Al-Mutaffifin 83:27

Al-Mutaffifin · from ayah 27

83:27

وَمِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ ۟ۙوَ مِزَاجُهٗ مِنۡ تَسۡنِيۡمٍ

اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہو گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And its mixture is of Tasneem,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:27

اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہو گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس کی آمیزش تسنیم کی ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس شراب میں تسنیم کا پانی ملا ہوا ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس (شراب) میں آبِ تسنیم کی آمیزش ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس میں تسنیم کی ملونی ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس میں تسنیم کے پانی کی آمیزش ہوگی

— محترمہ رفعت اعجاز

a wine whose mixture is Tasnim,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__and it will be blended with (a drink from) Tasnim ,

— Muhammad Taqi Usmani

__and it will be blended with (a drink from) Tasnim ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It will be mixed with Tasnim:

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And its mixture is of Tasneem,

— Saheeh International

With the wine is a drink from Tasnim,

— Muhammad Sarwar

And the admixture of it is a water of Tasnim,

— Muhammad Habib Shakir

And admixture thereof will be Water of Tasnim:

— Abdul Majid Daryabadi

With it will be (given) a mixture of Tasnim:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–28

نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–30

سورة الْمُطَفِّفِيْن 11 تسنیم کے معنی بلندی کے ہیں، اور کسی چشمے کو تسنیم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلندی سے بہتا ہوا نیچے آ رہا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–28

(آیت) وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ، تنافس کے معنے ہے چند آدمیوں کا کسی خاص مرغوب و محبوب چیز کے حاصل کرنے کے لئے جھپٹا دوڑنا تاکہ دوسروں سے پہلے وہ اس کو حاصل کرلیں، یہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے غفلت شعار انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آج تم لوگ جن چیزوں کو مرغوب مطلوب سمجھ کر ان کے حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو۔ یہ ناقص اور فانی نعمتیں اس قابل نہیں کہ ان کو مقصود زندگی سمجھ کر ان کے لئے مسابقت کرو بلکہ ان میں تو اگر قناعت وایثار سے کام لے کر یہ سمجھ لو کہ یہ چند روزہ راحت کا سامان ہاتھن سے نکل ہی گیا تو کچھ بڑے صدمے کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’مِزَاجٌ‘ سے مراد وہ ملونی ہے جو پینے والے پیتے وقت شراب میں اس کے کیف میں اضافہ یااس کے اندر اعتدال پیدا کرنے کے لیے ملا لیتے ہیں۔ فرمایا کہ اس شراب میں ملونی تسنیم کی ہو گی۔ پھر تسنیم کی وضاحت فرما دی کہ یہ ایک چشمہ ہے جس کے کنارے بیٹھ کر مقربین اس شراب سے لطف اندوز ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 اس میں تسنیم شراب کی امیزش ہوگی جو جنت کے بلائی علاقوں سے ایک چشمے کے ذریعے سے آئے گی۔ یہ جنت کی بہترین اور اعلیٰ شراب ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–36

5: جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، تسنیم جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کا پانی جب اس شراب میں ملے گا تو اس کے ذائقے اور لطف میں بہت اضافہ کردے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–28

شراب کے وصف کا اختتام جو ان دو آیات میں ہوتا ہے۔ ومزاجہ .................... المقربون (28:83) ” اسی شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی ، یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے “۔ اس اختتام سے پہلے ہی ، درمیان میں ایک اہم ہدایت دے دی جاتی ہے اور یہ ہدایت ہے۔ وفی ذلک .................... المتنافسون (26:83) ” جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں “۔ یہ ایک گہرا اشارہ ہے اور اس کے اندر ایک جہان معانی پوشیدہ ہے۔ یہ ڈنڈی مارنے والے ، جو لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے ہیں ، اور آخرت کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ قیامت کے حساب و کتاب کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–28

5 یعنی مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب خالص پیتے ہیں اور ابرار کو اس شراب کی ملونی دی جاتی ہے جو بطور گلاب وغیرہ کے ان کی شراب میں ملاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 27–28

آیت 27{ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ۔ } ”اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔“ اس شراب یعنی رحیق مختوم میں تسنیم کا مشروب بھی ملایا گیا ہوگا۔ اور یہ تسنیم کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

16 جنت کی شراب کے خواص :۔ دنیا کی شراب بدبودار ہوتی ہے اور ذائقہ تلخ، پینے سے اس کی سڑانڈ فوراً دماغ تک جاپہنچتی ہے جس سے انسان کے حواس مختل ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس جنت میں شراب کی یہ خاص قسم رحیق کی خوشبو ایسی ہوگی جیسے کستوری کی۔ اس کی مہر میں لاکھ یا مٹی یا موم کے بجائے کستوری لگائی گئی ہوگی اور اس میں دنیا کی شراب والی کوئی قباحت نہیں ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ رحیق یقیناً ایسی نعمت ہے جس پر لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے اور اس کے حصول کے لیے نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–28

12۔ (آیت) ” تسنیم “۔ جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے، مقربین اس میں سے برابر پیتے ہی رہیں گے۔ اور ابرار کو بھی شراب خالص کے ساتھ کوئی جزو اس آب تسنیم کا مرحمت ہوتا رہے گا۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ آب تسنیم میں شاید کوئی قوت خاص ہے، جو لذات جسمانی اور غبات نفسانی سے چھڑا کر تمامتر شوق حضور و سرور لقاء پیدا کردیتی ہے، عوام اہل جنت کو اسی لیے اس میں سے کچھ کچھ بقدر ان کے تحمل کے عطا ہوتا رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و مزاجہ من تسنیم . جنت کی شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ مزاج وہ چیز جو شراب میں ملائی جاتی ہے۔ قتادہ نے کہا : لفظ تسنیم کی وضعی ساخت بلندی کے مفہوم کی حامل ہے کیونکہ سنام کے معنی ہے اونچی چیز ‘ اسی لیے سنام اونٹ کے کوہان کو کہتے ہیں۔ بغوی (رح) نے (قتادہ کے قول کی روشنی میں) لکھا ہے کہ تسنیم وہ شراب ہوگی جو ابرار کے کمروں اور گھروں میں اوپر سے برسے گی۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عرش کے اوپر سے برسے گی کیونکہ جنت کے اوپر عرش چھت کی طرح ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اوپر ہوا میں شراب رواں ہوگی اور اہل جنت کے برتنوں میں ان کو بھرنے کے بقدر گرے گی جب برتن بھر جائینگے تو شراب کی بارش رک…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–28

(25۔ 28) اور ان کو پینے کے لیے خالص شراب جس پر مشک کی مہر ہوگی ملے گی، سو عمل کرنے والوں کو عمل اور کوشش کرنے والوں کو کوشش اور سبقت کرنے والوں کو ایسی چیز کے لیے سبقت اور خرچ کرنے والوں کو خرچ کرنا چاہیے اور اس شراب کی آمیزش تسنیم کے پانی سے ہوگی، تسنیم ایک ایسا چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پیئیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–28

(ومزاجہ من تسنیم…:”مزاج“ آمیزش، ملونی، وہ چیز جو دوسری چیز میں لذت بڑھانے یا خوشبو پیدا کرنے یا تیزی کم کرنے کے لئے ملاتے ہیں، مثلاً کسی پھل کا جوس یا روح کیوڑا، الائچی، گلاب، کستوری وغیرہ یا ٹھنڈا میٹھا پانی یا دودھ وغیرہ یہ صرف مثال ہے، جنت کی نعمتوں کی کیفیت اور لذت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، یا وہ جانیں گے جنہیں وہ حاصل ہوں گی۔ ”تسنیم“ باب تفعیل کا مصدر ہے۔”سنم“ (س)”سنم، تسنم ای ترفع“ بلند ہونا، اونچی جگہ سے گرنا۔ یہ ”تسطیع“ (ہموار ہونے) کی ضد ہے۔ (قاموس)”تسنیم“ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے، جس کا پانی اہل جنت پر اوپر سے گر رہا ہوگا، یعنی وہ رحیق مختوم میں اس چشمے کا پانی ملا کر پئیں گے جو اوپر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ومزاجہ من تسنیم۔ اس خالص شراب میں تسنیم کی آمیزش ہے، تسنیم وہ شراب ہے جو اوپر سے ان کی طرف انڈیلی جائے گی یہ جنت میں سب سے اعلی شراب ہے تسنیم کا لغت میں معنی بلند ہونا ہے، یہ چشمے کا پانی ہے جو بلندی سے پستی کی طرف آتا ہے اس سے سنام البعیر سے یہ بدن سے بلند ہوتی ہے، اس طرح تسنیم القبور کا لفظ استعمال ہوتا ہے کہ ان نما قبر، حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمہ ہے جس کا خالص پانی مقرب لوگ پئیں گے، اور اصحاب یمین کے جاموں میں اس میں سے کچھ چیز ملائی جائے گی تو وہ مشروب عمدہ اور خوشبو دار ہوجائے گا، حضرت ابن عباس نے ومزاجہ من تسنیم۔ کے بارے میں فرمایا، یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–33

6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مالک بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومزاجہ من تسنیم سے مراد ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمنہ ہے جس میں سے صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم اہل جنت کی افضل شراب ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے کہ بیشک یہ اپنے قول کے سبب بلند مرتبہ ہے۔ 8۔ ابن المنذر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت نضرۃ النعیم نعمت کی تازگی۔ یہ جنت میں ایک چشمہ ہے وہ لوگ اس سے وضو اور غسل کریں گے اور ان پر نعمت کی تازگی جاری ہوگی۔ 9۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” مختوم “ سے مراد ہے ملی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 27–28

﴿ وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍۙ0027﴾ (تسنیم ایک ایسا چشمہ ہے جس میں مقرب بندے پئیں گے) ۔ معالم التنزیل میں حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مقربین بندے خالص تسنیم پئیں گے اور دوسرے جنتیوں کی شراب میں اس کی آمیزش ہوگی (گو ان کی شراب بھی خالص ہوگی) مگر مقربین کو ان کی شراب میں بھی شراب ملے گی جو تسنیم کے چشمہ میں بہ رہی ہوگی۔ اس میں سے دوسرے جنتیوں کی شراب میں بھی اس میں سے کچھ حصہ ملا دیا جائے گا۔ وقولہ تعالیٰ عینًا نصب علی المدح وقال الزجاج علی الحال من تسنیم والباء اما زائدة ای یشربھا او بمعنی من ای یشرب منھا او علی تضمـین یشرب معنی یروی ای یشرب الراوین بھا۔ (من روح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–28

9:۔ ” ان الابرار “ مومنین جنت کی نعمتوں میں ہوں گے تختوں پر تکیہ لگائے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے تروتازہ اور مسرت و شادمانی سے چمک رہے ہوں گے۔ انہیں خالص، سفید اور نہایت اعلی شراب پلائی جائیگی جو سربمہر ہوگی اور ان سے پہلے کسی نے اس کو ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا اور اس کی مہر بھی کستوری کی ہوگی۔ جس شراب پر مہر لگانے کا مسالہ کستوری ہو اس سے اندازہ لگا لیں کہ وہ شراب کس قدر عمدہ اور قیمتی ہوگی۔ ” وفی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–28

(گذشتہ سے پیوستہ ) جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔ (جزائے عمل یقینی ہے) قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِيْمٍ۝ 27 ۙ مزج مَزَجَ الشّرابَ : خلطه، والمِزَاجُ : ما يمزج به . قال تعالی: كانَ مِزاجُها كافُوراً [ الإنسان/ 5] ، وَمِزاجُهُ مِنْ تَسْنِيمٍ [ المطففین/ 27] ، كانَ مِزاجُها زَنْجَبِيلًا [ الإنسان/ 17] . ( م ز ج ) مزج الشراب کے معنی شراب میں کوئی چیز ملا دیناکے ہیں ۔ اور جو چیز شراب میں ملائی اسے مزاج کہاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : كانَ مِزاجُها كافُوراً [ الإنسان/ 5] جس میں کافور کی آمیزش ہوگی ۔ وَمِزاجُهُ مِنْ تَسْنِيمٍ [ المطففین/ 27] اور اس میں تسنیم کے پانی کی آمیزش ہوگی ۔ كانَ مِزاجُها زَنْجَبِيلًا [ الإنسان/ 17] جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی ۔ سنم قال :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–28

ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–28

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ ۔ خِتٰـمُہٗ مِسْکٌ ط وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فِسُوْنَ ۔ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ ۔ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ (المطففین : 25 تا 28) (انھیں بہترین سربند شراب پلائی جائے گی۔ جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی، جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس میں بازی لے جانے کی کوشش کریں۔ اس شراب میں تسنیم کی ملونی ہوگی۔ یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے۔ ) اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو جن نعمتوں سے نوازا جائے گا اور ان کی مجلسی زندگی جن نعمتوں سے معمور ہوگی ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انھیں شراب خالص اور بہترین شراب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–28

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔ سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27 : وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ (اور اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی) خالص شراب میں تسنیم کی ملاوٹ ہوگی۔ تسنیم ایک معینہ چشمے کا نام ہے تسنیم یہ سنّمہٗ کا مصدر ہے جبکہ کسی چیز کو بلند کریں کیونکہ وہ جنت میں سب سے اعلیٰ شراب کا چشمہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام تسنیم رکھا۔ نمبر 2۔ کیونکہ وہ شراب اوپر سے انڈیلی جائے گی ان کے برتنوں میں ڈالی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” ومزاجہ من تسنیم “ شراب جو ان پر اوپر سے ان کے بالا خانوں اور منازل میں بہائی جائے گی اور کہا گیا ہے ہواء میں جاری ہوگی۔ پھر اہل جنت کے برتنوں میں ڈالی جائے گی ان کے بھرنے کے بقدر پھر جب وہ بھر جائیں گے تو رک جائے گی اور یہ قتادہ (رح) کے قول کا معنی ہے۔ السنام کے کلمہ کی اصل علو و بلندی سے ہے۔ اور بلند چیز کو سنام کہا جاتا ہے اور اس سے سنام البعیر اونٹ کی کوہان ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں وہ شراب ہے اس کا نام تسنیم ہے اور وہ عمدہ شراب ہے۔ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ خالص ہے مقربین کے لئے صرف وہ اس کو پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لئے ملائی جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ومزاجہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–28

18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–27

(خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ۭ ) جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی، اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس مہر لگی ہوگی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہوگی مشک کی مہر ہوگی، اس میں احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخر میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہوگا یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے جنت میں اس کی یہ منزلت ہوگی۔ (وَفِيْ ذٰلِكَ ) یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–28

(18) اس شراب کی ایک اور خصوصیت کا ذکرو بیان : سو اس شراب طہور کی ایک اور خصوصیت کے ذکرو بیان کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی "۔ " تسنیم " اصل میں ماخوذ ہے " سنام " سے، جس کے معنی کوہان اور بلندی کے ہیں، یعنی یہ چشمہ جو کہ نہایت عمدہ اور اعلی قسم کا چشمہ پوگا بلندی سے بہتا ہوا آرہا ہوگا، سو یہ شراب جنت کا سب سے اعلی اور اشرف شراب ہوگی جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ یہ شراب مقربین کے لیے خاص ہوگی اور باقی اہل جنت کو اس کی آمیزش ملے گی (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، مدارک وغیرہ) " مزاج " کے معنی آمیزش ملونی کے ہوتے ہیں اور اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 یعنی یہ ہے اصل چیز جسے حاصل کرنے کے لئے تمہیں ایک دوسرے سے آگے لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ دنیا کی عارضی اور بےحقیقت لذتیں دیکھیے۔ (صافات :61)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:27) ومزاجہ من تسنیم اور اس کی آمیزش ہوگی تسنیم سے یہ رحیق مختوم کی ایک اور صفت ہے کہ اس میں تسنیم کو ملایا جائے گا۔ مزاجہ مضاف مضاف الیہ۔ مزاج ومزج مصدر (باب نصر سے) بمعنی پانی وغیرہ سے ملانا۔ ملاوٹ کے بعد جو ایک جدید کیفیت ہوتی ہے اس کو بھی مزاج کہتے ہیں ۔ یعنی آمیزش، ملاوٹ، جو چیز ملائی جائے۔ مثلاً دودھ میں پانی یا چینی ملائی جائے اس کو بھی مزاج کہتے ہیں جیسے موجودہ صورت میں مزاج سے مراد تسنیم ہے یہ مضاف ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب رحیق کے لئے ہے مضاف الیہ ۔ مزاجہ من تسنیم۔ اس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ تسنیم جنت میں ایک چشمے کا نام ہے۔ لغت میں تسنیم اس چیز کو کہتے ہیں جو خوشبو یا ذائقہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–28

(ف 1) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں لیکن یہ شراب نادر ہے جو سربہمر رہتی ہے آگے فرمایا کہ جیسے دنیا میں مہر لاکھ یا مٹی پر جمائی جاتی ہے وہاں کی مٹی مشک ہے اسی پر جمائی جائیں گی ، شیشہ ہاتھ میں لیتے ہی دماغ معطر ہوجائے گا اور آخر تک خوشبومہکتی رہے گی آگے فرمایا کہ دنیا کی ناپاک شراب اس لائق نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے لیے لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے، اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہونی چاہیے ، آگے فرمایا کہ مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب کو خالص پیتے ہیں اور ابرار کو اس شراب کی ملونی دی جاتی ہے جو بطور گلاب وغیرہ کے ان کی شراب میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–30

[3] دیکھو یہ کیسے بےعقل اور احمق لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں جنت کے ادھار پر دنیا کے نقد سے محروم کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–28

ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–30

ف 4۔ یعنی حرص کے لائق یہ ہے خواہ صرف شراب مراد لی جائے خاہ کل نعماء جنت، یعنی لائق لا تحصیل یہ نعمتیں ہیں نہ کہ دنیا کی فانی نعمتیں، اور ان کی تحصیل کا طریقہ نیک اعمال ہیں، پس ان میں انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس میں تسنیم کی آمیزش بھی ہوگی 27 ؎ کسی چیز کی کیف اور مزا کو درست کرنے کے لیے بعض اوقات بالکل معمولی چیز ڈال دی جائے تو مزہ میں اتنا فرق آتا ہے کہ آدمی دنگ رہ جاتا ہے ۔ آپ نے تجربہ کیا ہوگا کہ ایک ہانڈی پکی ہوئی ہے اور پکانے والوں نے اس میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی لیکن بعض اوقات لیموں کی ایک کاش اس ہانڈی میں اس رکابی کا مزہ دوگنا کردیتی ہے جب کھانے والا اس پکے ہوئے کھانے میں اس کو نچوڑ دیتا ہے اور اتنی سی بات پر آدمی پہلے سے زیادہ کھنا کھا لیتا ہے ، پہلے سے زیادہ خوش ہوجاتا ہے حالانکہ اس میں محاورات بنے ہوئے ہیں کہ فلاں صاحب تو لیموں نچوڑ کر کردار دا کر رہے ہیں ۔ (تسنیم) جنت کے ایک چشمہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–28

وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (and inaspiring for this, the competitors should compete....83:26) The word تَنَافَسِ tanafus means for a few people 'to try or strive to gain some desirable things before others can get them.' Having mentioned the bounties of Paradise, the attention of heedless people are drawn to the fact that they are thinking that certain material things are desirable, and therefore they are competing one another to obtain them before others. They are told that the material blessings [ after which they are running ] are perishable. They should not be made…

Read the full tafseer →