Al-Mutaffifin 83:26

Al-Mutaffifin · from ayah 26

83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ؕ— وَفِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ۟ؕخِتٰمُهٗ مِسۡكٌ ‌ؕ وَفِىۡ ذٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوۡنَ

جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The last of it is musk. So for this let the competitors compete.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:26

جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس پر مشک کی مہر ہوگی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کی مہر بھی مشک ہی مشک ہوگی۔ اور یہی وہ چیز ہے جس پر للچانے والوں کو بڑھ چڑھ کر للچانا چاہیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کی مہُر مشک پر ہے، اور اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس کی مُہر کستوری کی ہوگی، اور (یہی وہ شراب ہے) جس کے حصول میں شائقین کو جلد کوشش کر کے سبقت لینی چاہیے (کوئی شرابِ نعمت کا طالب و شائق ہے، کوئی شرابِ قربت کا اور کوئی شرابِ دیدار کا۔ ہر کسی کو اس کے شوق کے مطابق پلائی جائے گی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کی مہر کستوری ہوگی اور اسی (کو حاصل کرنے) میں ان لوگوں کو مقابلہ کرنا لازم ہے جو (کسی چیز کے حاصل کرنے میں) مقابلہ کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس کی مہر کستوری کی ہوگی اور (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ وہ اس بات میں رغبت کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس پر مشک کی مہر ہوگی۔ یہ چیز ہے جس کی طلب میں طالبوں کو سرگرم ہونا چاہئے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس کی مہر مشک کی ہوگی تو اس میں بازی لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے ان لوگوں کو جو بازی لے جانا چاہتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جس پر مشک کی مہر ہوگی۔ ایسی ہی چیز کی حرص کرنا چاہیے حرص کرنے والوں کو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کی مہر ہوگی مشک کی۔ اس چیز کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس کی مہر مشک پر ہوگی تو نعمتوں کے شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

— محترمہ رفعت اعجاز

whose seal is musk – so let all aspirants aspire after that –

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the seal of which will be of musk.___It is this (bliss) in aspiring for which the competitors should race each other.

— Muhammad Taqi Usmani

the seal of which will be of musk.___It is this (bliss) in aspiring for which the competitors should race each other.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Sealed with musk, and for this let those strive who want to strive.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whose seal is musk - for this let (all) those strive who strive for bliss -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The last of it is musk. So for this let the competitors compete.

— Saheeh International

which have the fragrance of musk. This is the kind of place for which one should really aspire.

— Muhammad Sarwar

The sealing of it is (with) musk; and for that let the aspirers aspire.

— Muhammad Habib Shakir

The seal thereof will be of musk and to this end let the aspirers aspire -

— Abdul Majid Daryabadi

The seal thereof will be Musk: And for this let those aspire, who have aspirations:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–28

نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُطَفِّفِيْن 10 اصل میں الفاظ ہیں ختمہ مسک۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں میں وہ شراب رکھی ہوگی ان پر مٹی یا موم کے بجائے مشک کی مہر ہوگی۔ اس مفہوم کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ شراب کی ایک نفیس ترین قسم ہوگی جو نہروں میں بہنے والی شراب سے اشرف و اعلی ہوگی اور اسے جنت کے خدام مشک کی مہر لگے ہوئے برتنوں میں لا کر اہل جنت کو پلائیں گے۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ شراب جب پینے والوں کے حلق سے اترے گی تو آخر میں ان کو مشک کی خوشبو محسوس ہوگی۔ یہ کیفیت دنیا کی شرابوں کے بالکل برعکس ہے جن کی بوتل کھلتے ہی بو کا ایک بھپکا ناک میں آتا ہے، پیتے ہوئے بھی ان کی بدبو محسوس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–28

(آیت) وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ، تنافس کے معنے ہے چند آدمیوں کا کسی خاص مرغوب و محبوب چیز کے حاصل کرنے کے لئے جھپٹا دوڑنا تاکہ دوسروں سے پہلے وہ اس کو حاصل کرلیں، یہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے غفلت شعار انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آج تم لوگ جن چیزوں کو مرغوب مطلوب سمجھ کر ان کے حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو۔ یہ ناقص اور فانی نعمتیں اس قابل نہیں کہ ان کو مقصود زندگی سمجھ کر ان کے لئے مسابقت کرو بلکہ ان میں تو اگر قناعت وایثار سے کام لے کر یہ سمجھ لو کہ یہ چند روزہ راحت کا سامان ہاتھن سے نکل ہی گیا تو کچھ بڑے صدمے کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

ان نعمتوں میں سے یہ ایک نعمت کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ ان کو شراب خالص کے جام پلائے جائیں گے۔ یہ شراب سر بہ مہر ہو گی جو اول اول انہی کے لیے کھولی جائے گی اور یہ مہر مشک کی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ یہ چند صفات محض اس کا ایک اجمالی تصور دینے کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ رہیں اس کی اصل صفات و کیفیات تو ان کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو گا جو اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ البتہ یہ فرما دیا کہ چاہنے کی چیز ہے تو یہ ہے جس کے لیے حوصلہ کرنے والوں کو حوصلہ کرنا چاہیے! یہ اہل ایمان کے لیے تشویق و ترغیب بھی ہے اور اس میں ان سگان دنیا پر طنز بھی ہے جو حیات چند روزہ کی حقیر و فانی لذتوں کے حصول کی جدوجہد میں اپنے رات دن ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–26

26۔ 1 یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61؀) 37۔ الصافات :61)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–26

4: مومنوں کا اعمال نامہ چونکہ نیکیوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے مقرب فرشتے اس کے اعزازو اکرام کے طور پر اسے دیکھتے ہیں، اور دیکھنے کا مطلب اس کی نگرانی بھی ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–26

یسقون .................... مسک (25:83) ” ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہریں لگی ہوں گی “۔ رحیق ، خالص اور صاف شراب کو کہتے ہیں ، جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ کوئی کدورت ہوگی۔ شراب کی یہ صفت کہ وہ سر بند ہوگی اور اس کی مہر مشک سے بنی ہوئی ہوگی۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ وہ برتنوں میں ہوگی اور یہ برتن سربند اور مہرزدہ ہوں گے اور پینے کے وقت ان کو کھولا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت اہتمام اور صفائی سے اسے تیار کیا جائے گا اور مشک سے مہر کرنا ، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ صاف اور خوش ذائقہ ہوگی۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو ان اصطلاحات میں بتائے گئے ہیں جن کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 جیسے دنیا میں مہر لاکھ یا مٹی پر جمائی جاتی، وہاں کی مٹی مشک ہے اسی پر جمائی جائے گی، شیشہ ہاتھ میں لیتے ہی دماغ معطر ہوجائے گا اور اخیر تک خوشبو مہکتی رہے گی۔ 4 یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس لائق نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے لئے لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہونی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26{ خِتٰمُہٗ مِسْکٌ} ”اس کی مہر ہوگی مشک کی۔“ { وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ۔ } ”اس چیز کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے۔“ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی حقیر چیزوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے ان دوامی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور مسابقت کریں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

16 جنت کی شراب کے خواص :۔ دنیا کی شراب بدبودار ہوتی ہے اور ذائقہ تلخ، پینے سے اس کی سڑانڈ فوراً دماغ تک جاپہنچتی ہے جس سے انسان کے حواس مختل ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس جنت میں شراب کی یہ خاص قسم رحیق کی خوشبو ایسی ہوگی جیسے کستوری کی۔ اس کی مہر میں لاکھ یا مٹی یا موم کے بجائے کستوری لگائی گئی ہوگی اور اس میں دنیا کی شراب والی کوئی قباحت نہیں ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ رحیق یقیناً ایسی نعمت ہے جس پر لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے اور اس کے حصول کے لیے نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–26

10۔ یعنی نہایت پاکیزہ خوش ذائقہ، خوش رائحہ، (آیت) ” یسقون “۔ کا صیغہ مجہول اہل جنت کے مرتبہ عظمت پر دلالت کررہا ہے۔ 11۔ یعنی تحصیل کے لائق اور شوق کے قابل یہ نعمتیں دنیوی نعمتیں۔ اور ان کی تحصیل کا طریق ایمان وطاعت ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ رحیق کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔ اور نعیم کیطرف بھی، حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔ اے فی الرحیق او النعیم (مدار)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ختامہ مسک . جس پر مہر لگی ہوگی وہ (مٹی یا موم نہ ہوگا) مشک ہوگا۔ قاموس میں ہے ختام بروزن کتاب وہ مٹی جس پر مہر لگائی جاتی ہے اور خاتم وہ مہر جو مٹی پر لگائی جاتی ہے یعنی بجائے مٹی کے (موم وغیرہ) کے اس شراب کے برتنوں پر مشکی مہر لگی ہوگی۔ ابن زید ؓ نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : (اس جگہ ختام کا معنی آخری مزہ) اس کا آخری مزہ (یعنی آخری گھونٹ) مشک سے ملا ہوا ہوگا۔ قاموس میں ہے ‘ ہر چیز کا ختام۔ آخر ‘ خاتمہ۔ وفی ذلک . یعنی اسی شراب یا راحت (کی طلب) ۔ فلیتنافس المتنافسون . اہل رغبت شدت رغبت کے ساتھ کریں۔ تنافس نفس یا نفیس سے مشتق ہے۔ تنافس کا معنی ہے کسی نفیس چیز کو اپنے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–28

(25۔ 28) اور ان کو پینے کے لیے خالص شراب جس پر مشک کی مہر ہوگی ملے گی، سو عمل کرنے والوں کو عمل اور کوشش کرنے والوں کو کوشش اور سبقت کرنے والوں کو ایسی چیز کے لیے سبقت اور خرچ کرنے والوں کو خرچ کرنا چاہیے اور اس شراب کی آمیزش تسنیم کے پانی سے ہوگی، تسنیم ایک ایسا چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پیئیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–26

(یسقون من رحیق محتوم…:”رحیق“ خالص شراب جس میں کھوٹ نہ ہو۔“ (مختوم) اگرچہ جنت میں شراب کی نہریں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وانھر من خمر لذۃ للشربین) (محمد : 15)”اور شراب کی کئی نہریں ہیں جوپ ینے والوں کے لئے لذیذ ہیں“ مگر یہ ایک خاص شراب ہوگی، جو بترنوں میں بند ہوگی، جن پر مہر مٹی یا راکھ کے بجائے کستوری کی ہوگی۔ ”ختمہ مسک“ کا ایک معنی یہ بیھ ہے کہ پیتے وقت آخری گھونٹ کے ساتھ کستوری جیسی خوشبو آئے گی نہ کہ دنیا کی شراب کی طرح بدبو کا بھبھوکا اٹھے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مختوم، ختمہ مسک۔ مجاہد نے کہا، آخری گھونٹ جس پر وہ اسے ختم کرے گا وہ کستوری ہوگی، ایک قول یہ کیا گیا ہے جب وہ شراب پئیں گے تو پیالہ میں جو کچھ ہوگا وہ ختم ہوجائے گا تو اس کا اختتام کستوری کے خاتمہ کے ساتھ ہوگا، حضرت ابن مسعود کہا کرتے تھے، وہ اس کے بعد کستوری کا ذائقہ پائیں گے اس کی مثل سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی کا قول ہے، دونوں نے کہا، ختمہ سے مراد اس کے ذائقہ کا آخر ہے یہ تعبیر اچھی ہے کیونکہ مشروبات میں عام معمول یہ ہے کہ اس کے آخر میں گدلا پن ہوتا ہے، جتنی لوگوں کے مشروب کی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس کے آخر میں خوشبو کستوری کی خوشبو ہوگی۔ مسروق نے حضرت عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ مختوم کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

5۔ عبد بن حمید نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ختمہ مسک سے مراد ہے کہ اس کی آمیزش کستوری کی ساتھی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ۭ: جس کی مہر مشک ہوگی ][ وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ : اور اس میں پس چاہیے کہ جان کھپائیں ][ الْمُتَنَافِسُوْنَ : جان کھپانے والے ] نوٹ۔ 1: تنافس کے معنی ہے کہ چند آدمیوں کا کسی خاص مرغوب و محبوب چیز کو حاصل کرنے کے لیے جھپٹنا اور دوڑنا تاکہ دوسروں سے پہلے وہ اس کو حاصل کرلیں۔ یہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے غفلت شعار انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آج تم لوگ جن چیزوں کو مرغوب و مطلوب سمجھ کر ان کو حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو، وہ ناقص اور فانی نعمتیں اس قابل نہیں کہ ان کو مقصود زندگی سمجھ کر ان کے لیے مسابقت کرو۔ بلکہ ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–26

اس کے بعد نیک بندوں کو شراب کا تذکرہ فرمایا ﴿ يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ0025﴾ (انہیں خالص شراب میں سے پلایا جائے گا۔ وہ برتنوں میں لائی جائے گی ان پر مہر لگی ہوگی) ۔ مزید فرمایا ﴿ خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ﴾ (یہ مہر مشک کی ہوگی) اس مشک کی مہر کی وجہ سے اس کی لذت چند در چند دوبالا ہوجائے گی، یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ جس شراب کی مہر مشک کی ہوگی اور مشک بھی وہاں کا ہوگا۔ اس شراب کی اپنی لذت اور کیفیت کا کیا عالم ہوگا۔ وہاں کی شراب میں نہ نشہ ہوگا نہ اس سے سر میں درد ہوگا۔ جیسا کہ سورة واقعہ میں فرمایا : ﴿ لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ0019﴾ (نہ اس کی وجہ سے سر میں درد ہوگا نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–28

9:۔ ” ان الابرار “ مومنین جنت کی نعمتوں میں ہوں گے تختوں پر تکیہ لگائے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے تروتازہ اور مسرت و شادمانی سے چمک رہے ہوں گے۔ انہیں خالص، سفید اور نہایت اعلی شراب پلائی جائیگی جو سربمہر ہوگی اور ان سے پہلے کسی نے اس کو ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا اور اس کی مہر بھی کستوری کی ہوگی۔ جس شراب پر مہر لگانے کا مسالہ کستوری ہو اس سے اندازہ لگا لیں کہ وہ شراب کس قدر عمدہ اور قیمتی ہوگی۔ ” وفی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–28

(گذشتہ سے پیوستہ ) جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔ (جزائے عمل یقینی ہے) قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خِتٰمُہٗ مِسْكٌ۝ 0 ۭ وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ۝ 26 ۭ مسك إمساک الشیء : التعلّق به وحفظه . قال تعالی: فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] ، وقال : وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] ، أي : يحفظها، واستمسَكْتُ بالشیء : إذا تحرّيت الإمساک . قال تعالی: فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] ، وقال : أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] ، ويقال : تمَسَّكْتُ به ومسکت به، قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] . يقال : أَمْسَكْتُ عنه كذا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–28

ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–28

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ ۔ خِتٰـمُہٗ مِسْکٌ ط وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فِسُوْنَ ۔ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ ۔ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ (المطففین : 25 تا 28) (انھیں بہترین سربند شراب پلائی جائے گی۔ جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی، جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس میں بازی لے جانے کی کوشش کریں۔ اس شراب میں تسنیم کی ملونی ہوگی۔ یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے۔ ) اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو جن نعمتوں سے نوازا جائے گا اور ان کی مجلسی زندگی جن نعمتوں سے معمور ہوگی ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انھیں شراب خالص اور بہترین شراب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–28

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔ سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26 : خِتٰمُہٗ مِسْکٌ (جس میں مشک کی مہر ہوگی) وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فِسُوْنَ (اور حرص کرنے والوں کو ایسی چیز کی حرص کرنی چاہیے) اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اکرام کے لئے وہاں کی شراب کو کستوری کی مہر والا بنایا۔ جبکہ دنیا میں شراب پر مٹی کی مہر لگائی جاتی ہے۔ (مٹی سے نکلی ہوئی اشیاء جیسے پلاسٹک وغیرہ) نمبر 2۔ ختامہ مسک اس کے اختتام پر مشک کی خوشبو ہوگی۔ قراءت : خاتَمہٗ علی نے پڑھا ہے۔ وَفِیْ ذٰلِکَ ( اور اسی میں) خالص شراب اور شاندار نعمتیں فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فِسُوْنَ رغبت کرنے والوں کو رغبت کرنا چاہیے اور یہ نیک کاموں میں سبقت سے حاصل ہوتی ہے اور برائیوں سے بازرہنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26 ۔” ختامہ “ یعنی اس کا مزاج۔ ” مسک “ گویا کہ اس معنی کی طرف گئے ہیں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس کی مہر عنداللہ کستوریے اور دنیا کی مہرگارا ہے اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” مختوم “ یعنی اس کی مہر ملی ہوئی ہے یعنی اس کے ذائقہ کا آخر اور انجام مشک ہے۔ پس مختوم وہ چیز جس کے لئے ختام یعنی آخر ہو اور ہر چیز کا ختم ہونا اس سے فارغ ہونا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کے لئے کافور کے ساتھ ملایاجائے گا اور کستوری کے ذریعے مہر لگائی جائے گی اور اکثر کی قرات ” ختامہ مسک “ تاء کو مقدم کرنے کے ساتھ اور کسائی (رح) نے ” خاتمہ “ پڑھا ہے اور یہ علی اور علقمہ کی قرات ہے اور ان دونوں کا معنی ایک ہے جیسا کہ کہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–28

18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–27

(خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ۭ ) جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی، اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس مہر لگی ہوگی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہوگی مشک کی مہر ہوگی، اس میں احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخر میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہوگا یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے جنت میں اس کی یہ منزلت ہوگی۔ (وَفِيْ ذٰلِكَ ) یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–28

(18) اس شراب کی ایک اور خصوصیت کا ذکرو بیان : سو اس شراب طہور کی ایک اور خصوصیت کے ذکرو بیان کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی "۔ " تسنیم " اصل میں ماخوذ ہے " سنام " سے، جس کے معنی کوہان اور بلندی کے ہیں، یعنی یہ چشمہ جو کہ نہایت عمدہ اور اعلی قسم کا چشمہ پوگا بلندی سے بہتا ہوا آرہا ہوگا، سو یہ شراب جنت کا سب سے اعلی اور اشرف شراب ہوگی جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ یہ شراب مقربین کے لیے خاص ہوگی اور باقی اہل جنت کو اس کی آمیزش ملے گی (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، مدارک وغیرہ) " مزاج " کے معنی آمیزش ملونی کے ہوتے ہیں اور اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یہ ترجمہ اس صورت میں کہ ” ختام “ کے معنی ” آخری گھونٹ “ کیہوں۔ اس کے دوسرے معنی ” مہر “ کے بھی ہیں، اس لئے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مہر موم یا لاکھ کے بجائے مشک پر جمی ہوئی شاہ صاحب فرماتے ہیں :’ دشراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں لیکن یہ شراب نادر ہے جو زیر مہر رہتی ہے اور اس کی قدر کے موافق مہر جمتی ہے ” مشک پر “ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:26) ختمہ مسک جس کی مہر مشک (کی) ہوگی۔ یہ رحیق کی دوسری صفت ہے۔ وفی ذلک فلیتافس المتنافسون : جملہ معترضہ ہے۔ واؤ عاطفہ ہے فی ذلک ای لذلک ۔ الی ذلک۔ یعنی ایسی شراب حاصل کرنے کے لئے۔ فلیتنافس فعل امر واحد مذکر غائب۔ تنافس (تفاعل) مصدر سے۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر کسی چیز کی حرص کرنا۔ ایک دوسرے سے جلدی کرنا۔ مبادرت کرنا۔ کسی چیز میں کسی سے جلدی کرنا۔ سبقت کرنا۔ س وصل کی وجہ سے مکسور ہے۔ قرطبی نے لکھا ہے :۔ والی ذلک فلیتبادرون۔ اس کی طرف تم ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوشش کرو۔ المتنافسون : تنافس سے اسم فاعل کا سیغہ جمع مذکر۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص کرنے والے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس چاہیے کہ شوق رکھنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–28

(ف 1) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں لیکن یہ شراب نادر ہے جو سربہمر رہتی ہے آگے فرمایا کہ جیسے دنیا میں مہر لاکھ یا مٹی پر جمائی جاتی ہے وہاں کی مٹی مشک ہے اسی پر جمائی جائیں گی ، شیشہ ہاتھ میں لیتے ہی دماغ معطر ہوجائے گا اور آخر تک خوشبومہکتی رہے گی آگے فرمایا کہ دنیا کی ناپاک شراب اس لائق نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے لیے لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے، اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہونی چاہیے ، آگے فرمایا کہ مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب کو خالص پیتے ہیں اور ابرار کو اس شراب کی ملونی دی جاتی ہے جو بطور گلاب وغیرہ کے ان کی شراب میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–26

[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–28

ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) اس شراب کی مہر مشک کی ہوگی اور رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ اس نفیس شراب کی خواہش کریں - یعنی دنیا میں جس طرح لاکھ پر مہر لگائی جاتی ہے یہ مہر مشک پر جمائی جائیگی جس کو کھولتے تمام مجلس مشک کی خوشبو سے مہک جائیگی دنیا کی شراب اس لائق نہیں کہ اس کی جانب کوئی توجہ کی جائے۔ البتہ یہ شراب اس قابل ہے کہ اس شراب کی رغبت کی جائے اور پینے والے اس کی خواہش کریں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں لیکن یہ شراب نادر ہے جو سر بمہررہتی ہے اور ان کی قدر کے موافق مہر جمتی ہے مشک پر ۔ اور یہ شراب اس لائق ہے کہ پینے والے اس کی خواہش اور رغبت کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–30

ف 4۔ یعنی حرص کے لائق یہ ہے خواہ صرف شراب مراد لی جائے خاہ کل نعماء جنت، یعنی لائق لا تحصیل یہ نعمتیں ہیں نہ کہ دنیا کی فانی نعمتیں، اور ان کی تحصیل کا طریقہ نیک اعمال ہیں، پس ان میں انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس پر شک کی مہر ہوگی اور چاہیے کہ خواہش رکھنے والے اس کی خواہش کریں 26 ؎ ( مسک) اسم شک مسک مادہ م س ک ہے جس کے معنی روکنے کے ہیں ۔ اس خوشبو کو روک کر رکھنے کے باعث یا چونکہ جس کو یہ دی جاتی ہے وہ اس کو روکنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے اس کو ( مسک) کا نام دیا گیا ہے اور فارسی نام اس کا ناقہ تاتار ہے۔ یہ ایک خاص قسم کے ہرن کی ناف سے نکالی جاتی ہے اور وہی اصل مشک ہوتی ہے اور اگرچہ آج کل زیادہ تر بناوٹی (Artificial) تیار ہوتی ہے لیکن اصل اصل ہے اور بناوٹ بناوٹ ۔ اس جگہ اصل ہی مراد ہے یعنی ان مشروبات پر کستوری کی مہریں ہوں گی۔ ( تنافس) واحد مذکر غائب امر غائب وصل کی وجہ سے مکسور کردیا گاد ۔ تنافس مصدر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–28

وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (and inaspiring for this, the competitors should compete....83:26) The word تَنَافَسِ tanafus means for a few people 'to try or strive to gain some desirable things before others can get them.' Having mentioned the bounties of Paradise, the attention of heedless people are drawn to the fact that they are thinking that certain material things are desirable, and therefore they are competing one another to obtain them before others. They are told that the material blessings [ after which they are running ] are perishable. They should not be made…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–26

10 One meaning of the words khltamu-hu misk is that the vessels containing the wine will carry the seal of musk instead of clay or wax. Accordingly the verse means: This will be the choicest kind of wine, which will be superior to the wine flowing in the canals, and it will be served by the attendants of Paradise in vessels sealed with musk to the dwellers of Paradise. Another meaning also can be: When that wine will pass down the throat, its final effect will be of the flavour of musk. This state is contrary to the wines of the world which give out an offensive smell as soon as the bottle…

Read the full tafseer →