Al-Mutaffifin 83:19

Al-Mutaffifin · from ayah 19

83:19

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا عِلِّيُّوۡنَؕ

اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what can make you know what is 'illiyyun?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:19

اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

تجھے کیا پتہ کہ عِلِّیین کیا ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں کیا معلوم کہ علیین (میں رکھا ہوا اعمال نامہ) کیا چیز ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ نے کیا جانا کہ علّیّین کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ بہت ہی اونچے لوگوں کا دفتر کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کیا جانیں کہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر کیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم کیا سمجھے کہ علیین کیا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم کیا جانو کہ کیا (اور کیسی شان کا) ہے وہ علیون ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو کیا خبر کہ علیین (والا نامہ عمل) ہے کیا چیز ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہیں کچھ اندازہ ہے وہ علیون کیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And what do you know what the Record of the exalted ones is?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And what may let you know what 'Illiyyun is ?

— Muhammad Taqi Usmani

And what may let you know what Illiyyun is ?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what will make you know what `Illiyyin is

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ah, what will convey unto thee what 'Illiyin is! -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what can make you know what is 'illiyyun?

— Saheeh International

Would that you knew what Illiyin is!

— Muhammad Sarwar

And what will make you know what the highest Iliyin is?

— Muhammad Habib Shakir

And what will make thee know whatsoever the record in Illiyun is?

— Abdul Majid Daryabadi

And what will explain to thee what 'Illiyun is?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–28

نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–25

سورة الْمُطَفِّفِيْن 9 یعنی ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–20

(آیت) كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ ، علیین بعض حضرات کے نزدیک علو کی جمع ہے اور مراد اعلیٰ درجہ کا علو اور بلندی ہے اور فراء کے نزدیک یہ ایک موقع کا نام ہے وزن جمع پر آیا ہے جمع نہیں، اور لفظ سبحین کی تحقیق میں اوپر گزرچکا ہے کہ حضرت براء بن عازب کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ علیین ساتویں آسمان پر زیر عرش ایک مقام ہے جس میں مومنین کی ارواح اور اصحائف اعمال رکھے جاتے ہیں، اور آگے جو کتب مرقوم مذکور ہے یہ بھی علیین کی تفسیر نہیں بلکہ ابرار کے نامہ اعمال کا بیان ہے جسکا ذکر اوپر ان کتب الابرار میں آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جس طرح اوپر اسی اسلوب بیان میں ’سِجِّیْنٌ‘ کا ذکر اس کے ہول کے اظہار کے لیے ہوا ہے اسی طرح یہاں اسی اسلوب میں ’عِلِّیُّوْنَ‘ کا ذکر اس کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے ہوا ہے۔ یعنی اس کی عظمت و شان کا بھلا اس دنیا میں کوئی کیا اندازہ کر سکتا ہے! وہ عالی مقاموں کا دفتر ہے جس میں ان کے کارنامے درج ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–26

26۔ 1 یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61؀) 37۔ الصافات :61)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

3: علیین کے لفظی معنی بالا خانوں کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مومنوں کی روحیں مرنے کے بعد بھیجی جاتی ہیں اور وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–19

اس پیراگراف کے آغاز میں لفظ کلا ” ہرگز نہیں “۔ زجروتوبیخ اور سرزنش کے لئے آیا ہے اور یہ زجر اس سے ماقبلی مذکور ہے۔ ثم یقال ........................ تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے “۔ اس پر بطور نتیجہ کہا ، ہرگز نہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بعد نیک لوگوں کا بیان شروع ہوتا ہے اور یہ مثبت اور تاکیدی انداز میں آتا ہے۔ جس طرح پہلے کہا گیا تھا کہ بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے تو یہاں کہا جارہا ہے کہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔ اور ابرار ” نیکوکار “ وہ لوگ ہیں جو اطاعت کیش اور ہر نیک کام کرنے والے ہیں۔ یہ نافرمانوں اور حد سے گزرنے والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

10 یعنی جنتیوں کے نام درج ہیں اور ان کے اعمال کی مسلیں مرتب کر کے رکھی جاتی ہیں اور ان کی ارواح کو اول وہاں لے جا کر پھر اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچایا جاتا ہے اور قبر سے بھی ان ارواح کا ایک گونہ تعلق قائم رکھا جاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ مقام ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور مقربین کی ارواح اسی جگہ مقیم رہتی ہیں۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 17–19

آیت 17{ ثُمَّ یُـقَالُ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے !“ دنیا میں تم لوگ جنت ‘ دوزخ اور جزا و سزا کو بڑے شدومد سے جھٹلایا کرتے تھے۔ اب دیکھ لو ! دوزخ اور اس کی سزائیں حقیقت بن کر تمہارے سامنے آگئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–20

12 فاجر اور ابرار کا لغوی مفہوم :۔ یہاں فجار کے مقابلہ میں ابرار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فَجَرَ کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا اور فجر کو فجر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے آسمان پر نمودار ہوجاتی ہے۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو وسیع پیمانے پر دین کی نافرمانی کرنے والا ہو اور ہر وقت گناہوں میں منہمک رہتا ہو اور گناہوں سے تائب نہ ہو۔ اس کے مقابلہ میں ابرار ہے۔ برّ کے معنی نیکی، نیکی کے کام اور بر کے معنی وسیع خشک قطعہ زمین ہے گویا بر کے لفظ میں نیکی کے علاوہ وسعت کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور بر دراصل نیکی کو نہیں بلکہ ہر دم نیکی پر مائل رہنے والی خصلت کو کہتے ہیں کہ جب کسی نیکی کا موقع آئے اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–21

7۔ (ذوق وشوق کے ساتھ) اس سے مقصود مرتبہ ابرار کے فضل و عظمت کا اظہار ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مجرموں اور نافرمانوں کے لئے عذاب و عقاب یقینی ہے۔ اسی طرح مطیعون اور فرمانبرداروں کا اجر وثواب بھی برحق ہے۔ (آیت) ” المقربون “۔ یہاں ملائکہ مقربین مراد ہیں۔ المقربون من الملئکۃ (کبیر) وھم الملائکۃ قال قتادۃ (ابن کثیر) (آیت) ” علیین۔ سجین “۔ کے مقابلہ کی چیز ہے، اور کوئی ایسا مقام عالم غیب میں ہے، جو نیک کاروں کے اعمال ناموں کے لیے مخصوص ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ادراک ما علیون کتاب مرقوم . تم کو کیا معلوم کہ علیون کیا ہے ‘ ایک کتاب ہے مرقوم۔ اس جملہ کی پوری تشریح پہلے گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–21

(17۔ 21) پھر ان سے دوزخ کے خازن کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ہرگز ایسا نہیں، سچے ایمانداروں کے نامہ اعمال علیین میں رہیں گے یعنی ساتویں آسمان پر، عرش خداوندی کے نیچے سبز زمرد کی تختی پر ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور یہی علیین ہے اور جس کو مقرب فرشتے شوق سے دیکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–21

(کلا ان کتب الابرار…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ نافرمانوں کا یہ حال ہوگا تو نیکوں سے بھی یہی سلوک ہو۔”علیین“ اور ”علیون“ ”علی“ کی جمع ہیں جو ”علو“ سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ”بہت سی اونچا شخص“ اور ”علیون“ کا معنی ہے ”بہت ہی اونچے لوگ۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہ ایک کتاب ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور ان کے اعمال واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں، ان میں کوئی رد و بدل یا کمی بیشی ممکن نہیں۔ ”یشھدہ المقزبون“ یعنی اس کی نگراین کے لئے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ چونکہ وہ نیک لوگوں کا دفتر ہے، اس لئے اس کو دیکھنے کے لئے انھی مقرب لوگوں کو وہاں حاضر ہونے کی اجازت ہے جن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وما ادراک ماعلییون، کتب مرقوم، یشھدہ المقربون۔ اے محمد آپ کو کس چیز نے بتایا کہ علیون کیا ہے ؟ یہ سوالیہ انداز اس کے مقام و مرتبہ کو ظاہر کرنے کے لیے ہے پھر اس کی تفسیر بیان کی۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–24

19۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ علیون سے عرش کا داہنا پایہ مراد ہے 20۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ علیون سے ساتواں آسمان مراد ہے۔ مومن کی روحوں کا اکرام 21۔ عبد بن حمید نے الاجلح کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن بندے کی روح قبض کر کے اس کو آسمان دنیا کی طرف اوپر لے جائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مقرب فرشتے دوسرے آسمان کی طرف چلتے ہیں۔ اجلح (رح) نے کہا تو میں نے پوچھا مقربین کون ہیں ؟ فرمایا جو زیادہ قریب ہیں دوسرے آسمان کے پھر تیسرے پھر چوتھے پھر پانچویں پھر چھٹے پھر ساتویں آسمان کے یہاں تک کہ اس کی انتہا سدرۃ المتنہی کے پاس ہے اجل نے کہا : میں نے ضحاک سے پوچھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ اَدْرٰىكَ : اور تو کیا جانے ][ مَا عِلِيُّوْنَ : کیا ہیں (وہ) بلندیاں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–21

اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ فجار کا اعمال نامہ سجین میں رہے گا۔ اب یہاں یہ فرمایا کہ نیک بندوں کا اعمال نامہ علیین میں رہے گا اور یہ بھی فرمایا کہ جانتے ہو علیین کیا ہے پھر خود ہی فرمایا کہ وہ نشان کیا ہوا دفتر ہے جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں۔ سجین ساتویں زمین میں ایک مقام ہے جو ارواح کفار کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور علیین ساتویں آسمان میں مومنین کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ حضرات براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں مومنین کی موت کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مومنین کی موت کے وقت فرشتے تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے روح اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–21

8:۔ ” کلا ان کتب الابرار “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور کلا بمعنی حقا ہے۔ ” علیین “ ساتویں آسمان پر عرش عظیم کے نیچے ایک مقام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ابرار و اخیار کی روحوں کا مسکن ہے اس میں مؤمنوں کے اعمالنامے رکھے جاتے ہیں اور اس کے دفتر میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں ابرابر کے لیے یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ موت کے بعد پہلے علیین میں جائیں گے جس دفتر (رجسٹر) میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں وہاں کتابت و اندراج کے وقت مقرب فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ یشہدہ المقربون یعنی الملائکۃ الذین ھم فی علیین یشہدون ویحضرون ذلک المکتوب (کبیر ج 8 ص 505) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–28

(گذشتہ سے پیوستہ ) جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔ (جزائے عمل یقینی ہے) قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّيُّوْنَ۝ 19 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–28

ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاعِلِّـیُّوْنَ ۔ (المطففین : 19) (اور تم کیا جانو کہ علیین کیا ہے۔ ) علیین کی تحقیق علیین کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے یہ اسلوبِ بیان اختیار کیا گیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایسی جگہ ہے یا ایسی چیز ہے جس کی عظمت و شان کا اندازہ اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–28

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔ سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : وَ مَآاَدْرٰکَ مَاعِلِّیُّوْنَ (اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ علیون میں رکھا ہوا نامہ عمل کیا چیز ہے) اے محمد ﷺ کو نسی چیز آپ کو علیون کے بارے میں معلوم کر ادے کہ وہ کیا چیز ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–28

18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–22

اللہ تبارک وتعالی نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ مقام پر ہوگا ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہوگا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب (يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ) کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیا، صدیقین اور شہدا کی ارواح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ملا اعلی میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ (علیون) جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے اللہ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی روح کی، اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

(13) نیکوکاروں کے انجام کا ذکرو بیان : سو بدکاروں کے انجام کے زکرو بیان کے بعد اب نیکوکاروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کا دفتر " علیین میں ہوگا۔ اور تم کیا جانو کیا ہے وہ " علیون "۔ علیون " اصل میں تو جمع ہے، " علی " کی جو کہ ماخوذ ہے " علو " سے بمعنی بلندی، مگر اس کے معنی جمع کے نہیں مفرد کے ہیں کہ یہ لفظ جمع سے منقول ہو کر علم بن گیا اس خاص مقام کا جو کہ آثار و روایات کے مطابق ساتویں آسمان سے اوپر اور عرش کے نیچے ہے، اور جہاں انبیاء و صلحا اور برابر و متقین کی روحیں رکھی جاتی ہیں ( صفوۃ البیان، روح، کبیر، مدارک، ابن کثیر اور خازن وغیرہ) اور اس مقام کا یہ نام اس کے علوشان کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–20

ف 7 یعنی ایک دفتر ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور کام درج ہیں ضحاک مجاہد قتادہ اور دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ علیون سے مراد ساتواں آسمان ہے جہاں مومنوں کی روحیں لے جائی جاتی ہیں بعضے کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنت ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مقرب فرشتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی اوپر والے کے ہیں واللہ اعلم (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:19) اور تو کیا جانے کہ علیین کیا ہے۔ تجھے کیا چیز کیا چیز سمجھائے کہ علیین کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–24

(ف 2) اوپر سے حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ میں ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا او اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا سے اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے براء بن عازب ؓ کی وہ حدیث جس کا ذکراوپرگذرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے ایک قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے روبروجب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے، توعلیین مقام کے دفتر میں جا ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–26

[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–28

ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) اور اے پیغمبر آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ علییون کیا چیز ہے - یعنی وہ اعلیٰ ترین مقام میں رکھا ہوا نامہ اعمال کیا چیز ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 1۔ علیین ایک مقام سماء سابعہ میں ارواح مومین کا مستقر ہے کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ ( علیون) کیا ہے ؟ 19 ؎ ( علیون) کیا ہے ؟ (علیون) اسم ہے جو جمع کے معنوں پر دلالت کرنے کے لیے وضع کیا گیا اور اس کا استعمال اس جگہ دو بار ہوا ہے ایک بار ( علیین ) اور دوسری بار ( علیون) جیسا کہ زیر نظر آیت میں آیا ہے۔ یہ ایسے ہی جیسے عشرون اور ثلثون ہے حالت رفع میں ( علیون) ہے اور حالت قصبی و جری میں ( علیین) اس کو مادہ ع ل ی کے تحت بیان کیا جاتا ہے جس کے مفہوم میں بلندی اور اعلیٰ مقام کا تصور پیش کیا گیا ہے اور اس تصور سے لے کر اس کو آسمانوں پر لے جایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ایک مقام کا نام ہے جو آسمانوں پر ہے اور جہاں نک کاروں کی ارواح یا ان کے اعمالنامے رکھے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–20

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ (No! The record of deeds of the righteous is in ` illiyyun....83:18). According to some authorities, ` illiyyun is the plural of ` uluww and it signifies the 'highest point'. According to Farra', this is the name of a place. It is not a plural, but on the measure of plural. When analysing the word sijjin in the foregoing paragraphs, the traceable Tradition of Sayyidna Bath' Ibn ` Azib ؓ was cited to prove that ` illiyyin is a place on the seventh heaven beneath the Divine Throne where the souls of the believers and their registers of deeds…

Read the full tafseer →