Explained with ayahs 29–36
یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذار سانی کے درپے ہوجاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے اللہ فرماتا ہے کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ہے اخسؤا فیھا الخ یعنی اس جہنم میں پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
سورة الْمُطَفِّفِيْن 11
تسنیم کے معنی بلندی کے ہیں، اور کسی چشمے کو تسنیم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلندی سے بہتا ہوا نیچے آ رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ اہل باطل کے طرز عمل کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کفار اہل باطل مومین اہل حق پر استہزا ہنستے اور دل لگی کرتے ہیں اور جب اہل حق ان کے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو آنکھ کے اشارے کرتے ہیں جس سے مقصود بھی ان کی اشتہزا اور ایذا رسانی ہوتی ہے۔ پھر جب یہ کفار اہل باطل اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹتے ہیں تو مومنین کے ساتھ جو تمسخر اور استہزا کیا ہے اس کا باہم تذکرہ مزے لے کر کرتے ہیں کہ ہم نے خوب ان لوگوں کو ذلیل کیا۔ اور جب کفار مومنین کو دیکھتے ہیں تو بظاہر ہمدردی…
Read the full tafseer →اور جب کبھی پاس سے گزرتے تو کَن انکھیوں سے اشارہ کرتے۔
’مَرُّوۡا بِہِمْ‘ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا کہ جب کبھی مسلمان ان کے پاس سے گزرتے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جب کبھی ان فراعنہ کا گزر مسلمانوں کی طرف ہوتا تو کَن انکھیوں کے اشاروں سے ان کے دلوں پر چرکے لگاتے۔ یہ امر واضح رہے کہ آنکھ کے اشاروں کے گھاؤ تیر اور تلوار کے گھاؤ سے بھی گہرے ہوتے ہیں اور تذلیل و تحقیر کا تو یہ خاص ہتھیار ہے۔ ان شاء اللہ سورۂ ہمزہ کی تفسیر میں اس کے بعض خاص پہلو زیربحث آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
31۔ 1 یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا، اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
5: جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، تسنیم جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کا پانی جب اس شراب میں ملے گا تو اس کے ذائقے اور لطف میں بہت اضافہ کردے گا۔
Read the full tafseer →واذامرو .................... یتغامرون (30:83) ” جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے “۔ یعنی وہ آنکھوں سے اشارے کرتے تھے یا ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے یا کوئی ایسی حرکت کرتے تھے جو ان کے درمیان مذاق اڑانے کے لئے متعارف تھی ۔ یہ ایسی گری ہوئی حرکت ہوتی جس سے ان کی گستاخی اور بےادبی کا اظہار ہوتا ، یہ حرکت تہذیب کے دائرے سے نکلی ہوئی ہوتی ، اور ایسی حرکات سے ان لوگوں کا مقصد یہ ہوتا کہ اہل اسلام کے دل ٹوٹ جائیں اور ان کو شرمندہ کیا جائے اور وہ اس تحریک کی کامیابی سے مایوس ہوجائیں ، اس لئے یہ لوگ اس طرح کے اشارے کرتے اور چھچھوری حرکات کرتے۔
Read the full tafseer →7 کہ دیکھو یہ ہی بےعقل اور احمق لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو جنت کے ادھار پر دنیا کے نقد سے محروم کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 30{ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ۔ } ”اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔“
کہ دیکھو ! یہ ہیں وہ احمق جو جنت کی حوروں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
17 یعنی ابرار کے لیے تو (رحیق مختوم) ہوگی اور مقربین کے لیے بھی یہی شراب ہوگی لیکن اس میں تسنیم کی آمیزش بھی ہوگی۔ تسنیم جنت میں ایک چشمہ کا نام ہے شاید اس چشمہ کے پانی کی ملاوٹ سے وہ شراب مزید خوشگوار بن جاتی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
13۔ یہ سب ذکر اسی دنیا میں ہورہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس دنیا میں سامنے اور پیچھے ہر طرح ہر وقت اہل ایمان کی تحقیر و استہزاء کا مشغلہ جو لوگ جاری رکھتے تھے۔ (آیت) ” الذین اجرموا “۔ یعنی منکرین ومکذبین۔ جرم آیت میں قرآن کی متعدد دوسری آیتوں کی طرح ایمان کے مقابلہ میں ہے۔ المراد من قولہ ان الذین اجرموا اکابر المشرکین (کبیر) اے اشرکوا (معالم) (آیت) ” المقربون “۔ یہ جنت کے افضل ترین مرتبہ والے ہیں، جن کا ذکرسورۃ الواقعہ (پ 27) میں آچکا ہے۔ بعض محققین نے مراد یہ لی ہے کہ جنت میں مقربین تو مشاہدۂ ذات کی لذت میں مستغرق رہیں گے۔ اور اصحب الیمین یا ابرار مشاہدۂ ذات میں بھی رہیں گے اور مشاہدۂ مخلوقات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی)
ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…
Read the full tafseer →واذا مروابھم یتغامزون . اور جب مؤمن کافروں کی طرف سے گزرتے تھے تو وہ کافر ‘ مسلمانوں
کی طرف بطور استہزاء آنکھ اور ابرو سے اشارے کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(29۔ 36) اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ وہی ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتے تھے اور جب ایمانداروں کا حضور کے پاس آنے کے لیے ان پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو جاتے تھے تو اپنے شرک پر خوشی اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ حالانکہ یہ کافر مسلمانوں پر اور ان کے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سو آج قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا پورا پورا بدلہ…
Read the full tafseer →(واذا مروابھم یتغامرون :”یتغامرون“ ”عمز“ ابروؤں اور پلکوں کیساتھ اشارہ کرنا، یعنی یہ مجرم لوگ اہل ایمان کی کتاب و سنت کے مطابق ہیئت و لباس، طرز گفتگو، دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کے حصول کے لئے محنت دیکھ کر ان کی تحقیر کرنے اور مذاق اڑانے کے لئے ایک دوسرے کو آنکھیں مارتے تھے کہ یہی وہ سر پھرے لوگ ہیں جنہوں نے خیالی جنت کے لئے اپنے آپ کو دنیا کی لذتوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ان الذین اجرموا۔۔۔ تا۔۔۔ ماکانوایفعلون۔
ان الذین اجرموا کانو من الذین آمنو یضحکون، واذا مروا بھم یتغامزون۔ کفار دنیا میں مومنوں کے ساتھ جو مزاق کیا کرتے تھے اس کا ذکر ہے مراد قریش کے مشرک روسا ہیں کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد ولیدہ بن مغیرہ، عقبہ بن ابی معیط، عاص بن وائل، اسود بن عبدیغوث، عاص بن ہشام، ابوجہل اور نضر بن حارث ہے، یہی لوگ نبی کے صحابہ، حضرت عمار، حضرت خباب، حضرت صہیب اور حضرت بلال کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ جب وہ رسول اللہ کے پاس آنے کے لیے ان کے پاس سے گزرتے وہ ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارہ کیا کرتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اسلام کی وجہ سے انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مالک بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومزاجہ من تسنیم سے مراد ہے کہ تسنیم جنت میں ایک چشمنہ ہے جس میں سے صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لیے اس کی آمیزش کی جائے گی
7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ تسنیم اہل جنت کی افضل شراب ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے کہ بیشک یہ اپنے قول کے سبب بلند مرتبہ ہے۔
8۔ ابن المنذر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت نضرۃ النعیم نعمت کی تازگی۔ یہ جنت میں ایک چشمہ ہے وہ لوگ اس سے وضو اور غسل کریں گے اور ان پر نعمت کی تازگی جاری ہوگی۔
9۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” مختوم “ سے مراد ہے ملی…
Read the full tafseer →[وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ : اور جب گزرتے ان کے پاس سے ][ يَتَغَامَزُوْنَ : تو باہم ایک دوسرے کو آنکھ مارتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
نیک بندوں کا ایمان اور خوشی کا انجام بیان فرمانے کے بعد مجرمین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اہل ایمان کے مخالف ہیں ان سے بغض اور دشمنی رکھتے ہیں دنیا میں ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب کہیں اہل ایمان بیٹھے ہوتے اور یہ لوگ وہاں سے گزرتے تو اہل ایمان کا مذاق بنانے کے لیے آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے کہ دیکھو کہ یہ جا رہے ہیں پھٹیچر، جنت کے دعوے دار، تن پر کپڑا نہیں، پاؤں میں جوتا نہیں، بنتے ہیں بڑے اللہ کے پیارے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت خباب، حضرت بلال اور دیگر فقراء مومنین ؓ پر ایسی پھبتیاں کستے تھے اور جب یہ مجرمین اپنے گھروں کو جاتے تھے تو خوش ہوتے ہوئے جاتے تھے کہ دیکھو ہم نے بڑا کمال کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–36
کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔
ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
10:۔ ” ان الذین “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ مشرکین قریش، فقراء مومنین پر بطور استہزاء ہنستے تھے اور جب کبھی مسلمان ان کے پاس سے گذرتے تو مستکبرین قریش استحقار و تمسخر کے طور پر آنکھوں اور ابروؤں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے اور جب اپنے گھروں کو واپس آتے تو بہت خوش ہوتے کہ آج ان فقراء سے استہزاء و تمسخر کا خوب مزہ آیا۔ ” واذا راوھم “ جب مشرکین مسلمانوں کو دیکھتے تو یہ کہتے یہ لوگ گمراہ ہیں، حالانکہ ان کو مسلمانوں پر نگران مقرر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ان کو ان کی گمراہی اور ہدایت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا کہ وہ ان کی ہدایت و ضلالت کا فیصلہ کرتے پھریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
(گذشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ میں قیامت ہی کا ذکر ہے اس میں تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ ابرار اور۔ فجار کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ کہ آئندہ زندگی میں ان کے ساتھ کیا معاملات پیش آنے والے ہیں۔ اب ان آخری آیات میں کفار اور مشرکین کے اس برے سلوک کا ذکر ہے جو وہ اہل ایمان سے روا رکھتے تھے۔
(ایمانداروں کے ساتھ استہزاء)
ارشاد دباری تعالیٰ ہے ان الذین اجرمو جو لوگ مجرم یعنی گہنگار ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ کانو من الذین آمنو یضحکون یہ ایمانداروں پر ہنستے ہیں۔ کفار و مشرکین عام طور پر یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں پہلے ادوار میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ يَتَغَامَزُوْنَ 30 ۡ ۖ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔
اذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
ترکیب ¦ الذین مع صلۃ اسم ان۔ کانوا اسم کان ضمیر متصل یضحکون خبرھا من الذین امنوا متعلق بیضحکون ای یستہزون منھم فالجملۃ کانوا الخ خبران واذا مروا ای المسلمون بھم بالکفار وہم فی مجالسھم یتغامزون الکفار من الغمز وھو الاشارۃ بالجفون والحواجب واذا انقلبوا ای الکفار شرط انقلبوا جواب اذا فکہین حال منہ قرء عاصم فی روایۃ حفص عنہ فکھین بغیر الف فی ھذا الموضع وحدہ وقراء الباقون فاکھین بالالف فقیل معنا ھما واحد وقیل ان الف کہ الاشرالبطر والفاکھہ الناعم المتنعم واذا شرطیہ وا ای الکفار ھم المسلمین قالوا جواب الشرط وما ارسلوا الجملۃ حال من فاعل قالوا فالیوم منصوب بیضحکون و فاعلہ الذین آمنوا وتقدیم الفاعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ ۔ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ ۔ وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓی اَھْلِہِمُ انْقَلَبُوْا فَـکِھِیْنَ ۔ (المطففین : 29 تا 31)
(بیشک جو لوگ مجرم رہے ہیں وہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ اور جب اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے۔ )
اس سے پہلے کی آیات میں فجار اور ابرار کا انجام بیان ہوا ہے۔ اب ایک اور پہلو سے ان دونوں میں تقابل کرتے ہوئے انقلابِ حال کی تصویر کھینچی جارہی ہے کہ یہ فجار وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا میں ایک سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کی جہنم میں جانے کی ایک وجہ اور ان کی حالت زار پر جنتی کا خوش ہونا۔
جہنمی کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوگا کہ دنیا میں انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ایمانداروں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ جب نیک لوگوں کے پاس سے گزرتے تو اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ انبیاء اور ان کے ساتھی اپنی کمزوری یا شرافت کی وجہ سے ان کے بیہودہ اشاروں کا جواب نہ دیتے تو مذاق اڑانے والے مزید تکبر کا شکار ہوجاتے اور اپنے دوست و احباب اور اہل خانہ کے پاس جا کر اس بات پر اتراتے کہ ہم نے آج ایمان کے دعویداروں کو بہت زچ کیا ہے۔ گمراہ…
Read the full tafseer →30 : وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ (اور جب ان کے سامنے سے ہو کر گزرتے تھے تو آنکھوں سے اشارے کرتے تھے) ایمان والوں پر عیب جوئی اور طعنہ زنی کیلئے آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے کرتے تھے۔
ایک قول یہ ہے۔ کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ آرہے تھے کہ منافقین نے ان پر طعنہ زنی کی اور استہزاء کیا اور آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے کیے اور کہنے لگے کیا تم دیکھتے ہو اس گنجے کو ؟ اس پر یہ آیت اتری اس سے قبل کہ علی ؓ مجلس رسول اللہ ﷺ پر پہنچے۔
Read the full tafseer →30 ۔” واذا مروابھم “ یعنی مومنین کفار کے ساتھ گزریں گے۔ ” یتغامزون “ اور غمز پپوٹوں اور ابرو کے ذریعے اشارہ کرنا۔ یعنی ان کی طرف آنکھوں سے اشارے کرتے ہیں استہزاء کرتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
29۔ 36۔ اوپر جنتوں اور دوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لئے اس مدنی سورة میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ بلالو عمار جیسے غریب مسلمانوں کو طرح طرح کی مسخرا پن کی باتوں میں اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ رشک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول و فعل کی نگرانی و نگہبانی کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ہیں جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبیٰ کا دونوں فریق کا یہ حال سنایا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکوکاروں کی جزا کا ذکر کر کنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑا تے ہیں ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ باہم اشارے کرتے تھے بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔
Read the full tafseer →(20) حق اور اہل حق کی توہین و تمسخر کا انجام نہایت برا، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جب یہ لوگ ایمان والوں کے پاس سے گزرتے تو ان کی طرف کنکھیوں سے اشارے کرتے " ان کی دلآزاری اور تحقیر و تذلیل کے لیے، جیسا کہ مشرکین مکہ اس زمانے میں کیا کرتے تھے اور اس کے بعد ان کے اخلاف آج تک کرتے چلے آرہے ہیں۔ چناچہ ان لوگوں نے اہل حق سے نفرت دلانے اور ان کی تحقیر کا سامان کرنے کے لیے ان سے متعلق طرح طرح کے القاب گھڑ رکھے ہیں کہ یہ لوگ تنگ نظر ہیں جاہل ہیں، زمانے کے تقاضوں سے غافل و بیخبر ہیں، رجعت پسند ہیں، دقیانوسی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ سو اس آیت کریمہ میں اہل حق کے لیے تسلی و تسکین کا بڑا سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
‘4 یعنی مسلمانوں پر پھبتیاں کستے ہوئے۔5” جو محمد (ﷺ) کی باتوں میں آگئے اور اسی لئے انہوں نے آخرت کی موہوم امید پر اپنی دنیا تج دی۔
Read the full tafseer →(83:30) واذا مروا بھم یتغامزون۔ یہ دوسری قبیح حرکت تھی جو کفار مکہ مسلمانوں سے کرتے تھے۔
واؤ عاطفہ ہے اذا ظرف زمان بمعنی جب) مروا ماضی جمع مذکر غائب مرور (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ گزرتے تھے۔
بھم : ب الصاق کا ہے (حرف جار ہے) ہم مجرور۔ ضمیر ہم مسلمانان مکہ کے لئے ہے۔
یتغامزون : مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب تغامز (تفاعل) مصدر سے وہ آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔ وہ آنکھیں مارتے تھے۔ بطور استہزاء اشارے کرتے تھے۔ اور جب کافر مومنوں کی طرف سے گزرتے تھے تو وہ کافر مسلمانوں کی طرف بطور استہزاء اشارے کرتے تھے آنکھوں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
جنتی اور دوزخی کی پہچان۔
(ف 1) اوپر جنتیوں اودوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لیے اس مدنی سورت میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ غریب مسلمانوں کو طرح طرح کے مسخراپن کی باتوں میں اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ مشرک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول وفعل کی نگرانی ونگہبانی کے لیے نہیں پیدا کیے گئے جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں، ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبی کا دونوں فریق کا یہ حال سنادیا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
[3] دیکھو یہ کیسے بےعقل اور احمق لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں جنت کے ادھار پر دنیا کے نقد سے محروم کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
مذاق کا بدلہ مذاق
1: کفار کے لئے یہ منظر کتنا تکلیف دہ اور اذیت بخش ہوگا کہ دنیا میں جن لوگوں پر یہ لوگ ہنستے تھے ۔ جن کی تحقیر اور تذلیل کے لئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے ہوتے تھے ۔ جن لوگوں کو اپنے گھروں میں یہ ہدف طعن وتشنیع بناتے تھے اور جن کو دیکھ پاتے تھے تو بڑی بےباکی اور دلسوزی سے کہتے تھے کہ افسوس یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات کہنے کا ان کو کوئی استحقاق نہ تھا ۔ آیا ان کو دیکھیں گے کہ وہ بلندیوں اور رفعتوں کے مالک ہیں ۔ اور مسہریوں پر تمکنت اور وقار سے بیٹھے ان کا مضحکہ اڑا رہے ہیں ۔ آج ان منکرین اور کفار کو ان کے استہزاء اور تمسخر کا پورا پورا بدلہ مل گیا اور آج ان کی…
Read the full tafseer →(30) اور جب یہ مسلمان ان کافروں کے سامنے سے ہو کر گزرتے ہیں تو وہ کافر آپس میں اشا رہے کرتے ہیں - مطلب یہ ہے کہ فقرائے مسلمین جب رئوسائے قریش کے آگے سے گزرتے ہیں تو یہ کفار رئوساء آپس میں اشارے کرتے ہیں اور سینیاں مارتے ہیں یعنی پھبتیاں کستے ہیں کہ دیکھو یہ وہ بیوقوف لوگ ہیں جو دنیا کے عیش اور مزوں کو محض عاقبت کے تو ہم اور تخیل پر چھوڑ بیٹھتے ہیں۔
فقرائے مسلمین سے مراد شاید حضرت عمار، خباب بلال اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں، امراً کفار قریش سے مراد ابوجہل اور عاص بن وائل ہیں بہرحال ! کفار کی یہ عام ذہنیت تھی کہ مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر ان پر اشارے بازی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ف 4۔ یعنی حرص کے لائق یہ ہے خواہ صرف شراب مراد لی جائے خاہ کل نعماء جنت، یعنی لائق لا تحصیل یہ نعمتیں ہیں نہ کہ دنیا کی فانی نعمتیں، اور ان کی تحصیل کا طریقہ نیک اعمال ہیں، پس ان میں انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔
Read the full tafseer →جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرتے تھے
30 ؎ (یتغامرون) کا اصل مادہ غ م ز ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ ایک بار اس جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس مادہ کا کوئی دوسرا لفظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا ۔ جمع مذکر غائب مضارع تغامز مصدر آنکھوں سے اشارہ کرتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھ کر اور پھر ان غریب مسلمانوں کی طرف آنکھ دبا کر ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں گویا مسلمانوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس طرح کمینگی کی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ باتوں ہی باتوں میں جس کی ہوٹنگ (Hooting) کرنی ہو اس کے متعلق جس طرح آنکھ دبا کر آج کل بات کی جاتی ہے یہ طریقہ بہت پرانا طریقہ ہے اور اس میں اس طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ (Indeed those who were guilty used to laugh at those who believed, 83:29). In these verses, Allah depicts fully the attitudes of the followers of falsehood [ non-believers ] towards the upholders of truth [ the believers ]. The non-believers used to laugh at the believers in the worldly life. In other words, they would mock at them and despise them. Whenever they would pass by the believers, they would wink at each other in contempt of them. When the non-believers returned home, they would take great pleasure in describing…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
11 "Tasnim ".: height. Thus, Tasnim will be a fountain flowing down from a height.
Read the full tafseer →