Ayahs 83:1–6خلاصہ تفسیر
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی کہ جب لوگوں سے (اپنا حق) ناپ کرلیں تو پورے لے لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں (گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اسکے ذکر کرنے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی ذرا رعایت نہ کی جاوے تو اور زیادہ مذموم ہے، بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے اور چونکہ اصل مقصود ومذمت ہے کم دینے کی اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجاوے کہ ناپنے میں بھی کم دیتے اور تولنے میں بھی کم دیتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی نفسہ مدار مذمت کا نہیں اس لئے وہاں ناپ اور تول دونوں کا ذکر نہیں بلکہ ایک ہی کا ذکر کیا پھر تخصیص ناپ کی شاید اس لئے ہو کہ عرب میں زیادہ دستور کیل کا تھا خصوصاً اگر آیت مدنی ہو جیسا روح المعانی میں بروایت نسائی وابن ماجہ و بیہقی
اس کا نزول اہل مدینہ کے باب میں لکھا ہے تو اس وقت اس تخصیص کی وجہ زیادہ ظاہر ہے کیونکہ مدینہ میں کیل کا دستور مکہ سے بھی زیادہ تھا، آگے ایسا کرنے والوں کو ڈرایا گیا ہے کہ) کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے کہ وہ ایک بڑے سخت دن میں زندہ کرکے اٹھائے جاویں گے جس دن تمام آدمی رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (یعنی اس روز سے ڈرنا چاہئے اور تطفیف یعنی لوگوں کی حق تلفی سے توبہ کرنا چاہئے اس بعث وجزا کو سنکر جو مومن تھے وہ ڈرگے اور جو کافر تھے وہ انکار کرنے لگے، اس لئے آگے انکار پر تنبیہ فرما کر فریقین کی جزاء کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جیسا کفار لوگ جزا وسزا کے منکر ہیں) ہرگز (ایسا) نہیں (بلکہ جزا وسزا ضروری الوقوع ہے، جن اعمال پر جزا وسزا ہوگی وہ منضبط اور محفوظ ہیں اور اس مجموعہ کا بیان یہ ہے) بدکار (یعنی کافر) لوگوں کا نامہ عمل سجین میں رہے گا (وہ ایک مقام ساتویں زمین میں ہے جو مقام ہے ارواح کفار کا، کذافی تفسیر ابن کثیر عن کعب وفی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد وفرقد وقتادة میں منقول ہے، آگے ڈرانے کے لئے سوال ہے کہ) اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ سجین میں رکھا ہوا نامہ عمل کیا چیز ہے وہ ایک نشان کیا ہوا دفتر ہے (نشان سے مراد مہر ہے کمافی الدر المنثور عن کعب الاحبار فیختم ویوضع ای بعدالموت مقصود یہ ہوگا کہ اس میں تغیر و تبدیل کا کچھ احتمال نہیں پس حاصل اس کا اعمال کا محفوظ ہونا ہے جس سے جزا کا بحق ہونا ثابت ہوا آگے ان اعمال کی جزاء کا بیان ہے کہ) اس روز (یعنی قیامت کے روز) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی جو کہ روز جزاء کو جھٹلاتے ہیں اور اس (یوم جزا) کو تو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حد (عبدیت) سے گزرنے والا ہو مجرم ہو (اور) جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاویں تو یوں کہہ دیتا ہو کہ یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آتی ہیں (مطلب یہ بتلانا ہے کہ جو شخص روز قیامت کی تکذیب کرتا ہے وہ معتدی، اثیم، مکذب بالقرآن ہے آگے تکذیب روز جزاء پر جو صراحة مذکور ہے تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ لوگ اس کو غلط سمجھ رہے ہیں) ہرگز ایسا نہیں (اور کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ شاید ان کے پاس کوئی دلیل نفی کی ہوگی جس سے یہ استدلال کرتے ہوں گے ہرگز نہیں) بلکہ (اصل وجہ تکذیب کی یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر ان کے اعمال بد کا زنگ بیٹھ گیا ہے (اس سے استعداد قبول حق کی فاسد ہوگئی اسلئے براہ عناد انکار کرنے لگے آگے پھر انکار پر زجر ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھ رہے ہیں) ہرگز ایسا نہیں (آگے ویل کی کچھ تفصیل ہے کہ وہ خرابی یہ ہے کہ) یہ لوگ اس روز (ایک تو) اپنے رب (کا دیدار دیکھنے) سے روک دیئے جائیں گے پھر (صرف اسی پر اکتفا نہ ہوگا بلکہ) یہ دوزخ میں داخل ہوں گے پھر (ان سے) کہا جاوے گا کہ یہی ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے (اور چونکہ یہ لوگ یوم دین کی تکذیب میں جس طرح اپنی سزا کو جھٹلاتے تھے اسی طرح مومنین کی جزا کو بھی جھٹلاتے تھے، آگے اس پر تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مومنین کے اجروثواب کے منکر ہیں) ہرگز ایسا نہیں، (بلکہ ان کا اجر وثواب ضرور ہونے والا ہے جسکا بیان یہ ہے کہ) نیک لوگوں کا نامہ عمل علیین میں رہیگا (وہ ایک مقام ہے ساتویں آسمان میں جو مستقر ہے ارواح مومنین کا، کذافی تفسیر ابن کثیر عن کعب) اور (آگے تفحیم کے لئے سوال ہے کہ) آپ کو کچھ معلوم ہے کہ علیین میں رکھا ہوا نامہ عمل کیا چیز ہے وہ ایک نشان کیا ہوا دفتر ہے جس کو مقرب فرشتے (شوق سے) دیکھتے ہیں (اور یہ مومن کا بہت بڑا اکرام ہے جیسا کہ روح المعانی ہیں بتخریج عبد بن حمید حضرت کعب سے روایت ہے کہ جب ملائکہ مومن کی روح کو قبض کرکے لیجاتے ہیں تو ہر آسمان کے مقرب فرشتے اسکے ہاتھ ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ کر اس روح کو رکھ دیتے ہیں، پھر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم اس کا نامہ اعمال دیکھنا چاہتے ہیں چناچہ وہ نامہ عمل کھول کر دکھلایا جاتا ہے (مختصراً) آگے ان کی جزاء آخرت کا بیان ہے کہ) نیک لوگ بڑی آسائش میں ہوں گے مسہریوں پر (بیٹھے بہشت کے عجائب) دیکھتے ہوں گے (اے مخاطب) تو ان کے چہروں میں آسائش کی بشاشت پہچانے گا (اور) ان کو پینے کیلئے شراب خالص سربمہر جس پر مشک کی مہر ہوگی ملے گی اور حرص کرنے والوں کو ایسی چیز کی حرص کرنا چاہئے (کہ حرص کے لائق یہی ہے خواہ صرف شراب مراد لیجاوے خواہ کل نعمائے جنت یعنی شوق ورغبت کی چیز یہ نعمتیں ہیں، نہ کہ دنیا کی ناقص اور فانی لذتیں اور ان کی تحصیل کا طریق نیک اعمال ہیں، پس اس میں کوشش کرنا چاہئے) اور اس (شراب) کی آمیزش تسنیم (کے پانی سے) ہوگی (عرب عموماً شراب میں پانی ملا کر پیتے تھے تو اس شراب کی آمیزش کے لئے تسنیم کا پانی ہوگا، آگے تسنیم کی شرح ہے) یعنی ایک ایسا چشمہ جس سے مقرب لوگ پانی پئیں گے، (مطلب یہ کہ سابقین یعنی مقربین کو تو خالص پینے کو اس کا پانی ملے گا اور اصحاب الیمین یعنی ابرار کو اس کا پانی دوسری شراب میں ملا کر ملے گا، کذافی الدر المنثور عن قتادہ ومالک ابن الحارث وابن عباس وابن مسعود وحذیفہ، اور یہ مہر لگنا علامت اکرام کی ہے ورنہ وہاں ایسی حفاظت کی ضرورت نہیں، اور مشک کی مہر کا مطلب یہ ہے کہ جیسے قاعدہ ہے کہ لاک وغیرہ لگا کر اس پر مہر کرتے ہیں اور ایسی چیز کو طین ختام کہتے ہیں وہاں شراب کے برتن کے منہ پر مشک لگا کر اس پر مہر کردی جاوے گی، یہاں تک فریقین کی جزائے اخروی کا الگ الگ بیان تھا آگے مجموعہ فریقین کا مجموعہ حال دنیا وآخرت مذکور ہے یعنی) جو لوگ مجرم (یعنی کافر) تھے وہ ایمان والوں سے (دنیا میں تحقیرا) ہنسا کرتے تھے اور یہ (ایمان والے) جب ان کافروں کے سامنے سے ہو کر گزرتے تھے تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے (مطلب یہ کہ انکے ساتھ استہزا و تحقیر سے پیش آتے تھے) اور جب اپن گھروں کو جاتے تو (وہاں بھی ان کا تذکرہ کرکے) دل لگیاں (اور تمسخر) کرتے (مطلب یہ کہ غیبت و حضور ہر حالت میں انکی تحقیر و استہزاء کا مشغلہ رہتا، البتہ حضور میں اشارے چلا کرتے اور غیبت میں صراحة تذکرہ کرتے اور جب انکو دیکھتے تو یوں کہا کرتے کہ یہ لوگ یقیناً غلطی پر ہیں (کیونکہ کفار اسلام کو غلطی پر سمجھتے تھے) حالانکہ یہ (کافر) ان (مسلمانوں) پر نگرانی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے (یعنی ان کو اپنی فکر کرنا چاہئے تھا، ان کے پیچھے کیوں پڑگئے پس ان سے دو غلطیاں ہوئیں اول اہل حق کے ساتھ استہزاء پھر اپنی اصلاح سے بےفکری) سو آج (قیامت کے دن) ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر (بیٹھے ان کا حال) دیکھ رہے ہوں گے (درمنثور میں قتادہ سے منقول ہے کہ کچھ دریچے جھرو کے ایسے ہوں گے جن سے اہل جنت اہل نار کو دیکھ سکیں گے، پس ان کا برا حال دیکھ کر بطور انتقام کے ان پر ہنسیں گے آگے تقریر ہے اس سزا کی یعنی) واقعی کافروں کو انکے کئے کا خوب بدلہ ملا۔
معارف و مسائل
سورة تطفیف حضرت عبداللہ بن مسعود کے قول پر مکی سورت ہے عام مصاحف قرآن میں اسی بنا پر اس کو مکی لکھا ہے اور حضرت ابن عباس، قتادہ، مقاتل، ضحاک کے نزدیک مدنی سورت ہے مگر اس کی صرف آٹھ آیتیں مکی ہیں، امام نسائی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دیکھا کہ مدینہ کے لوگ جن کے عام معاملات کیل یعنی ناپ کے ذریعہ ہوتے تھے وہ اس معاملہ میں چوری کرنے اور کم ناپنے کے بہت عادی تھے اس پر یہ سورت وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ پہلی سورت ہے جو رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ پہنچتے ہی نازل ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ اہل مدینہ میں یہ رواج اس وقت عام تھا کہ جب خود کسی سے سودا لیتے تو ناپ تول پورا پورا لیتے تھے اور جب دوسروں کو بیچتے تو اس میں کمی اور چوری کیا کرتے تھے۔ اس سورت کے نازل ہونے پر یہ لوگ اس رسم بد سے باز آگئے اور ایسے باز آئے کہ آج تک اہل مدینہ ناپ تول پورا پورا کرنے میں معروف و مشہور ہیں (رواہ الحاکم والنسائی وابن ماجہ بسند صحیح از مظہری)
وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ، مطففین تطفیف سے مشتق ہے جس کے معنے ناپ تول میں کمی کرنے کے ہیں اور ایسا کرنے والے کو مطفف کہا جاتا ہے۔ قرآن حکیم کے اس ارشاد سے ثابت ہوا کہ تطفیف کرنا حرام ہے۔
تطفیف صرف ناپ تول ہی میں نہیں بلکہ حقدار کو اس کے حق سے کم دینا کسی چیز میں ہو تطفیف میں داخل ہے
قرآن و حدیث میں ناپ تول میں کمی کرنے کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ عام طور سے معاملات کا لین دین انہی دو طریقوں سے ہوتا ہے انہی کے ذریعہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حقدار کا حق ادا ہوگیا یا نہیں، لیکن یہ معلوم ہے کہ مقصود اس سے ہر ایک حقدار کا حق پورا پورا دینا ہے اس میں کمی کرنا حرام ہے، تو معلوم ہوا کہ یہ صرف ناپ تول کیساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر وہ چیز جس سے کسی کا حق پورا کرنا یا نہ کرنا جانچا جاتا ہے اس کا یہی حکم ہے خواہ ناپ تول سے ہو یا عدد شماری سے یا کسی اور طریقے سے ہر ایک میں حقدار کے حق میں کم دینا بحکم تطفیف حرام ہے۔
موطا امام مالک میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز کے رکوع سجدے وغیرہ پورے نہیں کرتا جلدی جلدی ختم کر ڈالتا ہے تو اس کو فرمایا لقد طففت یعنی تو نے اللہ کے حق میں تطفیف کردی، فاروق اعظم کے اس قول کو نقل کرکے حضرت امام مالک ؒ نے فرمایا لک شیئٍ وفاء وتطفیف یعنی پورا حق دینا یا کم کرنا ہر چیز میں ہے یہاں تک کہ نماز، وضو طہارت میں بھی اور اسی طرح دوسرے حقوق اللہ اور عبادات میں کمی کوتاہی کرنے والا تطفیف کرنے کا مجرم ہے اسی طرح حقوق العباد میں جو شخص مقررہ حق سے کم کرتا ہے وہ بھی تطفیف کے حکم میں ہے۔ مزدور ملازم نے جتنے وقت کی خدمت کا معاہدہ کیا ہے اس میں سے وقت چرانا اور کم کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ وقت کے اندر جس طرح محنت سے کام کرنے کا عرف میں معمول ہے اس میں سستی کرنا بھی تطفیف ہے اس میں عام لوگوں میں یہاں تک کہ اہل علم میں بھی غفلت پائی جاتی ہے، اپنی ملازمت کے فرائض میں کمی کرنے کو کوئی گناہی نہیں سمجھتا۔ اعاذنا اللہ منہ
حدیث حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خمس بخمس یعنی پانچ گناہوں کی سزا پانچ چیزیں ہیں۔ (1) جو شخص عہد شکنی کرتا ہے اللہ اس پر اس کے دشمن کو مسلط اور غالب کردیتا ہے۔ (2) جو قوم اللہ کے قانون کو چھوڑ کر دوسرے قوانین پر فیصلے کرتے ہیں ان میں فقرواحتیاج عام ہوجاتا ہے۔ (3) جس قوم میں بےحیائی اور زنا عام ہوجائے اس پر اللہ تعالیٰ طاعون (اور دوسرے وبائی امراض) مسلط کردیتا ہے۔ (4) اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں اللہ تعالیٰ ان کو قحط میں مبتلا کردیتا ہے۔ (5) جو لوگ زکوٰة ادا نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک دیتا ہے (ذکرہ القرطبی وقال خرجو البزار بمعناہ ومالک بن انس ایضا من حدیث ابن عمر) اور طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس قوم میں مال غنیمت کی چوری رائج ہوجائے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں دشمن کا رعب اور ہیبت ڈال دیتے ہیں۔ اور جس قوم میں دبوا یعنی سود خوری کا رواج ہوجائے ان میں موت کی کثرت ہوجاتی ہے اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ انکا رزق قطع کردیتے ہیں اور جو لوگ حق کے خلاف فیصلے کرتے ہیں ان میں قتل وخون عام ہوجاتا ہے اور جو لوگ معاہدات میں غداری کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمن مسلط کردیتا ہے (رواہ مالک موقوفا، ازمظہری)
فقر وفاقہ اور قحط وقطع رزق کو مختلف صورتیں
حدیث میں جن لوگوں کا رزق قطع کردینے کا ارشاد ہے اس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اس کو رزق سے بالکل محروم کردیا جائے اور یہ صورت بھی قطع رزق ہی میں داخل ہے کہ رزق موجود ہوتے ہوئے وہ اس کو کھا نہ سکے یا استعمال نہ کرسکے جیسے بہت سی بیماریوں میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے اور اس زمانے میں بہت عام ہے۔ اس طرح قحط کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اشیاء ضرورت مفقود ہوجائیں، اور یہ بھی ہوسکتی ہے کہ موجود بلکہ کثیر ہونے کے باوجود ان کی گرانی اتنی بڑھ جائے کہ خریداری مشکل ہوجائے جیسا کہ آجکل اس کا مشاہدہ اکثر چیزوں میں ہورہا ہے۔ اور حدیث میں فقر مسلط کرنے کا ارشاد ہے اسکے معنے صرف یہی نہیں کہ روپیہ پیسہ اور ضرورت کی اشیاء اسکے پاس نہ رہیں بلکہ فقر کے اصلی معنے محتاجی اور حاجتمندی کے ہیں۔ ہر شخص اپنے کاروباری اور ضروریات زندگی میں دوسروں کا جتنا محتاج ہو وہ اتنا ہی فقیر ہے۔ اس زمانے کے حالات پر غور کیا جائے تو انسان اپنے رہن سہن اور نقل و حرکت اور اپنے ارادوں کے پورا کرنے میں ایسے ایسے قوانین میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے کہ اس کے لقمہ میں کلمہ تک پر پابندیاں ہیں، اپنا مال موجود ہوتے ہوئے خریداری میں آزاد نہیں کہ جہاں سے چاہے کچھ خریدے، سفر میں آزاد نہیں کہ جب کہیں جانا چاہے چلا جائے۔ ایسی ایسی پابندیوں میں انسان جکڑا گیا ہے کہ ہر کام کے لئے دفتر گردی اور افسروں سے لے کر چپراسیوں تک کی خوشامد کئے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہے یہ سب محتاجی ہی تو ہے جسکا دوسرا نام فقر ہے۔ اس تفصیل سے وہ شبہات رفع ہوگئے جو حدیث کے ارشاد کے متعلق ظاہری حالات کے اعتبار سے ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 83:7–8سبحین اور علیین
كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ ، سجین، بکسر سین وتشدید جیم بروزن سکین و سجن سے مشتق ہے جس کے معنے تنگ جگہ میں قید کرنے کے ہیں۔ قاموس میں ہے کہ سجین کے معنے دائمی قید کے ہیں اور احادیث وآثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجین ایک مقام خاص کا نام ہے اور کفار فجار کی ارواح کا مقام یہی ہے اور اسی مقام میں انکے اعمال نامے رہتے ہیں، جسکا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اعمالنامے اس جگہ میں محفوظ کردیئے جاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی ایسی کتاب جامع ہو جس میں تمام دنیا کے کفار و فجار کے اعمال لکھدیئے جاتے ہیں۔
یہ مقام کس جگہ ہے اس کے متعلق حضرت برا بن عازب کی طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبحین ساتویں زمین کے نچلے طبق میں ہے اور علیین ساتویں آسمان میں زیر عرش ہے (اخرجہ البغوی بسندہ واخرجہ احمد وغیرہ از مظہری) بعض روایات حدیث میں یہ بھی ہے کہ سبحین کفار و فجار کی ارواح کا مستقر ہے اور علیین، مومین مستقین کی اروح کی جگہ ہے۔ جنت اور دوزخ کا مقام
بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے کہ جنت آسمان میں ہے جہنم زمین میں، اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت معاذ بن جبل سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے وال کیا گیا کہ قرآن کریم میں جو یہ آیا ہے کہ قیامت کے روز جہنم کو لایا جائے گا وجا یومئذ بجھنم اس کا مطلب کیا ہے، جہنم کو کہاں سے لایا جائے گا تو آپ نے فرمایا کہ جہنم کو ساتویں زمین سے لایا جائے گا۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم ساتویں زمین میں ہے وہیں سے بھڑک کر سارے سمندر اور دریا اس کی آگ میں شامل ہوجائیں گے اور سب کے سامنے آجائے گی۔ جہنم کے لائے جانیکا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے۔ اس طرح جن روایات میں یہ آیا ہے کہ سبحین جہنم کے ایک مقام کا نام ہے وہ بھی اس پر منطبق ہوگا ی، (مظہری) واللہ اعلم
Ayahs 83:9–13كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ، مرقوم کے معنے اس جگہ مختوم کے ہیں۔ یعنی مہر لگی ہوئی۔ امام بغوی اور ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ جملہ مقام سجین کی تفسیر نہیں، بلکہ اس سے پہلے جو کتب الفجار آیا ہے اس کا بیان ہے، معنے یہ ہیں کہ کفار و فجار کے اعمالنامے مہر لگا کر محفوظ کردئے جاویں گے کہ ان میں کسی کمی بیشی اور تغیر کا امکان نہ رہے گا اور انکے محفوظ کرنے کی جگہ سجین ہے یہیں کفار کی ارواح کو جمع کردیا جائے گا۔
Ayah 83:14(آیت) كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ، ران رین سے مشتق ہے جس کے معنے زنگ اور میل کے ہیں مطلب یہ ہے کہ انکے دلوں پر انکے گناہوں کا زنگ لگ گیا ہے اور جس طرح طرح زنگ لوہے کو کھا کر مٹی بنا دیتا ہے اسی طرح ان گناہوں کے زنگ نے ان کے دل کی اس صلاحیت کو ختم کردیا جس سے بھلے برے کی تمیز ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر اسنے توبہ کرلی اور اس پر نادم ہو کر آگے اپنے عمل کو درست کرلیا تو یہ سیاہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور دل اپنی اصلی حالت پر منور ہوجاتا ہے اور اگر اس نے توبہ نہ کی بلکہ اپنے گناہوں میں زیادتی کرتا چلا گیا تو یہ سیاہی اس کے سارے قلب پر چھاجاتی ہے اسی کا نام ران ہے جو آیت قرآن بل ران علی قلوبھم میں مذکور ہے (رواہ البغوی وکذا اخرج احمد الترمذی وصححہ والنسائی و ابن ماجہ ابن حبان والحاکم، از مظہری) لفظ کلا جو آیت کے شروع میں ہے اس کو حرف ردع کہتے ہیں جس معنے دفع کرنے اور زجروتنبیہ کرنیکے ہیں۔ پہلی آیتوں میں کفار کی تکذیب کا ذکر تھا کہ وہ آیات قرآن کو کہانیاں کہ کر جھٹلاتے ہیں۔ اس آیت میں لفظ کلا سے اس پر زجروتنبیہ ہے کہ ان جاہلوں نے اپنے گناہوں کے انبار میں مبتلا ہو کر اپنے دلوں کی اس نورانیت اور صلاحیت کو ختم کردیا ہے جس سے حق و باطل پہچانا جاتا ہے اور یہ صلاحیت حق تعالیٰ ہر انسان کی جبلت اور فطرت میں رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ تکذیب کسی دلیل یا عقل وفہم کی بناء پر نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے قلوب اندھے ہوچکے ہیں انہیں بھلا برا نظر ہی نہیں آتا۔
Ayahs 83:15–17(آیت) كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ، یعنی قیامت کے روز یہ کفار فجار اپنے رب کی زیارت سے محروم پس پردہ روک دیئے جاویں گے، یہ انکے اس عمل کی سزا ہوگی کہ انہوں نے دنیا میں حق کو نہیں پہچاناتو اب اپنے رب کی زیارت کے قابل نہیں رہے۔ حضرت امام مالک ؒ اور شافعی ؒ نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین اور اولیا اللہ کو حق تعالیٰ کی زیارت ہوگی ورنہ پھر کفار کے محبوب رہنے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوتا۔
فائدہ
بعض اکابر علماء نے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت سے حق تعالیٰ کی محبت پر مجبور ہے اسی لئے دنیا کے عام کفار و مشرکین چاہے کتنے ہی کفر و شرک میں مبتلا ہوں اور اللہ جل شانہ کی ذات وصفات کے متعلق باطل عقیدے رکھتے ہوں مگر اتنی بات سب میں مشترک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت سب کے دلوں میں ہوتی ہے اور اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اسی کی جستجو اور رضا جوئی کے لئے عبادتیں کرتے ہیں، راستہ غلط ہوتا ہے اس لئے منزل مقصود پر نہیں پہنچتے مگر طلب اسی منزل حق کی ہوتی ہے وجہ استدلال کی یہ ہے کہ اگر کفار میں حق تعالیٰ کی زیارت کا شوق نہ ہوتا تو ان کی سزا میں شہ کہنا جاتا کہ وہ زیارت سے محروم رہیں گے کیونکہ جو شخص کسی کی زیارت کا طالب ہی نہیں بلکہ متنفر ہے اس کے لئے یہ کوئی سزا نہیں کہ اس کو اس کی زیارت سے محروم کیا جائے۔
Ayahs 83:18–20(آیت) كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ ، علیین بعض حضرات کے نزدیک علو کی جمع ہے اور مراد اعلیٰ درجہ کا علو اور بلندی ہے اور فراء کے نزدیک یہ ایک موقع کا نام ہے وزن جمع پر آیا ہے جمع نہیں، اور لفظ سبحین کی تحقیق میں اوپر گزرچکا ہے کہ حضرت براء بن عازب کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ علیین ساتویں آسمان پر زیر عرش ایک مقام ہے جس میں مومنین کی ارواح اور اصحائف اعمال رکھے جاتے ہیں، اور آگے جو کتب مرقوم مذکور ہے یہ بھی علیین کی تفسیر نہیں بلکہ ابرار کے نامہ اعمال کا بیان ہے جسکا ذکر اوپر ان کتب الابرار میں آیا ہے۔
Ayahs 83:21–25يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ، یشہد، شہود سے مشتق ہے جس کے معنے حاضر ہونے اور مشاہدہ کرنیکے آتے ہیں۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ مراد آیت کی یہ ہے کہ ابرار و صالحین کی کتاب الاعمال کو مقربین دیکھتے ہوں گے اور مراد مقربین سے فرشتے ہیں اور دیکھنے سے مراد اس کی نگرانی اور حفاظت ہے، مطلب یہ ہے کہ ابرار و صالحین کے صحائف اعمال مقرب فرشتوں کی نگرانی میں ہوں گے (قرطبی) اور شہود سے مراد حضور کے معنی لئے جائیں تو یشہدہ کی ضمیر کتاب کے بجائے علیین کی طرف راجع ہوگی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ مقربین بارگاہ کی ارواح اسی مقام علیین میں حاضر ہوں گی کیونکہ یہ ہی مقام ان کی ارواج کا مستقر بنایا گیا ہے۔ جس طرح سجین کفار کی ارواح مستقر ہے اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شہدا کی ارواح اللہ تعالیٰ کے نزدیک سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوں گی جو جنت کے باغات اور نہروں کی سیر کرتی ہوں گی اور ان کے رہنے کی جگہ قندیل ہوں گے جو عرش کے نیچے معلق ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شہدا کی ارواح تحت العرش رہیں گی اور جنت کی سیر کرسکیں گی اور سورة یٰسین میں جو حبیب نجار کے واقعہ میں آیا ہے۔ (آیت) قیل ادخل الجنہ قال یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی، اس سے معلوم ہوا کہ حبیب نجار موت کے ساتھ ہی جنت میں داخل ہوگئے اور بعض روایات حدیث سے بھی ارواح مومنین کا جنت میں ہونا معلوم ہوتا ہے، ان سب کا حاصل ایک ہی ہے کہ مستقر ان ارواح کا ساتویں آسمان پر تحت العرش ہے اور یہی مقام جنت کا بھی ہے ان ارواح کو جنت کی سیر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اور یہاں اگرچہ یہ حال صرف مقربین کا ان کی اعلیٰ خصوصیات اور فضیلت کی وجہ سے بیان کیا گیا ہے مگر درحقیقت یہی مستقر تمام مومنین کی ارواح کا بھی ہے جیسا کہ حضرت کعب بن مالک کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ۔
انما نسمة المومن طائر یعلق فی شجر الجنة حتے ترجع الی جسدہ یوم القیمة (رواہ مالک والنسائی بسند صحیح)
مومن کی روح ایک پرندہ کی شکل میں جنت کے درختوں میں معلق رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے روز وہ اپنے جسم میں پھر لوٹ جائے۔
اسی مضمون کی ایک حدیث ام ہانی کی روایت سے مسند احمد اور طبرانی میں آئی ہے (مظہری)
مقر ارواح یعنی موت کے بعد انسانی روحوں کا مقام کہاں ہے
اس معاملے میں روایات حدیث بظاہر مختلف ہیں، سجین اور علیین کی تفسیر میں جو روایات اوپر مذکور ہوئی ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ارواح کفار سجین میں رہتی ہیں جو ساتویں زمین میں ہے اور ارواح مومنین علیین میں رہتی ہیں جو ساتویں آسمان پر زیر عرش ہے اور مذکور الصدر روایات میں بعض سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ارواح کفار جہنم میں اور ارواح مومنین جنت میں رہیں گی۔ اور بعض روایات حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مومنین و کفار دونوں کی روحیں ان کی قبروں میں رہتی ہیں جیسا کہ حضرت برا بن عازب کی طویل حدیث میں ہے کہ جب مومن کی روح کو آسمان میں فرشتے لیجاتے ہیں تو حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے اس بندے کا اعمالنامہ علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ اس کو میں نے زمین ہی سے پیدا کیا ہے اور مرنے کے بعد اسی میں لوٹاؤں گا اور پھر اسی زمین سے ان کو دوبارہ زندہ کرکے نکالوں گا، اس حکم پر فرشتے اس کی روح کو قبر میں لوٹا دیتے ہیں۔ اسی طرح کافر کی روح کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور یہی حکم ہوگا کہ اس کو اس کی قبر میں لوٹا دو۔ امام ابن عبدالبر نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ سب کی ارواح بعد الموت قبر ہی میں رہتی ہیں۔ ان میں پہلی اور دوسری روایات میں جو یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ بعض سے ارواح مومنین کا ........ علیین میں رہنا معلوم ہوتا ہے اور بعض سے جنت میں رہنا، غور کیا جائے تو یہ کوئی اختلاف نہیں کیونکہ مقام علیین بھی ساتویں آسمان پر زیر عرش ہے اور جنت کا بھی یہی مقام خود قرآن کریم کی تصریح سے ثابت ہے (آیت) عند سدرة المنتھی عندھا جنة الماوی اس میں تصریح ہے کہ جنت سندرة المنتہی کے پاس ہے اور سدرہ کا ساتویں آسمان میں ہونا حدیث سے ثابت ہے اسلئے مقام ارواح جب علیین ہوا تو وہ جنت کے متصل ہے اور ان ارواح کو جنت کے باغات کی سیر نصیب ہے اسلئے ان کا مقام جنت بھی کہا جاسکتا ہے۔
اسی طرح کفار کی ارواح سجین میں ہیں اور ساتویں زمین میں ہے اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ جہنم بھی ساتویں زمین میں ہے اور اہل سجین کو جہنم کی تپش اور ایذائیں پہنچتی رہیں گی اسلئے انکا مقام جہنم میں کہہ دینا بھی صحیح ہے۔ البتہ اوپر جس روایت میں ارواح کا قبر میں رہنا معلوم ہوتا ہے بظاہر پچھلی دونوں روایتوں سے بہت مختلف ہے اس کی تطبیق بیہقی زمانہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے تفسیر مظہری میں یہ بیان کی ہے کہ یہ بات کچھ بعید نہیں کہ اصل مستقر ارواح کا علیین اور سجین ہی ہوں مگر ان ارواح کا ایک خاص رابطہ قبروں کے ساتھ بھی قائم ہو۔ اس رابطہ کی حقیقت تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا مگر جس طرح آفتاب ماہتاب آسمان میں ہیں اور ان کی شعاعیں زمین پر پڑ کر اس کو روشن بھی کردیتی ہیں گرم بھی۔ اسی طرح علیین و سجین کی ارواح کا کوئی رابطہ معنویہ قبروں سے ہوسکتا ہے اور ان تمام اقوام کی تطبیق میں حضرت قاضی ثناء اللہ ؒ کی تحقیق سورة نازعات کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ روح کی دو قسمیں ہیں ایک جسم لطیف ہے جو انسان کے بدن میں حلول کرتا ہے اور وہ مادی اور عنصری جسم ہے مگر لطیف ہے نظر نہیں آتا، اسی کو نفس کہا جاتا ہے۔ دوسری روح جوہر مجرد ہے مادی نہیں، اور وہ روح مجرد ہی روح اول کی حیات ہے اسلئے اس کو روح الروح کہہ سکتے ہیں، انسان کے جسم سے تعلق تو ان دونوں قسم کی روحوں کا ہے مگر پہلی قسم جسم انسانی کے اندر رہتی ہے اسکے نکلنے ہی کا نام موت ہے۔ دوسری روح کا اس پہلی روح سے تعلق قریب تو ہے مگر اس تعلق کی حقیقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ مرنے کے بعد روح اول تو آسمانوں میں لیجائی جاتی ہے پھر قبر میں لوٹا دیجاتی ہے اس کا مستقر قبر ہی ہے اسی پر عذاب وثواب ہوتا ہے اور روح مجرد علیین یا سجین میں رہتی ہے۔ اسطرح اقوام جمع ہوگئے مستقر ارواح کا جنت یا علیین میں یا اسکے بالمقابل جہنم یا سجین میں ہونا روح مجرد کے اعتبار سے ہے اور انکار مستقر قبر میں ہونا روح کی قسم اول یعنی نفس کے اعتبار سے ہے جو جسم لطیف ہے اور مرینکے بعد قبر میں رہتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 83:26–28(آیت) وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ، تنافس کے معنے ہے چند آدمیوں کا کسی خاص مرغوب و محبوب چیز کے حاصل کرنے کے لئے جھپٹا دوڑنا تاکہ دوسروں سے پہلے وہ اس کو حاصل کرلیں، یہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے غفلت شعار انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آج تم لوگ جن چیزوں کو مرغوب مطلوب سمجھ کر ان کے حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو۔ یہ ناقص اور فانی نعمتیں اس قابل نہیں کہ ان کو مقصود زندگی سمجھ کر ان کے لئے مسابقت کرو بلکہ ان میں تو اگر قناعت وایثار سے کام لے کر یہ سمجھ لو کہ یہ چند روزہ راحت کا سامان ہاتھن سے نکل ہی گیا تو کچھ بڑے صدمے کی بات نہیں، ایسا خسارہ نہیں جس کی تلافی نہ ہوسکے، البتہ تنافس اور مسابقت کرنے کی چیز یہ جنت کی نعمتیں ہیں جو ہر حیثیت سے مکمل بھی ہیں اور دائمی بھی، اکبر مرحوم نے خوب فرمایا
یہ کہاں کا فسانہ ہے سود و زیاں، جو گیا سو گیا جو ملا سوملا
کہو ذہن سے فرصت عمر ہے کم، جو دلا تو خدا ہی کی یاد دلا
Ayahs 83:29–36(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ اہل باطل کے طرز عمل کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کفار اہل باطل مومین اہل حق پر استہزا ہنستے اور دل لگی کرتے ہیں اور جب اہل حق ان کے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو آنکھ کے اشارے کرتے ہیں جس سے مقصود بھی ان کی اشتہزا اور ایذا رسانی ہوتی ہے۔ پھر جب یہ کفار اہل باطل اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹتے ہیں تو مومنین کے ساتھ جو تمسخر اور استہزا کیا ہے اس کا باہم تذکرہ مزے لے کر کرتے ہیں کہ ہم نے خوب ان لوگوں کو ذلیل کیا۔ اور جب کفار مومنین کو دیکھتے ہیں تو بظاہر ہمدردی کے لہجہ میں اور درحقیقت تمسخر کیلئے یہ کہتے ہیں کہ یہ بیچارے بڑے سادہ لوح بیوقوف ہیں ان کو محمد ﷺ نے گمراہ کردیا ہے۔
آجکل کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت وہ لوگ جو کچھ نئی تعلیم کی نحوست سے دین وآخرت سے بےفکر ہوچکے ہوتے ہیں خدا اور رسول پر ایمان برائے نام رہ جاتا ہے وہ علما وصلحا کے ساتھ بعینہ اسی طرح کا معاملہ کرتے ہیں، حق تعالیٰ مسلمانوں کو اس عذاب الیم سے نجات عطا فرماویں۔ مومین صالحین کے لئے اس آیت میں تسلی کا کافی سامان ہے کہ ان کے ہنسنے کی پروانہ کریں، کسی نے خوب کہا ہے۔
ہنسے جانے سے جبتک ہم ڈریں گے
زمانہ ہم پہ ہنستا ہی رہے گا
تمت سورة التطفیف والحمد اللہ لیلة یوم الاثنین 21 شعبان 9131