Al-Mutaffifin 83:29

Al-Mutaffifin · from ayah 29

83:29

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ ۟ؗۖاِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَ

جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who committed crimes used to laugh at those who believed.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:29

مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ مجرم تھے، وہ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک مجرم لوگ ایمان والوں کا (دنیا میں) مذاق اڑایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے، ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مجرم لوگ (دنیا میں) ایمانداروں پر ہنسا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو مجرم رہے ہیں وہ ان لوگوں کے حال پر ہنستے رہے ہیں جو ایمان والے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک مجرم لوگ (دنیا میں) ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ مجرم تھے وہ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا جو مجرم تھے وہ اہل ِ ایمان پر ہنسا کرتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو گنہگار یعنی کفار ہیں وہ دنیا میں مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, the wicked were wont to laugh at the believers:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed those who were guilty used to laugh at those who believed,

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed those who were guilty used to laugh at those who believed,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who committed crimes used to laugh at those who believed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the guilty used to laugh at those who believed,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who committed crimes used to laugh at those who believed.

— Saheeh International

The sinners had been laughing at the believers.

— Muhammad Sarwar

Surely they who are guilty used to laugh at those who believe.

— Muhammad Habib Shakir

Veriiy those who have sinned were wont at those who had believed to laugh,

— Abdul Majid Daryabadi

Those in sin used to laugh at those who believed,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–36

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذار سانی کے درپے ہوجاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے اللہ فرماتا ہے کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ہے اخسؤا فیھا الخ یعنی اس جہنم میں پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–30

سورة الْمُطَفِّفِيْن 11 تسنیم کے معنی بلندی کے ہیں، اور کسی چشمے کو تسنیم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلندی سے بہتا ہوا نیچے آ رہا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–36

(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ اہل باطل کے طرز عمل کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کفار اہل باطل مومین اہل حق پر استہزا ہنستے اور دل لگی کرتے ہیں اور جب اہل حق ان کے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو آنکھ کے اشارے کرتے ہیں جس سے مقصود بھی ان کی اشتہزا اور ایذا رسانی ہوتی ہے۔ پھر جب یہ کفار اہل باطل اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹتے ہیں تو مومنین کے ساتھ جو تمسخر اور استہزا کیا ہے اس کا باہم تذکرہ مزے لے کر کرتے ہیں کہ ہم نے خوب ان لوگوں کو ذلیل کیا۔ اور جب کفار مومنین کو دیکھتے ہیں تو بظاہر ہمدردی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نتائج اعمال کے ظہور کے بعد انقلاب حال: یہ اس انقلاب حال کی تصویر ہے جو نیکوں اور بدوں کے درمیان اس وقت نمایاں ہو گا جب دونوں کے نتائج اعمال سامنے آ جائیں گے۔ پہلے اس صورت حال کی تصویر کھینچی ہے جس سے اہل ایمان بالخصوص غریب مسلمان مغرور دولت مندوں کے ہاتھوں اس دنیا کی زندگی میں دوچار رہے۔ فرمایا کہ یہ مجرمین جہاں ان کو پاتے اپنی فقرہ بازیوں اور پھبتیوں کا ہدف بنا لیتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–36

5: جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، تسنیم جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کا پانی جب اس شراب میں ملے گا تو اس کے ذائقے اور لطف میں بہت اضافہ کردے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اہل ایمان کے ساتھ مجرموں کے استہزا کے مناظر ، ان کی جانب سے دست درازیوں اور زیادتیوں کے جو شاید قرآن نے یہاں قلم بند کیے ہیں خصوصاً ان کا یہ تبصرہ کہ مسلمان گمراہ لوگ ہیں ، یہ سب مناظر مکہ کی سوسائٹی کے عملی مناظر ہیں ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقامت دین کی ہر کسی تحریک کے کارکن انہی حالات اور نہی ریمارکس سے دو چار ہوتے ہیں۔ ہر دور اور ہر نسل میں یہی صورت حالات ہوا کرتی ہے۔ آج ہم اپنے دور کے حالات کو جب دیکھتے ہیں تو یہ نظر آتا کہ شاید یہ آیات ابھی ہمارے حسب حال اتری ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فساق وفجار کا مزاج ایک جیسا ہوتا ہے اور اہل حق کے مقابلے میں ان کا موقف بھی ہمیشہ ایک ہی جیسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 کہ ان بیوقوفوں کو کیا خیال فاسد دامن گیر ہوا ہے کہ محسوس و موجود لذتوں کو جنت کی خیالی لذتوں کی توقع پر چھوڑتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29{ اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ۔ } ”یقینا جو مجرم تھے وہ اہل ِ ایمان پر ہنسا کرتے تھے۔“ وہ اہل ایمان کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ دیکھو ان بیوقوفوں کو جنہوں نے آخرت کے موہوم وعدوں پر اپنی زندگی کی خوشیاں اور آسائشیں قربان کردی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–31

17 یعنی ابرار کے لیے تو (رحیق مختوم) ہوگی اور مقربین کے لیے بھی یہی شراب ہوگی لیکن اس میں تسنیم کی آمیزش بھی ہوگی۔ تسنیم جنت میں ایک چشمہ کا نام ہے شاید اس چشمہ کے پانی کی ملاوٹ سے وہ شراب مزید خوشگوار بن جاتی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 29–31

13۔ یہ سب ذکر اسی دنیا میں ہورہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس دنیا میں سامنے اور پیچھے ہر طرح ہر وقت اہل ایمان کی تحقیر و استہزاء کا مشغلہ جو لوگ جاری رکھتے تھے۔ (آیت) ” الذین اجرموا “۔ یعنی منکرین ومکذبین۔ جرم آیت میں قرآن کی متعدد دوسری آیتوں کی طرح ایمان کے مقابلہ میں ہے۔ المراد من قولہ ان الذین اجرموا اکابر المشرکین (کبیر) اے اشرکوا (معالم) (آیت) ” المقربون “۔ یہ جنت کے افضل ترین مرتبہ والے ہیں، جن کا ذکرسورۃ الواقعہ (پ 27) میں آچکا ہے۔ بعض محققین نے مراد یہ لی ہے کہ جنت میں مقربین تو مشاہدۂ ذات کی لذت میں مستغرق رہیں گے۔ اور اصحب الیمین یا ابرار مشاہدۂ ذات میں بھی رہیں گے اور مشاہدۂ مخلوقات میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین اجرموا یعنی قریشی کافر ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ ‘ عاص بن وائل اور ان کے ساتھی دوسرے مشرکین مکّہ۔ کانوا من الذین امنوا یضحکون . الذین اٰمنوا سے مراد ہیں حضرت عمار ‘ خباب ‘ صہیب ‘ بلال اور ان کے ساتھی نادار مسلمان ؓ ۔ یعنی یہ مجرم مؤمنوں کا مذاق اڑانے کیلئے ان سے ہنستے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–36

(29۔ 36) اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ وہی ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتے تھے اور جب ایمانداروں کا حضور کے پاس آنے کے لیے ان پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو جاتے تھے تو اپنے شرک پر خوشی اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ حالانکہ یہ کافر مسلمانوں پر اور ان کے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سو آج قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا پورا پورا بدلہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ان الذین اجرموا…:”یضحکون“ ہنسا کرتے تھے“ کہ ان پر کیا پاگل پن سوار ہے کہ دنیا کی نقد لذتوں کو چھوڑ کر کل کی ان دیکھی خیالی لذتوں کے وعدوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔”کانوا“ اور ”یضحکون“ کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ یہ ان کا ہمیشہ کا مشغلہ تھا۔ یہ صرف مکہ کے مشرکین کی بات نہیں، آج کے ملحد اور بےدین بھی مسلمانوں کو رجعت پسند، دقیانسوی، تنگ نظر، تاریک خیال اور اس قسم کے طنزیہ خطابات دے کر خوش ہوتے اور اپنے دل کا بخار نکالتے رہتے ہیں۔ بہت شاعروں نے بھی جنت اور اہل جنت پر چوٹیں کی ہیں، ان سب کو ان آیات کے مضمون سے ڈرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–30

ان الذین اجرموا۔۔۔ تا۔۔۔ ماکانوایفعلون۔ ان الذین اجرموا کانو من الذین آمنو یضحکون، واذا مروا بھم یتغامزون۔ کفار دنیا میں مومنوں کے ساتھ جو مزاق کیا کرتے تھے اس کا ذکر ہے مراد قریش کے مشرک روسا ہیں کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد ولیدہ بن مغیرہ، عقبہ بن ابی معیط، عاص بن وائل، اسود بن عبدیغوث، عاص بن ہشام، ابوجہل اور نضر بن حارث ہے، یہی لوگ نبی کے صحابہ، حضرت عمار، حضرت خباب، حضرت صہیب اور حضرت بلال کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ جب وہ رسول اللہ کے پاس آنے کے لیے ان کے پاس سے گزرتے وہ ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارہ کیا کرتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اسلام کی وجہ سے انہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–33

6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مالک بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومزاجہ من تسنیم سے مراد ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمنہ ہے جس میں سے صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم اہل جنت کی افضل شراب ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے کہ بیشک یہ اپنے قول کے سبب بلند مرتبہ ہے۔ 8۔ ابن المنذر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت نضرۃ النعیم نعمت کی تازگی۔ یہ جنت میں ایک چشمہ ہے وہ لوگ اس سے وضو اور غسل کریں گے اور ان پر نعمت کی تازگی جاری ہوگی۔ 9۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” مختوم “ سے مراد ہے ملی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الَّذِينَ اَجْرَمُوْا : بیشک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیا ][ كَانوْا مِنَ الَّذِينَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ : وہ ان سے جو ایمان لائے ہنسی ٹھٹھا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–36

نیک بندوں کا ایمان اور خوشی کا انجام بیان فرمانے کے بعد مجرمین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اہل ایمان کے مخالف ہیں ان سے بغض اور دشمنی رکھتے ہیں دنیا میں ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب کہیں اہل ایمان بیٹھے ہوتے اور یہ لوگ وہاں سے گزرتے تو اہل ایمان کا مذاق بنانے کے لیے آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے کہ دیکھو کہ یہ جا رہے ہیں پھٹیچر، جنت کے دعوے دار، تن پر کپڑا نہیں، پاؤں میں جوتا نہیں، بنتے ہیں بڑے اللہ کے پیارے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت خباب، حضرت بلال اور دیگر فقراء مومنین ؓ پر ایسی پھبتیاں کستے تھے اور جب یہ مجرمین اپنے گھروں کو جاتے تھے تو خوش ہوتے ہوئے جاتے تھے کہ دیکھو ہم نے بڑا کمال کیا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–33

10:۔ ” ان الذین “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ مشرکین قریش، فقراء مومنین پر بطور استہزاء ہنستے تھے اور جب کبھی مسلمان ان کے پاس سے گذرتے تو مستکبرین قریش استحقار و تمسخر کے طور پر آنکھوں اور ابروؤں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے اور جب اپنے گھروں کو واپس آتے تو بہت خوش ہوتے کہ آج ان فقراء سے استہزاء و تمسخر کا خوب مزہ آیا۔ ” واذا راوھم “ جب مشرکین مسلمانوں کو دیکھتے تو یہ کہتے یہ لوگ گمراہ ہیں، حالانکہ ان کو مسلمانوں پر نگران مقرر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ان کو ان کی گمراہی اور ہدایت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا کہ وہ ان کی ہدایت و ضلالت کا فیصلہ کرتے پھریں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–36

(گذشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ میں قیامت ہی کا ذکر ہے اس میں تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ ابرار اور۔ فجار کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ کہ آئندہ زندگی میں ان کے ساتھ کیا معاملات پیش آنے والے ہیں۔ اب ان آخری آیات میں کفار اور مشرکین کے اس برے سلوک کا ذکر ہے جو وہ اہل ایمان سے روا رکھتے تھے۔ (ایمانداروں کے ساتھ استہزاء) ارشاد دباری تعالیٰ ہے ان الذین اجرمو جو لوگ مجرم یعنی گہنگار ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ کانو من الذین آمنو یضحکون یہ ایمانداروں پر ہنستے ہیں۔ کفار و مشرکین عام طور پر یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں پہلے ادوار میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ۝ 29 ۡ ۖ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–36

ترکیب ¦ الذین مع صلۃ اسم ان۔ کانوا اسم کان ضمیر متصل یضحکون خبرھا من الذین امنوا متعلق بیضحکون ای یستہزون منھم فالجملۃ کانوا الخ خبران واذا مروا ای المسلمون بھم بالکفار وہم فی مجالسھم یتغامزون الکفار من الغمز وھو الاشارۃ بالجفون والحواجب واذا انقلبوا ای الکفار شرط انقلبوا جواب اذا فکہین حال منہ قرء عاصم فی روایۃ حفص عنہ فکھین بغیر الف فی ھذا الموضع وحدہ وقراء الباقون فاکھین بالالف فقیل معنا ھما واحد وقیل ان الف کہ الاشرالبطر والفاکھہ الناعم المتنعم واذا شرطیہ وا ای الکفار ھم المسلمین قالوا جواب الشرط وما ارسلوا الجملۃ حال من فاعل قالوا فالیوم منصوب بیضحکون و فاعلہ الذین آمنوا وتقدیم الفاعل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 29–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ ۔ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ ۔ وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓی اَھْلِہِمُ انْقَلَبُوْا فَـکِھِیْنَ ۔ (المطففین : 29 تا 31) (بیشک جو لوگ مجرم رہے ہیں وہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ اور جب اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے۔ ) اس سے پہلے کی آیات میں فجار اور ابرار کا انجام بیان ہوا ہے۔ اب ایک اور پہلو سے ان دونوں میں تقابل کرتے ہوئے انقلابِ حال کی تصویر کھینچی جارہی ہے کہ یہ فجار وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا میں ایک سے ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کی جہنم میں جانے کی ایک وجہ اور ان کی حالت زار پر جنتی کا خوش ہونا۔ جہنمی کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوگا کہ دنیا میں انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ایمانداروں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ جب نیک لوگوں کے پاس سے گزرتے تو اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ انبیاء اور ان کے ساتھی اپنی کمزوری یا شرافت کی وجہ سے ان کے بیہودہ اشاروں کا جواب نہ دیتے تو مذاق اڑانے والے مزید تکبر کا شکار ہوجاتے اور اپنے دوست و احباب اور اہل خانہ کے پاس جا کر اس بات پر اتراتے کہ ہم نے آج ایمان کے دعویداروں کو بہت زچ کیا ہے۔ گمراہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29 : اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا یَضْحَکُوْنَ (جو لوگ مجرم تھے وہ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے) اجرمواؔ سے جرم کفر کرنے والے۔ یضحکونؔ دنیا میں ایمان والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29 ۔” ان الذین اجرموا “ شرک کیا یعنی کفار قریش ابوجہل، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور ان کے ساتھی مکہ کے متکبرین مال داروں میں سے۔ ” کانوا من الذین امنوا “ عمار ، خباب، صہیب اور بلال اور ان کے ساتھی فقراء مومنین میں سے۔ ” یضحکون “ اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–36

29۔ 36۔ اوپر جنتوں اور دوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لئے اس مدنی سورة میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ بلالو عمار جیسے غریب مسلمانوں کو طرح طرح کی مسخرا پن کی باتوں میں اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ رشک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول و فعل کی نگرانی و نگہبانی کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ہیں جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبیٰ کا دونوں فریق کا یہ حال سنایا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 29–30

اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکوکاروں کی جزا کا ذکر کر کنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑا تے ہیں ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ باہم اشارے کرتے تھے بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(19) ایمان والوں سے ہنسنے کے جرم کا ذکرو بیان۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے " سو وہ ان پر طرح طرح کے آوازے کستے، فقرے بازیاں کرتے اور پھبتیاں چست کرتے تھے، جیسا کہ نزول قرآن کے زمانے میں ہوتا تھا اور اس کے بعد اس زمانے سے لے کر آج تک ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے، اس زمانے میں ابو جہل اور اس کی پارٹی اس طرح کرتی تھی اور اس کے بعد ان کے جانشین اور ان کے اخلاف ہر دور میں ایسے ہی کرتے رہے ہیں اور اج تک کرتے چلے آرہے ہیں۔ البتہ زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ حق و ہدایت کی دولت سے محروم و بےبہرہ ان مجرموں نے اس ضمن میں اور بھی ترقی کرلی ہے۔ چناچہ اب یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 کو ان پر کیا پاگل پن سوار ہے کہ محسوس اور موجود لذتوں کو چھوڑ کر ان دیکھی موہوم لذتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ “3 کہ یہی وہ سر پھرے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مطلوب ہے اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو دنیا کی ہر لذت سے محروم رکھا ہے۔ ‘

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:29) ان الذین اجرموا کانوا من الذین امنوا یضحکون : ان حرف مشبہ بالفعل۔ الذین اجرموا (موصول وصلہ مل کر) اسم ان : کانوا فعل ناقص ضمیر متصل اس کا اسم ۔ یضحکون اس کی خبر۔ من الذین امنوا متعلق خبر۔ اجرموا : ماضی جمع مذکر غائب : اجرام (افعال) مصدر۔ انہوں نے جرم کیا۔ (یہاں ضمیر فاعل کا مرجع ابوجہل۔ ولید بن مغیرہ۔ عاص بن وائل، اور ان کے ساتھی دوسرے مشرکین مکہ ہیں۔ الذین امنوا سے مراد ہیں حضرت عمار ؓ حضرت جناب ؓ حضرت صہیب وحضرت بلال اور ان کے دوسرے ساتھی نادار مسلمان ؓ اجمعین ۔ یضحکون : مضارع جمع مذکر غائب ضحک (باب سمع) مصدر سے ۔ وہ ہنستے تھے۔ یعنی یہ مجرم لوگ مومنوں کا مذاق اڑانے کے لئے ان سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–36

جنتی اور دوزخی کی پہچان۔ (ف 1) اوپر جنتیوں اودوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لیے اس مدنی سورت میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ غریب مسلمانوں کو طرح طرح کے مسخراپن کی باتوں میں اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ مشرک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول وفعل کی نگرانی ونگہبانی کے لیے نہیں پیدا کیے گئے جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں، ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبی کا دونوں فریق کا یہ حال سنادیا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–30

[3] دیکھو یہ کیسے بےعقل اور احمق لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں جنت کے ادھار پر دنیا کے نقد سے محروم کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–36

مذاق کا بدلہ مذاق 1: کفار کے لئے یہ منظر کتنا تکلیف دہ اور اذیت بخش ہوگا کہ دنیا میں جن لوگوں پر یہ لوگ ہنستے تھے ۔ جن کی تحقیر اور تذلیل کے لئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے ہوتے تھے ۔ جن لوگوں کو اپنے گھروں میں یہ ہدف طعن وتشنیع بناتے تھے اور جن کو دیکھ پاتے تھے تو بڑی بےباکی اور دلسوزی سے کہتے تھے کہ افسوس یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات کہنے کا ان کو کوئی استحقاق نہ تھا ۔ آیا ان کو دیکھیں گے کہ وہ بلندیوں اور رفعتوں کے مالک ہیں ۔ اور مسہریوں پر تمکنت اور وقار سے بیٹھے ان کا مضحکہ اڑا رہے ہیں ۔ آج ان منکرین اور کفار کو ان کے استہزاء اور تمسخر کا پورا پورا بدلہ مل گیا اور آج ان کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) بیشک جو لوگ مجرم یعنی کافر ہیں وہ دنیا میں ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔ یعنی ان کی تحقیر اور تذلیل کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–30

ف 4۔ یعنی حرص کے لائق یہ ہے خواہ صرف شراب مراد لی جائے خاہ کل نعماء جنت، یعنی لائق لا تحصیل یہ نعمتیں ہیں نہ کہ دنیا کی فانی نعمتیں، اور ان کی تحصیل کا طریقہ نیک اعمال ہیں، پس ان میں انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ جو لوگ گناہ تھے وہ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے 29 ؎ اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ معقول اور نا معقول کا سب سیکھنے کے لیے بعض باتوں پر غور و کرلیا جائے تو بات بالکل صاف ہوجاتی ہے وہ اس طرح کہ دنیوی زندگی میں گناہ گار ، فاسق ، اچکے اور لفنگے لوگ جب ایمانداروں کو جو مال و دولت کی فروانی میں نہیں ہیں اور دنیا کی عزت اور مرتبہ ان کے پاس نہیں ہے وہ ایسے غریبوں کو جب دیکھتے ہیں تو ان کو ہنسی آجاتی ہے ، کیوں ؟ اس لیے ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ یہ غریب لوگ جن کے پاس آج بھی دو وقت کی روٹی مہیا نہیں ہے کیا یہ لوگ اہل جنت میں شامل ہوں گے پھر تو کیا ہی اہل جنت ہوں گے کہ ” منہ نہ متھا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–36

إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ (Indeed those who were guilty used to laugh at those who believed, 83:29). In these verses, Allah depicts fully the attitudes of the followers of falsehood [ non-believers ] towards the upholders of truth [ the believers ]. The non-believers used to laugh at the believers in the worldly life. In other words, they would mock at them and despise them. Whenever they would pass by the believers, they would wink at each other in contempt of them. When the non-believers returned home, they would take great pleasure in describing…

Read the full tafseer →