83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsسراج البیان

Ayahs 83:1–5

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

کم دینے والوں کی خرابی ہے

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

وہ کہ جب لوگوں سے ناپ لیں تو پورا بھریں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب انہیں ناپ کر یا وزن کرکے دیں تو گھٹا کردیں

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا وہ خیال نہیں کرتے کہ وہ اٹھائے جائیں گے ؟

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک بڑے دن (ف 2) کے لئے

سورة التطفیف 2: اس سورة کا موضوع یہ ہے کہ کاروبار اور معاملات میں اعتماد وصداقت کی روح کو پیدا کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مذہب کا تعلق صرف عبادات سے نہیں اور عبادت کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ مجاہدہ و ریاضت سے نفس کو پاک کیا جائے ۔ بلکہ مذہب نام ہے عقائد سے لے کر معاملات تک اصلاح کا ۔ اور عبادت تعبیر ہے ۔ معاملہ کی پاکیزگی سے ۔ اور ریاضت وزہد کہتے ہیں قلب کو حرص وآز کے جذبات سے پاک کرنے کو ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے ایک مسلمان کا تخیل صرف یہی نہیں ہے کہ وہ توحید وسنت کا قائل ہے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے ۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لین دین ۔ بیع وشر اور معاملات باہمی میں بھی مسلمان ہو ۔ چناچہ فرمایا کہ جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ، وہ عذاب کے مستحق ہیں ۔ ان لوگوں کی جمع اور حرص کا یہ عالم ہے کہ جب یہ دوسروں سے کوئی چیز ناپ کرلیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں ۔ اور جب دوسروں کو دینے لگتے ہیں تو گھٹا کردیتے ہیں ۔ ان لوگوں سے پوچھا ہے کہ کیا ان لوگوں کو خدا کے سامنے پیش نہیں ہونا ہے ۔ اور پیش ہوکر جواب نہیں دیتا ہے ۔ حل لغات :۔ للمطففین ۔ فمفف کی جمع ہے ۔ چیز کو گھٹا کردینے والے ۔ شیء طفیف ۔ شیء قلیل ۔
Ayahs 83:6–16

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن آدمی جہان کے رب کے سامنے کھڑے ہونگے

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہرگز نہیں بدکاروں کے اعمالنامے سجین میں پہنچے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تو کیا جانے سجین کیا ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک لکھا ہوا دفتر ہے

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس میں جھٹلانے والوں کو خرابی ہے

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اسے وہی جھٹلاتے ہے جو حد سے باہر نکلنے والا گنہگار والا گنہگار ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، بلکہ جو وہ کماتے ہیں اس نے ان کے دلوں پر زنگ لگا دیا ہے

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، وہ اس دن اپنے رب سے پردہ میں ہوں گے

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر ان کو ضرور (ف 1) دوزخ میں جانا ہوگا

ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون عدل و انصاف کو نہ مانیں ۔ بلکہ اس انکار وکفر کے پس پردہ سب سے بڑا محرک جذبہ معصیت ہے ۔ خواہشات نفسانی کی تکمیل کے سلسلہ میں یہ نہیں چاہیے کہ کوئی قانون ، کوئی ضابطہ اور کوئی دین درمیان میں حامل ہو اور ان کو فسق وفجور کے لذائذ سے روک دے ۔ کبرونخوت کا یہ عالم ہے کہ جب قرآن حکیم کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ، تاکہ ان کو روشنی اور نور کے اکتساب کا موقع ملے تو یہ نہایت بےتوجہی سے کہہ اٹھتے ہیں کہ اس میں بجز پہلوں کے قصے کہانیوں کے اور کیا رکھا ہے ۔ حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے ۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں زندگی کے معارف اور روح کی بالیدگی اور رفعت سے بحث کی گئی ہے ۔ جس میں قوموں کے عروج وزوال کے اسباب بیان کئے گئے ہیں ۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے لئے قانون فطرت کیا ہے جس میں اخلاق ومعاشرت کی وہ گتھیاں سلجھائی گئی ہیں جن کو انسان ناخن تدبیر سے اب تک نہیں سلجھا سکا ہے ۔ جس میں خدا تک پہنچنے کے اور اس کے حصول و تقرب کے وسائل کی تشریح ہے ۔ اور جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر زمانے میں وہ کون دین ہے جو کائنات انسانی کے لئے سرمایہ صدررحمت و برکت قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ان لوگوں کی رائے غوروفکر پر مبنی نہیں ہے ۔ بلکہ بات یہ ہے کہ قلب بےحس ہوچکا ہے ۔ گناہوں کا غبار اس پر چھا گیا ہے اور بصیرت اور نور دب چکا ہے ۔ اب اس میں وہ معرفت نہیں ہے ۔ وہ عمق اور گہرائی نہیں ہے جس کی وجہ سے انسان کسی معاملہ کی تہ تک پہنچ سکتا ہے ۔ حل لغات :۔ معتد ۔ حداعتدال و توازن سے بڑھ جانے والا اثیم ۔ عادی مجرم ران ۔ زنگ بیٹھ گیا ۔ دل کی حقیقت پر غالب آگیا ۔ چھا گیا ۔
Ayah 83:17

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر کہا جائے گا یہ وہ ہے جس (ف 2) کو تم جھٹلاتے تھے

ف 2: یعنی آج تو یہ لوگ دنیا میں حقائق دینی سے روگردانی کرتے ہیں ۔ مگر کل آخرت میں مومنین جب کہ حق تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہوں گے اور اس کی تجلیات سے دل ودیدہ کی تسکین کا سامان بہم پہنچائیں گے ، یہ اس نعمت سے محروم رہیں گے اور جہنم میں پھینکے جائیں گے ۔ پھر کہا جائے گا کہ یہی وہ مقام ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے ۔ آج بتاؤ کہ کیا ہم جھوٹ کہتے تھے ۔
Ayahs 83:18–28

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

ہرگز نہیں بیشک نیکوں کے اعمالنامے علیین (اوپر والوں) میں ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

تو کیا سمجھا علییون کیا ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

وہ لکھا ہوا دفتر ہے

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

مقرب (فرشتے) اس پر حاضر ہوتے ہیں

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ نعمت میں ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں تختوں پر بیٹھے ہوں گے

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تو ان کے چیروں پر نعمت کیا تازگی پہچانے گا

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

مہر لگی ہوئی خالص شراب ان کو پلائی جائے گی

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

اس کی مہر مشک (کستوری) پر جمتی ہے اور اسی ہی کی چاہئے کہ رغبت کریں

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس سے مقرب (ف 1) پیشے ہیں

ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی ہے ۔ حل لغات :۔ نضرۃ النعیم ۔ نازونعمت کی زندگی کی شگفتگی ۔ آسائش کی بشاست رحیق ۔ خالص شراب وصافی یا بہتر وخوشبوتر ختمہ مسک ۔ آخری گھونٹ مشک کی خوش بولئے ہونگے یا مہر مشک کی ہوگی ۔ دونوں معنی مراد ہیں ۔
Ayahs 83:29–36

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

وہ جو گنہگار ہیں ، ایمان داروں پر ہنستے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھ مارتے تھے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو باتیں بناتے لوٹتے تھے

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے کہ بیشک یہ لوگ گمراہ ہیں

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

اور حالانکہ وہ ایمانداروں پر محافظ بنا کر نہیں بھیجے گئے

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

سو آج مومن کافروں پر ہنسیں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے دیکھیں گے

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

کیا کافروں کو ان کے اعمال کا بدلہ (ف 1) ملا

مذاق کا بدلہ مذاق 1: کفار کے لئے یہ منظر کتنا تکلیف دہ اور اذیت بخش ہوگا کہ دنیا میں جن لوگوں پر یہ لوگ ہنستے تھے ۔ جن کی تحقیر اور تذلیل کے لئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے ہوتے تھے ۔ جن لوگوں کو اپنے گھروں میں یہ ہدف طعن وتشنیع بناتے تھے اور جن کو دیکھ پاتے تھے تو بڑی بےباکی اور دلسوزی سے کہتے تھے کہ افسوس یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات کہنے کا ان کو کوئی استحقاق نہ تھا ۔ آیا ان کو دیکھیں گے کہ وہ بلندیوں اور رفعتوں کے مالک ہیں ۔ اور مسہریوں پر تمکنت اور وقار سے بیٹھے ان کا مضحکہ اڑا رہے ہیں ۔ آج ان منکرین اور کفار کو ان کے استہزاء اور تمسخر کا پورا پورا بدلہ مل گیا اور آج ان کی آنکھوں سے سارے پردے اور حجاب اٹھ گئے ۔ آج ان کو معلوم ہوگیا کہ اللہ کے نزدیک معیار تقرب کیا ہے ؟ مال و دولت کی فراوانی یا سیم وزر کے انبار یا اخوان وانصار کی کثرت ؟ نہیں ، بلکہ اعمال صالحہ ، پاکبازی ، دولت ایمان سے بہرہ مندی ، خلوص ، جاں بازی ، ایثار اور پیہم اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے جدوجہد ۔ یہ وہ نعمتیں ہیں ، جن سے ان کے دامن ہمیشہ خالی رہے ۔ انہوں نے اس بات پر بڑے فخر و غرور کا اظہار کیا کہ ان کو دنیا کی ساری آسائشیں حاصل ہیں اور مسلمان ان سے یک قلم محروم ہیں ۔ مگر اس بات کو یہ لوگ معلوم نہ کرسکے ۔ کہ زندگی کا اصلی و حقیقی نصب والعین دنیا نہیں ہے ۔ دنیا کی آسودگیاں اور تکلفات نہیں ہیں ، بلکہ رضاء الٰہی ہے ۔ وہ اگر خوش ہوگیا تو دارین کی نعمتیں حاصل ہیں اور اگر وہ روٹھ گیا تو چاندی سونے کے محل بھی محص بےکار ہیں ۔ یہی وہ راز تھا جس کو مسلمان نے سمجھا اور جس کی وجہ سے آج جنت ان کے قدموں میں ہے ۔ اور کفار نے نہ سمجھا اور جہنم کا ایندھن بنے ۔ حل لغات :۔ فکھین ۔ مذاق اڑاتے ہوئے ھل ثرب ۔ یہاں ھل بمعنی قد ہے ۔