82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 82:1

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ 2 جائے گا

2 اِنْفَطَرَتْ : فطر کے معنی کسی چیز کو لمبائی میں یوں پھاڑنا کہ اس میں شگاف پڑجائے اور فطور شگاف کے معنی میں آتا ہے۔ اس لحاظ سے انفطر کا معنی چِر جانا بھی درست ہے اور پھٹ جانا بھی۔ جو صورت بھی ہو اس سے آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔
Ayah 82:2

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور ستارے بکھر کر گر 3 پڑیں گے

3 انتثار کا لغوی مفہوم :۔ اِنْتَثرَتْ : نثر ہراس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز سے جھڑ کر پراگندہ ہوجائے۔ اور انتثار ناک جھاڑنے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح ناک کی رطوبت کے اجزا نہایت بےترتیبی سے جھڑ کر زمین پر ادھر ادھر جا پڑتے ہیں بس یہی اس لفظ کا معنی ہے۔ نیز واضح رہے کہ یہ لفظ صرف غیر جاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ستاروں کی آپس میں باہمی کشش ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ نہایت بےترتیبی سے ادھر ادھر گرپڑیں گے۔
Ayah 82:3

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور سمندر پھاڑ 4 دیئے جائیں گے

4 فُجِّرَتْ : فجر بمعنی کسی چیز کو وسیع پیمانے پر پھاڑنا اور فجر کو فجر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے افق پر نمودار ہوتی ہے اور فجر کے معنی پانی وغیرہ کو پھاڑ کر وسیع علاقے تک چلانا یا جاری کرنا۔ گویا سمندروں کو پھاڑ کر اس کے پانی کو دور دور علاقوں پر زمین میں بہا دیا جائے گا۔ پیچھے سورت التکویر میں سمندروں کے لیے سُجّرَتْ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی ان میں تلاطم بپا ہوجائے گا اور پانی باہر دور دور تک پھیل جائے گا۔ پھر یہی پانی گیسوں میں تبدیل ہو کر جلنے لگے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہرحال یہ مختلف اوقات کی مختلف حالتیں مذکور ہوئی ہیں۔
Ayah 82:4

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور قبریں زیر و زبر کردی 5 جائیں گی

5 بعثر کا لغوی مفہوم :۔ بُعْثِرَتْ ۔ بعثر دراصل دو لفظوں کا مرکب ہے۔ بعث اور عثر کا۔ بعث کا ایک معنی (زمین وغیرہ کا) کھودنا اور ڈھونڈنا یا ڈھونڈھ نکالنا بھی ہے۔ اور عثر کے معنی کسی دوسری چیز کے دوران کسی اور چیز کا خود بخود ظاہر ہوجانا، کھل جانا یا سامنے آجانا۔ مطلب یہ ہے کہ جب قبروں کو الٹ پلٹ کیا اور کھودا جائے گا تو مردے خود بخود زمین سے باہر نکل پڑیں گے۔
Ayah 82:5

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

(اس دن) ہر شخص جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے 6 کیا چھوڑا

6 اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ دنیا میں اس نے پہلی عمر میں کون کون سے کام کیے تھے۔ اور بعد میں کون کون سے اور اعمالناموں میں یہ سب باتیں ترتیب وار درج ہوں گی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان کے وہ کون کون سے کام تھے جو اس نے اپنی زندگی میں سرانجام دیئے تھے۔ یہ ماقدّمت ہے اور ایسے کون کون سے کام تھے جن کا ثواب یا عذاب اس کی موت کے بعد بھی اس کے اعمال نامہ میں درج ہوتا رہا۔ یہ ما اخّرت ہے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے اسلام میں کسی نیک کام کی طرح ڈالی اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا ثواب کچھ کم ہو اور جس نے اسلام میں کوئی بری طرح ڈالی۔ اس پر اس کے اپنے عمل کا بھی بار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد عمل کریں بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا بار کچھ کم ہو۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب الحث علی الصدقۃ۔۔ )
Ayahs 82:6–7

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان ! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے دھوکے میں ڈالے 7 رکھا

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا پھر متوازن بنایا

7 یعنی تجھ پر مہربانیاں کرنے والے پروردگار کی مہربانیوں کا تقاضا یہ تھا کہ تو اس کا احسان مند ہوتا اور اس کا فرمانبردار بن کر رہتا مگر تو اس دھوکے میں پڑگیا کہ تو جو کچھ بنا ہے از خود ہی بن گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی تیرے رب کا کرم ہے کہ تو جو کچھ چاہے کرتا رہتا ہے اور وہ فوری طور پر تم پر کوئی عذاب نازل نہیں کردیتا۔ گویا تو نے اپنے رب کی مہربانیوں کو کمزوری پر محمول کیا اور اسی دھوکے میں پڑگیا کہ تیرے رب کی مملکت میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ حالانکہ وہ صرف کریم ہی نہیں بلکہ وہ عادل بھی ہے اور قہار اور جبار بھی ہے وہ پکڑتا دیر سے ہے مگر اس کی گرفت اتنی ہی شدید ہوتی ہے۔
Ayah 82:8

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

(اور) جس صورت میں بھی اس نے چاہا تمہیں جوڑ جاڑ 8 کر تیار کردیا

8 یعنی اس نے رحم مادر میں تجھے پیدا کیا تو یہ نہیں کیا کہ تمہاری ایک ٹانگ چھوٹی ہو اور دوسری بڑی۔ یا ناک کا ایک نتھنا لمبوترا ہو اور دوسرا چپٹا ہو۔ بلکہ تیرے سب اعضاء متوازن بنائے۔ اسی ایک بات سے ان لوگوں کے نظریہ کی تردید ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ انسان از خود بنا ہے اور یہ سب فطرت کے اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اندھی فطرت یا اتفاقات میں اتنا شعور ہے کہ انسان کے اعضاء کی تخلیق میں اس قدر یکسانیت اور موزونیت کا لحاظ رکھ سکے ؟ پھر اس نے اعضاء کی تخلیق کے بعد تم میں وہ قوتیں اور استعدادیں پیدا کیں جو تمہاری زندگی کے لیے ضروری تھیں۔ پھر ہر انسان کو الگ الگ شکل و صورت عطا کی اور وہ شکل دی اور نقش بنائے جو اللہ خود چاہتا تھا۔ اس طرح ظاہری اور باطنی قوتوں میں حسین امتزاج پیدا کرنے کے بعد تجھے ماں کے پیٹ سے باہر نکالا۔
Ayahs 82:9–11

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

ہرگز نہیں بلکہ تم تو روز جزا 9 کو جھٹلاتے ہو

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

جو معزز ہیں اعمال لکھنے والے

9 یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے انکار کی وجہ یہ نہیں کہ تمہیں بات کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ تم جزا و سزا کے قانون الٰہی کے منکر ہو۔ تمہاری خواہش یہ ہے کہ تم جیسے بھی دنیا میں زندگی بسر کرتے رہو تم سے مرنے کے بعد کوئی محاسبہ نہ ہو اور یہ کس قدر ظلم اور بےانصافی کی بات ہے کہ تمہیں قوتیں اور تصرف و اختیار تو تمام مخلوق پر دیا جائے لیکن تم پر ذمہ داری کچھ بھی نہ ہو ؟ یہ دھوکا تمہیں کیسے لگ جاتا ہے ؟
Ayahs 82:12–15

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے 10 ہو

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

یقینا نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور بدکردار جہنم میں

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اس میں داخل ہوں گے

10 اعمال لکھنے والے فرشتے :۔ حالانکہ ہم نے تم پر نگران چھوڑ رکھے ہیں جو ہر وقت تمہارے ساتھ لگے رہتے ہیں وہ تمہاری ایک ایک حرکت، ایک ایک قول اور ایک ایک فعل کو ساتھ ساتھ ریکارڈ کرتے جارہے ہیں اور تمہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہ لکھنے والے نہایت معزز فرشتے ہیں۔ لکھنے میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ تمہاری کسی حرکت کو ریکارڈ نہ کریں یا تم نے کوئی کام نہ کیا ہو اور وہ تمہارے اعمال میں درج کردیں۔ پھر وہ تمہاری اس نیت سے بھی واقف ہیں جس کے تحت تم نے کوئی فعل سرانجام دیا تھا۔ لہذا ان کے اندراج میں کسی غلطی کا ہونا ناممکن ہے۔
Ayah 82:16

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور جہنم سے غائب 11 نہ رہ سکیں گے

11 یعنی نہ اس سے بھاگ کر کسی اور جگہ پناہ لے سکیں گے اور نہ جہنم میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکل سکیں گے۔
Ayahs 82:17–18

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور آپ کیا جانیں کہ روز جزا 12 کیا ہے ؟

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

پھر ہاں، آپ کیا جانیں کہ روز جزا کیا ہے ؟

12 یعنی آپ خواہ کتنا ہی سوچیں اور غور کریں اس ہولناک دن کی پوری کیفیت کبھی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ مختصراً یہ سمجھ لو کہ اس دن جتنے رشتے ناطے ہیں سب ختم ہوجائیں گے۔ ہر ایک کو بس اپنی ہی پڑی ہوگی۔ کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ نہ ہی اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔
Ayah 82:19

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

جس دن کوئی کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی نہ 13 کرسکے گا اور اس دن حکم صرف اللہ کا چلے گا

13 دنیا میں کئی طرح کے لوگوں کا دوسروں پر حکم چلتا ہے۔ مثلاً بادشاہوں کا اپنی رعیت پر، افسروں کا اپنے ماتحتوں پر، ماں باپ کا اپنی اولاد پر، مالک کا اپنے نوکر یا غلام پر مگر اس دن یہ سب حکم ختم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کو دم مارنے کی جرأت نہ ہوگی۔ بلاشرکت غیرے صرف اسی اکیلے کا اس دن حکم چلے گا جسے سب تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔