویا اس کی کوئی انتہا نہیں، اس وجہ سے اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ ذکر کی گئی ہے طبری کے قول کا بھی یہی معنی ہے فراء نے کہا، یہ ایسا اسم ہے جو جمع کے وزن پر بنایا گیا ہے اس کالفظی طور پر کوئی واحد نہیں، جس طرح عشرون، ثلاثون، عرب جب جمع بناتے ہیں اور اس کے واحد کا کوئی صیغہ نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی تثنیہ ہو تو وہ مذکور ومونث دونوں میں نون لگاتے ہیں طبری کے قول کا بھی یہی معنی ہے۔ زجاج نے کہا : اس اسم کا اعراب جمع کے اعراب کی طرح ہے، جس طرح تو کہتا ہے، ھذہ قنسرون، رایت قنسرین۔ یونس نحوی نے کہا : اس کا واحد علی اور علیہ، ہے ابوالفتح نے کہا، علیین، علی کی جمع ہے یہ علو سے فعیل کا وزن ہے طریقہ تو یہ تھا کہ علیۃ ہوتا جس طرح انہوں نے غرفہ کے لیے علیۃ کا لفظ ذکر یا کیونکہ یہ علو سے مشتق ہے جب علیہ سے تاء کو حذف کیا اس کے عوض میں واؤ نون جمع کے لیے ذکر کیا جس طرح وہ ارضین میں کہتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، علیین یہ ملائکہ کی صفت ہے کیونکہ وہی ملاء اعلی ہیں جس طرح کہا جاتا ہے، فلان بنی فلاں یعنی فلاں آدمی فلاں میں سے ہے یا ان کے ہاں رہتا ہے، حضرت ابن عمر سے جو مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، کہ اہل علین اتنی دور سے جنتیوں کو دیکھیں گے جب اہل علین میں سے کوئی جنتیوں پر جھانکے گا تو اس کے چہرے کے نور سے جنت روشن ہوجائے گی جنتی کہیں گے وہ نور کیا ہے ؟ تو کہاجائے گا اہل علیین جو اہل طاعت اور مصداق ہیں ان میں سے ایک آدمی نے جھانکا ہے جس طرح روشن ستارے کو آسمان کے افق میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ روایت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ علیین بلند جگہ کا نام ہے کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس سے علیین روایت نقل کی ہے کہ خبر دی گئی کہ ان کے اعمال اور ارواح چوتھے آسمان میں ہوں گے۔
Ayah 83:19وما ادراک ماعلییون، کتب مرقوم، یشھدہ المقربون۔ اے محمد آپ کو کس چیز نے بتایا کہ علیون کیا ہے ؟ یہ سوالیہ انداز اس کے مقام و مرتبہ کو ظاہر کرنے کے لیے ہے پھر اس کی تفسیر بیان کی۔
Ayahs 83:20–21کتب مرقوم۔ یہ علیین کی تفسیر نہیں بلکہ علییون پر کلام مکمل ہوجاتی ہے، پھر ابتداء کی اور فرمایا، کتب مرقوم یعنی ابرار کی کتاب رقم شدہ کتاب ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ فرشتے بندے کے عمل کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں وہ اس کا استقبال کرتے ہیں جب وہ اسے لے کر وہاں تک پہنچتے ہیں جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی کرتا ہے، تم میرے بندے پر محافظ تھے اور میں اس کے دل پر نگاہ رکھے ہوئے تھا اس نے میرے لیے اپنے عمل کو خالص نہیں کیا اسے سجین میں رکھ لو، ہر آسمان کے مقرب فرشتے ابرار کے عمل پر گواہی دیں گے، وہب اور ابن اسحاق نے کہا، یہاں مقربین سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) جب مومن نیکی کا عمل کرتا ہے تو فرشتے صحیفہ کو اوپراٹھاتے ہیں اس کا نور ہوتا ہے جو آسمانوں میں چمکتا ہے جس طرح زمین میں سورج کا نور چمکتا ہے یہاں تک کہ وہ اسرافیل تک اسے پہنچادیں گے وہ اس صحیفہ پر مہر لگادے گا اور لکھے گا، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، یشھدہ المقربون، ان کی کتابت کی وہ گواہی دے گا۔
Ayahs 83:22–23ان الابرار لفی نعیم۔۔۔ تا۔۔۔۔ المقربون۔
ان الابرار لفی نعیم۔ علی الارائک ینظرون۔ ابرار سے مراد اہل صدق اور اہل طاعت ہیں، نعیم سے مراد نعمت ہے نعمت جب نون کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی تنعیم ہوتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، نعمہ اللہ ناعمہ اللہ فتنعم۔ نیک لوگ جنتوں میں لطف اندوز ہورہے ہوں گے، ارائک سے مراد خیموں میں پنگ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عزتیں مقرر کی ہوئی ہیں انہیں دیکھ رہے ہوں گے یہ عکرمہ، ابن عباس اور مجاہد کا نقطہ نظر ہے، مقاتل نے کہا وہ جہنمیوں کو دیکھیں گے نبی کریم نے ارشاد فرمایا، وہ اپنے دشمنوں کو جہنم میں دیکھیں گے، یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے فضل و احسانات کے پلنگوں پر ہوں گے جو اس کے چہرے اور جلال و مرتبہ کو دیکھ رہے ہوں گے۔
Ayah 83:24تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم۔ نظرۃ سے مراد رونق اور نور ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، نضر النبات جب وہ کلیاں نکالے، عام قرات تعرف ہے اور نضرہ منصوب ہے یعنی اے محمد آپ پہچان لیں گے ابوجعفر بن قعقاع، یعقوب، شیبہ اور ابن ابی اسحاق نے تعرف پڑھا ہے یہ مجہول کا صیغہ ہے نضرہ مرفوع ہے۔
Ayah 83:25یسقون من رحیق۔ انہیں ایسی شراب سے پلایاجائے گا جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہوگی یہ اخفش اور زجاج کا قول ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد صاف شراب ہے، صحاح میں ہے، رحیق سے مراد عمدہ شراب ہے معنی ایک ہی ہے خلیل نے کہا، اس سے مراد سب سے صاف اور عمدہ شراب ہے، مقاتل اور دوسرے علماء نے کہا، اس سے مراد اعلی، سفید اور ملاوٹ سے صاف شراب ہے، حضرت حسان بن ثابت نے کہا، یسقون من ورد البریص علیھم، بردی یصفق باالرحیق السلسل۔ جو آدی بریص کے مقام پر ہے ان کے پاس وارد ہوتا ہے وہ اسے بردی کا پانی پلاتے ہیں جس میں خالص شراب کی آمیزش ہوتی ہے۔
Ayah 83:26مختوم، ختمہ مسک۔ مجاہد نے کہا، آخری گھونٹ جس پر وہ اسے ختم کرے گا وہ کستوری ہوگی، ایک قول یہ کیا گیا ہے جب وہ شراب پئیں گے تو پیالہ میں جو کچھ ہوگا وہ ختم ہوجائے گا تو اس کا اختتام کستوری کے خاتمہ کے ساتھ ہوگا، حضرت ابن مسعود کہا کرتے تھے، وہ اس کے بعد کستوری کا ذائقہ پائیں گے اس کی مثل سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی کا قول ہے، دونوں نے کہا، ختمہ سے مراد اس کے ذائقہ کا آخر ہے یہ تعبیر اچھی ہے کیونکہ مشروبات میں عام معمول یہ ہے کہ اس کے آخر میں گدلا پن ہوتا ہے، جتنی لوگوں کے مشروب کی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس کے آخر میں خوشبو کستوری کی خوشبو ہوگی۔
مسروق نے حضرت عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ مختوم کا معنی ملا ہوا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مختوم کا معنی یہ ہے کہ اس چیز میں محفوظ کردیا گیا ہے کہ اسے کوئی مس کرنے والا مس کرے، یہاں تک کہ اس کا خاتمہ ابرابر جیسا ہو، حضرت علی، علقمہ، شقیق، ضحاک، طاوس اور کسائی نے اسے خاتمہ پڑھا ہے، یہی علقمہ کا قول ہے، کیا تو نے عورت کو نہیں دیکھا جو عطار کو کہتی ہے، اجعل خاتمہ مسکا یہاں بھی وہ ختمہ سے مراد آخرلیتے ہیں ختمہ اور ختام دونوں معنی میں قریب قریب ہیں مگر خاتم اسم ہے اور ختام مصدر ہے یہ فراء کا قول ہے صحاح میں ہے ختام سے مراد وہ مٹی ہے جس کے ساتھ مہر لگائی جاتی ہے، مجاہد اور ابن زید نے یہی کہا ہے یعنی مٹی کی جگہ اس پر کستوری کی مہر لگائی گئی، مہدوی نے یہی حکایت بیان کی ہے اعمش نے کہا، وابرزھا وعلیھا ختم میں اسے کھولتا ہوں تو اس پر مہر لگی مٹی ہوتی ہے جس طرح نقص، منقوض کے معنی میں ہوتا ہے اور قبض، مقبوض کے معنی میں ہوتا ہے ابن مبارک اور ابن وہب نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت نقل کی ہے جب کہ الفاظ ابن وہب کے ہیں، ختامہ مسک کا معنی ہے اس میں کستوری کی آمیزش ہوتی ہے اس سے مراد وہ مہر نہیں جس کے ساتھ مہر لگائی جاتی ہے کیا تو اپنی عورتوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا اس میں فلاں فلاں خوشبو کی آمیزش ہے اس میں کستوری کی آمیزش ہوگی کہا، اس سے مراد وہ سفید شراب ہے جو چاندی کی طرح ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ آخری مشروب کو ملاتے ہیں اگر اہل دنیا سے کوئی آدمی اپناہاتھ اس میں داخل کرے پھر اس سے باہر نکالے تو کوئی ذی روح شی باقی نہ رہے مگر اس کی خوشبو پائے۔ حضرت ابی بن کعب نے روایت نقل کی ہے، عرض کی گئی یارسول اللہ یہ رحیق مختوم کیا ہے ؟ فرمایا، شراب کے تالاب، ایک قول یہ کیا گیا ہے برتنوں میں مہرلگی ہوگی یہ اس سے مختلف ہے جو نہروں میں چلتی ہے۔
وفی ذالک فلیتنافس المتنافسون۔ ہم نے جنت کی جو صفت ذکر کی ہے اس میں رغبت رکھنے والوں کو رغبت رکھنی چاہیے یوں باب چلایا جاتا ہے، نفست علیہ الشی انفسہ نفاسہ، یعنی میں نے اس کے بارے میں بخل سے کام لیا اور میں نے یہ پسندیدہ کیا کہ وہ چیز اس کی طرف جائے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فی، الی کے معنی میں ہے یعنی عمل میں جلدی کرنے والوں کو اس کی طرف جلدی کرنی چاہیے اس کی مثل یہ ارشاد ہے، لمثل ھذافلیعمل العاملون۔ الصافات) اس کی مثل عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
Ayah 83:27ومزاجہ من تسنیم۔ اس خالص شراب میں تسنیم کی آمیزش ہے، تسنیم وہ شراب ہے جو اوپر سے ان کی طرف انڈیلی جائے گی یہ جنت میں سب سے اعلی شراب ہے تسنیم کا لغت میں معنی بلند ہونا ہے، یہ چشمے کا پانی ہے جو بلندی سے پستی کی طرف آتا ہے اس سے سنام البعیر سے یہ بدن سے بلند ہوتی ہے، اس طرح تسنیم القبور کا لفظ استعمال ہوتا ہے کہ ان نما قبر، حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمہ ہے جس کا خالص پانی مقرب لوگ پئیں گے، اور اصحاب یمین کے جاموں میں اس میں سے کچھ چیز ملائی جائے گی تو وہ مشروب عمدہ اور خوشبو دار ہوجائے گا، حضرت ابن عباس نے ومزاجہ من تسنیم۔ کے بارے میں فرمایا، یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، فلاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین۔ السجدہ 17) کوئی نفس نہیں جانتا جوان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک مخفی رکھی گئی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، تسنیم ایسا چشمہ ہے جو اللہ کی قدرت سے ہوا میں چلتا ہوگا، وہ جنتیوں کے برتنوں میں اس قدر پڑے گا جس قدر ان میں گنجائش ہوگی جب برتن بھرجائے گا تو پانی رک جائے گا اس میں سے قطرہ بھر پانی زمین پر نہیں گرے گا، وہ پانی طلب کرنے کے محتاج نہ ہو گے یہ قتادہ نے کہا، ابن زید نے کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے وہ ایک چشمہ ہے جو عرش کے نیچے سے نکلتا ہے، حضرت حسن بصری کی مراسیل میں اسی طرح ہے ہم نے اس کا زکر سورة الانسان میں کیا ہے۔
Ayah 83:28عینا یشرب بھا المقربون۔ اسے خالص جنت عدن کے مکین پئیں گے یہ جنتیوں میں سے سب سے فضیلت والے ہیں جب کہ دوسروں کو اس کا آمیزہ ملے گا، عینا یہ بطور مدح منصوب ہے زجاج نے کہا، یہ تسنیم ہے بطور حال منصوب ہے تسنیم معرفہ ہے اس کا کوئی اشتقاق معروف نہیں اگر تو اسے مصدر بنائے اور سنام سے مشتق مانے توعینا اس کی وجہ سے منصوب ہوگا کیونکہ یہ اس کا مفعول بہ ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، او اطعم فی یوم ذی مسغبہ، یتیما۔ البلد) میں یتیما مفول بہ کی وجہ سے منصوب ہے یہ فراء کا قول ہے کہ عینا، تسنیم کی وجہ سے منصوب ہے اخفش کے نزدیک یہ یسقون کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، یسقون عینااو من عین۔ مبرد کے نزدیک اعنی فعل کی وجہ سے بطور مدح منصوب ہے۔
Ayahs 83:29–30ان الذین اجرموا۔۔۔ تا۔۔۔ ماکانوایفعلون۔
ان الذین اجرموا کانو من الذین آمنو یضحکون، واذا مروا بھم یتغامزون۔ کفار دنیا میں مومنوں کے ساتھ جو مزاق کیا کرتے تھے اس کا ذکر ہے مراد قریش کے مشرک روسا ہیں کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد ولیدہ بن مغیرہ، عقبہ بن ابی معیط، عاص بن وائل، اسود بن عبدیغوث، عاص بن ہشام، ابوجہل اور نضر بن حارث ہے، یہی لوگ نبی کے صحابہ، حضرت عمار، حضرت خباب، حضرت صہیب اور حضرت بلال کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ جب وہ رسول اللہ کے پاس آنے کے لیے ان کے پاس سے گزرتے وہ ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارہ کیا کرتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اسلام کی وجہ سے انہیں عار دلاتے اور ان پر عیب لگاتے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، غمزت الشی بیدی، میں نے اس چیز کو اپنے ہاتھ سے ٹٹولا۔ حضرت عائشہ نے کہا، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے اپنے ہاتھ سے دباتے تو میں اپنا پاؤں سمیٹ لیتی، یہ سورة نساء میں گزرچکا ہے۔ غمزتہ بعینی میں نے آنکھ سے اشارہ کیا، اس پر عیب لگایا، ومافی فلان غمزۃ، اس میں کوئی عیب نہیں، مقاتل نے کہا، یہ آیت حضرت عائشہ کے حق میں نازل ہوئی جو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تومنافقوں نے ان کا مذاق اڑایا اور ان پر ٹھٹھا کیا۔
Ayah 83:31واذانقلبوا الی اھلھم النقلبوا فکھین۔ جب وہ اپنے اہل اور ساتھیوں کی طرف لوٹتے تو خوش خوش لوٹتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جس کفر پر وہ ہیں اس پر خوشی کا اظہار کرتے اور مومنوں کے ذکر سے لطف اندوز ہوتے، ابن قعقاع، حفص، اعرج، اسلمی نے کہا، فکھین الف کے بغیر ہے جب کہ باقی قراء نے اسے الف کے ساتھ پڑھا ہے، فراء نے کہا یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے طمع، طامع، حذر، حاذر، سورة الدخان میں یہ گزرچکا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، الف کہ کا معنی ہے حددرجہ حریص اور تکبر کرنے والا الفاکہ کا معنی ہے لطف اندوز ہونے والا ہے۔
Ayah 83:32واذا رواھم قالوانالظالون۔ جب یہ کفار رسول اللہ کے صحابہ کو دیکھتے تو کہتے، یہ رسول اللہ کی اتباع میں گمراہ ہوگئے ہیں۔
Ayah 83:33وما ارسلوا علیھم حفظین۔ انہیں مومنوں کے اعمال کا محافظ، ان کے احوال پر نگران اور ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا گیا تھا۔
Ayahs 83:34–35فالیوم الذین آمنو من الکفار یضحکون۔ یعنی قیامت کے روز حضور ﷺ پر ایمان لانے والے کفار پر ہنسیں گے جس طرح کفار دنیا میں ان پر ہنسا کرتے تھے اس کی مثل سورة المومنین میں گزرچکی ہے۔ ابن مبارک نے یہ ذکر کیا ہے محمد بن بشارنے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ کعب کہا کرتے تھے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک روشن دان ہے جب مومن ارادہ کرے گا، کہ دنیا میں جو اس کا دشمن تھا اس کو دیکھتے تو وہ اس روشن دان سے جھانکے گا اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا، فاطلع فراہ فی سواء الجحیم۔ الصافات) اس پر جھانکا تو اسے جہنم میں دیکھا، کہا یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے جھانکا تو قوم کی کھوپڑیوں کو کھولتے ہوئے دیکھا، ابن مبارک نے یہ بھی ذکر کیا کلبی نے ابوصالح سے اللہ تعالیٰ کے فرمان، اللہ یستھزی بھم البقرہ 15) اللہ تعالیٰ انہیں ان کے استہزاء کی سزا دیتا ہے، کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ جہنمی جہنم میں ہوں گے تو انہیں کہا جائے گا باہرنکلو تو ان کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے جب وہ دیکھیں گے کہ دروازے کھول دیے گئے تو وہ نکلنے کے لیے ان دروازوں کی طرف بڑھیں گے جب کہ مومن پلنگوں پر بیٹھے ہوں گے، جب وہ دروازے تک پہنچیں گے تو ان پر دروازے بند کردیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ کے فرمان، اللہ یستھزی بھم کا یہی مصداق ہے جب ان کے لیے دروازہ بند کردیے جائیں گے تو ان پر مومن ہنسیں گے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، فالیوم الذین آمنوامن الکفار یضحکون، کا یہی مصداق ہے۔
Ayah 83:36ھل ثوب الکفار ماکانوایفعلون۔ یہ سورة بقرہ کے آغاز میں پہلے گزرچکا ہے ھل ثوب کا معنی ہے جب کفار کے ساتھ یہ معاملہ کیا جائے گا تو دنیا میں جو وہ مومنوں کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے کیا اس کا انہیں بدلہ دے دیا گیا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ینظرون کے متعلق ہے وہ دیکھیں گے کیا کفار کو بدلہ دے دیا گیا ہے، ھل کا معنی تقریر ہوگا اس کا محل ینظرون کے ساتھ نصب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جملہ مستانفہ ہے جس کا اعراب میں کوئی محل نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں قول مضمر ہے معنی ہوگا مومن ایک دوسرے کو کہیں گے کیا کفار کو بدلہ دے دیا گیا یہ ثاب، یثوب سے مشتق ہے جس کا معنی ہے لوٹنا ہے ثواب اسے کہتے ہیں جو بندے کے عمل کے عوض بندے کی طرف لوٹتا ہے اس کا استعمال خیر اور شر دونوں معنی میں ہوتا ہے۔