Ayah 83:1(1) بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔
Ayah 83:2(2) کہ جب لوگوں سے پیمانہ ناپ کرلیں تو پیمانہ کو پوری طرح بھر کرلیں۔
Ayah 83:3(3) اور جب لوگوں کو پیمانے سے ماپ کردیں یا تول کردیں تو کم کردیں یا گھٹا کردیں - اگرچہ پوری طرح پیمانہ بھر لینا کوئی مذموم اور قابل اعتراف بات نہیں ہے مگر یہاں اس کا ذکر کرنا کم دینے کی مذمت کو موکد کرنا اور کم دینے کی برائی کی تاکید کرنا ہے۔ اگر لینے میں بھی بےپروائی اور رعایت کرتے تو شاید معاملہ برابر سرابر سمجھ لیا جاتا کہ نہ پورا دیتے ہیں نہ پورا لیتے ہیں لیکن اگر کوئی اپنا حق تو پورا لے اور دوسرے کو کم دے تو یہ امر بہت قابل مذمت ہے اور چونکہ اصل مقصد کم دینے کی مذمت کرتا ہے اس لئے کیل اور وزن دونوں کا ذکر کیا کہ ماپ میں بھی کمی کرتے ہیں اور تول میں بھی کم دیتے ہیں اور چونکہ پورا لینا عیب نہیں۔
اس لئے یستوفون میں صرف اکتیال کا ذکر فرمایا نیز اس لئے کہ اہل عرب میں کیل کا دستور زیادہ تھا جیسا کہ آج کل بھی حجاج کھجوریں کیل سے خریدتے ہیں لین دین کی چار صوررتیں ہوسکتی ہیں۔
1 ۔ لینے اور دینے میں زیادتی کرے۔
2 ۔ یہ کہ دونوں میں کمی کرے۔
3 ۔ یہ کہ دیتے وقت کمی کرے اور لیتے وقت پورا لے۔
4 ۔ یہ کہ لیتے وقت کم لے اور دیتے وقت پورا دے۔
ان چاروں صورتوں میں قرآن نے تیسری شکل کی مذمت کی ہے اور یہ واقعہ ہے کہ تیسری ہی شکل ونائت کی ہے اور انتہائی قابل مذمت ہے آگے اس گناہ پر تہدید مذکور ہے۔
Ayah 83:4(4) کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے کہ وہ اس دن دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 83:5(5) جو دن بڑا سخت ہے۔
Ayah 83:6(6) جس دن تمام لوگ جملہ عالموں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے - یعنی یہ جو لوگوں کا حق مارتے ہیں اور کم تولتے ہیں اور ماپ میں کمی کرکے خریدار کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ان لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا اس دن میں جو گوناگوں مشکلات کے باعث بڑا سخت ہوگا یقین نہیں ہے اگر یقین ہوتا اور یہ جانتے کہ ایک دن حساب کتاب ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کی جناب میں تمام لوگ جواب دہی کے لئے کھڑے ہوں گے تو یہ لوگ ایسا نہ کرتے۔
بہرحال ! مدعا یہ ہے کہ اس دن کا یقین کرو وہ دن ضرور آنا ہے اور کم تولنے اور کم ماپنے سے توبہ کرو اورر اس گناہ کا آئندہ ارتکاب نہ کرو۔ آگے منکروں پر تہدید ہے۔
Ayah 83:7(7) ہرگز ایسا نہیں بلکہ بدکرداروں کے تمام اعمال منضبط اور محفوظ ہیں بلا شبہ بدکرداروں کا نامہ اعمال سجین میں رہے گا۔ یعنی ایک تنگ و تاریک مقام میں جو کفار کی ارواح کا مقام ہے۔
Ayah 83:8(8) اور آپ کو اے پیغمبر کچھ معلوم ہے کہ وہ سجین میں رکھا ہوا نامہ عمل کیا چیز ہے۔
Ayah 83:9(9) وہ ایک دفت رہے صاف لکھا ہوا ، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کے نام وہاں داخل ہوتے ہیں مرکر وہیں پہنچیں گے۔
خلاصہ : یہ کہ سجین ایک دفتر ہے جس میں ہر دوزخی کا نام درج ہے بندوں کے عمل لکھنے والے فرشتے جن کا ذکر سورة انفطار میں گزر چکا ہے وہ ان فجار کے مرنے کے بعد ان میں سے ہر شخص کے اعمال کی فردیں بنا کر اس دفتر میں داخل کردیتے ہیں ہر فرد پر کوئی ایسی خاص علامت لگا دیتے ہیں جس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کی یہ فرد ہے وہ دوزخی ہے۔ بعض احادیث سے معلوم ہے کہ یہی مقام ارواح کفار کا مستقر ہے قیامت تک یہ ارواح وہیں رہیں گی کفار کی ارواح کو نہ آسمان قبول کرتا ہے نہ طبقات ارضی پسند کرتے ہیں تو ساتویں زمین زمین کے نیچے ان کا مستقر رکھا گیا ہے اور بھی علمائے متقدمین کے کئی قول ہیں مگر ہم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول اختیار کرلیا جیسا کہ ہمارے بزرگوں نے عام طور سے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ واللہ اعلم
حضرت حق جل مجدہ کی عادت اسی طرح جاری ہے کہ جب وہ جنت کا ذکر فرماتا ہے تو اس کی صفائی اور بلندی اور مقربین ملائکہ کی حضوری سے موصوف فرماتا ہے اسی طرح جب اشرار کا ذکر فرماتا ہے تو تسفل تاریکی اور تنگی اور حضور شیاطین سے موصوف فرماتا ہے پس سجین کو ایسا مقام سمجھنا چاہیے جو نہایت اسفل اور تاریک ہوا اور جہاں شیاطین کی حضوری ہو اور اشرار کے اعمال ناموں کی فردیں بنی ہوئی وہاں رکھی ہوں۔
رقم کے معنی لکھنے اور مہر لگانے کے ہیں یہاں دونوں باتیں ہوسکتی ہیں مرقوم مکتوب یا مختوم، ہم نے دونوں معنی ظاہر کردیئے ہیں۔ آگے جزا کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 83:10(10) اس مذکورہ رن میں جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی۔
Ayah 83:11(11) جو روز جزا کی تکذیب کرتے ہیں - یعنی جو لوگ روز جزا کی تکذیب کرنیوالے ہیں اس جزا کے دن ان کے لئے بڑی خرابی اور تباہی ہوگی اوپر جس دن کا ذکر آیا تھا وہ یہی روز جزا جس کو فرمایا تھا۔ لیوم عظیم یوم یقوم الناس لرب العالمین اسی دن کو یہاں فرمایا کہ جو لوگ اس دن تکذیب کررہے ہیں جب وہ دن واقع ہوگا تو ان کے لئے بڑی خرابی ہوگی آگے تکذیب کرنے والوں کے اور اعمال مشومہ کا ذکر فرمایا۔
Ayah 83:12(12) اور اس روز جزا کو تو صرف وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حد سے بڑھ جانے والا گنہگار ہو - یعنی حدود عبدیت اور بندگی سے آگے نکل جانے والا سخت گنہگار۔
Ayah 83:13(13) جب اس کے روبرو ہماری آیتیں تلاوت کی جائیں تو کہنے لگے یہ اگلے لوگوں کے بےسند اور بےشروپاکہانیاں ہیں۔ یعنی جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ حد سے نکل جانیوالا گنہگار یوں کہتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کے بےسند قصے اور بےشروپاکہانیاں ہیں۔
Ayah 83:14(14) ہرگزایسا نہیں بلکہ ان کے قلوب پر ان کی ان اعمال کا زنگ بیٹھ گیا ہے جو یہ کیا کرتے تھے - یعنی یہ بات نہیں کہ یہ قرآن بےسند اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں بلکہ ان بدبختوں نے جو گناہ کیے ہیں اور جو گناہ یہ کیا کرتے تھے اس نے زنگ کی صورت اختیار کرلی ہے۔
جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ پہلے گناہ کرنے پر ایک سیاہ نقط قلب پر پیدا ہوجاتا ہے اگر گنہگار توبہ کرلے تو وہ دور ہوجاتا ہے نہیں تو بڑھتے بڑھتے تمام دل سیاہ ہوجاتا ہے اور شاید بدبختی اور مریض کی یہ ابتدائی حالت ہے یہی حالات ہیں جو بڑھتے بڑھتے قبر تک پہنچ جاتے ہیں ہم نے اس کو مریض کی ابتدائی حالت سے تعبیر کیا ہے اور کئی مرتبے اس پر کافی بحث کی ہے۔
یہاں اس کو رین فرمایا ہے گناہوں کا روحانی اثر یہ ہے کہ قلب سیاہ ہوجاتا ہے آگے اس کے مزید اثرات کا بیان ہے۔
Ayah 83:15(15) نہیں نہیں یہ لوگ اس دن اپنے پروردگار سے روک دیئے جائیں گے - یعنی یہ سیاہی رب العزت کے دیدار سے روکنے میں حجاب کا کام کرے گی اور حضرت حق تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیئے جائیں گے اور یہ اعمال بد کا زنگ میدان حشر میں بہت سی بھلائیاں اور نجات سے محروم کردے گا۔
Ayah 83:16(16) پھر یقینا یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے۔
Ayah 83:17(17) پھران سے کا جائے گا یہی وہ چیز ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے - یعنی دوزخ میں داخل ہوں گے اور داخل ہونے کے بعد کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے آگے نیک بندوں کے نامہ اعمال کا ذکر ہے کیونکہ یہ قیامت کے منکر مومنین کے اجروثواب کے بھی منکر ہیں اس لئے ان کی جھڑکی دے کر فرماتے ہیں۔
Ayah 83:18(18) ہرگز یوں نہیں بلکہ نیک لوگوں کا نامہ اعمال علیین یعنی اعلیٰ ترین مقام رہے گا۔
Ayah 83:19(19) اور اے پیغمبر آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ علییون کیا چیز ہے - یعنی وہ اعلیٰ ترین مقام میں رکھا ہوا نامہ اعمال کیا چیز ہے۔
Ayah 83:20(20) وہ ایک دفتر ہے صاف لکھا ہوا۔
Ayah 83:21(21) مقرب بارگاہ فرشتے اس کو دیکھتے رہتے ہیں - یعنی جہاں نیک اور ابرار لوگوں کے نام درج ہیں اور ان کے اعمال کی فردیں اور مسلیں وہاں رہتی ہیں اس مقام کی عزت اور تفخیم کے لئے سوال کیا کہ اے پیغمبر آپ کیا جانتے ہیں کہ وہ مقام کیا ہے جس کو علییون کہتے ہیں پھر فرمایا وہ ایک دفتر ہے جہاں لکھا ہوا یا مہر کیا ہوا رجسٹر ہے اس دفتر اور رجسٹر کو مقرب فرشتے یا مقرب بندے خوش ہوکر دیکھتے ہیں اور ابرار کی ارواح کا مستقر بھی وہی ہے یا پہلے ارواح مومنین کو وہاں لے جاتے ہیں پھر اپنے اپنے ٹھکانے پر ان ارواح کو پہنچا دیا جاتا ہے اور ان ارواح کا تعلق اپنی اپنی قبروں سے بھی رہتا ہے ۔
خلاصہ : یہ کہ جس طرح سجین کے متعلق علماء کے کئی قول تھے اسی طرح علیین میں بھی کئی قول ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ علیین چوتھے آسمان پر ایک جگہ ہے وہاں نیک لوگوں کی ارواح جمع ہوتی ہیں اور وہیں ملائکہ مقربین کراماً کاتبین سے ان ارواح کے روزنامچے کی کتاب لے کر اس دفتر میں داخل کرلیتے ہیں۔
حضرت قتادہ اور مقاتل کا قول ہے کہ وہ عرش کا داہنا پایہ ہے ضحاک کہتے ہیں وہ سدرۃ المنتہیٰ ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ وہ ساتویں آسمان پر کوئی مقام ہے۔
بہرحال کئی قول ہیں ابن کثیر نے حضرت کعب سے ایک روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مقام ساتویں آسمان پر ہے مومن کی روح جب فرشتے لے کر جاتے ہیں اور ہر آسمان کے کچھ فرشتے اس روح کے ساتھ ہوجاتے ہیں ……یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر اس روح کو لے کر پہنچتے ہیں اور اعلیٰ علیین میں اس کا نامہ اعمال تفویض کردیتے ہیں اور اسی کو مستقر ارواح کہتے ہیں مقربین ملائکہ اس نامہ عمل کی حفاظت کرتے ہیں۔
بعض نے کہا کہ مقربین سے حضرت اسرافیل مراد ہیں، بہرحال وہ فرشتے بہ نظر حفاظت یا بہ نظر شوق اس نامہ عمل کو دیکھتے رہتے ہیں (واللہ اعلم) وہ دفتر لکھا ہوا یا مہر کیا ہوا ہوتا ہے اور اس پر ایسی علامت لگا دی جاتی ہے جس سے دیکھنے والا یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ شخص جنتی ہے آگے ان ابرار کی دو اور نعمتوں کا ذکر ہے۔
Ayah 83:22(22) بلا شبہ نیک لوگ بڑی آسائش و آرام میں ہوں گے۔
Ayah 83:23(23) مسہریوں پر بیٹھے نظارہ کررہے ہوں گے - یعنی بہشت کے عجائب وغرائب کی سیر کرتے ہوں گے یا دیدار الٰہی کا نظارہ کرتے ہوں گے۔
Ayah 83:24(24) اے مخاطب تو ان کے چہروں میں نازونعم کی تروتازگی نمایاں پائے گا۔ یعنی جنت کے آرام اور آسائش کے آثار ان ابرار کے چہروں سے ظاہر ہونگے کہ دیکھتے ہی دیکھنے والا پہچان جائے گا کہ یہ انتہائی آرام میں زندگی بسر کررہے ہیں۔
Ayah 83:25(25) ان کو شراب خالص پلائی جائے گی جو سر بمہر ہوگی۔
Ayah 83:26(26) اس شراب کی مہر مشک کی ہوگی اور رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ اس نفیس شراب کی خواہش کریں - یعنی دنیا میں جس طرح لاکھ پر مہر لگائی جاتی ہے یہ مہر مشک پر جمائی جائیگی جس کو کھولتے تمام مجلس مشک کی خوشبو سے مہک جائیگی دنیا کی شراب اس لائق نہیں کہ اس کی جانب کوئی توجہ کی جائے۔ البتہ یہ شراب اس قابل ہے کہ اس شراب کی رغبت کی جائے اور پینے والے اس کی خواہش کریں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں لیکن یہ شراب نادر ہے جو سر بمہررہتی ہے اور ان کی قدر کے موافق مہر جمتی ہے مشک پر ۔ اور یہ شراب اس لائق ہے کہ پینے والے اس کی خواہش اور رغبت کریں۔
Ayah 83:27(27) اور اس شراب میں تسنیم کے پانی کی آمیزش ہوگی۔
Ayah 83:28(28) یہ تسنیم ایک چشمہ ہے جس میں سے مقربین بارگاہ لوگ پئیں گے - یعنی یہ چشمہ تسنیم جو مقربین کے پینے کے لئے ہے اس شراب میں تھوڑی سی طونی اس چشمہ تسنیم کی ہوگی عام قاعدہ ہے کہ شراب پانی یا سوڈا وغیرہ ملاکر پیتے ہیں لیکن اس شراب میں چشمہ تسنیم کی آمیزش ہوگی تسنیم کے چشمے کا پانی جنت کے تمام پانیوں سے اعلیٰ اور مزے میں برتر ہے اونچی جگہ سے اس کا پانی ٹپک ٹپک کر آتا ہے بعض علماء فرماتے ہیں اس کا منبع عرش کے نیچے ہے۔
تنافس حریصانہ رغبت کو کہتے ہیں یہاں حرص کا مطلب یہ ہے کہ یہاں وہ عمل بڑھ کر کرو جو ابرار کے درجہ تک پہنچادیں اور یہ شراب پینے کو ملے۔ بعض نے یوں کہا ہے کہ اس شراب میں مشک ملا ہوا ہوگا اس کا پینے والا جب ڈکار لے گا تو مشک کی خوشبو آئے گی۔
بہرحال ! سابقین اور مقربین تو تسنیم کا پنی براہ راست پئیں گے اور ابرار کے شراب میں چشمہ تسنیم کی ملونی ہوگی جس طرح یہاں شربت میں گلاب اور کیوڑہ وغیرہ کی ملونی ملاکر دیتے ہیں۔ اب آگے فریقین کے مجموعہ کا حال مذکور ہے یہاں تک فریقین کا ذکر علیحدہ علیحدہ فرمایا تھا۔ اب دنیا اور آخرت دونوں میں فریقین کا حال مذکور ہے۔
Ayah 83:29(29) بیشک جو لوگ مجرم یعنی کافر ہیں وہ دنیا میں ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔ یعنی ان کی تحقیر اور تذلیل کیا کرتے تھے۔
Ayah 83:30(30) اور جب یہ مسلمان ان کافروں کے سامنے سے ہو کر گزرتے ہیں تو وہ کافر آپس میں اشا رہے کرتے ہیں - مطلب یہ ہے کہ فقرائے مسلمین جب رئوسائے قریش کے آگے سے گزرتے ہیں تو یہ کفار رئوساء آپس میں اشارے کرتے ہیں اور سینیاں مارتے ہیں یعنی پھبتیاں کستے ہیں کہ دیکھو یہ وہ بیوقوف لوگ ہیں جو دنیا کے عیش اور مزوں کو محض عاقبت کے تو ہم اور تخیل پر چھوڑ بیٹھتے ہیں۔
فقرائے مسلمین سے مراد شاید حضرت عمار، خباب بلال اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں، امراً کفار قریش سے مراد ابوجہل اور عاص بن وائل ہیں بہرحال ! کفار کی یہ عام ذہنیت تھی کہ مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر ان پر اشارے بازی کرتے تھے۔
Ayah 83:31(31) اور جب یہ کافر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے۔ تو وہاں بھی ان مسلمانوں کا تذکرہ کے مزے لیتے تھے - یعنی ان مجرموں کا طریقہ دل آزاری صرف گلیوں اور بازاروں ہی میں نہ تھا بلکہ گھروں میں بھی فقرائے مسلمین کا تذکرہ کرکے مزے لیتے تھے اور دل لگیاں کرتے تھے مطلب یہ کہ دل آزاری کا یہ سلسلہ حاضر اور غائب دونوں حالتوں میں جاری تھا۔
Ayah 83:32(32) اور جب یہ کافران مسلمانوں کو دیکھتے تو کہتے ہیں یہ لوگ یقینا گم کردہ راہ ہیں - یعنی مسلمانوں کو گمراہ اور بےراہ کہتے تھے۔
Ayah 83:33(33) حالانکہ ان کافروں کو مسلمانوں پر کوئی نگراں اور نگہبان بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے - یعنی یہ کافر بجائے اس کے کہ اپنی نجات کی فکر کرتے الٹا مسلمانوں کو گمراہ بتاتے اور ان کی دل آزاری کرتے، اہل حق سے استہزاء اور اپنے انجام سے غفلت اور بےفکری یہ دنیا میں ان غریب مسلمانوں کے ساتھ طریقہ کار تھا۔ اب آگے قیامت میں ان کے ساتھ ان جرائم کی پاداش میں جو کچھ ہوگا وہ مذکور ہے۔
Ayah 83:34(34) پس آج کے دن مسلمان کافروں پر ہنسیں گے۔
Ayah 83:35(35) اور مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے - یعنی آخرت میں مسلمان کافروں پر ہنس رہے ہوں گے مسہریوں یا جڑائو تختوں پر بیٹھے کفار کا حشر اور ان کی بدحالی کا تماشہ دیکھتے ہوں گے۔
Ayah 83:36(36) واقعی کافروں کو ان کے کئے خوب پاداش اور بدلا ملا - یعنی جو کچھ کیا کرتی تھے کافروں نے اس کا خوب بدلا پایا۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے۔
ھل جوزی الکفار مایفعلونہ یالمومینن کہ جو کچھ کفار مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتے تھے اس کا بدلہ انہوں نے پالیا ہے۔
تم تفسیر سو رہ المطففین