Explained with ayahs 29–36
یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذار سانی کے درپے ہوجاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے اللہ فرماتا ہے کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ہے اخسؤا فیھا الخ یعنی اس جہنم میں پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
سورة الْمُطَفِّفِيْن 14
اس مختصر سے فقرے میں ان مذاق اڑانے والوں کو بڑی سبق آموز تنبیہ کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بالفرض وہ سب کچھ غلط ہے جس پر مسلمان ایمان لائے ہیں۔ لیکن وہ تمہارا تو کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں۔ جس چیز کو انہوں نے حق سمجھا ہے اس کے مطابق وہ اپنی جگہ خود ہی ایک خاص اخلاقی رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اب کیا خدا نے تمہیں کوئی فوجدار بنا کر بھیجا ہے کہ جو تمہیں نہیں چھیڑ رہا ہے اس کو تم چھیڑو اور جو تمہیں کوئی تکلیف نہیں دے رہا ہے اسے تم خواہ مخواہ تکلیف دو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ اہل باطل کے طرز عمل کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کفار اہل باطل مومین اہل حق پر استہزا ہنستے اور دل لگی کرتے ہیں اور جب اہل حق ان کے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو آنکھ کے اشارے کرتے ہیں جس سے مقصود بھی ان کی اشتہزا اور ایذا رسانی ہوتی ہے۔ پھر جب یہ کفار اہل باطل اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹتے ہیں تو مومنین کے ساتھ جو تمسخر اور استہزا کیا ہے اس کا باہم تذکرہ مزے لے کر کرتے ہیں کہ ہم نے خوب ان لوگوں کو ذلیل کیا۔ اور جب کفار مومنین کو دیکھتے ہیں تو بظاہر ہمدردی…
Read the full tafseer →یعنی وہ جس طرح اپنے تختوں پر بیٹھے بیٹھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے جلوے دیکھتے ہوں گے اسی طرح اپنے تختوں پر بیٹھے ہی بیٹھے جب چاہیں گے جھانک کے دوزخ میں کفار کے حال بھی دیکھ لیں گے بلکہ ان سے سوال و جواب بھی کر لیں گے، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
36۔ 1 کافروں کو، جو کچھ وہ کرتے تھے، اس کا بدلہ دے دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
5: جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، تسنیم جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کا پانی جب اس شراب میں ملے گا تو اس کے ذائقے اور لطف میں بہت اضافہ کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فالیوم ........................ ینظرون (35:83) ” آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ، مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں “۔ آج کا دن کیسا ہے کہ کفار دیدار ربانی جیسی نعمت سے محروم اور محجوب ہیں۔ اور اس محرومیت کا ان کو بےحد غم ہے ، اس کی وجہ سے ان کی انسانیت گرگئی اور وہ واصل جہنم ہوگئے اور اس جہنم رسیدگی پر مزید یہ کہ ان کی اہانت بھی ہوگی اور سرزنش بھی ہوگی۔
ھذا ................ تکذبون (17:83) ” وہ یہی ہے نا وہ چیز جس کی تم تکذیب کرتے تھے ؟ “ آج کا دن تو یوں ہے کہ اہل ایمان اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے ہیں اور کفار کے حالات کا نظارہ کررہے ہیں اور دائمی نعمتوں میں مزے لے رہے ہیں ،…
Read the full tafseer →12 یعنی اپنی خوشحالی اور کافروں کی بدحالی کا نظارہ کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35{ عَلَی الْاَرَآئِکِلا یَنْظُرُوْنَ۔ } ”وہ تختوں پر بیٹھے ان کا حشر دیکھ رہے ہیں۔“
کہ ابوجہل پر کیا بیت رہی ہے اور ابولہب کو کیسے عذاب کا سامنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
19 یعنی اللہ نے انہیں مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجا تھا کہ ان کی نظروں میں مسلمانوں میں جو جو غلطیاں پائی جاتی ہیں ان کی وہ نشاندہی کیا کریں۔ یعنی اے کفار مکہ ! اگر مسلمان تمہارے خیال کے مطابق غلط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں پھر بھی تمہیں تو کچھ نہیں کہتے۔ پھر کیا اللہ نے تمہیں ان پر فوجدار بنا کر تو نہیں بھیجا کہ اگر تمہیں نہیں ستاتے یا نہیں چھیڑتے تب بھی تمہیں یہ حق ہے کہ ان کو تنگ کرو۔ ان کا مذاق اڑاؤ اور ان پر پھبتیاں کسو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
16۔ (جہنم میں منکروں اور کافروں کا حال زار) الیوم یعنی آخرت میں، جنت سے، (آیت) ” فالیوم ...... یضحکون “۔ ہنستے اس پر ہوں گے کہ یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ اتنی واقعہ شہادتوں کے باوجود بھی آخرت کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور بدستور دنیا پرستی اور مادیت ہی میں غرق رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی)
ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…
Read the full tafseer →علی الارائک ینظرون . یعنی مؤمن اپنی مسہریوں پر بیٹھے ہوئے دو زخ کے اندر کافروں کو دیکھتے ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(29۔ 36) اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ وہی ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتے تھے اور جب ایمانداروں کا حضور کے پاس آنے کے لیے ان پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو جاتے تھے تو اپنے شرک پر خوشی اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ حالانکہ یہ کافر مسلمانوں پر اور ان کے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سو آج قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا پورا پورا بدلہ…
Read the full tafseer →(علی الارآئک ینظرون : جہنمیوں کی بری حالت دیکھ کرہرے ہوں گے۔ مزید وضاحت کے لئے اس سورت کی آیت (23) کی تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فالیوم الذین آمنو من الکفار یضحکون۔ یعنی قیامت کے روز حضور ﷺ پر ایمان لانے والے کفار پر ہنسیں گے جس طرح کفار دنیا میں ان پر ہنسا کرتے تھے اس کی مثل سورة المومنین میں گزرچکی ہے۔ ابن مبارک نے یہ ذکر کیا ہے محمد بن بشارنے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ کعب کہا کرتے تھے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک روشن دان ہے جب مومن ارادہ کرے گا، کہ دنیا میں جو اس کا دشمن تھا اس کو دیکھتے تو وہ اس روشن دان سے جھانکے گا اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا، فاطلع فراہ فی سواء الجحیم۔ الصافات) اس پر جھانکا تو اسے جہنم میں دیکھا، کہا یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے جھانکا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
24۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالیوم الذین اٰمنوا من الکفار یضحکون۔ پس آج وہ لوگ جو ایمان لائے کفار سے ہنس رہے ہوں گے۔ کعب ؓ نے فرمایا اہل جنت اور اہل دوزخ والوں کے درمیان روشندان ہوں گے۔ اہل جنت میں سے کوئی آدمی اگر چاہے گا کہ اپنے دشمن کی طرف دیکھے دوزخ والوں میں سے تو وہ ایسا کرے گا۔
25۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہل ثوب کیا بدلہ دیا جائے گا یعنی کیا کچھ بدلہ دیا گیا
Read the full tafseer →[عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ : تختوں پر (بیٹھے) دیکھتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
نیک بندوں کا ایمان اور خوشی کا انجام بیان فرمانے کے بعد مجرمین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اہل ایمان کے مخالف ہیں ان سے بغض اور دشمنی رکھتے ہیں دنیا میں ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب کہیں اہل ایمان بیٹھے ہوتے اور یہ لوگ وہاں سے گزرتے تو اہل ایمان کا مذاق بنانے کے لیے آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے کہ دیکھو کہ یہ جا رہے ہیں پھٹیچر، جنت کے دعوے دار، تن پر کپڑا نہیں، پاؤں میں جوتا نہیں، بنتے ہیں بڑے اللہ کے پیارے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت خباب، حضرت بلال اور دیگر فقراء مومنین ؓ پر ایسی پھبتیاں کستے تھے اور جب یہ مجرمین اپنے گھروں کو جاتے تھے تو خوش ہوتے ہوئے جاتے تھے کہ دیکھو ہم نے بڑا کمال کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–36
کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔
ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
11:۔ “ فالیوم “ دنیا میں مشرکین مسلمانوں پر ہنستے اور ان کا تمسخر اڑاتے تھے۔ آج قیامت کے دن مسلمان جنت میں تختوں پر بیٹھے کافروں کو دوزخ میں زنجیروں سے جکڑے دیکھ کر ہنسیں گے۔ ” ھل ثوب الکفار “ استفہام تقریر کے لیے ہے یعنی مشرکین و کفار دنیا میں جو کچھ کیا کرتے تھے اس کی ان کو پوری پوری سزا مل گئی۔
سورة مطففین ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(گذشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ میں قیامت ہی کا ذکر ہے اس میں تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ ابرار اور۔ فجار کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ کہ آئندہ زندگی میں ان کے ساتھ کیا معاملات پیش آنے والے ہیں۔ اب ان آخری آیات میں کفار اور مشرکین کے اس برے سلوک کا ذکر ہے جو وہ اہل ایمان سے روا رکھتے تھے۔
(ایمانداروں کے ساتھ استہزاء)
ارشاد دباری تعالیٰ ہے ان الذین اجرمو جو لوگ مجرم یعنی گہنگار ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ کانو من الذین آمنو یضحکون یہ ایمانداروں پر ہنستے ہیں۔ کفار و مشرکین عام طور پر یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں پہلے ادوار میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ 0 ۙ يَنْظُرُوْنَ 35 ۭ
أريك
الأريكة : حجلة علی سریر، جمعها : أرائك، وتسمیتها بذلک إمّا لکونها في الأرض متّخذة من أراكٍ ، وهو شجرة، أو لکونها مکانا للإقامة من قولهم : أَرَكَ بالمکان أُرُوكاً «9» .
وأصل الأروك : الإقامة علی رعي الأراك، ثم تجوّز به في غيره من الإقامات .
( ارک ) الاریکۃ
( مسہری ) حجلہ ( چھرکھٹ) جو سر پر یعنی تخت کے اوپر رکھا ہوا اس کی جمع ادائک ہے اور اسے اریکۃ کہنے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ ارض یعنی دنیا میں اراک دپیلو کی لکڑی ) سے بنایا جاتا ہے جو ایک قسم کا درخت ہے اور یا محل اقامت ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ ادک بالمکان اروکا سے مشتق ہے جس کے اصل معنی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
ترکیب ¦ الذین مع صلۃ اسم ان۔ کانوا اسم کان ضمیر متصل یضحکون خبرھا من الذین امنوا متعلق بیضحکون ای یستہزون منھم فالجملۃ کانوا الخ خبران واذا مروا ای المسلمون بھم بالکفار وہم فی مجالسھم یتغامزون الکفار من الغمز وھو الاشارۃ بالجفون والحواجب واذا انقلبوا ای الکفار شرط انقلبوا جواب اذا فکہین حال منہ قرء عاصم فی روایۃ حفص عنہ فکھین بغیر الف فی ھذا الموضع وحدہ وقراء الباقون فاکھین بالالف فقیل معنا ھما واحد وقیل ان الف کہ الاشرالبطر والفاکھہ الناعم المتنعم واذا شرطیہ وا ای الکفار ھم المسلمین قالوا جواب الشرط وما ارسلوا الجملۃ حال من فاعل قالوا فالیوم منصوب بیضحکون و فاعلہ الذین آمنوا وتقدیم الفاعل…
Read the full tafseer →عَلَی الْاَرَآئِکِ لا یَنْظُرُوْنَ ۔ (المطففین : 35)
(مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں۔ )
اہلِ ایمان جب کفار کی گت بنتے ہوئے دیکھ کر اور سابقہ رویہ یاد کرکے بےساختہ ہنسیں گے اس وقت ان کے مقام و مرتبہ کا حال یہ ہوگا کہ وہ بڑی عالی شان مسندوں پر بادشاہوں کی طرح براجمان ہوں گے۔ ان کی حیثیت ایسی ہوگی جیسے کسی شاہی مہمان کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان پر نثار ہورہی ہوں گی۔ وہ اپنے اس اعزاز پر خوش و خرم ہوں گے اور ان بدنصیبوں کے برے انجام پر دکھ محسوس کرتے ہوئے ان کے رویئے کو یاد کرکے ہنسیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کی جہنم میں جانے کی ایک وجہ اور ان کی حالت زار پر جنتی کا خوش ہونا۔
جہنمی کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوگا کہ دنیا میں انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ایمانداروں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ جب نیک لوگوں کے پاس سے گزرتے تو اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ انبیاء اور ان کے ساتھی اپنی کمزوری یا شرافت کی وجہ سے ان کے بیہودہ اشاروں کا جواب نہ دیتے تو مذاق اڑانے والے مزید تکبر کا شکار ہوجاتے اور اپنے دوست و احباب اور اہل خانہ کے پاس جا کر اس بات پر اتراتے کہ ہم نے آج ایمان کے دعویداروں کو بہت زچ کیا ہے۔ گمراہ…
Read the full tafseer →35 : عَلَی الْاَرَآپکِ یَنْظُرُوْنَ (مسہریوں پر دیکھ رہے ہونگے) نحو : یہ یضحکون سے حال ہے ای یضحکون منھم ناظرین الیھم والی ماھم فیہ من الھوان والصغار بعد العزۃ والاستکبار وھم علی الارائک آمنون۔ وہ ان کو دیکھ کر ہنسیں گے اور ان کی ذلت و رسوائی کو دیکھ کر جبکہ دنیا میں متکبرو معزز تھے اس حال میں کہ وہ امن سے مسہریوں پر بیٹھے ہونگے۔
ایک قول یہ ہے کفار کیلئے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا پھر ان کو کہا جائے گا کہ جنت کی طرف آئو۔ جب جنت کے دروازہ کے قریب ہونگے تو جنت کا دروازہ بند کرلیا جائے گا اس پر ایمان والے ان سے خوب ہنسیں گے۔
Read the full tafseer →35 ۔” علی الارائک “ موتی اور یاقوت کے۔ ” ینظرون “ ان کی طرف جہنم میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
29۔ 36۔ اوپر جنتوں اور دوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لئے اس مدنی سورة میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ بلالو عمار جیسے غریب مسلمانوں کو طرح طرح کی مسخرا پن کی باتوں میں اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ رشک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول و فعل کی نگرانی و نگہبانی کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ہیں جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبیٰ کا دونوں فریق کا یہ حال سنایا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…
Read the full tafseer →اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں (عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ ) آراستہ اور مزین پر بیٹھے پلنگوں ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کررکھی ہیں نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(25) کفار کے کیے کرائے کے بدلے کا ذکر وبیان : سو یہ سب کچھ دکھا لینے اور بتادینے کے بعد اہل ایمان سے بطور طلب تصدیق سوال کیا گیا کہ " کیا بدلہ مل گیا کفار کو ان کے کیے کرائے گا ؟ " استفہام تقریر و تذلیل کے لیے ہے ( تفسیر التحریر والتنوری لا بن عاشور) یعنی ہاں ان کو اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ مل گیا۔ سبحان اللہ، کیسا کرم و احسان ہے حضرت حق جل مجدہ کا کہ آخرت کے اس ہولناک عذاب سے اس طرح صاف وصریح طور پر دنیا کو یہیں خبردار کردیا اور اس کو اس طرح بیان فرما دیا، تاکہ جو بچنا چاہے بچ جائے، قبل اس سے کہ حیات مستعار کی فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے، اور ان کے نتیجے میں ان کو ہمیشہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 8 یعنی جو ندیا میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ اب اس کا مزا چکھا کہ نہیں ؟ بدبخت لوگ اگر پہلے ہی سمجھ جاتے تو آج اس انجام بد سے دوچار تو نہ ہوتے۔
Read the full tafseer →(83:35) علی الا رائک ینظرون۔ جملہ یضحکون سے حال ہے۔ یعنی جب مومن اپنی اپنی مسہریوں پر بیٹھے دیدار خدا کر رہے ہوں گے اور کافروں کو طوق و زنجیر میں بندھا ہوا دوزخ میں دیکھیں گے۔ تو اس روز مومن کافروں پر ہنسیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
جنتی اور دوزخی کی پہچان۔
(ف 1) اوپر جنتیوں اودوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لیے اس مدنی سورت میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ غریب مسلمانوں کو طرح طرح کے مسخراپن کی باتوں میں اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ مشرک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول وفعل کی نگرانی ونگہبانی کے لیے نہیں پیدا کیے گئے جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں، ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبی کا دونوں فریق کا یہ حال سنادیا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
[4] کافروں کو ان کی حرکتوں کا بدلہ مل گیا نا جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
مذاق کا بدلہ مذاق
1: کفار کے لئے یہ منظر کتنا تکلیف دہ اور اذیت بخش ہوگا کہ دنیا میں جن لوگوں پر یہ لوگ ہنستے تھے ۔ جن کی تحقیر اور تذلیل کے لئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے ہوتے تھے ۔ جن لوگوں کو اپنے گھروں میں یہ ہدف طعن وتشنیع بناتے تھے اور جن کو دیکھ پاتے تھے تو بڑی بےباکی اور دلسوزی سے کہتے تھے کہ افسوس یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات کہنے کا ان کو کوئی استحقاق نہ تھا ۔ آیا ان کو دیکھیں گے کہ وہ بلندیوں اور رفعتوں کے مالک ہیں ۔ اور مسہریوں پر تمکنت اور وقار سے بیٹھے ان کا مضحکہ اڑا رہے ہیں ۔ آج ان منکرین اور کفار کو ان کے استہزاء اور تمسخر کا پورا پورا بدلہ مل گیا اور آج ان کی…
Read the full tafseer →(35) اور مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے - یعنی آخرت میں مسلمان کافروں پر ہنس رہے ہوں گے مسہریوں یا جڑائو تختوں پر بیٹھے کفار کا حشر اور ان کی بدحالی کا تماشہ دیکھتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 6۔ در منثور میں قتادہ سے مروی ہے کہ کچھ دریچے جھروکے ایسے ہوں گے جن سے اہل جنت دوزخیوں کو دیکھ سکیں گے، پس ان کا برا حال دیکھ کر بطور انتقام کے ان پر ہنسیں گے۔
Read the full tafseer →تختوں پر بیٹھے ان کا سارا حال دیکھ رہے ہوں گے
35 ؎ گزشتہ آیت کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی کہ جب قیامت کا دن آئے گا اور کفار اپنے کیے کی پاداش میں پکڑے جائیں گے اور اپنی بربادیوں پر آہ و فغاں کریں گے اور پیغمبر اسلام کے وہ سچے پیرو کار جن کے ساتھ ان کفار نے دنیا میں ہوٹنگ کی ہوگی اور ان کو طرح طرح سے مذاق کا نشانہ بنایا ہوگا آج وہ بحمد اللہ نہایت بہترین تختوں پر بیٹھے ، نہایت آرام و سکون کے ساتھ ان کی حالت زار کو دیکھ کر نہایت اطمینان کا سانس لیتے ہوں گے اور دیکھ رہے ہوں گے کہ ان کو کس طرح جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ ان کے شریکوں میں سے آج ایک بھی نظر نہیں آ رہا جو ان کو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ (Indeed those who were guilty used to laugh at those who believed, 83:29). In these verses, Allah depicts fully the attitudes of the followers of falsehood [ non-believers ] towards the upholders of truth [ the believers ]. The non-believers used to laugh at the believers in the worldly life. In other words, they would mock at them and despise them. Whenever they would pass by the believers, they would wink at each other in contempt of them. When the non-believers returned home, they would take great pleasure in describing…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
14 In this brief sentence the mockers and jesters have been given an instructive warning to the effect: "Even if what the Muslims have believed in, is false, they are not harming you at all They regard something as we and are accordingly adopting a certain moral attitude for themselves, for their own good. AIIah has not appointed you to be keepers over them so that you may be free to criticise and persecute those who are not harming you in any way."
Read the full tafseer →