Ayahs 83:1–5یہاں سے سوہٴ تطفیف شروع ہو رہی ہے، یہ لفظ طفف سے باب تفعیل کا مصدر ہے اور مطففین اسی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ تطفیف کا معنی ہے گھٹانا اور کم کرنا۔ لفظ کالوا کیل سے لیا گیا ہے ماضی معروف جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ عربی میں برتن کے بنائے ہوئے پیمانہ سے بھر کردینے کو کیل کہتے ہیں اور اکتالوا لفظ کیل سے باب افتعال سے ماضی کا صیغہ ہے۔
اس آیت شریفہ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے جو لوگ دوسروں کے ہاتھ مال بیچتے ہیں تو کم ناپتے ہیں یا کم تولتے ہیں۔ تولتے وقت ڈنڈی مار دیتے ہیں اور ایک طرف کسی ترکیب سے پلڑا جھکا دیتے ہیں اور لوگوں سے مال لیتے ہیں تو پورا تلواتے ہیں اور پورا نپواتے (یعنی پیمائش میں پورا لیتے) ہیں۔ ان لوگوں کو قیامت کے دن کی پیشی یاد دلائی ہے اور فرمایا ہے کہ تطفیف کرنے والوں کے لیے اس دن بڑی خرابی ہوگی جس دن رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے ذرا سی حقیر دنیا کے لیے اپنے ذمہ حقوق العباد لازم کرتے ہیں اور دھوکہ فریب دے کر تجارت کرتے ہیں اس کا وبال آخرت میں بھی ہے اور دنیا میں بھی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ناپ تول کرنے والوں سے ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں تمہارے سپرد کی گئیں ہیں ان دونوں کے بارے میں گزشتہ امتیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
ناپ تول میں کمی کرنے کا رواج حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم میں تھا۔ انہوں نے ان کو بارہا سمجھایا وہ نہ مانے بالآخر عذاب آیا اور ہلاک ہوگئے جیسا کہ سورة شعراء میں اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ جو لوگ ناپ تول میں کمی کریں گے ان کا رزق کاٹ دیا جائے گا یعنی ان کے رزق میں کمی کردی جائے گی یا رزق کی برکت اٹھا لی جائے گی، ناپ تول میں کمی کر کے دینا حرام ہے۔ ایسا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی برخلاف اس کے جھکا کر تولنے کا حکم ہے۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لے جا رہے تھے ایک ایسے شخص پر گزر ہوا جو مزدوری پر تول رہا تھا (یعنی بیچے والے کا مال زیادہ مقدار میں تھا ایک شخص اس کی طرف سے تول رہا تھا اور اس نے اپنے اس عمل کی مزدوری طے کرلی تھی) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زن وارجع کہ تم تولو اور جھکا کر تولو۔
جس طرح ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے اسی طرح سے دیگر امور میں کمی کرنے سے کہیں گناہ ہوتا ہے اور کہیں ثواب میں کمی ہوجاتی ہے۔ مومن ہونے کے اعتبار سے جو ذمہ داری قبول کی ہے ہر شخص اسے پوری کرے۔ حقوق اللہ بھی پورے کرے اور حقوق العباد بھی، کسی قسم کی کٹوتی نہ کرے۔ موطا امام مالک (رح) میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن الخطاب ؓ نماز عصر سے فارغ ہوئے تو ایک شخص سے ملاقات ہوئی وہ نماز عصر میں حاضر نہیں ہوا تھا اس سے دریافت فرمایا کہ تم نماز عصر سے کیوں بچھڑ گئے ؟ اس شخص نے کچھ عذر پیش کیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : طففت کہ تو نے اپنے حصے میں کمی کردی، یعنی جماعت کا جو ثواب ملتا اس سے محروم رہ گیا اور اپنا نقصان کر بیٹھا۔ یہ روایت لکھ کر حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں : ویقال لکل شی وفاء وتطفیف (کہ ہر چیز کے لیے پورا کرنا بھی ہے اور کم کرنا بھی ہے) ۔ نماز کی ایک تطفیف اوپر مذکور ہوئی (جس شخص کو تنبیہ کی تھی کہ نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوا تھا) ۔
نماز کی یا حج کی سنتیں چھوڑ دینا روزہ رکھنا لیکن اس میں غیبتیں کرنا، تلاوت کرنا لیکن غلط پڑھنا یہ سب طفف میں شامل ہے۔ یعنی ثواب میں کمی ہوجاتی ہے اور بعض مرتبہ تلاوت غلط ہونے کی وجہ سے نماز ہی نہیں ہوتی، اگر زکوٰۃ پوری نہ دے تو یہ بھی طفف ہے۔
جو لوگ حکومت کے کسی بھی ادارہ میں یا کسی انجمن یا مدرسہ وغیرہ میں ملازم ہیں انہوں نے معروف اصول و قواعد یا معاملہ اور معاہدہ کے مطابق جتنا وقت طے کیا ہے اس وقت میں کمی کرنا اور تنخواہ پوری لینا یہ سبب طفف ہے۔
جو لوگ اجرت پر کسی کے ہاں کام کرتے ہیں ان کے ذمہ لازم ہے کہ جس کام پر لگا دیا گیا ہے اسے صحیح کریں اور پورا کریں۔ اگر غلط کریں گے یا پورا نہ کریں گے تو طفف ہوگا اور پوری اجرت لینا حرام ہوگا۔ یہ جو مزدوری کا طریقہ ہے کہ کام لینے والا دیکھ رہا ہے تو ٹھیک طرح کام کر رہے ہیں اگر وہ کہیں چلا گیا تو سگریٹ سلگا لی یا حقہ پینے لگے یا باتیں چھوڑنے لگے یا عالمی خبروں پر تبصرہ کرنے لگے یہ سب طفف ہے، ہر مزدور اور ملازم پر لازم ہے کہ صحیح کام کرے اور وقت پورا دے۔ جو شخص کسی کام پر مامور ہے اور اس کام کرنے کے لیے ملازمت کی ہے اگر مقررہ کام کے خلاف کرے گا اور رشوت لے گا تو یہ طفف ہے۔ رشوت تو حرام ہے ہی تنخواہ بھی حرام ہوگی۔ چونکہ جس کام کے لیے دفتر میں بیٹھایا گیا وہ کام اس نے نہیں کیا۔ (پورے مہینہ میں کتنی خلاف ورزی کی اسی حساب سے تنخواہ حرام ہوگی) ۔
آیت شریفہ میں فکر آخرت کی طرف متوجہ فرمایا۔ ارشاد ہے ﴿ اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ004 لِيَوْمٍ عَظِيْمٍۙ005 يَّوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ006﴾ (کیا یہ لوگ یہ یقین نہیں رکھتے کہ یہ ایک بڑے دن کے لیے اٹھائے جائیں گے جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے) ۔
Ayah 83:6حضرت ابن عمر ؓ نے ﴿ يَّوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ006﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ یہ (رب العالمین کے حضور کھڑے ہونا) اس دن میں ہوگا جس میں یہ لوگ اتنے زیادہ پسینہ میں کھڑے ہوں گے جو (نیچے سے لے کر) آدھے کانوں تک ہوگا۔ (جیسے کوئی شخص نہر میں کھڑا ہو) ۔
ہر مومن پر لازم ہے کہ ہر معاملہ میں اور ہر عمل میں اس بات کو سامنے رکھے کہ مجھے مرنا ہے قیامت کے دن حاضری دینا ہے، حساب دینا ہے، اعمال کی جزا و سزا ملنا ہے اگر اس بات کا مراقبہ کرتا رہے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ نہ حقوق اللہ ضائع ہوں گے نہ حقوق العباد، جو گناہ سرزد ہوتے ہیں ان میں سب سے بڑا دخل اسی کا ہے کہ قیامت کے دن سے اور حساب کتاب کی طرف سے غفلت رہتی ہے۔
Ayah 83:7اہل کفر جو قیامت کے منکر ہیں ان کے بارے میں فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (کہ ہرگز ایسا نہیں ہے) جیسا کہ تم خیال کرتے ہو بلکہ جزاء و سزا کا وقوع ضرور ہوگا اور کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرے اعمال تو ہوا میں اڑ گئے وہ کہاں محفوظ ہیں اور ان کی پیشی کا کیا راستہ ہے، کیونکہ بندوں کے سب اعمال محفوظ ہیں اور منضبط ہیں، کافروں کے اعمال نامے سجین میں ہیں، جو ساتویں زمین میں کافروں کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے یہ اعمال نامے محفوظ ہیں روز جزاء یعنی قیامت کے دن ہر ایک کا اپنا اپنا اعمال نامہ سامنے آجائے گا جو عمل کرنے والے پر حجت ہوگا اور انکار کی گنجائش نہیں ہوگی۔
Ayahs 83:8–12﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌؕ008 ﴾ (اور آپ کو معلوم ہے کہ سجین میں رکھا ہو اعمال نامہ کیا ہے ؟ ) (بحذف مضاف) ای ما کتاب السجین ﴿ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ009﴾ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس میں اعمال لکھے ہیں۔
بعض اہل تفسیر نے مرقوم بمعنی مختوم لیا ہے مطلب یہ ہے کہ اس اعمال نامہ پر مہر لگی ہوئی ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل کا احتمال نہیں۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ0010﴾ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
﴿الَّذِيْنَ يُكَذِّبُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِؕ0011﴾ جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں۔ ﴿ وَ مَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ0012﴾ اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر وہ شخص جو حد سے گزرنے والا ہے گنہگار ہے۔ اس میں یہ بتادیا کہ روز جزا کو وہی لوگ جھٹلاتے ہیں جو سرکشی میں آگے نکل گئے اور گناہگاری کو اپنا طریقہ بنا لیا۔
Ayah 83:13﴿اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَؕ0013﴾ (جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو یوں کہہ دیتا ہے کہ یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آتی ہیں) ۔
Ayahs 83:14–17اس کے بعد فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (یعنی ہرگز نہیں کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب نہ ہو) ﴿ بَلْٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 0014﴾ (بلکہ ان کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ بیٹھ گیا ہے) برے اعمال میں کفر و شرک بھی ہے اور دیگر معاصی بھی ہیں اس زنگ کی وجہ سے حق بات کرنے اور حق سمجھنے سے بچتے ہیں اور عناد پر اصرار کرتے ہیں۔
گناہوں کا جو زنگ ہے وہ اہل ایمان کے قلوب کا بھی ناس کھود تیا ہے۔ حضرت اغر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب مومن بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ داغ لگ جاتا ہے پس اگر توبہ و استغفار کرلیتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر توبہ و استغفار نہ کیا بلکہ گناہوں میں بڑھتا چلا گیا تو یہ (سیاہ داغ) بھی بڑھتا رہے گا یہاں تک کہ اس کے دل پر غالب آجائے گا۔ پس یہ داغ وہ ران ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے ﴿ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 0014﴾ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی وجہ سے دل پر زنگ آجاتا ہے۔ دل کا زنگ دور کرنے کے لیے حضور اقدس ﷺ نے استغفار کو تجویز فرمایا۔ دل کی صفائی ستھرائی کے لیے استغفار نسخہ کیمیا ہے۔ اس کو گناہوں کی آلائش سے صاف کرنا لازم ہے۔ لہٰذا اگر کبھی گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ و استغفار کریں۔ جو لوگ توبہ و استغفار کی طرف متوجہ نہیں ہوتے گناہوں کی وجہ سے ان کے دل کا ناس ہوجاتا ہے پھر نیکی بدی کا احساس تک نہیں رہتا اور اس احساس کا ختم ہوجانا بد بختی کی علامت ہے۔
Ayahs 83:18–21اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ فجار کا اعمال نامہ سجین میں رہے گا۔ اب یہاں یہ فرمایا کہ نیک بندوں کا اعمال نامہ علیین میں رہے گا اور یہ بھی فرمایا کہ جانتے ہو علیین کیا ہے پھر خود ہی فرمایا کہ وہ نشان کیا ہوا دفتر ہے جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں۔
سجین ساتویں زمین میں ایک مقام ہے جو ارواح کفار کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور علیین ساتویں آسمان میں مومنین کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ حضرات براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں مومنین کی موت کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مومنین کی موت کے وقت فرشتے تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے روح اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف نکل کر چل، چناچہ اس کی روح اس طرح سہولت سے نکل آتی ہے جیسے مشکیزہ میں سے (پانی کا) قطرہ بہتا ہوا باہر آجاتا ہے۔ پس اسے حضرت ملک الموت (علیہ السلام) لے لیتے ہیں، ان کے ہاتھ میں لیتے ہی دوسرے فرشتے (جو دور تک بیٹھتے ہوتے ہیں) پل بھر بھی ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے حتیٰ کہ اسے لے کر اسی کفن اور خوشبو میں رکھ کر آسمان کی طرف چل دیتے ہیں، اس خوشبو کے متعلق ارشاد فرمایا کہ زمین پر جو کبھی عمدہ سے عمدہ خوشبو مشک کی پائی گئی ہے اس جیسی وہ خوشبو ہوتی ہے۔
پھر فرمایا کہ اس روح کو لے کر فرشتے (آسمان کی طرف) چڑھنے لگتے ہیں اور فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ان کا گزر ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ کون پاکیزہ روح ہے ؟ وہ اس کا اچھے سے اچھا نام لے کر جواب دیتے ہیں جس سے دنیا میں بلایا جاتا تھا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے، اسی طرح پہلے آسمان تک پہنچتے ہیں اور آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں چناچہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ (اور وہ اس روح کو لے کر اوپر چلے جاتے ہیں) حتیٰ کہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں، ہر آسمان کے مقربین دوسرے آسمان تک اسے رخصت کرتے ہیں (جب ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندہ کو کتاب علیین میں لکھ دو اور کافر کی موت کے بارے میں فرمایا کہ بلاشبہ جب کافر بندہ دنیا سے جانے اور آخرت کا رخ کرنے کو ہوتا ہے تو سیاہ چہروں والے فرشتے آسمان سے اس کے پاس آتے ہیں جن کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں اور اس کے پاس اتنی دور تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے پھر ملک الموت تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضگی کی طرف نكل، ملک الموت کا یہ فرمان سن کر روح اس کے جسم میں ادھر ادھر بھاگی پھرتی ہے۔ لہٰذا ملک الموت اس کی روح کو جسم سے اس طرح نکالتے ہیں جیسے بوٹیاں بھوننے کی سیخ بھیگے ہوئے اون سے صاف کی جاتی ہے (یعنی کافر کی روح کو جسم سے زبردستی اس طرح سے نکالتے ہیں جس طرح بھیگا ہوا اون کانٹے دار سیخ پر لپٹا ہوا ہو اور اس کو زور سے کھینچا جائے) پھر اس کی روح کو ملک الموت اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں لیتے ہی دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی ان کے پاس نہیں چھوڑتے، حتیٰ کہ فوراً ان سے لے کر اس کو ٹاٹوں میں لپیٹ دیتے ہیں (جو ان کے پاس ہوتے ہیں) اور ان ٹاٹوں میں ایسی بدبو آتی ہے جیسے کبھی کسی بدترین سڑی ہوئی مردہ نعش سے روئے زمین پر بدبو پھوٹی ہو، وہ فرشتے اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں اور فرشتوں کی جس جماعت پر بھی پہنچتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ کون خبیث روح ہے ؟ وہ اس کا برے سے برا وہ نام لے کر کہتے ہیں جس سے وہ دنیا میں بلایا جاتا تھا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے حتیٰ کہ وہ اسے لے کر پہلے آسمان تک پہنچتے ہیں اور کھلوانا چاہتے ہیں مگر اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے (الاعراف : 40) فرمایا ہے : ﴿ لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَاب السَّمَآءِ وَ لَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ﴾۔ (ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھلے جائیں گے اور نہ کبھی جنت میں داخل ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہ چلا جائے) اور اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہیں جاسکتا لہٰذا وہ بھی جنت میں نہیں جاسکتے۔
پھر اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ اس کو کتاب سجین میں لکھ دو جو سب سے نیچی زمین میں ہے، چناچہ اس کی روح (وہیں سے) پھینک دی جاتی ہے، پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
Ayahs 83:22–24ان آیات میں ابرار یعنی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا انعام و اکرام ذکر فرمایا ہے (جن کی کتاب کے بارے میں اوپر والی آیت میں فرمایا کہ وہ علیین میں ہے) ۔ ارشاد فرمایا کہ نیک بندے نعمتوں میں ہوں گے، مسہریوں پر (تكیے لگائے ہوئے) دیکھ رہے ہوں گے یعنی جنت کی نعمتیں اور وہاں کے مناظر ان کے پیش نظر ہوں گے۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے اگرچہ بعد مکانی ہوگا۔
مزید فرمایا کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے چہروں میں نعمت کی تروتازگی پہچان لے گا۔ یعنی ان کو دیکھنے ہی سے معلوم ہوجائے گا کہ یہ حضرات اپنی نعمتوں میں خوب زیادہ خوش و خرم ہیں جیسا کہ سورة دہر میں فرمایا ﴿وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ0011﴾ (کہ اللہ تعالیٰ انہیں تروتازگی اور خوشی عطا فرمائے گا) یہ خوشی حقیقی اور اصلی ہوگی۔ اندر کی خوشی سے چہروں پر ترو تازگی ظاہر ہوگی۔
Ayahs 83:25–26اس کے بعد نیک بندوں کو شراب کا تذکرہ فرمایا ﴿ يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ0025﴾ (انہیں خالص شراب میں سے پلایا جائے گا۔ وہ برتنوں میں لائی جائے گی ان پر مہر لگی ہوگی) ۔ مزید فرمایا ﴿ خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ﴾ (یہ مہر مشک کی ہوگی) اس مشک کی مہر کی وجہ سے اس کی لذت چند در چند دوبالا ہوجائے گی، یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ جس شراب کی مہر مشک کی ہوگی اور مشک بھی وہاں کا ہوگا۔ اس شراب کی اپنی لذت اور کیفیت کا کیا عالم ہوگا۔ وہاں کی شراب میں نہ نشہ ہوگا نہ اس سے سر میں درد ہوگا۔ جیسا کہ سورة واقعہ میں فرمایا : ﴿ لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ0019﴾ (نہ اس کی وجہ سے سر میں درد ہوگا نہ عقل میں فتور آئے گا) ۔ ابھی شراب کا وصف بیان کرنا باقی ہے۔ درمیان میں اہل ایمان کو ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ﴿ وَ فِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ0026﴾ (اور حرص کرنے والوں کو اسی میں حرص کرنا چاہیے) ۔
مطلب یہ ہے کہ دنیا والے دنیا کی مرغوبات اور لذیذ چیزوں میں لگے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے بڑھ کر ان چیزوں کو حاصل کرنے میں مشغول ہیں۔ ان چیزوں میں دنیا کی شراب بھی ہے جس کے پینے سے نشہ آتا ہے جو وجود سے عدم میں لے جاتا ہے اور اس کے گھونٹ بھی مشکل سے اترتے ہیں اور منہ میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔ جہالت کی وجہ سے لوگ اسی میں دل دیئے بیٹھے ہیں۔ وہ تو کوئی چیز رغبت کی ہے ہی نہیں جس میں رغبت اور منافست کی جائے دنیا کی شراب پی کر گناہگار نہ ہوں اور آخرت کی شراب سے محروم نہ ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں یہ لوگ داخل نہ ہوں گے : 1 شراب پینے کی عادت والا۔ 2 قطع رحمی کرنے والا۔ 3 جادو کی تصدیق کرنے والا۔
Ayahs 83:27–28﴿ وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍۙ0027﴾ (تسنیم ایک ایسا چشمہ ہے جس میں مقرب بندے پئیں گے) ۔
معالم التنزیل میں حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مقربین بندے خالص تسنیم پئیں گے اور دوسرے جنتیوں کی شراب میں اس کی آمیزش ہوگی (گو ان کی شراب بھی خالص ہوگی) مگر مقربین کو ان کی شراب میں بھی شراب ملے گی جو تسنیم کے چشمہ میں بہ رہی ہوگی۔ اس میں سے دوسرے جنتیوں کی شراب میں بھی اس میں سے کچھ حصہ ملا دیا جائے گا۔
وقولہ تعالیٰ عینًا نصب علی المدح وقال الزجاج علی الحال من تسنیم والباء اما زائدة ای یشربھا او بمعنی من ای یشرب منھا او علی تضمـین یشرب معنی یروی ای یشرب الراوین بھا۔ (من روح المعانی)
Ayahs 83:29–36نیک بندوں کا ایمان اور خوشی کا انجام بیان فرمانے کے بعد مجرمین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اہل ایمان کے مخالف ہیں ان سے بغض اور دشمنی رکھتے ہیں دنیا میں ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب کہیں اہل ایمان بیٹھے ہوتے اور یہ لوگ وہاں سے گزرتے تو اہل ایمان کا مذاق بنانے کے لیے آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے کہ دیکھو کہ یہ جا رہے ہیں پھٹیچر، جنت کے دعوے دار، تن پر کپڑا نہیں، پاؤں میں جوتا نہیں، بنتے ہیں بڑے اللہ کے پیارے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت خباب، حضرت بلال اور دیگر فقراء مومنین ؓ پر ایسی پھبتیاں کستے تھے اور جب یہ مجرمین اپنے گھروں کو جاتے تھے تو خوش ہوتے ہوئے جاتے تھے کہ دیکھو ہم نے بڑا کمال کیا، فقیروں کا مذاق بنایا۔
مومنین کے سامنے اشاروں سے ان کا مذاق کیا کرتے تھے اور اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو یوں کہتے تھے کہ یقینی طور پر یہ گمراہ ہیں۔ ﴿ وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَؕ0033﴾ (حالانکہ یہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے) ۔ یعنی ان کو اہل ایمان کا نگران نہیں بنایا گیا۔ قیامت کے دن ان کے بارے میں ان سے نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ گمراہ تھے یا ہدایت پر تھے، ان مجرموں کو خود اپنے بارے میں غور کرنا چاہیے کہ ہم ہدایت پر ہیں یا گمراہ ہیں آخرت میں معاملہ الٹ جائے گا کافر عذاب میں اور مصیبت میں ہوں گے اور اہل ایمان مسہریوں پر بیٹھے دیکھتے ہوں گے دنیا میں اہل کفر اہل ایمان کا مذاق بناتے تھے اس روز اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے۔ اسی کو فرمایا ﴿ فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَۙ0034﴾ نیز اہل ایمان کی فضیلت اور شرف اور مرتبہ کی بلندی ظاہر کرتے ہوئے فرمایا۔ ﴿ عَلَى الْاَرَآىِٕكِ 1ۙ يَنْظُرُوْنَؕ0035﴾ (یہ اہل ایمان مسہریوں پر دیکھتے ہوں) کافروں کی بدحالی ان کے سامنے ہوگی۔ ﴿ هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ (رح) 0036﴾ (کافروں کو کفر کا اور اعمال بد کا جو بدلہ ملے گا وہ ان کے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہوگا) ان میں سے یہ بھی ہے کہ انہوں نے دنیا میں اہل ایمان کا مذاق بنایا۔