Explained with ayahs 18–28
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
سورة الْمُطَفِّفِيْن 9
یعنی ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(آیت) كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ ، علیین بعض حضرات کے نزدیک علو کی جمع ہے اور مراد اعلیٰ درجہ کا علو اور بلندی ہے اور فراء کے نزدیک یہ ایک موقع کا نام ہے وزن جمع پر آیا ہے جمع نہیں، اور لفظ سبحین کی تحقیق میں اوپر گزرچکا ہے کہ حضرت براء بن عازب کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ علیین ساتویں آسمان پر زیر عرش ایک مقام ہے جس میں مومنین کی ارواح اور اصحائف اعمال رکھے جاتے ہیں، اور آگے جو کتب مرقوم مذکور ہے یہ بھی علیین کی تفسیر نہیں بلکہ ابرار کے نامہ اعمال کا بیان ہے جسکا ذکر اوپر ان کتب الابرار میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →’عِلِّیُّوْنَ‘ کی تحقیق:
’کَلَّا‘ یہاں بھی اسی طرح مکذبین قیامت کے زعم باطل کی تردید کے لیے ہے جس طرح آیت ۷ میں ہے۔ یعنی نیک و بد ہرگز یکساں نہیں ہوں گے بلکہ بدکاروں کے لیے جس طرح الگ رجسٹر اور الگ دفتر ہو گا اسی طرح نیکو کاروں اور وفاداروں کے لیے الگ رجسٹر اور الگ دفتر ہو گا۔ان کے اعمال نامے ’عِلِّیِّیْنَ‘ میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
18۔ 1 عِلَیِئیْنُ ، (بلندی سے ہے یہ عِلَیِئیْنُ کے برعکس، آسمانوں میں یا سدرۃ المُنْتَہٰی یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہوتے ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
3: علیین کے لفظی معنی بالا خانوں کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مومنوں کی روحیں مرنے کے بعد بھیجی جاتی ہیں اور وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
اس پیراگراف کے آغاز میں لفظ کلا ” ہرگز نہیں “۔ زجروتوبیخ اور سرزنش کے لئے آیا ہے اور یہ زجر اس سے ماقبلی مذکور ہے۔
ثم یقال ........................ تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے “۔ اس پر بطور نتیجہ کہا ، ہرگز نہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بعد نیک لوگوں کا بیان شروع ہوتا ہے اور یہ مثبت اور تاکیدی انداز میں آتا ہے۔
جس طرح پہلے کہا گیا تھا کہ بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے تو یہاں کہا جارہا ہے کہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔ اور ابرار ” نیکوکار “ وہ لوگ ہیں جو اطاعت کیش اور ہر نیک کام کرنے والے ہیں۔ یہ نافرمانوں اور حد سے گزرنے والوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
9 یعنی ان بدمعاشوں کا اور نیکوں کا ایک انجام ہرگز نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آیت 17{ ثُمَّ یُـقَالُ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے !“
دنیا میں تم لوگ جنت ‘ دوزخ اور جزا و سزا کو بڑے شدومد سے جھٹلایا کرتے تھے۔ اب دیکھ لو ! دوزخ اور اس کی سزائیں حقیقت بن کر تمہارے سامنے آگئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
12 فاجر اور ابرار کا لغوی مفہوم :۔ یہاں فجار کے مقابلہ میں ابرار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فَجَرَ کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا اور فجر کو فجر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے آسمان پر نمودار ہوجاتی ہے۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو وسیع پیمانے پر دین کی نافرمانی کرنے والا ہو اور ہر وقت گناہوں میں منہمک رہتا ہو اور گناہوں سے تائب نہ ہو۔ اس کے مقابلہ میں ابرار ہے۔ برّ کے معنی نیکی، نیکی کے کام اور بر کے معنی وسیع خشک قطعہ زمین ہے گویا بر کے لفظ میں نیکی کے علاوہ وسعت کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور بر دراصل نیکی کو نہیں بلکہ ہر دم نیکی پر مائل رہنے والی خصلت کو کہتے ہیں کہ جب کسی نیکی کا موقع آئے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
7۔ (ذوق وشوق کے ساتھ) اس سے مقصود مرتبہ ابرار کے فضل و عظمت کا اظہار ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مجرموں اور نافرمانوں کے لئے عذاب و عقاب یقینی ہے۔ اسی طرح مطیعون اور فرمانبرداروں کا اجر وثواب بھی برحق ہے۔ (آیت) ” المقربون “۔ یہاں ملائکہ مقربین مراد ہیں۔ المقربون من الملئکۃ (کبیر) وھم الملائکۃ قال قتادۃ (ابن کثیر) (آیت) ” علیین۔ سجین “۔ کے مقابلہ کی چیز ہے، اور کوئی ایسا مقام عالم غیب میں ہے، جو نیک کاروں کے اعمال ناموں کے لیے مخصوص ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی)
ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…
Read the full tafseer →کلا . مذکورۂ بالا توضیح کے علاوہ اس جگہ کلاّ کو تکذیب عذاب سے بازداشت کے لیے بھی کہا جاسکتا ہے یا حقًّا (یقینا) کا معنی بھی ہوسکتا ہے۔ مقاتل (رح) نے کہا : اس جگہ کلاّ کا مفہوم یہ ہے کہ جس عذاب میں وہ داخل ہوگا ‘ اس پر ایمان نہیں لاتا۔
ان کتاب الابرار لفی علیین . بعض اہل معنی نے لکھا ہے کہ علیین سے مراد ہے علو بر علو اور بلندی بالاء بلندی ‘ اسی لیے واؤ اور نون کے ساتھ بھی (علیُّ کی) جمع آئی ہے۔ فراء نے کہا : یہ صیغہ جمع کا ہے جس کا اس مادہ سے واحد نہیں آتا مگر ایک جگہ کا نام ہے۔ بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے۔ یہ علو سے مشتق ہے اور علیٌّ بروزن فعیلٌ کی جمع سے منقول (شرعی) ہے۔ حضرت براء کی مرفوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
(17۔ 21) پھر ان سے دوزخ کے خازن کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ہرگز ایسا نہیں، سچے ایمانداروں کے نامہ اعمال علیین میں رہیں گے یعنی ساتویں آسمان پر، عرش خداوندی کے نیچے سبز زمرد کی تختی پر ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور یہی علیین ہے اور جس کو مقرب فرشتے شوق سے دیکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
(کلا ان کتب الابرار…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ نافرمانوں کا یہ حال ہوگا تو نیکوں سے بھی یہی سلوک ہو۔”علیین“ اور ”علیون“ ”علی“ کی جمع ہیں جو ”علو“ سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ”بہت سی اونچا شخص“ اور ”علیون“ کا معنی ہے ”بہت ہی اونچے لوگ۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہ ایک کتاب ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور ان کے اعمال واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں، ان میں کوئی رد و بدل یا کمی بیشی ممکن نہیں۔ ”یشھدہ المقزبون“ یعنی اس کی نگراین کے لئے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ چونکہ وہ نیک لوگوں کا دفتر ہے، اس لئے اس کو دیکھنے کے لئے انھی مقرب لوگوں کو وہاں حاضر ہونے کی اجازت ہے جن…
Read the full tafseer →کلا ان کتب الابرابر۔۔۔ تا۔۔۔ المقربون۔
کلا ان کتب الابرار لفی علیین۔ کلایہ حقا کے معنی میں ہے اور وقف تکذبون پر ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، بات اس طرح نہیں جس طرح وہ کہتے ہیں اور نہ ہی بات اس طرح ہے جس طرح انہوں نے گمان کیا یہ بلکہ ان کی کتاب سجین میں ہے اور مومنین کی کتاب علیین میں ہے، مقاتل نے کہا، اس کا معنی وہ اس عذاب پر ایمان نہیں لائیں گے جس میں وہ داخل ہوں گے، پھر نئی کلام شروع کی اور فرمایا کہ ابرار کی کتاب اس کے مرتبہ کے مطابق علیین میں بلند کردی گئی ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، علیین سے مراد جنت ہے۔ ان سے یہ بھی منقول ہے ان کے اعمال کتاب اللہ میں ہیں جو آسمان میں ہے، ضحاک، مجاہد اور…
Read the full tafseer →18۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا ان کتب الابرار لفی علیین ہرگز نہیں بیشک نیکیوں کے اعمال نام علیین میں ہیں۔ یعنی علیون ساتویں آسمان کے اوپر ہے، عرش کے داہنے پائے کے پاس ہے آیت کتب مرقوم ایک دفتر ہے جس میں لکھا جاتے ہے یعنی ان کے لیے خیر لکھ دی گئی ہے آیت یشہدہ المقربون۔ اسے مقرب فرشتے لکھتے ہیں یعنی اللہ کے فرشتوں میں سے مقرب فرشتے۔
Read the full tafseer →[كَلَّآ ان كِتٰبَ الْاَبْرَارِ : ہرگز نہیں ! بیشک نیکی کرنے والوں کی کتاب (اعمال نامہ)][ لَفِيْ عِلِيِّيْنَ : یقینا بلندیوں میں ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ فجار کا اعمال نامہ سجین میں رہے گا۔ اب یہاں یہ فرمایا کہ نیک بندوں کا اعمال نامہ علیین میں رہے گا اور یہ بھی فرمایا کہ جانتے ہو علیین کیا ہے پھر خود ہی فرمایا کہ وہ نشان کیا ہوا دفتر ہے جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں۔
سجین ساتویں زمین میں ایک مقام ہے جو ارواح کفار کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور علیین ساتویں آسمان میں مومنین کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ حضرات براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں مومنین کی موت کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مومنین کی موت کے وقت فرشتے تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے روح اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–36
کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔
ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
8:۔ ” کلا ان کتب الابرار “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور کلا بمعنی حقا ہے۔ ” علیین “ ساتویں آسمان پر عرش عظیم کے نیچے ایک مقام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ابرار و اخیار کی روحوں کا مسکن ہے اس میں مؤمنوں کے اعمالنامے رکھے جاتے ہیں اور اس کے دفتر میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں ابرابر کے لیے یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ موت کے بعد پہلے علیین میں جائیں گے جس دفتر (رجسٹر) میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں وہاں کتابت و اندراج کے وقت مقرب فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ یشہدہ المقربون یعنی الملائکۃ الذین ھم فی علیین یشہدون ویحضرون ذلک المکتوب (کبیر ج 8 ص 505) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
(گذشتہ سے پیوستہ )
جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔
(جزائے عمل یقینی ہے)
قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…
Read the full tafseer →كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ 18 ۭ
كلا
كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] .
کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…
Read the full tafseer →کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ ۔ (المطففین : 18)
(ہرگز نہیں ! بیشک نیک آدمیوں کے نامہ اعمال علیین میں ہوں گے۔ )
ابرار کا مقام
کَلَّا، سے قیامت کا انکار کرنے والوں کے اس خیال کی تردید کرنا مقصود ہے کہ کوئی جزاء و سزا واقع نہیں ہوگی۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ جزاء و سزا کے واقع نہ ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک اور بد یکساں ہوں گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نیک و بد برابر نہیں ہیں بلکہ اوپر ہم پڑھ چکے ہیں کہ فجار کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔ تو ان کے اعمال کے اعتبار سے یہی ان کا اصل مقام ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ابرار کو جس شان اور بلندی سے نوازے گا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔
سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…
Read the full tafseer →18 : کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ (ہرگز نہیں۔ نیک لوگوں کا نامہ عمل علیین میں رہے گا) کَلَّآ یہ تکذیب سے ردع کی گئی ہے۔ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ سے ان کے مکتوب اعمال مراد ہیں۔ ابرار ؔ وہ فرمانبردار لوگ جو ماپ تول میں کمی نہیں کرتے اور بعث بعد الموت پر ان کو ایمان ہے کیونکہ ان کا یہاں فجار کے بالمقابل تذکرہ کیا گیا ہے اور فجار کے متعلق واضح طور پر فرمایا کہ وہ قیامت کے جھٹلانے والے ہیں۔
قول حسن (رح) :
البر :ؔ وہ ہے جو چیونٹی کو بھی ایذاء نہ دے۔ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ یہ دیوان خیر کا علم ہے جس میں تمام ملائکہ اور صلحاء ثقلین کے اعمال درج ہیں اور لفظ جمع سے منقول ہو کر آیا…
Read the full tafseer →18 ۔” کلا “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ اس عذاب سے امن میں نہ ہوں گے جس میں داخل ہوں گے۔ پھر ابرار کی کتاب کی جگہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ” ان کتاب الابرار لفی علیین “ برائ ؓ سے مرفوعاً روایت کیا گیا ہے کہ علیین ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ سبز زمرد کی تختی ہے عرش کے نیچے لٹکی ہوئی ہے ان کے اعمال اس میں لکھے ہوئے ہیں اور کعب اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ عرش کا دایاں پایہ ہے اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے وہ جنت ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں سدرۃ المنتہیٰ ہے اور بعض اہل معانی نے کہا ہے بلندی کے بعد بلندی اور شرف کے بعد شرف ہے۔ اس لئے اس کی جمع یاء اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
اللہ تبارک وتعالی نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ مقام پر ہوگا ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہوگا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب (يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ) کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیا، صدیقین اور شہدا کی ارواح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ملا اعلی میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ (علیون) جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے اللہ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی روح کی، اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(13) نیکوکاروں کے انجام کا ذکرو بیان : سو بدکاروں کے انجام کے زکرو بیان کے بعد اب نیکوکاروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کا دفتر " علیین میں ہوگا۔ اور تم کیا جانو کیا ہے وہ " علیون "۔ علیون " اصل میں تو جمع ہے، " علی " کی جو کہ ماخوذ ہے " علو " سے بمعنی بلندی، مگر اس کے معنی جمع کے نہیں مفرد کے ہیں کہ یہ لفظ جمع سے منقول ہو کر علم بن گیا اس خاص مقام کا جو کہ آثار و روایات کے مطابق ساتویں آسمان سے اوپر اور عرش کے نیچے ہے، اور جہاں انبیاء و صلحا اور برابر و متقین کی روحیں رکھی جاتی ہیں ( صفوۃ البیان، روح، کبیر، مدارک، ابن کثیر اور خازن وغیرہ) اور اس مقام کا یہ نام اس کے علوشان کی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
ف 7 یعنی ایک دفتر ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور کام درج ہیں ضحاک مجاہد قتادہ اور دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ علیون سے مراد ساتواں آسمان ہے جہاں مومنوں کی روحیں لے جائی جاتی ہیں بعضے کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنت ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مقرب فرشتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی اوپر والے کے ہیں واللہ اعلم (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(83:18) کلا ان کتب الابرار لفی علیین : یہ جملہ مستانفہ ہے ابرار کے حال کے بیان کے لئے ہے۔ کلا حرف ردع ہے تکذیب عذاب سے باز داشت کے لئے آیا ہے۔ یا بمعنی حقا (یقینا) مستعمل ہے۔ مقاتل نے کہا کہ اس جگہ کلا کا مفہوم یہ ہے کہ جس عذاب میں وہ داخل ہوگا اس پر ایمان نہیں لاتا تھا۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ بیشک نیکوں کا روزنامچہ علیین میں ہوگا۔
علیین (1) بعض کے نزدیک یہ سب سے جنت کا اعلیٰ معام ہے جس طرح کہ سجین سب سے بدتر دوزخ کا نام ہے۔ ملاحظہ ہو آیات 83:7 - 8 متذکرۃ الصدر۔
(2) بعض کا خیال ہے کہ یہ وہاں رہنے والوں کا نام ہے اور عربیت کے لحاظ سے یہی معنی زیادہ قریب ہیں۔ کیونکہ جمع ذوی العقول کے ساتھ مخصوص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
(ف 2) اوپر سے حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ میں ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا او اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا سے اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے براء بن عازب ؓ کی وہ حدیث جس کا ذکراوپرگذرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے ایک قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے روبروجب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے، توعلیین مقام کے دفتر میں جا ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…
Read the full tafseer →(18) ہرگز یوں نہیں بلکہ نیک لوگوں کا نامہ اعمال علیین یعنی اعلیٰ ترین مقام رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 1۔ علیین ایک مقام سماء سابعہ میں ارواح مومین کا مستقر ہے کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب۔
Read the full tafseer →ہرگز نہیں بلکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے ( علیین) میں ہوں گے
18 ؎ پیچھے بد کار لوگوں کے اعمالناموں کا ذکر کیا جا چکا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کے اعمال نامے ( سجین) میں ہوں گے اور ( سجین) کی حقیقت بھی بتائی گئی تھی کہ ( سجین) کیا ہے۔ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ نیکو کاروں کے اعمال نامے (علیین) میں ہوں گے بعض نے اعمال ناموں کی بجائے ارواح کا ذکر کیا ہے کہ بد کاروں کی ارواح سجین میں ہوں گے اور نیک کار لوگوں کی ارواح علیین میں ہوں گی اور دونوں ہی وضاحتوں میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ایک چیز کو دو طریقوں سے بیان کیا گیا ہے اور طریقہ بیان کچھ ہو جب اس کا تعلق اس عالم دنیا سے نہیں ہے تو اس پر بحث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ (No! The record of deeds of the righteous is in ` illiyyun....83:18). According to some authorities, ` illiyyun is the plural of ` uluww and it signifies the 'highest point'. According to Farra', this is the name of a place. It is not a plural, but on the measure of plural. When analysing the word sijjin in the foregoing paragraphs, the traceable Tradition of Sayyidna Bath' Ibn ` Azib ؓ was cited to prove that ` illiyyin is a place on the seventh heaven beneath the Divine Throne where the souls of the believers and their registers of deeds…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
9 That is, they are wrong in thinking that there is going to be no meting out of rewards and punishments.
Read the full tafseer →