Explained with ayahs 7–17
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا سجین ہے یہ لفظ فعیل کے وزن پر سجن سے ماخوذ ہے سجن کہتے ہیں لغتا تنگی کو ضییق شریب خمیر سکیر وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی سجین ہے پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے حضرت براء بن عازب کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی کتاب سجین میں لکھ لو اور سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
سورة الْمُطَفِّفِيْن 8
یعنی دیدار الہی کا جو شرف نیک لوگوں کو نصیب ہوگا اس سے یہ لوگ محروم رہیں گے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، القیامہ، حاشیہ 17۔)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(آیت) كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ، یعنی قیامت کے روز یہ کفار فجار اپنے رب کی زیارت سے محروم پس پردہ روک دیئے جاویں گے، یہ انکے اس عمل کی سزا ہوگی کہ انہوں نے دنیا میں حق کو نہیں پہچاناتو اب اپنے رب کی زیارت کے قابل نہیں رہے۔ حضرت امام مالک ؒ اور شافعی ؒ نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین اور اولیا اللہ کو حق تعالیٰ کی زیارت ہوگی ورنہ پھر کفار کے محبوب رہنے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوتا۔
فائدہ
بعض اکابر علماء نے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت سے حق تعالیٰ کی محبت پر مجبور ہے اسی لئے دنیا کے عام کفار و مشرکین چاہے کتنے ہی کفر و شرک…
Read the full tafseer →یعنی یہ لوگ اپنے دلوں میں یہ ارمان لیے جو بیٹھے ہیں کہ آخرت ہوئی تو جس طرح دنیا میں ان کو عزت وشرف حاصل ہے اسی طرح وہاں بھی ان کو اعلیٰ مدارج حاصل ہوں گے، ان کے یہ ارمان پورے ہونے والے نہیں ہیں بلکہ اپنے عقل و دل کے دیدے انہوں نے جو پھوڑ لیے ہیں اس کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ وہ اپنے رب سے اس دن اوٹ میں ہوں گے۔ اوٹ میں ہونے سے یہ مراد ہے کہ یہ اس کے قرب، اس کی نظر عنایت، اس کے افضال وعنایات اور اس کے انوار و تجلیات کے مشاہدے سے بالکل محروم رہیں گے۔ ان کو اتنا موقع بھی نہیں ملے گا کہ اپنے رب سے کچھ عرض معروض ہی کر لیں۔
Read the full tafseer →15۔ 1 ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
2: سجین کے لفظی معنی قید خانے کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد کافروں کی روحوں کو رکھا جاتا ہے۔ وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی موجود رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
کلا انھم ................................ تکذبون (15:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
فسق وفجور اور گناہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ دنیا میں ان کے دل رب تعالیٰ کے احساس سے دور ہوگئے تھے اور گناہوں نے ان کی زندگی کو بےنور اور تاریک کردیا تھا ، وہ زندگی میں ایسی روش رکھتے تھے جس طرح اندھے ہوں۔ اب آخرت میں ان کا انجام بھی طبعی ہے اور ان کے حسب حال ہے۔ آخرت میں وہ دیدار رب کی عظیم نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم محرومی ہوگی۔ قیامت میں یہ…
Read the full tafseer →8 یعنی اس انکارو تکذیب کے انجام سے بےفکر نہ ہوں۔ وہ وقت ضرور آنے والا ہے جب مومنین حق سبحانہ، و تعالیٰ کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوں گے اور یہ بدبخت محروم رکھے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 15{ کَلَّآ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ۔ } ”نہیں ! یقینایہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔“
قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیے جائیں گے۔ اس کے برعکس نیکوکار لوگوں کے لیے سورة القیامہ میں یہ خوشخبری سنائی گئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ } کہ اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کے دیدار یا اس کی کسی خاص شان کے مشاہدے سے سرفراز فرمایا جائے گا جس کے باعث اس دن کے سخت مراحل ان کے لیے آسان ہوجائیں گے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
10 اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہونے کی نعمت صرف اہل جنت کو حاصل ہوگی اور لذت و سرور کے لحاظ سے یہ نعمت جنت کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی اور جب اللہ اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا تو جنتی لوگ بس ادھر ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔ جو لوگ روز آخرت کے منکر تھے انہیں یہ نعمت کبھی میسر نہ ہوسکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
6۔ (اور یہ دیدار حق سے محجوبی بجائے خود ایک بہت بڑی سزا ہے، جس کا اندازہ کچھ اسی دن ہوگا) یہاں محجوبون مقدم ہے، اور داخلہ جہنم مؤخر ثم کے تحت میں اس سے عارفوں نے نکتہ یہ پیدا کیا ہے کہ اصل سزا دوزخ نہیں بلکہ دیدار الہی سے محرومی ہی ہے اور دوزخ محض اس کا نتیجہ ہے۔ ثم بعد کو نھم معجزبین عن ربھم الداخلون النار (مدارک) آیت سے یہ استنباط بھی کیا گیا ہے کہ مومنین کو رؤیت باری ہوگی ورنہ کافروں کے لیے بطور سزا اس نعمت سے محرومی کے کوئی معنی نہ تھے۔ قال الزجاج فی الایۃ دلیل علی ان ال مومنین یرون ربھم والالا یکون التخصیص مفیدا (مدارک) فلا یرونہ بخلاف ال مومنین (بیضاوی) قال الامام ابو عبداللہ الشافعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی)
ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…
Read the full tafseer →کلا . یہ زنگ پیدا کرنے والے گناہوں کے ارتکاب سے بازداشت ہے یا حقًّا کے معنی میں ہے۔ جس سے قلوب کا زنگ خوردہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ مقاتل نے کہا کہ کلاّ کا اس جگہ معنی ہے لا یصدقون : یقیناً وہ تصدیق نہیں کرتے۔
انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون . یعنی قیامت کے دن مؤمن جب اللہ کو دیکھیں گے ‘ کافر اس روز دیدارِ الٰہی سے یقیناً روک دیئے جائیں گے۔ بد اعمالیوں کی تاریکیوں کے حجاب ان کی آنکھوں پر پڑے رہیں گے۔ پس جس طرح وہ دنیا میں حق کو نہیں دیکھتے تھے ‘ اسی طرح قیامت کے دن دیدارِ الٰہی نہ کرسکیں گے۔
حسن بصری نے فرمایا : اگر زاہدوں اور عابدوں کو معلوم ہوجائے کہ ربّ کا دیدار ان کو نہ ہوگا تو ان کی جان نکل جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ہرگز ایسا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے روز جزا کو جھٹلانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے یا یہ کہ گناہ پر گناہ کرنے سے قلب سیاہ ہوگیا اور وہی قلب کا زنگ آلود ہونا ہے۔ ان کے اعمال و اقوال کفریہ کی وجہ سے ہرگز ایسا نہیں یہ تکذیب کرنے والے تو قیامت کے دن اپنے پروردگار کی زیات سے روک دیے جائیں گے پھر یہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
کلا انھم عن زبھم…: یہ کافر جو کہتے ہیں کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو دنیا کی طرح وہاں بھی پروردگار کی نوازشیں ہمیں پر ہوں گی ، ان کا یہ کہنا ہرگز درست نہیں، انہیں تو پروردگار کے قریب تک نہیں آنے دیا جائے گا، بکلہ وہ حجاب میں رکھے جائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس دن نافرمان اللہ تعالیٰ سے معجوب ہوں گے اور اہل ایمان کو وہ نظر آئے گا۔ اگر دیدار الٰہی کے منکروں کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی کو بھی نظر نہیں آئے گا تو یہ آیت بےمعنی ہوجاتی ہے۔ دوسری جگہ صریح الفاظ میں فرمایا :(وجوہ یومئذ ناصرۃ، الی ربھا ناظرۃ) (القیامۃ : 22، 23)”کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
کلا بل ران۔۔ تا۔۔۔ تکذبون۔
کل بل ران، علی قلوبھم ماکانو ایکسبون۔ کلایہ ردع اور جھڑکنے کے لیے ہے یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں نہیں، حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی حقا ہے یعنی یقینا ان کے دلوں پر زنگ چڑھ چکا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ترمذی شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بندہ جب خطا کرتا ہے اس کے دل میں سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ اس گناہ کو چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اسے توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اگر وہ دوبارہ ایسا کرے تو اس میں اضافہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے دل پر غالب آجاتا ہے بس وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
17۔ عبدبن حمید نے ابو ملیکہ الزیادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا انہم عن ربہم یومئذ لمحجوبون۔ ہرگز نہیں بیشک وہ اپنے رب سے اس دن روک دئیے جائیں گے کہ اس سے مراد ہے احسان جتانے والے تکبر اور غرور کرنے والے اور وہ جو لوگوں کے مال کھانے کے لیے جھوٹ قسمیں کھاتے ہیں واللہ اعلم
Read the full tafseer →[كَلَّآ انهُمْ عَنْ رَّبِهِمْ : ہرگز نہیں ! بیشک یہ لوگ اپنے رب سے ][ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجوبُوْنَ : اس دن یقینا روکے ہوئے ہوں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
اس کے بعد فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (یعنی ہرگز نہیں کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب نہ ہو) ﴿ بَلْٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 0014﴾ (بلکہ ان کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ بیٹھ گیا ہے) برے اعمال میں کفر و شرک بھی ہے اور دیگر معاصی بھی ہیں اس زنگ کی وجہ سے حق بات کرنے اور حق سمجھنے سے بچتے ہیں اور عناد پر اصرار کرتے ہیں۔
گناہوں کا جو زنگ ہے وہ اہل ایمان کے قلوب کا بھی ناس کھود تیا ہے۔ حضرت اغر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب مومن بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ داغ لگ جاتا ہے پس اگر توبہ و استغفار کرلیتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر توبہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔
حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
7:۔ ” کلا انہم “ کلا بمعنی حقا ہے۔ یقینا کفار و مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے محجوب و محروم ہوں گے پھر ان کو جہنم میں داخل کیا جائیگا اور ان سے کہا جائیگا یہی ہے وہ جہنم جس کا تم دنیا میں انکار کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ہی ذکر ہے۔ اس مقام پر تاجرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قیامت کے مسئلہ پر کلام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تاجروں کی مذمت بیان کی ہے جو ماپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ گویا اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے لیے ظلم۔ خود زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو نقصان پہنچا نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا۔ کہ کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا یہ ان کی خام…
Read the full tafseer →كَلَّآ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ 15 ۭ
كلا
كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] .
کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ترکیب ¦ کلا روع و زجر للمعتدی الاثیم وقال الحسن بمعنی حقا ماکانوا یکسبون والعائد محذوف ای یکسبونہ والجملۃ فاعل ‘ ران رین ریم و زنگ گرفتن ومنہ قولہ تعالیٰ بل ران الخ ای غلب وقیل ھو الذنب علی الذنب حتی یسود القلب (صراح) لمحجوبون خبر ان ‘ عن ربہم متعلق بہ یومئذ ظرف لہ ثم انہم ثم لتراخی الرتبۃ ھذا الذی الخ الجملۃ مفعول مالم یسمی فاعلہ لیقال۔
تفسیر ¦ ان حد سے بڑھنے والے گنہگاروں کے خیال کو باطل کرتا ہے۔ بقولہ کلا کہ جو تم سمجھے ہوئے ہو وہ ہرگز نہیں پھر ان کے اس انکار اور آیات کو پہلوں کی کہانیاں کہنے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال بل ران علیٰ قلوبہم ماکانو یکسبون کہ ان کے دلوں پر ان کے اعمالِ بد کا…
Read the full tafseer →کَلَّآ اِنَّھُمْ عَنْ رَّبِّھِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ۔ (المطففین : 15)
(ہرگز نہیں ! بیشک وہ اپنے رب سے اس سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔ )
مکذبین کی بدنصیبی
یعنی ان کا گمان تو یہ ہے کہ قیامت کے وقوع کا کوئی امکان نہیں۔ اور اگر آئی بھی تو ہمارے دیوتا ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔ جبکہ ان کی بدنصیبی کا عالم اس دن یہ ہوگا کہ ان کی خواہش ہوگی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے روبرو جانے کا موقع ملے اور ہم منت سماجت کرکے اور رو دھوکر اپنے جرائم بخشوا لیں۔ لیکن انھیں اللہ تعالیٰ کی دید اور زیارت سے بھی محروم کردیا جائے گا۔ یہ ایسی اوٹ میں رکھے جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ کی نظرعنایت، اس کے افضال و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
فہم القرآن
ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔
دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب…
Read the full tafseer →15 : کَلَّآ اِنَّھُمْ عَنْ رَّبِّھِمْ یَوْمَپذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ (ہرگز ایسا نہیں یہ لوگ اس روز اپنے رب سے روک دیے جائیں گے)
کَلَّآ دل پر رین کے چڑھانے پر ردع کی گئی ہے۔ اِنَّھُمْ عَنْ (بیشک وہ رؤیت) رَّبِّھِمْ یَوْمَپذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ (رب تعالیٰ سے پردے میں کردیے جائیں گے) الحجبؔ منع کرنا۔
قول الزجاج (رح) :
اس آیت میں دلیل ہے کہ ایمان والوں کو اس دن اپنے ربّ کا دیدار ہوگا ورنہ پردہ میں کردئیے جانے کی تخصیص کا فائدہ نہیں۔
حسین و فضل کا قول :
جیسا ان کو اپنی توحید سے دنیا میں پردے میں کردیا قیامت میں اس کے دیدار سے ان کو روک دیا جائے گا۔
قولِ امام مالک (رح) :
جب اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو…
Read the full tafseer →15 ۔” کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کلا مراد یہ ہے کہ وہ سچ نہیں بولتے۔ پھر استئناف کرتے ہوئے فرمایا ” انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “ ان میں سے بعض نے کہا ہے اس کے اعزاز اور رحمت سے روکے جائیں گے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ نہ ان کی طرف نظر کریں گے اور نہ ان کو پاک کریں گے اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کو دیکھنے سے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اگر زاہدوں اور عابدوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ آخرت میں اپنے رب کو نہ دیکھ سکیں گے تو دنیا میں ان کے نفوس نکل جائیں۔ حسین بن فضل فرماتے ہیں جیسا کہ دنیا میں ان کو اپنی توحید سے روکا، آخرت میں ان کو اپنی رئویت سے روک دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
7۔ 17۔ جو لوگ قیامت کے دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے کہ یہ لوگ ہیں پھر فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بد لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں چناچہ ابو داؤد اور مسند 1 ؎ امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اس لیے فرمایا (اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا) جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔ جو حق پر اور اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور کہنے لگا یہ تو (اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ) پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا کیونکہ اللہ تعلی نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(12) مکذبین کی تذلیل و تفضیح کے ایک منظر کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ان کو بہرحال دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، پھر وہاں پر ان سے کہا جائے گا کہ " یہی ہے وہ چیز جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے " یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں، اور تم لوگ حق کی دعوت کو سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہورہے تھے اس طرح ان لوگوں کے درد و الم میں مزید از مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ والعیاذ باللہ۔ اور یہ مارے حسرت و افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے کہ کاش کہ ہم ایمان لائے ہوتے، ہم نے حق کو قبول کیا ہوتا، مگر بےوقت کے اس افسوس اور پچھتاوے سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے حسرت و افسوس میں اضافہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →ف 6 اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر آئیگا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس آیت کا کوئی مطلب نہ ہوتا۔ البتہ ہوگا یہ کہ مومن اس کے دیدار سے نوازے جائینگے اور کافر اس سے محروم رہیں گے جیسا کہ دوسری آیت میں فرما ای : وجوہ یومئذ والصرۃ الی ربھا ناظرۃ کچھ چہرے اس روز ترو تازہ ہونگے اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔ “ (قیامہ :22)
Read the full tafseer →(83:15) کلا۔ حرف ردع ہے زنگ پیدا کرنے والے گناہوں کے ارتکاب سے باز داشت ہے۔ ان کو ایسا کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ یا کلا بمعنی حقا ہے۔ بےشک، یقینا۔
انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون : ان حرف مشبہ بالفعل بمعنی تحقیق۔ ہم اسم ان محجوبون خبر۔ یومئذ ظرف ہے محجوبون کا، عن ربھم متعلق خبر۔ لمحجوبون میں لام تاکید کا ہے۔ محجوبون حجب و حجاب مصدر (باب نصر) سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر حجب و حجاب بمعنی روکنا۔ محجوب اوٹ میں رکھا جانے والا۔ دیکھنے سے روک لیا جانے والا ۔
ترجمہ ہوگا :۔ بیشک یہ لوگ اس روز اپنے رب (کے دیدار) سے روک لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(ف 1) یعنی اس انکار وتکذیب کے انجام سے بےفکرنہ ہوں وہ وقت ضرورآنے والا ہے جب مومنین حق سبحانہ وتعالی کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوں گے اور یہ بدبخت کافر خدا کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے اور یہ بدبخت کافر دوزخ میں جانے کے بعد طرح طرح کا ان پر عذاب ہوگا، اور ان کے قائل کرنے کے لیے گھڑی گھڑی ان سے فرشتے یہ کہیں گے کہ جس عذاب کے تم لوگ دنیا میں منکر تھے تو اب اس کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون…
Read the full tafseer →(15) نہیں نہیں یہ لوگ اس دن اپنے پروردگار سے روک دیئے جائیں گے - یعنی یہ سیاہی رب العزت کے دیدار سے روکنے میں حجاب کا کام کرے گی اور حضرت حق تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیئے جائیں گے اور یہ اعمال بد کا زنگ میدان حشر میں بہت سی بھلائیاں اور نجات سے محروم کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
ف 3۔ سجین ایک مقام ارض سابعہ میں ارواح کفار کا مستقر ہے، کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب و فی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد و فرقد و قتادہ وعبداللہ بن عمر و مرفوعا۔
Read the full tafseer →ہرگز نہیں وہ اپنے رب کے سامنے آنے سے رک دیئے جائیں گے
15 ؎ قیامت کے متعلق جو کچھ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کے رسول ہونے کے دلائل ان کو دیئے جاسکے ہیں قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ثابت کرنے کے متعلق جو کچھ پیچھے کہا جا چکا ہے اس کو سچ تسلیم نہ کرنے کے باعث وہ حق سے اسنے دور جا پڑے ہیں کہ ان کے واپس آنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے اور پھر جب اس طرح دوری میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو قیامت کے روز وہ اپنے پروردگار کے سامنے آنے سے بھی روک دیئے جائیں گے کہ وہ دیدار الٰہی کے قابل ہی نہیں ہیں اور ان کو اس نعمت سے محروم ہی رکھا جائے گا کیونکہ قیامت کے انعامات میں سے سب سے بڑا انعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ (No! Indeed they will be screened off from their Lord on that Day...83:15). This will be their punishment for their failure to recognise Allah in the world. The unbelievers will remain deprived of seeing their Lord on the Day of Judgment, and a screen will fall between them and their Lord. Imams Shafi` i and Malik said that in this verse is a proof that the believers and friends of Allah will be able to see Him. Otherwise, the wording that the unbelievers will be screened off from their Lord on that Day will have no real sense.
Special…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
8 That is, these people will remain deprived of the vision of Allah with which the righteous will be blessed. (For further explanation, see E.N. 17 of Al - Qiyamah) .
Read the full tafseer →