Explained with ayahs 18–28
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
سورة الْمُطَفِّفِيْن 11
تسنیم کے معنی بلندی کے ہیں، اور کسی چشمے کو تسنیم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلندی سے بہتا ہوا نیچے آ رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(آیت) وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ، تنافس کے معنے ہے چند آدمیوں کا کسی خاص مرغوب و محبوب چیز کے حاصل کرنے کے لئے جھپٹا دوڑنا تاکہ دوسروں سے پہلے وہ اس کو حاصل کرلیں، یہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے غفلت شعار انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آج تم لوگ جن چیزوں کو مرغوب مطلوب سمجھ کر ان کے حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو۔ یہ ناقص اور فانی نعمتیں اس قابل نہیں کہ ان کو مقصود زندگی سمجھ کر ان کے لئے مسابقت کرو بلکہ ان میں تو اگر قناعت وایثار سے کام لے کر یہ سمجھ لو کہ یہ چند روزہ راحت کا سامان ہاتھن سے نکل ہی گیا تو کچھ بڑے صدمے کی…
Read the full tafseer →’عَیْنًا‘ کا نصب علیٰ سبیل الاختصاص ہے اور ’بِہَا‘ میں ’ب‘ میرے نزدیک ظرفیہ ہے۔ اس کی وضاحت ’عَیْنًا یَشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفْجِیْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۶) کے تحت کر چکا ہوں۔ مے نوشی کے لوازم میں سے ایک چیز اس کا لب جو ہونا بھی ہے۔ اس دنیا میں اس خانہ خراب کے رسیا تو جہاں پائیں اور جس طرح بھی پائیں پی لیتے ہیں، یہاں تک کہ پیالہ نہیں ملتا تو چُلو ہی سے پی لیتے ہیں، لیکن یہ مقربین کی بزم مے نوشی ہے اس وجہ سے اس کے آداب اور ہیں۔
ہمارے مفسرین اور مترجمین پر اس ’ب‘ کی نوعیت واضح نہیں ہوئی ہے اس وجہ سے وہ یا تو اس سے کترا گئے ہیں یا اس کی غلط توجیہہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ مترجمین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
29۔ 1 یعنی انہیں حقیر جانتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
5: جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، تسنیم جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کا پانی جب اس شراب میں ملے گا تو اس کے ذائقے اور لطف میں بہت اضافہ کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
شراب کے وصف کا اختتام جو ان دو آیات میں ہوتا ہے۔
ومزاجہ .................... المقربون (28:83) ” اسی شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی ، یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے “۔ اس اختتام سے پہلے ہی ، درمیان میں ایک اہم ہدایت دے دی جاتی ہے اور یہ ہدایت ہے۔
وفی ذلک .................... المتنافسون (26:83) ” جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں “۔ یہ ایک گہرا اشارہ ہے اور اس کے اندر ایک جہان معانی پوشیدہ ہے۔
یہ ڈنڈی مارنے والے ، جو لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے ہیں ، اور آخرت کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ قیامت کے حساب و کتاب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
5 یعنی مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب خالص پیتے ہیں اور ابرار کو اس شراب کی ملونی دی جاتی ہے جو بطور گلاب وغیرہ کے ان کی شراب میں ملاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آیت 27{ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ۔ } ”اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔“
اس شراب یعنی رحیق مختوم میں تسنیم کا مشروب بھی ملایا گیا ہوگا۔ اور یہ تسنیم کیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
17 یعنی ابرار کے لیے تو (رحیق مختوم) ہوگی اور مقربین کے لیے بھی یہی شراب ہوگی لیکن اس میں تسنیم کی آمیزش بھی ہوگی۔ تسنیم جنت میں ایک چشمہ کا نام ہے شاید اس چشمہ کے پانی کی ملاوٹ سے وہ شراب مزید خوشگوار بن جاتی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
12۔ (آیت) ” تسنیم “۔ جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے، مقربین اس میں سے برابر پیتے ہی رہیں گے۔ اور ابرار کو بھی شراب خالص کے ساتھ کوئی جزو اس آب تسنیم کا مرحمت ہوتا رہے گا۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ آب تسنیم میں شاید کوئی قوت خاص ہے، جو لذات جسمانی اور غبات نفسانی سے چھڑا کر تمامتر شوق حضور و سرور لقاء پیدا کردیتی ہے، عوام اہل جنت کو اسی لیے اس میں سے کچھ کچھ بقدر ان کے تحمل کے عطا ہوتا رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی)
ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…
Read the full tafseer →عینا یشرب بھا . یہ تسنیم کی تشریح ہے خواہ اسکا نصب امدح یا اعنی مقدر کی بناء پر قرار دیا جائے یا تسنیم سے حال کہا
جائے اور بِھَا کا معنی ہے منھا (یعنی اس میں سے پئیں گے) یا یشرب چونکہ یلتذُّ کے معنی کو متضمن ہے اس لیے اس کے بعد بھا لایا گیا (یعنی اس شراب سے لذت یاب ہوں گے) ۔
المقربون . وہ لوگ جو کمالات نبوت کے خود حامل ہیں یا انبیاء کی معرفت ان کو وہ کمالات حاصل ہوئے ہیں
یعنی صدیق (گویا اہل قرب سے مراد ہیں انبیاء اور صدیقین) بغوی نے یوسف بن مہران کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے من تسنیم کا مطلب دریافت کیا گیا۔ فرمایا : یہ ان (نامعلوم) چیزوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ نے فرمایا : فلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(25۔ 28) اور ان کو پینے کے لیے خالص شراب جس پر مشک کی مہر ہوگی ملے گی، سو عمل کرنے والوں کو عمل اور کوشش کرنے والوں کو کوشش اور سبقت کرنے والوں کو ایسی چیز کے لیے سبقت اور خرچ کرنے والوں کو خرچ کرنا چاہیے اور اس شراب کی آمیزش تسنیم کے پانی سے ہوگی، تسنیم ایک ایسا چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پیئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(ومزاجہ من تسنیم…:”مزاج“ آمیزش، ملونی، وہ چیز جو دوسری چیز میں لذت بڑھانے یا خوشبو پیدا کرنے یا تیزی کم کرنے کے لئے ملاتے ہیں، مثلاً کسی پھل کا جوس یا روح کیوڑا، الائچی، گلاب، کستوری وغیرہ یا ٹھنڈا میٹھا پانی یا دودھ وغیرہ یہ صرف مثال ہے، جنت کی نعمتوں کی کیفیت اور لذت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، یا وہ جانیں گے جنہیں وہ حاصل ہوں گی۔
”تسنیم“ باب تفعیل کا مصدر ہے۔”سنم“ (س)”سنم، تسنم ای ترفع“ بلند ہونا، اونچی جگہ سے گرنا۔ یہ ”تسطیع“ (ہموار ہونے) کی ضد ہے۔ (قاموس)”تسنیم“ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے، جس کا پانی اہل جنت پر اوپر سے گر رہا ہوگا، یعنی وہ رحیق مختوم میں اس چشمے کا پانی ملا کر پئیں گے جو اوپر…
Read the full tafseer →عینا یشرب بھا المقربون۔ اسے خالص جنت عدن کے مکین پئیں گے یہ جنتیوں میں سے سب سے فضیلت والے ہیں جب کہ دوسروں کو اس کا آمیزہ ملے گا، عینا یہ بطور مدح منصوب ہے زجاج نے کہا، یہ تسنیم ہے بطور حال منصوب ہے تسنیم معرفہ ہے اس کا کوئی اشتقاق معروف نہیں اگر تو اسے مصدر بنائے اور سنام سے مشتق مانے توعینا اس کی وجہ سے منصوب ہوگا کیونکہ یہ اس کا مفعول بہ ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، او اطعم فی یوم ذی مسغبہ، یتیما۔ البلد) میں یتیما مفول بہ کی وجہ سے منصوب ہے یہ فراء کا قول ہے کہ عینا، تسنیم کی وجہ سے منصوب ہے اخفش کے نزدیک یہ یسقون کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، یسقون عینااو من عین۔ مبرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مالک بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومزاجہ من تسنیم سے مراد ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمنہ ہے جس میں سے صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی
7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم اہل جنت کی افضل شراب ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے کہ بیشک یہ اپنے قول کے سبب بلند مرتبہ ہے۔
8۔ ابن المنذر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت نضرۃ النعیم نعمت کی تازگی۔ یہ جنت میں ایک چشمہ ہے وہ لوگ اس سے وضو اور غسل کریں گے اور ان پر نعمت کی تازگی جاری ہوگی۔
9۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” مختوم “ سے مراد ہے ملی…
Read the full tafseer →[عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ : (یعنی) ایک ایسا چشمہ ہے پئیں گے جس سے قربت دیئے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
﴿ وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍۙ0027﴾ (تسنیم ایک ایسا چشمہ ہے جس میں مقرب بندے پئیں گے) ۔
معالم التنزیل میں حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مقربین بندے خالص تسنیم پئیں گے اور دوسرے جنتیوں کی شراب میں اس کی آمیزش ہوگی (گو ان کی شراب بھی خالص ہوگی) مگر مقربین کو ان کی شراب میں بھی شراب ملے گی جو تسنیم کے چشمہ میں بہ رہی ہوگی۔ اس میں سے دوسرے جنتیوں کی شراب میں بھی اس میں سے کچھ حصہ ملا دیا جائے گا۔
وقولہ تعالیٰ عینًا نصب علی المدح وقال الزجاج علی الحال من تسنیم والباء اما زائدة ای یشربھا او بمعنی من ای یشرب منھا او علی تضمـین یشرب معنی یروی ای یشرب الراوین بھا۔ (من روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–36
کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔
ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
9:۔ ” ان الابرار “ مومنین جنت کی نعمتوں میں ہوں گے تختوں پر تکیہ لگائے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے تروتازہ اور مسرت و شادمانی سے چمک رہے ہوں گے۔ انہیں خالص، سفید اور نہایت اعلی شراب پلائی جائیگی جو سربمہر ہوگی اور ان سے پہلے کسی نے اس کو ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا اور اس کی مہر بھی کستوری کی ہوگی۔ جس شراب پر مہر لگانے کا مسالہ کستوری ہو اس سے اندازہ لگا لیں کہ وہ شراب کس قدر عمدہ اور قیمتی ہوگی۔ ” وفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
(گذشتہ سے پیوستہ )
جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔
(جزائے عمل یقینی ہے)
قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…
Read the full tafseer →عَيْنًا يَّشْرَبُ بِہَا الْمُقَرَّبُوْنَ 28 ۭ
عين
ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا[ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ ۔ خِتٰـمُہٗ مِسْکٌ ط وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فِسُوْنَ ۔ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ ۔ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ (المطففین : 25 تا 28)
(انھیں بہترین سربند شراب پلائی جائے گی۔ جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی، جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس میں بازی لے جانے کی کوشش کریں۔ اس شراب میں تسنیم کی ملونی ہوگی۔ یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے۔ )
اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو جن نعمتوں سے نوازا جائے گا اور ان کی مجلسی زندگی جن نعمتوں سے معمور ہوگی ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انھیں شراب خالص اور بہترین شراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔
سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…
Read the full tafseer →28 : عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ (ایک ایسا چشمہ ہے جس سے مقرب بندے پئیں گے)
نحو : عینًا حال ہے یا مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ یشرب بہا ای یشرب منہا۔ وہ اس سے پئیں گے۔ المقربون۔ قول ابن مسعود ؓ : مقرب اس کو خالص پئیں گے اور اصحاب یمین کو ملا کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →28 ۔” عینا یشرب بھا المقربون “ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے قول ” من تسنیم “ کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔ فرمایا یہ ان میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” فلا تعلم نفس مااخفی لھم من قرۃ اعین “…” عینا “ حال کی بناء پر منصوب ہے۔ ” یشرب بھا “ یعنی ” منھا “ اس سے اور کہا گیا ہے اس سے صرف مقرب لوگ پئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…
Read the full tafseer →اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ (عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ ) جہاں سے صرف اللہ تعایل کے مقرب بندے ہی پئیں گے اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلی ترین شراب ہے بنا بریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہوگی جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہوگی یعنی خالص شراب وغیرہ اور دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
(18) اس شراب کی ایک اور خصوصیت کا ذکرو بیان : سو اس شراب طہور کی ایک اور خصوصیت کے ذکرو بیان کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی "۔ " تسنیم " اصل میں ماخوذ ہے " سنام " سے، جس کے معنی کوہان اور بلندی کے ہیں، یعنی یہ چشمہ جو کہ نہایت عمدہ اور اعلی قسم کا چشمہ پوگا بلندی سے بہتا ہوا آرہا ہوگا، سو یہ شراب جنت کا سب سے اعلی اور اشرف شراب ہوگی جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ یہ شراب مقربین کے لیے خاص ہوگی اور باقی اہل جنت کو اس کی آمیزش ملے گی (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، مدارک وغیرہ) " مزاج " کے معنی آمیزش ملونی کے ہوتے ہیں اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب خلاص پیتے ہیں اور ” ابرار “ کو اس کی ملونی دی جاتی ہے جیسے کسی کو شربت پلاتے وقت اس میں روح کیوڑا یا عرق گلاب ملایا جائے۔
Read the full tafseer →(83:28) عینا یشرب بھا المقربون : عینا کے منصوب ہونے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) یہ منصوب بوجہ تسنیم سے حال ہونے کے ہے۔
(2) اس کا نصب امدح یا اعنی فعل مقدرہ کی بنا پر ہے۔
بھا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) ب بمعنی من۔ منھا یعنی اس میں سے پئیں گے۔
(2) ب زائدہ ہے۔ معنی ہوں گے۔ اسے مقربین پئیں گے۔
(3) یشرب چونکہ یلتذ (باب افتعال بمعنی لذیذ پانا) کے معنی کو متضمن ہے اس لئے اس کے بعد بھا لایا گیا ہے یعنی اس شراب سے لذت یاب ہوں گے۔ (تفسیر حقانی، تفسیر مظہری، روح المعانی)
ترجمہ :۔ وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقربین پئیں گے۔
فائدہ : آیت مندرجہ بالا سے معلوم ہوا کہ بہشت میں جنتی رحیق (شراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں لیکن یہ شراب نادر ہے جو سربہمر رہتی ہے آگے فرمایا کہ جیسے دنیا میں مہر لاکھ یا مٹی پر جمائی جاتی ہے وہاں کی مٹی مشک ہے اسی پر جمائی جائیں گی ، شیشہ ہاتھ میں لیتے ہی دماغ معطر ہوجائے گا اور آخر تک خوشبومہکتی رہے گی آگے فرمایا کہ دنیا کی ناپاک شراب اس لائق نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے لیے لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے، اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہونی چاہیے ، آگے فرمایا کہ مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب کو خالص پیتے ہیں اور ابرار کو اس شراب کی ملونی دی جاتی ہے جو بطور گلاب وغیرہ کے ان کی شراب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
[3] دیکھو یہ کیسے بےعقل اور احمق لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں جنت کے ادھار پر دنیا کے نقد سے محروم کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…
Read the full tafseer →(28) یہ تسنیم ایک چشمہ ہے جس میں سے مقربین بارگاہ لوگ پئیں گے - یعنی یہ چشمہ تسنیم جو مقربین کے پینے کے لئے ہے اس شراب میں تھوڑی سی طونی اس چشمہ تسنیم کی ہوگی عام قاعدہ ہے کہ شراب پانی یا سوڈا وغیرہ ملاکر پیتے ہیں لیکن اس شراب میں چشمہ تسنیم کی آمیزش ہوگی تسنیم کے چشمے کا پانی جنت کے تمام پانیوں سے اعلیٰ اور مزے میں برتر ہے اونچی جگہ سے اس کا پانی ٹپک ٹپک کر آتا ہے بعض علماء فرماتے ہیں اس کا منبع عرش کے نیچے ہے۔
تنافس حریصانہ رغبت کو کہتے ہیں یہاں حرص کا مطلب یہ ہے کہ یہاں وہ عمل بڑھ کر کرو جو ابرار کے درجہ تک پہنچادیں اور یہ شراب پینے کو ملے۔ بعض نے یوں کہا ہے کہ اس شراب میں مشک ملا ہوا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ف 4۔ یعنی حرص کے لائق یہ ہے خواہ صرف شراب مراد لی جائے خاہ کل نعماء جنت، یعنی لائق لا تحصیل یہ نعمتیں ہیں نہ کہ دنیا کی فانی نعمتیں، اور ان کی تحصیل کا طریقہ نیک اعمال ہیں، پس ان میں انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔
Read the full tafseer →وہ چشمہ جس سے فقط مقربین ہی پئیں گے کوئی دوسرا نہیں پئے گا
28 ؎ یہ اس تسنیم کی مزید تشریح کی جا رہی ہے کہ اس چشمہ کا پانی جس چیز میں ملایا جائے گا اس کا مزہ اور ٹیسٹ (Taste) بہت بڑھ جائے گا بلا شبہ وہ شراب بھی اعلیٰ درجہ کی شراب ہوگی جس کا رنگ سفید ، جو ہر میل سے پاک اور نہایت صاف اور شفاف اور چمکدار اور نہروں میں عام طور پر ہوگی بلکہ مخصو ص ایک چشمہ میں ہوگی وہاں سے بلوریں برتنوں میں بھرنے کے بعد ان برتنوں کو سر بمہر (Seal) کردیا جائے گا اور سر بمہر کی جائے گی تو وہ خالص عنبر اور کستوری سے سر بمہر ہوں گے پھر جب ان میں تسنیم کا شریں پانی ملایا جائے گا تو یہ ہر ایک کو پینا کہاں نصیب ہوگا وہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (and inaspiring for this, the competitors should compete....83:26) The word تَنَافَسِ tanafus means for a few people 'to try or strive to gain some desirable things before others can get them.' Having mentioned the bounties of Paradise, the attention of heedless people are drawn to the fact that they are thinking that certain material things are desirable, and therefore they are competing one another to obtain them before others. They are told that the material blessings [ after which they are running ] are perishable. They should not be made…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
11 "Tasnim ".: height. Thus, Tasnim will be a fountain flowing down from a height.
Read the full tafseer →