Al-Mutaffifin 83:22

Al-Mutaffifin · from ayah 22

83:22

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ۟ۙاِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِىۡ نَعِيۡمٍ

بےشک نیک لوگ چین میں ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the righteous will be in pleasure

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:22

بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک نیک لوگ چین میں ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو کہ نیک لوگ بڑی نعمتوں میں ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک نیکوکار ضرور چین میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک نیکوکار (راحت و مسرت سے) نعمتوں والی جنت میں ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک نیک لوگ یقینا بڑی نعمت میں ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک نیک بندے عیش میں ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ نیک لوگ بڑی ہی نعمتوں میں ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک نیک کار بڑی راحت میں ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا نیکوکار نعمتوں میں ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک نیک لوگ چین سے ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily the virtuous shall be in Bliss;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed the righteous will be in absolute bliss.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed the righteous will be in absolute bliss.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Al-Abrar (the righteous believers) will be in Delight.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the righteous verily are in delight,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the righteous will be in pleasure

— Saheeh International

The virtuous will live in bliss,

— Muhammad Sarwar

Most surely the righteous shall be in bliss,

— Muhammad Habib Shakir

Verily the virtuous shall be in Delight,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 83:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–28

نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–25

سورة الْمُطَفِّفِيْن 9 یعنی ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–25

يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ، یشہد، شہود سے مشتق ہے جس کے معنے حاضر ہونے اور مشاہدہ کرنیکے آتے ہیں۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ مراد آیت کی یہ ہے کہ ابرار و صالحین کی کتاب الاعمال کو مقربین دیکھتے ہوں گے اور مراد مقربین سے فرشتے ہیں اور دیکھنے سے مراد اس کی نگرانی اور حفاظت ہے، مطلب یہ ہے کہ ابرار و صالحین کے صحائف اعمال مقرب فرشتوں کی نگرانی میں ہوں گے (قرطبی) اور شہود سے مراد حضور کے معنی لئے جائیں تو یشہدہ کی ضمیر کتاب کے بجائے علیین کی طرف راجع ہوگی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ مقربین بارگاہ کی ارواح اسی مقام علیین میں حاضر ہوں گی کیونکہ یہ ہی مقام ان کی ارواج کا مستقر بنایا گیا ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ابرار کا انعام: یہ ان نعمتوں کا ذکر آ رہا ہے جو ابرار کو حاصل ہوں گی۔ ’فِیْ نَعِیْمٍ‘ کے اسلوب بیان کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں کہ اس انذار میں جب بات کہی جاتی ہے تو مقصود یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ ہر جانب سے نعمتوں میں گھرے ہوں گے، ان کی نگاہیں جدھر اٹھیں گی، نعمت ہی نعمت ان کو نظر آئے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–26

26۔ 1 یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61؀) 37۔ الصافات :61)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–26

4: مومنوں کا اعمال نامہ چونکہ نیکیوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے مقرب فرشتے اس کے اعزازو اکرام کے طور پر اسے دیکھتے ہیں، اور دیکھنے کا مطلب اس کی نگرانی بھی ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان الابرار ................ نعیم (22:83) ” بیشک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے “۔ یہ نعیم حجیم کے مقابلے میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 22–23

12 یعنی مسہریوں میں بیٹھے جنت کی سیر کرتے ہوں گے اور دیدار الہٰی سے آنکھیں شاد کریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

آیت 21{ یَّشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } ”وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔“ ان لوگوں کی ارواح کو ملائکہ مقربین کی صحبت میسر ہوگی۔ اس بلند مقام پر انہیں قیام قیامت تک رکھا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–23

14 یعنی علیین ایسا بلند مرتبہ مقام ہے کہ وہاں ہر وقت اللہ کے مقرب فرشتے موجود رہتے ہیں یا اللہ کے مقرب بندوں کی ارواح وہاں موجود رہتی ہیں۔ یا مقرب فرشتے وہاں ابرار کے اعمالناموں کو دیکھتے اور پڑھ کر خوش ہوتے ہیں اور قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–23

8۔ (جن کے عجائب ومناظر) ہوسکتا ہے کہ دیدار جمال الہی مراد ہو، اور چونکہ (آیت) ” ینظرون “ محجوبون کے مقابلہ میں آیا ہے، اس لیے قرینہ بھی اسی معنی کو چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–24

(22۔ 24) نیک لوگ نہ ختم ہونے والی بڑی آسائش میں ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے ہوئے دوزخیوں کو دیکھتے ہوں گے، محمد آپ جنتیوں کے چہرے میں آسائش کی بشاشت پہچانیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 22–23

(ان الابرار لفی نعیم…: یہاں سے نیک لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ ہے۔ تختوں پر بیٹھے کبھی دوزخیوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے کہ رب تعالیٰ نے انہیں کتنی بڑی مصیبت سے بچایا ہے، کبھی جنت کی نعمتوں کا نظارہ کرتے ہوں گے اور کبھی دیدار الٰہی سے آنکھوں کو شاد کام کر رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

ان الابرار لفی نعیم۔۔۔ تا۔۔۔۔ المقربون۔ ان الابرار لفی نعیم۔ علی الارائک ینظرون۔ ابرار سے مراد اہل صدق اور اہل طاعت ہیں، نعیم سے مراد نعمت ہے نعمت جب نون کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی تنعیم ہوتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، نعمہ اللہ ناعمہ اللہ فتنعم۔ نیک لوگ جنتوں میں لطف اندوز ہورہے ہوں گے، ارائک سے مراد خیموں میں پنگ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عزتیں مقرر کی ہوئی ہیں انہیں دیکھ رہے ہوں گے یہ عکرمہ، ابن عباس اور مجاہد کا نقطہ نظر ہے، مقاتل نے کہا وہ جہنمیوں کو دیکھیں گے نبی کریم نے ارشاد فرمایا، وہ اپنے دشمنوں کو جہنم میں دیکھیں گے، یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے فضل و…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–24

19۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ علیون سے عرش کا داہنا پایہ مراد ہے 20۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ علیون سے ساتواں آسمان مراد ہے۔ مومن کی روحوں کا اکرام 21۔ عبد بن حمید نے الاجلح کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن بندے کی روح قبض کر کے اس کو آسمان دنیا کی طرف اوپر لے جائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مقرب فرشتے دوسرے آسمان کی طرف چلتے ہیں۔ اجلح (رح) نے کہا تو میں نے پوچھا مقربین کون ہیں ؟ فرمایا جو زیادہ قریب ہیں دوسرے آسمان کے پھر تیسرے پھر چوتھے پھر پانچویں پھر چھٹے پھر ساتویں آسمان کے یہاں تک کہ اس کی انتہا سدرۃ المتنہی کے پاس ہے اجل نے کہا : میں نے ضحاک سے پوچھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الْاَبْرَارَ : بیشک نیکی کرنے والے ][ لَفِيْ نَعِيْمٍ : یقینا دائمی خوشحالی میں ہوں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 22–24

ان آیات میں ابرار یعنی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا انعام و اکرام ذکر فرمایا ہے (جن کی کتاب کے بارے میں اوپر والی آیت میں فرمایا کہ وہ علیین میں ہے) ۔ ارشاد فرمایا کہ نیک بندے نعمتوں میں ہوں گے، مسہریوں پر (تكیے لگائے ہوئے) دیکھ رہے ہوں گے یعنی جنت کی نعمتیں اور وہاں کے مناظر ان کے پیش نظر ہوں گے۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے اگرچہ بعد مکانی ہوگا۔ مزید فرمایا کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے چہروں میں نعمت کی تروتازگی پہچان لے گا۔ یعنی ان کو دیکھنے ہی سے معلوم ہوجائے گا کہ یہ حضرات اپنی نعمتوں میں خوب زیادہ خوش و خرم ہیں جیسا کہ سورة دہر میں فرمایا ﴿وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–28

9:۔ ” ان الابرار “ مومنین جنت کی نعمتوں میں ہوں گے تختوں پر تکیہ لگائے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے تروتازہ اور مسرت و شادمانی سے چمک رہے ہوں گے۔ انہیں خالص، سفید اور نہایت اعلی شراب پلائی جائیگی جو سربمہر ہوگی اور ان سے پہلے کسی نے اس کو ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا اور اس کی مہر بھی کستوری کی ہوگی۔ جس شراب پر مہر لگانے کا مسالہ کستوری ہو اس سے اندازہ لگا لیں کہ وہ شراب کس قدر عمدہ اور قیمتی ہوگی۔ ” وفی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–28

(گذشتہ سے پیوستہ ) جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔ (جزائے عمل یقینی ہے) قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ۝ 22 برَّ البَرُّ خلاف البحر، وتصوّر منه التوسع فاشتق منه البِرُّ ، أي : التوسع في فعل الخیر، وينسب ذلک إلى اللہ تعالیٰ تارة نحو : إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ [ الطور/ 28] ، وإلى العبد تارة، فيقال : بَرَّ العبد ربه، أي : توسّع في طاعته، فمن اللہ تعالیٰ الثواب، ومن العبد الطاعة . وذلک ضربان : ضرب في الاعتقاد . وضرب في الأعمال، وقد اشتمل عليه قوله تعالی: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ [ البقرة/ 177] وعلی هذا ما روي «أنه سئل عليه الصلاة والسلام عن البرّ ، فتلا هذه الآية» «1» . فإنّ الآية متضمنة للاعتقاد والأعمال الفرائض والنوافل . وبِرُّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–28

ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 22–24

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ۔ عَلَی الْاَرَآئِکِ یَنْظُرُوْنَ ۔ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ ۔ (المطففین : 22 تا 24) (بیشک نیک لوگ عیش میں ہوں گے۔ اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے۔ تم ان کے چہروں پر آسائش کی بشاشت محسوس کرو گے۔ ) ابرار کی عزت افزائی اللہ تعالیٰ کے وفادار بندے جنھوں نے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، اس کی نعمتوں کا ادائے شکر اور اس کے دین کی سربلندی میں گزاریں، وہ فجار کے انجام کے بالکل برعکس نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ ان کی نگاہ جدھر بھی اٹھے گی ہر طرف نعمتیں چھائی ہوئی ہوں گی۔ ایک عیش کی زندگی ہوگی جس سے وہ بہرہ اندوز ہوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–28

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔ سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ (نیک لوگ بڑی آسائش میں ہونگے) جنتوں میں نعمتیں پاتے ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 22–23

23-22 ۔…” ان الابرار لفی نعیم، علی الارائک ینظرون “ اس کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اعزاز اور نعمت عطاء کی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ اپنے دشمنوں کی طرف دیکھیں گے کہ وہ کیسے عذاب دیئے جارہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–28

18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–22

اللہ تبارک وتعالی نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ مقام پر ہوگا ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہوگا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب (يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ) کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیا، صدیقین اور شہدا کی ارواح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ملا اعلی میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ (علیون) جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے اللہ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی روح کی، اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–22

(14) نیکوکاروں کے لیے نعیم جنت کا مژدہ جانفزا : سو نیکوکاروں کی فائز المرامی کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک نیک لوگ بڑی ہی عظیم الشان نعمتوں میں ہوں گے، اتنی بڑی اور اس قدر عظیم الشان نعمتوں میں کہ اس جہان میں ان کا تصور بھی کسی کے بس میں نہیں، اللہ پاک نصیب فرمائے، آمین۔ یہ ان نعمتوں کا ذکر آرہا ہے جو وہاں پر ابرار کو حاصل ہوں گے " فی نعیم " کے اسلوب بیان میں جب بات کی جاتی ہے تو اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ ہر طرف سے نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں گے، ان کی نگاہیں جدھر بھی اٹھیں گی ان کو نعمتیں ہی نعمتیں نظر آئیں گی، جیسا کہ دوسرے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–23

ف 9 دیکھنے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوزخیوں کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور یہ بھی کہ وہ دیدار الٰہی سے اپنی آنکھوں کو شاد کر رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:22) ان الابرار لفی نعیم : ان حرف تحقیق، مشبہ بالفعل ۔ الابرار : اسم ان ۔ لفی نعیم اس کی خبر۔ لام تاکید کا۔ نعیم بمعنی نعمت، راحت، عیش۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–24

(ف 2) اوپر سے حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ میں ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا او اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا سے اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے براء بن عازب ؓ کی وہ حدیث جس کا ذکراوپرگذرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے ایک قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے روبروجب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے، توعلیین مقام کے دفتر میں جا ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–26

[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–28

ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–24

ف 2۔ یہ مومن کے لئے کرامت عظیمہ ہے جیسا کہ روح المعانی میں بتخریج عبد ابن حمید حضرت کعب سے روایت ہے کہ جب ملائکہ مومن کی روح کو قبوض کر کے لے جاتے ہیں تو ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے ساتھ ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ کر اس روح کو رکھ دیتے ہیں، پھر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم اس کا نامہ اعمال دیکھنا چاہتے ہیں۔ چناچہ وہ نامہ اعمال کھول کر دکھلایا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے 22 ؎ ( نعیم) اسم معرفہ مجرور نعمت ، راحت ، عیش ( نعیم) کا لفظ جمع کا نہیں بلکہ واحد ہے۔ ہاں ! ( نعیم) اسم جنس ۔ کسی کو اس کی جنس بنا لیا جائے اور پھر انعامات کہہ دیا جائے یہ دوسری بات ہے اور یہ بھی کہ عیش و آرام اور راحت بہت سی نعمتیں مل کر ہی پیش کرسکتی ہیں اس لحاظ سے بھی اس مفہوم میں انعامات یا نعمتوں کا لیا جاسکتا ہے ۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تیار کر رکھا ہے اس کی وضاحت سورة الرحمن اور سورة الواقعہ میں بہت تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے بلکہ دونوں سورتوں کا اصل موضوع ہی اہل جنت کے انعامات اور اہل دوزخ کے عذاب ہیں اور اس کی وضاحت یہی ہے کہ بہت کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–25

يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ (...attended by those [ angels ] who are blessed with nearness to Allah!...83:21) The verb yash-hadu is derived from shuhud which means 'to attend, to witness, to be present, to observe'. The verse purports to say that the record of deeds of the righteous will be in the custody of angels who are blessed with nearness to Allah. [ Qurtubi ]. If shuhud is taken in the sense of 'being present', then the attached pronoun will refer to ` illiyyin instead of kitab or 'register' (and 'those who are blessed with nearness to Allah' will refer to the righteous people, and not…

Read the full tafseer →