83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 83:1

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ڈنڈی مارنے 1 والوں کے لیے ہلاکت ہے

1 تطفیف کا لغوی مفہوم :۔ مُطَفِّفِیْنَ ۔ طفیف بمعنی معمولی اور حقیر چیز اور طفّف بمعنی ناپ کا پیمانہ بھرتے وقت تھوڑا سا کم بھرنا یا پیمانہ ہی تھوڑا سا چھوٹا رکھنا تاکہ غلہ لینے والے کو یہ معلوم نہ ہوسکے کہ اسے اس کا حق تھوڑا سا کم دیا جارہا ہے۔ عرب میں زیادہ تر اشیاء کو ناپ کردینے کا رواج تھا۔ تول کردینے کا کم تھا۔ تاہم تھا ضرور۔ ہمارے ہاں زیادہ تر تول کردینے کا رواج ہے۔ تول کر کم دینے کے لیے ہمارے ہاں ڈنڈی مارنے کا محاورہ عام ہے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ ڈنڈی مارنے سے کیا گیا ہے پھر ڈنڈی مارنا اس لحاظ سے زیادہ ابلغ ہے کہ دیتے وقت ڈنڈی مار کر چیز کم دی جاسکتی ہے اور لیتے وقت ڈنڈی مار کر چیز تھوڑی سی زیادہ لی جاسکتی ہے۔ نیت کا بگاڑ ہونے کے لحاظ سے کسی کو حق سے کم دینا اور خود لیتے وقت حق سے زیادہ لینا دونوں ہی ایک جیسے جرم یعنی کبیرہ گناہ ہیں۔
Ayah 83:2

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

ایسے لوگ جب خود ناپ کرلیتے ہیں تو پورا 2 لیتے ہیں

2 ڈنڈی مارنے کی مختلف صورتیں :۔ ناپ کر اپنا حق پورا لینا کوئی جرم کی بات نہیں۔ یہ جرم صرف اس وقت بنتا ہے جب اپنا حق تو پورا لیا جائے اور دوسروں کو کم دیا جائے۔ پھر اس جرم میں کمی بیشی کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اپنا حق بھی کم لے اور دوسروں کو بھی کم دے۔ بالفاظ دیگر اس کا پیمانہ یا باٹ ہی چھوٹاہو اسی سے وہ لاتا بھی ہو اور دیتا بھی ہو اور ڈنڈی بھی نہ مارتا ہو۔ اس صورت میں بھی یہ جرم ہے مگر جرم کی شدت کم ہوجاتی ہے۔ دوسری یہ کہ آدمی لیتے وقت پورا یا زیادہ لے اور دیتے وقت کم دے۔ اس صورت میں جرم دگنا بلکہ تگنا ہوجاتا ہے۔ لین دین کی اصل بنیاد عدل ہے یعنی پورا پورا دو ۔ اور قرآن کریم میں بیشمار مقامات پر اس کی سخت تاکید آئی ہے کہ جب تولو تو سیدھی ڈنڈی سے تولو اور اور کسی کو اس کا حق کم نہ دو ۔ پورا یا زیادہ لینا اور دوسروں کو کم دینا اتنا بڑا جرم ہے جس کی وجہ سے سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل ہوا تھا۔ اسلام نے مسلمانوں کو عدل سے بھی اگلے درجہ یعنی احسان یا ایثار کی ہدایت فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی اپنا حق لیتے وقت تھوڑے سے کم پر اکتفا کرلے اور دیتے وقت تھوڑا سا زیادہ دے دے۔ چناچہ ایک دفعہ آپ مدینہ کی منڈی میں تشریف لے گئے۔ ایک تولا غلہ تول رہا تھا اسے آپ نے ہدایت فرمائی کہ زِن وارجح (نسائی، کتاب البیوع) یعنی تول اور تھوڑا سا جھکتا تول۔ غور فرمائیے جس معاشرہ میں ایسا دستور رواج پا جائے اس میں کوئی لین دین کا تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے ؟ خ جھکتا تولنے کی ہدایت :۔ اور جو شخص جھکتا تول کر دے رہا ہے اسے جب اس کا حق ملے گا تو وہ بھی جھکتا ہی ملے گا۔ اور اسے بھی کوئی کسر نہ رہے گی پھر ایسے معاشرہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکتوں کا جو نزول ہوگا اس کا اندازہ تجربہ سے ہی کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 83:3–4

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول 3 کردیتے ہیں تو گھٹا کردیتے ہیں

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں

3 یعنی دوسروں کو ان کا حق کم دینے یا خود اپنے حق سے زیادہ وصول کرنے کے جرم میں مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا نہ روز آخرت پر ایمان ہوتا ہے اور نہ اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی پر۔ اگر ان کا اس محاسبہ پر ایمان ہوتا تو کبھی ایسی بدنیتی اور مفاد پرستی کے کام نہ کرتے۔
Ayahs 83:5–6

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک بڑے دن 4 کے لئے

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جب سب لوگ اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے

4 وہ بڑا دن اس لحاظ سے ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام جن و انس کا اس دن حساب لیا جائے گا۔ اور علی رؤس الشہادات ان کا فیصلہ کیا جائے گا۔
Ayahs 83:7–11

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہرگز نہیں 5 ۔ بدکردار لوگوں کے اعمال نامے قید خانے 6 کے دفتر میں ہوں گے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور آپ کیا جانیں کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک کتاب ہے، لکھی ہوئی

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے ہلاکت ہے

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں

5 یعنی تمہارا یہ خیال باطل ہے کہ نہ قیامت آنی ہے اور نہ تمہارا محاسبہ ہونا ہے۔ بلکہ تمہارا محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا۔ 6 سجین۔ سجن بمعنی قید خانہ، جیل اور سجن بمعنی عدالت کا ثبوت جرم کے بعد بطور سزا کسی کو قید میں ڈال دینا۔ اور سجین سے مراد وہ مقام یا دفتر ہے جہاں بدکردار لوگوں کے اعمال نامے بھی محفوظ کرلیے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی ارواح بھی تاقیام قیامت اسی مقام پر قید رکھی جاتی ہیں۔ بعض اسلاف کے نزدیک یہ مقام سات زمینوں کے نیچے ہے۔
Ayah 83:12

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اسے ہر وہ شخص جھٹلاتا ہے جو حد 7 سے بڑھنے والا گنہگار ہے

7 یعنی روز جزا کا منکر صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جسے نہ اللہ کی قدرت کاملہ پر ایمان ہو نہ اس کی صفت عدل پر اور نہ اس کی حکمت پر، جو شخص اللہ کی ان صفات پر یقین رکھتا ہو وہ قیامت کے دن کا انکار کر ہی نہیں سکتا۔ اور جب اسے روز جزا کا یقین نہیں رہتا تو پھر وہ ہر طرح کے گناہوں پر دلیر ہوجاتا ہے۔
Ayah 83:13

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

اور جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ : یہ تو پہلے لوگوں کی داستانیں 8 ہیں

8 بالآخر اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ جب اسے اخروی عذاب وثواب سے متعلق اللہ کی آیات سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے اجی چھوڑو ان باتوں کو۔ یہ تو وہی پرانی باتیں ہیں جنہیں سن سن کر ہمارے کان بھی پک گئے ہیں۔
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

ہر گز یہ بات نہیں بلکہ ان لوگوں کے دلوں پر ان 9 کے برے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے

9 گناہ کرنے سے دل پر سیاہ نقطہ پڑنا :۔ اصل بات یہ نہیں کہ ہماری آیات میں کوئی شک و شبہ ہے یا ان میں تاثیر کی قوت نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ گناہ کر کرکے ان کے دل مسخ اور زنگ آلود ہوچکے ہیں۔ ان میں حق و باطل کو پرکھنے کی تمیز ہی باقی نہیں رہ گئی۔ اس آیت کی تفسیر حدیث میں اس طرح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے۔ پھر اگر وہ گناہ چھوڑ دے استغفار کرے اور توبہ کرلے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو نقطہ بڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ دل پر چھا جاتا ہے۔ اور یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
Ayahs 83:15–16

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں یقینا ایسے لوگ ! اس دن اپنے پروردگار (کے دیدار) سے محروم 10 رکھے جائیں گے

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر یقینا وہ جہنم میں گرنے والے ہیں

10 اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہونے کی نعمت صرف اہل جنت کو حاصل ہوگی اور لذت و سرور کے لحاظ سے یہ نعمت جنت کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی اور جب اللہ اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا تو جنتی لوگ بس ادھر ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔ جو لوگ روز آخرت کے منکر تھے انہیں یہ نعمت کبھی میسر نہ ہوسکے گی۔
Ayah 83:17

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر (انہیں) کہا جائے گا : یہی وہ چیز ہے جسے تم جھٹلاتے 11 تھے

11 یعنی جہنم میں داخل کرنے کے بعد ان سے سوال کیا جائے گا کہ بتاؤ یہ جہنم کا عذاب پرانے لوگوں کی داستان ہے یا ایک ٹھوس حقیقت ؟ آج تو تمہارا یہ مغالطہ دور ہو ہی چکا ہوگا۔
Ayahs 83:18–20

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ نیک لوگوں 12 کا اعمال نامہ بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں 13 ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور آپ کیا جانیں کہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر کیا ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی

12 فاجر اور ابرار کا لغوی مفہوم :۔ یہاں فجار کے مقابلہ میں ابرار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فَجَرَ کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا اور فجر کو فجر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے آسمان پر نمودار ہوجاتی ہے۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو وسیع پیمانے پر دین کی نافرمانی کرنے والا ہو اور ہر وقت گناہوں میں منہمک رہتا ہو اور گناہوں سے تائب نہ ہو۔ اس کے مقابلہ میں ابرار ہے۔ برّ کے معنی نیکی، نیکی کے کام اور بر کے معنی وسیع خشک قطعہ زمین ہے گویا بر کے لفظ میں نیکی کے علاوہ وسعت کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور بر دراصل نیکی کو نہیں بلکہ ہر دم نیکی پر مائل رہنے والی خصلت کو کہتے ہیں کہ جب کسی نیکی کا موقع آئے اسے فوراً سرانجام دے دیا جائے اور بارّ وہ شخص ہے جو ایسی خصلت رکھتا ہو اور اسی کی جمع ابرار ہے۔ 13 یعنی جس طرح سجین بدکردار لوگوں کی ارواح کا قید خانہ اور ان کے اعمالناموں کے جمع ہونے کا دفتر ہے۔ اسی طرح علیین ابرار کی ارواح کا مستقر ہے اور ان کے اعمالنامے اسی مقام پر محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ بعض اسلاف کے قول کے مطابق یہ مقام سات آسمانوں کے اوپر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
Ayahs 83:21–23

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے 14 ہیں

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بلاشبہ نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے نظارے کریں گے

14 یعنی علیین ایسا بلند مرتبہ مقام ہے کہ وہاں ہر وقت اللہ کے مقرب فرشتے موجود رہتے ہیں یا اللہ کے مقرب بندوں کی ارواح وہاں موجود رہتی ہیں۔ یا مقرب فرشتے وہاں ابرار کے اعمالناموں کو دیکھتے اور پڑھ کر خوش ہوتے ہیں اور قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی دیں گے۔
Ayahs 83:24–25

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

آپ ان کے چہروں 15 پر خوشحالی کی رونق معلوم کریں گے

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

انہیں سربمہر خالص شراب پلائی جائے گی

15 یعنی جنت کی تمام نعمتوں سے مزے اڑائیں گے۔ شہنشاہوں کی طرح اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے پررونق چہرے ہی یہ بتا رہے ہوں گے کہ وہ جنت کی نعمتوں میں بڑی خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی نگاہیں بڑی تیز ہوں گی۔ وہ وہاں بیٹھے بیٹھے ہی دوسرے اہل جنت کے اعمال دیکھ لیا کریں گے۔ اسی طرح اگر انہیں دنیا کا کوئی ایسا ساتھی یاد آئے گا جو دوزخ میں پڑا ہوگا۔ وہ اس کے حالات سے باخبر ہونا چاہیں گے تو اس کا بھی نظارہ کرسکیں گے۔
Ayahs 83:26–27

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جس کی مہر کستوری 16 کی ہوگی اور (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ وہ اس بات میں رغبت کریں۔

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی

16 جنت کی شراب کے خواص :۔ دنیا کی شراب بدبودار ہوتی ہے اور ذائقہ تلخ، پینے سے اس کی سڑانڈ فوراً دماغ تک جاپہنچتی ہے جس سے انسان کے حواس مختل ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس جنت میں شراب کی یہ خاص قسم رحیق کی خوشبو ایسی ہوگی جیسے کستوری کی۔ اس کی مہر میں لاکھ یا مٹی یا موم کے بجائے کستوری لگائی گئی ہوگی اور اس میں دنیا کی شراب والی کوئی قباحت نہیں ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ رحیق یقیناً ایسی نعمت ہے جس پر لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے اور اس کے حصول کے لیے نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
Ayahs 83:28–31

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پئیں 17 گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

مجرم لوگ (دنیا میں) ایمانداروں پر ہنسا کرتے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو ایک دوسرے کو آنکھیں مار کر اشارے کرتے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور اپنے گھروں کو لوٹتے تو خوش گپیاں کرتے لوٹتے

17 یعنی ابرار کے لیے تو (رحیق مختوم) ہوگی اور مقربین کے لیے بھی یہی شراب ہوگی لیکن اس میں تسنیم کی آمیزش بھی ہوگی۔ تسنیم جنت میں ایک چشمہ کا نام ہے شاید اس چشمہ کے پانی کی ملاوٹ سے وہ شراب مزید خوشگوار بن جاتی ہوگی۔
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ایمان والوں کو دیکھتے تو کہا کرتے کہ : یقینا یہی لوگ گمراہ 18 ہیں

18 ان چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی چار حرکتوں کا ذکر فرمایا۔ اور یہ سب مسلمانوں کا تمسخر اڑانے اور ان پر پھبتیاں کسنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو گمراہ تو اس لحاظ سے کہتے تھے کہ مسلمان زہد و ریاضت میں اپنی جانیں کھپاتے اور دنیا کی لذتوں پر اخروی لذتوں کو ترجیح دیتے تھے۔ کافر یہ کہتے تھے کہ کیا یہ کھلی گمراہی نہیں کہ سب گھر بار اور عیش و آرام کو چھوڑ کر ایک شخص کے پیچھے لگ گئے ہیں اور اپنے آبائی دین کو ترک کر بیٹھے ہیں۔ محض اس خیال سے کہ آخرت میں انہیں جنت ملے گی۔ بھلا ان بیوقوفوں کو یہ کیسا فاسد خیال دامن گیر ہوا ہے کہ دنیا کی یقینی لذتوں کو چھوڑ کر آخرت کی تصوراتی لذتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ یہی وہ باتیں تھیں جنہیں دہرادہرا کردہ خود بھی خوش ہوتے رہتے تھے اور مسلمانوں کی طرف اشارے بھی کرتے اور ان کا مذاق بھی اڑاتے رہتے تھے۔
Ayahs 83:33–35

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ وہ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے 19 گئے تھے

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

سو آج ایماندار کافروں پر ہنس رہے ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے (ان کا حال) دیکھیں گے

19 یعنی اللہ نے انہیں مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجا تھا کہ ان کی نظروں میں مسلمانوں میں جو جو غلطیاں پائی جاتی ہیں ان کی وہ نشاندہی کیا کریں۔ یعنی اے کفار مکہ ! اگر مسلمان تمہارے خیال کے مطابق غلط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں پھر بھی تمہیں تو کچھ نہیں کہتے۔ پھر کیا اللہ نے تمہیں ان پر فوجدار بنا کر تو نہیں بھیجا کہ اگر تمہیں نہیں ستاتے یا نہیں چھیڑتے تب بھی تمہیں یہ حق ہے کہ ان کو تنگ کرو۔ ان کا مذاق اڑاؤ اور ان پر پھبتیاں کسو۔
Ayah 83:36

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

کافروں کو ان کی کرتوتوں کا ضرور بدلہ 20 دیا جائے گا۔

20 کفار مکہ مسلمانوں سے ایسی بدسلوکی اپنے دین کی حمایت میں ایک اچھا کام یعنی کار ثواب سمجھ کر کرتے تھے۔ قیامت کے دن ان کافروں کو ان کے اس کار ثواب کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا جب یہی خستہ حال مومن جنت میں اونچی مسندوں پر براجمان ہوں گے اور وہیں سے ان کافروں کا نظارہ کر رہے ہوں گے۔ ان کا مضحکہ اڑائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ بتاؤ احمق دیوانے اور گمراہ تم تھے یا ہم ؟