Al-Mutaffifin 83:20

Al-Mutaffifin · from ayah 20

83:20

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ۟ۙكِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is [their destination recorded in] a register inscribed

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:20

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(وه تو) لکھی ہوئی کتاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ جنت کے اعلیٰ درجہ میں اس بڑے دیوان کے اندر) لکھی ہوئی (ایک) کتاب ہے (جس میں ان جنتیوں کے نام اور اَعمال درج ہیں جنہیں اعلیٰ مقامات دئیے جائیں گے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایک کتاب ہے، واضح لکھی ہوئی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ لکھی ہوئی ایک ایسی کتاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

A register inscribed,

— Muhammad Taqi Usmani

A register inscribed,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A Register inscribed,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is [their destination recorded in] a register inscribed

— Saheeh International

It is a comprehensively written Book (of records).

— Muhammad Sarwar

It is a written book,

— Muhammad Habib Shakir

A record of good deeds written.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 83:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–28

نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–25

سورة الْمُطَفِّفِيْن 9 یعنی ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–20

(آیت) كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ ، علیین بعض حضرات کے نزدیک علو کی جمع ہے اور مراد اعلیٰ درجہ کا علو اور بلندی ہے اور فراء کے نزدیک یہ ایک موقع کا نام ہے وزن جمع پر آیا ہے جمع نہیں، اور لفظ سبحین کی تحقیق میں اوپر گزرچکا ہے کہ حضرت براء بن عازب کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ علیین ساتویں آسمان پر زیر عرش ایک مقام ہے جس میں مومنین کی ارواح اور اصحائف اعمال رکھے جاتے ہیں، اور آگے جو کتب مرقوم مذکور ہے یہ بھی علیین کی تفسیر نہیں بلکہ ابرار کے نامہ اعمال کا بیان ہے جسکا ذکر اوپر ان کتب الابرار میں آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ ’عِلِّیُّوْنَ‘ چونکہ اپنے خاص لغوی مفہوم سے الگ ایک خاص اصطلاحی مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس وجہ سے اس کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ یہ ایک دفتر ہے جس کی ہر چیز ضبط تحریر میں آئی ہوئی ہے اور جس کی نگرانی بھی اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب فرشتے کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–26

26۔ 1 یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61؀) 37۔ الصافات :61)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

3: علیین کے لفظی معنی بالا خانوں کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مومنوں کی روحیں مرنے کے بعد بھیجی جاتی ہیں اور وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

کتب ............................ المقربون (21:80) ” ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں “۔ لکھی ہوئی (مرقوم) کے معنی ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ یہاں اس قدر اضافہ ہے کہ مقرب فرشتے اس کتاب کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ کتاب نہایت پاکیزہ ، نہایت قابل قدر ، نہایت بلند مرتبہ کتاب ہے جس پر اللہ کے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں اور اس کتاب میں چونکہ نہایت اعلیٰ اخلاق اور اعمال کا ذکر ہے۔ اس لئے یہ ان مقرب فرشتوں کے لئے متاع حیات ہے اور وہ ایسا لکھیں گے اس کتاب کی اس فضا کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ قابل قدر کتاب ہے۔ اس قابل قدر کتاب کے ذکر کے بعد اب خود ابرار کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

10 یعنی جنتیوں کے نام درج ہیں اور ان کے اعمال کی مسلیں مرتب کر کے رکھی جاتی ہیں اور ان کی ارواح کو اول وہاں لے جا کر پھر اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچایا جاتا ہے اور قبر سے بھی ان ارواح کا ایک گونہ تعلق قائم رکھا جاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ مقام ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور مقربین کی ارواح اسی جگہ مقیم رہتی ہیں۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“ یعنی ان لوگوں کی ارواح کا مقام جن پر ان کے نیک اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–20

12 فاجر اور ابرار کا لغوی مفہوم :۔ یہاں فجار کے مقابلہ میں ابرار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فَجَرَ کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا اور فجر کو فجر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے آسمان پر نمودار ہوجاتی ہے۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو وسیع پیمانے پر دین کی نافرمانی کرنے والا ہو اور ہر وقت گناہوں میں منہمک رہتا ہو اور گناہوں سے تائب نہ ہو۔ اس کے مقابلہ میں ابرار ہے۔ برّ کے معنی نیکی، نیکی کے کام اور بر کے معنی وسیع خشک قطعہ زمین ہے گویا بر کے لفظ میں نیکی کے علاوہ وسعت کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور بر دراصل نیکی کو نہیں بلکہ ہر دم نیکی پر مائل رہنے والی خصلت کو کہتے ہیں کہ جب کسی نیکی کا موقع آئے اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–21

7۔ (ذوق وشوق کے ساتھ) اس سے مقصود مرتبہ ابرار کے فضل و عظمت کا اظہار ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مجرموں اور نافرمانوں کے لئے عذاب و عقاب یقینی ہے۔ اسی طرح مطیعون اور فرمانبرداروں کا اجر وثواب بھی برحق ہے۔ (آیت) ” المقربون “۔ یہاں ملائکہ مقربین مراد ہیں۔ المقربون من الملئکۃ (کبیر) وھم الملائکۃ قال قتادۃ (ابن کثیر) (آیت) ” علیین۔ سجین “۔ کے مقابلہ کی چیز ہے، اور کوئی ایسا مقام عالم غیب میں ہے، جو نیک کاروں کے اعمال ناموں کے لیے مخصوص ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

Explained with ayahs 20–21

یشھدہ المقربون . جس طرح وَیْلٌ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ کتاب کی صفت ہے۔ اسی طرح یہ جملہ بھی کتاب کی صفت ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مقربوں سے مراد ہیں قرب رکھنے والے ملائکہ۔ میں کہتا ہوں کہ شہیدوں اور صدیقوں اور پیغمبروں کی روحیں بھی مقربین میں شامل ہیں کیونکہ یہ سب ارواح وہاں ہوں گی۔ مسلم نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شہیدوں کی روحیں اللہ کے ہاں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں اور جنت کے دریاؤں میں جہاں چاہتی ہیں ‘ سیر کرتی پھرتی ہیں اور لوٹ کر ان قندیلوں میں آجاتی ہیں جو عرش کے نیچے (آویزاں) ہیں۔ سعید بن منصور نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اور تقی ؓ بن مخلد نے حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–21

(17۔ 21) پھر ان سے دوزخ کے خازن کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ہرگز ایسا نہیں، سچے ایمانداروں کے نامہ اعمال علیین میں رہیں گے یعنی ساتویں آسمان پر، عرش خداوندی کے نیچے سبز زمرد کی تختی پر ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور یہی علیین ہے اور جس کو مقرب فرشتے شوق سے دیکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–21

(کلا ان کتب الابرار…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ نافرمانوں کا یہ حال ہوگا تو نیکوں سے بھی یہی سلوک ہو۔”علیین“ اور ”علیون“ ”علی“ کی جمع ہیں جو ”علو“ سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ”بہت سی اونچا شخص“ اور ”علیون“ کا معنی ہے ”بہت ہی اونچے لوگ۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہ ایک کتاب ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور ان کے اعمال واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں، ان میں کوئی رد و بدل یا کمی بیشی ممکن نہیں۔ ”یشھدہ المقزبون“ یعنی اس کی نگراین کے لئے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ چونکہ وہ نیک لوگوں کا دفتر ہے، اس لئے اس کو دیکھنے کے لئے انھی مقرب لوگوں کو وہاں حاضر ہونے کی اجازت ہے جن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

کتب مرقوم۔ یہ علیین کی تفسیر نہیں بلکہ علییون پر کلام مکمل ہوجاتی ہے، پھر ابتداء کی اور فرمایا، کتب مرقوم یعنی ابرار کی کتاب رقم شدہ کتاب ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ فرشتے بندے کے عمل کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں وہ اس کا استقبال کرتے ہیں جب وہ اسے لے کر وہاں تک پہنچتے ہیں جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی کرتا ہے، تم میرے بندے پر محافظ تھے اور میں اس کے دل پر نگاہ رکھے ہوئے تھا اس نے میرے لیے اپنے عمل کو خالص نہیں کیا اسے سجین میں رکھ لو، ہر آسمان کے مقرب فرشتے ابرار کے عمل پر گواہی دیں گے، وہب اور ابن اسحاق نے کہا، یہاں مقربین سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) جب مومن نیکی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–24

19۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ علیون سے عرش کا داہنا پایہ مراد ہے 20۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ علیون سے ساتواں آسمان مراد ہے۔ مومن کی روحوں کا اکرام 21۔ عبد بن حمید نے الاجلح کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن بندے کی روح قبض کر کے اس کو آسمان دنیا کی طرف اوپر لے جائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مقرب فرشتے دوسرے آسمان کی طرف چلتے ہیں۔ اجلح (رح) نے کہا تو میں نے پوچھا مقربین کون ہیں ؟ فرمایا جو زیادہ قریب ہیں دوسرے آسمان کے پھر تیسرے پھر چوتھے پھر پانچویں پھر چھٹے پھر ساتویں آسمان کے یہاں تک کہ اس کی انتہا سدرۃ المتنہی کے پاس ہے اجل نے کہا : میں نے ضحاک سے پوچھا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–21

اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ فجار کا اعمال نامہ سجین میں رہے گا۔ اب یہاں یہ فرمایا کہ نیک بندوں کا اعمال نامہ علیین میں رہے گا اور یہ بھی فرمایا کہ جانتے ہو علیین کیا ہے پھر خود ہی فرمایا کہ وہ نشان کیا ہوا دفتر ہے جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں۔ سجین ساتویں زمین میں ایک مقام ہے جو ارواح کفار کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور علیین ساتویں آسمان میں مومنین کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ حضرات براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں مومنین کی موت کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مومنین کی موت کے وقت فرشتے تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے روح اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–21

8:۔ ” کلا ان کتب الابرار “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور کلا بمعنی حقا ہے۔ ” علیین “ ساتویں آسمان پر عرش عظیم کے نیچے ایک مقام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ابرار و اخیار کی روحوں کا مسکن ہے اس میں مؤمنوں کے اعمالنامے رکھے جاتے ہیں اور اس کے دفتر میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں ابرابر کے لیے یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ موت کے بعد پہلے علیین میں جائیں گے جس دفتر (رجسٹر) میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں وہاں کتابت و اندراج کے وقت مقرب فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ یشہدہ المقربون یعنی الملائکۃ الذین ھم فی علیین یشہدون ویحضرون ذلک المکتوب (کبیر ج 8 ص 505) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–28

(گذشتہ سے پیوستہ ) جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔ (جزائے عمل یقینی ہے) قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۝ 20 ۙ كتب ( لکھنا) الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام الله۔ وإن لم يُكْتَبْ- كِتَاباً کقوله : الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، وقوله : قالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ [ مریم/ 30] . ( ک ت ب ) الکتب ۔ کے اصل معنی کھال کے دو ٹکڑوں کو ملاکر سی دینے کے ہیں چناچہ کہاجاتا ہے کتبت السقاء ، ، میں نے مشکیزہ کو سی دیا کتبت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–28

ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ یَّشْھَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ (المطففین : 20، 21) (ایک لکھا ہوا دفتر۔ مقربوں کی نگرانی میں۔ ) یعنی علیین کا لغوی مفہوم مراد نہیں بلکہ اس کا ایک اصطلاحی مفہوم ہے اور وہ، وہ ہے جس کی اس آیت میں وضاحت کردی گئی ہے کہ وہ ایک دفتر ہے جس کی ہر چیز ضبط تحریر میں آئی ہوئی ہے۔ اور جس کی نگرانی بھی اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ یعنی ان کے مقام و مرتبہ کا عالم یہ ہے کہ ان کا نامہ عمل علیین میں ہے جو نہایت مبارک اور مقدس جگہ ہے۔ اور حدیث کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے ہے۔ اور اس کی نگرانی بھی مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ تمام مومنین کی ارواح کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–28

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔ سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” کتاب مرقوم “ یہ علیین کی تفسیر نہیں ہے۔ یہ اس کتاب کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کے قول ” ان کتاب فجار میں ذکر کیا اور کہا گیا ہے وہاں لکھا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اعزاز تیار کررکھا ہے۔ اور یہ مقاتل (رح) کا قول کا معنی ہے اور کہا گیا ہے ان کے لئے خبر کو لکھا گیا ہے اور آیت کی تقدیر تقدیم و تاخیر پر ہے اس کا مجاز یہ ہے ” ان کتاب الابرار کتاب مرقوم فی علیین “ اور وہ فرشتوں کی جگہ ہے اور اس کی مثل کتاب مرقوم فی سجین ہے اور وہ ابلیس اور اس کے لشکر کی جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–28

18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–22

اللہ تبارک وتعالی نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ مقام پر ہوگا ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہوگا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب (يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ) کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیا، صدیقین اور شہدا کی ارواح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ملا اعلی میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ (علیون) جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے اللہ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی روح کی، اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–22

(14) نیکوکاروں کے لیے نعیم جنت کا مژدہ جانفزا : سو نیکوکاروں کی فائز المرامی کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک نیک لوگ بڑی ہی عظیم الشان نعمتوں میں ہوں گے، اتنی بڑی اور اس قدر عظیم الشان نعمتوں میں کہ اس جہان میں ان کا تصور بھی کسی کے بس میں نہیں، اللہ پاک نصیب فرمائے، آمین۔ یہ ان نعمتوں کا ذکر آرہا ہے جو وہاں پر ابرار کو حاصل ہوں گے " فی نعیم " کے اسلوب بیان میں جب بات کی جاتی ہے تو اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ ہر طرف سے نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں گے، ان کی نگاہیں جدھر بھی اٹھیں گی ان کو نعمتیں ہی نعمتیں نظر آئیں گی، جیسا کہ دوسرے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–20

ف 7 یعنی ایک دفتر ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور کام درج ہیں ضحاک مجاہد قتادہ اور دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ علیون سے مراد ساتواں آسمان ہے جہاں مومنوں کی روحیں لے جائی جاتی ہیں بعضے کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنت ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مقرب فرشتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی اوپر والے کے ہیں واللہ اعلم (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–24

(ف 2) اوپر سے حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ میں ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا او اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا سے اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے براء بن عازب ؓ کی وہ حدیث جس کا ذکراوپرگذرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے ایک قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے روبروجب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے، توعلیین مقام کے دفتر میں جا ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–26

[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–28

ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 1۔ علیین ایک مقام سماء سابعہ میں ارواح مومین کا مستقر ہے کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے 20 ؎ وضاحت اس سورت کی آیت 9 میں گزر چکی ہے کیونکہ بعینہٖ یہی الفاظ وہاں بھی آئے ہیں فرق یہ ہے کہ وہاں ( سجین) کے ذکرکے بعد آئے ہیں اور اس جگہ ( علیین) کے ذکر کے بعد بیان ہوئے ہیں ۔ وہاں مراد برے لوگوں کے اعمالنامے محفوظ کرنے سے ہے اور یہاں مراد نیک لوگوں کے اعمالناموں کو محفوظ کرنے سے ہے یا وہاں بدکاروں کی ارواح کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور یہاں نیکو کاروں کی ارواح کے ٹھہرنے کی جگہ اور ہمیں دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا ۔ ہاں ! ذہن میں ایک تصور قائم کرنا ہے خواہ اس طرح کیا جائے اور خواہ اس طرح مقصود باون دونوں طرح حاصل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–20

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ (No! The record of deeds of the righteous is in ` illiyyun....83:18). According to some authorities, ` illiyyun is the plural of ` uluww and it signifies the 'highest point'. According to Farra', this is the name of a place. It is not a plural, but on the measure of plural. When analysing the word sijjin in the foregoing paragraphs, the traceable Tradition of Sayyidna Bath' Ibn ` Azib ؓ was cited to prove that ` illiyyin is a place on the seventh heaven beneath the Divine Throne where the souls of the believers and their registers of deeds…

Read the full tafseer →