Al-Mutaffifin 83:21

Al-Mutaffifin · from ayah 21

83:21

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۟ؕيَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَؕ

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Which is witnessed by those brought near [to Allah].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:21

جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

مقرب (فرشتے) اس کا مشاہده کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جسے مقرب فرشتے دیکھتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ مقرب جس کی زیارت کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس جگہ (اللہ کے) مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

مقربوں کی نگرانی میں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس کی نگہداشت فرشتے کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جس کو مقرب (فرشتے) دیکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس کے پاس مقرب فرشتے حاضررہتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

which the angels placed near Allah to safeguard.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

attended by those (angels) who are blessed with nearness to Allah!

— Muhammad Taqi Usmani

attended by those (angels) who are blessed with nearness to Allah!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To which bear witness those nearest.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Attested by those who are brought near (unto their Lord).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Which is witnessed by those brought near [to Allah].

— Saheeh International

The ones nearest to God will bring it to public.

— Muhammad Sarwar

Those who are drawn near (to Allah) shall witness it.

— Muhammad Habib Shakir

To which bear witness those brought nigh.

— Abdul Majid Daryabadi

To which bear witness those Nearest (to Allah).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–28

نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–25

سورة الْمُطَفِّفِيْن 9 یعنی ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–25

يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ، یشہد، شہود سے مشتق ہے جس کے معنے حاضر ہونے اور مشاہدہ کرنیکے آتے ہیں۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ مراد آیت کی یہ ہے کہ ابرار و صالحین کی کتاب الاعمال کو مقربین دیکھتے ہوں گے اور مراد مقربین سے فرشتے ہیں اور دیکھنے سے مراد اس کی نگرانی اور حفاظت ہے، مطلب یہ ہے کہ ابرار و صالحین کے صحائف اعمال مقرب فرشتوں کی نگرانی میں ہوں گے (قرطبی) اور شہود سے مراد حضور کے معنی لئے جائیں تو یشہدہ کی ضمیر کتاب کے بجائے علیین کی طرف راجع ہوگی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ مقربین بارگاہ کی ارواح اسی مقام علیین میں حاضر ہوں گی کیونکہ یہ ہی مقام ان کی ارواج کا مستقر بنایا گیا ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’یَشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ‘ کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دفتر چونکہ مقربین کے ریکارڈ کے لیے خاص ہو گا اس وجہ سے اس میں انہی کی آمد وشد ہو گی، دوسروں کی یہاں رسائی نہ ہو گی۔ آگے آیت ۲۸ میں مقربین کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–26

26۔ 1 یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61؀) 37۔ الصافات :61)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–26

4: مومنوں کا اعمال نامہ چونکہ نیکیوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے مقرب فرشتے اس کے اعزازو اکرام کے طور پر اسے دیکھتے ہیں، اور دیکھنے کا مطلب اس کی نگرانی بھی ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

کتب ............................ المقربون (21:80) ” ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں “۔ لکھی ہوئی (مرقوم) کے معنی ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ یہاں اس قدر اضافہ ہے کہ مقرب فرشتے اس کتاب کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ کتاب نہایت پاکیزہ ، نہایت قابل قدر ، نہایت بلند مرتبہ کتاب ہے جس پر اللہ کے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں اور اس کتاب میں چونکہ نہایت اعلیٰ اخلاق اور اعمال کا ذکر ہے۔ اس لئے یہ ان مقرب فرشتوں کے لئے متاع حیات ہے اور وہ ایسا لکھیں گے اس کتاب کی اس فضا کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ قابل قدر کتاب ہے۔ اس قابل قدر کتاب کے ذکر کے بعد اب خود ابرار کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 مقرب فرشتے یا اللہ کے مقرب بندے خوش ہو کر مومنین کے اعمالنامے دیکھتے ہیں اور اس مقام پر حاضر رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

آیت 21{ یَّشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } ”وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔“ ان لوگوں کی ارواح کو ملائکہ مقربین کی صحبت میسر ہوگی۔ اس بلند مقام پر انہیں قیام قیامت تک رکھا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–23

14 یعنی علیین ایسا بلند مرتبہ مقام ہے کہ وہاں ہر وقت اللہ کے مقرب فرشتے موجود رہتے ہیں یا اللہ کے مقرب بندوں کی ارواح وہاں موجود رہتی ہیں۔ یا مقرب فرشتے وہاں ابرار کے اعمالناموں کو دیکھتے اور پڑھ کر خوش ہوتے ہیں اور قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–21

7۔ (ذوق وشوق کے ساتھ) اس سے مقصود مرتبہ ابرار کے فضل و عظمت کا اظہار ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مجرموں اور نافرمانوں کے لئے عذاب و عقاب یقینی ہے۔ اسی طرح مطیعون اور فرمانبرداروں کا اجر وثواب بھی برحق ہے۔ (آیت) ” المقربون “۔ یہاں ملائکہ مقربین مراد ہیں۔ المقربون من الملئکۃ (کبیر) وھم الملائکۃ قال قتادۃ (ابن کثیر) (آیت) ” علیین۔ سجین “۔ کے مقابلہ کی چیز ہے، اور کوئی ایسا مقام عالم غیب میں ہے، جو نیک کاروں کے اعمال ناموں کے لیے مخصوص ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

Explained with ayahs 20–21

یشھدہ المقربون . جس طرح وَیْلٌ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ کتاب کی صفت ہے۔ اسی طرح یہ جملہ بھی کتاب کی صفت ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مقربوں سے مراد ہیں قرب رکھنے والے ملائکہ۔ میں کہتا ہوں کہ شہیدوں اور صدیقوں اور پیغمبروں کی روحیں بھی مقربین میں شامل ہیں کیونکہ یہ سب ارواح وہاں ہوں گی۔ مسلم نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شہیدوں کی روحیں اللہ کے ہاں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں اور جنت کے دریاؤں میں جہاں چاہتی ہیں ‘ سیر کرتی پھرتی ہیں اور لوٹ کر ان قندیلوں میں آجاتی ہیں جو عرش کے نیچے (آویزاں) ہیں۔ سعید بن منصور نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اور تقی ؓ بن مخلد نے حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–21

(17۔ 21) پھر ان سے دوزخ کے خازن کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ہرگز ایسا نہیں، سچے ایمانداروں کے نامہ اعمال علیین میں رہیں گے یعنی ساتویں آسمان پر، عرش خداوندی کے نیچے سبز زمرد کی تختی پر ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور یہی علیین ہے اور جس کو مقرب فرشتے شوق سے دیکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–21

(کلا ان کتب الابرار…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ نافرمانوں کا یہ حال ہوگا تو نیکوں سے بھی یہی سلوک ہو۔”علیین“ اور ”علیون“ ”علی“ کی جمع ہیں جو ”علو“ سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ”بہت سی اونچا شخص“ اور ”علیون“ کا معنی ہے ”بہت ہی اونچے لوگ۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہ ایک کتاب ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور ان کے اعمال واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں، ان میں کوئی رد و بدل یا کمی بیشی ممکن نہیں۔ ”یشھدہ المقزبون“ یعنی اس کی نگراین کے لئے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ چونکہ وہ نیک لوگوں کا دفتر ہے، اس لئے اس کو دیکھنے کے لئے انھی مقرب لوگوں کو وہاں حاضر ہونے کی اجازت ہے جن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

کتب مرقوم۔ یہ علیین کی تفسیر نہیں بلکہ علییون پر کلام مکمل ہوجاتی ہے، پھر ابتداء کی اور فرمایا، کتب مرقوم یعنی ابرار کی کتاب رقم شدہ کتاب ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ فرشتے بندے کے عمل کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں وہ اس کا استقبال کرتے ہیں جب وہ اسے لے کر وہاں تک پہنچتے ہیں جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی کرتا ہے، تم میرے بندے پر محافظ تھے اور میں اس کے دل پر نگاہ رکھے ہوئے تھا اس نے میرے لیے اپنے عمل کو خالص نہیں کیا اسے سجین میں رکھ لو، ہر آسمان کے مقرب فرشتے ابرار کے عمل پر گواہی دیں گے، وہب اور ابن اسحاق نے کہا، یہاں مقربین سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) جب مومن نیکی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–24

19۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ علیون سے عرش کا داہنا پایہ مراد ہے 20۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ علیون سے ساتواں آسمان مراد ہے۔ مومن کی روحوں کا اکرام 21۔ عبد بن حمید نے الاجلح کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن بندے کی روح قبض کر کے اس کو آسمان دنیا کی طرف اوپر لے جائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مقرب فرشتے دوسرے آسمان کی طرف چلتے ہیں۔ اجلح (رح) نے کہا تو میں نے پوچھا مقربین کون ہیں ؟ فرمایا جو زیادہ قریب ہیں دوسرے آسمان کے پھر تیسرے پھر چوتھے پھر پانچویں پھر چھٹے پھر ساتویں آسمان کے یہاں تک کہ اس کی انتہا سدرۃ المتنہی کے پاس ہے اجل نے کہا : میں نے ضحاک سے پوچھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ : موجود ہوتے ہیں اس پر قربت دیئے ہوئے (فرشتے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–21

اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ فجار کا اعمال نامہ سجین میں رہے گا۔ اب یہاں یہ فرمایا کہ نیک بندوں کا اعمال نامہ علیین میں رہے گا اور یہ بھی فرمایا کہ جانتے ہو علیین کیا ہے پھر خود ہی فرمایا کہ وہ نشان کیا ہوا دفتر ہے جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں۔ سجین ساتویں زمین میں ایک مقام ہے جو ارواح کفار کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور علیین ساتویں آسمان میں مومنین کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ حضرات براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں مومنین کی موت کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مومنین کی موت کے وقت فرشتے تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے روح اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–21

8:۔ ” کلا ان کتب الابرار “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور کلا بمعنی حقا ہے۔ ” علیین “ ساتویں آسمان پر عرش عظیم کے نیچے ایک مقام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ابرار و اخیار کی روحوں کا مسکن ہے اس میں مؤمنوں کے اعمالنامے رکھے جاتے ہیں اور اس کے دفتر میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں ابرابر کے لیے یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ موت کے بعد پہلے علیین میں جائیں گے جس دفتر (رجسٹر) میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں وہاں کتابت و اندراج کے وقت مقرب فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ یشہدہ المقربون یعنی الملائکۃ الذین ھم فی علیین یشہدون ویحضرون ذلک المکتوب (کبیر ج 8 ص 505) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–28

(گذشتہ سے پیوستہ ) جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔ (جزائے عمل یقینی ہے) قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ۝ 21 ۭ شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–28

ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ یَّشْھَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ (المطففین : 20، 21) (ایک لکھا ہوا دفتر۔ مقربوں کی نگرانی میں۔ ) یعنی علیین کا لغوی مفہوم مراد نہیں بلکہ اس کا ایک اصطلاحی مفہوم ہے اور وہ، وہ ہے جس کی اس آیت میں وضاحت کردی گئی ہے کہ وہ ایک دفتر ہے جس کی ہر چیز ضبط تحریر میں آئی ہوئی ہے۔ اور جس کی نگرانی بھی اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ یعنی ان کے مقام و مرتبہ کا عالم یہ ہے کہ ان کا نامہ عمل علیین میں ہے جو نہایت مبارک اور مقدس جگہ ہے۔ اور حدیث کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے ہے۔ اور اس کی نگرانی بھی مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ تمام مومنین کی ارواح کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–28

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔ سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21 : یَّشْھَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ (جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں) ملائکہ وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے ابرار کا عمل جب آسمان پر اٹھایا جاتا ہے۔ تو ہر آسمان کے مقربین اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” یشھدہ المقربون “ یعنی وہ فرشتے جو علیین میں ہیں وہ گواہ ہیں اور اس تحریر پر حاضر ہوتے ہیں اور یہ کتاب علیین کی طرف بلند کی جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–28

18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–22

اللہ تبارک وتعالی نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ مقام پر ہوگا ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہوگا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب (يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ) کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیا، صدیقین اور شہدا کی ارواح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ملا اعلی میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ (علیون) جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے اللہ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی روح کی، اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–22

(14) نیکوکاروں کے لیے نعیم جنت کا مژدہ جانفزا : سو نیکوکاروں کی فائز المرامی کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک نیک لوگ بڑی ہی عظیم الشان نعمتوں میں ہوں گے، اتنی بڑی اور اس قدر عظیم الشان نعمتوں میں کہ اس جہان میں ان کا تصور بھی کسی کے بس میں نہیں، اللہ پاک نصیب فرمائے، آمین۔ یہ ان نعمتوں کا ذکر آرہا ہے جو وہاں پر ابرار کو حاصل ہوں گے " فی نعیم " کے اسلوب بیان میں جب بات کی جاتی ہے تو اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ ہر طرف سے نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں گے، ان کی نگاہیں جدھر بھی اٹھیں گی ان کو نعمتیں ہی نعمتیں نظر آئیں گی، جیسا کہ دوسرے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی خوش ہو کر اسے دیکھیت ہیں ” شھد “ کے دوسرے معنی گواہی دینے کے بھی ہیں۔ اس لئے بعض مفسرین نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن مقرب فرشتے اس کے مندرجات کی گواہی دینگے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:21) یشھدہ المقربون : یہ کتاب (کتاب الابرار کی دوسری صفت ہے۔ یشھد مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب شھود (باب سمع) مصدر سے بمعنی حاضر ہونا۔ ای یحضرون المقربون ذلک الکتب ویحفظونہ لانہ یحمل امانا لصاحبہ من النار وفوزہ بالجنۃ (تفسیر حقانی، السیر التفاسیر) یعنی الملائکۃ المقربون اس کتاب پر حاضر رہتے ہیں اور اس کی (ہر طرح سے) حفاظت کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس میں اس کے لئے دوزخ سے امان اور جنت کی کامیابی (کے احوال) مندرجہ ہیں۔ یشھدہ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کتاب کے لئے ہے۔ المقربون تقریب (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر، زیادہ عزت والے قریب کئے گئے، قرب پالینے والے، قریبی

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–24

(ف 2) اوپر سے حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ میں ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا او اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا سے اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے براء بن عازب ؓ کی وہ حدیث جس کا ذکراوپرگذرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے ایک قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے روبروجب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے، توعلیین مقام کے دفتر میں جا ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–26

[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–28

ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) مقرب بارگاہ فرشتے اس کو دیکھتے رہتے ہیں - یعنی جہاں نیک اور ابرار لوگوں کے نام درج ہیں اور ان کے اعمال کی فردیں اور مسلیں وہاں رہتی ہیں اس مقام کی عزت اور تفخیم کے لئے سوال کیا کہ اے پیغمبر آپ کیا جانتے ہیں کہ وہ مقام کیا ہے جس کو علییون کہتے ہیں پھر فرمایا وہ ایک دفتر ہے جہاں لکھا ہوا یا مہر کیا ہوا رجسٹر ہے اس دفتر اور رجسٹر کو مقرب فرشتے یا مقرب بندے خوش ہوکر دیکھتے ہیں اور ابرار کی ارواح کا مستقر بھی وہی ہے یا پہلے ارواح مومنین کو وہاں لے جاتے ہیں پھر اپنے اپنے ٹھکانے پر ان ارواح کو پہنچا دیا جاتا ہے اور ان ارواح کا تعلق اپنی اپنی قبروں سے بھی رہتا ہے ۔ خلاصہ : یہ کہ جس طرح سجین کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–24

ف 2۔ یہ مومن کے لئے کرامت عظیمہ ہے جیسا کہ روح المعانی میں بتخریج عبد ابن حمید حضرت کعب سے روایت ہے کہ جب ملائکہ مومن کی روح کو قبوض کر کے لے جاتے ہیں تو ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے ساتھ ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ کر اس روح کو رکھ دیتے ہیں، پھر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم اس کا نامہ اعمال دیکھنا چاہتے ہیں۔ چناچہ وہ نامہ اعمال کھول کر دکھلایا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جسے مقرب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے 21 ؎ اس مقام کو یا اس جگہ کو یا نیک لوگوں کی ارواح کو یا نیک لوگوں کے اعمال ناموں کو مقرب لوگوں کی حفاظت میں رکھا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مقرب فرشتے ہیں اور یہ محض اس مقام کی بلندی یا اس کے مقام کی اہمیت کے پیش نظر رکھ کر بیان کیا گیا ہے کہ مقرب لوگوں سے اس کا تعلق ہے تو وہاں مقرب لوگوں ہی کی نگرانی میں اس کو رکھا گیا ہے اور مقربین کا گروہ انسانوں کے اندر بھی موجود ہے جیسا کہ سورة الواقعہ کی آیت گیارہ اور آت 88 میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور سورة الواقعہ عروۃ الوثقیٰ کی آٹھویں جلد میں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–25

يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ (...attended by those [ angels ] who are blessed with nearness to Allah!...83:21) The verb yash-hadu is derived from shuhud which means 'to attend, to witness, to be present, to observe'. The verse purports to say that the record of deeds of the righteous will be in the custody of angels who are blessed with nearness to Allah. [ Qurtubi ]. If shuhud is taken in the sense of 'being present', then the attached pronoun will refer to ` illiyyin instead of kitab or 'register' (and 'those who are blessed with nearness to Allah' will refer to the righteous people, and not…

Read the full tafseer →